طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 1 · 141 hadiths · Page 4 of 8

65Sunan At-Tirmidhi

جنبی عورت کے نہائے ہوئے پانی کے بقیہ سے وضو کا جواز

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: اغْتَسَلَ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَفْنَةٍ، فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَوَضَّأَ مِنْهُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا، فَقَالَ: إِنَّ الْمَاءَ لَا يُجْنِبُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَمَالِكٍ، وَالشَّافِعِيِّ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی ایک بیوی نے ایک لگن (ٹب) سے (پانی لے کر) غسل کیا، رسول اللہ ﷺ نے اس (بچے ہوئے پانی) سے وضو کرنا چاہا، تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ناپاک تھی، آپ نے فرمایا: پانی جنبی نہیں ہوتا ١ ؎۔

Sayyidina Abbas (RA) narrated that one of the Prophets ﷺ wives (RA) bathed from a large tub. The Prophet ﷺ then intended to perform ablution from it, but she said, "O Messenger of Allah! ﷺ I was sexually defiled." He said, "Water is not polluted."

صحيح، ابن ماجة (370)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 65
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہی سفیان ثوری، مالک اور شافعی کا قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عورت کے بچے ہوئے پانی سے طہارت ( غسل اور وضو ) حاصل کرنا جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ٣٥ (٦٨) سنن النسائی/المیاہ ١ (٣٢٦) (بلفظ ” لاینجسہ شیٔ “ ٣٣ (٣٧٠، ٣٧١) (تحفة الأشراف: ٦١٠٣) مسند احمد (١/٢٤٣) سنن الدارمی/الطہارة ٥٧ (٧٦١) (صحیح)
66Sunan At-Tirmidhi

پانی کو کوئی چیز نا پاک نہیں کر تی

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، والحَسنُ بن علِيّ الْخَلالُ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ وَهِيَ بِئْرٌ يُلْقَى فِيهَا الْحِيَضُ وَلُحُومُ الْكِلَابِ وَالنَّتْنُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ، وَقَدْ جَوَّدَ أَبُو أُسَامَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، فَلَمْ يَرْوِ أَحَدٌ حَدِيثَ أَبِي سَعِيدٍ فِي بِئْرِ بُضَاعَةَ أَحْسَنَ مِمَّا رَوَى أَبُو أُسَامَةَ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَائِشَةَ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا ہم بضاعہ نامی کنویں ١ ؎ سے وضو کریں اور حال یہ ہے وہ ایک ایسا کنواں ہے جس میں حیض کے کپڑے، کتوں کے گوشت اور بدبودار چیزیں آ کر گرتی ہیں؟۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانی پاک ہے اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ٢ ؎۔

Sayyidina Abu Saeed Khudri (RA) narrated that someone asked, "O Messenger Of Allah! May we make ablution out of the well of Budaah?" This was a well into which Menstrual cloths, dead dogs, and stinking things were thrown. So, Allahs Messenger ﷺ said, Water is pure. Nothing defiles it."

صحيح، المشکاة (478)، صحيح أبي داود (59)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 66
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- بئر بضاعہ والی ابو سعید خدری کی یہ حدیث جس عمدگی کے ساتھ ابواسامہ نے روایت کی ہے کسی اور نے روایت نہیں کی ہے ٣ ؎، ٣- یہ حدیث کئی اور طریق سے ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے، ٤- اس باب میں ابن عباس اور عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بئر بضاعہ مدینہ کے ایک مشہور کنویں کا نام ہے۔ ٢ ؎: «إن الماء طهور» میں «المائ» میں جو لام ہے وہ عہد کا لام ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ سائل کے ذہن میں جس کنویں کا پانی ہے وہ نجاست گرنے سے پاک نہیں ہوگا کیونکہ اس کنویں کی چوڑائی چھ ہاتھ تھی اور اس میں ناف سے اوپر پانی رہتا تھا اور جب کم ہوتا تو ناف سے نیچے ہوجاتا، جیسا کہ امام ابوداؤد (رح) نے اپنی سنن میں اس کا ذکر کیا ہے، یہ ہے کہ جب پانی کثیر مقدار میں ہو ( یعنی دو قلہ سے زیادہ ہو ) تو محض نجاست کا گر جانا اسے ناپاک نہیں کرتا، اس کا یہ مطلب نہیں کہ مطلق پانی میں نجاست گرنے سے وہ ناپاک نہیں ہوگا، چاہے وہ کم ہو، یا چاہے اس کا مزہ اور مہک بدل جائے۔ ٣ ؎: مولف کا مقصد یہ ہے کہ یہ حدیث ابو سعید خدری ؓ سے کئی طرق سے مروی ہے ان میں سب سے بہتر طریق یہی ابواسامہ والا ہے، تمام طرق سے مل کر یہ حدیث صحیح ( لغیرہ ) کے درجہ کو پہنچ جاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ٣٤ (٦٦) سنن النسائی/المیاہ ٢ (٣٢٧، ٣٢٨) (تحفة الأشراف: ٤١٤٤) مسند احمد (٣/١٥، ١٦، ٣١، ٨٦) (صحیح) (سند میں عبید اللہ بن عبد اللہ رافع مجہول الحال ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
67Sunan At-Tirmidhi

اسی کے متعلق دوسرا

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُسْأَلُ عَنِ الْمَاءِ يَكُونُ فِي الْفَلَاةِ مِنَ الْأَرْضِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ السِّبَاعِ وَالدَّوَابِّ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلِ الْخَبَثَ . قَالَ عَبْدَةُ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق: الْقُلَّةُ هِيَ: الْجِرَارُ، وَالْقُلَّةُ الَّتِي يُسْتَقَى فِيهَا. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، قَالُوا: إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يُنَجِّسْهُ شَيْءٌ مَا لَمْ يَتَغَيَّرْ رِيحُهُ أَوْ طَعْمُهُ، وَقَالُوا: يَكُونُ نَحْوًا مِنْ خَمْسِ قِرَبٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ سے اس پانی کے بارے میں پوچھا جا رہا تھا جو میدان میں ہوتا ہے اور جس پر درندے اور چوپائے آتے جاتے ہیں، تو آپ نے فرمایا: جب پانی دو قلہ ١ ؎ ہو تو وہ گندگی کو اثر انداز ہونے نہیں دے گا، اسے دفع کر دے گا ٢ ؎۔ محمد بن اسحاق کہتے ہیں: قلہ سے مراد گھڑے ہیں اور قلہ وہ (ڈول) بھی ہے جس سے کھیتوں اور باغات کی سینچائی کی جاتی ہے۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated that the Prophet ﷺ was asked about water in the desert lands at which birds and wild beasts come frequently. He said, "If the water is as much as will fill two pitchers then it bears no impurity."

