Explained with ayahs 16–21
ناممکن کو ممکن بنانے پہ قادر اللہ تعالیٰ۔
اوپر حضرت زکریا ؑ کا ذکر ہوا تھا اور یہ بیان فرمایا گیا تھا کہ وہ اپنے پورے بڑھاپے تک بےاولاد رہے ان کی بیوی کو کچھ ہوا ہی نہ تھا بلکہ اولاد کی صلاحیت ہی نہ تھی اس پر اللہ نے اس عمر میں ان کے ہاں اپنی قدرت سے اولاد عطا فرمائی حضرت یحییٰ ؑ پیدا ہوئے جو نیک کار اور وفا شعار تھے اس کے بعد اس سے بھی بڑھ کر اپنی قدرت کا نظارہ پیش کرتا ہے۔ حضرت مریم ؑ کا واقعہ بیان کرتا ہے کہ وہ کنواری تھیں۔ کسی مرد کا ہاتھ تک انہیں نہ لگا تھا اور بےمرد کے اللہ تعالیٰ نے محض اپنی قدرت کاملہ سے انہیں اولاد عطا فرمائی حضرت عیسیٰ ؑ جیسا فرزند انہیں دیا جو اللہ کے برگزیدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
سورة مَرْیَم 14
سورة آل عمران میں یہ بتایا جا چکا ہے کہ حضرت مریم کی والدہ نے اپنی مانی ہوئی نذر کے مطابق ان کو بیت المقدس میں عبادت کے لیئے بٹھا دیا تھا اور حضرت زکریا نے ان کی حفاظت و کفالت اپنے ذمے لے لی تھی۔ وہاں یہ ذکر بھی گزر چکا ہے کہ حضرت مریم بیت المقدس کی ایک محراب میں معتکف ہوگئی تھیں۔ اب یہاں یہ بتایا جا رہا ہے کہ جس میں حضرت مریم معتکف تھیں بیت المقدس سے شرقی حصے میں واقع تھی اور انہوں نے معتکفین کے عام طریقے کے مطابق ایک پردہ لٹکا کر اپنے آپ کو دیکھنے والوں کی نگاہوں سے محفوظ کرلیا تھا۔ جن لوگوں نے محض بائیبل کی موافقت کی خاطر مکاناً شرقیاً سے مراد لیا ہے انہوں نے غلطی کی ہے،…
Read the full tafseer →اِنِّىْٓ اَعُوْذُ بالرَّحْمٰنِ مِنْكَ(میں اللہ رحمن کی پناہ مانگتی ہوں تجھ سے) بعض روایات میں ہے کہ جبرئیل امین نے یہ کلمہ سنا تو اللہ کے نام کی تعظیم کے لئے کچھ پیچھے ہٹ گئے۔
اِنْ كُنْتَ تَقِيًّایہ کلمہ ایسا ہے جیسے کوئی شخص کسی ظالم سے مجبور ہو کر فریاد کرے کہ اگر تو مومن ہے تو مجھ پر ظلم نہ کر۔ ترا ایمان اس ظلم سے روکنے کے لئے کافی ہونا چاہئیے۔ مطلب یہ ہوا کہ تمہارے لئے مناسب ہے کہ اللہ سے ڈرو، غلط اقدام سے بچو۔ خلاصہ یہ ہے کہ اِنْ كُنْتَ تَقِيًّا، استعاذہ کی شرط نہیں بلکہ استعاذہ کے مؤ ثر ہونے کی شرط برائے ترغیب ہے۔ اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ کلمہ بطور مبالغہ کے لایا گیا ہے کہ اگر تم…
Read the full tafseer →قَالَتْ إِنِّي أَعُوذُ بِالرَّحْمَنِ مِنْكَ إِنْ كُنْتَ تَقِيًّا۔ انہوں نے بڑے وقار کے ساتھ ظاہر ہونے والی وفات کو مخاطب کرکے فرمایا کہ اگر تم میں کچھ خدا ترسی ہے تو میں تم سے اپنے آپ کو خدائے رحمان کی پناہ میں دیتی ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
21۔ 1 یعنی یہ بات تو صحیح ہے کہ تجھے مرد سے مقاربت کا کوئی موقع نہیں ملا ہے، جائز طریقے سے نہ ناجائز طریقے سے۔ جب کہ حمل کے لئے عادتًا یہ ضروری ہے۔
21۔ 2 یعنی میں اسباب کا محتاج نہیں ہوں، میرے لئے یہ بالکل آسان ہے اور ہم اسے اپنی قدرت تخلیق کے لئے نشانی بنانا چاہتے ہیں۔ اس سے قبل ہم نے تمہارے باپ آدم کو مرد اور عورت کے بغیر، اور تمہاری ماں حوا کو صرف مرد سے پیدا کیا اور اب عیسیٰ ؑ کو پیدا کر کے چوتھی شکل میں بھی پیدا کرنے پر اپنی قدرت کا اظہار کرنا چاہتے ہیں اور وہ ہے صرف عورت کے بطن سے، بغیر مرد کے پیدا کردینا۔ ہم تخلیق کی چاروں صورتوں پر قادر ہیں۔
21۔ 3 اس سے مراد نبوت ہے جو اللہ کی رحمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
9: علیحدہ جاکر پردہ ڈالنے کی وجہ بعض مفسرین نے یہ بیان کی ہے کہ غسل کرنا چاہتی تھیں، اور بعض نے کہا ہے کہ عبادت کے لئے تنہائی اختیار کرنا مقصود تھا، علامہ قرطبی نے اسی کو ترجیح دی ہے۔
