Explained with ayahs 1–14
شفع اور وتر سے کیا مراد ہے اور قوم عاد کا قصہ
فجر تو ہر شخص جانتا ہے یعنی صبح اور یہ مطلب بھی ہے کہ بقر عید کے دن کی صبح، اور یہ مراد بھی ہے کہ صبح کے وقت کی نماز، اور پورا دن اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں۔ چناچہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں لوگوں نے پوچھا اللہ کی راہ کا جہاد بھی نہیں ؟ فرمایا یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا بعض نے کہا ہے محرم کے پہلے دس دن مراد ہیں حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے دس دن لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
سورة الْفَجْر 6
فرعون کے لیے ذوالاوتاد (میخوں والا) کے الفاظ اس سے پہلے سورة ص آیت 12 میں بھی استعمال ہوئے ہیں۔ اس کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ اس کی فوجوں کو میخوں سے تشبیہ دی گئی ہو اور میخوں والا کا مطلب فوجوں والا ہو، کیونکہ انہی کی بدولت اس کی سلطنت اس طرح ہوئی تھی جیسے خیمہ میخوں کے ذریعہ سے مضبوطی کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد فوجوں کی کثرت ہو اور مطلب یہ ہو کہ اس کے لشکر جہاں بھی جا کر ٹھیرتے تھے وہاں ہر طرف ان کے خیموں کی میخیں ہی ٹھکی نظر آتی تھیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد وہ میخیں ہوں جن سے ٹھوک کر وہ لوگوں کو عذاب دیتا تھا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ…
Read the full tafseer →قصب علیہم ربک سوط عذاب، قوم عادوثمود اور قوم فرعون کے شروفساد کا تذکرہ فرماتے ہوئے جو عذاب ان پر نازل ہوا اس کو عذاب کو کوڑا برسانے کے عنوان سے تعبیر کیا ہے اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ جس طرح کوڑا مختلف اطراف بدن پر پڑتا ہے ان پر بھی مختلف قسم کے عذاب نازل کئے گئے۔
Read the full tafseer →قوموں کے باب میں سنت الٰہی:
’فَصَبَّ عَلَیْْہِمْ رَبُّکَ سَوْطَ عَذَابٍ‘۔ یہ اس فساد کے غلبہ کا انجام بیان ہوا ہے کہ جب ان کے ہر شعبۂ زندگی میں فساد سرایت کر گیا تو اس کا قدرتی انجام ان کے سامنے اس شکل میں آیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب کے کوڑے برسا دیے۔ یہ عذاب جن جن شکلوں میں آیا اس کی تفصیل پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ جب کسی قوم کو اپنی زمین میں اقتدار و اختیار بخشتا ہے تو اس کو شتر بے مہار کی طرح چھوڑ نہیں دیا کرتا بلکہ وہ اس کی نگرانی کرتا رہتا ہے کہ وہ اس اقتدار کو کس طرح استعمال کرتی ہے۔ اگر وہ اس کو خدا کے مقرر کیے ہوئے حدود کے اندر استعمال کرتی ہے تو…
Read the full tafseer →13۔ 1 یعنی ان پر آسمان سے اپنا عذاب نازل فرما کر ان کو تباہ برباد یا انہیں عبرتناک انجام سے دوچار کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
6: فرعون کو میخوں والا اس لئے کہا گیا کہ وہ لوگوں کو سزا دینے کے لئے ان کے ہاتھ پاؤں میں میخیں گاڑ دیا کرتا تھا۔
