انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک ایسا آدمی لایا گیا جس نے شراب پی تھی، آپ نے اسے کھجور کی دو چھڑیوں سے چالیس کے قریب مارا، ابوبکر ؓ نے بھی (اپنے دور خلافت میں) ایسا ہی کیا، پھر جب عمر ؓ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے اس سلسلے میں لوگوں سے مشورہ کیا، چناچہ عبدالرحمٰن بن عوف نے کہا: حدوں میں سب سے ہلکی حد اسی کوڑے ہیں، چناچہ عمر نے اسی کا حکم دیا۔
Sayyidina Anas narrated that a man was brought to the Prophet ﷺ for having consumed wine. He beat him with two palm branches about forty sthpes. Abu Bakr (RA) did the same thing. Then, Umar consulted the people and Abdur Rahman ibn Awf (RA) said, ‘ The lightest hadd is eighty stripes. So, Umar (RA) gave command accordingly. [Bukhari 1773, Muslim 1706]
صحيح، الإرواء (2377)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1443
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - انس کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - صحابہ میں سے اہل علم اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے کہ شرابی کی حد اسی کوڑے ہیں ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سلسلہ میں صحیح قول یہ ہے کہ شرابی کی حد چالیس کوڑے ہیں، البتہ امام اس سے زائد اسی کوڑے تک کی سزا دے سکتا ہے، لیکن اس کا انحصار حسب ضرورت امام کے اپنے اجتہاد پر ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحدود ٢ (٦٧٧١)، (بدون قصة الاستشارة)، صحیح مسلم/الحدود ٨ (١٧٠٦) سنن ابی داود/ الحدود ٣٦ (٤٤٧٩)، سنن ابن ماجہ/الحدود ١٦ (٢٥٧٠)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٤)، و مسند احمد (٣/١١٥، ١٨٠، ٢٤٧، ٢٧٢- ٢٧٣)، سنن الدارمی/الحدود ٩ (٢٣٥٧) (صحیح )
معاویہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شراب پئیے اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر چوتھی بار پئے تو اسے قتل کر دو ۔
Sayyidina Muawiyah narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, Give lashes to one who drinks wine. If he repeats it four times, kill him.” [Abu Dawud 4482]
صحيح، ابن ماجة (2572 - 2573)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1444
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - معاویہ ؓ کی حدیث کو اسی طرح ثوری نے بطریق: «عاصم عن أبي صالح عن معاوية عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کیا ہے، اور ابن جریج اور معمر نے بطریق: «سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کیا ہے، ٢ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ابوصالح کی حدیث جو بواسطہ معاویہ نبی اکرم ﷺ سے اس سلسلہ میں آئی ہے، یہ ابوصالح کی اس حدیث سے جو بواسطہ ابوہریرہ نبی اکرم ﷺ سے آئی ہے زیادہ صحیح ہے، ٣ - اس باب میں ابوہریرہ، شرید، شرحبیل بن اوس، جریر، ابورمد بلوی اور عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤ - یہ حکم ابتداء اسلام میں تھا ١ ؎ پھر اس کے بعد منسوخ ہوگیا، اسی طرح محمد بن اسحاق نے «محمد بن المنکدر عن جابر بن عبد الله» کے طریق سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ فرمایا: جو شراب پئیے اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر چوتھی بار پئیے تو اسے قتل کر دو ، پھر اس کے بعد نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک ایسا آدمی لایا گیا جس نے چوتھی بار شراب پی تھی، تو آپ نے اسے کوڑے لگائے اور قتل نہیں کیا، اسی طرح زہری نے قبیصہ بن ذویب سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ٥ - چناچہ قتل کا حکم منسوخ ہوگیا، پہلے اس کی رخصت تھی، عام اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، میرے علم میں اس مسئلہ میں ان کے درمیان نہ پہلے اختلاف تھا نہ اب اختلاف ہے، اور اس کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے جو نبی اکرم ﷺ سے بیشمار سندوں سے آئی ہے کہ آپ نے فرمایا: جو مسلمان شہادت دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں تو اس کا خون تین میں سے کسی ایک چیز کی بنا پر ہی حلال ہوسکتا ہے: ناحق کسی کا قاتل ہو، شادی شدہ زانی ہو، یا اپنا دین (اسلام) چھوڑنے والا (مرتد) ہو ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی شرابی کے قتل کا حکم ابتدائے اسلام میں تھا پھر منسوخ ہوگیا چناچہ قتل سے متعلق روایت بعض اہل ظاہر کو چھوڑ کر تمام اہل علم کے نزدیک منسوخ ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحدود ٣٧ (٤٤٨٢)، سنن ابن ماجہ/الحدود ١٧ (٢٥٧٣)، (تحفة الأشراف: ١١٤١٢)، و مسند احمد (٤/٩٧) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ چوتھائی دینار ١ ؎ اور اس سے زیادہ کی چوری پر ہاتھ کاٹتے تھے۔