Read the full tafseer →قالت انی اعوذ بالرحمٰن منک ان کنت تقیاً (91 : 81) ” مریم کی ایک بول اٹھی کہ اگر تو کوئی خدا ترس آدمی ہے تو میں تجھ سے رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں۔ “ کسی بھی مت قی آدمی کے سامنے اگر خدا کا ذکر کیا جائے تو اس کا شعور تقویٰ بیدار ہوتا ہے اور وہ شیطانی وسوسہ اور شہوت کی اکساہٹ سے باز آجاتا ہے۔
یہ پاک فطرت دوشیزہ ، نہایت ہی اچھی تربیت یافتہ ، نہایت ہی پاک ماحول میں رہنے والی ، جس کی کفالت کی ذمہ داری زکریا جیسے پاکباز شخص کے ذمہ ہے۔ جب وہ جنین کی حالت میں تھی تو اسے اس معبد کے لئے نذر کردیا گیا تھا۔ اس کے لئے یہ پہلا جھٹکا تھا ۔ ذرا سوچئے کہ یہ فرشتہ یا یہ نوجوان اسے یوں جواب دیتا ہے :
Read the full tafseer →10 مریم نے اول وہلہ میں سمجھا کہ کوئی آدمی ہے۔ تنہائی میں دفعتاً ایک مرد کے سامنے آجانے سے قدرتی طور پر خوفزدہ ہوئیں اور اپنی حفاظت کی فکر کرنے لگیں۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ فرشتہ کے چہرہ پر تقویٰ و طہارت کے انوار چمکتے دیکھ کر اسی قدر کہنا کافی سمجھا کہ میں تیری طرف سے رحمان کی پناہ میں آتی ہوں۔ اگر تیرے دل میں خدا کا ڈر ہوگا (جیسا کہ پاک و نورانی چہرہ سے روشن تھا) تو میرے پاس سے چلا جائے گا اور مجھ سے کچھ تعرض نہ کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
آیت 18 قَالَتْ اِنِّیْٓ اَعُوْذُ بالرَّحْمٰنِ مِنْکَ اِنْ کُنْتَ تَقِیًّا
اچانک ایک مرد کو اپنی خلوت گاہ میں دیکھ کر حضرت مریم سلامٌ علیہا گھبرا گئیں کہ وہ کسی بری نیت سے نہ آیا ہو۔ چناچہ انہوں نے اسے مخاطب کر کے کہا کہ میں تم سے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں ‘ اور اگر تم اللہ سے ڈرنے والے ہو ‘ تمہارے دل میں اللہ کا کچھ بھی خوف ہے تو کسی برے ارادے سے باز رہنا۔
Read the full tafseer →19 سیدہ مریم اور جبرئیل کا مکالمہ :۔ یہ صورت حال دیکھ کر سیدہ مریم ( علیہ السلام) سخت خوفزدہ ہوگئیں اور ان کے لئے یہ انتہائی نازک وقت تھا۔ خود بھی نوجوان تھیں، سامنے نوجوان اور خوش شکل مرد کھڑا تھا۔ تنہائی تھی، کوئی دوسرا پاس موجود بھی نہ تھا۔ نووارد کا نورانی چہرہ دیکھ کر اندازہ کیا کہ آدمی تو کوئی پرہیزگار ہی معلوم ہوتا ہے۔ لہذا اسے اللہ کا واسطہ دے کر کہا کہ میں تیری طرف سے رحمن کی پناہ میں آتی ہوں۔ یعنی اس بات سے کہ تو مجھ پر کسی قسم کی دست درازی کرے۔
Read the full tafseer →23۔ یعنی اگر تو کچھ بھی خوف خدا رکھتا ہے تو میں تجھے خدا ہی کا واسطہ دے کہتی ہوں کہ تیرا یہاں کیا کام۔ یہ آپ نے اس طرح گھبرا کر فرمایا، جیسے ہر شریف خاتون کسی اجنبی مرد کو اپنے خلوت میں آتے ہوئے دیکھ کر قدرۃ کہے گی ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
آیت نمبر 16 تا 25
ترجمہ : اور اے محمد ﷺ اس کتاب یعنی قرآن میں مریم کا یعنی ان کے واقعہ کا ذکر کیجئے جب کہ وہ اپنے اہل خانہ سے الگ ہو کر ایک ایسے مکان میں جو شرقی جانب تھا چلی گئیں یعنی دار (بیت المقدس) کے مشرقی جانب کسی جگہ تنہائی میں چلی گئیں اور اہل خانہ کی جانب سے پردہ ڈال لیا، یعنی پردہ لٹکا لیا تاکہ آڑ ہوسکے (اور) اپنے سریا کپڑوں میں جوں دیکھ سکے یا حیض سے طہارت کے لئے غسل کرسکے تو ہم نے اس کے پاس اپنی روح جبرئیل (علیہ السلام) کو بھیج دیا تو وہ ان کے سامنے کپڑے پہننے کے بعد مکمل مرد بن کر نمودار ہوا حضرت مریم کہنے لگیں کہ میں تجھ سے اپنے خدا کی پناہ طلب کرتی ہوں اگر تجھے کچھ بھی خوف خدا…
