Explained with ayahs 10–11
تشفی قلب کے لیے ایک اور مانگ۔
حضرت زکریا ؑ اپنے مزیداطمینان اور تشفی قلب کے لیے اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ اس بات پر کوئی نشان ظاہر فرما جیسے کہ خلیل اللہ ؑ نے مردوں کے جی اٹھنے کے دیکھنے کی تمنا اسی لئے ظاہر فرمائی تھی تو ارشاد ہوا کہ تو گونگا نہ ہوگا بیمار نہ ہوگا لیکن تیری زبان لوگوں سے باتیں نہ کرسکے گی تین دن رات تک یہی حالت رہے گی۔ یہی ہوا بھی کہ تسبیح استغفار حمد وثنا وغیرہ پر تو زبان چلتی تھی لیکن لوگوں سے بات نہ کرسکتے تھے۔ ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ سویا کے معنی پے درپے کے ہیں یعنی مسلسل برابر تین شبانہ روز تمہاری زبان دنیوی باتوں سے رکی رہے گی۔ پہلا قول بھی آپ ہی سے مروی ہے اور…
Read the full tafseer →سورة مَرْیَم 7
محراب کی تشریح کے لیئے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، آل عمران، حاشیہ 36
سورة مَرْیَم 8
اس واقعے کی جو تفصیلات لوقا کی انجیل میں بیان ہوئی ہیں انہیں ہم یہاں نقل کردیتے ہیں تاکہ لوگوں کے سامنے قرآن کی روایت کے ساتھ مسیحی روایت بھی رہے۔ درمیان میں قوسین کی عبارتیں ہماری اپنی ہیں
یہود یہ کے بادشاہ ہیرو ویس کے زمانے میں (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، بنی اسرائیل، حاشیہ 9) ابیاہ کے فریق سے زکریاہ نام کا ایک کاہن تھا اور اس کی بیوی ہارون کی اولاد میں سے تھی اس کا نام الیشبع (elzabeth) تھا۔ اور وہ خدا کے حضور راستباز اور خداوند کے سب احکام و قوانین پر بےعیب چلنے والے تھے۔ اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
سَوِيًّاکے معنے تندرست کے ہیں یہ لفظ اس لئے بڑھایا گیا کہ زکریا ؑ پر اس حالت کا طاری ہونا کہ کسی انسان سے بات نہ کرسکیں کسی بیماری کی وجہ سے نہیں تھا اور اسی وجہ سے ذکر اللہ اور عبادت میں انکی زبان ان تینوں دنوں میں برابر کھلی ہوئی تھی بلکہ یہ حالت بطور معجزہ اور علامت حمل کے ان پر طاری کی گئی تھی۔
Read the full tafseer →فَخَرَجَ عَلَى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرَابِ فَأَوْحَى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا۔ " محرب " سے مراد معبد کا کوئی حجرہ یا برآمدہ ہے۔
تسبیح کی ہدایت کے اندر رمز : آیت سے یہ بات نکلتی ہے کہ حضرت زکریا اس دعا کے وقت ہیکل ہی کے کسی گوشہ معتکف تھے۔ سورة آل عمران سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ وہ نماز میں کھڑے تھے کہ یہ بشارت ان پر نازل ہوئی۔ اس کے بعد وہ اپنے لوگوں میں آئے اور اشارے سے ان کو برارب تسبیح و استغفار میں مشغول رہنے کی ہدایت کی۔ اس اشارے کے اندر یہ بات مضمر تھی کہ وہ قدرت کے کسی بہت بڑے راز کے امین میں ہیں جس کے اظہار کا وقت ابھی نہیں آیا ہے ! لوگ خدا کی حمد و تسبیح میں…
Read the full tafseer →11۔ 1 مِحْرَاب سے مراد حجرہ ہے جس میں وہ اللہ کی عبادت کرتے تھے۔ یہ حَرْب سے ہے جس کے معنی لڑائی کے ہیں۔ گویا عبادت گاہ میں اللہ کی عبادت کرنا ایسے ہے گویا وہ شیطان سے لڑ رہا ہے۔
11۔ 2 صبح وشام اللہ کی تسبیح سے مراد عصر اور فجر کی نماز ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ دو وقتوں میں اللہ کی تسبیح و تمحید اور پاکی کا خصوصی اہتمام کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
6: یعنی کوئی ایسی نشانی بتا دیجئے جس سے مجھے یہ پتہ چل جائے کہ حمل قرار پا چکا ہے
7: یعنی جب حمل قرار پائے گا تو تم سے بولنے کی قوت تین دن کے لیے سلب کرلی جائے گی۔ البتہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور حمد کر سکوگے
