Maryam 19:10

Maryam · from ayah 10

19:10

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً ؕ— قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا ۟قَالَ رَبِّ اجۡعَلْ لِّىۡۤ اٰيَةً‌  ؕ قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَيَالٍ سَوِيًّا‏

کہا کہ پروردگار میرے لئے کوئی نشانی مقرر فرما۔ فرمایا نشانی یہ ہے کہ تم صحیح وسالم ہو کر تین (رات دن) لوگوں سے بات نہ کرسکو گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Zechariah] said, "My Lord, make for me a sign." He said, "Your sign is that you will not speak to the people for three nights, [being] sound."

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 1 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Maryam

All translations of 19:10

زکریاؑ نے کہا، "پروردگار، میرے لیے کوئی نشانی مقرر کر دے" فرمایا "تیرے لیے نشانی یہ ہے کہ تو پیہم تین دن لوگوں سے بات نہ کر سکے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہا کہ پروردگار میرے لئے کوئی نشانی مقرر فرما۔ فرمایا نشانی یہ ہے کہ تم صحیح وسالم ہو کر تین (رات دن) لوگوں سے بات نہ کرسکو گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہنے لگے میرے پروردگار میرے لئے کوئی علامت مقرر فرما دے، ارشاد ہوا کہ تیرے لئے علامت یہ ہے کہ باوجود بھلا چنگا ہونے کے تو تین راتوں تک کسی شخص سے بول نہ سکے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

زکریا نے کہا : میرے پروردگار ! میرے لیے کوئی نشانی مقرر فرما دیجیے۔ فرمایا : تمہاری نشانی یہ ہے کہ تم صحت مند ہونے کے باوجود تین رات تک لوگوں سے بات نہیں کرسکو گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

عرض کی اے میرے رب! مجھے کوئی نشانی دے دے فرمایا تیری نشانی یہ ہے کہ تو تین رات دن لوگوں سے کلام نہ کرے بھلا چنگا ہوکر

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(زکریا علیہ السلام نے) عرض کیا: اے میرے رب! میرے لئے کوئی نشانی مقرر فرما، ارشاد ہوا: تمہاری نشانی یہ ہے کہ تم بالکل تندرست ہوتے ہوئے بھی تین رات (دن) لوگوں سے کلام نہ کرسکوگے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہا اے میرے رب ! میرے لیے کوئی نشانی مقرر کر دے۔ فرمایا تیری نشانی یہ ہے کہ تو تندرست ہوتے ہوئے لوگوں سے تین راتیں بات نہیں کرے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

زکریا نے عرض کیا : پروردگار ! پھر میرے لئے کوئی نشانی مقرر کردے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تیرے لئے نشانی یہ ہے کہ تو مسلسل تین رات تک لوگوں سے گفتگو نہ کرسکے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے کہا، اے میرے خداوند ! میرے لیے کوئی نشانی ٹھہرا دیجیے، فرمایا، تمہارے لیے نشانی یہ ہے کہ تم تین شب ور روز لوگوں سے بات نہ کرسکوگے درآنحالیکہ تم بالکل تندرست ہوگے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس پر زکریا ؑ نے عرض کیا اچھا تو اے میرے رب، میرے لیے اس پر کوئی نشانی مقرر فرما دیجئے، ارشاد ہوا تمہارے لیے نشانی یہ ہے کہ تم تین دن رات تک لوگوں سے بات نہیں کرسکو گے جب کہ تم صحیح سالم ہو گے،

— مولانا اسحاق مدنی

(زکریا نے) کہا میرے پروردگار میرے لئے کوئی نشان مقرر کردیجیے۔ (اللہ نے) فرمایا تمہارے لئے نشان یہ ہے کہ تم لوگوں سے تین راتیں نہ بول سکوگے درآنحالیکہ تم تندرست ہوگے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

عرض کیا : اے میرے پروردگار ! میرے لیے کوئی نشانی مقرر فرمادے فرمایا : تمہارے لیے نشانی یہ ہے کہ تم گفتگو نہیں کرسکو گے لوگوں سے تین راتیں متواتر

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہا کہ پروردگار میرے لیے کوئی نشانی مقرر فرما۔ فرمایا ”نشانی یہ ہے کہ تم ٹھیک ٹھاک ہونے کے باوجود تین رات لوگوں سے بات نہ کرسکو گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Zechariah said: "Lord, grant me a Sign." Said He: "Your Sign is that you shall not be able to speak to people for three nights, though you will be otherwise sound."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :My Lord, make for me a sign. He said, :Your sign is that you will not (be able to) speak to the people for three (consecutive) nights, even though you will be sound in health.

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :My Lord, make for me a sign. He said, :Your sign is that you will not (be able to) speak to the people for three (consecutive) nights, even though you will be sound in health.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He [Zakariyya] said: "My Lord! Appoint for me a sign." He said: "Your sign is that you shall not speak unto mankind for three nights, though having no bodily defect."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: My Lord! Appoint for me some token. He said: Thy token is that thou, with no bodily defect, shalt not speak unto mankind three nights.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Zechariah] said, "My Lord, make for me a sign." He said, "Your sign is that you will not speak to the people for three nights, [being] sound."

