طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 1 · 141 hadiths · Page 5 of 8

87Sunan At-Tirmidhi

قے اور نکسیر سے وضو کا حکم ہے

حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ وَهُوَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ الْكُوفِيُّ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ إِسْحَاق: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ الْمَخْزُومِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاءَ، فَأَفْطَرَ، فَتَوَضَّأ، فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: صَدَقَ أَنَا صَبَبْتُ لَهُ وَضُوءَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وقَالَ إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ: مَعْدَانُ بْنُ طَلْحَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَابْنُ أَبِي طَلْحَةَ أَصَحُّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رَأَى غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ مِنَ التَّابِعِينَ، الْوُضُوءَ مِنَ الْقَيْءِ وَالرُّعَافِ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: لَيْسَ فِي الْقَيْءِ وَالرُّعَافِ وُضُوءٌ، وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ، وَالشَّافِعِيِّ، وَقَدْ جَوَّدَ حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ هَذَا الْحَدِيثَ، وَحَدِيثُ حُسَيْنٍ أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ، وَرَوَى مَعْمَرٌ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ فَأَخْطَأَ فِيهِ، فَقَالَ: عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الْأَوْزَاعِيَّ، وَقَالَ: عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، وَإِنَّمَا هُوَ: مَعْدَانُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ.

ابو الدرداء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قے کی تو روزہ توڑ دیا اور وضو کیا (معدان کہتے ہیں کہ) پھر میں نے ثوبان ؓ سے دمشق کی مسجد میں ملاقات کی اور میں نے ان سے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ ابو الدرداء نے سچ کہا، میں نے ہی آپ ﷺ پر پانی ڈالا تھا۔

Sayyidina Abn Darda (RA) narrated that the Prophet ﷺ vomitted once and made ablution thereafter. Later he (Madat ibn Abu TaIhah, a sub-narrrator) met Sayyidina Thawban (RA) in a mosque at Damascus and mentioned this event. He said, "He (Abu Darda) is correct, for, I had poured the water for ablution."

صحيح، الإرواء (111)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 87
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- صحابہ اور تابعین میں سے بہت سے اہل علم کی رائے ہے کہ قے اور نکسیر سے وضو (ٹوٹ جاتا) ہے۔ اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، احمد، اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے ١ ؎ اور بعض اہل علم نے کہا ہے کہ قے اور نکسیر سے وضو نہیں ٹوٹتا یہ مالک اور شافعی کا قول ہے ٢ ؎، ٢- حدیث کے طرق کو ذکر کرنے کے بعد امام ترمذی فرماتے ہیں کہ حسین المعلم کی حدیث اس باب میں سب سے صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ان لوگوں کی دلیل باب کی یہی حدیث ہے، لیکن اس حدیث سے استدلال دو باتوں پر موقوف ہے: ایک یہ کہ: حدیث میں لفظ یوں ہو «قاء فتوضأ» قے کی تو وضو کیا جب کہ یہ لفظ محفوظ نہیں ہے، زیادہ تر مصادر حدیث میں زیادہ رواۃ کی روایتوں میں «قاء فأفطر» قے کی تو روزہ توڑ لیا ہے «فأفطر» کے بعد بھی «فتوضأ» کا لفظ نہیں ہے، یا اسی طرح ہے جس طرح اس روایت میں ہے، یعنی «قاء فأفطرفتوضأ» یعنی قے کی تو روزہ توڑ لیا، اور اس کے بعد وضو کیا اور اس لفظ سے وضو کا وجوب ثابت نہیں ہوتا، کیونکہ ایسا ہوتا ہے کہ قے کے بعد آدمی کمزور ہوجاتا ہے اس لیے روزہ توڑ لیتا ہے، اور نظافت کے طور پر وضو کرلیتا ہے، اور رسول اللہ ﷺ تو اور زیادہ نظافت پسند تھے، نیز یہ آپ ﷺ کا صرف فعل تھا جس کے ساتھ آپ کا کوئی حکم بھی نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ اگر «قاء فتوضأ» کا لفظ ہی محفوظ ہو تو «فتوضأ» کی فاء سبب کے لیے ہو، یعنی یہ ہوا کہ قے کی اس لیے وضو کیا اور یہ بات متعین نہیں ہے، بلکہ یہ فاء تعقیب کے لیے بھی ہوسکتی ہے، یعنی یہ ہوا کہ قے کی اور اس کے بعد وضو کیا۔ ٢ ؎: ان لوگوں کی دلیل جابر ؓ کی وہ روایت ہے جسے امام بخاری نے تعلیقاً ذکر کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ غزوہ ذات الرقاع میں تھے کہ ایک شخص کو ایک تیر آ کر لگا اور خون بہنے لگا لیکن اس نے اپنی نماز جاری رکھی اور اسی حال میں رکوع اور سجدہ کرتا رہا ظاہر ہے اس کی اس نماز کا علم نبی اکرم ﷺ کو یقیناً رہا ہوگا کیونکہ اس کی یہ نماز بحالت پہرہ داری تھی جس کا حکم نبی اکرم ﷺ نے اسے دیا تھا، اس کے باوجود آپ نے اسے وضو کرنے اور نماز کے لوٹانے کا حکم نہیں دیا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصوم ٣٢ (٢٣٩١)، ( تحفة الأشراف: ١٠٩٦٤)، مسند احمد (٥/١٩٥، و ٦/٤٤٣)، سنن الدارمی/الصوم ٢٤ (١٧٦٩)، (ولفظ الجمیع ” قاء فأفطر “ ) (صحیح)
88Sunan At-Tirmidhi

نبیذ سے وضو

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي فَزَارَةَ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: سَأَلَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا فِي إِدَاوَتِكَ ؟ فَقُلْتُ: نَبِيذٌ، فَقَالَ: تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَهُورٌ، قَالَ: فَتَوَضَّأَ مِنْهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَإِنَّمَا رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو زَيْدٍ رَجُلٌ مَجْهُولٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، لَا تُعْرَفُ لَهُ رِوَايَةٌ غَيْرُ هَذَا الْحَدِيثِ، وَقَدْ رَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْوُضُوءَ بِالنَّبِيذِ، مِنْهُمْ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَغَيْرُهُ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: لَا يُتَوَضَّأُ بِالنَّبِيذِ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وقَالَ إِسْحَاق: إِنِ ابْتُلِيَ رَجُلٌ بِهَذَا فَتَوَضَّأَ بِالنَّبِيذِ وَتَيَمَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَوْلُ مَنْ يَقُولُ: لَا يُتَوَضَّأُ بِالنَّبِيذِ أَقْرَبُ إِلَى الْكِتَابِ، وَأَشْبَهُ لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ: فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا سورة النساء آية 43.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی اکرم ﷺ نے پوچھا: تمہارے مشکیزے میں کیا ہے؟ تو میں نے عرض کیا: نبیذ ہے ١ ؎، آپ نے فرمایا: کھجور بھی پاک ہے اور پانی بھی پاک ہے تو آپ نے اسی سے وضو کیا۔

Sayyidina Abdullah ibn Masud (RA) said that Allahs Messenger ﷺ asked him "What do you have in your skin vessel?" He said that he had nabidh. The Prophet ﷺ said "Dates are pure and purify water." Then, he performed ablution with it.