Read the full tafseer →فصب ................................ صاد (14:89) ” آخر کار تمہارے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسا دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب گھات لگائے ہوئے ہے “۔ تمہارے گھاس میں ہے اور وہ ان کے اعمال کو ریکارڈ کررہا ہے اور جب ان کا فساد حد سے زیادہ ہوگیا تو اللہ کا کوڑا بجنے لگتا ہے اور ان پر اس دنیا ہی میں عذاب الٰہی نازل ہونے کا عمل جاری ہوجاتا ہے۔ عذاب کے کوڑے سے مراد یہاں عذاب کی شدت اور چبھن ہے۔ مراد یہ ہے کہ اللہ کا عذاب بہت عام اور ہمہ گیر ہوتا ہے اور وہ ہر طرف سے ان سرکشوں پر انڈیل دیا جاتا ہے جس کے اندر درد چبھن اور گہرائی ہوتی ہے ، اور یہ ان سرکشوں کو لے ڈوبتا ہے۔ جنہوں نے اپنی سرکشیوں کی وجہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
7 یعنی ان قوموں نے عیش و دولت اور زور و قوت کے نشہ میں مست ہو کر ملکوں میں خوب اودھم مچایا۔ بڑی بڑی شرارتیں کیں اور ایسا سر اٹھایا گویا ان کے سروں پر کوئی حاکم ہی نہیں ؟ ہمیشہ اسی حال میں رہنا ہے ! کبھی اس ظلم و شرارت کا خمیازہ بھگتنا نہیں پڑے گا ؟ آخر جب ان کے کفر وتکبر اور جورو ستم کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ اور مہلت و درگزر کا کوئی موقع باقی نہ رہا دفعتاً خداوند قہار نے ان پر اپنے عذاب کا کوڑا برسا دیا۔ ان کی سب قوت اور بڑائی خاک میں مل گئی اور وہ سازو سامان کچھ کام نہ آیا۔
Read the full tafseer →آیت 13{ فَصَبَّ عَلَیْہِمْ رَبُّکَ سَوْطَ عَذَابٍ۔ } ”تو دے مارا ان کے اوپر آپ کے رب نے عذاب کا کوڑا۔“
چناچہ یہ سب قومیں اپنی سرکشی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار بنیں اور دنیا سے ان کا نام و نشان مٹ گیا۔
Read the full tafseer →10 ان تینوں تاریخی واقعات میں قدر مشترک یہ ہے کہ یہ سب اقوام آخرت کی منکر تھیں۔ اور جو فرد یا قوم آخرت پر ایمان نہ رکھتی ہو۔ وہ اپنی زندگی بےباکانہ اور شتر بےمہار کی طرح گزارتی اور فسق و فجور میں مبتلا ہوجاتی ہے۔ اور جب وہ ایک مخصوص حد سے آگے بڑھ جاتی ہے تو اس کے گناہوں کا ڈول بھر جاتا ہے اور عذاب الٰہی کی گرفت میں آجاتی ہے۔ ان واقعات سے استدلال یہ پیش کیا گیا ہے کہ آخرت کا عقیدہ محض تصوراتی نظر یہ نہیں بلکہ ایک ٹھوس حقیقت ہے۔ اور جس طرح انسان کسی ٹھوس حقیقت کے مقابلہ پر اتر آنے اور ٹکرانے سے پاش پاش ہوجاتا ہے۔ آخرت کے منکروں کا بھی یہی حال ہوتا رہا ہے اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
6۔ ان تینوں قوموں کا تعلق مختلف ملکوں اور سرزمینوں سے تھا، تاریخی زمانے بھی ان کے الگ الگ ہوئے ہیں، جو شے ان سب میں مشترک تھی، وہ ان کی توحید بیزاری اور آخرت فراموشی تھی، لازما عذاب میں بھی تینوں شریک رہے۔ (آیت) ” الفساد “۔ فساد عربی میں صلاح کی ضد ہے، اور فسق ومعصیت کی ہر قسم کو شامل۔ الفساد ضد الصلاح فکما ان الصلاح یتناول جمیع اقسام البر فالفساد یتناول جمیع اقسام الاثم (کبیر) الفساد خروج الشیء عن الاعتدال قلیلا کان الخروج عنہ اوکثیرا ویضادہ الصلاح (راغب) صب، سوط عذاب، عذاب کو ’ تازیانہ سے تعبیر فرمایا گیا ہے، اور اس کے نازل کرنے کو برسانے سے، ان استعاروں سے شدت عذاب کا اظہار ہے۔ قال اھل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے فجر کی یعنی ہر دن کی فجر کی، اور دس راتوں کی یعنی ذی الحجہ کی دس راتوں کی اور جفت کی یعنی زوج کی اور طاق کی اور الوتر وائو کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ ہے یہ دو لغت ہیں (وتر) میں بمعنی فرد، اور رات کی جب وہ رخصت ہونے لگے یعنی جب وہ آئے اور جائے، کیا اس قسم میں عقلمند کے لئے کافی قسم (نہیں) ہے ؟ اور جواب قسم محذوف ہے (اور وہ) لتعذبن یا کفار مکۃ ! ہے، (اے کفار مکہ ! تم کو ضرور عذاب دیا جائے گا) کیا اے محمد ﷺ آپ ﷺ کو معلوم نہیں کہ تریے رب نے عادیوں کے یعنی قوم ارم کے ساتھ کیا کیا ؟ ارم عاد اولیٰ ہے، ارم عطف بیان یا بدل ہے…