Sayyidah Ayshah (RA) reported that the Prophet ﷺ used to cut off the hand for the quarter of a dinar or more. [Bukhari 6790, Muslim 1684]
صحيح، الإرواء (2402)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1445
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - عائشہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث دوسری سندوں سے عمرہ کے واسطہ سے عائشہ ؓ سے مرفوعاً آئی ہے، جب کہ بعض لوگوں نے اسے عمرہ کے واسطہ سے عائشہ ؓ سے موقوفاً روایت کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: موجودہ وزن کے اعتبار سے ایک دینار کا وزن تقریباً سوا چار گرام سونا ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ڈھال کی چوری پر ہاتھ کاٹا جس کی قیمت تین درہم ١ ؎ تھی۔
Sayyidina lbn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ had the hand of a thief cut off for (having stolen) a shield worth three drihams. [Bukhari 6795, Muslim 1686]
صحيح، ابن ماجة (2584)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1446
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں سعد، عبداللہ بن عمرو، ابن عباس، ابوہریرہ اور ایمن ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - صحابہ میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان میں ابوبکر ؓ بھی شامل ہیں، انہوں نے پانچ درہم کی چوری پر ہاتھ کاٹا، ٤ - عثمان اور علی ؓ سے مروی ہے کہ ان لوگوں نے چوتھائی دینار کی چوری پر ہاتھ کاٹا، ٥ - ابوہریرہ اور ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ پانچ درہم کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے گا، ٦ - بعض فقہائے تابعین کا اسی پر عمل ہے، مالک بن انس، شافعی، احمد، اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، یہ لوگ کہتے ہیں: چوتھائی دینار اور اس سے زیادہ کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے گا، ٧ - اور ابن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ایک دینار یا دس درہم کی چوری پر ہی ہاتھ کاٹا جائے گا، لیکن یہ مرسل (یعنی منقطع) حدیث ہے اسے قاسم بن عبدالرحمٰن نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے، حالانکہ قاسم نے ابن مسعود سے نہیں سنا ہے، بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، چناچہ سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے، یہ لوگ کہتے ہیں: دس درہم سے کم کی چوری پر ہاتھ نہ کاٹا جائے، ٨ - علی ؓ کہتے ہیں کہ دس درہم سے کم کی چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، لیکن اس کی سند متصل نہیں ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: آج کے وزن کے اعتبار سے ایک درہم (چاندی) تقریباً تین گرام کے برابر ہے، معلوم ہوا کہ چوتھائی دینار (سونا): یعنی تین درہم (چاندی) یا اس سے زیادہ کی مالیت کا سامان اگر کوئی چوری کرتا ہے تو اس کے بدلے اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحدود ١٣ (٦٧٩٥)، صحیح مسلم/الحدود ١ (١٦٨٦)، سنن ابی داود/ الحدود ١١ (٤٣٨٥)، سنن النسائی/قطع السارق ٨ (٤٩١٢)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٢ (٢٥٨٤)، التحفة: ٨٢٧٨)، موطا امام مالک/الحدود ٧ (٢١)، و مسند احمد (٢/٦، ٥٤، ٦٤، ٨٠، ١٤٣)، سنن الدارمی/الحدود ٤ (٢٣٤٧) (صحیح )
عبدالرحمٰن بن محیریز کہتے ہیں کہ میں نے فضالہ بن عبید سے پوچھا: کیا چور کا ہاتھ کاٹنے کے بعد اس کی گردن میں لٹکانا سنت ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک چور لایا گیا اس کا ہاتھ کاٹا گیا، پھر آپ نے حکم دیا ہاتھ اس کی گردن میں لٹکا دیا گیا۔
Abdur Rahman ibn Muhayriz reported that he asked Fudalah ibn Ubayd about hanging a thief’s hand in his neck being a sunnah. He said, “A thief was brought to Allah’s Messenger ﷺ So, his hand was cut off and Allah’s Messenger ﷺ ordered that it should be suspended on his neck.” [Abu Dawud 4411]
ضعيف، ابن ماجة (2587)، المشکاة (3605 / التحقيق الثاني)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1447