ضعيف، ابن ماجة (384)، //، ضعيف أبي داود (14 / 84)، المشکاة (480)، ضعيف سنن ابن ماجة (84) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 88
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوزید محدثین کے نزدیک مجہول آدمی ہیں اس حدیث کے علاوہ کوئی اور روایت ان سے جانی نہیں جاتی، ٢- بعض اہل علم کی رائے ہے نبیذ سے وضو جائز ہے انہیں میں سے سفیان ثوری وغیرہ ہیں، بعض اہل علم نے کہا ہے کہ نبیذ سے وضو جائز نہیں ٢ ؎ یہ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اگر کسی آدمی کو یہی کرنا پڑجائے تو وہ نبیذ سے وضو کر کے تیمم کرلے، یہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے، ٣- جو لوگ نبیذ سے وضو کو جائز نہیں مانتے ان کا قول قرآن سے زیادہ قریب اور زیادہ قرین قیاس ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «فإن لم تجدوا ماء فتيمموا صعيدا طيبا» جب تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کرلو (النساء: 43) پوری آیت یوں ہے: «يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سکاری حتی تعلموا ما تقولون ولا جنبا إلا عابري سبيل حتی تغتسلوا وإن کنتم مرضی أو علی سفر أو جاء أحد منکم من الغآئط أو لامستم النساء فلم تجدوا ماء فتيمموا صعيدا طيبا فامسحواء بوجوهكم وأيديكم إن اللہ کان عفوا غفورا»
Notes · وضاحت
١ ؎: نبیذ ایک مشروب ہے جو کھجور، کشمش، شہد گیہوں اور جو وغیرہ سے بنایا جاتا ہے۔ ٢ ؎: یہی جمہور علما کا قول ہے، اور ان کی دلیل یہ ہے کہ نبیذ پانی نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: «فإن لم تجدوا ماء فتيمموا صعيدا طيبا» (سورة النساء: 43 ) تو جب پانی نہ ہو تو نبیذ سے وضو کرنے کے بجائے تیمم کرلینا چاہیئے، اور باب کی اس حدیث کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ یہ حدیث انتہائی ضعیف ہے جو استدلال کے لیے احتجاج کے لائق نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ٤٢ (٨٤)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٣٧ (٣٨٤)، ( تحفة الأشراف: ٩٦٠٣)، مسند احمد (١/٤٠٢) (ضعیف) (سند میں ابو زید مجہول راوی ہیں۔ )
89Sunan At-Tirmidhi

دودھ پی کر کلی کرنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا، فَدَعَا بِمَاءٍ، فَمَضْمَضَ، وَقَالَ: إِنَّ لَهُ دَسَمًا . قال: وَفِي الْبَاب عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، وَأُمِّ سَلَمَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْمَضْمَضَةَ مِنَ اللَّبَنِ، وَهَذَا عِنْدَنَا عَلَى الِاسْتِحْبَابِ، وَلَمْ يَرَ بَعْضُهُمُ الْمَضْمَضَةَ مِنَ اللَّبَنِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے دودھ پیا تو پانی منگوا کر کلی کی اور فرمایا: اس میں چکنائی ہوتی ہے ۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ drank milk and then asked for water and rinsed his mouth. He said, “It is greasy”.

صحيح، ابن ماجة (498)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 89
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں سہل بن سعد ساعدی، اور ام سلمہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- بعض اہل علم کی رائے ہے کہ کلی دودھ پینے سے ہے، اور یہ حکم ہمارے نزدیک مستحب ١ ؎ ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض لوگوں نے اسے واجب کہا ہے، ان لوگوں کی دلیل یہ ہے کہ ابن ماجہ کی ایک روایت ( رقم ٤٩٨) میں «مضمضوا من اللبن» امر کے صیغے کے ساتھ آیا ہے اور امر میں اصل وجوب ہے، اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ یہ اس صورت میں ہے جب استحباب پر محمول کرنے کی کوئی دلیل موجود نہ ہو اور یہاں استحباب پر محمول کئے جانے کی دلیل موجود ہے کیونکہ ابوداؤد نے ( برقم ١٩٦) انس سے ایک روایت نقل کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے دودھ پیا تو نہ کلی کی اور نہ وضو ہی کیا، اس کی سند حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٥٢ (٢١١)، والأشربة ١٢ (٥٦٠٩)، صحیح مسلم/الطہارة ٢٤ (٣٥٨)، سنن ابی داود/ الطہارة ٧٧ (١٩٦)، سنن النسائی/الطہارة ٢٥ (١٨٧)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٦٨ (٤٩٨)، ( تحفة الأشراف: ٥٨٣٣)، مسند احمد (١/٢٢٣، ٢٢٧، ٣٢٩، ٣٣٧، ٣٧٣) (صحیح)
90Sunan At-Tirmidhi

بغیر وضو سلام کو جواب دینا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَليٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا سَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَإِنَّمَا يُكْرَهُ هَذَا عِنْدَنَا، إِذَا كَانَ عَلَى الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ، وَقَدْ فَسَّرَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ ذَلِكَ، وَهَذَا أَحَسَنُ شَيْءٍ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ، وَعَلْقَمَةَ بْنِ الْفَغْوَاءِ، وَجَابِرٍ، وَالْبَرَاءِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کو سلام کیا، آپ پیشاب کر رہے تھے، تو آپ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated that a man greeted the Prophet ﷺ with salaam while he was passing urine. So, he did not give him a reply.

حسن صحيح، الإرواء (54)، صحيح أبي داود (12 و 13)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 90
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور ہمارے نزدیک سلام کا جواب دینا اس صورت میں مکروہ قرار دیا جاتا ہے جب آدمی پاخانہ یا پیشاب کر رہا ہو، بعض اہل علم نے اس کی یہی تفسیر کی ہے ١ ؎، ٢- یہ سب سے عمدہ حدیث ہے جو اس باب میں روایت کی گئی ہے، ٣- اور اس باب میں مہاجر بن قنفذ، عبداللہ بن حنظلہ، علقمہ بن شفواء، جابر اور براء بن عازب ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اور یہی راجح ہے کہ آپ ﷺ پیشاب کی حالت میں ہونے کی وجہ سے جواب نہیں دیا، نہ کہ وضو کے بغیر سلام کا جواب جائز نہیں، اور جن حدیثوں میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فراغت کے بعد وضو کیا اور پھر آپ نے جواب دیا تو یہ استحباب پر محمول ہے، نیز یہ بات آپ کو خاص طور پر پسند تھی کہ آپ اللہ کا نام بغیر طہارت کے نہیں لیتے تھے، اس حدیث سے ایک بات اور ثابت ہوتی ہے کہ پائخانہ پیشاب کرنے والے پر سلام ہی نہیں کرنا چاہیئے، یہ حکم وجوبی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٢٨ (٣٧٠)، سنن ابی داود/ الطہارة ٨ (١٦)، سنن النسائی/الطہارة ٣٣ (٣٧)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٢٧ (٣٥٣)، ویأتی عند المؤلف برقم: ٢٧٢٠ (تحفة الأشراف: ٧٦٩٦) (حسن صحیح)
91Sunan At-Tirmidhi