— Saheeh International

Zachariah asked, " Lord, show me evidence (if this is a heavenly news)." The Lord said, "The evidence for it is that you must not speak (to any mortal) though you are in good health for three nights (and days)."

— Muhammad Sarwar

He said: My Lord! give me a sign. He said: Your sign is that you will not be able to speak to the people three nights while in sound health.

— Muhammad Habib Shakir

He said: my Lord appoint for me a sign. Allah said: thy sign is that thou shalt not speak unto mankind for three nights, while sound.

— Abdul Majid Daryabadi

(Zakariya) said: "O my Lord! give me a Sign." "Thy Sign," was the answer, "Shall be that thou shalt speak to no man for three nights, although thou art not dumb."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 19:10

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 10–11

تشفی قلب کے لیے ایک اور مانگ۔ حضرت زکریا ؑ اپنے مزیداطمینان اور تشفی قلب کے لیے اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ اس بات پر کوئی نشان ظاہر فرما جیسے کہ خلیل اللہ ؑ نے مردوں کے جی اٹھنے کے دیکھنے کی تمنا اسی لئے ظاہر فرمائی تھی تو ارشاد ہوا کہ تو گونگا نہ ہوگا بیمار نہ ہوگا لیکن تیری زبان لوگوں سے باتیں نہ کرسکے گی تین دن رات تک یہی حالت رہے گی۔ یہی ہوا بھی کہ تسبیح استغفار حمد وثنا وغیرہ پر تو زبان چلتی تھی لیکن لوگوں سے بات نہ کرسکتے تھے۔ ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ سویا کے معنی پے درپے کے ہیں یعنی مسلسل برابر تین شبانہ روز تمہاری زبان دنیوی باتوں سے رکی رہے گی۔ پہلا قول بھی آپ ہی سے مروی ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 7–10

سورة مَرْیَم 5 لوقا کی انجیل میں الفاظ یہ ہیں تیرے کنبے میں کسی کا یہ نام نہیں (611)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–12

سَوِيًّاکے معنے تندرست کے ہیں یہ لفظ اس لئے بڑھایا گیا کہ زکریا ؑ پر اس حالت کا طاری ہونا کہ کسی انسان سے بات نہ کرسکیں کسی بیماری کی وجہ سے نہیں تھا اور اسی وجہ سے ذکر اللہ اور عبادت میں انکی زبان ان تینوں دنوں میں برابر کھلی ہوئی تھی بلکہ یہ حالت بطور معجزہ اور علامت حمل کے ان پر طاری کی گئی تھی۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِي آيَةً قَالَ آيَتُكَ أَلا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلاثَ لَيَالٍ سَوِيًّا۔ اطمینان قلب کے لیے ایک اور درخواست : یہ حضرت زر کیا نے اپنے اطمینان قلب کے لیے ایک اور درخواست پیش کردی۔ یہ بشارت ان کی دلی آرزو کا مظہر اور ان کے لیے بڑی اہمیت رکھنے والی تھی اس وجہ سے انہوں نے چاہا کہ ہر پہلو سے اس پر شرح صدر ہوجائے۔ حضرت زکریا نے یہ بشارت ہاتف غیب سے سنی تھی اس وجہ سے انہیں یہ خیال ہوسکتا تھا کہ ممکن ہے یہ واہمہ کی خلاقی ہو اور اپنے ہی گنبد دل کی صدا اس شکل میں سنائی دی ہو۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ ان کو کوئی ایسی نشانی دکھا دی جائے جس سے انہیں پورا اطمینان ہوجائے کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

10۔ 1 راتوں سے مراد، دن اور رات ہیں اور سَوِیاًّ کا مطلب ہے بالکل ٹھیک ٹھاک، تندرست، یعنی ایسی کوئی بیماری نہیں ہوگی جو تجھے بولنے سے روک دے۔ لیکن اس کے باوجود تیری زبان سے گفتگو نہ ہو سکے تو سمجھ لینا کہ خوشخبری کے دن قریب آگئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 10–11

6: یعنی کوئی ایسی نشانی بتا دیجئے جس سے مجھے یہ پتہ چل جائے کہ حمل قرار پا چکا ہے 7: یعنی جب حمل قرار پائے گا تو تم سے بولنے کی قوت تین دن کے لیے سلب کرلی جائے گی۔ البتہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور حمد کر سکوگے

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قال ایتک الا تکلم الناس ثلث لیال سویا (91 : 01) ” فرمایا تیرے لئے نشانی یہ ہے کہ تو پیہم تین دن لوگوں سے بات نہ کرسکے گا۔ “ چناچہ ایسا ہی ہوا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی باوجود تندرست ہونے کے جب کامل تین رات دن لوگوں کے ساتھ زبان سے بات چیت نہ کرسکے اس وقت سمجھ لینا کہ حمل قرار پا گیا ہے۔ اس کے متعلق مفصل کلام " آل عمران " کے فوائد میں گزر چکا۔ ملاحظہ کرلیا جائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