Read the full tafseer →فخرج علی قومہ من المحراب فاوحی ال یھم ان سبحوا بکرہ و عشیا ً (91 : 11) ” چناچہ وہ محراب سے نکل کر اپنی قوم کے سامنے آیا اور اس نے اشارے سے ان کو ہدایت کی کہ صبح و شام تسبیح کرو۔ “ تاکہ وہ بھی اس فضا اور اس حالت میں داخل ہوجائیں جس وہ داخل ہوچکے ہیں اور وہ بھی ان کے ساتھ اللہ کا شکر ادا کریں کہ اللہ نے اس پر اور ان پر احسان کیا کیونکہ یہ لڑکا ان کے بعد ان کا امام اور راہنما ہوگا۔
یہاں قرآن مجید زکریا کو حالت خاموشی میں چھوڑ دیتا ہے ، پردہ گرتا ہے ، اور اس منظر کا صفحہ لپیٹ لیا جاتا ہے اور جب دوسرا منظر سامنے آتا ہے تو اس میں خود حضرت یحییٰ چلے آ رہے ہیں اور ان کو عالم بالا سے رب کی ندا آتی ہے۔
Read the full tafseer →2 یعنی جب وہ وقت آیا تو زبان گفتگو کرنے سے رک گئی۔ حجرہ سے باہر نکل کر لوگوں کو اشارہ سے کہا کہ صبح و شام اللّٰہ کو یاد کرو۔ نمازیں پڑھو۔ تسبیح و تہلیل میں مشغول رہو۔ یہ کہنا یا تو حسب معمول سابق وعظ و نصیحت کے طور پر ہوگا یا نعمت الٰہیہ کی خوشی محسوس کر کے چاہا کہ دوسرے بھی ذکر و شکر میں ان کے شریک حال ہوں۔ کیونکہ جیسا " آل عمران " میں گزرا حضرت زکریا کو حکم تھا کہ ان تین دن میں خدا کو بہت کثرت سے یاد کریں۔ اور خاص تسبیح کا لفظ شاید اس لیے اختیار کیا ہو کہ اکثر عجیب و غریب سماں دیکھنے پر آدمی " سبحان اللّٰہ " کہا کرتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 11 فَخَرَجَ عَلٰی قَوْمِہٖ مِنَ الْمِحْرَابِ
اپنی عبادت ‘ رازو نیاز اور مناجات کے بعد حضرت زکریا علیہ السلام اپنے حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے لوگوں کی طرف آئے۔
فَاَوْحٰٓی اِلَیْہِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُکْرَۃً وَّعَشِیًّا
آپ علیہ السلام نے لوگوں کو اشاروں کنایوں سے سمجھایا کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بہت اہم فیصلہ ہونے جا رہا ہے ‘ لہٰذا تم لوگ صبح وشام کثرت سے اللہ کی تسبیح وتحمید کرتے رہو۔ عربی میں ”وحی“ کے لغوی معنی ہیں : الاعلام بالسِّر والخِفاء ‘ یعنی کسی کو اشارے سے کوئی بات اس طرح بتانا کہ دوسروں کو پتا نہ چلے۔ انبیاء ورسل علیہ السلام کی طرف جو وحی آتی ہے اس کی کیفیت بھی یہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
12 سیدنا زکریا کا حمل کی علامت پوچھنا :۔ یعنی ایسی نشانی جس سے معلوم ہوجائے کہ اب حمل قرار پا گیا ہے۔ چناچہ علامت یہ بتائی گئی کہ تمہاری قوت گویائی بحال رہنے کے باوجود تم لوگوں سے بات چیت نہ کرسکو گے البتہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لئے زبان چلتی رہے گی۔ چناچہ جب وہ وقت آگیا تو آپ ہر وقت ذکر الٰہی میں مشغول رہنے لگے۔ اور دوسروں کو اشارہ سے تاکید کردی کہ ہر وقت اللہ کی یاد میں مشغول رہیں اور اللہ کا شکر ادا کرنے میں ان کے ساتھ شریک ہوں۔
Read the full tafseer →14۔ (جہاں وہ عبادت کرتے رہتے تھے) محراب پر حاشیہ سورة آل عمران آیت 36 کے تحت میں گزر چکا۔ مراد حجرہ عبادت ہے۔ وہ محرابہ موضع مصلاہ (بحر) قیل ان المحراب الغرفۃ (جصاص)
15۔ صبح وشام سے مراد یا تو دوام عبادت ہے کہ دن رات برابر عبادت میں لگے رہو۔ کسی وقت غافل نہ ہو۔ اور یا ان کی شریعت میں یہی وہ خاص وقت نما ز کے ہوں گے ان کی طرف اشارہ مقصود ہے۔ (آیت) ” اوحی “۔ وحی کے عام لغوی معنی تو اشارہ کے ہیں۔ لیکن بعض نے یہاں اسے امر کے مرادف قرار دیا ہے۔ اور (آیت) ” اوحی الیھم “ کی تفسیر امرھم سے کی ہے۔ چناچہ ابن زید سے یہی منقول ہے۔ اور ایک معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ آپ نے انہیں یہ لکھ کر دے دیا اور یہ معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–15
آیت نمبر 7 تا 15
