Sunan At-Tirmidhi 91

طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے

91Sunan At-Tirmidhi

کتے کا جھوٹا

حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَال: سَمِعْتُ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: يُغْسَلُ الْإِنَاءُ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أُولَاهُنَّ أَوْ أُخْرَاهُنَّ بِالتُّرَابِ، وَإِذَا وَلَغَتْ فِيهِ الْهِرَّةُ غُسِلَ مَرَّةً . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا، وَلَمْ يُذْكَرْ فِيهِ إِذَا وَلَغَتْ فِيهِ الْهِرَّةُ غُسِلَ مَرَّةً. وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: برتن میں جب کتا منہ ڈال دے تو اسے سات بار دھویا جائے، پہلی بار یا آخری بار اسے مٹی سے دھویا جائے ١ ؎، اور جب بلی منہ ڈالے تو اسے ایک بار دھویا جائے ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, "When a dog laps a vessel wash it seven times, rubbing it with earth the first or the last time. If a cat puts its mouth into a vessel wash it once."

صحيح، صحيح أبي داود (64 - 66)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 91
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ ٣- ابوہریرہ ؓ کی حدیث نبی اکرم ﷺ سے کئی سندوں سے اسی طرح مروی ہے جن میں بلی کے منہ ڈالنے پر ایک بار دھونے کا ذکر نہیں کیا گیا ہے، ٣- اس باب میں عبداللہ بن مغفل ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ برتن میں کتا منہ ڈال دے تو اسے سات مرتبہ دھونا اور ایک بار مٹی سے دھونا واجب ہے یہی جمہور کا مسلک ہے، احناف تین بار دھونے سے برتن کے پاک ہونے کے قائل ہیں، ان کی دلیل دارقطنی اور طحاوی میں منقول ابوہریرہ ؓ کا فتویٰ ہے کہ اگر کتا کسی برتن میں منہ ڈال دے تو اسے تین مرتبہ دھونا چاہیئے، حالانکہ ابوہریرہ سے سات بار دھونے کا بھی فتویٰ منقول ہے اور سند کے اعتبار سے یہ پہلے فتوے سے زیادہ صحیح ہے، نیز یہ فتویٰ روایت کے موافق بھی ہے، اس لیے یہ بات درست نہیں ہے کہ صحیح حدیث کے مقابلہ میں ان کے مرجوح فتوے اور رائے کو ترجیح دی جائے، رہے وہ اعتراضات جو باب کی اس حدیث پر احناف کی طرف سے وارد کئے گئے ہیں تو ان سب کے تشفی بخش جوابات دیئے جا چکے ہیں، تفصیل کے لیے دیکھئیے ( تحفۃ الاحوذی، ج ١ ص ٩٣)۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ٣٧ (٧٢)، وانظر أیضا: صحیح البخاری/الوضوء ٣٣ (١٧٢)، صحیح مسلم/الطہارة ٢٧ (٢٧٩)، سنن ابی داود/ الطہارة ٣٧ (٧١)، سنن النسائی/الطہارة ٥١ (٦٣)، والمیاہ ٧ (٣٣٦)، و (٣٤٠)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٣١ (٣٦٣، ٣٦٤)، ( تحفة الأشراف: ١٤٥٠٩)، موطا امام مالک/الطہارة ٦ (٢٥)، مسند احمد (٢/٢٤٥، ٢٥٣، ٢٦٥، ٢٧١، ٣٦٠، ٣٩٨، ٤٢٤، ٤٢٧، ٤٤٠، ٤٨٠، ٥٠٨) (صحیح)