قَالَ اٰیَتُکَ اَلَّا تُکَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا گویا بطور نشانی اللہ تعالیٰ نے تین دنوں تک حضرت زکریا علیہ السلام کی قوت گویائی سلب کرلی۔ سورة آل عمران آیت 41 میں اس مضمون کو اس طرح بیان کیا گیا ہے : قَالَ اٰیَتُکَ اَلاَّ تُکَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَۃَ اَیَّامٍ الاَّ رَمْزًا ط یعنی آپ علیہ السلام تین دن تک لوگوں سے گفتگو نہیں کرسکو گے مگر اشاروں کنایوں میں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 10–11

12 سیدنا زکریا کا حمل کی علامت پوچھنا :۔ یعنی ایسی نشانی جس سے معلوم ہوجائے کہ اب حمل قرار پا گیا ہے۔ چناچہ علامت یہ بتائی گئی کہ تمہاری قوت گویائی بحال رہنے کے باوجود تم لوگوں سے بات چیت نہ کرسکو گے البتہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لئے زبان چلتی رہے گی۔ چناچہ جب وہ وقت آگیا تو آپ ہر وقت ذکر الٰہی میں مشغول رہنے لگے۔ اور دوسروں کو اشارہ سے تاکید کردی کہ ہر وقت اللہ کی یاد میں مشغول رہیں اور اللہ کا شکر ادا کرنے میں ان کے ساتھ شریک ہوں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

12۔ (جس سے میں سمجھ جاؤں کے اب ظہور وعدہ کا وقت قریب آپہنچا اور میں بالکل مطمئن ہوجاؤں کہ تیرے فرشتہ نے مجھے جو بشارت پہنچائی ہے۔ وہ تیری ہی طرف سے ہے) گویا آپ یہ عرض کررہے ہیں کہ نفس بشارت تو مل چکی لیکن یہ بھی مجھے کسی غیبی اشارہ سے معلوم ہوجاتا تو اچھا تھا کہ اب حمل قرار پاچکا اور بشارت کا تحقق ایک درجہ میں ہوچکا۔ رب اجعل لی علما ودلیلا علی ما بشرتنی بہ ملائکتک من ھذا الغلام عن امرک ورسالتک لیطمئن الی ذلک قلبی (ابن جریر) اے علامۃ تدلنی علی تحقق المسؤل ووقوع الخیر (روح) علامۃ اذا حملت امراتی (ابن عباس ؓ لتستقر نفسی ویطمئن قلبی بما وعدتنی کما قال ابراھیم (علیہ السلام) رب ارنی کیف الخ (ابن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 7–15

آیت نمبر 7 تا 15 ترجمہ : اے زکریا ہم تجھے ایک فرزند کی خوشخبری دیتے ہیں جو تیری درخواست کے مطابق وارث ہوگا اس کا نام یحییٰ ہوگا اس کا ہمنام پہلے ہم نے کسی کو نہیں کیا یعنی یحییٰ کا ہم نام تو زکریا (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار میرے لڑکا کس طرح ہوگا حالانکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی انتہائی درجہ کو پہنچ گیا ہوں عِیِّیًّا عَتَا سے ماخوذ ہے بمعنی یَبِسَ یعنی عمر کے آخری مرحلہ میں پہنچ چکا ہوں جو ایک بیس سال ہے اور میری بیوی 98 سال کی ہوچکی ہے عِتِیٌ اصل عُتُوْوٌ بروزن قُعُوْدٌ تخفیف کے لئے تا کو کسرہ دے دیا اور اول واو کو کسرہ کی مناسبت سے ی سے بدل دیا اور پھر دوسرے واو کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال رب اجعل لی ایۃ زکریا نے کہا ‘ اے میرے رب میرے لئے کوئی نشانی مقرر کر دے ‘ جس سے میری بیوی کا حاملہ ہونا معلوم ہوجائے۔ قال ایتک الا تکلم الناس ثلث لیال اللہ نے (یا فرشتہ نے) کہا تیرے لئے (حمل کی) نشانی یہ ہے کہ تو تین راتیں (اور تین دن) لوگوں سے کلام نہ کرسکے گا سورة آل عمران میں بھی یہ قصہ آیا ہے وہاں بیان کردیا گیا کہ حضرت زکریا تین دن تین رات کسی آدمی سے بات نہ کرسکے لیکن اللہ کا ذکر کرتے تھے تو زبان رواں ہوجاتی تھی اس لئے مسلسل تین روز ذکر و شکر میں مشغول رہے۔ سویا۔ ایسی حالت میں کہ صحیح سالم ہوگا یعنی کوئی بیماری لاحق نہ ہوگی نہ گونگا پن ہوگا (نہ زبان کا فالج لقوہ۔ مترجم) ۔ مجاہد نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(10) تب زکریا ؑ نے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار میری بیوی کے حاملہ ہونے کے لیے کوئی علامت مقرر فرما دیجیے۔ ارشاد ہوا کہ علامت یہ ہے کہ تین دن تین رات تک تم لوگوں سے بات چیت نہ کرسکو گے حالانکہ تندرست ہو گے کسی قسم کی کوئی بیماری اور گونگا پن نہیں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّيْٓ اٰيَةً : یعنی کوئی ایسی نشانی بتادے کہ ان حالات میں ہمارے ہاں لڑکے کی پیدائش ہونے والی ہو تو مجھے پہلے سے اس کا پتا چل جائے۔rnۭ قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ۔۔ : ”ۭ قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ“ تندرست، صحیح اعضاء والا، نہ گونگا نہ بہرا۔ یہاں تین راتوں کا ذکر ہے، جبکہ سورة آل عمران میں تین دنوں کا ذکر ہے، یعنی نشانی یہ ہے کہ تین دن رات صحیح سالم، تندرست ہوتے ہوئے تم لوگوں سے بات چیت نہ کرسکو تو سمجھ لو کہ حمل قرار پا گیا۔ لوگوں کے ساتھ کلام سے زبان بند ہوگئی تھی، اللہ کے ذکر اور تسبیح و تحمید سے نہیں۔ دیکھیے سورة آل عمران (41)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 9–10

