Explained with ayahs 8–9
بشارت قبولیت سن کر۔
حضرت زکریا ؑ اپنی دعا کی قبولیت اور اپنے ہاں لڑکا ہونے کی بشارت سن کر خوشی اور تعجب سے کیفیت دریافت کرنے لگے کہ بظاہر اسباب تو یہ امر مستعد اور ناممکن معلوم ہوتا ہے۔ دونوں جانب سے حالت ناامیدی کی ہے۔ بیوی بانجھ جس سے اب تک اولاد نہیں ہوئی میں بوڑھا اور بیحد بوڑھا جس کی ہڈیوں میں اب تو گودا بھی نہیں رہا خشک ٹہنی جیسا ہوگیا ہوں گھر والی بھی بڑھیا پھوس ہوگئی ہے پھر ہمارے ہاں اولاد کیسے ہوگی ؟ غرض رب العالمین سے کیفیت بوجہ تعجب وخوشی دریافت کی۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ میں تمام سنتوں کو جانتا ہوں لیکن مجھے یہ معلوم نہیں ہوا کہ حضور ﷺ ظہر عصر میں پڑھتے تھے یا نہیں ؟ اور نہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
سورة مَرْیَم 5
لوقا کی انجیل میں الفاظ یہ ہیں تیرے کنبے میں کسی کا یہ نام نہیں (611)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
عِتِيًّاعتو سے مشتق ہے جس کے اصلی معنے تأثر قبول نہ کرنا ہے مراد اس سے ہڈیوں کا خشک ہوجانا ہے۔
Read the full tafseer →قَالَ كَذَلِكَ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شَيْئًا۔ قرینہ دلیل ہے کہ یہ جواب ہاتف غیب کی زبان سے ہے۔ کذلک، کی خبر کا حذف زور اور تاکید پر دلیل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے رب کا فیصلہ یہی ہے، بس یوں ہی ہوگا، جس خدا نے عدم محض سے انسان کو وجود بخشا اس کے لیے بوڑھے باپ اور بانجھ ماں سے اولاد پیدا کردینا کیا مشکل ہے۔
Read the full tafseer →9۔ 1 فرشتوں نے حضرت زکریا کا تعجب دور کرنے کے لئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے بیٹا دینے کا فیصلہ کرلیا ہے جس کے مطابق یقیناً تجھے بیٹا ملے گا، اور یہ اللہ کے لئے قطعاً مشکل کام نہیں ہے کیونکہ جب وہ تجھے نیست سے ہست کرسکتا ہے تو تجھے ظاہری اسباب سے ہٹ کر بیٹا بھی دے سکتا ہے۔
Read the full tafseer →5: یعنی جس اللہ تعالیٰ نے تمہیں عدم سے وجود عطا فرمایا ہے، وہ یقیناً اس بات پر بھی قادر ہے کہ تمہیں بڑھاپے میں اولاد عطا فرما دے۔
Read the full tafseer →قال کذلک قال ربک ھو علی ھین وقد خلقتک من قبل ولم تک شیئاً (91 : 9) ” جواب ملا ، ایسا ہی ہوگا ، تیرا رب فرماتا ہے کہ یہ تو میرے لئے ایک ذرا سی بات ہے۔ اس سے پہلے میں تجھے پیدا کرچکا ہوں جب کہ تو کوئی چیز نہ تھا۔ “
اپنی مخلوقات کی پیدائش میں اللہ کے لئے کوئی چیز مشکل نہیں ہے۔ چھوٹی اور بڑی چیز ، حقیر اور عظیم چیز سب کا سبب صرف کن ہے۔ جب اللہ کا حکم ہوتا ہے تو ہوجاتا ہے۔
یہ اللہ ہی ہے جس نے بانجھ عورت کو ایسا بنایا ہے کہ اس کی اولاد نہ ہو اور بوڑھوں کو ایسا بنایا ہے کہ اس سے سلسلہ تناسل کا چلنا ختم ہوجائے۔ وہ بانجھ کو درست بھی کرسکتا ہے اور بانجھ پن کو دور کرسکتا ہے اور ایک بوڑھے مرد میں از سر…
Read the full tafseer →10 تعجب کی کوئی بات نہیں۔ ان ہی حالات میں اولاد مل جائے گی اور مشیت ایزدی پوری ہو کر رہے گی۔
11 یہ فرشتہ نے کہا۔ یعنی تمہارے نزدیک ظاہری اسباب کے اعتبار سے ایک چیز مشکل ہو تو خدا کے یہاں مشکل نہیں۔ اس کی قدرت عظیمہ کے سامنے سب آسان ہے۔ انسان اپنی ہستی ہی کو دیکھ لے۔ ایک زمانہ تھا کہ یہ کوئی چیز نہ تھی اس کا نام و نشان بھی کوئی نہ جانتا تھا۔ حق تعالیٰ اس کو پردہ عدم سے وجود میں لایا۔ پھر جو قادر مطلق لاشئی محض کو شئی بنا دے کیا وہ بوڑھے مرد اور بانجھ عورت سے بچہ پیدا نہیں کرسکتا۔ اس پر تو بطریق اولیٰ قدرت ہونی چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