ترجمہ : اے زکریا ہم تجھے ایک فرزند کی خوشخبری دیتے ہیں جو تیری درخواست کے مطابق وارث ہوگا اس کا نام یحییٰ ہوگا اس کا ہمنام پہلے ہم نے کسی کو نہیں کیا یعنی یحییٰ کا ہم نام تو زکریا (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار میرے لڑکا کس طرح ہوگا حالانکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی انتہائی درجہ کو پہنچ گیا ہوں عِیِّیًّا عَتَا سے ماخوذ ہے بمعنی یَبِسَ یعنی عمر کے آخری مرحلہ میں پہنچ چکا ہوں جو ایک بیس سال ہے اور میری بیوی 98 سال کی ہوچکی ہے عِتِیٌ اصل عُتُوْوٌ بروزن قُعُوْدٌ تخفیف کے لئے تا کو کسرہ دے دیا اور اول واو کو کسرہ کی مناسبت سے ی سے بدل دیا اور پھر دوسرے واو کو…
Read the full tafseer →فخرج علی قومہ من المحراب فاوحی الیہم ان سبحوا بکرۃ و عشیا۔
اس کے بعد زکریا مسجد سے نکل کر قوم کے پاس آئے اور اشاروں سے ان سے کہا کہ صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کرو۔
اَلْمِحْرَابِ (اسم ظرف لڑائی کی جگہ) مراد مسجد کیونکہ مسجد شیطان سے لڑنے کی جگہ ہے صاحب قاموس نے محراب کے متعدد معانی لکھے ہیں ‘ بالاخانہ ‘ گھر کے اندر صدر مقام ‘ مسجد میں امام کے کھڑا ہونے کی جگہ ‘ وہ مقام جہاں بادشاہ تنہائی میں سب سے الگ لوگوں سے دور رہتا ہے۔
بغوی نے لکھا ہے لوگ مسجد کے باہر منتظر تھے کہ زکریا اندر سے دروازہ کھول دیں تو وہ اندر جا کر نماز پڑھیں اچانک زکریا دروازہ کھول کر باہر آگئے ‘ چہرے کا رنگ بدلا ہوا تھا…
Read the full tafseer →(11) چناچہ مسجد سے اپنی قوم کے پاس تشریف لائے اور ان کو اشارہ سے یا زمین پر لکھ کر فرمایا کہ صبح و شام اللہ کی تعالیٰ کی عبادت اور پاکی بیان کرنے میں مصروف رہو۔
Read the full tafseer →فَخَرَجَ عَلٰي قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ : ”الْمِحْرَابِ“ نماز کی جگہ، یا وہ کمرہ جس میں وہ عبادت کیا کرتے تھے، یا مسجد، کیونکہ بنی اسرائیل کی مساجد کو ”مَحَارِیْبُ“ کہا جاتا تھا، کیونکہ وہ ایسے مقامات ہیں جن میں شیطانوں سے حرب (جنگ) کی جاتی ہے۔ (طنطاوی)
فَاَوْحٰٓى اِلَيْهِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّعَشِـيًّ : یعنی حمل کی نشانی کے طور پر زبان بند ہوگئی تو اشارے سے لوگوں کو پہلے اور پچھلے پہر اللہ تعالیٰ کی تسبیح کا حکم دیا، کیونکہ خود انھیں علامت ظاہر ہونے پر اللہ کی طرف سے یہی حکم تھا، جیسا کہ فرمایا : (وَاذْكُرْ رَّبَّكَ كَثِيْرًا وَّسَبِّحْ بالْعَشِيِّ وَالْاِبْكَارِ) [ آل عمران : 41…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فخرج علی قومہ من المحراب یعنی اپنی عبادت گاہ سے ان کی طرف جھانکا ہے۔ محراب بلند جگہ اور معزز مجلس ہوتی ہے۔ لوگ عبادت گاہیں زمین سے اونچی بناتے تھے۔ اس کی دلیل حضرت داؤد (علیہ السلام) کی محراب ہے جیسا کہ آگے آئے گا۔ لوگوں کا اس کے اشتقاق میں اختلاف ہے۔ بعض علماء نے کہا : یہ الحرب سے مشتق ہے گویا اس میں ہمیشہ رہنے والا شیطان اور شہوات سے جنگ کرتا ہے۔ ایک جماعت نے کہا : الحرب (راء کے فتحہ کے ساتھ) سے مشتق ہے گویا عبادت خانہ میں رہنے والا تھکن اور مشقت اٹھاتا ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ یہ آیت دلیل ہے کہ امام کا مقتدیوں سے بلند ہوناان کے نزدیک مشروع تھا۔ اس مسئلہ میں فقہاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1:۔ فریابی، سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، عبدابن حمید ابن، جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ حاکم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں (حاکم نے صحیح بھی کہا) نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” کھیعص “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے کبیہ ھاد، امین، عزیز اور صادق اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ کاف کبیر کے بدلہ میں ہے۔