کتے کا جھوٹا

حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَال: سَمِعْتُ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: يُغْسَلُ الْإِنَاءُ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أُولَاهُنَّ أَوْ أُخْرَاهُنَّ بِالتُّرَابِ، وَإِذَا وَلَغَتْ فِيهِ الْهِرَّةُ غُسِلَ مَرَّةً . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا، وَلَمْ يُذْكَرْ فِيهِ إِذَا وَلَغَتْ فِيهِ الْهِرَّةُ غُسِلَ مَرَّةً. وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: برتن میں جب کتا منہ ڈال دے تو اسے سات بار دھویا جائے، پہلی بار یا آخری بار اسے مٹی سے دھویا جائے ١ ؎، اور جب بلی منہ ڈالے تو اسے ایک بار دھویا جائے ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, "When a dog laps a vessel wash it seven times, rubbing it with earth the first or the last time. If a cat puts its mouth into a vessel wash it once."

صحيح، صحيح أبي داود (64 - 66)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 91
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ ٣- ابوہریرہ ؓ کی حدیث نبی اکرم ﷺ سے کئی سندوں سے اسی طرح مروی ہے جن میں بلی کے منہ ڈالنے پر ایک بار دھونے کا ذکر نہیں کیا گیا ہے، ٣- اس باب میں عبداللہ بن مغفل ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ برتن میں کتا منہ ڈال دے تو اسے سات مرتبہ دھونا اور ایک بار مٹی سے دھونا واجب ہے یہی جمہور کا مسلک ہے، احناف تین بار دھونے سے برتن کے پاک ہونے کے قائل ہیں، ان کی دلیل دارقطنی اور طحاوی میں منقول ابوہریرہ ؓ کا فتویٰ ہے کہ اگر کتا کسی برتن میں منہ ڈال دے تو اسے تین مرتبہ دھونا چاہیئے، حالانکہ ابوہریرہ سے سات بار دھونے کا بھی فتویٰ منقول ہے اور سند کے اعتبار سے یہ پہلے فتوے سے زیادہ صحیح ہے، نیز یہ فتویٰ روایت کے موافق بھی ہے، اس لیے یہ بات درست نہیں ہے کہ صحیح حدیث کے مقابلہ میں ان کے مرجوح فتوے اور رائے کو ترجیح دی جائے، رہے وہ اعتراضات جو باب کی اس حدیث پر احناف کی طرف سے وارد کئے گئے ہیں تو ان سب کے تشفی بخش جوابات دیئے جا چکے ہیں، تفصیل کے لیے دیکھئیے ( تحفۃ الاحوذی، ج ١ ص ٩٣)۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ٣٧ (٧٢)، وانظر أیضا: صحیح البخاری/الوضوء ٣٣ (١٧٢)، صحیح مسلم/الطہارة ٢٧ (٢٧٩)، سنن ابی داود/ الطہارة ٣٧ (٧١)، سنن النسائی/الطہارة ٥١ (٦٣)، والمیاہ ٧ (٣٣٦)، و (٣٤٠)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٣١ (٣٦٣، ٣٦٤)، ( تحفة الأشراف: ١٤٥٠٩)، موطا امام مالک/الطہارة ٦ (٢٥)، مسند احمد (٢/٢٤٥، ٢٥٣، ٢٦٥، ٢٧١، ٣٦٠، ٣٩٨، ٤٢٤، ٤٢٧، ٤٤٠، ٤٨٠، ٥٠٨) (صحیح)
92Sunan At-Tirmidhi

بلی کا جھوٹا

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، وَكَانَتْ عِنْدَ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ دَخَلَ عَلَيْهَا، قَالَتْ: فَسَكَبْتُ لَهُ وَضُوءًا، قَالَتْ: فَجَاءَتْ هِرَّةٌ تَشْرَبُ فَأَصْغَى لَهَا الْإِنَاءَ حَتَّى شَرِبَتْ، قَالَتْ كَبْشَةُ: فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَتَعْجَبِينَ يَا بِنْتَ أَخِي ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ أَوِ الطَّوَّافَاتِ ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ، عَنْ مَالِكٍ، وَكَانَتْ عِنْدَ أَبِي قَتَادَةَ، وَالصَّحِيحُ ابْنُ أَبِي قَتَادَةَ، قال: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ الْعُلَمَاءِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ، مِثْلِ الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق لَمْ يَرَوْا بِسُؤْرِ الْهِرَّةِ بَأْسًا، وَهَذَا أَحَسَنُ شَيْءٍ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ، وَقَدْ جَوَّدَ مَالِكٌ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، وَلَمْ يَأْتِ بِهِ أَحَدٌ أَتَمَّ مِنْ مَالِكٍ.

کبشہ بنت کعب (جو ابن ابوقتادہ کے نکاح میں تھیں) کہتی ہیں کہ ابوقتادہ میرے پاس آئے تو میں نے ان کے لیے (ایک برتن) وضو کا پانی میں ڈالا، اتنے میں ایک بلی آ کر پینے لگی تو انہوں نے برتن کو اس کے لیے جھکا دیا تاکہ وہ (آسانی سے) پی لے، کبشہ کہتی ہیں: ابوقتادہ نے مجھے دیکھا کہ میں ان کی طرف تعجب سے دیکھ رہی ہوں تو انہوں نے کہا: بھتیجی! کیا تم کو تعجب ہو رہا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: یہ (بلی) نجس نہیں، یہ تو تمہارے پاس برابر آنے جانے والوں یا آنے جانے والیوں میں سے ہے ١ ؎۔

Sayyidah Kabshah bint Kab ibn Malik (RA) wife of the son of Sayyidina Abu Qatadah (RA) narrated," Abu Qatadah visited us and I poured out water in a vessel for ablution he may make. A cat came and began to drink it. He tilted the vessel for it till she drank her fill. He saw me looking at him and asked if I was surprised. When I said that I was, he said that Allah’s Messenger ﷺ had said that it was not impure (or unclean) and it is one of those that go round us.