آیت 8 قَالَ رَبِّ اَ نّٰی یَکُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ
یہ وہی بات ہے جو حضرت زکریا علیہ السلام کے حوالے سے ہم سورة آل عمران آیت 40 میں بھی پڑھ چکے ہیں۔
وَّکَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا وَّقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْکِبَرِ عِتِیًّا
یعنی بڑھاپے کی وجہ سے میرے جسم میں حیات کے سارے سوتے خشک ہوچکے ہیں۔
Read the full tafseer →11 یہاں خلقتک سے مراد سیدنا زکریا بھی ہوسکتے ہیں اور سیدنا آدم بھی۔ دونوں صورتوں میں اس واقعہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی حیران کن قدرت کاملہ کا اظہار ہوتا ہے نیز یہاں تو پھر وسائل (یعنی سیدنا زکریا اور ان کی بیوی) موجود ہیں۔ ان کی زائل شدہ قوتوں کو از سر نو زندہ یا بحال کردینا اللہ کے لئے کچھ مشکل نہیں۔
Read the full tafseer →10۔ جواب ملا کہ نہیں۔ کوئی سی بھی اور نئی بات نہ ہوگی، موجودہ حالات بدستور رہیں گے پھر اولاد ہوگی، اے علی ھذہ الحال (ابن جریر) ھذا کماقلت لک (ابن عباس ؓ
11۔ یعنی خود اپنی پیدائش پر غور کرو، تم خود آخر کیا تھے ؟ معدودم محض تھے۔ عدم محض کو موجود کردینا کب اسباب عادی کے تحت، اور کس مشاہدہ و تجربہ کے موافق ہے ؟ محض ہماری قدرت وکارسازی کا کرشمہ ہے۔ یہ تخلیق توتمامتر بلاواسطہ اسباب ہوتی رہتی ہے۔ تو بڑھاپے میں اولاد دینا، یعنی باوجود سبب ضعیف کے نتیجہ برآمد کردینا تو اس سے کہیں کم مستبعد اور اس سے کہیں آسان تر ہے۔ یہ سب ارشاد آپ کی امید کو اور قوی کردینے کے لیے تھا نہ کہ کسی رفع شبہ کے لیے۔ اس لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–15
آیت نمبر 7 تا 15
ترجمہ : اے زکریا ہم تجھے ایک فرزند کی خوشخبری دیتے ہیں جو تیری درخواست کے مطابق وارث ہوگا اس کا نام یحییٰ ہوگا اس کا ہمنام پہلے ہم نے کسی کو نہیں کیا یعنی یحییٰ کا ہم نام تو زکریا (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار میرے لڑکا کس طرح ہوگا حالانکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی انتہائی درجہ کو پہنچ گیا ہوں عِیِّیًّا عَتَا سے ماخوذ ہے بمعنی یَبِسَ یعنی عمر کے آخری مرحلہ میں پہنچ چکا ہوں جو ایک بیس سال ہے اور میری بیوی 98 سال کی ہوچکی ہے عِتِیٌ اصل عُتُوْوٌ بروزن قُعُوْدٌ تخفیف کے لئے تا کو کسرہ دے دیا اور اول واو کو کسرہ کی مناسبت سے ی سے بدل دیا اور پھر دوسرے واو کو…
Read the full tafseer →قال کذلک (اللہ نے یا بشارت دینے والے فرشتے نے) کہا ‘ بات یونہی ہے (جیسی تم نے کہی بنظر اسباب بچہ
کی پیدائش عجیب بھی ہے اور بعید بھی) ۔
قال ربک ہو علی ہیں (اور) تیرے رب نے کہا میرے لئے یہ بات آسان ہے۔ مجھے اپنی منشاء
کے موافق کرنے میں ظاہری اسباب کی ضرورت نہیں قال کذلککا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ زکریا نے کہا واقعہ یہی ہے جو میں نے عرض کردیا۔
وقد خلقتک من قبل ولم تک شیئا۔ اور اس سے پہلے ہم نے تجھے بھی تو پیدا کیا تھا جبکہ تو
کچھ بھی نہ تھا ‘ بالکل معدوم تھا اور معدوم کا معنی ہی کچھ نہ ہونا آیت بتارہی ہے کہ معدوم شئی نہیں (یعنی شے کا اطلاق صرف موجود پر ہوتا ہے معدوم کو شے نہیں کہا جاتا۔ مترجم) ۔