2:۔ عبدالرزاق آدم ابن ابی ایاس عثمان بن سعید دارمی نے توحید میں ابن جریر ابن منذر ابن ابی حاتم ابن مردویہ حاکم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں (حاکم نے صحیح بھی کہا) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” کھیعص “ میں کاف کریم میں سے ہے ھاھاد میں سے ہے یاء حکیم میں سے ہے عین علیم میں سے…
Read the full tafseer →[فَخَرَجَ : پھر وہ نکلے ] [عَلٰي قَوْمِهٖ : اپنی قوم پر ] [مِنَ الْمِحْرَابِ : محراب سے ] [فَاَوْحٰٓى: تو انھوں نے اشارہ کیا ] [اِلَيْهِمْ : ان کی طرف ] [ان : کہ ] [سَبِحُوْا : تم لوگ تسبیح کرو ] [بُكْرَةً : صبح کے وقت ] [وَّعَشِـيًّا : اور شام کے وقت ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
(فَخَرَجَ عَلٰی قَوْمِہٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰٓی اِلَیْھِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُکْرَۃً وَّ عَشِیًّا) سو زکریا (علیہ السلام) اپنی قوم پر نکلے یعنی محراب سے باہر آئے عام طور سے نمازی ان کے انتظار میں رہتے تھے جب وہ دروازہ کھولتے تو اندر داخل ہوجاتے اور ان کے ساتھ نماز پڑھ لیتے تھے اور روزانہ صبح شام ایسا ہوتا تھا اپنی بیوی کے استقرار حمل کے بعد حسب عادت محراب کا دروازہ کھولا تھا تو لوگ موجود تھے وہ حسب سابق اندر داخل ہوگئے لیکن آج صورت حال مختلف تھی کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کلام نہیں کرسکتے تھے۔ بولنے پر قدرت نہ ہونے کی وجہ سے انھوں نے اشارہ سے فرمایا کہ صبح و شام حسب سابق نماز پڑھتے رہو۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
قصہء اول حضرت زکریا و حضرت یحییٰ (علیہما السلام)
قال اللہ تعالیٰٰ ۔ کٓھٰیٰعٓصٓ، ذکر رحمت ربک عبدہ زکریا۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ ویوم یبعث حیا۔
(ربط) حضرت زکریا (علیہ السلام) انبیاء بنی اسرائیل میں سے ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ وہ نجار (یعنی بڑھئی) کا پیشہ کرتے تھے اور اپنے ہاتھ کی محنت سے کما کر کھاتے تھے۔ ان کے کوئی فرزند نہ تھا اور اعزاء اوراقرباء کی طرف سے یہ کھٹکا تھا کہ میرے بعد دین حق میں تغیر و تبدل کر ڈالیں گے۔ جیسا کہ بنی اسرائیل میں ہوتا رہا۔ اس لیے انہوں نے پچھلی رات میں نہایت عجز وزاری کے ساتھ ایک فرزند کی دعا مانگی کہ جو میرے بعد تیرے دین کی حفاظت کرسکے اور دعا کا آغاز اپنے ضعف اور ناتوانی سے…
Read the full tafseer →9:۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ جب قدرت خداوندی سے حمل قرار پا گیا۔ تو زکریا (علیہ السلام) سے قوت گویائی سلب ہوگئی۔ اور جب وہ اپنی محراب (عبادت گاہ) سے نکل کر لوگوں کے سامنے ہوئے تو زبان سے کچھ بول نہ سکے اس لیے ہاتھ کے اشارے سے انہیں فرمایا کہ تم سب شکر نعمت کے طور پر صبح شام اللہ کی تسبیح و تقدیس میں لگے رہو۔ ولعلہ (علیہ السلام) کان مامورا بان یسبح شکرا ویامر قومہ (روح ج 16 ص 71) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر ہوچکا ہے ، ان کی قوم اور خاندان کے لوگ ناپسندیدہ اخلاق کے حامل تھے ، ان کی حالت کو دیکھتے ہوئے حضرت زکریا (علیہ السلام) کو سخت تشویش تھی کہ ان کے بعد دین کی خدمت اور احکام الہی کی تبلیغ کا کام کون انجام دے گا ، چناچہ انہوں نے بڑھاپے کی عمر میں اللہ رب العزت کے سامنے اولاد کے لیے درخواست پیش کی عرض کی پروردگار ! مجھے ایسا پسندیدہ بیٹا عطا فرما جو میرے بعد میرا جانشین ہو اور پورے خاندان یعقوب کا بھی وارث ہو ، آپ کا مطلب یہ تھا کہ ایسا بیٹا عطا فرما جو میری علمی نیابت کا فریضہ انجام دے سکے ۔
سورة آل عمران میں اللہ تعالیٰ نے حضرت…