صحيح، ابن ماجة (367)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 92
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں عائشہ اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث مروی ہیں، ٢- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٣- صحابہ کرام اور تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم مثلاً شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے کہ بلی کے جھوٹے میں کوئی حرج نہیں، اور یہ سب سے اچھی حدیث ہے جو اس باب میں روایت کی گئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ بلی کا جھوٹا ناپاک نہیں ہے، بشرطیکہ اس کے منہ پر نجاست نہ لگی ہو، اس حدیث میں بلی کو گھر کے خادم سے تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ خادموں کی طرح اس کا بھی گھروں میں آنا جانا بہت رہتا ہے، اگر اسے نجس و ناپاک قرار دے دیا جاتا تو گھر والوں کو بڑی دشواری پیش آتی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ٣٨ (٧٥)، سنن النسائی/الطہارة ٥٤ (٦٨)، والمیاہ ٩ (٣٤١)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٣٢ (٣٦٧)، ( تحفة الأشراف: ١٢١٤١)، مسند احمد (٥/٢٩٦، ٣٠٣، ٣٠٩)، سنن الدارمی/الطہارة ٥٨ (٧٦٣) (صحیح)
93Sunan At-Tirmidhi

موزوں پر مسح کرنا

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: بَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقِيلَ لَهُ: أَتَفْعَلُ هَذَا ؟ قَالَ: وَمَا يَمْنَعُنِي وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ. قَالَ إِبْرَاهِيمُ: وَكَانَ يُعْجِبُهُمْ حَدِيثُ جَرِيرٍ، لِأَنَّ إِسْلَامَهُ كَانَ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ هَذَا قَوْلُ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي كَانَ يُعْجِبُهُمْ، قال: وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ، وَحُذَيْفَةَ، وَالْمُغِيرَةِ، وَبِلَالٍ، وَسَعْدٍ، وَأَبِي أَيُّوبَ، وَسَلْمَانَ، وَبُرَيْدَةَ، وَعَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، وَأَنَسٍ، وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، وَيَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، وَأُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، وَأَبِي أُمَامَةِ، وَجَابِرٍ، وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، وَابْنِ عُبَادَةَ، وَيُقَالُ: ابْنُ عِمَارَةَ، وَأُبَيُّ بْنُ عِمَارَةَ. قال أبو عيسى: وَحَدِيثُ جَرِيرٍ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ جریر بن عبداللہ ؓ نے پیشاب کیا پھر وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا، ان سے کہا گیا: کیا آپ ایسا کر رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ مجھے اس کام سے کون سی چیز روک سکتی ہے جبکہ میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے دیکھا ہے، ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ صحابہ کرام کو جریر ؓ کی یہ حدیث اچھی لگتی تھی کیونکہ ان کا اسلام سورة المائدہ کے نزول کے بعد کا ہے ١ ؎۔

Sayyidina Hammam ibn Harith (RA) reported that when Sayyidina Jabir bin Abdullah (RA) performed ablution after he had passed urine, he merely wipe over his socks (instead of washing his feet). He was asked why he did so, he said, "What prevents me from it when I observed Allahs Messenger ﷺ do that?" The narrator said,” We regard this hadith highly because he embraced Islam after the revelation of surah al-Maidah, Shahr ibn Hawshab said that when he saw Sayyidina Jarir ibn Abdullah (RA) perform ablution and wipe over his socks, he asked him about it and he said that he had seen the Prophet ﷺ do it. Shahr asked him, "Was it before al-Maidah was revealed, or after?" He said, “I embraced Islam after the revelation of al-Maidah.”.

صحيح، ابن ماجة (543)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 93
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- جریر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عمر، علی، حذیفہ، مغیرہ، بلال، ابوایوب، سلمان، بریدۃ، عمرو بن امیہ، انس، سہل بن سعد، یعلیٰ بن مرہ، عبادہ بن صامت، اسامہ بن شریک، ابوامامہ، جابر، اسامہ بن زید، ابن عبادۃ جنہیں ابن عمارہ اور ابی بن عمارہ بھی کہا جاتا ہے ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے موزوں پر مسح کا جواز ثابت ہوتا ہے، موزوں پر مسح کی احادیث تقریباً اسی ( ٨٠) صحابہ کرام سے آئی ہیں جن میں عشرہ مبشرہ بھی شامل ہیں، علامہ ابن عبدالبر نے اس کے ثبوت پر اجماع نقل کیا ہے، امام کرخی کی رائے ہے کہ «مسح علی خفین» موزوں پر مسح کی احادیث تواتر تک پہنچی ہیں اور جو لوگ ان کا انکار کرتے ہیں مجھے ان کے کفر کا اندیشہ ہے، جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ مسح خفین کی حدیثیں آیت مائدہ سے منسوخ ہیں ان کا یہ قول درست نہیں کیونکہ «مسح علی خفین» کی حدیث کے راوی جریر ؓ آیت مائدہ کے نزول کے بعد اسلام لائے، اس لیے یہ کہنا صحیح نہیں کہ یہ احادیث منسوخ ہیں بلکہ یہ آیت مائدہ کی مبیّن اور مخص ہیں، یعنی آیت میں پیروں کے دھونے کا حکم ان لوگوں کے ساتھ خاص ہے جو موزے نہ پہنے ہوں، رہا موزے پر مسح کا طریقہ تو اس کی صحیح صورت یہ ہے کہ ہاتھ کی پانچوں انگلیوں کو پانی سے بھگو کر ان کے پوروں کو پاؤں کی انگلیوں سے پنڈلی کے شروع تک کھینچ لیا جائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٢٥ (٣٧٨)، صحیح مسلم/الطہارة ٢٢ (٢٧٢)، سنن ابی داود/ الطہارة ٥٩ (١٥٤)، سنن النسائی/الطہارة ٩٦ (١١٨)، والقبلة ٢٣ (٧٧٥)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٨٤ (٥٤٣)، ( تحفة الأشراف: ٣٢٣) (صحیح)
94Sunan At-Tirmidhi

موزوں پر مسح کرنا

وَيُرْوَى عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ: رَأَيْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقُلْتُ لَهُ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ، فَقُلْتُ لَهُ: أَقَبْلَ الْمَائِدَةِ أَمْ بَعْدَ الْمَائِدَةِ ؟ فَقَالَ: مَا أَسْلَمْتُ إِلَّا بَعْدَ الْمَائِدَةِ. حَدَّثَنَا بِذَلِكَ قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ زِيَادٍ التِّرْمِذِيُّ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قال: وَرَوَى بَقِيَّةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَدْهَمَ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ جَرِيرٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ مُفَسَّرٌ، لِأَنَّ بَعْضَ مَنْ أَنْكَرَ الْمَسْحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ تَأَوَّلَ أَنَّ مَسْحَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْخُفَّيْنِ كَانَ قَبْلَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ، وَذَكَرَ جَرِيرٌ فِي حَدِيثِهِ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ.

شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ میں نے جریر بن عبداللہ ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا، میں نے جب ان سے اس سلسلے میں بات کی تو انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا، میں نے ان سے پوچھا: آپ کا یہ عمل سورة المائدہ کے نزول سے پہلے کا ہے، یا بعد کا؟ تو کہا: میں تو سورة المائدہ اترنے کے بعد ہی اسلام لایا ہوں، یہ حدیث آیت وضو کی تفسیر کر رہی ہے اس لیے کہ جن لوگوں نے موزوں پر مسح کا انکار کیا ہے ان میں سے بعض نے یہ تاویل کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے موزوں پر جو مسح کیا تھا وہ آیت مائدہ کے نزول سے پہلے کا تھا، جبکہ جریر ؓ نے اپنی روایت میں ذکر کیا ہے کہ انہوں نے نزول مائدہ کے بعد نبی اکرم ﷺ کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

صحيح، الإرواء (1 / 137)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 94
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٣٢١٣) (صحیح) (سند میں شہر بن حوشب میں کلام ہے، لیکن متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، الإرواء ١/١٣٧)
95Sunan At-Tirmidhi

مسافر اور مقیم کے لئے مسح کرنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ: لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةٌ وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ ، وَذُكِرَ عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ، أَنَّهُ صَحَّحَ حَدِيثَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ فِي الْمَسْحِ، وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيُّ اسْمُهُ: عَبْدُ بْنُ عَبْدٍ، وَيُقَالُ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَأَبِي بَكْرَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَصَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، وَعَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَجَرِيرٍ.