Read the full tafseer →قالت انی اعوذ بالرحمن منک ان کنت تقیا۔ کہنے لگیں میں تجھ سے اپنے خدا رحمن کی پناہ مانگتی ہوں اگر تو خدا ترس ہے (تو یہاں سے ہٹ جا) ۔
اِنْ کُنْتَ تَقِیًّاشرط ہے اس کی جزا محذوف ہے یعنی اگر تو تقویٰ والا اور پرہیزگار ہے تو مجھ سے دور رہ مجھ سے تعرض نہ کر تیرے تقویٰ کا یہ تقاضا ہونا چاہئے کہ تو بدکاری کی طرف اقدام نہ کرے یا اَعُوْذَ بالرَّحْمٰنِ مِنْکَجزا مقدم ہے اور کلام کی بناء مبالغہ پر ہے یعنی اگر تو پرہیزگار بھی ہے تب بھی میں تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں اور پرہیزگار نہیں ہے بدکار ہے تب تو اللہ کی پناہ کی خواستگار بدرجۂ اولیٰ ہوں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان نافیہ ہے یعنی تو پرہیزگار نہیں ہے۔
Read the full tafseer →(18) یہ دیکھ کر حضرت مریم ؑ کہنے لگیں کہ میں تم سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں اگر تو اللہ کا فرمانبردار ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ متقی ایک برے آدمی کا نام تھا حضرت مریم ؑ گھبراہٹ میں اسی کو سمجھیں اور کہنے لگیں کہ اگر تو متقی ہے تو میں تم سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔
Read the full tafseer →قَالَتْ اِنِّىْٓ اَعُوْذُ بالرَّحْمٰنِ مِنْكَ۔۔ : تنہائی میں ایک کامل حسین و جوان مرد کو دیکھ کر مریم [ سخت گھبرا گئیں کہ کہیں اس کی نیت بری نہ ہو۔ اس لیے بچاؤ کا کوئی اقدام کرنے سے پہلے اس ذات کی پناہ پکڑی جس کے رحم کی کوئی حد نہیں، تاکہ وہ اپنی بندی پر رحم فرما کر اس کی عصمت محفوظ رکھے۔ ساتھ ہی اس مرد کو اللہ کا خوف دلایا کہ اگر تجھ میں اللہ تعالیٰ کا ذرا برابر بھی ڈر ہے تو میں تجھ سے رحمٰن کی پناہ پکڑتی ہوں۔ ”تَقِیّاً“ کو نکرہ لانے سے یہ مفہوم پیدا ہوا کہ اگر تجھ میں کسی بھی قسم کا اللہ کا خوف ہے، کیونکہ اللہ کا خوف انسان کو برائی سے ہٹا دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فارسلنا الیھا روحنا، بعض علماء نے فرمایا : وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی روح تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے روحوں کو اجساد سے پہلے پیدا فرمایا تھا اور حضرت عیسیٰ کا جسم جو حضرت مریم کے پیٹ میں اللہ تعالیٰ نے تخلیق کیا تھا اس میں روح پھونکی۔ بعض علماء نے فرمایا : وہ جبرئیل (علیہ السلام) ہیں۔ روح کو اللہ کی طرف تخصیص اور کرامت کے لیے مضاف کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے یہ جبرئیل (علیہ السلام) تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فتمثل لھا، یعنی فرشتہ مریم کے لیے انسانی شکل میں آیا۔ بشراً ، تفسیر یا حال ہے۔ سویا، متوازا خلقت والا، چونکہ حضرت مریم، جبریل کو اصلی شکل میں دیکھنے کی طاقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–24
1:۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اذ انتبذت “ یعنی الگ ہوگئیں (آیت) ” من اھلھا مکانا شرقیا “ یعنی مشرق کی طرف دور علیحدہ جگہ۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اذانتبذت من اھلھا مکانا شرقیا “ یعنی ایسی جگہ آپ چلی گئی تھیں جہاں سورج کی دھوپ پڑرہی تھی ایسا نہ ہو کہ لوگوں میں سے کوئی اس کو دیکھ لے۔
3:۔ فریابی، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نصاری نے مشرق کو قبلہ بنالیا کیونکہ مریم (علیہا السلام) نے اپنے گھروالوں سے دور مشرقی جانب ایک جگہ بنالی تھی انہوں نے ان…
Read the full tafseer →[قَالَتْ : (بی بی مریم نے) کہا ] [انىٓ: کہ میں ] [اَعُوْذُ : پناہ میں آتی ہوں ] [بِالرَّحْمٰنِ : رحمن کی ] [مِنْكَ : تجھ سے ] [ان : اگر ] [كُنْتَ : تو ہے ] [تَقِيًّا : پرہیزگار ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
