Sunan At-Tirmidhi 1443

حدود کا بیان

1443Sunan At-Tirmidhi

نشہ والے کی حد

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَال: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ، فَضَرَبَهُ بِجَرِيدَتَيْنِ نَحْوَ الْأَرْبَعِينَ ، وَفَعَلَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ، اسْتَشَارَ النَّاسَ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: كَأَخَفِّ الْحُدُودِ ثَمَانِينَ، فَأَمَرَ بِهِ عُمَرُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، أَنَّ حَدَّ السَّكْرَانِ ثَمَانُونَ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک ایسا آدمی لایا گیا جس نے شراب پی تھی، آپ نے اسے کھجور کی دو چھڑیوں سے چالیس کے قریب مارا، ابوبکر ؓ نے بھی (اپنے دور خلافت میں) ایسا ہی کیا، پھر جب عمر ؓ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے اس سلسلے میں لوگوں سے مشورہ کیا، چناچہ عبدالرحمٰن بن عوف نے کہا: حدوں میں سب سے ہلکی حد اسی کوڑے ہیں، چناچہ عمر نے اسی کا حکم دیا۔

Sayyidina Anas narrated that a man was brought to the Prophet ﷺ for having consumed wine. He beat him with two palm branches about forty sthpes. Abu Bakr (RA) did the same thing. Then, Umar consulted the people and Abdur Rahman ibn Awf (RA) said, ‘ The lightest hadd is eighty stripes. So, Umar (RA) gave command accordingly. [Bukhari 1773, Muslim 1706]

صحيح، الإرواء (2377)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1443
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - انس کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - صحابہ میں سے اہل علم اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے کہ شرابی کی حد اسی کوڑے ہیں ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سلسلہ میں صحیح قول یہ ہے کہ شرابی کی حد چالیس کوڑے ہیں، البتہ امام اس سے زائد اسی کوڑے تک کی سزا دے سکتا ہے، لیکن اس کا انحصار حسب ضرورت امام کے اپنے اجتہاد پر ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحدود ٢ (٦٧٧١)، (بدون قصة الاستشارة)، صحیح مسلم/الحدود ٨ (١٧٠٦) سنن ابی داود/ الحدود ٣٦ (٤٤٧٩)، سنن ابن ماجہ/الحدود ١٦ (٢٥٧٠)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٤)، و مسند احمد (٣/١١٥، ١٨٠، ٢٤٧، ٢٧٢- ٢٧٣)، سنن الدارمی/الحدود ٩ (٢٣٥٧) (صحیح )