Read the full tafseer →فَخَرَجَ عَلٰي قَوْمِہٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰٓى اِلَيْہِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَۃً وَّعَشِـيًّا 11
خرج
خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ،
( خ رج ) خرج ۔ ( ن)
خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں ہے ؛ فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] موسٰی وہاں سے ڈرتے…
Read the full tafseer →6 ؎ ان کی زبان بند ہوگئی تھی اشارہ سے کہا کہ میں نماز نہیں پڑھ سکتا تم خود حسب دستور صبح و شام اپنی نماز پڑھ لو۔ وہ نمازیں بنی اسرائیل میں زیادہ مؤکد تھیں اور ان کی نماز تسبیح و تقدیس تھی۔ 12 منہ
عاقر مثلہ قبلہ۔ 12 منہ۔
Read the full tafseer →فَخَرَجَ عَلٰی قَوْمِہٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰٓی اِلَیْھِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُکْرَۃً وَّعَشِیًّا (مریم : 11)
(پس وہ محراب سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے اور ان سے اشارے سے کہا کہ تم صبح و شام اللہ کی تسبیح کرتے رہو۔ )
محراب کا مفہوم
اس آیت کریمہ میں ایک لفظ محراب استعمال ہوا ہے۔ اس سے بعض لوگوں کو یہ گمان ہوا ہے کہ یہ بھی کوئی ایسا ہی محراب ہوگا جیسے ہماری مسجدوں میں امام کے کھڑا ہونے کے لیے بنایا جاتا ہے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) ایسے ہی کسی محراب میں تھے کہ ان پر بشارت نازل ہوئی اور پھر ان کی درخواست پر علامت کے طور پر تین راتوں تک ان سے تکلم کی صلاحیت واپس لے لی گئی۔ چناچہ اس محراب سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا قبول ہوئی اور انھیں فی الفور یحییٰ (علیہ السلام) کی خوشخبری دی گئی، حضرت زکریا کا نشانی طلب کرنا۔
سورۃ آل عمران میں ذکر ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کے ذریعہ یحییٰ (علیہ السلام) کی خوشخبری سنائی گئی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اولاد دینے والا نہیں اور زکریا (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ملائکہ نے یحییٰ (علیہ السلام) کی خوشخبری دی تھی۔ اس لیے یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے زکریا (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری دی اور اس کا نام یحییٰ رکھا۔ اس سے پہلے اس نام کا کوئی شخص نہیں ہوا۔
جب…
Read the full tafseer →1 1: فَخَرَجَ عَلٰی قَوْمِہٖ مِنَ الْمِحْرَابِ (وہ اپنی قوم کے پاس مسجد سے نکل کر گئے) محراب سے نماز کی جگہ مراد ہے۔ وہ ان کے انتظار میں تھے۔ آپ کو کلام پر قدرت نہ رہی : فَاَوْحٰٓی اِلَیْھِمْ (پس آپ نے ان کی طرف اشارہ کیا) انگلی سے اشارہ مراد ہے۔ اَنْ سَبِّحُوْا (تم تسبیح کرو) یعنی نماز پڑھو۔ یہ اَن مفسرہ ہے۔ بُکْرَۃً وَّ عَشِیًّا (صبح، شام) فجر و عصر کی نماز مراد ہے۔
Read the full tafseer →تفسیر۔
11۔ فخرج علی قومہ من المحراب، ، لوگ مسجد کے باہر منتظر تھے کہ زکریا (علیہ السلام) اندر سے دروازہ کھولیں تو وہ اندر جاکر نماز پڑھیں، اچانک زکریا (علیہ السلام) دروازہ کھول کر باہر آگئے چہرے کا رنگ بدلہ ہوا تھا لوگوں نے کیفیت دریافت کی تو آپ نے اشارے سے ان کو تسبیح وتنزیہہ کا حکم دیا۔ فاوحی الیھم، مجاہد فرماتے ہیں کہ اوحی کا مطلب یہ ہے کہ زمین پر لکھ دیا۔ ان سبحوہ ، کہ اللہ کے لیے نماز پڑھو، بکرۃ ، صبح کے وقت ، وعشیا، میرے ساتھ۔ جب حضرت زکریا (علیہ السلام) صبح وشام اپنی قوم پر نکلتے تو وہ ان کو تسبیح وصلوۃ کا حکم دیتے۔ جب ان کی زوجہ کو حمل ہوا تو ان کو بات کرنے سے روکا گیا پھر یہ نماز کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