Read the full tafseer →(9) جبریل امین ؑ نے فرمایا جیسا کہ تم سے کہا گیا موجودہ حالت یوں ہی رہے گی تمہارے پروردگار کا فرمان ہے کہ اس کا پیدا کرنا مجھ پر آسان ہے اور اے زکریا یحییٰ سے پہلے میں نے ہی تمہیں پیدا کیا۔
Read the full tafseer →قَالَ كَذٰلِكَ۔۔ : یعنی ایسے ہی ہے کہ تیرے بڑھاپے اور تیری اسی بیوی کے بانجھ پن کے باوجود تیرے ہاں لڑکا ہوگا، کیونکہ جس نے تجھے اس وقت پیدا کرلیا جب تو کچھ بھی نہ تھا تو اس کے لیے یہ کام تو بہت آسان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال کذلک قال ربک ھو علی ھین یعنی فرشتے نے حضرت زکریا (علیہ السلام) سے یہ کہا۔ محل رفع میں ہے یعنی الامر کذالک، یعنی معاملہ ایسا ہی ہے جیسا تجھے کہا گیا ہو۔ ھو علی حین۔ فراء نے کہا : اس کا مطلب ہے مجھ پر اس کی تخلیق آسان ہے۔ وقد خلقتک من قبل یعنی یحییٰ سے پہلے میں نے تجھے پیدا کیا تھا، یہ اہل مدینہ، بصرہ اور عاصم کی قرأت ہے۔ تمام کو فیوں نے وقد خلقناک پڑھا ہے۔ نا جمع تعظیم کے لیے ہے۔ پہلی قرأت کلام کے زیادہ مناسب ہے۔
ولم تک شیئا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تجھے جس طرح عدم کے بعد پیدا کیا جبکہ تو موجود نہ تھا، وہ یحییٰ کی تخلیق اور ایجاد پر بھی قادر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1:۔ فریابی، سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، عبدابن حمید ابن، جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ حاکم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں (حاکم نے صحیح بھی کہا) نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” کھیعص “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے کبیہ ھاد، امین، عزیز اور صادق اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ کاف کبیر کے بدلہ میں ہے۔
2:۔ عبدالرزاق آدم ابن ابی ایاس عثمان بن سعید دارمی نے توحید میں ابن جریر ابن منذر ابن ابی حاتم ابن مردویہ حاکم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں (حاکم نے صحیح بھی کہا) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” کھیعص “ میں کاف کریم میں سے ہے ھاھاد میں سے ہے یاء حکیم میں سے ہے عین علیم میں سے…
Read the full tafseer →[قَالَ : (اللہ تعالیٰ نے) کہا ] [كَذٰلِكَ : اس طرح سے ] [قَالَ : کہہ دیا ] [رَبُّكَ : آپ (علیہ السلام) کیۃ رب نے ] [هُوَ : یہ ] [عَلَيَّ : مجھ پر ] [هَيِّنٌ: آسان ہے ] [وَّقَدْ خَلَقْتُكَ : اور میں پیدا کرچکا ہوں آپ (علیہ السلام) کو ] [مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے ] [وَ : اس حال میں کہ ] [لَمْ تَكُ : آپ (علیہ السلام) نہیں تھے ] [شَـيْـــــًٔـا : کوئی چیز ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
(فَخَرَجَ عَلٰی قَوْمِہٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰٓی اِلَیْھِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُکْرَۃً وَّ عَشِیًّا) سو زکریا (علیہ السلام) اپنی قوم پر نکلے یعنی محراب سے باہر آئے عام طور سے نمازی ان کے انتظار میں رہتے تھے جب وہ دروازہ کھولتے تو اندر داخل ہوجاتے اور ان کے ساتھ نماز پڑھ لیتے تھے اور روزانہ صبح شام ایسا ہوتا تھا اپنی بیوی کے استقرار حمل کے بعد حسب عادت محراب کا دروازہ کھولا تھا تو لوگ موجود تھے وہ حسب سابق اندر داخل ہوگئے لیکن آج صورت حال مختلف تھی کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کلام نہیں کرسکتے تھے۔ بولنے پر قدرت نہ ہونے کی وجہ سے انھوں نے اشارہ سے فرمایا کہ صبح و شام حسب سابق نماز پڑھتے رہو۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