Read the full tafseer →فصب علیھم ربک سوط عذاب . نتیجہ میں اللہ نے ان پر عذاب کے کوڑے برسائے یعنی ہر قسم کا ملا
جلا عذاب ان پر نازل کیا۔
سَوْطَ عَذَابٍ : میں صفت کی اضافت موصوف کی جانب ہے۔ اصل میں عَذَابَ سَوْطٍ تھا۔ یعنی مخلوط عذاب جیسے : اَخْلاَقُ
ثِیَابٍ : پرانے کپڑے۔ سَوط کا اصل لغوی معنی ہے مخلوط کردینا۔ کوڑے میں مختلف بل مخلوط ہوتے ہیں ‘ اسی لیے اس کو سوط کہتے ہیں۔ آخرت کے عذاب کے مقابلہ میں دنیا کا عذاب ایسا ہے جیسے تلوار کے مقابلہ میں کوڑا اسی لیے دنیوی عذاب کو کوڑے سے تشبیہ دی۔ قتادہ نے کہا (اضافت بتقدیر مِن ہے) یعنی عذاب سے بنے ہوئے کوڑے اللہ نے ان پر برسائے۔ اہل معانی کہتے ہیں کہ یہ استعارہ ہے عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
(1613) سو آپ کے رب نے ان پر سخت عذاب نازل کیا، اللہ تعالیٰ ان کی گزر گاہ اور تمام مخلوق کی گزر گاہ پر بڑی گھات میں ہے، یا یہ کہ فرشتے راستوں پر بندوں کو سات مقامات پر روکتے ہیں اور سات خصلتوں کے بارے میں باز پرس کرتے ہیں لیکن کافر یعنی ابی بن خلف یا امیہ بن خلف، جب اللہ تعالیٰ اس کو مال و دولت بکثرت دے کر اور عیش و شرت عطا کر کے آزماتا ہے تو وہ بولتا ہے کہ اس سے میرے رب نے میری قدر بڑھا دی اور جب تنگی اور فاقہ کے ذریعے اس کو آزماتا ہے تو وہ بولتا ہے کہ اس سے میرے رب نے میری قدر بڑھا دی اور جب تنگی اور فاقہ کے ذریعے اس کو آزماتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ اس سے میرے رب نے میری قدر گھٹا دی
Read the full tafseer →(فصب علیھم ربم سوط عذاب : ان میں سے کسی پر ہم نے پتھر بسرانے والی آندھی بھیجی، کسی کو چیخ نے پکڑ لیا، کسی کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور کسی کو غقر کردیا۔ تفصیل کے لئے دیکھیے سورة عنکبوت کی آیت (40) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
الذین طغوافی البلاد۔۔۔۔ تا۔۔۔ عذاب۔
الذین سے مراد قوم عاد، قوم ثمود اور قوم فرعون ہے انہوں نے سرکشی اور ظلم وعدوان میں حد سے تجاوز کیا اور وہ ظلم اور اذیت میں بہت آگے بڑھ گئے، الذین طغوا کے بارے میں بہترین توجیہ یہ ہے کہ یہ مذمت کے طور پر محل نصب میں ہو، یہ بھی جائز کہ یہ محل رفع میں ہوتقدیر کلام یوں ہوگی، ھم الذین طغوا یا مذکورہ قوموں یعنی عاد، ثمود ورفرعون کی صفت کے طور پر مجرور ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب انڈیل دیا اور پھینک دیا، یہ جملہ بولا جاتا ہے، صب علی فلان خلقہ، فلاں نے مجھ پر خلقت پھینک دی نابغہ نے کہا : فصب علیہ اللہ احسن صنعہ، وکان لہ بین البریہ ناصرا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
103۔ الحاکم وصحح نہ ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت ذی الاوتاد میخوں والا یعنی فرعون نے اپنی بیوی کو چار کیل گارے پھر اس کی پیٹھ پر بڑی چکی رکھ دی یہاں تک کہ وہ مرگئی۔