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال کذلک قال ربک ھو علی ھین یعنی فرشتے نے حضرت زکریا (علیہ السلام) سے یہ کہا۔ محل رفع میں ہے یعنی الامر کذالک، یعنی معاملہ ایسا ہی ہے جیسا تجھے کہا گیا ہو۔ ھو علی حین۔ فراء نے کہا : اس کا مطلب ہے مجھ پر اس کی تخلیق آسان ہے۔ وقد خلقتک من قبل یعنی یحییٰ سے پہلے میں نے تجھے پیدا کیا تھا، یہ اہل مدینہ، بصرہ اور عاصم کی قرأت ہے۔ تمام کو فیوں نے وقد خلقناک پڑھا ہے۔ نا جمع تعظیم کے لیے ہے۔ پہلی قرأت کلام کے زیادہ مناسب ہے۔ ولم تک شیئا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تجھے جس طرح عدم کے بعد پیدا کیا جبکہ تو موجود نہ تھا، وہ یحییٰ کی تخلیق اور ایجاد پر بھی قادر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–11

1:۔ فریابی، سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، عبدابن حمید ابن، جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ حاکم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں (حاکم نے صحیح بھی کہا) نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” کھیعص “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے کبیہ ھاد، امین، عزیز اور صادق اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ کاف کبیر کے بدلہ میں ہے۔ 2:۔ عبدالرزاق آدم ابن ابی ایاس عثمان بن سعید دارمی نے توحید میں ابن جریر ابن منذر ابن ابی حاتم ابن مردویہ حاکم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں (حاکم نے صحیح بھی کہا) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” کھیعص “ میں کاف کریم میں سے ہے ھاھاد میں سے ہے یاء حکیم میں سے ہے عین علیم میں سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [رَبِ : اے میرے رب ] [اجْعَلْ : رو بنا دے ] [لِيْٓ: میرے لئے ] [اٰيَةً : کوئی نشانی ] [قَالَ : (اللہ تعالیٰ نے) کہا ] [اٰيَتُكَ : آپ (علیہ السلام) کی نشانی ہے ] [اَلَّا تُكَلِمَ : کہ آپ (علیہ السلام) کلام نہیں کریں گے ] [النَاسَ : لوگوں سے ] [ثَلٰثَ لَيَالٍ : تین راتیں ] [سَوِيًّا : کامل ہوتے ہوئے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 9–11

(فَخَرَجَ عَلٰی قَوْمِہٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰٓی اِلَیْھِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُکْرَۃً وَّ عَشِیًّا) سو زکریا (علیہ السلام) اپنی قوم پر نکلے یعنی محراب سے باہر آئے عام طور سے نمازی ان کے انتظار میں رہتے تھے جب وہ دروازہ کھولتے تو اندر داخل ہوجاتے اور ان کے ساتھ نماز پڑھ لیتے تھے اور روزانہ صبح شام ایسا ہوتا تھا اپنی بیوی کے استقرار حمل کے بعد حسب عادت محراب کا دروازہ کھولا تھا تو لوگ موجود تھے وہ حسب سابق اندر داخل ہوگئے لیکن آج صورت حال مختلف تھی کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کلام نہیں کرسکتے تھے۔ بولنے پر قدرت نہ ہونے کی وجہ سے انھوں نے اشارہ سے فرمایا کہ صبح و شام حسب سابق نماز پڑھتے رہو۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–15