فرشتہ کا بیٹے کی خوشخبری دینا اور حضرت مریم کا متعجب ہونا
اس پر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا کہ میں تو اللہ کا بھیجا ہوا ہوں تاکہ تجھے اللہ کی طرف سے ایک پاکیزہ لڑکا دے دوں۔ اس پر حضرت مریم [ نے کہا تم کیا کہہ رہے ہو میرے لڑکا کیسے ہوگا ؟ نہ تو مجھے کسی ایسے شخص نے چھوا ہے جس کا چھونا حلال ہو (یعنی شوہر) اور نہ میں فاجرہ عورت ہوں بچہ تو حلال مباشرت سے یا کسی زانی کے زنا سے پیدا ہوتا ہے، اور یہاں تو دونوں میں سے کوئی بات بھی نہیں لہٰذا میرے اولاد ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
فرشتہ کا جواب دینا کہ اللہ کے لیے سب کچھ آسان ہے
سورة آل عمران کے سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–33
قال اللٰہ تعالیٰ ۔ واذکر فی الکتٰب مریم۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ و یوم اموت ویوم ابعث حیا۔
(ربط) حق تعالیٰ نے گزشتہ رکوع میں حضرت زکریا (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا کہ بحالت پیری ایک پیر ناتواں اور ایک بانجھ اور بوڑھی بیوی سے بلا سبب ظاہری ایک مبارک فرزند یعنی یحییٰ (علیہ السلام) کا تولد ہوا۔ اب اس سے زیادہ عجیب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا قصہ بیان کرتے ہیں۔ اس لیے کہ بوڑھے مرد اور بانجھ عورت سے بچہ پیدا ہونا اگرچہ عجیب ہے۔ مگر والدین سے بچہ کا پیدا ہونا عادۃ قریب الی العقل ہے اور بغیر باپ کے محض ماں سے بچہ پیدا ہونا بہت ہی عجیب و غریب ہے جو اللہ کی کمال قدرت پر دلالت کرتا ہے کہ خدائے تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
13:۔ یہ حضرت مریم صدیقہ اور حضرت مسیح (علیہما السلام) کے بارے میں پیدا ہونے والے شبہ کا جواب ہے۔ حضرت مریم کے پاس بےموسم کے پھلوں کا موجود ہونا شبہہ میں ڈالتا تھا کہ شاید یہ خارج عادت امر ان کے قبضہ قدرت میں تھا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے خارق عادت امور کا ظاہر ہونا، جن کا ذکر سورة آل عمران رکوع 5 میں کیا گیا ہے۔ شبہہ میں ڈالتا تھا کہ شاید وہ بھی متصرف و مختار ہوں۔ نیز انجیل میں ان کے لیے لفظ ابن اللہ کا وارد ہونا (انجیل کی زبان میں جس کے معنی اللہ کے پیارے اور برگزیدہ کے ہیں) ۔ اس سے بھی وہم پڑتا تھا کہ شاید اللہ تعالیٰ نے کچھ اختیارات ان کے حوالے کردئیے ہوں یہاں حضرت عیسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
ربط آیات :
پہلے رکوع میں حضرت زکریا (علیہ السلام) کا ذکر ہوا انہوں نے حضرت مریم (علیہا السلام) کے پاس بےموسم پھل دیکھے تو اللہ کی بارگاہ میں اولاد کے لیے درخواست کی حالانکہ وہ جس بڑھانے کو پہنچ چکے تھے وہاں عادۃ اولاد ہونے کا امکان نہیں ہوتا ، اللہ نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور یحی (علیہ السلام) جیسا عظیم الشان فرزند عطا کیا جس کا نام بھی اللہ خود تجویز فرمایا اور اس نام کا پہلے کوئی بچہ نہیں تھا ۔ آپ کی پیدائش اللہ کی قدرت کا عظیم نمونہ تھی یہ اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی تھی جو اس نے اپنے برگزیدہ بندے زکریا (علیہ السلام) پر کی ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یحی (علیہ السلام) کی حیثیت اور ان کی…
Read the full tafseer →قَالَتْ اِنِّىْٓ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِيًّا 18
عوذ
العَوْذُ : الالتجاء إلى الغیر والتّعلّق به . يقال :
