Al-Fajr 89:14

Al-Fajr · from ayah 14

89:14

اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ ۟ؕاِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِؕ

بے شک تمہارا پروردگار تاک میں ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, your Lord is in observation.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Fajr

All translations of 89:14

حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب گھات لگائے ہوئے ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بے شک تمہارا پروردگار تاک میں ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً تیرا رب گھات میں ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یقین رکھو تمہارا پروردگار سب کو نظر میں رکھے ہوئے ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک تمہارے رب کی نظر سے کچھ غائب نہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک آپ کا رب (سرکشوں اور نافرمانوں کی) خوب تاک میں ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک تیرا رب یقینا گھات میں ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بلاشبہ آپ کا پروردگار تو تاک میں ہوتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک تیرا خداوند گھات میں رہتا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک تمہارا رب گھات میں ہے (ایسے باغیوں اور سرکشوں کے لیے)

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک آپ کا پروردگار تاک میں ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

بیشک آپ کا رب تو (سرکشوں اور مفسدوں کی) تاک میں ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بیشک تمہارا رب تاک میں ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Truly your Lord is ever watchful.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely your Lord is ever on the watch.

— Muhammad Taqi Usmani

Surely your Lord is ever on the watch.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, your Lord is Ever Watchful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Indeed, your Lord is in observation.

— Saheeh International

your Lord keeps an eye on (all evil-doing people).

— Muhammad Sarwar

Most surely your Lord is watching.

— Muhammad Habib Shakir

Verily thy Lord is in an ambuscade,

— Abdul Majid Daryabadi

For thy Lord is (as a Guardian) on a watch-tower.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 89:14

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–14

شفع اور وتر سے کیا مراد ہے اور قوم عاد کا قصہ فجر تو ہر شخص جانتا ہے یعنی صبح اور یہ مطلب بھی ہے کہ بقر عید کے دن کی صبح، اور یہ مراد بھی ہے کہ صبح کے وقت کی نماز، اور پورا دن اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں۔ چناچہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں لوگوں نے پوچھا اللہ کی راہ کا جہاد بھی نہیں ؟ فرمایا یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا بعض نے کہا ہے محرم کے پہلے دس دن مراد ہیں حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے دس دن لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفَجْر 7 ظالموں اور مفسدوں کی حرکات پر نگاہ رکھنے کے لیے گھات لگائے ہونے کے الفاظ تمثیلی استعارے کے طور پر استعمال کیے گئے ہیں۔ گھاٹ اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کوئی شخص کسی کے انتظار میں اس غرض کے لیے چھپا بیٹھا ہوتا ہے کہ جب وہ زد پر آئے اسی وقت اس پر حملہ کر دے۔ وہ جس کے انتظار میں بیٹھا ہوتا ہے اسے کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ اس کی خبر لینے کے لیے کون کہاں چھپا ہوا ہے۔ انجام سے غافل، بےفکری کے ساتھ وہ اس مقام سے گزرتا ہے اور اچانک شکار ہوجاتا ہے۔ یہی صورت حال اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ان ظالموں کی ہے جو دنیا میں فساد کا طوفان برپا کیے رکھتے ہیں۔ انہیں اس کا کوئی احساس نہیں ہوتا کہ خدا بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ان ربک لبا لمرصاد، مرصاد اور مرصد رصدگاہ اور انتظار گاہ کو کہا جاتا ہے جو کسی مقام بلند پر ہو جہاں بیٹھ کر کوئی شخص دور دور تک کے لوگوں کو دیکھ سکے اور انکے افعال و اعمال کی نگرانی کرسکے۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ حق تعالیٰ ہر انسان کے تمام اعمال اور حرکات و سکنات کو دیکھ رہا ہے اور سب کو ان کی جزا وسزا دینے والا ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ جملہ ہی ان قسموں کا جواب ہے، جو والفجر والیال عشر میں مذکور ہوئی ہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

خلاصۂ بحث: یہ ان تمام قَسموں کا جو سورہ کی تمہید میں آئی ہیں اور ان تاریخی سرگزشتوں کا جن کی طرف اوپر اشارہ فرمایا ہے، خلاصہ سامنے رکھ دیا ہے۔ گویا موقع و محل اور مدعا کے اعتبار سے اس آیت کو سورہ میں مقسم علیہ کی حیثیت حاصل ہے جس کی تائید آفاق کے آثار بھی کر رہے ہیں اور تاریخ کے واقعات بھی۔ ’مِرْصَادٌ‘ گھات لگانے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آفاق اور تاریخ دونوں کے شواہد اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ کائنات کا خالق اس کو پیدا کر کے اس سے الگ تھلگ نہیں جا بیٹھا ہے بلکہ اس کی نگاہ ایک ایک چیز کی نگرانی کر رہی ہے۔ مجال نہیں ہے کہ کوئی چیز اس سے اوجھل ہو سکے۔ ہر چیز کی باگ اس کے ہاتھ میں ہے۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