7۔ 11۔ اتنی عبارت یہاں گویا اور ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا قبول ہوئی اور حکم ہوا کہ ہم تم کو لڑکے ہونے کی خوشی سناتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہے اب آگے حضرت زکریا (علیہ السلام) کے تعجب کا بیان ہے کہ جب ان کی دعا قبول ہوئی اور لڑکے ہونے کی ان کو خبر سنائی گئی تو اس سے وہ بہت خوش ہوئے اور لڑکے کے ہونے کی کیفیت کا سوال کیا یہ تعجب زکریا ( علیہ السلام) کو اس سبب سے ہوا کہ بیوی بانجھ اور بوڑھی تھی اور آپ بھی اس قدر بوڑھے ہوگئے کہ ہاتھ پیر اکڑ گئے تھے کیونکہ اب تو بوڑھے باپ اور بانجھ ماں موجود ہیں اس صاحب قدرت نے تو انسان کو ایسی حالت میں پیدا کیا کہ جب انسان کچھ بھی نہیں تھا ترمذی ابوداؤد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
آیت 7
یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو فرشتوں کے توسط سے ” یحییٰ “ (علیہ السلام) کی خوشخبری سنائی اور اللہ تعالیٰ نے اس (بیٹے) کو ” یحییٰ “ کے نام سے موسوم کیا۔ اسم اپنے مسمی کے عین موافق تھا، چناچہ یحییٰ (علیہ السلام) نے حسی زندگی بسر کی جس سے اللہ تعالیٰ کی عنایت کی تکمیل ہوئی اور آپ نے معنوی زندگی بھی بسر کی، وہ ہے وحی، علم اور دین کے ذریعے سے قلب و روح کی زندگی۔ (لم نجعل لہ من قبل سمیا) ” نہیں کیا ہم نے پہلے اس نام کا کوئی “ یعنی اس سے پہلے کسی کا یہ نام نہیں رکھا گیا اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس کے معنی یہ ہوں حضرت یحییٰ (علیہ السلام) سے پہلے آپ جی اس کوئی نہیں بنایا، تب یہ ان کی کاملیت اور اوصاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
محراب کیا ہے ؟
قول باری ہے (فخرج علی قومہ من المحراب۔ چناچہ وہ محراب سے نکل کر اپنی قوم کے سامنے آئے) ابوعبیدہ کا قول ہے کہ محراب صدر مجلس یعنی بیٹھنے کی جگہ کے درمیان والے حصے کو کہتے ہیں۔ اسی سے مسجد کا محراب نکلا ہے۔ ایک قول کے مطابق محراب غرفہ یعنی بالا خانہ کو کہتے ہیں۔ اسی سے قول باری ہے (اذ تسوروا المحراب ۔ جب وہ دیوار پھاند کر حجرہ میں آ گئے ) ایک اور قول ہے کہ محراب مصلی یعنی نماز پڑھنے کی جگہ کو کہتے ہیں۔
گونگے کے اشارے سے عمل درآمد ہوسکتا ہے
قول باری ہے (فاوحی الیھم اس نے انہیں اشارے سے کہا) ایک قول کے مطابق حضرت زکریاعلیہ السلام نے اپنی قوم کو ہاتھ کے اشارے سے کہا اس طرح ہاتھ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
12 محراب زکریا سے مراد حجرئہ عبادت : یعنی محراب کے لفظ سے یہاں پر وہ معروف محراب مراد نہیں جو کہ آج کل ہماری مسجدوں میں بالعموم پائے جاتے ہیں کہ یہ محراب تو اسلام میں بھی بہت بعد بنو امیہ کے دور میں شروع کئے گئے۔ بلکہ اس سے مراد وہ خاص کمرے اور عبادت خانے ہیں جو کہ مسجد اقصیٰ کے آس پاس موجود ہوا کرتے تھے۔ جن میں عبادت گزار لوگ رہا کرتے تھے۔ جیسا کہ آج بھی حرم مکی کے اردا گرد ایسے بہت سے کمرے موجود ہیں جن کو وہاں عام طور پرخلوے کہا جاتا ہے۔ جو کہ عبادت گزار حضرات کے رہنے سہنے کے لئے مخصوص ہیں۔ سو حضرت زکریا اسی قسم کے کسی حجرے سے باہر تشریف لائے تھے جہاں آپ قیام پذیر تھے۔ ورنہ محراب کا جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
بیٹے کی خوشخبری
تشریح : یہ سب کچھ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ جیسا کہ اوپر آیات میں اللہ تعالیٰ اور سیدنا زکریا (علیہ السلام) کی گفتگو سے ظاہر ہے۔ سیدنا زکریا (علیہ السلام) اللہ کے مقبول ترین بندوں میں سے تھے جیسا کہ آیات میں کہا جا رہا ہے۔ کہ آپ تین رات زبان سے کلام نہ کرسکیں گے۔ کیونکہ آپ ہر روز لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے تھے۔ جب باہر آئے تو وعظ کے لیے زبان نے کام نہ کیا تو سمجھ گئے کہ اللہ نے ان کی دعا پوری کردی ہے۔ لہٰذا تین دن تک اشاروں سے وعظ کرتے رہے کہ اللہ کا شکر اور ذکر ہر وقت کرتے رہنا چاہیے ہر وقت سبحان اللہ کا ورد زبان پر ہونا چاہیے۔ بہرحال سیدنا زکریا (علیہ السلام) کی مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