خزیمہ بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: مسافر کے لیے تین دن ہے اور مقیم کے لیے ایک دن ۔

Sayyidina Khuzaymah ibn Thabit (RA) reported that the Prophet ﷺ was asked about wiping over socks. He said, "It is three days for a traveler and one day for a resident."

صحيح، ابن ماجة (553)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 95
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یحییٰ بن معین سے منقول ہے کہ انہوں نے مسح کے سلسلہ میں خزیمہ بن ثابت کی حدیث کو صحیح قرار دیا ہے، ٣- اس باب میں علی، ابوبکرۃ، ابوہریرہ، صفوان بن عسال، عوف بن مالک، ابن عمر اور جریر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ٦٠ (١٥٧)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٨٦ (٥٥٣)، ( تحفة الأشراف: ٣٥٢٨)، مسند احمد (٥/٢١٣) (صحیح)
96Sunan At-Tirmidhi

مسافر اور مقیم کے لئے مسح کرنا

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا سَفَرًا أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، وَلَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَى الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ، وَحَمَّادٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، وَلَا يَصِحُّ. قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: قَالَ شُعْبَةُ: لَمْ يَسْمَعْ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ مِنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ حَدِيثَ الْمَسْحِ. وقَالَ زَائِدَةُ: عَنْ مَنْصُورٍ كُنَّا فِي حُجْرَةِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ وَمَعَنَا إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، فَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل: أَحْسَنُ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثُ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ الْعُلَمَاءِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ الْفُقَهَاءِ، مِثْلِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، قَالُوا: يَمْسَحُ الْمُقِيمُ يَوْمًا وَلَيْلَةً، وَالْمُسَافِرُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، أَنَّهُمْ لَمْ يُوَقِّتُوا فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، وَهُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ. قال أبو عيسى: وَالتَّوْقِيتُ أَصَحُّ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ أَيْضًا، مِنْ غَيْرِ حَدِيثِ عَاصِمٍ.

صفوان بن عسال ؓ کہتے ہیں کہ جب ہم مسافر ہوتے تو رسول اللہ ﷺ ہمیں حکم دیتے کہ ہم اپنے موزے تین دن اور تین رات تک، پیشاب، پاخانہ یا نیند کی وجہ سے نہ اتاریں، الا یہ کہ جنابت لاحق ہوجائے ١ ؎۔

Sayyidina Safwan ibn AssaI (RA) said, “Allahs Messenger ﷺ used to command us that while we were traveling, we should not remove our socks for three days and three nights unless we were sexually defiled, but not (to remove them) if we had to answer natures call.”

حسن، ابن ماجة (478)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 96
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- محمد بن اسماعیل (بخاری) کہتے ہیں کہ اس باب میں صفوان بن عسال مرادی کی حدیث سب سے عمدہ ہے، ٣- اکثر صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے فقہاء میں سے اکثر اہل علم مثلاً: سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے کہ مقیم ایک دن اور ایک رات موزوں پر مسح کرے، اور مسافر تین دن اور تین رات، بعض علماء سے مروی ہے کہ موزوں پر مسح کے لیے وقت کی تحدید نہیں کہ (جب تک دل چاہے کرسکتا ہے) یہ مالک بن انس (رح) کا قول ہے، لیکن تحدید والا قول زیادہ صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث موزوں پر مسح کی مدت کی تحدید پر دلالت کرتی ہے: مسافر کے لیے تین دن تین رات ہے اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات، یہ مدت وضو کے ٹوٹنے کے وقت سے شمار ہوگی نہ کہ موزہ پہننے کے وقت سے، حدث لاحق ہونے کی صورت میں اگر موزہ اتار لیا جائے تو مسح ٹوٹ جاتا ہے، نیز مدت ختم ہوجانے کے بعد بھی ٹوٹ جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطہارة ٩٨، ١١٣، ١١٤ (١٢٦)، و ١١٣ (١٥٨)، و ١١٤ (١٥٩)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٦٣ (٤٧٨)، ویأتي برقم: ٣٥٣٥ (تحفة الأشراف: ٤٩٥٢)، مسند احمد (٤/٢٣٩، ٢٤٠) (حسن)
97Sunan At-Tirmidhi

موزوں کے اوپر اور نیچے مسح کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَخْبَرَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ أَعْلَى الْخُفِّ وَأَسْفَلَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ الْفُقَهَاءِ، وَبِهِ يَقُولُ مَالِكٌ، وَالشَّافِعِيُّ، وَإِسْحَاق، وَهَذَا مَعْلُولٌ لَمْ يُسْنِدْهُ عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ غَيْرُ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَسَأَلْتُ أَبَا زُرْعَةَ، وَمُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَا: لَيْسَ بِصَحِيحٍ، لِأَنَّ ابْنَ الْمُبَارَكِ رَوَى هَذَا عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، قَالَ: حُدِّثْتُ عَنْ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ مُرْسَلٌ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يُذْكَرْ فِيهِ الْمُغِيرَةُ.

مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے موزے کے اوپر اور نیچے دونوں جانب مسح کیا ١ ؎۔

Sayyidina Mughirah ibn Shu bah (RA) said that the Prophet ﷺ wiped the top of the socks and their bottom.