صحيح، ابن ماجة (517)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 67
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہی قول شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جب پانی دو قلہ ہو تو اسے کوئی چیز نجس نہیں کرسکتی جب تک کہ اس کی بویا مزہ بدل نہ جائے، اور ان لوگوں کا کہنا ہے کہ دو قلہ پانچ مشک کے قریب ہوتا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: قلّہ کے معنی مٹکے کے ہیں، یہاں مراد قبیلہ ہجر کے مٹکے ہیں، کیونکہ عرب میں یہی مٹکے مشہور و معروف تھے، اس مٹکے میں ڈھائی سو رطل پانی سمانے کی گنجائش ہوتی تھی، لہٰذا دو قلوں کے پانی کی مقدار پانچ سو رطل ہوئی جو موجودہ زمانہ کے پیمانے کے مطابق دو کو ئنٹل ستائیس کلو گرام ہوتی ہے۔ ٢ ؎: کچھ لوگوں نے «لم يحمل الخبث» کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ نجاست اٹھانے سے عاجز ہوگا یعنی نجس ہوجائے گا، لیکن یہ ترجمہ دو اسباب کی وجہ سے صحیح نہیں، ایک یہ کہ ابوداؤد کی ایک صحیح روایت میں «اذابلغ الماء قلتین فإنہ لاینجس» ہے، یعنی: اگر پانی اس مقدار سے کم ہو تو نجاست گرنے سے ناپاک ہوجائے گا، چاہے رنگ مزہ اور بو نہ بدلے، اور اگر اس مقدار سے زیادہ ہو تو نجاست گرنے سے ناپاک نہیں ہوگا، الا یہ کہ اس کا رنگ، مزہ، اور بو بدل جائے، لہٰذا یہ روایت اسی پر محمول ہوگی اور «لم يحمل الخبث» کے معنی «لم ينجس» کے ہوں گے، دوسری یہ کہ «قلتين» دو قلے سے نبی اکرم ﷺ نے پانی کی تحدید فرما دی ہے اور یہ معنی لینے کی صورت میں تحدید باطل ہوجائے گی کیونکہ قلتین سے کم اور قلتین دونوں ایک ہی حکم میں آ جائیں گے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ٣٣ (٦٣)، سنن النسائی/الطہارة ٤٤ (٥٢)، والمیاہ ٢ (٣٢٩)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٧٥ (٥١٧، ٥١٨) (تحفة الأشراف: ٧٣٠٥)، مسند احمد (١/١٢، ٢٦، ٣٨، ١٠٧)، سنن الدارمی/الطہارة ٥٥ (٧٥٨) (صحیح)
68Sunan At-Tirmidhi

رکے ہوئے پانی میں پیشاب کرنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ مِنْهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی ٹھہرے ہوئے پانی ١ ؎ میں پیشاب نہ کرے پھر اس سے وضو کرے ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated that the Prophet ﷺ said,"None of you must pass urine in motionless water from which he will make ablution."

صحيح، ابن ماجة (344)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 68
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں جابر ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ٹھہرے ہوئے پانی سے مراد ایسا پانی ہے جو دریا کی طرح جاری نہ ہو جیسے حوض اور تالاب وغیرہ کا پانی، ان میں پیشاب کرنا منع ہے تو پاخانہ کرنا بطریق اولیٰ منع ہوگا، یہ پانی کم ہو یا زیادہ اس میں نجاست ڈالنے سے بچنا چاہیئے تاکہ اس میں مزید بدبو نہ ہو، ٹھہرے ہوئے پانی میں ویسے بھی سرانڈ پیدا ہوجاتی ہے، اگر اس میں نجاست ( گندگی ) ڈال دی جائے تو اس کی سڑاند بڑھ جائے گی اور اس سے اس کے آس پاس کے لوگوں کو تکلیف پہنچے گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٦٨ (٢٣٩)، صحیح مسلم/الطہارة ٢٨ (٢٨٢)، سنن ابی داود/ الطہارة ٣٦ (٦٩)، سنن النسائی/الطہارة ٤٧ (٥٨)، و ١٣٩ (٢٢١)، و ١٤٠ (٢٢٢)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٢٥ (٣٤٣)، ( تحفة الأشراف: ١٤٧٢٢)، مسند احمد (٢/٣١٦، ٣٦٢، ٣٦٤)، سنن الدارمی/ الطہارة ٥٤ (٧٥٧) (صحیح)
69Sunan At-Tirmidhi

دریا کا پانی پاک ہونا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ. ح وحَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ إِسْحَاق بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ مِنْ آلِ ابْنِ الْأَزْرَقِ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ وَهُوَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ، فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا، أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ . قال: وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ، وَالْفِرَاسِيِّ. قال أبو عيسى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَابْنُ عَبَّاسٍ لَمْ يَرَوْا بَأْسًا بِمَاءِ الْبَحْرِ، وَقَدْ كَرِهَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوُضُوءَ بِمَاءِ الْبَحْرِ، مِنْهُمْ ابْنُ عُمَرَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: هُوَ نَارٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سمندر کا سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا پانی لے جاتے ہیں، اگر ہم اس سے وضو کرلیں تو پیاسے رہ جائیں گے، تو کیا ایسی صورت میں ہم سمندر کے پانی سے وضو کرسکتے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سمندر کا پانی پاک ١ ؎ ہے، اور اس کا مردار حلال ہے ٢ ؎۔

Safwan inb Sulaym reported on the authority of Sa’eed ibn Salamah of the descendants of ibn al Azraq that Mughirah ibn Abu burdah Abdad Dar informed him that he heard Sayyidina Abu Hurraira say that a man said to Allah’s messenger ﷺ , “ O then we would go thirsty. May we make ablution with sea water?” He said ,” Its water is pure and its dead are lawful food”

صحيح، ابن ماجة (386 - 388)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 69
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں جابر بن عبداللہ اور فراسی ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- اور یہی صحابہ کرام ؓ میں سے اکثر فقہاء کا قول ہے جن میں ابوبکر، عمر اور ابن عباس بھی ہیں کہ سمندر کے پانی سے وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں، بعض صحابہ کرام نے سمندر کے پانی سے وضو کو مکروہ جانا ہے، انہیں میں ابن عمر اور عبداللہ بن عمرو ہیں عبداللہ بن عمرو کا کہنا ہے کہ سمندر کا پانی آگ ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی «طاہر» (پاک ) اور «مطہر» (پاک کرنے والا ) دونوں ہے۔ ٢ ؎: سمندر کے مردار سے مراد وہ سمندری اور دریائی جانور ہے جو صرف پانی ہی میں زندہ رہتا ہو، نیز مردار کا لفظ عام ہے ہر طرح کے جانور جو پانی میں رہتے ہوں خواہ وہ کتے اور خنزیر کے شکل کے ہی کے کیوں نہ ہوں، بعض علماء نے کہا ہے کہ اس سے مراد صرف مچھلی ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: دو مردے حلال ہیں: مچھلی اور ٹڈی، اور بعض علماء کہتے ہیں کہ خشکی میں جس حیوان کے نظیر و مثال جانور کھائے جاتے وہی سمندری مردار حلال ہے، لیکن تحقیقی بات یہ ہے کہ سمندر کا ہر وہ جانور ( زندہ یا مردہ ) حلال ہے جو انسانی صحت کے لیے عمومی طور پر نقصان دہ نہ ہو، اور نہ ہی خبیث قسم کا ہو جیسے کچھوا، اور کیکڑا وغیرہ، یہ دونوں اصول ضابطہٰ سمندری غیر سمندری ہر طرح کے جانور کے لیے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ٤١ (٨٣) سنن النسائی/الطہارة ٤٧ (٥٩) والمیاہ ٥ (٣٣٣) والصید ٣٥ (٤٣٥٥) سنن ابن ماجہ/الطہارة ٣٩ (٣٨٦) (تحفة الأشراف: ١٤٦١٨) موطا امام مالک/الطہارة ٣ (١٢) مسند احمد (٢/٢٣٧، ٣٦١، ٣٧٨) سنن الدارمی/الطہارة ٥٣ (٧٥٦) (صحیح)
70Sunan At-Tirmidhi