سورة مریم :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة مریم بھی مکی سورتوں میں سے ہے اور سورة کہف کی طرح اس میں بھی بہت سے واقعات عجیبہ کا تذکرہ ہے ، پہلی گزرنے والی سورة یعنی سورة کہف کی طرح اس میں بھی بہت سے واقعات کا ذکر تھا جو علمائے یہود نے مشرکین مکہ کو پوچھنے کے لیے کہا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ ان واقعات کو صحیح طور پر صرف اللہ جل جلالہ کا نبی ہی بیان کرسکتا ہے اللہ کریم نے وہ واقعات ارشاد فرما کر اپنے رسول فداہ ابی وامی کو مزید واقعات غریبہ سے مطلع فرمایا جن کے بارے کفار ومشرکین سوال بھی نہ کر پائے تھے کہ وہ اتنا بھی علم نہ رکھتے تھے ۔
(حروف مقطعات)
کھیعص : حروف مقطعات کی بات پہلے گزر چکی کہ…
Read the full tafseer →ف 10 کیونکہ اس وقت وہ صرف اشاررے ہی سے گفتگو کرسکتے تھے جیسا کہ سورة آل عمران کی آیت میں ہے ” الا رمزا “ مگر اشارے سے بات چیت کرسکو گے) اور لوگوں کو صبح و شام خدا کی تسبیح کا اس لئے حکم دیا گیا کہ خود انہیں علامت ظاہر ہوجانے پر یہی حکم دیا گیا تھا۔ واذ کر ربک کثیر وسیج بالغشی والابکار اور اپنے رب کو بہت یاد کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح کرو۔
Read the full tafseer →(19:11) خرج علی قومہ۔ اپنی قوم کی طرف نکل آیا۔ المحراب۔ اسم مفرد محاریبجمع۔ کمرہ ۔ بالاخانہ۔ کوٹھڑی۔ اوحی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ اوحی یوحی ایحاء (افعال) اس نے وحی بھیجی۔ اس نے حکم دیا۔ اس نے اشارہ سے کہا ان کو۔
ان سبحوا۔ سبحوا۔ فعل امر۔ جمع مذکر حاضر۔ کہ تم تسبیح پڑھو۔ تم پاکی بیان کرو۔ تم عبادت کرو۔ بکرۃ۔ دن کا اول حصہ۔ صبح۔
عشیا۔ شام۔ امام راغب (رح) نے اس کے معنی زوال سے لے کر صبح تک کے لکھے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
لغات القرآن آیت نمبر 11 تا 15
المحراب عبادت کرنے کی جگہ ۔ اوحی اس نے اشارہ کیا۔ سبحوا تسبیح کرو۔ عبادت کرو۔ بکرۃ صبح۔ عشی شام۔ خذ لے لو۔ پکڑو۔ الحکم حکمت و دانئای۔ صبی بچپن۔ حنان شفقت و محبت۔ برا نیکی کرنا۔ جبار سرکشی کرنے والا۔ عصی نافرمان۔ ولد پیدا کیا گیا۔ یبعث دوبارہ اٹھائے گا۔
تشریح : آیت نمبر 11 تا 15
جب حضرت زکریا (علیہ السلام) کی عمر مبارک ایک سو بیس سال کے قریب ہوئی اس وقت آپ نے عاجزی و انکساری سے اللہ کی بارگاہ میں یہ دعا فرمائی کہ اے اللہ مجھے ایک بیٹا عطا فرما دیجیے تاکہ وہ توریت کی تعلیمات کو عام کرسکے اور میرے اسلامی مقصد اور مشن کے لئے میرا صحیح جانشین اور وارث بن سکے۔ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب حضرت زکریا (علیہ السلام) نے بیٹے کی درخواست کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی درخواست منظور کی اور ان سے کہا کہ اے زکریا (علیہ السلام) ! ہم تجھے بیٹا ہونے کی خوشی سناتے ہیں، اور اس کا نام یحییٰ ہوگا۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے عرض کی کہ اے پروردگار ! میرے لڑکا کہاں سے ہوگا، میری بیوی بانجھ ہے، اور میں بھی بہت بڈھا ہوگیا ہوں پھر مزید اطمینان کے لئے فرشتہ نے کہا :" بیشک حالت تو ایسی ہی ہے، مگر تمہارا پروردگار یوں فرماتا ہے کہ یہ ہمارے نزدیک آسان بات ہے، یعنی ہم نے اسباب بھی پیدا کرسکتے ہیں۔ اور جب وہ چاہتا ہے سبب اور مسبب دونوں کو دم بھر میں پیدا کردیتا ہے "۔ پھر زکریا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
[5] جس سے میں سمجھ جاؤں کہ اب ظہور وعدہ کا وقت قریب آپہنچا اور میں بالکل مطمئن ہوجاؤں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
انسانی تقاضے :