عَاذَ فلان بفلان، ومنه قوله تعالی: أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجاهِلِينَ [ البقرة/ 67]
( ع و ذ) العوذ
) ن ) کے معنی ہیں کسی کی پناہ لینا اور اس سے چمٹے رہنا ۔ محاورہ ہے : ۔ عاذ فلان بفلان فلاں نے اس کی پناہ لی اس سے ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجاهِلِينَ [ البقرة/ 67] کہ میں خدا کی پناہ مانگتا ہوں کہ نادان بنوں ۔
عوذ
العَوْذُ : الالتجاء إلى الغیر والتّعلّق به . يقال :
عَاذَ فلان بفلان، ومنه قوله تعالی: أَعُوذُ بِاللَّهِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
2 ؎ یعنی اس کی ولادت اور موت اور باررگر زندگی ہر حالت مبارک۔ 12 منہ
Read the full tafseer →قَالَتْ اِنِّیْٓ اَعُوْذُبِالرَّحْمٰنِ مِنْکَ اِنْ کُنْتَ تَقِیًّا۔ (مریم : 18)
(حضرت مریم نے کہا کہ اگر تم کوئی خدا ترس آدمی ہو تو میں تم سے خدائے رحمن کی پناہ مانگتی ہوں۔ )
حضرت مریم کا کردار
یعنی آپ نے چیخنے اور گھبرانے کی بجائے کہ میں تمہیں نہیں جانتی کہ تم کون ہو ؟ صرف یہ کہا کہ اگر تم کوئی اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے آدمی ہو تو میں تم سے خدائے رحمن کی پناہ چاہتی ہوں۔ یہ آنے والا نوجوان حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) تھے جو بشری صورت میں ان کی خواب گاہ میں داخل ہوئے تھے۔ انھیں دیکھ کر حضرت مریم نے جو کچھ کہا اور جو طرزعمل اختیار کیا وہ یہ گواہی دینے کے لیے کافی ہے کہ آپ نہ تو کوئی شادی شدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
حضرت مریم (علیہ السلام) نے حجرہ میں وارد ہونے والے انسان سے سختی کے ساتھ پوچھا تم کون ہو ؟ میں تجھے رب رحمن کا واسطہ دے کر کہتی ہوں اگر تم اللہ سے ڈرنے والے ہو تو یہاں سے نکل جاؤ۔ فرشتہ نے جواب دیا کہ میں آپ کے رب کا بھیجا ہوا ہوں تاکہ آپ کو پاکباز بیٹے کی خوشخبری دوں۔ حضرت مریم [ پہلے سے زیادہ حیران اور سراسیمگی کے عالم میں پوچھتی ہیں کہ میرے ہاں بیٹا کیسے ہوگا ؟ نہ کسی مرد نے مجھے چھوا اور نہ ہی میں بدکار ہوں۔ فرشتے نے کہا کہ اسی حالت میں تجھے بیٹا عطا کیا جائے گا کیونکہ تیرے رب کا فرمان ہے اس طرح بیٹا عطا کرنا اس کے لیے مشکل نہیں۔ یہ اس لیے ہوگا کہ…
Read the full tafseer →18: قَالَتْ اِنِّیْ اَعُوْذُبِالرَّحْمٰنِ مِنْکَ اِنْ کُنْتَ تَقِیًّا (کہنے لگی میں تجھ سے خدائے رحمان کی پناہ مانگتی ہوں اگر تو متقی ہے) یعنی اگر تجھ سے تقویٰ کی امید ہے تو تب بھی میں تجھ سے رحمان کی پناہ مانگتی ہوں یا اس شرط کی جزاء محذوف ہے کہ اگر تو تقوے والا ہے تو تقویٰ کا تقاضا بدکاری کی طرف اقدام نہ کرنا ہے۔
Read the full tafseer →18۔ قالت انی اعوذ بالرحمن منک ان کنت تقیا، ، اگر تو مومن مطیع ہے سوال یہ ہے کہ فاجر شخص سے تعوذ طلب کیا جاتا ہے پھر حضرت مریم نے کیسے فرمادیا، انی اعوذ بالرمن منک ان کنت تقیا، اس کا جواب دیا گیا یہ اس قول کی طر ہے جیسے کوئی کہنے والا کہے کہ اگر تو مومن ہے تو مجھ پر ظلم نہیں کرو گے اس کا مطلب یہ ہے کہ مناسب ہے کہ تمہارا ایمان ظلم سے مانع ہو۔ اسی طرح یہاں بھی ہے کہ مناسب یہ ہے کہ تمہارا تقوی تمہارے لیے فجور سے مانع ہو، خلاصہ جواب کا یہ ہوا کہ اگر تو پرہیزگار بھی ہے تب بھی میں تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں اور اگر پرہیزگار نہیں ہے بدکار ہے تب تو اللہ کی پناہ کی خواستگار بدرجہ اولی ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