14۔ 1 یعنی تمام مخلوقات کے اعمال دیکھ رہا ہے اور اس کے مطابق وہ دنیا اور آخرت میں جزا دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 10–16

6: فرعون کو میخوں والا اس لئے کہا گیا کہ وہ لوگوں کو سزا دینے کے لئے ان کے ہاتھ پاؤں میں میخیں گاڑ دیا کرتا تھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ان ربک ........................ صاد (14:89) ” حقیقت ہے کہ تمہارا رب گھات لگائے ہوئے ہے “۔ یعنی تمہارا رب حاضر وناصر ہے۔ وہ دیکھ رہا ہے اور اس کی نظروں سے کوئی چیز اوجھل نہیں ہوتی۔ وہ نگرانی کررہا ہے اور اس کی نظر سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ لہٰذا ایمان والوں کو چاہئے کہ وہ مطمئن ہوں ، ان کی مصیبتیں دور ہوں گی اس لئے کہ رب دیکھ رہا ہے اور وہ شر و فساد کا دفعیہ خود کرے گا اور قیامت میں سزا بھی دے گا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس دنیا میں دعوت اسلامی کو نہایت ہی عجیب طریقوں سے مدد دی جاتی ہے ہر جگہ اصحاب اخدود والا طریقہ پیش نہیں آتا۔ اسی طریقے کے مطابق قرآن دین کے لئے کام کرنے والوں کی اسی انداز سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی جیسے کوئی شخص گھات میں پوشیدہ رہ کر آنے جانے والوں کی خبر رکھتا ہے کہ فلاں کیونکر گزرا اور کیا کرتا ہوا گیا، اور فلاں کیا لایا اور کیا لے گیا، پھر وقت آنے پر اپنی ان معلومات کے موافق معاملہ کرتا ہے۔ اسی طرح سمجھ لو کہ حق تعالیٰ انسانوں کی آنکھوں سے پوشیدہ رہ کر سب بندوں کے ذرہ ذرہ احوال و اعمال دیکھتا ہے، کوئی حرکت و سکون اس سے مخفی نہیں۔ ہاں سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا، غافل بندے سمجھتے ہیں کہ بس کوئی دیکھنے اور پوچھنے والا نہیں جو چاہو بےدھڑک کئے جاؤ۔ حالانکہ وقت آنے پر ان کا سارا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیتا ہے اور ہر ایک سے انہی اعمال کے موافق معاملہ کرتا ہے جو شروع سے اس کے زیر نظر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 14–16

آیت 14{ اِنَّ رَبَّکَ لَبِالْمِرْصَادِ۔ } ”بیشک آپ کا رب تو سرکشوں اور مفسدوں کی تاک میں ہے۔“ یعنی کوئی فرد ہو یا کوئی قوم ‘ جو کوئی بھی اللہ تعالیٰ سے سرکشی کرے گا اللہ تعالیٰ اسے اس جرم کی سزا ضرور دے گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 14–15

11 تاک یا گھات ایسی جگہ کو کہتے ہیں جہاں کوئی شخص کسی کی انتظار میں اس لیے چھپا بیٹھا ہوتا ہے کہ جب وہ چیز اس کی زد میں آئے تو اس کے جال میں پھنس جائے۔ گزرنے والا اپنے انجام سے غافل اور بےفکری سے جارہا ہوتا ہے کہ اچانک شکار ہوجاتا ہے۔ یہی صورت حال اللہ کے مقابلہ میں ان ظالموں کی ہے جنہیں یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ کوئی ہستی انہیں دیکھ رہی ہے۔ وہ بڑی دیدہ دلیری سے گناہوں میں آگے ہی بڑھتے چلے جاتے ہیں تاآنکہ وہ حد آجاتی ہے جس سے آگے اللہ انہیں بڑھنے نہیں دینا چاہتا، اس وقت اچانک ان پر اللہ کے عذاب کا کوڑا برس جاتا ہے۔ اور اگر کسی فرد یا قوم پر دنیا میں ایسا وقت نہ بھی آئے تو ہر شخص کی موت اس کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

7۔ (چنانچہ اگلے سرکشوں کو تو وہ ہلاک ہی کرچکا ہے، اور موجودین کی طرف سے بھی غافل نہیں ہے)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–30