(ف 1) اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کی سن لی ، اور ان کو بشارت دی اور فرمایا ہاں ضرور ایک سعادت مند لڑکا ہوگا ، حضرت زکریا (علیہ السلام) نے فرمایا کیا بڑھاپے میں بھی ایسا ہو سکتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے جوابا ارشاد فرمایا (آیت) ” ھو علی ھین “۔ کہ اس قسم کے خرق عادات ہمارے لئے کچھ بھی دشوار نہیں ، حضرت زکریا (علیہ السلام) اس جواب سے گو مطمئن ہوگئے مگر تقاضائے بشریت سے مزید تسلی کے لئے پوچھا کہ اس وقت سعادت کی علامتیں کیا ہوں گی ؟ کیونکر انبیاء (علیہم السلام) جہاں نبوت سے سرفراز ہوتے ہیں اور تائید الہی سے نوازے جاتے ہیں ، وہاں بشری تقاضے بھی ان میں موجود رہتے ہیں ، اور…
Read the full tafseer →- 1 1 پھر زکریا (علیہ السلام) اپنی عبادت گاہ سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے اور ان کو اشارے سے سمجھایا گیا کہ تم لوگ حسب معمول صبح اور شام خدا تعالیٰ کی عبادت اور اس کی پاکی بیان کرتے رہو۔ یعنی جو طریقہ تمہاری عبادت کا مقرر ہے اس کو صبح و شام بجا لاتے رہو۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں منہ سے بول نہ سکے نشان ہوا کہ وہ وقت آیا ۔ 12 کہتے ہیں ذکر الٰہی کے لئے زبان چلتی تھی لیکن لوگوں سے بات نہ سکتے تھے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) حضرت دائود کی چوتھی پشت میں تھے ان کی بیوی کی عمر اٹھانوے اور ان کی ننانوے سال تھی ۔ غرض ! حضرت یحییٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور سن شعور کو پہنچے تو ان کو ارشاد ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
ف 2۔ یعنی توریت کہ اس وقت وہی کتاب شریعت تھی، اور انجیل کا نزول بعد میں ہوا۔
Read the full tafseer →زکریا (علیہ السلام) عبادت خانہ سے باہر آئے تو خاموش تھے :
11۔ قرآن کریم نے یہ نہیں کہا کہ زکریا (علیہ السلام) بطور علامت یا نشان گونگے ہوگئے تھے یہ یقینا اس واقعہ کے بعد کی تعبیرات ہیں اور قرآن کریم نے ان تعبیرات کی تصدیق نہیں کی اور تردید کا انداز ایسا اختیار کیا کہ یہ باتیں قابل بحث نہ بن جائیں اور اپنے مدعا کی بات بھی کہہ دی جائے چناچہ فرمایا کہ وہ اپنے حجرہ سے باہر تشریف لائے جو حسب معمول آپ کا انتظار کر رہے تھے تو اس نے زبان نہ کھولی اور اشارہ سے صرف یہ بات کہی کہ میں تین دن رات تک عام باتیں نہیں کروں گا اس وقت آپ چلے جائیں اور تین دن کے بعد تشریف لائیں اور بہتر ہے کہ تم لوگ بھی سارا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
سَوِيًّا means healthy. This word has been added here to denote that Sayyidna Zakariyya's (علیہ السلام) loss of speech for three days was not due to any illness, for during this entire period of three days he could utter words of prayer and supplication. This special condition was a miracle and a sign from Allah Ta’ ala about his wife's pregnancy.
Read the full tafseer →7. For the explanation of mihrab (sanctuary), see (E.N. 36 of Aal-Imran).
8. Below we reproduce the details of this event as given in Luke’s Gospel so that the reader may study and compare the Quranic version with the Christian version. The references and additions within the brackets are ours:
There was in the days of Herod, the king of Judaea, see (Surah Bani-Israil, E.N.9) a certain priest named Zacharias, of the course of Abiah: and his wife was of the daughter of Aaron, and her name wag Elisabeth. And they were both righteous before God, walking in all the commandments and ordinances of…
Read the full tafseer →