قصہء اول حضرت زکریا و حضرت یحییٰ (علیہما السلام) قال اللہ تعالیٰٰ ۔ کٓھٰیٰعٓصٓ، ذکر رحمت ربک عبدہ زکریا۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ ویوم یبعث حیا۔ (ربط) حضرت زکریا (علیہ السلام) انبیاء بنی اسرائیل میں سے ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ وہ نجار (یعنی بڑھئی) کا پیشہ کرتے تھے اور اپنے ہاتھ کی محنت سے کما کر کھاتے تھے۔ ان کے کوئی فرزند نہ تھا اور اعزاء اوراقرباء کی طرف سے یہ کھٹکا تھا کہ میرے بعد دین حق میں تغیر و تبدل کر ڈالیں گے۔ جیسا کہ بنی اسرائیل میں ہوتا رہا۔ اس لیے انہوں نے پچھلی رات میں نہایت عجز وزاری کے ساتھ ایک فرزند کی دعا مانگی کہ جو میرے بعد تیرے دین کی حفاظت کرسکے اور دعا کا آغاز اپنے ضعف اور ناتوانی سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

8:۔ اب حضرت زکریا (علیہ السلام) نے درخواست کی۔ کوئی علامت مقرر کی جائے۔ جس سے ان کو بیوی کے امید سے ہونے کا پتہ چل جائے تاکہ وہ اس نعمت کا زیادہ سے زیادہ شکر ادا کرسکیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ جب تمہاری بیوی امید سے ہوجائے گی۔ تب تم تندرست اور چنگا بھلا ہونے کے باوجود تین دن بات نہیں کرسکو گے۔ ” سویا “ تندرست، گونگا پن سے محفوظ۔ سوی الخلق سلیم الجوارح مابک شائبۃ بکم ولا خرس (ابو السعود ج 5 ص 776) ۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) غیب داں نہ تھے ورنہ انہیں علامت مقرر کرانے کی کوئی ضرورت نہ تھی اور جو غیب داں نہ ہو، وہ کارساز اور متصرف فی الامور نہیں ہوسکتا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 7–11

ربط آیات : گذشتہ آیات میں حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر ہوچکا ہے ، ان کی قوم اور خاندان کے لوگ ناپسندیدہ اخلاق کے حامل تھے ، ان کی حالت کو دیکھتے ہوئے حضرت زکریا (علیہ السلام) کو سخت تشویش تھی کہ ان کے بعد دین کی خدمت اور احکام الہی کی تبلیغ کا کام کون انجام دے گا ، چناچہ انہوں نے بڑھاپے کی عمر میں اللہ رب العزت کے سامنے اولاد کے لیے درخواست پیش کی عرض کی پروردگار ! مجھے ایسا پسندیدہ بیٹا عطا فرما جو میرے بعد میرا جانشین ہو اور پورے خاندان یعقوب کا بھی وارث ہو ، آپ کا مطلب یہ تھا کہ ایسا بیٹا عطا فرما جو میری علمی نیابت کا فریضہ انجام دے سکے ۔ سورة آل عمران میں اللہ تعالیٰ نے حضرت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّيْٓ اٰيَۃً۝ 0ۭ قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَيَالٍ سَوِيًّا۝ 10 رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–10

4 ؎ بعض مفسرین کہتے ہیں زکریا کا قول ہے جو بشارت فرزند سن کر تعجب سے یہ پوچھا کہ کیا ایسا ہوگا۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْٓ اٰیَـۃً ط قَالَ اٰ یَتُکَ اَلاَّ تُکَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا (مریم : 10) (حضرت زکریا نے عرض کی، اے میرے رب ! میرے لیے کوئی نشانی ٹھہرا دیجیے۔ جواب ملا، تمہارے لیے نشانی یہ ہے کہ تم بات نہیں کرسکو گے لوگوں سے، تین رات تک۔ درآنحالیکہ تم بالکل تندرست ہوگے۔ ) نشانی کے لیے درخواست معلوم ہوتا ہے کہ اس خوشی سے حضرت زکریا (علیہ السلام) پر ایک وارفتگی کی کیفیت طاری ہے۔ ایک تو زندگی بھر کی آرزو پوری ہورہی ہے اور دوسری یہ بات کہ اللہ تعالیٰ کی عنایات مسلسل متوجہ ہیں۔ اس وارفتگی میں پروردگار سے عرض کی کہ یہ کرم نوازی کس وقت ہوگی ؟ کب میرے گھر میں رحمت اترے گی ؟…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–11

فہم القرآن ربط کلام : حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا قبول ہوئی اور انھیں فی الفور یحییٰ (علیہ السلام) کی خوشخبری دی گئی، حضرت زکریا کا نشانی طلب کرنا۔ سورۃ آل عمران میں ذکر ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کے ذریعہ یحییٰ (علیہ السلام) کی خوشخبری سنائی گئی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اولاد دینے والا نہیں اور زکریا (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ملائکہ نے یحییٰ (علیہ السلام) کی خوشخبری دی تھی۔ اس لیے یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے زکریا (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری دی اور اس کا نام یحییٰ رکھا۔ اس سے پہلے اس نام کا کوئی شخص نہیں ہوا۔ جب…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

