Sunan At-Tirmidhi 1462

حدود کا بیان

1462Sunan At-Tirmidhi

جو شخص کسی کو ہیجڑا کہ کر پکاریاس کی سزا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْعِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: يَا يَهُودِيُّ، فَاضْرِبُوهُ عِشْرِينَ، وَإِذَا قَالَ: يَا مُخَنَّثُ، فَاضْرِبُوهُ عِشْرِينَ، وَمَنْ وَقَعَ عَلَى ذَاتِ مَحْرَمٍ، فَاقْتُلُوهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيل يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ رَوَاهُ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ، وَقُرَّةُ بْنُ إِيَاسٍ الْمُزَنِيُّ، أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهِ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَصْحَابِنَا، قَالُوا: مَنْ أَتَى ذَاتَ مَحْرَمٍ وَهُوَ يَعْلَمُ فَعَلَيْهِ الْقَتْلُ، وقَالَ أَحْمَدُ: مَنْ تَزَوَّجَ أُمَّهُ قُتِلَ، وقَالَ إِسْحَاق: مَنْ وَقَعَ عَلَى ذَاتِ مَحْرَمٍ قُتِلَ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب کوئی آدمی دوسرے کو یہودی کہہ کر پکارے تو اسے بیس کوڑے لگاؤ، اور جب مخنث (ہجڑا) کہہ کر پکارے تو اسے بیس کوڑے لگاؤ، اور جو کسی محرم کے ساتھ زنا کرے اسے قتل کر دو ۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated; The Prophet ﷺ said, “If anyone calls another person, O Jew’ then give him twenty stripes. If he calls the other, ‘O mukhannath’ then give him twenty st’ipes, And if anyone commits adultery with a mahram woman then kill him.” [Ibn e Majah 2568]

ضعيف، المشکاة (3632 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (610) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1462
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - ابراہیم بن اسماعیل بن علیہ حدیث کی روایت میں ضعیف ہیں، ٣ - نبی اکرم ﷺ سے یہ کئی سندوں سے مروی ہے، ٤ - براء بن عازب اور قرہ بن ایاس مزنی سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا تو نبی اکرم ﷺ نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا، ٥ - ہمارے اصحاب (محدثین) کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں: جو جانتے ہوئے کسی محرم کے ساتھ زنا کرے تو اس پر قتل واجب ہے، ٦ - (امام) احمد کہتے ہیں: جو اپنی ماں سے نکاح کرے گا اسے قتل کیا جائے گا، ٧ - اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: جو کسی محرم کے ساتھ زنا کرے اسے قتل کیا جائے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الحدود ١٥ (٢٥٦٨)، (تحفة الأشراف: ٦٠٧٥) (ضعیف) (سند میں ” ابراہیم بن اسماعیل “ ضعیف راوی ہیں )