قصہء اول حضرت زکریا و حضرت یحییٰ (علیہما السلام)
قال اللہ تعالیٰٰ ۔ کٓھٰیٰعٓصٓ، ذکر رحمت ربک عبدہ زکریا۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ ویوم یبعث حیا۔
(ربط) حضرت زکریا (علیہ السلام) انبیاء بنی اسرائیل میں سے ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ وہ نجار (یعنی بڑھئی) کا پیشہ کرتے تھے اور اپنے ہاتھ کی محنت سے کما کر کھاتے تھے۔ ان کے کوئی فرزند نہ تھا اور اعزاء اوراقرباء کی طرف سے یہ کھٹکا تھا کہ میرے بعد دین حق میں تغیر و تبدل کر ڈالیں گے۔ جیسا کہ بنی اسرائیل میں ہوتا رہا۔ اس لیے انہوں نے پچھلی رات میں نہایت عجز وزاری کے ساتھ ایک فرزند کی دعا مانگی کہ جو میرے بعد تیرے دین کی حفاظت کرسکے اور دعا کا آغاز اپنے ضعف اور ناتوانی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
7:۔ زکریا (علیہ السلام) کو جب بیٹے کی خوشخبری ملی۔ تو سخت متعجب ہوئے اور کہنے لگے۔ میرے لڑکا کس طرح پیدا ہوگا۔ حالانکہ میری بیوی بانجھ اور ناقابل اولاد ہے۔ اور میں خود بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ چکا ہوں ” قال کذلک “ اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ اسی طرح ہی ہوگا۔ تم دونوں میاں بیوی کے انہی حالات میں تمہارے یہاں بیٹا پیدا ہوگا۔ میرے لیے یہ بات بہت آسان ہے زکریا ! تعجب کیوں کرتے ہو۔ ایک وقت تھا کہ تم معدوم تھے۔ تو میں نے تجھے موجود کردیا اب بھی ایسا ہی ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر ہوچکا ہے ، ان کی قوم اور خاندان کے لوگ ناپسندیدہ اخلاق کے حامل تھے ، ان کی حالت کو دیکھتے ہوئے حضرت زکریا (علیہ السلام) کو سخت تشویش تھی کہ ان کے بعد دین کی خدمت اور احکام الہی کی تبلیغ کا کام کون انجام دے گا ، چناچہ انہوں نے بڑھاپے کی عمر میں اللہ رب العزت کے سامنے اولاد کے لیے درخواست پیش کی عرض کی پروردگار ! مجھے ایسا پسندیدہ بیٹا عطا فرما جو میرے بعد میرا جانشین ہو اور پورے خاندان یعقوب کا بھی وارث ہو ، آپ کا مطلب یہ تھا کہ ایسا بیٹا عطا فرما جو میری علمی نیابت کا فریضہ انجام دے سکے ۔
سورة آل عمران میں اللہ تعالیٰ نے حضرت…
Read the full tafseer →قَالَ كَذٰلِكَ 0ۚ قَالَ رَبُّكَ ہُوَعَلَيَّ ہَيِّنٌ وَّقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شَـيْـــــًٔـا 9
هين
الْهَوَانُ علی وجهين :
أحدهما : تذلّل الإنسان في نفسه لما لا يلحق به غضاضة، فيمدح به نحو قوله : وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] ونحو ما روي عن النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم :«المؤمن هَيِّنٌ ليّن»
الثاني : أن يكون من جهة متسلّط مستخفّ بهفيذمّ به . وعلی الثاني قوله تعالی: الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذابَ الْهُونِ [ الأنعام/ 93] ، فَأَخَذَتْهُمْ صاعِقَةُ الْعَذابِ الْهُونِ [ فصلت/ 17] ، وَلِلْكافِرِينَ عَذابٌ مُهِينٌ [ البقرة/ 90] ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
4 ؎ بعض مفسرین کہتے ہیں زکریا کا قول ہے جو بشارت فرزند سن کر تعجب سے یہ پوچھا کہ کیا ایسا ہوگا۔ 12 منہ
Read the full tafseer →قَالَ کَذٰلِکَ ج قَالَ رَبُّکَ ھُوَ عَلَیَّ ھَیِّنٌ وَّقَدْ خَلَقْتُکَ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ تَکُ شَیْئًا (مریم : 9)
(فرمایا ایسا ہی ہوگا، تیرے رب نے فرمایا ہے کہ یہ میرے لیے آسان بات ہے، میں نے تمہیں بھی تو اس سے پہلے پیدا کیا تھا اور تم کچھ بھی نہ تھے۔ )
کَذٰلِکَ …کی خبر محذوف ہے۔ اس حذف نے کلام میں زور پیدا کردیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ ( علیہ السلام) کو تعجب ہے کہ اس عمر میں بیٹا کیسے پیدا ہوگا ؟ کیونکہ اسباب اس کی اجازت نہیں دیتے تو خبر دینے والے نے کہا کہ ایسا ہی ہوگا جیسا کہا گیا ہے، اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے۔ اور دلیل اس کی یہ ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے اس حال میں پیدا کیا کہ تمہارا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا قبول ہوئی اور انھیں فی الفور یحییٰ (علیہ السلام) کی خوشخبری دی گئی، حضرت زکریا کا نشانی طلب کرنا۔
سورۃ آل عمران میں ذکر ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کے ذریعہ یحییٰ (علیہ السلام) کی خوشخبری سنائی گئی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اولاد دینے والا نہیں اور زکریا (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ملائکہ نے یحییٰ (علیہ السلام) کی خوشخبری دی تھی۔ اس لیے یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے زکریا (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری دی اور اس کا نام یحییٰ رکھا۔ اس سے پہلے اس نام کا کوئی شخص نہیں ہوا۔
جب…
Read the full tafseer →9: قَالَ کَذٰلِکَ (کہا اسی طرح) ۔ کاف مرفوع ہے تقدیر یہ ہے : الاَ مْرُ کَذٰلِک۔ اس میں ان کی تصدیق کی ابتداء کرتے ہوئے کہا : قَالَ رَبُّکَ تمہارے رب نے کہا۔ نمبر 2۔ یہ قال کی وجہ سے منصوب ہے۔ اور ذٰلِک سے اس مبہم کی طرف اشارہ کیا جس کی تفسیر ھو عَلَیَّ ھَیِّنٌ کر رہا ہے۔ ھُوَ عَلَیَّ ھَیِّنٌ وہ مجھ پر آسان ہے) یعنی یحییٰ کا دو بوڑھوں سے پیدا کردینا آسان ہے۔ وَّ قَدْ خَلَقْتُکَ مِنْ قَبْلُ اس سے پہلے ہم نے تجھے پیدا کیا) یحییٰ سے پہلے تمہیں وجودد یا۔
قراءت : حمزہ، علی نے خلقناک پڑھا ہے۔ وَلَمْ تَکُ شَیْئًا (اور تو کچھ نہ تھا) کیونکہ معدوم کوئی چیز نہیں ہوتا۔
Read the full tafseer →9۔ قال کذالک قال ربک ھو علی ھین، بمعنی آسان ہے۔ وقد خلقتک ، حمزہ اور کسائی نے ، خلقناک، پڑھا ہے ۔ نون اور الف کے ساتھ تعظیم کے معنی میں ہے۔ من قبل ، حضرت یحییٰ (علیہ السلام) سے پہلے۔ ولم تک شیئا،۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
7۔ 11۔ اتنی عبارت یہاں گویا اور ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا قبول ہوئی اور حکم ہوا کہ ہم تم کو لڑکے ہونے کی خوشی سناتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہے اب آگے حضرت زکریا (علیہ السلام) کے تعجب کا بیان ہے کہ جب ان کی دعا قبول ہوئی اور لڑکے ہونے کی ان کو خبر سنائی گئی تو اس سے وہ بہت خوش ہوئے اور لڑکے کے ہونے کی کیفیت کا سوال کیا یہ تعجب زکریا ( علیہ السلام) کو اس سبب سے ہوا کہ بیوی بانجھ اور بوڑھی تھی اور آپ بھی اس قدر بوڑھے ہوگئے کہ ہاتھ پیر اکڑ گئے تھے کیونکہ اب تو بوڑھے باپ اور بانجھ ماں موجود ہیں اس صاحب قدرت نے تو انسان کو ایسی حالت میں پیدا کیا کہ جب انسان کچھ بھی نہیں تھا ترمذی ابوداؤد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
آیت 7
یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو فرشتوں کے توسط سے ” یحییٰ “ (علیہ السلام) کی خوشخبری سنائی اور اللہ تعالیٰ نے اس (بیٹے) کو ” یحییٰ “ کے نام سے موسوم کیا۔ اسم اپنے مسمی کے عین موافق تھا، چناچہ یحییٰ (علیہ السلام) نے حسی زندگی بسر کی جس سے اللہ تعالیٰ کی عنایت کی تکمیل ہوئی اور آپ نے معنوی زندگی بھی بسر کی، وہ ہے وحی، علم اور دین کے ذریعے سے قلب و روح کی زندگی۔ (لم نجعل لہ من قبل سمیا) ” نہیں کیا ہم نے پہلے اس نام کا کوئی “ یعنی اس سے پہلے کسی کا یہ نام نہیں رکھا گیا اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس کے معنی یہ ہوں حضرت یحییٰ (علیہ السلام) سے پہلے آپ جی اس کوئی نہیں بنایا، تب یہ ان کی کاملیت اور اوصاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
قول باری ہے وانی خفت الموالی من ورائی مجھے اپنے پیھچے اپنے بھائی بندوں کی برائیوں کا خوف ہے ) مجاہد، قتادہ، ابو صالح اور سدی سے مروی ہے کہ الموالی عصبہ کو کہتے ہیں جو حضرت زکریا (علیہ السلام) کے بنو اعمام تھے۔ آپ کو دین کے بارے میں ان کی برائیوں کا خوف تھا اس لئے کہ وہ بنی اسرائیل کے بدترین لوگ تھے۔
نبوت کی میراث
قول باری ہے (فھب لی من لدنک ولیا یرثنی ویرث من آل یعقوب ۔ تو مجھے اپنے فضل خاص سے ایک ورث عطا کر دے جو میرا وارث بھی ہو اور آل یعقوب کی میراث بھی پائے) آپ نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ ایک بیٹا عطا ہوجائے جو میری موت کے بعد دین کے امور کی نگہداشت کرے اور اس پر عمل پیرا رہے۔ کیونکہ…
Read the full tafseer →9 حضرت زکریا کے سوال کا جواب : یعنی جب حضرت زکریا نے اللہ پاک کے حضور اپنے عوارض اور موانع کا ذکر کیا کہ میرے یہاں بچہ کس طرح ہوگا جبکہ میں بڑھاپے کی انتہاء کو پہنچ چکا ہوں اور میری بیوی بھی بانجھ ہیں تو اس پر حق تعالیٰ کی طرف سے آنجناب کو جواب ملا کہ ایسے ہی ہوگا کہ تم دونوں بڑھاپے کی اسی حالت میں ہوؤگے اور تمہیں بغیر کسی تغیر و تبدیلی کے بچے کی نعمت سے نواز دیا جائے گا۔ (روح، کبیر، ابن کثیر وغیرہ) ۔ یعنی تم اپنی شیخوخت اور بڑھاپے کی اسی حالت میں ہوؤ گے اور تمہاری بیوی بھی عقیم اور بانجھ پن کے اسی حال میں ہوگی جس میں وہ اب ہے۔ (المراغی وغیرہ) ۔ اور یہ بات لوگوں کے فکر و فہم اور ان کے علم و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
بیٹے کی خوشخبری
تشریح : یہ سب کچھ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ جیسا کہ اوپر آیات میں اللہ تعالیٰ اور سیدنا زکریا (علیہ السلام) کی گفتگو سے ظاہر ہے۔ سیدنا زکریا (علیہ السلام) اللہ کے مقبول ترین بندوں میں سے تھے جیسا کہ آیات میں کہا جا رہا ہے۔ کہ آپ تین رات زبان سے کلام نہ کرسکیں گے۔ کیونکہ آپ ہر روز لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے تھے۔ جب باہر آئے تو وعظ کے لیے زبان نے کام نہ کیا تو سمجھ گئے کہ اللہ نے ان کی دعا پوری کردی ہے۔ لہٰذا تین دن تک اشاروں سے وعظ کرتے رہے کہ اللہ کا شکر اور ذکر ہر وقت کرتے رہنا چاہیے ہر وقت سبحان اللہ کا ورد زبان پر ہونا چاہیے۔ بہرحال سیدنا زکریا (علیہ السلام) کی مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