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف عمر بن علی مقدمی ہی کی روایت سے جانتے ہیں، انہوں نے اسے حجاج بن ارطاۃ سے روایت کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحدود ٢١ (٤٤١١)، سنن النسائی/قطع السارق ١٩ (٤٩٨٥)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٣ (٢٥٨٧)، (تحفة الأشراف: ١١٠٢٩)، و مسند احمد (٦/١٩) (ضعیف) (سند میں ” حجاج بن ارطاة “ ضعیف، اور ” عبدالرحمن بن محیریز “ مجہول ہیں) دیکھئے: الإرواء: ٢٤٣٢ )
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: خیانت کرنے والے، ڈاکو اور اچکے کی سزا ہاتھ کاٹنا نہیں ہے ١ ؎۔
Sayyidina Jabir (RA) reported that the Prophet ﷺ said. ‘Hands are not to be cut off of one who is treacherous, who embezzles or who plunders.” [Ahmed 15074, Abu Dawud 4391]
صحيح، ابن ماجة (2589)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1448
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - مغیرہ بن مسلم نے ابن جریج کی حدیث کی طرح اسے ابوزبیر سے، ابوزبیر نے جابر ؓ سے اور جابر نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، ٣ - اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کسی محفوظ جگہ سے جہاں مال اچھی طرح سے چھپا کر رکھا گیا مال چرانا «سرقہ» ہے اور خیانت، اچکنا اور ڈاکہ زنی یہ سب کے سب «سرقہ» کی تعریف سے خارج ہیں، لہٰذا ان کی سزا ہاتھ کاٹنا نہیں ہے، «خائن» اسے کہتے ہیں جو خفیہ طریقہ پر مال لیتا رہے اور مالک کے ساتھ خیر خواہی اور ہمدردی کا اظہار کرے۔ حدیث میں مذکورہ جرائم پر حاکم جو مناسب سزا تجویز کرے گا وہ نافذ کی جائے گی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحدود ١٣ (٤٣٩١)، سنن النسائی/قطع السارق ١٤ (٤٩٧٤)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٦ (٢٥٩١)، (تحفة الأشراف: ٢٨٠٠)، و مسند احمد (٣/٣٨٠)، سنن الدارمی/الحدود ٨ (٢٣٥٦) (صحیح )
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: پھل اور کھجور کے گابھے کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ۔
Sayyidina Rafi ibn Khadij (RA) reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, ‘Hands are not cut off for fruit and a bunch of dates.” [Nisai 4981, Ibn e Majah 2593]
صحيح، ابن ماجة (2593)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1449
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اسی طرح بعض اور لوگوں نے بھی لیث بن سعد کی روایت کی طرح بطریق: «يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى بن حبان عن عمه واسع بن حبان عن رافع بن خديج عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے، ٢ - مالک بن انس اور کئی لوگوں نے اس حدیث کو بطریق: «يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى بن حبان عن رافع بن خديج عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کیا ہے، ان لوگوں نے اس حدیث کی سند میں واسع بن حبان کا ذکر نہیں کیا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحدود ١٢ (٤٣٨٨)، سنن النسائی/قطع السارق ١٤ (٤٩٩٢)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٧ (٢٥٩٣)، (تحفة الأشراف: ٣٥٨٨)، وط/الحدود ١١ (٣٢)، و مسند احمد (٣/٤٦٣، ٤٦٤) و (٥/١٤٠، ١٤٢)، سنن الدارمی/الحدود ٧ (٢٣٥٠) (صحیح )
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ابن لہیعہ کے علاوہ کچھ دوسرے لوگوں نے بھی اسی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ٣ - بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، انہیں میں اوزاعی بھی ہیں، یہ لوگ کہتے ہیں: دشمن کی موجودگی میں جہاد کے دوران (چوری کرنے پر) حد قائم نہیں کی جائے گی، کیونکہ جس پر حد قائم کی جائے گی اندیشہ ہے کہ وہ دشمن سے مل جائے، البتہ امام جب دارالحرب سے نکل کر دارالاسلام واپس آ جائے تو چوری کرنے والے پر حد قائم کرے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مسند احمد میں عبادہ بن صامت کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «أقيموا الحدود في الحضر والسفر» حضر اور سفر دونوں میں حدود قائم کرو، اس میں اور بسر بن ارطاۃ کی حدیث میں تعارض ہے، علامہ شوکانی کہتے ہیں: دونوں میں کوئی تعارض نہیں ہے، کیونکہ بسر ارطاۃ کی حدیث خاص ہے جب کہ عبادہ کی حدیث عام ہے، کیونکہ ہر مسافر مجاہد نہیں ہوتا البتہ ہر مجاہد مسافر ہوتا ہے، نیز بسر کی حدیث کا تعلق چوری کی حد سے ہے، جب کہ عبادہ کی حدیث کا تعلق عام حد سے ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحدود ١٨ (٤٤٠٨)، سنن النسائی/قطع السارق ١٧ (٤٩٨٢)، (تحفة الأشراف: ٢٠١٥)، و مسند احمد (٤/١٨١) (صحیح) (متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے جس کا ذکر مؤلف نے کیا ہے، ورنہ اس کے راوی ” ابن لھیعہ “ ضعیف ہیں )