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے فجر کی یعنی ہر دن کی فجر کی، اور دس راتوں کی یعنی ذی الحجہ کی دس راتوں کی اور جفت کی یعنی زوج کی اور طاق کی اور الوتر وائو کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ ہے یہ دو لغت ہیں (وتر) میں بمعنی فرد، اور رات کی جب وہ رخصت ہونے لگے یعنی جب وہ آئے اور جائے، کیا اس قسم میں عقلمند کے لئے کافی قسم (نہیں) ہے ؟ اور جواب قسم محذوف ہے (اور وہ) لتعذبن یا کفار مکۃ ! ہے، (اے کفار مکہ ! تم کو ضرور عذاب دیا جائے گا) کیا اے محمد ﷺ آپ ﷺ کو معلوم نہیں کہ تریے رب نے عادیوں کے یعنی قوم ارم کے ساتھ کیا کیا ؟ ارم عاد اولیٰ ہے، ارم عطف بیان یا بدل ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان ربک لبا لمرصاد . یہ قسم کا جواب ہے یا محذوف جواب (ہم ان کو ضرور ہلاک کردیں گے) کی تاکید ہے۔ مرصاد ‘ گھات کا مقام۔ اللہ کے مرصاد میں ہونے کا یہ معنی ہے کہ اللہ بندوں سے اطاعت اور فرمانبرداری چاہتا ہے اور ان کے اعمال کو نگاہ میں رکھتا ہے۔ اس کو تمام اعمال کا علم ہے ‘ کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں ‘ جس طرح کمین گاہ میں بیٹھنے والے سے سامنے گزرنے والا مخفی نہیں ہوتا مگر انسان اس سے غافل ہے اس کے پیش نظر صرف دنیا اور اس کی لذتیں ہیں۔ اسی لیے آگے فرمایا :

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 13–16

(1613) سو آپ کے رب نے ان پر سخت عذاب نازل کیا، اللہ تعالیٰ ان کی گزر گاہ اور تمام مخلوق کی گزر گاہ پر بڑی گھات میں ہے، یا یہ کہ فرشتے راستوں پر بندوں کو سات مقامات پر روکتے ہیں اور سات خصلتوں کے بارے میں باز پرس کرتے ہیں لیکن کافر یعنی ابی بن خلف یا امیہ بن خلف، جب اللہ تعالیٰ اس کو مال و دولت بکثرت دے کر اور عیش و شرت عطا کر کے آزماتا ہے تو وہ بولتا ہے کہ اس سے میرے رب نے میری قدر بڑھا دی اور جب تنگی اور فاقہ کے ذریعے اس کو آزماتا ہے تو وہ بولتا ہے کہ اس سے میرے رب نے میری قدر بڑھا دی اور جب تنگی اور فاقہ کے ذریعے اس کو آزماتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ اس سے میرے رب نے میری قدر گھٹا دی

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(ان ربک لبا لمرصاد :”رصد یرصد رصداً) (ن) کسی کے راستے میں اس پر حملے کے انتظار میں بیٹھنا۔ ”الیمرصاد“ گھات، چھپ کر بیٹھنے کی جگہ جس میں بیٹھ کر دشمن پر حملے کا انتظار کیا جاتا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ ان کے لئے مقرر کردہ وقت کے انتظار میں ہے، جب مقرر وقت آتا ہے پکڑ لیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ان ربک لباالمرصاد۔ وہ انسان کے ہر عمل کی تاک میں ہوتا ہے یہاں تک کہ اسے اس عمل کے بدلے میں بدلہ دیتا ہے، یہ حضرت حسن بصری اور عکرمہ نے کہا، ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ وہ بندوں کے راستہ پر ہے کوئی اسے مفقود نہیں پاتا۔ مرصد اور مرصاد کا معنی راستہ ہے سورة برات میں گزرچکا ہے، ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ جہنم کے اوپر سات پل ہیں پہلے پل کے پاس انسان سے ایمان کے بارے میں پوچھاجائیگا اگر وہ اسے مکمل لے آیا تو وہ دوسرے پل کی طرف چلاجائے گا پھر اس سے نماز کے بارے میں پوچھاجائے گا اگر وہ انہیں بجالایا تھا تو وہ تیسرے پل کی طرف چلاجائے گا پھر اس سے زکوۃ کے بارے میں پوچھا جائے گا اگر وہ اسے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ان ربک لبا المرصاد بیشک آپ کا رب تاک میں ہے یعنی بیشک آپ کا رب سن رہا ہے اور دیکھ رہا ہے۔ 2۔ عبدالرزاق وابن جر یر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے آیت ان ربک لبالمرصاد کے بارے میں روایت کیا کہ وہ تاکنے والا ہے بنی آدم کے اعمال کو۔ پل صراط کتنے ہوں گے ؟ 3۔ الحاکم وصححہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت والفجر سے مراد ہے قسم آیت ان ربک لبالمرصاد سے مراد ہے صراط کے پیچھے کئی پل ہیں۔ ایک پل پر امانت ہے اور دوسرے پل پر رحم ہے اور تیسرے پل پر خود رب عزوجل ہیں۔ 4۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ۠ؕ0014﴾ (بلاشبہ آپ کا رب گھات میں ہے) مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے اعمال اور احوال سے غافل نہیں ہے اسے سب کچھ خبر ہے جو نافرمان دنیا میں موجود ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ سابقہ اقوام ہی عذاب کی مستحق تھیں ہم عذاب سے محفوظ رہیں گے۔ دنیا میں اگر کوئی شخص جرم کر کے بھاگنے لگے اور اس کے راستہ میں پکڑنے والے بٹھا دیئے جائیں جو خوب گہری نظروں سے دیکھتے رہیں اور گھات میں لگے رہیں کہ یہاں سے کب گزرے اور کب پکڑیں، اسی طرح سمجھ لیں کہ مجرمین پکڑے جائیں گے یہ نہ سمجھیں کہ ہم کہیں بھاگ کر بچ جائیں گے۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ﴾ میں اس مضمون کو ادا فرمایا ہے۔ قال…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–30

تاریخ اقوام مکذبین وتقسیم فطرت انسانی بصوت شقاوت وسعادت : قال اللہ تعالیٰ : والفجر ولیال عشر ............. الی .............. وادخی جنتی “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت کے احوال ذکر کیے گئے تھے اور یہ کہ ان ہولناک واقعات کا انسانی قدرت اور مادی اسباب کے دائرہ میں کوئی مقابلہ اور دفاع نہیں ہوسکتا۔ مقابلہ اور مدافعت تو درکنار اس پر بدحواسی اور اضطراب کا یہ عالم ہوگا کہ انسان اپنے آپ کو بےبس دیکھ رہا ہوگا، اور مجرمین پر خداوند عالم کا ایسا عذاب مسلط ہوگا کہ اس کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ہے تو اب اس سورت میں بالخصوص ایسے عبرت ناک تاریخی واقعات بیان فرمائے گئے جن کو پڑھ کر ہر انسان عبرت حاصل کرے اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

7:۔ ” ان ربک “ بیشک تیرا پروردگار گھات میں ہے۔ یہ احاطہ علم الٰہی سے کنایہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے تمام اعمال کو دیکھ رہا ہے اور سب کچھ اس کے حیطہ علم میں ہے۔ دنیا کے پیچھے نہ دوڑو، دیکھو دنیا کی خاطر دین چھوڑنے والی قوموں کا حشر کس قدر ہولناک ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–14

(فجر اور دس راتیں ) ارشاد ہوتا ہے والفجر قسم ہے فجر کی ولیال عشر اور قسم ہے دس 10 راتوں کی ۔ فجر اور دس راتوں سے کون سی فجر اور کون سی دس راتیں مراد ہیں اس میں مفسرین کرام کے مختلف اقوال ہیں ۔ بعض فرماتے ہیں کہ فجر سے مطلق مراد ہے ۔ جو ہر روز طلوع ہوتی ہے۔ اور دس راتوں سے مراد رمضان المبارک کی آخری دس راتیں ہیں ۔ جن میں لیلۃ القدر جسیی عظیم اور بابرکت رات آتی ہے۔ اور جس میں عبادت کا اجر ثواب ایک ہزار مہینے سے زیادہ ہوتا ہے ۔ ان راتوں میں اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی شامل حال ہوتی ہے۔ دنیا میں عظیم انقلاب برپا کرنے والی کتاب قرآن پاک کے نزول کی ابتداء بھی اسی رات میں ہوئی ۔ بعض فرماتے ہیں کہ فجر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ۝ 14 ۭ إِنَّ وأَنَ إِنَّ أَنَّ ينصبان الاسم ويرفعان الخبر، والفرق بينهما أنّ «إِنَّ» يكون ما بعده جملة مستقلة، و «أَنَّ» يكون ما بعده في حکم مفرد يقع موقع مرفوع ومنصوب ومجرور، نحو : أعجبني أَنَّك تخرج، وعلمت أَنَّكَ تخرج، وتعجّبت من أَنَّك تخرج . وإذا أدخل عليه «ما» يبطل عمله، ويقتضي إثبات الحکم للمذکور وصرفه عمّا عداه، نحو : إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ [ التوبة/ 28] تنبيها علی أنّ النجاسة التامة هي حاصلة للمختص بالشرک، وقوله عزّ وجل : إِنَّما حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ [ البقرة/ 173] أي : ما حرّم ذلك إلا تنبيها علی أنّ أعظم المحرمات من المطعومات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–14

ترکیب ¦ ارم ذات العماد عطف بیان لعادا وبدل منہ وارم غیر منصرف للتعریف والتانیث وارم 1 ؎ جدعادلانہ عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوح وقال قتادہھی قبیلۃ من عاد قال ابو عبیدہ ھما عادان فالاولیٰ ارم۔ ومعنی ذات العماد و ذات القوۃ والشدۃ وقیل ذات الطوال یقال رجل طویل العماد ای القامۃ وفی الصحاح العماد الابنیۃ الرفیعۃ تذکر و تؤنث۔ التی لم یخلق الخ صفۃ لعاد وقیل صفۃ ارم علی قول من قال ان ارم قریۃ وارض وثمود بالنصب عطفا علی عاد مجرور محلا علی انہ اسم للقبیلۃ ففیہ التانیث والتعریف فھو غیر منصرف الذین الخ صفۃ لثمود جابوا الجوب القطع ومنہ جاب البلاد واذا قطعھا ومنہ جیب القمیص لانہ قطع بالواد متعلق بجابوا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ رَبَّکَ لَبِالْمِرْصَادِ ۔ (الفجر : 14) (بیشک آپ کا رب گھات میں رہتا ہے۔ ) خلاصہ بحث گھات اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کوئی شخص کسی کے انتظار میں اس غرض کے لیے چھپا ہوا ہو کہ جب وہ زد پر آئے تو اس پر حملہ کردے۔ لیکن جس کے انتظار میں بیٹھا ہوا ہے اسے کچھ خبر نہیں کہ کوئی اس کے لیے انتظار میں ہے۔ وہ انجام سے بیخبر اور بےفکری کے ساتھ اس مقام کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے اور اچانک شکار ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کسی کو نظر نہیں آتی۔ اس کی نشانیاں ہر طرف بکھری ہوئی ہیں لیکن لوگ ان کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ لیکن وہ سب کو دیکھتا ہے اور ان کے اعمال کا جائزہ لیتا ہے۔ جو لوگ اس حقیقت سے بیخبر ہیں اور وہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 6–14

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں جس طرح اس کی قدرت کی نشانیاں پائی جاتی ہیں اسی طرح یہ بات بھی اس کی قدرت اور قوت کا مظہر ہے کہ اس نے عاد اور ثمود جیسی قوموں کو نیست و نابود کیا جن کی تباہی سے لوگوں نے سکون پایا۔ موجودہ جغرافیے کے مطابق قوم عاد کی رہائش عمان اور یمن کے علاقے حضرموت کے درمیان تھی یہ علاقہ سمندر کے کنارے پر واقع تھا یہاں ریت کے بڑے بڑے ٹیلے اور بلندوبالا پہاڑ تھے۔ اس کے باسی جسمانی اعتبار سے دراز قامت، کڑیل جوان اور قوی ہیکل تھے دنیا میں ان کا ثانی کوئی نہیں پیدا کیا گیا۔ انھوں نے پہاڑتراش، تراش کر خوبصورت محلات تعمیر کر رکھے تھے ان کی سرزمین نہایت سر سبزتھی جس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

14 : اِنَّ رَبَّکَ لَبِالْمِرْصَادِ (بیشک آپ کا رب گھات میں ہے) مرصادؔ وہ جگہ جہاں رصد کا انتظار کیا جاتا ہے۔ یہ مفعال کا وزن ہے اور رصدہ سے لیا گیا ہے۔ یہ تمثیل ہے کہ وہ اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے۔ اور وہ بندے اس سے کسی طرف نکل نہیں سکتے۔ بندوں کے تمام اعمال سے آگاہ ہے۔ اور حافظ و نگہبان ہے۔ پس ان اعمال پر وہ بدلہ دے گا۔ اگر خیر ہونگے تو اچھا اور اگر برے ہونگے تو برا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

14 ۔” ان ربک لبالمر صاد “ اللہ کے مرصاد ہونے کا معنی یہ ہے کہ اللہ بندوں سے اطاعت اور فرمانبرداری چاہتا ہے اور ان کے اعمال کو نگاہ میں رکھتا ہے اس کو تمام اعمال کا علم ہے۔ کلبی (رح) کا بیان ہے یہ بندوں کا طریقہ ہے۔ مقاتل نے کہا کہ لوگوں کے گزرنے کی جگہ اور مرصد راستے کو کہتے ہیں۔ حسن اور عکرمہ رحمہما اللہ کا بیان ہے کہ بنی آدم کے اعمال کا مقام ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–14