پیشاب سے بہت زیادہ احتیاط کرنا

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَقُتَيْبَةُ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَال: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى قَبْرَيْنِ، فَقَالَ: إِنَّهُمَا يُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ: أَمَّا هَذَا فَكَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ، وَأَمَّا هَذَا فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي مُوسَى، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنَةَ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَأَبِي بَكْرَةَ. قال أبو عيسى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرَوَى مَنْصُورٌ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ طَاوُسٍ، وَرِوَايَةُ الْأَعْمَشِ أَصَحُّ، قَالَ: وسَمِعْت أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبَانَ الْبَلْخِيَّ مُسْتَمْلِي وَكِيعٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ وَكِيعًا، يَقُولُ: الْأَعْمَشُ أَحْفَظُ لِإِسْنَادِ إِبْرَاهِيمَ مِنْ مَنْصُورٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کا گزر دو قبروں کے پاس سے ہوا تو آپ نے فرمایا: یہ دونوں قبر والے عذاب دیئے جا رہے ہیں، اور کسی بڑی چیز میں عذاب نہیں دیئے جا رہے (کہ جس سے بچنا مشکل ہوتا) رہا یہ تو یہ اپنے پیشاب سے بچتا نہیں تھا ١ ؎ اور رہا یہ تو یہ چغلی کیا کرتا تھا ٢ ؎۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ passed by two graves. He said, “Both of them are punished, but not for a great sin. This one, here, was not careful to avoid drops of urine defiling him. And this other went about slandering people.”

صحيح، ابن ماجة (347)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 70
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ، ابوموسیٰ، عبدالرحمٰن بن حسنہ، زید بن ثابت، اور ابوبکرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی پیشاب کرتے وقت احتیاط نہیں کرتا تھا، پیشاب کے چھینٹے اس کے بدن یا کپڑوں پر پڑجایا کرتے تھے، جو قبر میں عذاب کا سبب بنے، اس لیے اس کی احتیاط کرنی چاہیئے، اور یہ کوئی بہت بڑی اور مشکل بات نہیں۔ ٢ ؎: چغلی خود گرچہ بڑا گناہ ہے مگر اس سے بچنا کوئی مشکل بات نہیں، اس لحاظ سے فرمایا کہ کسی بڑی چیز میں عذاب نہیں دیئے جا رہے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٥٥ (٢١٦) و ٥٦ (٢١٨) والجنائز ٩١ (١٣٦١) و ٨٨ (١٣٧٨) والأدب ٤٦ (٦٠٥٢) و ٤٩ (٦٠٥٥) صحیح مسلم/الطہارة ٣٤ (٢٩٢) سنن ابی داود/ الطہارة ١١ (٢٠) سنن النسائی/الطہارة ٢٧ (٣١) والجنائز ١١٦ (٢٠٧٠) سنن ابن ماجہ/الطہارة ٢٦ (٣٤٧) (تحفة الأشراف: ٥٧٤٧) مسند احمد (١/٢٢٥) سنن الدارمی/ الطہارة ٦١ (٧٦٦) (صحیح)
71Sunan At-Tirmidhi

شیر خوار بچہ جب تک کھانا نہ کھائے اس کے پیشاب پر پانی چھڑکنا کافی ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، قَالَتْ: دَخَلْتُ بِابْنٍ لِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ، فَبَالَ عَلَيْهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَرَشَّهُ عَلَيْهِ . قال: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَعَائِشَةَ، وَزَيْنَبَ، وَلُبَابَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ وَهِيَ أُمُّ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَأَبِي السَّمْحِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَأَبِي لَيْلَى، وَابْنِ عَبَّاسٍ. قال أبو عيسى: وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ، مِثْلِ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، قَالُوا: يُنْضَحُ بَوْلُ الْغُلَامِ وَيُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ، وَهَذَا مَا لَمْ يَطْعَمَا، فَإِذَا طَعِمَا غُسِلَا جَمِيعًا.

ام قیس بنت محصن ؓ کہتی ہیں کہ میں اپنے بچے کو لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی، وہ ابھی تک کھانا نہیں کھاتا تھا ١ ؎، اس نے آپ پر پیشاب کردیا تو آپ نے پانی منگوایا اور اسے اس پر چھڑک لیا۔

Sayyidah Umm Qays bint Mihsan (RA) said that she took her young son who was not yet weaned to Allah’s messenger ﷺ . He passed urine on the Prophet’s garment, so he called for water and sprinkled it (on his garment).

صحيح، ابن ماجة (524)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 71
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں علی، عائشہ، زینب، فضل بن عباس کی والدہ لبابہ بنت حارث، ابوالسمح، عبداللہ بن عمرو، ابولیلیٰ اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- صحابہ کرام، تابعین عظام اور ان کے بعد کے لوگوں کا یہی قول ہے کہ بچے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جائے اور بچی کا پیشاب دھویا جائے، اور یہ حکم اس وقت تک ہے جب تک کہ وہ دونوں کھانا نہ کھانے لگ جائیں، اور جب وہ کھانا کھانے لگ جائیں تو بالاتفاق دونوں کا پیشاب دھویا جائے گا۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کی غذا صرف دودھ تھی، ابھی اس نے کھانا شروع نہیں کیا تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٥٩ (٢٢٣)، والطب ١٠ (٥٦٩٣)، صحیح مسلم/الطہارة ٣٤ (٢٨٧)، سنن ابی داود/ الطہارة ١٣٧ (٣٧٤)، سنن النسائی/الطہارة ١٨٩ (٣٠٣)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٧٧ (٥٢٤)، ( تحفة الأشراف: ١٨٣٤٢) موطا امام مالک/٣٠ (١١٠)، مسند احمد (٦/٣٥٥، ٣٥٦)، سنن الدارمی/الطہارة ٦٢ (٧٦٧) (صحیح)
72Sunan At-Tirmidhi

جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کے پیشاب

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، وَقَتَادَةُ، وَثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَاسًا مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَاجْتَوَوْهَا، فَبَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ، وَقَالَ: اشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا ، فَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ وَارْتَدُّوا عَنْ الْإِسْلَامِ، فَأُتِيَ بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ مِنْ خِلَافٍ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ وَأَلْقَاهُمْ بِالْحَرَّةِ. قَالَ أَنَسٌ: فَكُنْتُ أَرَى أَحَدَهُمْ يَكُدُّ الْأَرْضَ بِفِيهِ حَتَّى مَاتُوا، وَرُبَّمَا قَالَ حَمَّادٌ: يَكْدُمُ الْأَرْضَ بِفِيهِ حَتَّى مَاتُوا. قال أبو عيسى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ، وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالُوا: لَا بَأْسَ بِبَوْلِ مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مدینہ آئے، انہیں مدینہ کی آب و ہوا راس نہ آئی، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں زکاۃ کے اونٹوں میں بھیج دیا اور فرمایا: تم ان کے دودھ اور پیشاب پیو (وہ وہاں گئے اور کھا پی کر موٹے ہوگئے) تو ان لوگوں نے آپ ﷺ کے چرواہے کو مار ڈالا، اونٹوں کو ہانک لے گئے، اور اسلام سے مرتد ہوگئے، انہیں (پکڑ کر) نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا، آپ نے ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دیئے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دیں اور گرم تپتی ہوئی زمین میں انہیں پھینک دیا۔ انس ؓ کہتے ہیں: میں نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا تھا کہ (وہ پیاس بجھانے کے لیے) اپنے منہ سے زمین چاٹ رہا تھا یہاں تک کہ وہ اسی حالت میں مرگئے۔

Sayyidina Anas (RA) reported that some people of Uraynah came to MadiMadinah did not suit them. So, the Prophet ﷺ sent them to the shed of the camels of zakah saying, "Drink their milk and urine." But, they killed the Prophets ﷺ camel-grazer and took the camels away, and apostatised from Islam. When they presented to the Prophet ﷺ he ordered that their hands and feet on the opposite must be severed, and hot iron rods must be rubbed in their eyes.They were then consigned to Harrah.