104۔ ابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت و فرعون ذی الاوتاد یعنی فرعون کسی آدمی کو یہاں اور کسی آدمی کو وہاں اور کوئی ہاتھ یہاں اور کوئی ہاتھ وہاں رکھ کر میخوں کے ساتھ باندھ دیتا تھا۔
105۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ اسے و فرعون ذی الاوتاد اس لیے کہا گیا کہ کیونکہ وہ منبر بناتا تھا اس پر لوگوں کو ذبح کرتا تھا۔
106۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت…
Read the full tafseer →[فَصَبَّ عَلَيْهِمْ : تو برسایا ان پر ][ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍ : آپ ﷺ کے رب نے ایک عذاب کا کوڑا ]
Read the full tafseer →﴿فَصَبَّ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍۚۙ0013﴾ (سو آپ کے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسا دیا) ۔ لفظ صب کا اصل ترجمہ (ڈال دیا) ہے اور ترجمہ میں اردو کا محاورہ اختیار کیا گیا ہے یعنی ان لوگوں پر برابر طرح طرح کا عذاب نازل کیا جاتا رہا۔ جب کسی کو زیادہ سخت سزا دینی ہو تو کثیر تعداد میں کوڑوں سے پٹائی کی جاتی ہے اسی طرح ان لوگوں پر مسلسل طرح طرح کا عذاب آتا رہا اور بالآخر صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
تاریخ اقوام مکذبین وتقسیم فطرت انسانی بصوت شقاوت وسعادت :
قال اللہ تعالیٰ : والفجر ولیال عشر ............. الی .............. وادخی جنتی “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں قیامت کے احوال ذکر کیے گئے تھے اور یہ کہ ان ہولناک واقعات کا انسانی قدرت اور مادی اسباب کے دائرہ میں کوئی مقابلہ اور دفاع نہیں ہوسکتا۔ مقابلہ اور مدافعت تو درکنار اس پر بدحواسی اور اضطراب کا یہ عالم ہوگا کہ انسان اپنے آپ کو بےبس دیکھ رہا ہوگا، اور مجرمین پر خداوند عالم کا ایسا عذاب مسلط ہوگا کہ اس کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ہے تو اب اس سورت میں بالخصوص ایسے عبرت ناک تاریخی واقعات بیان فرمائے گئے جن کو پڑھ کر ہر انسان عبرت حاصل کرے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
6:۔ ” وثمود “ تخوید دنیوی کا دوسرا نمونہ۔ قوم ثمود کو دیکھو وہ کس قدر طاقتور اور کیسے کاریگر تھے کہ پتھروں کو تراش ڈالا اور پہاڑوں کو کاٹ کر ان کے اندر رہائشی مکانات بنا لیے۔ ” و فرعون ذی الاوتاد “ تخویف دنیوی کا تیسرا نمونہ۔ دیکھو ! فرعون کتنا بڑا بادشاہ تھا، اس کی سلطنت کس قدر مضبوط تھی۔ ” ذی الاوتاد “ (میخوں والا) یا تو سلطنت کے استحکام سے کنایہ ہے یا یہ مطلب ہے کہ وہ توحید والوں کو میخوں سے گاڑ کر عذاب دیتا ہے۔ ” الذین طغوا فی البلاد “۔ ان سب قوموں نے سرکشی کی اور حد سے گذر گئے، شہروں اور بستیوں میں ظلم و تشدد اور بےانصافی سے شر و فساد برپا کردیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر مختلف قسم کے عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
(فجر اور دس راتیں )
ارشاد ہوتا ہے والفجر قسم ہے فجر کی ولیال عشر اور قسم ہے دس 10 راتوں کی ۔ فجر اور دس راتوں سے کون سی فجر اور کون سی دس راتیں مراد ہیں اس میں مفسرین کرام کے مختلف اقوال ہیں ۔ بعض فرماتے ہیں کہ فجر سے مطلق مراد ہے ۔ جو ہر روز طلوع ہوتی ہے۔ اور دس راتوں سے مراد رمضان المبارک کی آخری دس راتیں ہیں ۔ جن میں لیلۃ القدر جسیی عظیم اور بابرکت رات آتی ہے۔ اور جس میں عبادت کا اجر ثواب ایک ہزار مہینے سے زیادہ ہوتا ہے ۔ ان راتوں میں اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی شامل حال ہوتی ہے۔ دنیا میں عظیم انقلاب برپا کرنے والی کتاب قرآن پاک کے نزول کی ابتداء بھی اسی رات میں ہوئی ۔
بعض فرماتے ہیں کہ فجر…
Read the full tafseer →فَصَبَّ عَلَيْہِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍ 13
صبب
صَبُّ الماء : إراقته من أعلی، يقال : صَبَّهُ فَانْصَبَّ ، وصَبَبْتُهُ فَتَصَبَّبَ. قال تعالی: أَنَّا صَبَبْنَا الْماءَ صَبًّا [ عبس/ 25] ، فَصَبَّ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذابٍ [ الفجر/ 13] ، يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُؤُسِهِمُ الْحَمِيمُ [ الحج/ 19] ، وصبا إلى كذا صبابة : مالت نفسه نحوه محبّة له، وخصّ اسم الفاعل منه بِالصَّبِّ ، فقیل : فلان صَبٌّ بکذا، والصُّبَّةُ کالصرمة «1» ، والصَّبِيبُ : الْمَصْبُوبُ من المطر، ومن عصارة الشیء، ومن الدّم، والصُّبَابَةُ والصُّبَّةُ : البقيّة التي من شأنها أن تصبّ ، وتَصَابَبْتُ الإناء : شربت صُبَابَتَهُ ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
ترکیب ¦ ارم ذات العماد عطف بیان لعادا وبدل منہ وارم غیر منصرف للتعریف والتانیث وارم 1 ؎ جدعادلانہ عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوح وقال قتادہھی قبیلۃ من عاد قال ابو عبیدہ ھما عادان فالاولیٰ ارم۔ ومعنی ذات العماد و ذات القوۃ والشدۃ وقیل ذات الطوال یقال رجل طویل العماد ای القامۃ وفی الصحاح العماد الابنیۃ الرفیعۃ تذکر و تؤنث۔ التی لم یخلق الخ صفۃ لعاد وقیل صفۃ ارم علی قول من قال ان ارم قریۃ وارض وثمود بالنصب عطفا علی عاد مجرور محلا علی انہ اسم للقبیلۃ ففیہ التانیث والتعریف فھو غیر منصرف الذین الخ صفۃ لثمود جابوا الجوب القطع ومنہ جاب البلاد واذا قطعھا ومنہ جیب القمیص لانہ قطع بالواد متعلق بجابوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
الَّذِیْنَ طَغَوْا فِی الْبِلاَدِ ۔ فَاَکْثَرُوْا فِیْھَا الْفَسَادَ ۔ فَصَبَّ عَلَیْہِمْ رَبُّکَ سَوْطَ عَذَابٍ ۔ (الفجر : 11 تا 13)
(انھوں نے ملکوں میں سرکشی کی۔ اور ان میں بہت فساد مچایا۔ تب آپ کے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسا دیا۔ )
قومِ عاد اور قوم ثمود جیسی طاقتور قومیں اور فرعون جیسا صاحب جبروت حکمران یہ سب اپنے اپنے وقت میں قوت و طاقت ہیبت و جبروت اور دولت و ثروت میں بےمثال تھے۔ لیکن انھوں نے اپنی قوت اور وسائل کو اللہ تعالیٰ کی عطا اور نعمت جاننے کی بجائے اپنی ذاتی کاوش کا نتیجہ سمجھا۔ اور اس گھمنڈ میں مبتلا ہوئے کہ ہمارے پاس جو کچھ ہے یہ ہماری ذاتی قابلیت اور کارکردگی کا کرشمہ ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں جس طرح اس کی قدرت کی نشانیاں پائی جاتی ہیں اسی طرح یہ بات بھی اس کی قدرت اور قوت کا مظہر ہے کہ اس نے عاد اور ثمود جیسی قوموں کو نیست و نابود کیا جن کی تباہی سے لوگوں نے سکون پایا۔
موجودہ جغرافیے کے مطابق قوم عاد کی رہائش عمان اور یمن کے علاقے حضرموت کے درمیان تھی یہ علاقہ سمندر کے کنارے پر واقع تھا یہاں ریت کے بڑے بڑے ٹیلے اور بلندوبالا پہاڑ تھے۔ اس کے باسی جسمانی اعتبار سے دراز قامت، کڑیل جوان اور قوی ہیکل تھے دنیا میں ان کا ثانی کوئی نہیں پیدا کیا گیا۔ انھوں نے پہاڑتراش، تراش کر خوبصورت محلات تعمیر کر رکھے تھے ان کی سرزمین نہایت سر سبزتھی جس…
Read the full tafseer →عذاب کا کوڑا :
13 : فَصَبَّ عَلَیْہِمْ رَبُّکَ سَوْطَ عَذَابٍ (آپ کے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسایا) بلیغ ترین انداز سے وقوع عذاب کو بیان کیا گیا کیونکہ الصبؔ دوام اور سوطؔ زیادتی ایلام کو ظاہر کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے ان کو دردناک دائمی عذاب میں مبتلاکر دیا گیا۔
Read the full tafseer →13 ۔” فصب علیھم ربک سوط عذاب “ نتیجہ میں اللہ نے ان پر عذاب کے کوڑے برسائے یعنی ہر قسم کا ملا جلا عذاب ان پر نازل کیا۔
” سوط عذاب “ میں صفت کی اضافت موصوف کی جانب ہے۔ اصل میں ” عذاب سوط “ تھا۔ یعنی مخلوط عذاب جیسے ” اخلاق ثیاب “ پرانے کپڑے۔ سوط کا اصل لغوی معنی ہے مخلوط کردینا۔ کوڑے میں مختلف بل مخلوط ہوتے ہیں، اسی لئے اس کو سوط کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
1۔ 14۔ دس راتوں اور طاق اور جفت کی تفسیر اگرچہ سلف نے طرح طرح سے کی ہے لیکن امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس اور ابن زبیر ؓ اور مجاہد اور اکثر سلف کا قول یہی ہے کہ دس راتوں سے مراد ماہ ذی الحجہ کی اول کی دس راتیں ہیں یہی قول زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے کیونکہ مسند 3 ؎ امام احمد نسائی و مستدرک حاکم بیہقی وغیرہ میں حضرت جابر ؓ کی مرفوع روایت میں یہی تفسیر آچکی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ان دس راتوں سے مراد شروع ذی الحجہ کی دس راتیں ہیں۔ حاکم نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے اور طاق اور جفت کی تفسیر میں یہ قول صحیح معلوم ہوتا ہے کہ طاق اور جفت سے مراد طاق اور جفت نمازیں ہیں جیسے مغرب اور عشاء ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
(الَّذِيْنَ طَغَوْا فِي الْبِلَادِ ) جنہوں نے شہروں میں سرکشی کی۔ یہ وصف عاد، ثمود، فرعون اور ان کی پیروی کرنے والوں کی طرف لوٹتا ہے کیونکہ انہوں نے اللہ کے شہروں میں سرکشی کارویہ اختیار کیا اللہ کے بندوں کو ان کے دین میں دنیا میں ستایا اس لیے فرمایا (فَاَكْثَرُوْا فِيْهَا الْفَسَادَ ) اور بہت فساد مچا رکھا تھا یعنی کفر اور اس کے شعبوں، یعنی معاصی کی تمام اقسام پر عمل کیا انبیا ومرسلین کے خلاف جنگ کی اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کے لیے کوشاں رہے، جب وہ سرکشی میں اس حد تک پہنچ گئے جو ان کی ہلاکت کی موجب تھی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب بھیجا اور ان پر عذاب کا کوڑا برسایا۔
Read the full tafseer →(14) منکرین کے لیے عذاب خداوندی کا کوڑا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آخر کار برسا دیا ان پر تمہارے رب نے عذاب کا کوڑا "۔ جس سے وہ ملیا میٹ ہوگئے اور قصے کہانیاں بن کر رہ گئے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ( آیت، سبا 19 پ 22) یعنی آخر ہم نے ان کے قصے کہانیاں بنا کر رکھ دیا، اور ان کو ٹکڑے ٹکڑے اور ذرہ ذرہ کردیا بلا شبہ اس میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں پر بڑے صبر کرنے والے شکر گزار کے لیے، سو انکار آخرت تکذیب حق اور بغاوت و انحراف کے جرم کی سزا آخرت سے پہلے اس دنیا میں بھی ملتی ہے۔ اس مہلت اور وقت مقرر کے پورا ہونے پر جو کہ قدرت نے اس کے لیے مقرر کر رکھا ہوتا ہے، پس اس کے اس امہال سے کبھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