حبیب بن سالم کہتے ہیں کہ نعمان بن بشیر ؓ کے پاس ایک ایسے شخص کا مقدمہ پیش ہوا جس نے اپنی بیوی کی لونڈی کے ساتھ زنا کیا تھا، انہوں نے کہا: میں اس میں رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کروں گا: اگر اس کی بیوی نے اسے لونڈی کے ساتھ جماع کی اجازت دی ہے تو (بطور تادیب) اسے سو کوڑے ماروں گا اور اگر اس نے اجازت نہیں دی ہے تو (بطور حد) اسے رجم کروں گا۔
Habib ibn Saalim said that a man was brought to Numan ibn Bashir (RA) for having committed adultery with his wifes female slave. He said, “I will judge this case with the judgement of Allah’s Messenger If she (his wife) had made her lawful for him then I will award him a hundred stripes, and if she had not then I will sentence him to be stoned to death. [Abu Dawud 4458]
ضعيف، ابن ماجة (2551)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1451
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحدود ٢٨ (٤٤٥٨)، سنن النسائی/النکاح ٧٠ (٣٣٦٢)، سنن ابن ماجہ/الحدود (٢٥٥١)، (تحفة الأشراف: ١١٦١٣)، و مسند احمد (٦/٢٧٢، ٢٧٦، ٢٧٦، ٢٧٧)، سنن الدارمی/الحدود ٢٠ (٢٣٧٤) (ضعیف) (سند میں ” حبیب بن سالم “ میں بہت کلام ہے، نیز بقول خطابی ان کا سماع نعمان ؓ سے نہیں ہے )
اس سند سے بھی نعمان بن بشیر سے اسی جیسی حدیث آئی ہے۔ قتادہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا: حبیب بن سالم کے پاس یہ مسئلہ لکھ کر بھیجا گیا ١ ؎۔ ابوبشر نے بھی یہ حدیث حبیب بن سالم سے نہیں سنی، انہوں نے اسے خالد بن عرفطہٰ سے روایت کیا ہے۔
Ali ibn Hujr reported from Hushaym, from Abu Bishr, from Habib ibn Saalim, from Numan ibn Bashir in the same manner. In this chapter, hadith is also narrated by Salamab ibn Muhabbaq. There is confusion in the hadith of Nu’man. Imam Bukhari said that Qatadah and Abu Bishr both had not heard this hadith from Habib ibn Saalim but from Khalid ibn Urfutah. [Abu Dawud 4460]
**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1452
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - نعمان کی حدیث کی سند میں اضطراب ہے میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ قتادہ نے اس حدیث کو حبیب بن سالم سے نہیں سنا ہے، انہوں نے اسے خالد بن عرفطہٰ سے روایت کیا ہے، ٢ - اس باب میں سلمہ بن محبق سے بھی روایت ہے، ٣ - بیوی کی لونڈی کے ساتھ زنا کرنے والے کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، چناچہ نبی اکرم ﷺ کے کئی صحابہ سے مروی ہے جن میں علی اور ابن عمر بھی شامل ہیں کہ اس پر رجم واجب ہے، ابن مسعود کہتے ہیں: اس پر کوئی حد نہیں ہے، البتہ اس کی تادیبی سزا ہوگی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا مسلک اس (حدیث) کے مطابق ہے جو نبی اکرم ﷺ سے بواسطہ نعمان بن بشیر آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: گویا قتادہ نے یہ حدیث حبیب بن سالم سے نہیں سنی ہے۔
وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک عورت کے ساتھ زبردستی زنا کیا گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے حد سے بری کردیا اور زانی پر حد جاری کی، راوی نے اس کا ذکر نہیں کیا کہ آپ نے اسے کچھ مہر بھی دلایا ہو ١ ؎۔
Abdul Jabbar ibn Wail ibn Hujr reported on the authority of his father that a woman was subjected to intercourse against her will in the Prophet’s times. He let her off, but appointed hadd on the man who had assaulted her, But, he did not mention if he awarded her a dower. [Ibn e Majah 2598]
ضعيف، المشکاة (3571)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1453
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، اس کی اسناد متصل نہیں ہے، ٢ - یہ حدیث دوسری سند سے بھی آئی ہے، ٣ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا: عبدالجبار بن وائل بن حجر کا سماع ان کے باپ سے ثابت نہیں ہے، انہوں نے اپنے والد کا زمانہ نہیں پایا ہے، کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے والد کی موت کے کچھ مہینے بعد پیدا ہوئے، ٣ - صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم اور کچھ دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے کہ جس سے جبراً زنا کیا گیا ہو اس پر حد واجب نہیں ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن دوسری احادیث سے یہ ثابت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے جماع کے بدلے اس عورت کو کچھ دلایا بھی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الحدود ٣٠ (٢٥٩٨) (ضعیف) (نہ تو ” حجاج بن ارطاة “ نے ” عبدالجبار “ سے سنا ہے، نہ ہی ” عبدالجبار “ نے اپنے باپ سے سنا ہے، یعنی سند میں دو جگہ انقطاع ہے، لیکن یہ مسئلہ اگلی حدیث سے ثابت ہے )