صحيح، الإرواء (177)، الروض النضير (43)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 72
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور کئی سندوں سے انس سے مروی ہے، ٢- اکثر اہل علم کا یہی قول ہے کہ جس جانور کا گوشت کھایا جاتا ہو اس کے پیشاب میں کوئی حرج نہیں ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کا پیشاب نجس نہیں ضرورت پر علاج میں اس کا استعمال جائز ہے، اور یہی محققین محدثین کا قول ہے، ناپاکی کے قائلین کے دلائل محض قیاسات ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٦٦ (٢٣٣)، والزکاة ٦٨ (١٥٠١)، والجہاد ١٥٢ (٣٠١٨)، والمغازی ٣٦ (٤٩٢)، وتفسیر المائدة ٥ (٤٦١٠)، والطب ٥ (٥٦٨٥)، و ٦ (٥٦٨٦)، و ٢٩ (٥٧٢٧)، والحدود ١٥ (٦٨٠٢)، و ١٧ (٦٨٠٤)، و ١٨ (٦٨٠٥)، والدیات ٢٢ (٦٨٩٩)، صحیح مسلم/القسامة ١٣ (١٦٧١)، سنن ابی داود/ الحدود ٣ (٤٣٦٧، وأیضا ٣٦٤)، سنن النسائی/الطہارة ١٩١ (٣٠٥)، والمحاربة ٧ (٤٠٢٩، ٤٠٣٢)، و ٨ (٤٠٣٣ - ٤٠٤٠)، و ٩ (٤٠٤٨)، سنن ابن ماجہ/الطب ٣٠ (٣٥٠٣) (تحفة الأشراف: ٣١٧)، مسند احمد (٣/١٠٧، ١٦١، ١٦٣، ١٧٠، ١٧٧، ١٩٨، ٢٠٥، ٢٣٣، ٢٨٧، ٢٩٠، ویأتی عند المؤلف برقم: ١٨٤٥ و ٢٠٤٢ (صحیح)
73Sunan At-Tirmidhi

جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کے پیشاب

حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الْأَعْرَجُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْتَّيْمِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: إِنَّمَا سَمَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْيُنَهُمْ، لِأَنَّهُمْ سَمَلُوا أَعْيُنَ الرُّعَاةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْلَمُ أَحَدًا ذَكَرَهُ غَيْرَ هَذَا الشَّيْخِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، وَهُوَ مَعْنَى قَوْلِهِ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ سورة المائدة آية 45، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: إِنَّمَا فَعَلَ بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا، قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الْحُدُودُ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کی آنکھوں میں سلائیاں اس لیے پھیریں کہ ان لوگوں نے بھی چرواہوں کی آنکھوں میں سلائیاں پھیری تھیں۔

Anas (RA) said that the Prophet ﷺ gouged out their eyes because they had gouged out the eyes of the camelherd.

صحيح، الإرواء (177)، الروض النضير (43)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 73
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- اور اللہ تعالیٰ کے فرمان «والجروح قصاص» کا یہی مفہوم ہے، محمد بن سیرین سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کے ساتھ یہ معاملہ حدود (سزاؤں) کے نازل ہونے سے پہلے کیا تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/القسامة ٥ (الحدود) ٢ (١٤/١٦٧١) سنن النسائی/المحاربة ٩ (٤٠٤٨) (تحفة الأشراف: ٨٧٥) (صحیح)
74Sunan At-Tirmidhi

ہوا کے خارج ہونے سے وضو کا ٹوٹ جانا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَهَنَّادٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا وُضُوءَ إِلَّا مِنْ صَوْتٍ أَوْ رِيحٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وضو واجب نہیں جب تک آواز نہ ہو یا بو نہ آئے ١ ؎۔

Sayyidina Abu hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said , “It is not necessary to make ablution till one makes a sound or one breaks wind”

صحيح، ابن ماجة (515)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 74
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ شک کی وجہ سے کہ ہوا خارج ہوئی یا نہیں وضو نہیں ٹوٹتا، اور اس سے ایک اہم اصول کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے کہ ہر چیز اپنے حکم پر قائم رہتی ہے جب تک اس کے خلاف کوئی بات یقین و وثوق سے ثابت نہ ہوجائے، محض شبہ سے حکم نہیں بدلتا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطہارة ٧٤ (٥١٥) (تحفة الأشراف: ١٢٦٨٣) مسند احمد (٢/٤١٠، ٤٣٥، ٤٧١) (صحیح)
75Sunan At-Tirmidhi

ہوا کے خارج ہونے سے وضو کا ٹوٹ جانا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الْمَسْجِدِ فَوَجَدَ رِيحًا بَيْنَ أَلْيَتَيْهِ فَلَا يَخْرُجْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا .

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں ہو اور وہ اپنی سرین سے ہوا نکلنے کا شبہ پائے تو وہ (مسجد سے) نہ نکلے جب تک کہ وہ ہوا کے خارج ہونے کی آواز نہ سن لے، یا بغیر آواز کے پیٹ سے خارج ہونے والی ہوا کی بو نہ محسوس کرلے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said , “ When one of you is in the mosque and has doubts that he has broken wind then he must not go out till he has heard a sound or perceives a smell”

صحيح، صحيح أبي داود (169)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 75
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عبداللہ بن زید، علی بن طلق، عائشہ، ابن عباس، ابن مسعود اور ابو سعید خدری سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور یہی علماء کا قول ہے کہ وضو «حدث» ہی سے واجب ہوتا ہے کہ وہ «حدث» کی آواز سن لے یا بو محسوس کرلے، عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ جب «حدث» میں شک ہو تو وضو واجب نہیں ہوتا، جب تک کہ ایسا یقین نہ ہوجائے کہ اس پر قسم کھا سکے، نیز کہتے ہیں کہ جب عورت کی اگلی شرمگاہ سے ہوا خارج ہو تو اس پر وضو واجب ہوجاتا ہے، یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مقصود یہ ہے کہ انسان کو ہوا خارج ہونے کا یقین ہوجائے خواہ ان دونوں ذرائع سے یا کسی اور ذریعہ سے، ان دونوں کا خصوصیت کے ساتھ ذکر محض اس لیے کیا گیا ہے کہ اس باب میں عام طور سے یہی دو ذریعے ہیں جن سے اس کا یقین ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٢٦ (٣٦٢)، سنن ابی داود/ الطہارة ٦٨ (١٧٠)، ( تحفة الأشراف: ١٢٧١٨)، مسند احمد (٢/٣٠، ٤١٤) سنن الدارمی/الطہارة ٤٧ (٧٤٨) (صحیح)
76Sunan At-Tirmidhi