15۔ 21:۔ اوپر بنی اسرائیل کے اس دستور کا ذکر گزر چکا ہے وہ اپنے لڑکوں کو بیت المقدس کا خادم بنایا کرتے تھے حضرت مریم ( علیہ السلام) کی ماں حنہ نے اس دستور کے موافق نذر مانی کہ ان کے پیٹ میں جو بچہ ہے اس کے پیدا ہونے کے بعد اس کو وہ بیت المقدس کا خادم بنا دیویں گی جب حضرت مریم پیدا ہوئیں تو لڑکی کے پیدا ہونے سے ان کو بڑا رنج ہوا کس لیے کہ لڑکیوں کو بیت المقدس کا خادم بنانے کا حکم نہیں تھا مگر یہ قصہ سورة آل عمران میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر باوجود لڑکی ہونے کے ان کا خادم ہونا قبول فرما لیا حضرت مریم کے باپ عمران حضرت مریم کے پیدا ہونے سے پہلے وفات پاگئے تھے اس لیے اپنے خالو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
آیت 16
اللہ تبارک و تعالیٰ نے زکریا اور یحییٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کرنے کے بعد۔۔۔. کہ یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی عجیب نشانیوں میں سے ہے۔۔۔. ایک اور قصہ بیان فرمایا جو اس سے بھی زیادہ عجیب ہے۔ یہ ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف تدریج ہے۔ (واذکر فی الکتب) ” اور ذکر کر کتاب میں “ یعنی قرآن کریم میں (مریم) مریم (علیہ السلام) کا۔ یہ مریم علیھا السلام کی سب سے بڑی فضیلت ہے کہ کتاب عظیم میں ان کا نام مذکور ہے جس کی مشرق و مغرب کے تمام مسلمان تلاوت کرتے ہیں۔ اس کتاب عظیم میں بہترین پیرائے میں ان کا ذکر اور ان کی مدح و ثنا بیان کی گئی ہے یہ ان کے اچھے اعمال اور کوشش کامل کی جزا ہے، یعنی کتاب عظیم میں، حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
محراب کیا ہے ؟
قول باری ہے (فخرج علی قومہ من المحراب۔ چناچہ وہ محراب سے نکل کر اپنی قوم کے سامنے آئے) ابوعبیدہ کا قول ہے کہ محراب صدر مجلس یعنی بیٹھنے کی جگہ کے درمیان والے حصے کو کہتے ہیں۔ اسی سے مسجد کا محراب نکلا ہے۔ ایک قول کے مطابق محراب غرفہ یعنی بالا خانہ کو کہتے ہیں۔ اسی سے قول باری ہے (اذ تسوروا المحراب ۔ جب وہ دیوار پھاند کر حجرہ میں آ گئے ) ایک اور قول ہے کہ محراب مصلی یعنی نماز پڑھنے کی جگہ کو کہتے ہیں۔
گونگے کے اشارے سے عمل درآمد ہوسکتا ہے
قول باری ہے (فاوحی الیھم اس نے انہیں اشارے سے کہا) ایک قول کے مطابق حضرت زکریاعلیہ السلام نے اپنی قوم کو ہاتھ کے اشارے سے کہا اس طرح ہاتھ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
29 حضرت مریم کے حمل اور آپ کی کنارہ کشی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " حضرت مریم کو حمل ہوگیا تو وہ اس کو لے کر ایک دور جگہ چلی گئیں "۔ جنگل یا پہاڑ میں۔ اور یہ غالباً " بیت اللحم " کا وہی مقام ہے جہاں حضرت عیسیٰ کی ولادت کا ذکر مشہور ہے۔ اور جو کہ بیت المقدس سے کوئی آٹھ میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ اور حمل اور وضع حمل کے اس قصے کے بارے میں آگے علمائے کرام کے دو قول ہیں۔ ایک یہ کہ یہ سب کچھ عام معمول کے مطابق چھ سات ماہ کے عرصے میں ہوا۔ اور دوسرا یہ کہ سب کچھ خرق عادت کے طور پر ایک ہی ساعت میں ہوگیا۔ (الفتوحات الالہیۃ، المعروف الجمل، صفوہ وغیرہ) ۔ " قصیّ " کے معنیٰ دور کے ہیں۔ آگے اس امر کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–34
سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور بچپن کی گفتگو
