عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے دودھ پیا تو پانی منگوا کر کلی کی اور فرمایا: اس میں چکنائی ہوتی ہے ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ drank milk and then asked for water and rinsed his mouth. He said, “It is greasy”.
صحيح، ابن ماجة (498)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 89
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں سہل بن سعد ساعدی، اور ام سلمہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- بعض اہل علم کی رائے ہے کہ کلی دودھ پینے سے ہے، اور یہ حکم ہمارے نزدیک مستحب ١ ؎ ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض لوگوں نے اسے واجب کہا ہے، ان لوگوں کی دلیل یہ ہے کہ ابن ماجہ کی ایک روایت ( رقم ٤٩٨) میں «مضمضوا من اللبن» امر کے صیغے کے ساتھ آیا ہے اور امر میں اصل وجوب ہے، اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ یہ اس صورت میں ہے جب استحباب پر محمول کرنے کی کوئی دلیل موجود نہ ہو اور یہاں استحباب پر محمول کئے جانے کی دلیل موجود ہے کیونکہ ابوداؤد نے ( برقم ١٩٦) انس سے ایک روایت نقل کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے دودھ پیا تو نہ کلی کی اور نہ وضو ہی کیا، اس کی سند حسن ہے۔