ہوا کے خارج ہونے سے وضو کا ٹوٹ جانا

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ صَلَاةَ أَحَدِكُمْ إِذَا أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ. قال: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، وَعَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ، وَعَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ الْعُلَمَاءِ أَنْ لَا يَجِبَ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ، إِلَّا مِنْ حَدَثٍ يَسْمَعُ صَوْتًا أَوْ يَجِدُ رِيحًا، وقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ: إِذَا شَكَّ فِي الْحَدَثِ، فَإِنَّهُ لَا يَجِبُ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ حَتَّى يَسْتَيْقِنَ اسْتِيقَانًا يَقْدِرُ أَنْ يَحْلِفَ عَلَيْهِ، وَقَالَ: إِذَا خَرَجَ مِنْ قُبُلِ الْمَرْأَةِ الرِّيحُ وَجَبَ عَلَيْهَا الْوُضُوءُ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَإِسْحَاق.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں کسی کو «حدث» ہوجائے (یعنی اس کا وضو ٹوٹ جائے) ١ ؎ تو اللہ اس کی نماز قبول نہیں کرتا جب تک کہ وہ وضو نہ کرلے ۔

Sayyidina Abu hurayrah (RA) reported Allah’s Messenger ﷺ as saying , “If one of you has nullified his ablution then Allah does not accept his salah till he performs ablution”

صحيح، صحيح أبي داود (54)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 76
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اسی جملہ میں باب سے مطابقت ہے، یعنی: ہوا کے خارج ہونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٢ (١٣٥)، والحیل ٢ (٦٩٥٤)، صحیح مسلم/الطہارة ٢ (٢٢٥)، سنن ابی داود/ الطہارة ٣١ (تحفة الأشراف: ١٤٦٩٤)، مسند احمد (٢/٣١٨) (صحیح)
77Sunan At-Tirmidhi

نیند کے بعد وضو

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى كُوفِيٌّ، وَهَنَّادٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ الْمَعْنَى وَاحِدٌ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ الْمُلَائِيُّ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ وَهُوَ سَاجِدٌ حَتَّى غَطَّ أَوْ نَفَخَ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ قَدْ نِمْتَ، قَالَ: إِنَّ الْوُضُوءَ لَا يَجِبُ إِلَّا عَلَى مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا، فَإِنَّهُ إِذَا اضْطَجَعَ اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَأَبُو خَالِدٍ اسْمُهُ: يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ سجدے کی حالت میں سو گئے یہاں تک کہ آپ خرانٹے لینے لگے، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ تو سو گئے تھے؟ آپ نے فرمایا: وضو صرف اس پر واجب ہوتا ہے جو چت لیٹ کر سوئے اس لیے کہ جب آدمی لیٹ جاتا ہے تو اس کے جوڑ ڈھیلے ہوجاتے ہیں ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated that he observed the Prophet ﷺ sleeping while he was in prostration. He was snoring or taking long breaths. Then he stood up continued to offer salah. He said, "O Messenger of Allah! ﷺ ! You had gone to sleep.He replied "Ablution is wajib for one who sleeps lying down because his joints are relaxed when he lies down."

ضعيف، ضعيف أبي داود (25)، المشکاة (318)، // ضعيف الجامع (1808) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 77
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس باب میں عائشہ، ابن مسعود، اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: چت لیٹنے کی صورت میں ہوا کے خارج ہونے کا شک بڑھ جاتا ہے جب کہ ہلکی نیند میں ایسا نہیں ہوتا، یہ حدیث اگرچہ سند کے اعتبار سے ضعیف ہے، مگر اس کے لیٹ کر سونے سے وضو ٹوٹ جانے والے ٹکڑے کی تائید دیگر روایات سے ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ٨٠ (٢٠٢)، ( تحفة الأشراف: ٥٤٢٥)، مسند احمد (١/٢٤٥، ٣٤٣) (ضعیف) (ابو خالد یزید بن عبدالرحمن دارمی دالانی مدلس ہیں، انہیں بہت زیادہ وہم ہوجایا کرتا تھا، شعبہ کہتے ہیں کہ قتادہ نے یہ حدیث ابو العالیہ سے نہیں سنی ہے یعنی اس میں انقطاع بھی ہے)
78Sunan At-Tirmidhi

نیند کے بعد وضو

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُونَ، ثُمَّ يَقُومُونَ فَيُصَلُّونَ وَلَا يَتَوَضَّئُونَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: وسَمِعْت صَالِحَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُبَارَكِ عَمَّنْ نَامَ قَاعِدًا مُعْتَمِدًا، فَقَالَ: لَا وُضُوءَ عَلَيْهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رَوَى حَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ أَبَا الْعَالِيَةِ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَاخْتَلَفَ الْعُلَمَاءُ فِي الْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ، فَرَأَى أَكْثَرُهُمْ أَنْ لَا يَجِبَ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ إِذَا نَامَ قَاعِدًا أَوْ قَائِمًا، حَتَّى يَنَامَ مُضْطَجِعًا، وَبِهِ يَقُولُ الثَّوْرِيُّ، وَابْنُ الْمُبَارَكِ، وَأَحْمَدُ، قَالَ: وَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِذَا نَامَ حَتَّى غُلِبَ عَلَى عَقْلِهِ وَجَبَ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ، وَبِهِ يَقُولُ إِسْحَاق، وقَالَ الشَّافِعِيُّ: مَنْ نَامَ قَاعِدًا فَرَأَى رُؤْيَا أَوْ زَالَتْ مَقْعَدَتُهُ لِوَسَنِ النَّوْمِ، فَعَلَيْهِ الْوُضُوءُ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام ؓ (بیٹھے بیٹھے) سو جاتے، پھر اٹھ کر نماز پڑھتے اور وضو نہیں کرتے تھے۔

Sayyidina Anas ibn Malik (RA) said that the sahabah of Allahs Messenger ﷺ slept, then got up and offered salah without making ablution.

صحيح، الإرواء (114)، صحيح أبي داود (194)، المشکاة (317)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 78
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- میں نے صالح بن عبداللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے عبداللہ ابن مبارک سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا جو بیٹھے بیٹھے سو جائے تو انہوں نے کہا کہ اس پر وضو نہیں، ٣- ابن عباس والی حدیث کو سعید بن ابی عروبہ نے بسند «قتادہ عن ابن عباس» (موقوفاً ) روایت کیا ہے اور اس میں ابولعالیہ کا ذکر نہیں کیا ہے، ٤- نیند سے وضو کے سلسلہ میں علماء کا اختلاف ہے، اکثر اہل علم کی رائے یہی ہے کہ کوئی کھڑے کھڑے سو جائے تو اس پر وضو نہیں جب تک کہ وہ لیٹ کر نہ سوئے، یہی سفیان ثوری، ابن مبارک اور احمد کہتے ہیں، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ جب نیند اس قدر گہری ہو کہ عقل پر غالب آ جائے تو اس پر وضو واجب ہے اور یہی اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں، شافعی کا کہنا ہے کہ جو شخص بیٹھے بیٹھے سوئے اور خواب دیکھنے لگ جائے، یا نیند کے غلبہ سے اس کی سرین اپنی جگہ سے ہٹ جائے تو اس پر وضو واجب ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ان تینوں میں راجح پہلا مذہب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٣٣ (١٢٣/٣٧٦)، سنن ابی داود/ الطہارة ٨٠ (٢٠٠)، ( تحفة الأشراف: ١٢٧١)، مسند احمد (٣/٢٧٧ (صحیح)
79Sunan At-Tirmidhi

