Sunan At-Tirmidhi 70

طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے

70Sunan At-Tirmidhi

پیشاب سے بہت زیادہ احتیاط کرنا

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَقُتَيْبَةُ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَال: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى قَبْرَيْنِ، فَقَالَ: إِنَّهُمَا يُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ: أَمَّا هَذَا فَكَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ، وَأَمَّا هَذَا فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي مُوسَى، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنَةَ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَأَبِي بَكْرَةَ. قال أبو عيسى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرَوَى مَنْصُورٌ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ طَاوُسٍ، وَرِوَايَةُ الْأَعْمَشِ أَصَحُّ، قَالَ: وسَمِعْت أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبَانَ الْبَلْخِيَّ مُسْتَمْلِي وَكِيعٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ وَكِيعًا، يَقُولُ: الْأَعْمَشُ أَحْفَظُ لِإِسْنَادِ إِبْرَاهِيمَ مِنْ مَنْصُورٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کا گزر دو قبروں کے پاس سے ہوا تو آپ نے فرمایا: یہ دونوں قبر والے عذاب دیئے جا رہے ہیں، اور کسی بڑی چیز میں عذاب نہیں دیئے جا رہے (کہ جس سے بچنا مشکل ہوتا) رہا یہ تو یہ اپنے پیشاب سے بچتا نہیں تھا ١ ؎ اور رہا یہ تو یہ چغلی کیا کرتا تھا ٢ ؎۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ passed by two graves. He said, “Both of them are punished, but not for a great sin. This one, here, was not careful to avoid drops of urine defiling him. And this other went about slandering people.”

صحيح، ابن ماجة (347)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 70
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ، ابوموسیٰ، عبدالرحمٰن بن حسنہ، زید بن ثابت، اور ابوبکرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی پیشاب کرتے وقت احتیاط نہیں کرتا تھا، پیشاب کے چھینٹے اس کے بدن یا کپڑوں پر پڑجایا کرتے تھے، جو قبر میں عذاب کا سبب بنے، اس لیے اس کی احتیاط کرنی چاہیئے، اور یہ کوئی بہت بڑی اور مشکل بات نہیں۔ ٢ ؎: چغلی خود گرچہ بڑا گناہ ہے مگر اس سے بچنا کوئی مشکل بات نہیں، اس لحاظ سے فرمایا کہ کسی بڑی چیز میں عذاب نہیں دیئے جا رہے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٥٥ (٢١٦) و ٥٦ (٢١٨) والجنائز ٩١ (١٣٦١) و ٨٨ (١٣٧٨) والأدب ٤٦ (٦٠٥٢) و ٤٩ (٦٠٥٥) صحیح مسلم/الطہارة ٣٤ (٢٩٢) سنن ابی داود/ الطہارة ١١ (٢٠) سنن النسائی/الطہارة ٢٧ (٣١) والجنائز ١١٦ (٢٠٧٠) سنن ابن ماجہ/الطہارة ٢٦ (٣٤٧) (تحفة الأشراف: ٥٧٤٧) مسند احمد (١/٢٢٥) سنن الدارمی/ الطہارة ٦١ (٧٦٦) (صحیح)