10: قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْ اٰیَۃً (کہا اے میرے رب میرے لئے کوئی نشانی مقر رفرما) ایسی علامت جس سے میں اپنی عورت کا حاملہ ہونا پہچان سکوں۔ قَالَ اٰیَتُکَ اَلَّا تُکَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا (کہا تیری نشانی یہ ہے کہ تو لوگوں سے تین راتیں صحیح سالم ہونے کے باوجود کلام نہ کرسکے گا) سَوِیًّا یہ تکلم کی ضمیر سے حال ہے تقدیر کلام اس طرح ہے۔ حال کو نک سویّ الاعضاء واللسان۔ مطلب ہوا کہ تیری علامت یہ ہے کہ تو کلام سے رک جائے گا اس کی طاقت نہ ہوگی حالانکہ تیرے اعضاء صحیح سالم ہونگے گونگے پن کا نام نہ ہوگا۔ نحو : یہاں لیالی کا ذکر کیا جبکہ آل عمران میں ایام کا۔ اس لئے کہ اس سے یہ بتلایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

10۔ قال رب اجعل لی اٰیۃ، ، میری بیوی کے حمل کی کوئی نشانی بتلادیجئے۔ قال ایتک الاتکلم الناس ثلاث لیال سویا، ، ایسی حالت میں کہ وہ صحیح سالم ہوگا۔ یعنی کوئی بیماری لاحق نہ ہوگی گونگاپن نہیں ہوگا۔ مجاہد نے کہا کہ کلام سے روکنے والا کوئی مرض نہیں ہوگا، بعض نے سویا کا ترجمہ کیا ہے مسلسل متواتر ، اول ترجمہ صحیح ہے ۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) تین دن تین رات کسی سے بات نہیں کرسکے ، صرف اللہ کا ذکر کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 7–11

7۔ 11۔ اتنی عبارت یہاں گویا اور ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا قبول ہوئی اور حکم ہوا کہ ہم تم کو لڑکے ہونے کی خوشی سناتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہے اب آگے حضرت زکریا (علیہ السلام) کے تعجب کا بیان ہے کہ جب ان کی دعا قبول ہوئی اور لڑکے ہونے کی ان کو خبر سنائی گئی تو اس سے وہ بہت خوش ہوئے اور لڑکے کے ہونے کی کیفیت کا سوال کیا یہ تعجب زکریا ( علیہ السلام) کو اس سبب سے ہوا کہ بیوی بانجھ اور بوڑھی تھی اور آپ بھی اس قدر بوڑھے ہوگئے کہ ہاتھ پیر اکڑ گئے تھے کیونکہ اب تو بوڑھے باپ اور بانجھ ماں موجود ہیں اس صاحب قدرت نے تو انسان کو ایسی حالت میں پیدا کیا کہ جب انسان کچھ بھی نہیں تھا ترمذی ابوداؤد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 7–11

آیت 7 یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو فرشتوں کے توسط سے ” یحییٰ “ (علیہ السلام) کی خوشخبری سنائی اور اللہ تعالیٰ نے اس (بیٹے) کو ” یحییٰ “ کے نام سے موسوم کیا۔ اسم اپنے مسمی کے عین موافق تھا، چناچہ یحییٰ (علیہ السلام) نے حسی زندگی بسر کی جس سے اللہ تعالیٰ کی عنایت کی تکمیل ہوئی اور آپ نے معنوی زندگی بھی بسر کی، وہ ہے وحی، علم اور دین کے ذریعے سے قلب و روح کی زندگی۔ (لم نجعل لہ من قبل سمیا) ” نہیں کیا ہم نے پہلے اس نام کا کوئی “ یعنی اس سے پہلے کسی کا یہ نام نہیں رکھا گیا اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس کے معنی یہ ہوں حضرت یحییٰ (علیہ السلام) سے پہلے آپ جی اس کوئی نہیں بنایا، تب یہ ان کی کاملیت اور اوصاف…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 5–10

قول باری ہے وانی خفت الموالی من ورائی مجھے اپنے پیھچے اپنے بھائی بندوں کی برائیوں کا خوف ہے ) مجاہد، قتادہ، ابو صالح اور سدی سے مروی ہے کہ الموالی عصبہ کو کہتے ہیں جو حضرت زکریا (علیہ السلام) کے بنو اعمام تھے۔ آپ کو دین کے بارے میں ان کی برائیوں کا خوف تھا اس لئے کہ وہ بنی اسرائیل کے بدترین لوگ تھے۔ نبوت کی میراث قول باری ہے (فھب لی من لدنک ولیا یرثنی ویرث من آل یعقوب ۔ تو مجھے اپنے فضل خاص سے ایک ورث عطا کر دے جو میرا وارث بھی ہو اور آل یعقوب کی میراث بھی پائے) آپ نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ ایک بیٹا عطا ہوجائے جو میری موت کے بعد دین کے امور کی نگہداشت کرے اور اس پر عمل پیرا رہے۔ کیونکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 10–11