آگ سے پکی چیز کھانے سے وضو

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْوُضُوءُ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ وَلَوْ مِنْ ثَوْرِ أَقِطٍ ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَنَتَوَضَّأُ مِنَ الدُّهْنِ أَنَتَوَضَّأُ مِنَ الْحَمِيمِ ؟ قَالَ: فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: يَا ابْنَ أَخِي إِذَا سَمِعْتَ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا تَضْرِبْ لَهُ مَثَلًا. قال: وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، وأُمِّ سَلَمَةَ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَأَبِي طَلْحَةَ، وَأَبِي أَيُّوبَ، وَأَبِي مُوسَى. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْوُضُوءَ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ، وَأَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ، وَمَنْ بَعْدَهُمْ عَلَى تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو ہے اگرچہ وہ پنیر کا کوئی ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو ، اس پر ابن عباس نے ان سے کہا: ابوہریرہ ؓ (بتائیے) کیا ہم گھی اور گرم پانی (کے استعمال) سے بھی وضو کریں؟ تو ابوہریرہ ؓ نے کہا: بھتیجے! تم جب رسول اللہ ﷺ کی کوئی حدیث سنو تو اس پر (عمل کرو) باتیں نہ بناؤ۔ (اور مثالیں بیان کر کے قیاس نہ کرو) ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said, ablution becomes wajib on eating something cooked on fire, even a piece of qurut." Sayyidina lbn Abbas (RA) asked Sayyidina Abu Hurairah (RA), "Shall we make ablution after consuming oil and using hot water?" So, he said, "Nephew! When you hear a hadith of the Prophet ﷺ (RAW) do not cite example for that."

حسن، ابن ماجة (485)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 79
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں ام حبیبہ، ام سلمہ، زید بن ثابت، ابوطلحہ، ابوایوب انصاری اور ابوموسیٰ اشعری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- بعض اہل علم کی رائے ہے کہ آگ سے پکی ہوئی چیز سے وضو ہے، لیکن صحابہ، تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا مذہب ہے کہ اس سے وضو نہیں، (دلیل اگلی حدیث ہے) ۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطہارة ٦٥ (٤٨٥) (تحفة الأشراف: ١٥٠٣٠) مسند احمد (٢/٢٦٥، ٢٧١، ٤٥٨، ٤٧٠، ٤٧٩، ٥٠٢) (حسن)
80Sunan At-Tirmidhi

آگ سے پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، سَمِعَ جَابِرًا، قَالَ سُفْيَانُ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ، فَدَخَلَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَذَبَحَتْ لَهُ شَاةً، فَأَكَلَ وَأَتَتْهُ بِقِنَاعٍ مِنْ رُطَبٍ، فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ تَوَضَّأَ لِلظُّهْرِ وَصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ، فَأَتَتْهُ بِعُلَالَةٍ مِنْ عُلَالَةِ الشَّاةِ، فَأَكَلَ ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ . قال: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي هُرَيرَةَ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي رَافِعٍ، وَأُمِّ الْحَكَمِ، وَعَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، وَأُمِّ عَامِرٍ، وَسُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ، وَأُمِّ سَلَمَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَلَا يَصِحُّ حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ فِي هَذَا الْبَابِ مِنْ قِبَلِ إِسْنَادِهِ، إِنَّمَا رَوَاهُ حُسَامُ بْنُ مِصَكٍّ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّحِيحُ، إِنَّمَا هُوَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، هَكَذَا رَوَاهُ الْحُفَّاظُ، وَرُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَاهُ عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، وَعِكْرِمَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، وَهَذَا أَصَحُّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ، مِثْلِ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق رَأَوْا تَرْكَ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ، وَهَذَا آخِرُ الْأَمْرَيْنِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَأَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ نَاسِخٌ لِلْحَدِيثِ الْأَوَّلِ حَدِيثِ الْوُضُوءِ، مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (مدینہ میں) نکلے، میں آپ کے ساتھ تھا، آپ ایک انصاری عورت کے پاس آئے، اس نے آپ کے لیے ایک بکری ذبح کی آپ نے (اسے) تناول فرمایا، وہ تر کھجوروں کا ایک طبق بھی لے کر آئی تو آپ نے اس میں سے بھی کھایا، پھر ظہر کے لیے وضو کیا اور ظہر کی نماز پڑھی، آپ نے واپس پلٹنے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ وہ بکری کے بچے ہوئے گوشت میں سے کچھ گوشت لے کر آئی تو آپ نے (اسے بھی) کھایا، پھر آپ نے عصر کی نماز پڑھی اور (دوبارہ) وضو نہیں کیا۔

Sayyidina Jabir (RA) said that he was with Allahs Messenger ﷺ once. He visited an Ansar woman who slaughtered for him a goat and he ate it. Then she brought a plate of dates from which he ate. He performed ablution for the salah of Dhuhr and prayed it. He returned and she again brought the remaining meat. He ate of it. Then he offered the salah of asr but did not perform ablution.

حسن صحيح، صحيح أبي داود (185)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 80
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں ابوبکر صدیق، ابن عباس، ابوہریرہ، ابن مسعود، ابورافع، ام الحکم، عمرو بن امیہ، ام عامر، سوید بن نعمان اور ام سلمہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ابوبکر کی وہ حدیث جسے ابن عباس نے ان سے روایت کیا ہے سنداً ضعیف ہے ابن عباس کی مرفوعاً حدیث زیادہ صحیح ہے اور حفاظ نے ایسے ہی روایت کیا ہے۔ ٢- صحابہ کرام تابعین عظام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم مثلاً سفیان ثوری ابن مبارک شافعی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا اسی پر عمل ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو واجب نہیں، اور یہی رسول اللہ ﷺ کا آخری فعل ہے، گویا یہ حدیث پہلی حدیث کی ناسخ ہے جس میں ہے کہ آگ کی پکی ہوئی چیز سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: سوائے اونٹ کے گوشت کے، جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے، اونٹ کے گوشت میں ایک خاص قسم کی بو اور چکناہٹ ہوتی ہے، جس کی وجہ سے ناقض وضو کہا گیا ہے، اس سلسلے میں وارد وضو کو صرف ہاتھ منہ دھو لینے کے معنی میں لینا شرعی الفاظ کو خواہ مخواہ اپنے حقیقی معنی سے ہٹانا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٢٣٦٨) وانظر مسند احمد (٣/١٢٥، ٢٦٩) (حسن صحیح)
81Sunan At-Tirmidhi

اونٹ کا گوشت کھانے پر وضو

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ، فَقَالَ: تَوَضَّئُوا مِنْهَا ، وَسُئِلَ عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ، فَقَالَ: لَا تَتَوَضَّئُوا مِنْهَا . قال: وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، وَأُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رَوَى الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَرَوَى عُبَيْدَةُ الضَّبِّيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ ذِي الْغُرَّةِ الْجُهَنِيِّ، وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ فَأَخْطَأَ فِيهِ، وَقَالَ فِيهِ: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ وَالصَّحِيحُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ إِسْحَاق: صَحَّ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثَانِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدِيثُ الْبَرَاءِ، وَحَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ وَغَيْرِهِمْ، أَنَّهُمْ لَمْ يَرَوْا الْوُضُوءَ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ.

براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اونٹ کے گوشت کے بارے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اس سے وضو کرو اور بکری کے گوشت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اس سے وضو نہ کرو ۔

Sayyidina Bara bin Aazib (RA) said that Allah’s Messenger ﷺ was asked about making ablution after eating camel flesh. He said, “Make ablution after that”. Then he was asked about mutton. He said, “It is not necessary after that.”