وائل بن حجر کندی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک عورت نماز کے لیے نکلی، اسے ایک آدمی ملا، اس نے عورت کو ڈھانپ لیا اور اس سے اپنی حاجت پوری کی (یعنی اس سے زبردستی زنا کیا) ، وہ عورت چیخنے لگی اور وہ چلا گیا، پھر اس کے پاس سے ایک (دوسرا) آدمی گزرا تو یہ عورت بولی: اس (دوسرے) آدمی نے میرے ساتھ ایسا ایسا (یعنی زنا) کیا ہے ١ ؎ اور اس کے پاس سے مہاجرین کی بھی ایک جماعت گزری تو یہ عورت بولی: اس آدمی نے میرے ساتھ ایسا ایسا (یعنی زنا) کیا ہے، (یہ سن کر) وہ لوگ گئے اور جا کر انہوں نے اس آدمی کو پکڑ لیا جس کے بارے میں اس عورت نے گمان کیا تھا کہ اسی نے اس کے ساتھ زنا کیا ہے اور اسے اس عورت کے پاس لائے، وہ بولی: ہاں، وہ یہی ہے، پھر وہ لوگ اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لائے، چناچہ جب آپ نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا، تو اس عورت کے ساتھ زنا کرنے والا کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس کے ساتھ زنا کرنے والا میں ہوں، پھر آپ نے اس عورت سے فرمایا: تو جا اللہ نے تیری بخشش کردی ہے ٢ ؎ اور آپ نے اس آدمی کو (جو قصوروار نہیں تھا) اچھی بات کہی ٣ ؎ اور جس آدمی نے زنا کیا تھا اس کے متعلق آپ نے فرمایا: اسے رجم کرو ، آپ نے یہ بھی فرمایا: اس (زانی) نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اہل مدینہ اس طرح توبہ کرلیں تو ان سب کی توبہ قبول ہوجائے ۔
Alqamah ibn Wail Kindi reported on the authority of his father that in the times of Allah’s Messenger ﷺ a woman proceeded to offer salah, on her way, a man caught hold of her and assaulted her sexually, satisfying his desire from her. She shouted. He went away. A man passed by her and she said to him that the man had done with her this and that. Then a group of muhajirs passed by and she told them that the man had done with her this and that. They went, got hold of the man who they thought had molested the woman. They brought him to her and she confirmed that he was the one, so they took him to Allah’s Messenger when he commanded that he should be stoned to death, the man who had assaulted the woman stood up and said, ‘O Messenger of Allah. I was the one who had assaulted her (not he).” Allah’s Messenger ﷺ said (to the woman), “Go away. Indeed, Allah has forgiven you. And, to the man (whom the muhajirs had brought to him) he spoke a kind word, and for the man, who had assaulted her, he gave order to be stoned to death. He said, “He has repented in such a way that if (all) the people of Madinah repented like that then that would have been accepted from them’ --------------------------------------------------------------------------------
حسن - دون قوله ارجموه والأرجح أنه لم يرجم -، المشکاة (3572)، الصحيحة (900)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1454
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ٢ - علقمہ بن وائل بن حجر کا سماع ان کے والد سے ثابت ہے، یہ عبدالجبار بن وائل سے بڑے ہیں اور عبدالجبار کا سماع ان کے والد سے ثابت نہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حالانکہ زنا کرنے والا کوئی اور تھا، عورت نے غلطی سے اسے سمجھ لیا۔ ٢ ؎: کیونکہ تجھ سے حد والا کام زبردستی کرایا گیا ہے۔ ٣ ؎: یعنی اس کے لیے تسلی کے کلمات کہے، کیونکہ یہ بےقصور تھا۔ ٤ ؎: چونکہ اس نے خود سے زنا کا اقرار کیا اور شادی شدہ تھا، اس لیے آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اسے رجم کیا جائے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحدود ٧ (٤٣٧٩)، (تحفة الأشراف: ١١٧٧)، و مسند احمد (٦/٣٩٩) (حسن) (اس میں رجم کی بات صحیح نہیں ہے، راجح یہی ہے کہ رجم نہیں کیا گیا، دیکھئے: الصحیحہ رقم ٩٠٠ )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس آدمی کو جانور کے ساتھ وطی (جماع) کرتے ہوئے پاؤ تو اسے قتل کر دو اور (ساتھ میں) جانور کو بھی قتل کر دو ۔ عبداللہ بن عباس ؓ سے پوچھا گیا: جانور کو قتل کرنے کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس سلسلے میں کچھ نہیں سنا ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ جس جانور کے ساتھ یہ برا فعل کیا گیا ہو، اس کا گوشت کھانے اور اس سے فائدہ اٹھانے کو رسول اللہ ﷺ نے ناپسند سمجھا۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If you com across a man who has sexual intercourse with an animal then kill him and kill the animal with him.” Ibn Abbas (RA) .,- was asked, “What wrong had the animal done?” He said ‘I did not hear anything about it from Allah’s Messenger ﷺ but I suppose he did not like that one may eat its flesh or derive benefit from it, once this act was done with it.” [Abu Dawud 4464]
حسن صحيح، ابن ماجة (2564)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1455
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - عمرو بن ابی عمرو کی حدیث کو جسے وہ بطریق: «عكرمة عن ابن عباس عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کرتے ہیں۔ ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی عاصم کی روایت جو ابن عباس سے موقوف ہے یہ زیادہ صحیح ہے عمرو بن ابی عمرو کی روایت سے جو اس سے پہلے مذکور ہوئی ہے۔ ٢ ؎: یعنی ان کا عمل عاصم کی موقوف روایت پر ہے کہ جانور سے وطی کرنے والے پر کوئی حد نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحدود ٢٩ (٣٠٦٢)، سنن ابن ماجہ/الحدود ١٣ (٤٤٦٤)، (تحفة الأشراف: ٦١٧٦)، و مسند احمد (١/٢٦٩، ٣٠٠ (حسن صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ جسے قوم لوط کا عمل (اغلام بازی) کرتے ہوئے پاؤ تو فاعل اور مفعول (بدفعلی کرنے اور کرانے والے) دونوں کو قتل کر دو ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ‘ said, “If you see anyone do the deed of the people of Lut Is then kill the doer and one with whom it is done.” [Abu Dawud 4462]
صحيح، ابن ماجة (3561)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1456
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث بواسطہ ابن عباس ؓ نبی اکرم ﷺ سے صرف اسی سند سے جانی جاتی ہے، محمد بن اسحاق نے بھی اس حدیث کو عمرو بن ابی عمرو سے روایت کیا ہے، (لیکن اس میں ہے) آپ نے فرمایا: قوم لوط کا عمل (اغلام بازی) کرنے والا ملعون ہے ، راوی نے اس حدیث میں قتل کا ذکر نہیں کیا، البتہ اس میں یہ بیان ہے کہ جانور سے وطی (جماع) کرنے والا ملعون ہے ، اور یہ حدیث بطریق: «عاصم بن عمر عن سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی گئی ہے۔ (اس میں ہے کہ) آپ نے فرمایا: فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دو ، ٢ - اس حدیث کی سند میں کلام ہے، ہم نہیں جانتے کہ اسے سہیل بن ابی صالح سے عاصم بن عمر العمری کے علاوہ کسی اور نے روایت کیا ہے اور عاصم بن عمر کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے حفظ کے تعلق سے حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں، ٣ - اس باب میں جابر اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤ - اغلام بازی (بدفعلی) کرنے والے کی حد کے سلسلہ میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض کہتے ہیں: بدفعلی کرنے والا شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ اس کی سزا رجم ہے، مالک شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ٥ - فقہاء تابعین میں سے بعض اہل علم نے جن میں حسن بصری، ابراہیم نخعی اور عطا بن ابی رباح وغیرہ شامل ہیں کہتے ہیں: بدفعلی کرنے والے کی سزا زانی کی سزا کی طرح ہے، ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس میں کوئی شک نہیں کہ اغلام بازی امور معصیت کے کاموں میں سے ہلاکت خیزی کے اعتبار سے سب سے خطرناک کام ہے اور فساد و بگاڑ کے اعتبار سے کفر کے بعد اسی کا درجہ ہے، اس کی تباہ کاری بسا اوقات قتل کی تباہ کاریوں سے کہیں بڑھ کر ہوتی ہے، قوم لوط سے پہلے عالمی پیمانہ پر کوئی دوسری قوم اس فحش عمل میں ملوث نہیں پائی گئی تھی، یہی وجہ ہے کہ یہ قوم مختلف قسم کے عذاب سے دوچار ہوئی، چناچہ یہ اپنی رہائش گاہوں کے ساتھ پلٹ دی گئی اور زمین میں دھنسنے کے ساتھ آسمان سے نازل ہونے والے پتھروں کا شکار ہوئی، اسی لیے جمہور علماء کا کہنا ہے کہ اس کی سزا زنا کی سزا سے کہیں سخت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحدود ٢٩ (٤٤٦٢)، سنن ابن ماجہ/الحدود ١٣ (٢٥٦١) (تحفة الأشراف: ٦١٧٦)، و مسند احمد (١/٢٦٩، ٣٠٠) (صحیح )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے اپنی امت کے بارے میں جس چیز کا سب سے زیادہ خوف ہے وہ قوم لوط کا عمل (اغلام بازی) ہے ۔