ضعيف، ابن ماجة (550)، //، ضعيف أبي داود (30 / 165)، المشکاة (521)، ضعيف سنن ابن ماجة (120) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 97
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے فقہاء میں سے بہت سے لوگوں کا یہی قول ہے اور مالک، شافعی اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، ٢- یہ حدیث معلول ہے۔ میں نے ابوزرعہ اور محمد بن اسماعیل (بخاری) سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو ان دونوں نے کہا کہ یہ صحیح نہیں ہے ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے موزوں کے اوپر اور نیچے دونوں جانب مسح کیا لیکن یہ روایت ضعیف ہے جیسا کہ امام ترمذی نے خود اس کی صراحت کردی ہے۔ ٢ ؎: مولف نے یہاں حدیث علت کی واضح فرمائی ہے ان سب کا ماحصل یہ ہے کہ یہ حدیث مغیرہ کی سند میں سے نہیں بلکہ کاتب مغیرہ ( تابعی ) سے مرسلاً مروی ہے، ولید بن مسلم کو اس سلسلے میں وہم ہوا ہے کہ انہوں نے اسے مغیرہ کی مسند میں سے روایت کردیا ہے، ترمذی نے «لم یسندہ عن ثوربن یزید غیر الولید بن مسلم» کہہ کر اسی کی وضاحت ہے۔ مغیرہ ؓ سے مسنداً روایت اس کے برخلاف ہے جو آگے آرہی ہے اور وہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ٦٣ (١٦٥)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٨٥ (٥٥٠)، ( تحفة الأشراف: ١١٥٣٧) (ضعیف) (سند میں انقطاع ہے، راوی ثور بن یزید کا رجاء بن حیوہ سے سماع نہیں ہے، اسی طرح ابو زرعہ اور بخاری کہتے ہیں کہ حیوہ کا بھی کاتب مغیرہ بن شعبہ کا وراد سے سماع نہیں ہے، نیز یہ کاتب مغیرہ کی مرسل روایت ثابت ہے۔ ) نوٹ: ابن ماجہ (٥٥٠) ابوداود (١٦٥) میں غلطی سے موطأ، مسند احمد اور دارمی کا حوالہ آگیا ہے، جب کہ ان کتابوں میں مسح سے متعلق مغیرہ بن شعبہ کی متفق علیہ حدیث آئی ہے جس میں اوپر نیچے کی صراحت نہیں ہے، ہاں آگے آنے والی حدیث (٩٨) میں مغیرہ سے صراحت کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو اوپری حصے پر مسح کرتے دیکھا۔
98Sunan At-Tirmidhi

موزوں کے اوپر مسح کرنا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ عَلَى ظَاهِرِهِمَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ الْمُغِيرَةِ حَسَنٌ، وَهُوَ حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ، وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا يَذْكُرُ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ عَلَى ظَاهِرِهِمَا غَيْرَهُ، وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَأَحْمَدُ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَكَانَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ يُشِيرُ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ.

مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو موزوں کے اوپری حصے پر مسح کرتے دیکھا ١ ؎۔

Sayyidina Mughlrah Ibn Shubah (RA) said, "I saw the Prophet ﷺ wipe over the top of the socks

حسن صحيح، المشکاة (522)، صحيح أبي داود (151 - 152)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 98
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- مغیرہ ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- عبدالرحمٰن بن ابی الزناد کے علاوہ میں کسی اور کو نہیں جانتا جس نے بسند «عروہ عن مغیرہ» دونوں موزوں کے اوپری حصہ پر مسح کا ذکر کرتا ہو ٢ ؎ اور یہی کئی اہل علم کا قول ہے اور یہی سفیان ثوری اور احمد بھی کہتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اور یہ روایت متصلاً و مسنداً حسن صحیح ہے۔ ٢ ؎: یعنی «علی ظاهرهما» کے الفاظ ذکر کرنے میں عبدالرحمٰن بن ابی زناد منفرد ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ٦٣ (١٦١)، (وراجع أیضا ما عندہ برقم: ١٤٩)، ( تحفة الأشراف: ١١٥١٢) (حسن صحیح)
99Sunan At-Tirmidhi

جوربین اور نعلین پر مسح کرنے کے بارے میں

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَابْنُ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، قَالُوا: يَمْسَحُ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَإِنْ لَمْ تَكُنْ نَعْلَيْنِ إِذَا كَانَا ثَخِينَيْنِ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي مُوسَى. قَالَ أَبُو عِيسَى: سَمِعْت صَالِحَ بْنَ مُحَمَّدٍ التِّرْمِذِيَّ قَال: سَمِعْتُ أَبَا مُقَاتِلٍ السَّمَرْقَنْدِيَّ، يَقُولُ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي حَنِيفَةَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وَعَلَيْهِ جَوْرَبَانِ، فَمَسْحَ عَلَيْهِمَا، ثُمَّ قَالَ: فَعَلْتُ الْيَوْمَ شَيْئًا لَمْ أَكُنْ أَفْعَلُهُ، مَسَحْتُ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَهُمَا غَيْرُ مُنَعَّلَيْنِ.

مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے وضو کیا اور موزوں اور جوتوں پر مسح کیا۔

Sayyidina Mughirah ibn Shubah (RA) reported that the Prophet ﷺ performed ablution and wiped his stockings and shoes.

صحيح، ابن ماجة (559)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 99
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- کئی اہل علم کا یہی قول ہے اور سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں کہ پاتابوں پر مسح کرے گرچہ جوتے نہ ہوں جب کہ پاتا بےموٹے ہوں، ٣- اس باب میں ابوموسیٰ ؓ سے بھی روایت آئی ہے، ٤- ابومقاتل سمرقندی کہتے ہیں کہ میں ابوحنیفہ کے پاس ان کی اس بیماری میں گیا جس میں ان کی وفات ہوئی تو انہوں نے پانی منگایا، اور وضو کیا، وہ پاتا بےپہنے ہوئے تھے، تو انہوں نے ان پر مسح کیا، پھر کہا: آج میں نے ایسا کام کیا ہے جو میں نہیں کرتا تھا۔ میں نے پاتابوں پر مسح کیا ہے حالانکہ میں نے جوتیاں نہیں پہن رکھیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ٦١ (١٥٩)، سنن النسائی/الطہارة ٩٦ (١٢٣)، و ٩٧/١ (١٢٥/م)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٨٨ (٥٥٩)، ( تحفة الأشراف: ١١٥٣٤)، مسند احمد (٣/٢٥٢) (صحیح)
100Sunan At-Tirmidhi

جوربین اور عمامہ پر مسح کرنے کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْالْحَسَنِ، عَنْ ابْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْعِمَامَةِ . قَالَ بَكْرٌ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنَ ابْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: وَذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ، أَنَّهُ مَسَحَ عَلَى نَاصِيَتِهِ وَعِمَامَتِهِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، ذَكَرَ بَعْضُهُمُ الْمَسْحَ عَلَى النَّاصِيَةِ وَالْعِمَامَةِ، وَلَمْ يَذْكُرْ بَعْضُهُمُ النَّاصِيَةَ، وسَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، يَقُولُ: مَا رَأَيْتُ بِعَيْنِي مِثْلَ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ. قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةِ، وَسَلْمَانَ، وَثَوْبَانَ، وَأَبِي أُمَامَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَأَنَسٌ، وَبِهِ يَقُولُ الْأَوْزَاعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، قَالُوا: يَمْسَحُ عَلَى الْعِمَامَةِ، وقَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ: لَا يَمْسَحُ عَلَى الْعِمَامَةِ إِلَّا بِرَأْسِهِ مَعَ الْعِمَامَةِ ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيِّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وسَمِعْت الْجَارُودَ بْنَ مُعَاذٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ وَكِيعَ بْنَ الْجَرَّاحِ، يَقُولُ: إِنْ مَسَحَ عَلَى الْعِمَامَةِ يُجْزِئُهُ لِلْأَثَرِ.

مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے وضو کیا اور دونوں موزوں اور عمامے پر مسح کیا۔ محمد بن بشار نے ایک دوسری جگہ اس حدیث میں یہ ذکر کیا ہے کہ آپ نے اپنی پیشانی اور اپنے عمامے پر مسح کیا ، یہ حدیث اور بھی کئی سندوں سے مغیرہ بن شعبہ سے روایت کی گئی ہے، ان میں سے بعض نے پیشانی اور عمامے پر مسح کا ذکر کیا ہے اور بعض نے پیشانی کا ذکر نہیں کیا ہے۔

Ibn Mughirah ibn Shubah (RA) reported from his father that the Prophet ﷺ made ablution and wiped over his socks and turban.

صحيح، صحيح أبي داود (137 - 138)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 100
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- مغیرہ بن شعبہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عمرو بن امیہ، سلمان، ثوبان اور ابوامامہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ کرام میں سے کئی اہل علم کا بھی یہی قول ہے۔ ان میں سے ابوبکر، عمر اور انس ؓ ہیں اور اوزاعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں کہ عمامہ پر مسح کرے، صحابہ کرام اور تابعین میں سے بہت سے اہل علم کا کہنا ہے کہ عمامہ پر مسح نہیں سوائے اس صورت کے کہ عمامہ کے ساتھ (کچھ) سر کا بھی مسح کرے۔ سفیان ثوری، مالک بن انس، ابن مبارک اور شافعی اسی کے قائل ہیں، ٤- وکیع بن جراح کہتے ہیں کہ اگر کوئی عمامے پر مسح کرلے تو حدیث کی رو سے یہ اسے کافی ہوگا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ٥٩ (١٥٠)، ( تحفة الأشراف: ١١٤٩٢)، مسند احمد (٤/٢٤٤، ٢٤٨، ٢٥٠، ٢٥٤) (صحیح)
101Sunan At-Tirmidhi(102)

جوربین اور عمامہ پر مسح کرنے کے بارے میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق هُوَ الْقُرَشِيُّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ: السُّنَّةُ يَا ابْنَ أَخِي ، قَالَ: وَسَأَلْتُهُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْعِمَامَةِ، فَقَالَ: أَمِسَّ الشَّعَرَ الْمَاءَ .

ابوعبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ ؓ سے دونوں موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: میرے بھتیجے! (یہ) سنت ہے۔ وہ کہتے ہیں اور میں نے عمامہ پر مسح کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: بالوں کو چھوؤ۔

Qutaybah ibn Saeed reported to Bishr ibn Mufaddil, Abdur Rahman ibn Ishaq him, Abu Ubaydah ibn Muhammad ibn Ammar ibn Yasar from him that he asked Sayyidina ibn Abdullah (RA) about masah on socks. He said, "O Nisai ephew! This is Sunnah. "Then he asked about masah on the turban. He said, "It is necessary to touch the hair."

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 102
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: پانی سے بالوں کو مس کرو، یعنی: عمامہ پر مسح نہ کرو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٣١٦٥) (صحیح الإسناد)
102Sunan At-Tirmidhi(101)

جوربین اور عمامہ پر مسح کرنے کے بارے میں

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ بِلَالٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ .

بلال ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے دونوں موزوں پر اور عمامے پر مسح کیا۔

Sayyidina Bilal (RA) said that the Prophet ﷺ wiped over the socks and turban

صحيح، ابن ماجة (561)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 101
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ٢٣ (٢٧٥)، سنن النسائی/الطہارة ٨٦ (١٠٤، ١٠٦)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٨٩ (٥٦١)، ( تحفة الأشراف: ٢٠٤٧)، مسند احمد (٦/١٢، ١٣، ١٤، ١٥) (صحیح)
103Sunan At-Tirmidhi

غسل جنابت کے بارے میں

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ خَالَتِهِمَيْمُونَةَ، قَالَتْ: وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلًا، فَاغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَأَكْفَأَ الْإِنَاءَ بِشِمَالِهِ عَلَى يَمِينِهِ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَأَفَاضَ عَلَى فَرْجِهِ، ثُمَّ دَلَكَ بِيَدِهِ الْحَائِطَ أَوِ الْأَرْضَ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ، ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، وَجَابِرٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ.

ام المؤمنین میمونہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے لیے نہانے کا پانی رکھا، آپ نے غسل جنابت کیا، تو برتن کو اپنے بائیں ہاتھ سے دائیں ہاتھ پر جھکایا اور اپنے پہونچے دھوئے، پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور شرمگاہ پر پانی بہایا، پھر اپنا ہاتھ دیوار یا زمین پر رگڑا۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنا چہرہ دھویا اور اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر تین مرتبہ سر پر پانی بہایا، پھر پورے جسم پر پانی بہایا، پھر وہاں سے پرے ہٹ کر اپنے پاؤں دھوئے۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported from his, maternal aunt, Sayyidah Maymunah (RA). She said, "I set out water for the Prophet ﷺ to have a bath (after being sexually defiled), He held the vessel in his left hand and poured water over his right hand and washed both hands. Then he dipped his hands in water and poured water on his sex organ. Then he rubbed his hands on the wall or earth. Then he rinsed his mouth, snuffed water and washed his face and both hands, and poured water over his head three times and then poured water over all his body. Then he moved a little to the side and washed his feet."

صحيح، ابن ماجة (573)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 103
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ام سلمہ، جابر، ابوسعید جبیر بن مطعم اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الغسل ١ (٢٤٩)، و ٥ (٢٥٧)، و ٧ (٢٥٩)، و ٨ (٢٦٠)، و ١٠ (٢٦٥)، و ١١ (٢٦٦)، و ١٦ (٢٧٤)، و ١٨ (٢٧٦)، و ٢١ (٢٨١)، صحیح مسلم/الحیض ٩ (٣١٧)، سنن ابی داود/ الطہارة ٩٨ (٢٤٥)، سنن النسائی/الطہارة ١٦١ (٢٥٤)، والغسل ٧ (٤٠٨)، و ١٤ (٤١٨)، و ٢٢ (٤٢٨)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٩٤ (٥٧٣)، ( تحفة الأشراف: ١٨٠٦٤)، مسند احمد (٦/٣٣٠، ٣٣٦)، سنن الدارمی/الطہارة ٣٩ (٧٣٨)، و ٦٦ (٧٧٤) (صحیح)
104Sunan At-Tirmidhi

غسل جنابت کے بارے میں

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ مِنَ الْجَنَابَةِ بَدَأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا الْإِنَاءَ، ثُمَّ غَسَلَ فَرْجَهُ وَيَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يُشَرِّبُ شَعْرَهُ الْمَاءَ، ثُمَّ يَحْثِي عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ، أَنَّهُ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يُفْرِغُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ، ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَقَالُوا: إِنِ انْغَمَسَ الْجُنُبُ فِي الْمَاءِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ أَجْزَأَهُ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب غسل جنابت کا ارادہ کرتے تو ہاتھوں کو برتن میں داخل کرنے سے پہلے دھوتے، پھر شرمگاہ دھوتے، اور اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، پھر بال پانی سے بھگوتے، پھر اپنے سر پر تین لپ پانی ڈالتے۔

Sayyidah Aisha (RA) narrated that when Allahs Messenger ﷺ decided to have the purifying bath (after sexual defilement), he began by washing both hands before immersing them in the vessel. Then he washed his private parts and made ablution as he made for salah. Then he put his fingers into the water and moved them through his hair and then poured water on his head with both hands three times.