صحيح، ابن ماجة (494)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 81
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں جابر بن سمرہ اور اسید بن حضیر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- یہی قول احمد، عبداللہ اور اسحاق بن راہویہ کا ہے، ٣- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اس باب میں رسول اللہ ﷺ سے دو حدیثیں صحیح ہیں: ایک براء بن عازب کی (جسے مولف نے ذکر کیا اور اس کے طرق پر بحث کی ہے) اور دوسری جابر بن سمرہ کی، ٤- یہی قول احمد اور اسحاق بن راہویہ کا ہے۔ اور تابعین وغیرہم میں سے بعض اہل علم سے مروی ہے کہ ان لوگوں کی رائے ہے کہ اونٹ کے گوشت سے وضو نہیں ہے اور یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا قول ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: لوگ اوپر والی روایت کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ یہاں وضو سے مراد وضو لغوی ہے، لیکن یہ بات درست نہیں، اس لیے کہ وضو ایک شرعی لفظ ہے جسے بغیر کسی دلیل کے لغوی معنی پر محمول کرنا درست نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ٧٢ (١٨٤)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٦٧ (٤٩٤)، ( تحفة الأشراف: ١٧٨٣)، مسند احمد (٤/٢٨٨) (صحیح)
82Sunan At-Tirmidhi

ذکر چھونے سے وضو ہے

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلَا يُصَلِّ حَتَّى يَتَوَضَّأَ . قال: وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، وَأَبِي أَيُّوبَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وأَرْوَى ابْنَةِ أُنَيْسٍ، وَعَائِشَةَ، وَجَابِرٍ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: هَكَذَا رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِثْلَ هَذَا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بُسْرَةَ. وَرَوَى أَبُو أُسَامَةَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَرْوَانَ، عَنْ بُسْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ بِهَذَا. وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ بُسْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ بُسْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ، وَبِهِ يَقُولُ الْأَوْزَاعِيُّ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَأَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثُ بُسْرَةَ، وقَالَ أَبُو زُرْعَةَ: حَدِيثُ أُمِّ حَبِيبَةَ فِي هَذَا الْبَابِ صَحِيحٌ، وَهُوَ حَدِيثُ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، وقَالَ مُحَمَّدٌ: لَمْ يَسْمَعْ مَكْحُولٌ مِنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، وَرَوَى مَكْحُولٌ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَكَأَنَّهُ لَمْ يَرَ هَذَا الْحَدِيثَ صَحِيحًا.

بسرہ بنت صفوان ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو اپنی شرمگاہ (عضو تناسل) چھوئے تو جب تک وضو نہ کرلے نماز نہ پڑھے ۔

Sayyidina Hisham ibn Urwah ﷺ narrated that his father reported from Sayyidah Busrah bint Safwan (RA) that the Prophet ﷺ said, "If anyone touches his penis then he must not offer salah till he has performed ablution."Abu Usamah and many others have reported this hadith from Hisham ibn Urwah (RA) who from his father who from Sayyidah Busrah (RA) and she from the Prophet ﷺ .Abdur Rahman ibn Abu az-Zinad, reported it from his father, from Urwah from Sayyidah Busrah (RA) who from the Prophet ﷺ in like manner

صحيح، ابن ماجة (479) صحيح انظر ما قبله (82) صحيح انظر ما قبله (83)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 82 ابواسامہ اور کئی اور لوگوں نے اس حدیث کو بسند «ہشام بن عروہ عن أبیہ عن مروان بسرة عن النبی ﷺ» روایت کیا ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 83 نیز اسے ابوالزناد نے «بسند عروہ عن النبی ﷺ» اسی طرح روایت کیا ہے۔ ١- یہی صحابہ اور تابعین میں سے کئی لوگوں کا قول ہے اور اسی کے قائل اوزاعی، شافعی، احمد، اور اسحاق بن راہویہ ہیں، ٢- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ بسرہ کی حدیث اس باب میں سب سے صحیح ہے، ٣- ابوزرعہ کہتے ہیں کہ ام حبیبہ ؓ کی حدیث ١ ؎ (بھی) اس باب میں صحیح ہے، ٤- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ مکحول کا سماع عنبسہ بن ابی سفیان سے نہیں ہے ٢ ؎، اور مکحول نے ایک آدمی سے اور اس آدمی نے عنبسہ سے ان کی حدیث کے علاوہ ایک دوسری حدیث روایت کی ہے، گویا امام بخاری اس حدیث کو صحیح نہیں مانتے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 84
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- بسرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ام حبیبہ، ابوایوب، ابوہریرہ، ارویٰ بنت انیس، عائشہ، جابر، زید بن خالد اور عبداللہ بن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- کئی لوگوں نے اسے اسی طرح ہشام بن عروہ سے اور ہشام نے اپنے والد (عروہ) سے اور عروہ نے بسرہ سے روایت کیا ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ان سب کا خلاصہ یہ ہے کہ ہشام کے بعض شاگردوں نے عروہ اور بسرۃ کے درمیان کسی اور واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے، اور بعض نے عروہ اور بسرۃ کے درمیان مروان کے واسطے کا ذکر کیا ہے، جن لوگوں نے عروۃ اور بسرۃ کے درمیان کسی اور واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے ان کی روایت منقطع نہیں ہے کیونکہ عروہ کا بسرۃ سے سماع ثابت ہے، پہلے عروہ نے اسے مروان کے واسطے سے سنا پھر بسرۃ سے جا کر انہوں نے اس کی تصدیق کی جیسا کہ ابن خزیمہ اور ابن حبان کی روایت میں اس کی صراحت ہے۔ ١ ؎: ام حبیبہ ؓ کی حدیث کی تخریج ابن ماجہ نے کی ہے ( دیکھئیے: «باب الوضوء من مس الذکر» رقم ٤٨١)۔ ٢ ؎: یحییٰ بن معین، ابوزرعہ، ابوحاتم اور نسائی نے بھی یہی بات کہی ہے، لیکن عبدالرحمٰن دحیم نے ان لوگوں کی مخالفت کی ہے اور انہوں نے مکحول کا عنبسہ سے سماع ثابت کیا ہے ( دحیم اہل شام کی حدیثوں کے زیادہ جانکار ہیں )۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ٧٠ (١٨١)، سنن النسائی/الطہارة ١١٨ (١٦٣)، والغسل ٣٠ (١٤٧)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٦٣ (٦٧٩) (تحفة الأشراف: ١٥٧٨٥)، موطا امام مالک/الطہارة ١٥ (٥٨ مسند احمد (٦/٤٠٦)، ٤٠٧)، سنن الدارمی/الطہارة ٥٠ (٧٥١) (صحیح) انظر ما قبلہ (صحیح) انظر ما قبلہ (صحیح)
85Sunan At-Tirmidhi

ذکر چھونے سے وضو نہ کرنا

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ هُوَ الْحَنَفِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَهَلْ هُوَ إِلَّا مُضْغَةٌ مِنْهُ ؟ أَوْ بَضْعَةٌ مِنْهُ ؟ . قال: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي أُمَامَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَعْضِ التَّابِعِينَ، أَنَّهُمْ لَمْ يَرَوْا الْوُضُوءَ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ، وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ الْكُوفَةِ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ، وَهَذَا الْحَدِيثُ أَحَسَنُ شَيْءٍ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ، وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرٍ، وَأَيُّوبَ بْنِ عُتْبَةَ، وَحَدِيثُ مُلَازِمِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ، أَصَحُّ وَأَحْسَنُ.