Abdullah ibn Muhammad ibn Aqil reported having heard from Sayyidina Jabir (RA) that Allah’s Messenger ﷺ said, “That which I fear most for my people is that they may take the ways of the people of Lut. [Ibn e Majah 2563, Ahmed 15095]
حسن، ابن ماجة (2563)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1457
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اور ہم اسے صرف اسی سند «عن عبد اللہ بن محمد بن عقيل بن أبي طالب عن جابر» سے ہی جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الحدود ١٢ (٢٥٦٣)، (تحفة الأشراف: ٢٣٦٧) (حسن )
عکرمہ سے روایت ہے کہ علی ؓ نے کچھ ایسے لوگوں کو زندہ جلا دیا جو اسلام سے مرتد ہوگئے تھے، جب ابن عباس ؓ کو یہ بات معلوم ہوئی ١ ؎ تو انہوں نے کہا: اگر (علی ؓ کی جگہ) میں ہوتا تو انہیں قتل کرتا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: جو اپنے دین (اسلام) کو بدل ڈالے اسے قتل کرو ، اور میں انہیں جلاتا نہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: اللہ کے عذاب خاص جیسا تم لوگ عذاب نہ دو ، پھر اس بات کی خبر علی ؓ کو ہوئی تو انہوں نے کہا: ابن عباس ؓ نے سچ کہا ٢ ؎۔
Sayyidina Ikrimah (RA) reported that Sayyidina Ali sentenced those who had apostatised from Islam to be burnt down. When Sayyidina Ibn Abbas (RA) learnt of it, he said, “If I was there then I would have had them killed because Allah’s Messenger ﷺ had said, “He who changes his religion should be killed, I would not burn him because Allah’s Messenger ﷺ had said, ‘ Do not punish with Allah’s punishment.” When Sayyidina Ali learnt of it, he said, “ Ibn Abbas (RA) , has spoken the truth.” [Bukhari 3017]
صحيح، ابن ماجة (2535)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1458
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح حسن ہے، ٢ - مرتد کے سلسلے میں اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ٣ - جب عورت اسلام سے مرتد ہوجائے تو اس کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے، اہل علم کی ایک جماعت کہتی ہے: اسے قتل کیا جائے گا، اوزاعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ٤ - اور اہل علم کی دوسری جماعت کہتی ہے: اسے قتل نہیں بلکہ قید کیا جائے گا، سفیان ثوری اور ان کے علاوہ بعض اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: عبداللہ بن عباس ؓ علی ؓ کی جانب سے اس وقت بصرہ کے گورنر تھے۔ ٢ ؎: جو شخص اسلام میں داخل ہوگیا اور اسے اچھی طرح پہچاننے کے بعد پھر اس سے مرتد ہوگیا تو اس کا کفر اسلام نہ لانے والے کافر سے بڑھ کر ہے، اس لیے ایسے شخص کی سزا قتل ہے اور یہ سزا حدیث رسول «من بدل دينه فاقتلوه» کے مطابق سب کے لیے عام ہے خواہ مرد ہو یا عورت۔ «واللہ اعلم »
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ١٤٩ (٣٠١٧)، والمرتدین ٢ (٦٩٢٢)، سنن ابی داود/ الحدود ١ (٤٣٥١)، سنن النسائی/المحاربة ١٤ (٤٠٦٥)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢ (٢٥٣٥) (تحفة الأشراف: ٥٩٨٧)، و مسند احمد (١/٢٨٢، ٢٨٣، ٣٢٣) (صحیح )
ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو ہمارے خلاف ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے ١ ؎۔ اس باب میں ابن عمر، ابن زبیر، ابوہریرہ اور سلمہ بن الاکوع ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Sayyidina Abu Musa (RA) reported that’Allah’s Messenger ﷺ said, “He who raises up weapon against us has nothing to do with us.” [Muslim 98, Ibn e Majah 2577]
صحيح، ابن ماجة (2575 - 2577)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1459
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مسلمانوں کے خلاف ناحق ہتھیار اٹھانے والا اگر اسے حلال سمجھ کر ان سے صف آرا ہے تو اس کے کافر ہونے میں کسی کو شبہ نہیں اور اگر اس کا یہ عمل کسی دنیاوی طمع و حرص کی بناء پر ہے تو اس کا شمار باغیوں میں سے ہوگا اور اس سے قتال جائز ہوگا۔
جندب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جادوگر کی سزا تلوار سے گردن مارنا ہے ۔
Sayyidina Jundub (RA) reported that Allah’s Messenger said, “The prescribed punishment on a sorcerer is execution by sword.”