1۔ 14۔ دس راتوں اور طاق اور جفت کی تفسیر اگرچہ سلف نے طرح طرح سے کی ہے لیکن امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس اور ابن زبیر ؓ اور مجاہد اور اکثر سلف کا قول یہی ہے کہ دس راتوں سے مراد ماہ ذی الحجہ کی اول کی دس راتیں ہیں یہی قول زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے کیونکہ مسند 3 ؎ امام احمد نسائی و مستدرک حاکم بیہقی وغیرہ میں حضرت جابر ؓ کی مرفوع روایت میں یہی تفسیر آچکی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ان دس راتوں سے مراد شروع ذی الحجہ کی دس راتیں ہیں۔ حاکم نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے اور طاق اور جفت کی تفسیر میں یہ قول صحیح معلوم ہوتا ہے کہ طاق اور جفت سے مراد طاق اور جفت نمازیں ہیں جیسے مغرب اور عشاء ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ ) بیشک آپ کا رب گھات میں ہے۔ اس شخص کی گھات میں ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے، اسے تھوڑا سا عرصہ مہلت دیتا ہے پھر وہ اسے غالب اور قدرت والے کی طرح پکڑتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(15) رب کے گھات میں ہونے کا ذکر اور اس کا مطلب ؟ سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف " ان " اور لام تاکید کی ذیل تاکید کے ساتھ موکد کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک تمہارا رب گھات میں ہے "۔ سو یہ غافل انسانوں کے دل و دماغ کو جھنجھوڑنے اور ان کو خواب غفلت سے بیدار کرنے اور چونکا دینے کے لیے ایک عظیم الشان اور موثر وبلیغ استعارہ ہے۔ گھات دراصل اس جگہ کو کہا جاتا ہے جہاں کوئی کسی کی تاک و انتظار میں بیٹھتا ہے کہ جونہی وہ نشانہ پر آئے اسے دھر لیا جائے، جبکہ اس شخص کو اس کا پتہ ہی نہیں ہوتا کہ کوئی اس طرح اس کی تاک و انتظار میں گھات لگائے بیٹھا ہے، جس کے باعث وہ غفلت و لاپرواہی میں ایسے جارہا ہوتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–30

نیک و بد کی تمیز اور میدان حشر تشریح : اس سورت میں ان لوگوں کو جگانے کی کوشش کی گئی ہے جو شیطان کے بہلاوے میں آ کر سرکشی ' نفرت ' نافرمانی ' تکبر اور ناشکر گزاری کی عادات کو اپنا لیتے ہیں۔ بیشک یہ مال و دولت ' عزت شہرت اور آل و اولاد کی کثرت میں زیادہ سے زیادہ لالچی اور انسانیت کی حدود سے دور ہوتے ہوئے بس اپنے میں ہی مست ہوجاتے ہیں اور ان کے دل میں مال کی محبت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ وہ مال دینے والے (اللہ) سے ہی دور ہوجاتے ہیں اور حرام و حلال کا فرق بھول جاتے ہیں۔ نہ ان کو یہ خیال رہتا ہے کہ یتیم کا مال ہے یا غریب کی مدد کرنی چاہیے۔ بس وہ تو صرف مال کی محبت ہی میں کھو جاتے ہیں۔ اور جب کبھی ان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة الفجر۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی اور جفت اور طاق کی اور رات کی جب وہ چلنے لگے یعنی طلوع فجر اور ذی الحج کی دس راتیں پھر یوم عرفہ جس روز لوگ کفن پہنے عرفات میں ہوتے ہیں اور جفت یعنی دس ذی الحج جب لوگ قربانی کرتے ہیں اور جب رات ڈھل چکی ہوتی ہے جانے والی ہوتی ہے کہ فجر بھی ایک عظیم انقلاب ہے جو ہر لمحہ دنیا پر بپا ہورہا ہے لوگ نیندار سے بیدار ہو کر کاروبار حیات میں مصروف ہوجاتے ہیں اور ذی الحج کی دس راتیں یعنی عشرہ ذی الحج کہ قبل اسلام بھی لوگ حج کے نام پر رسومات ادا کرتے اور ظہور اسلام پر توکفن پہنے بیشمار اللہ کی مخلوق عمرے کررہی ہوتی ہے اور رات اور دن کا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(89:14) ان ربک لبالمرصاد : بعض کے نزدیک یہ ان قسموں کا جو آیات 1 تا 4 میں مذکور ہیں جواب ہے۔ اس صورت میں درمیانی کلام کلام معترضہ ہوگی۔ ترجمہ ہوگا :۔ قسم ہے (ان چیزوں کی یا امور کی جو آیات 1 تا 4 میں مذکور ہیں کہ) بیشک تیرا رب گھاٹ لگائے ہوئے ہے۔ صاحب تفہیم القرآن اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :۔ ظالموں اور مفسدوں کی حرکات پر نگاہ رکھنے کے لئے گھات لگائے ہوئے ہونے کے الفاظ تمثیلی اور استعارے کے طور پر استعمال ہوئے ہیں۔ گھات اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کوئی شخص کسی کے انتظار میں اس غرض سے چھپا بیٹھا ہوتا ہے کہ جب وہ زد پر آئے تو اسی وقت اس پر حملہ کر دے۔ وہ جس کے انتظار میں بیٹھا ہوتا ہے اسے کچھ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–30