طلق بن علی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے (عضو تناسل کے سلسلے میں) فرمایا: یہ تو جسم ہی کا ایک لوتھڑا یا ٹکڑا ہے ١ ؎۔

Sayyidina Qays ibn Talq ibn Ali Hanafi (RA) reported from his father from the Prophet ﷺ that he said, "It is but a part of his body." (The narrator is confused whether he said ‘part’ or ‘no difference in it’.

صحيح، ابن ماجة (483)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 85
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں ابوامامہ ؓ سے بھی روایت ہے، ٢- صحابہ کرام میں سے کئی لوگوں سے نیز بعض تابعین سے بھی مروی ہے کہ عضو تناسل کے چھونے سے وضو واجب نہیں، اور یہی اہل کوفہ اور ابن مبارک کا قول ہے، ٣- اس باب میں مروی احادیث میں سے یہ سب سے اچھی حدیث ہے، ٤- ایوب بن عتبہ اور محمد بن جابر نے بھی اس حدیث کو قیس بن طلق نے «عن أبیہ» سے روایت کیا ہے۔ بعض محدثین نے محمد بن جابر اور ایوب بن عتبہ کے سلسلے میں کلام کیا ہے، ٥- ملازم بن عمرو کی حدیث جسے انہوں نے عبداللہ بن بدر سے روایت کیا ہے، سب سے صحیح اور اچھی ہے ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث اور پچھلی حدیث میں تعارض ہے، اس تعارض کو محدثین نے ایسے دور کیا ہے کہ طلق بن علی کی یہ روایت بسرہ ؓ کی روایت سے پہلے کی ہے، اس لیے طلق ؓ کی حدیث منسوخ ہے، رہی ان تابعین کی بات جو عضو تناسل چھونے سے وضو ٹوٹنے کے قائل نہیں ہیں، تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان کو بسرہ کی حدیث نہیں پہنچی ہوگی۔ کچھ علما نے اس تعارض کو ایسے دور کیا ہے کہ بسرہ کی حدیث بغیر کسی حائل ( رکاوٹ ) کے چھونے کے بارے میں ہے، اور طلق کی حدیث بغیر کسی حائل ( پردہ ) کے چھونے کے بارے میں ہے۔ ٢ ؎: طلق بن علی ؓ کی اس حدیث کے تمام طریق میں ملازم والا طریق سب سے بہتر ہے، نہ یہ کہ بسرہ کی حدیث سے طلق کی حدیث بہتر ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ٧١ (١٨٢)، سنن النسائی/الطہارة ١١٩ (١٦٥)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٦٤ (٤٨٣) (تحفة الأشراف: ٥٠٢٣) مسند احمد (٤/٢٢، ٢٣) (صحیح) (سند میں قیس کے بارے میں قدرے کلام ہے، لیکن اکثر علماء نے توثیق کی ہے)
86Sunan At-Tirmidhi

بوسہ سے وضو نہیں ٹوٹتا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَهَنَّادٌ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، وأَبو عَمَّارٍ الْحسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَ بَعْضَ نِسَائِهِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ هِيَ إِلَّا أَنْتِ، قَالَ: فَضَحِكَتْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رُوِيَ نَحْوُ هَذَا، عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ، قَالُوا: لَيْسَ فِي الْقُبْلَةِ وُضُوءٌ، وقَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَالْأَوْزَاعِيُّ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق: فِي الْقُبْلَةِ وُضُوءٌ، وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ، وَإِنَّمَا تَرَكَ أَصْحَابُنَا حَدِيثَ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا، لِأَنَّهُ لَا يَصِحُّ عِنْدَهُمْ لِحَالِ الْإِسْنَادِ، قَالَ: وسَمِعْت أَبَا بَكْرٍ الْعَطَّارَ الْبَصْرِيَّ يَذْكُرُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، قَالَ: ضَعَّفَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ هَذَا الْحَدِيثَ جِدًّا، وَقَالَ: هُوَ شِبْهُ لَا شَيْءَ، قَالَ: وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل يُضَعِّفُ هَذَا الْحَدِيثَ، وقَالَ: حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُرْوَةَ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَهَا وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، وَهَذَا لَا يَصِحُّ أَيْضًا، وَلَا نَعْرِفُ لِإِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ سَمَاعًا مِنْ عَائِشَةَ، وَلَيْسَ يَصِحُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْبَابِ شَيْءٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی بیویوں میں سے کسی ایک کا بوسہ لیا، پھر آپ نماز کے لیے نکلے اور وضو نہیں کیا، عروہ کہتے ہیں کہ میں نے (اپنی خالہ ام المؤمنین عائشہ سے) کہا: وہ آپ ہی رہی ہوں گی؟ تو وہ ہنس پڑیں۔

Sayyidina Urwah reported from Sayyidah Aisha (RA) that she said that Prophet ﷺ kissed one of his wives and without making (fresh) ablution stood up for Salah. Urwah said that he remarked, "Who could that be but you." She laughed.

صحيح، ابن ماجة (502)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 86
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- صحابہ کرام اور تابعین میں سے کئی اہل علم سے اسی طرح مروی ہے اور یہی قول سفیان ثوری، اور اہل کوفہ کا ہے کہ بوسہ لینے سے وضو (واجب) نہیں ہے، مالک بن انس، اوزاعی، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ بوسہ لینے سے وضو (واجب) ہے، یہی قول صحابہ اور تابعین میں سے بہت سے اہل علم کا ہے، ٢- ہمارے اصحاب نے عائشہ ؓ کی حدیث پر جو نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے محض اس وجہ سے عمل نہیں کیا کہ یہ سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ٢ ؎، ٣- یحییٰ بن قطان نے اس حدیث کی بہت زیادہ تضعیف کی ہے اور کہا ہے کہ یہ «لاشیٔ» کے مشابہ ہے ٣ ؎، ٤- نیز میں نے محمد بن اسماعیل (بخاری) کو بھی اس حدیث کی تضعیف کرتے سنا، انہوں نے کہا کہ حبیب بن ثابت کا سماع عروۃ سے نہیں ہے، ٥- نیز ابراہیم تیمی نے بھی عائشہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کا بوسہ لیا اور وضو نہیں کیا۔ لیکن یہ روایت بھی صحیح نہیں کیونکہ عائشہ سے ابراہیم تیمی کے سماع کا ہمیں علم نہیں۔ اس باب میں نبی اکرم ﷺ سے کوئی بھی حدیث صحیح نہیں ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آپ نے سابق وضو ہی پر نماز پڑھی، بوسہ لینے سے نیا وضو نہیں کیا، اس میں اس بات پر دلیل ہے کہ عورت کے چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا اور یہی قول راجح ہے۔ ٢ ؎: لیکن امام شوکانی نے نیل الأوطار میں اور علامہ البانی نے صحیح أبی داود ( رقم ١٧١- ١٧٢) میں متابعات اور شواہد کی بنیاد پر اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے، نیز دیگر بہت سے ائمہ نے بھی اس حدیث کی تصحیح کی ہے ( تفصیل کے لیے دیکھئیے مذکورہ حوالے )۔ ٣ ؎: «لاشئی» کے مشابہ ہے یعنی ضعیف ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ٦٩ (١٧٩، ١٨٠)، سنن النسائی/الطہارة ١٢١ (١٧٠)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٦٩ (٥٠٢)، ( تحفة الأشراف: ١٧٣٧١)، مسند احمد (٦/٢٠٧) (صحیح) (سند میں حبیب بن ابی ثابت اور عروہ کے درمیان انقطاع ہے جیسا کہ مؤلف نے صراحت کی ہے، لیکن متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے)