ہوا کے خارج ہونے سے وضو کا ٹوٹ جانا
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَهَنَّادٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا وُضُوءَ إِلَّا مِنْ صَوْتٍ أَوْ رِيحٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وضو واجب نہیں جب تک آواز نہ ہو یا بو نہ آئے ١ ؎۔
Sayyidina Abu hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said , “It is not necessary to make ablution till one makes a sound or one breaks wind”
صحيح، ابن ماجة (515)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 74
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ شک کی وجہ سے کہ ہوا خارج ہوئی یا نہیں وضو نہیں ٹوٹتا، اور اس سے ایک اہم اصول کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے کہ ہر چیز اپنے حکم پر قائم رہتی ہے جب تک اس کے خلاف کوئی بات یقین و وثوق سے ثابت نہ ہوجائے، محض شبہ سے حکم نہیں بدلتا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطہارة ٧٤ (٥١٥) (تحفة الأشراف: ١٢٦٨٣) مسند احمد (٢/٤١٠، ٤٣٥، ٤٧١) (صحیح)