12 محراب زکریا سے مراد حجرئہ عبادت : یعنی محراب کے لفظ سے یہاں پر وہ معروف محراب مراد نہیں جو کہ آج کل ہماری مسجدوں میں بالعموم پائے جاتے ہیں کہ یہ محراب تو اسلام میں بھی بہت بعد بنو امیہ کے دور میں شروع کئے گئے۔ بلکہ اس سے مراد وہ خاص کمرے اور عبادت خانے ہیں جو کہ مسجد اقصیٰ کے آس پاس موجود ہوا کرتے تھے۔ جن میں عبادت گزار لوگ رہا کرتے تھے۔ جیسا کہ آج بھی حرم مکی کے اردا گرد ایسے بہت سے کمرے موجود ہیں جن کو وہاں عام طور پرخلوے کہا جاتا ہے۔ جو کہ عبادت گزار حضرات کے رہنے سہنے کے لئے مخصوص ہیں۔ سو حضرت زکریا اسی قسم کے کسی حجرے سے باہر تشریف لائے تھے جہاں آپ قیام پذیر تھے۔ ورنہ محراب کا جو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–11

بیٹے کی خوشخبری تشریح : یہ سب کچھ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ جیسا کہ اوپر آیات میں اللہ تعالیٰ اور سیدنا زکریا (علیہ السلام) کی گفتگو سے ظاہر ہے۔ سیدنا زکریا (علیہ السلام) اللہ کے مقبول ترین بندوں میں سے تھے جیسا کہ آیات میں کہا جا رہا ہے۔ کہ آپ تین رات زبان سے کلام نہ کرسکیں گے۔ کیونکہ آپ ہر روز لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے تھے۔ جب باہر آئے تو وعظ کے لیے زبان نے کام نہ کیا تو سمجھ گئے کہ اللہ نے ان کی دعا پوری کردی ہے۔ لہٰذا تین دن تک اشاروں سے وعظ کرتے رہے کہ اللہ کا شکر اور ذکر ہر وقت کرتے رہنا چاہیے ہر وقت سبحان اللہ کا ورد زبان پر ہونا چاہیے۔ بہرحال سیدنا زکریا (علیہ السلام) کی مراد…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–15

سورة مریم : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة مریم بھی مکی سورتوں میں سے ہے اور سورة کہف کی طرح اس میں بھی بہت سے واقعات عجیبہ کا تذکرہ ہے ، پہلی گزرنے والی سورة یعنی سورة کہف کی طرح اس میں بھی بہت سے واقعات کا ذکر تھا جو علمائے یہود نے مشرکین مکہ کو پوچھنے کے لیے کہا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ ان واقعات کو صحیح طور پر صرف اللہ جل جلالہ کا نبی ہی بیان کرسکتا ہے اللہ کریم نے وہ واقعات ارشاد فرما کر اپنے رسول فداہ ابی وامی کو مزید واقعات غریبہ سے مطلع فرمایا جن کے بارے کفار ومشرکین سوال بھی نہ کر پائے تھے کہ وہ اتنا بھی علم نہ رکھتے تھے ۔ (حروف مقطعات) کھیعص : حروف مقطعات کی بات پہلے گزر چکی کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 9–10

ف 8 یعنی کوئی ایسی نشانی بتاہ دے کہ ان حالات میں ہمارے ہاں لڑکے کی پیدائش ہونے والی ہو تو مجھ پہلے سے اس کا پتا چل جائے۔ 9 یعنی جب تین رات (دن) تک تم صحیح وسالم ہونے کے باوجود لوگوں سے بات چیت نہ کرسکو گے تو سمجھ لینا کہ حمل قرار دیا گیا۔ سلف کی تفسیر کے مطابق کسی مرض کے بغیر ہی زبان بند ہوگئی تھی (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(19:10) ایۃ۔ کوئی ایسی نشانی کہ جس سے معلوم ہو کہ میری التجاء منظور ہوگئی ہے تاکہ اس کا شکریہ ادا کروں۔ علامۃ علی تحقق المسئول لا شکرک (نشانی کہ جس سے میں سمجھ جائوں کہ اب ظہور وعدہ کا وقت آپہنچا اور میں بالکل مطمئن ہوجائوں کہ تیرے فرشتہ نے جو بشارت مجھے پہنچائی ہے وہ تیری ہی طرف سے ہے۔ (ضیا القرآن) ۔ الا تکلم الناس۔ ای ان لا۔ لا تکلم۔ مضارع منفی واحد مذکر حاضر۔ تو کلام نہیں کرسکے گا تو بول نہیں کرسکے گا۔ سویا۔ بھلا چنگا۔ جو مقدار اور کیفیت دونوں حیثیت سے افراط و تفریط سے محفوظ ہو۔ درست۔ تندرست۔ صحیح۔ سالم ۔ غیر ناقص۔ رجل سوی۔ وہ مرد جو اپنی خلقت میں ہر عیب۔ نقص، افراط تفریط سے پاک ہو۔ سویا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–10

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 10 ذکر یاد، تذکرہ۔ وھن کمزوری، بیماری، خرابی۔ العضم ہڈی، ہڈیاں، اشتعل پھیل گیا، یا بھڑک اٹھا۔ شیب سفید بال، بڑھاپا۔ شقی محروم، نامراد۔ الموالی رشتہ دار۔ عاقر بانجھ (اولاد سے مایوس) ۔ سمی نام ، رکھنا۔ عتی انتہائی بڑھاپا۔ ھین آسان، سہل۔ سوی ٹھیک ہونا۔ برابر ہونا۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 10 اللہ تعالیٰ نے سورة مریم کا آغاز حروف مقطعات سے کیا ہے جن کے معنی کا علم اللہ کو ہے۔ پھر حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے تذکرہ سے کیا ہے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) تمام قوم بنی اسرائیل کے پیشوا، رہنما اور بیت المقدس کے متولی اور نگران تھے۔ حضرت زکریا حضرت مریم کے سگے خالو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–11

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب حضرت زکریا (علیہ السلام) نے بیٹے کی درخواست کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی درخواست منظور کی اور ان سے کہا کہ اے زکریا (علیہ السلام) ! ہم تجھے بیٹا ہونے کی خوشی سناتے ہیں، اور اس کا نام یحییٰ ہوگا۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے عرض کی کہ اے پروردگار ! میرے لڑکا کہاں سے ہوگا، میری بیوی بانجھ ہے، اور میں بھی بہت بڈھا ہوگیا ہوں پھر مزید اطمینان کے لئے فرشتہ نے کہا :" بیشک حالت تو ایسی ہی ہے، مگر تمہارا پروردگار یوں فرماتا ہے کہ یہ ہمارے نزدیک آسان بات ہے، یعنی ہم نے اسباب بھی پیدا کرسکتے ہیں۔ اور جب وہ چاہتا ہے سبب اور مسبب دونوں کو دم بھر میں پیدا کردیتا ہے "۔ پھر زکریا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 10–11

[5] جس سے میں سمجھ جاؤں کہ اب ظہور وعدہ کا وقت قریب آپہنچا اور میں بالکل مطمئن ہوجاؤں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 7–10

(ف 2) اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ، دعا قبول ہے ، تیرے لڑکا ہوگا اس کا نام یحیٰ رکھنا ، بڑا سعادت مند اور نام اور بچہ ہوگا ، زکریا ان کو حیران ہوجاتے ہیں ، فرط حیرت سے پوچھتے ہیں ، کیا ان قدرتی موانع کے باوجود بھی مجھے اولاد عطا کی جائے گی ؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، ہاں میرے لئے یہ کوئی مشکل بات نہیں ، ایسا ہی ہوگا ، ۔ غور فرمائیے کیا واقعی اس کی صفات لا محدود نہیں ، اب تک یہ سمجھا جاتا تھا ، کہ اولاد کے لئے ایک وقت مقرر ہے ، جب انسان اس وقت معین سے تجاوز کر جائے ، تو اولاد سے مایوس ہوجاتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کی گوناگون حکمتوں نے ثابت کردیا ، کہ اس کے اندازہ ہائے بخشش تمہارے احاطہ علم میں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

- 10 زکریا نے عرض کیا اے میرے پروردگار ! میرے لئے کوئی علامت مقرر فرما دیجیے یعنی وقوع حمل کے قرب کی۔ ارشاد ہوا تیرے لئے علامت یہ ہے کہ تو تین رات اور تین دن تک لوگوں سے کلام نہ کرسکے گا۔ حالانکہ تو صحیح سالم اور تندرست ہوگا یہاں تین راتوں کا ذکر اور آل عمران میں تین دن مذکور ہیں اس لئے معلوم ہوا کہ تین دن اور تین رات یہ حالت رہے گی کہ بجز اشارے کے زبان میں گویائی کی طاقت نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 10–12

ف 2۔ یعنی توریت کہ اس وقت وہی کتاب شریعت تھی، اور انجیل کا نزول بعد میں ہوا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

زکریا (علیہ السلام) نے شکریہ ادا کرنے کا طریقہ طلب کیا جو ان کو بتا دیا گیا : 10۔ زکریا (علیہ السلام) نے اس خوشخبری کے سن لینے کے بعد اس شکریہ کی ادائیگی کے لئے کوئی واضح علامت یعنی طریقہ طلب کیا کہ اس کا شکریہ کیونکر ادا کروں ۔ آپ کو رب کریم کی طرف سے یہ ہدایت دی گئی کہ آپ برابر تین دن رات تک لوگوں سے عام بول چال بند کردیں اور اللہ تعالیٰ کی یاد میں تسلسل کے ساتھ مصروف ہوں ، لیکن انجیل میں چونکہ یہ بات اس طرح نقل کی گئی تھی کہ ” زکریا نے کہا میں یہ بات کس طرح جانوں کیونکہ میں بوڑھا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے ؟ جبریل نے کہا میں جبریل ہوں جو خدا کے ہاں کھڑا رہتا ہوں اور اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–12

سَوِيًّا means healthy. This word has been added here to denote that Sayyidna Zakariyya's (علیہ السلام) loss of speech for three days was not due to any illness, for during this entire period of three days he could utter words of prayer and supplication. This special condition was a miracle and a sign from Allah Ta’ ala about his wife's pregnancy.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–10

6. This dialogue is meant to impress that Allah is able to do whatever He wills and can make an impotent man and a barren woman give birth to a child, and likewise a virgin can be made to conceive a child.

Read the full tafseer →