لغات القرآن۔ لیال عشر۔ دسرراتیں۔ الشفع۔ جفت عدد۔ الوتر۔ طاق عدد۔ ذی حجر۔ عقل والے۔ ذات المعاد۔ ستونوں والے۔ جابوا۔ تراشے۔ کاٹے۔ ذی الاوتاد۔ میخوں والا۔ صب۔ ڈال دیا۔ سوط۔ کوڑا۔ المرصاد۔ گھات میں ہے۔ اھانن۔ مجھے ذلیل کردیا۔ لا تکرمون ۔ تم عزت نہیں کرتے۔ التراث۔ میراث۔ اکلا لما۔ سب سمیٹ کر کھانا۔ حبا جما۔ بہت زیادہ محبت۔ دکت۔ کوٹ ڈالی گئی۔ النفس المطمئنۃ۔ اطمینان و سکون والا نفس۔ تشریح : اس دنیا میں ہر لمحہ انقلاب بپا ہے۔ کروڑوں سال سے رات دن، صبح اور شام کا آناجانا، چاند، سورج ، ستاروں کا نکلنا، ڈوبنا، غائب ہوجانا اور پھر سے ابھر کر پوری آب و تاب سے نکلنا، اسی طرح قوموں کا عروج وزوال ہر ابتداء…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 6–14

صاحب قوت اقتدار لوگوں کا عذاب الٰہی سے ہلاک ہونا۔ (ف 1) فرمایا کہ کیا تم نے نہ دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے عاد یعنی ارم ستون جیسے دراز قد والوں کے ساتھ کیسامعاملہ کیا، زور وقوت اور طول قیامت میں عاد کے بیٹوں میں سے شداد بھی ہے جس نے دنیا پر بادشاہت کی اور تمام بادشاہ اس کے مطیع ہوگئے اور اس نے جنت کا ذکر سن کر براہ سرکشی دنیا میں جنت بنانی چاہی اور اس ارادہ سے ایک شہرعظیم بنایاجس کے محل سونے چاندی کی اینٹوں سے تعمیر کیے گئے اور زبرجد اور یاقوت کے ستون اس کی عمارتوں میں نصب ہوئے اور ایسے ہی فرش مکانوں اور ستونوں میں بنائے گئے سنگریزوں کی جگہ آبدار موتی بچھائے گئے ہر محل کے گرد جواہر پر نہریں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 14–15

[7] مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ کائنات کی ایک ایک چیز کی نگرانی کر رہی ہے۔ مجال نہیں کہ کوئی چیز اس سے اوجھل ہو سکے۔ ہر چیز کی باگ اس کے ہاتھ میں ہے۔ اگر کوئی قوم سرکشی کی روش اختیار کرتی ہے تو وہ اس کو مہلت تو ضرور دیتا ہے لیکن ایک خاص حد تک جس سے تجاوز کرنے کی اجازت وہ نہیں دیتا۔ اگر وہ حد سے تجاوز کرتی ہے تو وہ فوراً اس کو دھر لیتا ہے۔ یہ صورت حال اس امر کی واضح دلیل ہے کہ یہ دنیا کسی کھلنڈرے کا کھیل نہیں ہے بلکہ ایک بامقصد کارخانہ ہے۔ اس کے اندر قوموں کی تغیری و بحالی کا جو ضابطہ اللہ تعالیٰ نے جاری کر رکھا ہے وہ اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ اس کے ساتھ ایک روز جزا اور سزا بھی ہے جس کا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–14