ضعيف، الضعيفة (1446)، المشکاة (3551 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (2699) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1460
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن سے بھی مروی ہے، اور صحیح یہ ہے کہ جندب سے موقوفاً مروی ہے۔ ٢ - ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں، ٣ - اسماعیل بن مسلم مکی اپنے حفظ کے تعلق سے حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں، اور اسماعیل بن مسلم جن کی نسبت عبدی اور بصریٰ ہے وکیع نے انہیں ثقہ کہا ہے۔ ٤ - صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم صحابہ اور کچھ دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے، مالک بن انس کا یہی قول ہے، ٥ - شافعی کہتے ہیں: جب جادوگر کا جادو حد کفر تک پہنچے تو اسے قتل کیا جائے گا اور جب اس کا جادو حد کفر تک نہ پہنچے تو ہم سمجھتے ہیں کہ اس کا قتل نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٣٢٦٩) (ضعیف) (سند میں ” اسماعیل بن مسلم “ ضعیف ہیں جیسا کہ مؤلف نے خود صراحت کر سنن الدارمی/ ہے )
عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کو اللہ کی راہ میں مال (غنیمت) میں خیانت کرتے ہوئے پاؤ اس کا سامان جلا دو ۔ صالح کہتے ہیں: میں مسلمہ کے پاس گیا، ان کے ساتھ سالم بن عبداللہ تھے تو مسلمہ نے ایک ایسے آدمی کو پایا جس نے مال غنیمت میں خیانت کی تھی، چناچہ سالم نے (ان سے) یہ حدیث بیان کی، تو مسلمہ نے حکم دیا پھر اس (خائن) کا سامان جلا دیا گیا اور اس کے سامان میں ایک مصحف بھی پایا گیا تو سالم نے کہا: اسے بیچ دو اور اس کی قیمت صدقہ کر دو۔
Sayyidina Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If you find anyone stealing from the booty then burn his property,” Salih narrated that he went to Maslamah. Saalm ibn Abdullah was also there. He had found a man who had stolen from the booty. Saalim narrated this hadith, so Maslamah commanded that the man’s property should be burnt down. They found therein a copy of the Qur’an. Saalim said, “Sell this and give away its proceeds in charity. [Abu Dawud 2713, Ahmed 144]
ضعيف، ضعيف أبي داود (468) // عندنا (580 / 2713)، المشکاة (3633 / التحقيق الثاني)، تحقيق المختارة (191 - 194) // ضعيف الجامع الصغير (5871) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1461
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اسے صالح بن محمد بن زائدہ نے روایت کیا ہے، یہی ابو واقد لیثی ہے، یہ منکرالحدیث ہے، ٣ - بخاری کہتے ہیں کہ مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کے سلسلے میں نبی اکرم ﷺ سے دوسری احادیث بھی آئی ہیں، آپ نے ان میں اس (خائن) کے سامان جلانے کا حکم نہیں دیا ہے، ٤ - بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اوزاعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الجہاد ١٤٥ (٢٧١٣)، (تحفة الأشراف: ٦٧٦٣)، سنن الدارمی/السیر ٤٩ (٢٥٣٧) (ضعیف) (سند میں ” صالح بن محمد بن زائدہ “ ضعیف ہیں )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب کوئی آدمی دوسرے کو یہودی کہہ کر پکارے تو اسے بیس کوڑے لگاؤ، اور جب مخنث (ہجڑا) کہہ کر پکارے تو اسے بیس کوڑے لگاؤ، اور جو کسی محرم کے ساتھ زنا کرے اسے قتل کر دو ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated; The Prophet ﷺ said, “If anyone calls another person, O Jew’ then give him twenty stripes. If he calls the other, ‘O mukhannath’ then give him twenty st’ipes, And if anyone commits adultery with a mahram woman then kill him.” [Ibn e Majah 2568]
ضعيف، المشکاة (3632 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (610) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1462
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - ابراہیم بن اسماعیل بن علیہ حدیث کی روایت میں ضعیف ہیں، ٣ - نبی اکرم ﷺ سے یہ کئی سندوں سے مروی ہے، ٤ - براء بن عازب اور قرہ بن ایاس مزنی سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا تو نبی اکرم ﷺ نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا، ٥ - ہمارے اصحاب (محدثین) کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں: جو جانتے ہوئے کسی محرم کے ساتھ زنا کرے تو اس پر قتل واجب ہے، ٦ - (امام) احمد کہتے ہیں: جو اپنی ماں سے نکاح کرے گا اسے قتل کیا جائے گا، ٧ - اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: جو کسی محرم کے ساتھ زنا کرے اسے قتل کیا جائے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الحدود ١٥ (٢٥٦٨)، (تحفة الأشراف: ٦٠٧٥) (ضعیف) (سند میں ” ابراہیم بن اسماعیل “ ضعیف راوی ہیں )