سورة مریم :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة مریم بھی مکی سورتوں میں سے ہے اور سورة کہف کی طرح اس میں بھی بہت سے واقعات عجیبہ کا تذکرہ ہے ، پہلی گزرنے والی سورة یعنی سورة کہف کی طرح اس میں بھی بہت سے واقعات کا ذکر تھا جو علمائے یہود نے مشرکین مکہ کو پوچھنے کے لیے کہا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ ان واقعات کو صحیح طور پر صرف اللہ جل جلالہ کا نبی ہی بیان کرسکتا ہے اللہ کریم نے وہ واقعات ارشاد فرما کر اپنے رسول فداہ ابی وامی کو مزید واقعات غریبہ سے مطلع فرمایا جن کے بارے کفار ومشرکین سوال بھی نہ کر پائے تھے کہ وہ اتنا بھی علم نہ رکھتے تھے ۔
(حروف مقطعات)
کھیعص : حروف مقطعات کی بات پہلے گزر چکی کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
ف 8 یعنی کوئی ایسی نشانی بتاہ دے کہ ان حالات میں ہمارے ہاں لڑکے کی پیدائش ہونے والی ہو تو مجھ پہلے سے اس کا پتا چل جائے۔
9 یعنی جب تین رات (دن) تک تم صحیح وسالم ہونے کے باوجود لوگوں سے بات چیت نہ کرسکو گے تو سمجھ لینا کہ حمل قرار دیا گیا۔ سلف کی تفسیر کے مطابق کسی مرض کے بغیر ہی زبان بند ہوگئی تھی (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(19:9) قال کذلک۔ کہا یوں ہی ہوگا۔ یا ایسے ہی ہوگا ۔ یعنی باوجود تمہاری پیرانہ سالی کے اور باوجود تمہاری زوجہ کے عاقر ہونے کے تمہیں لڑکے کی بشارت ہے۔ ھین۔ آسان ھون (نصر) سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 10
ذکر یاد، تذکرہ۔ وھن کمزوری، بیماری، خرابی۔ العضم ہڈی، ہڈیاں، اشتعل پھیل گیا، یا بھڑک اٹھا۔ شیب سفید بال، بڑھاپا۔ شقی محروم، نامراد۔ الموالی رشتہ دار۔ عاقر بانجھ (اولاد سے مایوس) ۔ سمی نام ، رکھنا۔ عتی انتہائی بڑھاپا۔ ھین آسان، سہل۔ سوی ٹھیک ہونا۔ برابر ہونا۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 10
اللہ تعالیٰ نے سورة مریم کا آغاز حروف مقطعات سے کیا ہے جن کے معنی کا علم اللہ کو ہے۔ پھر حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے تذکرہ سے کیا ہے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) تمام قوم بنی اسرائیل کے پیشوا، رہنما اور بیت المقدس کے متولی اور نگران تھے۔ حضرت زکریا حضرت مریم کے سگے خالو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب حضرت زکریا (علیہ السلام) نے بیٹے کی درخواست کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی درخواست منظور کی اور ان سے کہا کہ اے زکریا (علیہ السلام) ! ہم تجھے بیٹا ہونے کی خوشی سناتے ہیں، اور اس کا نام یحییٰ ہوگا۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے عرض کی کہ اے پروردگار ! میرے لڑکا کہاں سے ہوگا، میری بیوی بانجھ ہے، اور میں بھی بہت بڈھا ہوگیا ہوں پھر مزید اطمینان کے لئے فرشتہ نے کہا :" بیشک حالت تو ایسی ہی ہے، مگر تمہارا پروردگار یوں فرماتا ہے کہ یہ ہمارے نزدیک آسان بات ہے، یعنی ہم نے اسباب بھی پیدا کرسکتے ہیں۔ اور جب وہ چاہتا ہے سبب اور مسبب دونوں کو دم بھر میں پیدا کردیتا ہے "۔ پھر زکریا…
Read the full tafseer →[4] یعنی موجودہ حالات بدستور رہیں گے پھر بھی لڑکا پیدا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
(ف 2) اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ، دعا قبول ہے ، تیرے لڑکا ہوگا اس کا نام یحیٰ رکھنا ، بڑا سعادت مند اور نام اور بچہ ہوگا ، زکریا ان کو حیران ہوجاتے ہیں ، فرط حیرت سے پوچھتے ہیں ، کیا ان قدرتی موانع کے باوجود بھی مجھے اولاد عطا کی جائے گی ؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، ہاں میرے لئے یہ کوئی مشکل بات نہیں ، ایسا ہی ہوگا ، ۔
غور فرمائیے کیا واقعی اس کی صفات لا محدود نہیں ، اب تک یہ سمجھا جاتا تھا ، کہ اولاد کے لئے ایک وقت مقرر ہے ، جب انسان اس وقت معین سے تجاوز کر جائے ، تو اولاد سے مایوس ہوجاتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کی گوناگون حکمتوں نے ثابت کردیا ، کہ اس کے اندازہ ہائے بخشش تمہارے احاطہ علم میں…
Read the full tafseer →-9 فرشتے نے جواب دیا اسی طرح ہوگا یعنی موجودہ حالت یوں ہی رہے گی تیرے پروردگار کا ارشاد ہے کہ یہ بڑھاپے میں اولاد عطا کرنا مجھ پر سہل اور آسان ہے اور میں اس سے پہلے خود تجھ کو پیدا کرچکا ہوں حالانکہ تو کوئی چیز نہ تھا۔ یعنی جب معدوم کو موجود کرسکتے ہیں تو موجود میں سے کسی کو موجود کردینا ہمارے لئے کیا مشکل ہے کیونکہ ان کی قدرت کے مقابلہ میں اسباب عادیہ کی کوئی حقیقت نہیں۔
بعض حضرات نے کذالک کا یہ مطلب بھی بیان کیا ہے کہ جس طرح تو کہتا ہے بات تو اسی طرح ہے لیکن تیرا پروردگار فرماتا ہے کہ یہ کام اسباب عادیہ کے موجود نہ ہونے کے باوجود بھی مجھ پر آسان ہے ۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یہ فرشتے نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
ف 1۔ جب معدوم کو موجود کرنا آسان ہے تو ایک موجود سے دوسرا موجود کردینا کیا مشکل ہے۔ یہ سب ارشاد تقویت رجا کے لئے تھا نہ کہ رفع شبہہ کے لئے کیونکہ زکریا (علیہ السلام) کو کوئی شبہہ نہ تھا۔
Read the full tafseer →زکریا (علیہ السلام) کو ان کے استعجاب کا جواب بھی نقد سنا دیا :
9۔ زکریا (علیہ السلام) کی حیرانی کو اللہ تعالیٰ نے کس طرح دور فرمایا ارشاد ہوا کہ ” ایسا ہی ہوگا “ جیسا کہ ہم نے کہہ دیا ہے کیونکہ ہمارا کہا ہو کر ہی رہتا ہے تم اپنے آپ کو بوڑھا اور اپنی بیوی کو بانجھ سمجھتے ہو ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ ایک عرصہ تم کو میاں بیوی کی صحیح زندگی گزرانے کو ہو چلا ہے لیکن تم اولاد کی نعمت سے محروم ہو حالانکہ تمہاری اس محرومی کو دور کرتے کتنی دیر لگے گی ، کچھ بھی نہیں کیونکہ میرے لئے کچھ مشکل نہیں ۔ ہاں ! آپ کو تو معلوم ہوگا جب آپ کی بیوی حاملہ ہوگی ۔ تم اپنی فطری کام کرو حمل رہ جانے کی بشارت ہم نے آپ کو سنا دی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
The word عِتِيًّا is derived from which actually means 'unresponsive' or 'insensitive', and in the present context it means dryness of the bones.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
6. This dialogue is meant to impress that Allah is able to do whatever He wills and can make an impotent man and a barren woman give birth to a child, and likewise a virgin can be made to conceive a child.
Read the full tafseer →