سورة الفجر 1: اس سورت میں قسموں کے انداز میں شواہد کو پیش فرمایا ہے اور دلائل کا ذکر کیا ہے ۔ اسی واسطے فرمایا ہے ۔ ھل فی ذلک قسم لذی حجر ۔ کہ اس میں عقلمندوں اور غوروفکر کرنے والوں کے لئے ایک بین دلیل ہے ۔ اس لئے مقام اور موقع کے لحاظ سے زیادہ موزوں یہ ہے کہ یہاں الفجر سے مراد فجر قیامت ہو اور دس راتوں سے مراد وہ دس راتیں ہوں جن میں نافرمان قوموں پر عذاب بھیجا گیا اور الشفع والوتر حسوما اور الیل اذیسر ۔ غرض ہر وہ رات ہے جو معذب قوموں پر آتی ہے ۔ اس نہج سے یہ دعوی ان ربک لبا لمرصاد بالکل درست اور صحیح ثابت ہوگا ۔ یعنی ان معذب قوموں کی تاریخ پڑھو اور ان کے حالات کا مطالعہ کرو ۔ تمہیں معلوم…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(14) بیشک آپ کا پروردگار شریروں کی گھات میں لگا ہوا ہے - اہل مکہ کی تخویف کے لئے یہاں چند واقعات کا ذکر کیا جن کا تعلق پہلے انبیاء کے ساتھ ہے اور جنہوں نے اپنی نافرمانی کی سخت سزا پائی ہے ۔ ان میں سے ایک تو قوم عاد ہے، یہ لوگ عادبن عوص بن ارم بن سام بن نوح (علیہ السلام) ہیں ان کو عاداولیٰ بھی کہتے ہیں ان میں حضرت ہود (علیہ السلام) پیغمبر بنا کر بھیجے گئے تھے لفظ ارم بڑھانے سے یہ بات معلوم ہوئی کہ یہ عاد اولیٰ ہیں اور جن کو عاد ثانیہ یا عاد اخریٰ کہتے ہیں وہ ثمود کے ساتھ مل جاتے ہیں اور ان میں حضرت صالح مبعوث ہوئے تھے۔ بہرحال ان کو ذات العماد کہا یا تو یہ بڑی بڑی اونچی عمارتیں بڑے بڑے اونچے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 10–15

ف 2۔ دو منثور میں عبداللہ بن مسعود سے اس کی تفسیر میں منقول ہے کہ وہ جس کو سزا دیتا اس کے چاروں ہاتھ پاوں چار میخوں سے باندھ کر سزا دیتا اور اس کی ایک تفسیر سورة ص میں گزر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلا شبہ تیرا رب ایسے نافرمانوں کی تاک میں ہے 14 ؎ ( المرصاد) ظرف مکان مفرد۔ مراصد جمع گھات لگانے کی جگہ یعنی جس طرح گھات لگا کر کسی مخفی مقام پر بیٹھنے والے سے ادھر سے گزرنے والا دشمن بچ نہیں سکتا اور گھات لگانے والے سے دشمن مخفی نہیں رہ سکتا اسی طرح در پردہ اللہ رب کریم بھی بندوں کے تمام اعمال سے با خبر ہے ، اس سے بچ کر ، چھپ کر کوئی شخص راہ زندگی طے نہیں کرسکتا ۔ گھات لگانے کے چار اجزاء ہیں ، گھات لگانے کا مقام دشمن سے مخفی ہو ، دشمن کی وہ گزر گار ہو ، وہاں بیٹھنے والے کو دشمن کے احوال کی اطلاع ہوجائے اور اس کی گرفت سے بچ نہ کرسکے۔ یہ چاروں باتیں اس جگہ بھی مراد ہیں ۔ بندوں کو معلوم نہیں کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ (Surely your Lord is ever on the watch....89:14]. The word mirsad or marsad [ is derived from the root rasada which means 'to lie in wait or on watch']. Thus it means 'an ambush, or a place of observation; it is usually used for a place where persons have to travel through a pass in which someone is lying in wait to strike them'. The verse purports to say that Allah is ever watching and observing their movements and activities. No one should think that he could escape Divine torment, because all are under His authority and Power, and He may administer His…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

7 The words "ever lying in ambush" have been used metaphorically for keeping watch on the movements and activities of the wicked and mischievous people. An ambush is a place where a person lies hiding in wait to attack somebody by surprise. The victim, thoughtless of his fate, comes and falls a prey. The same is the case against AIlah of those wicked people who spread mischief in the world and have no sense and tear that there is God above them, Who is watching alI their misdeeds. Therefore, they go on committing everyday more and more evils fearlessly until they reach the limit which Allah…

Read the full tafseer →