تشریح : سیدہ مریم کا پورا واقعہ سورة آل عمران میں بڑی وضاحت سے گزر چکا ہے کہ آپ کی والدہ نے آپ کو بیت المقدس میں عبادت کے لیے بٹھا دیا تھا۔ یہ محراب شرقی حصہ میں واقعہ تھی، جہاں آپ نے ایک پردہ ڈال کر اپنے آپ کو لوگوں کی نظروں سے چھپا رکھا تھا۔ سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہی سیدہ مریم (علیہا السلام) کا ذکر کیا گیا ہے۔ سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کی پیدائش بھی اللہ کی قدرت کی کامل نشانی ہے اور سیدنا مریم (علیہا السلام) کا انتہائی پاکدامن اور نیک ہونے کے باوجود بغیر کسی مرد کے ملے (نکاح وغیرہ) بیٹا پیدا کرنا بھی اللہ کی بہت بڑی نشانیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–41
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
اور اے حبیب ﷺ اس سے عجیب تر اور فکر انگیز واقعہ ایسی کتاب اللہ میں سنا دیجئے جو حضرت مریم (علیہا السلام) کا ہے اور جس کے متعلق یہود اور نصاری نے اپنے اپنے نظریات گھڑ رکھے ہیں کہ اس کی حقیقی اور واقعی صورت کیا ہے یہ بات تب شروع ہوتی ہے جب حضرت مریم (علیہا السلام) اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر غسل وغیرہ کرنے کے لیے پردہ میں چلی گئیں تو وہاں ان کے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیجا جس نے انسانی شکل میں ظاہر ہو کر ان سے بات کرنا چاہی ، یاد رہے حضرت مریم (علیہا السلام) کا ذکر آل عمران میں گذر چکا ہے ۔
(اولیاء اللہ سے فرشتہ کا ہمکلام ہونا)
کہ ان کی والدہ نے منت مانی تھی…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی دیکھنے میں تم نہایت پاکباز اور پرہیز گار نظر آرہے ہو اگر تم واقعی خدا سے ڈرنے والے ہو تو میں تمہیں خدا کا واسطہ دیتی ہوں کہ میرے پاس سے چلے جائو اور مجھ سے کوئی تعرض نہ کرو۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
(19:17) فاتخذت حجاباپردہ کرلیا۔ من دونہم۔ ای من دون اھلھا اہل خانہ کی طرف سے پردہ کرلیا۔ روحناجبرئیل (علیہ السلام)
فتمثل۔ تمثل یتمثل تمثل (تفعل) سے ماضی واحد مذکر غائب کسی دوسری چیز کی صورت پکڑنے کو تمثیل کہتے ہیں۔ اس معنی میں جب تمثیل کا استعمال ہوتا ہے تو اس کا تعدیہ لام سے ہوتا ہے۔ تمثل لھا۔ وہ ظاہر ہوا اس کے سامنے بشرا سویا چنگا بھلا تندرست انسان بن کر۔ نیز ملاحظہ ہو (19:10) مذکورہ بالا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 21
انتبذت الگ ہوگئی۔ حجاب پردہ۔ تمثل ڈھل گیا۔ سوی ٹھیک ٹھیک۔ تقی پرہیز گار۔ اھب میں دوں گا۔ زکی پاک باز، پاکیزہ۔ لم یمسسنی مجھے ہاتھ نہیں لگایا۔ بغنی بدکردار، بدکار، امر معاملہ، کام مقضی فیصلہ کیا گیا۔ طے شدہ۔
تشریح : آیت نمبر 16 تا 21
گزشتہ آیات میں حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے متعلق ارشاد فرمایا گیا تھا کہ ان کی زندگی قدرت کی کھلی ہوئی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کو ایک سو بیس سال کی عمر میں حضرت یحییٰ (علیہ السلام) جیسا بیٹا عطا فرمایا جب کہ ان کی بیوی بانجھ تھیں اور اس بڑھاپے میں اولاد ہونے کا دور دور تک امکان نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
حضرت مریم (علیہا السلام) کا واقعہ
یہ دوسرا واقعہ مریم (علیہا السلام) کا ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھے جن کا نام عمران تھا۔ یہ عمران موسیٰ (علیہ السلام) کے والد نہیں ہیں۔ ان کی ایک بیوی حنہ بڑی نیک تھیں، اور وہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کی سالی تھیں۔ انہوں نے خدا تعالیٰ سے نذر مانی تھی کہ میرے ہاں جو لڑکا پیدا ہوگا تو میں تیری نذر کروں گی۔ ان لوگوں میں اس نذر کا دستور قدیمی تھا مگر حنہ کے ہاں لڑکا نہ ہوا بلکہ لڑکی ہوئی جن کا نام مریم رکھا گیا۔ سب کو افسوس ہوا کہ اگر لڑکا ہوتا تو بیت المقدس کی خدمت کرتا ۔ لڑکیوں کو بیت المقدس کا خادم بنانے کا حکم نہ تھا۔ یہ واقعہ سورة آل عمران میں گزر چکا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