صحيح، الإرواء (132)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 104
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اسی کو اہل علم نے غسل جنابت میں اختیار کیا ہے کہ وہ نماز کے وضو کی طرح وضو کرے، پھر اپنے سر پر تین بار پانی ڈالے، پھر اپنے پورے بدن پر پانی بہائے، پھر اپنے پاؤں دھوئے، اہل علم کا اسی پر عمل ہے، نیز ان لوگوں نے کہا کہ اگر جنبی پانی میں غوطہٰ مارے اور وضو نہ کرے تو یہ اسے کافی ہوگا۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الغسل ١ (٢٤٨)، و ٩ (٢٦٢)، و ١٥ (٢٧٢)، صحیح مسلم/الحیض ٩ (٣١٦)، سنن ابی داود/ الطہارة ٩٨ (٢٤٢)، سنن النسائی/الطہارة ١٥٦ (٢٤٨)، و ١٥٧ (٢٤٩، ٢٥٠)، والغسل ١٦ (٤٢٠)، و ١٩ (٤٢٣)، ( تحفة الأشراف: ١٦٩٣٥)، موطا امام مالک/الطہارة ١٧ (٦٧)، مسند احمد (٦/٥٢، ١٠١)، ہذا من طریق عروة عنہا، ولہ طرق عنہا، انظر: صحیح البخاری/الغسل ٦ (٢٥٨)، صحیح مسلم/الحیض ٩ (٣١٨)، و ١٠ (٣٢٠، ٣٢١)، سنن ابی داود/ الطہارة ٩٨ (٢٤٠)، سنن النسائی/الطہارة ١٥٢ (٢٤٤)، و ٢٥٣، و ١٥٤ (٢٤٦)، و ١٥٥ (٢٤٧)، والغسل ١٩ (٤٢٤)، مسند احمد (٦/١٤٣، ١٦١، ١٧٣) (صحیح)
105Sunan At-Tirmidhi

غسل جنابت کے بارے میں

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي أَفَأَنْقُضُهُ لِغُسْلِ الْجَنَابَةِ ؟ قَالَ: لَا إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تَحْثِينَ عَلَى رَأْسِكِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ مِنْ مَاءٍ، ثُمَّ تُفِيضِينَ عَلَى سَائِرِ جَسَدِكِ الْمَاءَ فَتَطْهُرِينَ أَوْ قَالَ: فَإِذَا أَنْتِ قَدْ تَطَهَّرْتِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ: أَنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا اغْتَسَلَتْ مِنَ الْجَنَابَةِ فَلَمْ تَنْقُضْ شَعْرَهَا، أَنَّ ذَلِكَ يُجْزِئُهَا بَعْدَ أَنْ تُفِيضَ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهَا.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! میں اپنے سر کی چوٹی مضبوطی سے باندھنے والی عورت ہوں۔ کیا غسل جنابت کے لیے اسے کھولا کروں؟ آپ نے فرمایا: تمہاری سر پر تین لپ پانی ڈال لینا ہی کافی ہے۔ پھر پورے بدن پر پانی بہا دو تو پاک ہوگئی، یا فرمایا: جب تم ایسا کرلے تو پاک ہوگئی۔

Umm Salamah (RA) narrated that she said, "O Messenger of Allah ﷺ I am a woman who keeps her hair closely plaited. Shall I undo it when having a bath after sexual defilement?" He said, "No. It is enough for you to pour water over your head three times. Then pour water over the whole body. Thus, you are purified."

صحيح، ابن ماجة (603)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 105
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، اہل علم کا اسی پر عمل پر ہے کہ عورت جب جنابت کا غسل کرے، اور اپنے بال نہ کھولے تو یہ اس کے لیے اس کے بعد کہ وہ اپنے سر پر پانی بہا لے کافی ہوجائے گا ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہی جمہور کا مذہب ہے کہ عورت خواہ جنابت کا غسل کر رہی ہو یا حیض سے پاکی کا: کسی میں بھی اس کے لیے بال کھولنا ضروری نہیں لیکن حسن بصری اور طاؤس نے ان دونوں میں تفریق کی ہے، یہ کہتے ہیں کہ جنابت کے غسل میں تو ضروری نہیں لیکن حیض کے غسل میں ضروری ہے، اور عائشہ ؓ کی روایت کو جس میں رسول اللہ ﷺ نے ان سے «انقضی رأسک وامتشطي» فرمایا ہے جمہور نے استحباب پر محمول کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ١٢ (٣٣٠)، سنن النسائی/الطہارة ١٥٠ (٢٤٢)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٠٨ (٦٠٣)، ( تحفة الأشراف: ١٨١٧٢)، مسند احمد (٦/٣١٥)، سنن الدارمی/الطہارة ١١٤ (١١٩٦) (صحیح)
106Sunan At-Tirmidhi

ہر بال کے نیچے جنابت ہوتی ہے

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تَحْتَ كُلِّ شَعْرَةٍ جَنَابَةٌ فَاغْسِلُوا الشَّعْرَ وَأَنْقُوا الْبَشَرَ . وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ الْحَارِثِ بْنِ وَجِيهٍ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ، وَهُوَ شَيْخٌ لَيْسَ بِذَاكَ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْأَئِمَّةِ، وَقَدْ تَفَرَّدَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ، وَيُقَالُ: الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ، وَيُقَالُ: ابْنُ وَجْبَةَ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہر بال کے نیچے جنابت کا اثر ہوتا ہے، اس لیے بالوں کو اچھی طرح دھویا کرو اور کھال کو اچھی طرح مل کر صاف کرو ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated that the Prophet ﷺ said, “There is sexual defilement under every hair, so wash the hair and cleanse your body.

ضعيف، ابن ماجة (597)، // ضعيف سنن ابن ماجة (132)، ضعيف أبي داود (46 / 248)، المشکاة (443)، الروض النضير (704)، ضعيف الجامع الصغير - بترتيبي - رقم (1847) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 106
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں علی اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- حارث بن وجیہ کی حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف انہیں کی روایت سے جانتے ہیں اور وہ قوی نہیں ہیں ١ ؎، وہ اس حدیث کو مالک بن دینار سے روایت کرنے میں منفرد ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لفظ قوی نہیں ہیں کا تعلق جرح کے مراتب کے پہلے مرتبہ سے ہے، ایسے راوی کی روایت قابل اعتبار یعنی تقویت کے قابل ہے اور اس کی تقویت کے لیے مزید روایات تلاش کی جاسکتی ہیں، ایسا نہیں کہ اس کی روایت سرے سے درخوراعتناء ہی نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ٩٨ (٢٤٨)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٠٦ (٥٩٧)، ( تحفة الأشراف: ١٤٥٠٢) (ضعیف) (سند میں حارث وجیہ ضعیف راوی ہے)