[8] یعنی لوگوں سے جدا ہو کر عبادت کے لئے خلوت میں بیٹھی تھیں۔
[9] روح یعنی فرشتہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
مسیح (علیہ السلام) کا تولد :
(ف 1) ان آیات میں حسب ذیل نکات کا ذکر ہے ۔
1۔ حضرت مریم (علیہ السلام) کا کسی جنسی یا غیر جنسی ضرورت کے لئے خلوت اختیار کرنا ،
2۔ جبرئل (علیہ السلام) کا انسانی شکل میں نمودار ہونا ، اور حضرت مریم (علیہ السلام) کا از راہ پاکبازی ان سے اپنے خوف کا اظہار کرنا ۔
3۔ جبرئیل (علیہ السلام) کا فرمانا کہ میں ایک خاص ضرورت سے آیا ہوں یعنی تم کو ایک پاکباز لڑکے کی خوشخبری سناؤں ۔
4۔ حضرت مریم (علیہ السلام) کا اظہار تعجب کہ یہ کیونکر ہوسکتا ہے جبکہ میں شادی شدہ نہیں ہوں اور نہ کسی مرد سے میرا کبھی تعلق ہوا ۔
5۔ جبرائیل (علیہ السلام) کا فرمانا کہ یہ بات تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک…
Read the full tafseer →- 18 حضرت مریم (علیہ السلام) اس بشری صورت کو دیکھ کر کہنے لگیں میں تجھ سے رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں اگر تو خدا سے ڈرنے والا ہے۔ یعنی اگر تو متقی ہے تو مجھے ایذا مت دے اور یہاں سے ہٹ جا اور یہ مطلب بھی بعض نے بیان کیا ہے کہ اگر تو خدا ترس ہے تب بھی تجھ سے رحمٰن کی پناہ میں آتی ہوں اور متقی نہیں ہے تو پھر اور بھی تجھ سے پرہیز کرنا ضروری ہے اور تجھ سے خدا کی پناہ کیسے نہ مانگوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
ف 6۔ یعنی تمہارے منہ میں یا گریبان میں دم کردوں کہ اس کے اثر سے باذن اللہ حمل رہ جاوے گا اور لڑکا پیدا ہوگا۔
Read the full tafseer →فرشتہ چونکہ انسانی صورت میں متمثل تھا دیکھتے ہی آپ بول پڑیں :
18۔ سیدہ مریم ؓ گویا ہوئیں کہ خدا کی پناہ تو کتنا ہی پاکباز کیوں نہ ہو لیکن اس وقت بےاجازت اندر آنے والا تو کون ہے ؟ اچانک ایک انسان کو دیکھ کر جس سے پہلے کسی قسم کی شناسائی نہ تھی کس جلالت کے ساتھ آپ مخاطب ہوئیں یقینا یہ آپ ہی کا خاص مقام تھا ۔ یہ گویا سیدہ مریم ؓ کا ایک امتحان تھا جو اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں سے لیا ہی کرتا ہے اور اللہ والے ہمیشہ ایسے امتحانات پاس کرتے رہے ہیں ۔ یہ موقع کتنا نازل تھا اس کا اندازہ آپ اور میں نہیں کرسکتے لیکن اس اللہ کی بندی نے بات کرنے میں ایسا لہجہ اختیار کیا کہ فرشتہ بھی گویا حیران ہو کر رہ…
Read the full tafseer →إِنِّي أَعُوذُ بِالرَّحْمَـٰنِ مِنكَ seek refuge of the Rahman (All-Merciful), against you." (19:18) Some reports have it that when Sayyidna Jibra'il (علیہ السلام) heard these words he retreated a little in reverence of Allah's name.
إِن كُنتَ تَقِيًّا
"If you are God-fearing." - 19:18.
These are the words which a helpless person would utter to a cruel oppressor begging him that if he is a believer then he should desist from tormenting him. The intention is that Sayyidah Maryam (علیہا السلام) entreated Sayyidna Jibra'il (علیہ السلام) who stood before her in the guise of a man, that he…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
14. The Sanctuary where she had retired for devotion was an eastern chamber in the Temple, and as was customary she had hung a curtain to conceal herself from the people. It cannot be Nazareth as some people have wrongly taken it to be, because Nazareth is to the north of Jerusalem.
Read the full tafseer →