نیک و بد کی تمیز اور میدان حشر
تشریح : اس سورت میں ان لوگوں کو جگانے کی کوشش کی گئی ہے جو شیطان کے بہلاوے میں آ کر سرکشی ' نفرت ' نافرمانی ' تکبر اور ناشکر گزاری کی عادات کو اپنا لیتے ہیں۔ بیشک یہ مال و دولت ' عزت شہرت اور آل و اولاد کی کثرت میں زیادہ سے زیادہ لالچی اور انسانیت کی حدود سے دور ہوتے ہوئے بس اپنے میں ہی مست ہوجاتے ہیں اور ان کے دل میں مال کی محبت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ وہ مال دینے والے (اللہ) سے ہی دور ہوجاتے ہیں اور حرام و حلال کا فرق بھول جاتے ہیں۔ نہ ان کو یہ خیال رہتا ہے کہ یتیم کا مال ہے یا غریب کی مدد کرنی چاہیے۔ بس وہ تو صرف مال کی محبت ہی میں کھو جاتے ہیں۔ اور جب کبھی ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
سورة الفجر۔
آیات 1 تا 30۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی اور جفت اور طاق کی اور رات کی جب وہ چلنے لگے یعنی طلوع فجر اور ذی الحج کی دس راتیں پھر یوم عرفہ جس روز لوگ کفن پہنے عرفات میں ہوتے ہیں اور جفت یعنی دس ذی الحج جب لوگ قربانی کرتے ہیں اور جب رات ڈھل چکی ہوتی ہے جانے والی ہوتی ہے کہ فجر بھی ایک عظیم انقلاب ہے جو ہر لمحہ دنیا پر بپا ہورہا ہے لوگ نیندار سے بیدار ہو کر کاروبار حیات میں مصروف ہوجاتے ہیں اور ذی الحج کی دس راتیں یعنی عشرہ ذی الحج کہ قبل اسلام بھی لوگ حج کے نام پر رسومات ادا کرتے اور ظہور اسلام پر توکفن پہنے بیشمار اللہ کی مخلوق عمرے کررہی ہوتی ہے اور رات اور دن کا…
Read the full tafseer →ف 15 ان میں سے کوئی آندھی سے تباہ ہوا کوئی غرق ہو کر اور کوئی زبردست زلزلے سے
Read the full tafseer →(89:13) فصب علیہم ربک سوط عذاب :سببیہ۔ بسبب ان کی اس سرکشی کے۔
صب : ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ صب مصدر۔ لازم اور متعدی دونوں طرح مستعمل ہے۔
پہلی صورت میں بہانے کے معنی ہوں گے ۔ اور اس کا فعل باب نصر سے آئے گا۔ دوسری صورت میں بہنے کے معنی ہوں گے۔ اور فعل باب ضرب سے آئے گا۔ قرآن مجید میں یہ متعدی ہی استعمال ہوا ہے۔ اس نے اوپر سے بہایا۔ اس نے اوپر سے ڈالا۔
سوط عذاب میں صفت کی اضافت موصوف کی جانب ہے۔ اصل میں عذاب سوط تھا۔ سوط کا اصل لغوی معنی ہے مخلوط کردینا۔ کوڑے میں مختلف بل مخلوط ہوتے ہیں۔ اسی لئے اس کو سوط کہتے ہیں آخرت کے عذاب کے مقابلہ میں دنیا کا عذاب ایسا ہے جیسے تلوار کے مقابلہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
لغات القرآن۔
لیال عشر۔ دسرراتیں۔ الشفع۔ جفت عدد۔ الوتر۔ طاق عدد۔ ذی حجر۔ عقل والے۔ ذات المعاد۔ ستونوں والے۔ جابوا۔ تراشے۔ کاٹے۔ ذی الاوتاد۔ میخوں والا۔ صب۔ ڈال دیا۔ سوط۔ کوڑا۔ المرصاد۔ گھات میں ہے۔ اھانن۔ مجھے ذلیل کردیا۔ لا تکرمون ۔ تم عزت نہیں کرتے۔ التراث۔ میراث۔ اکلا لما۔ سب سمیٹ کر کھانا۔ حبا جما۔ بہت زیادہ محبت۔ دکت۔ کوٹ ڈالی گئی۔ النفس المطمئنۃ۔ اطمینان و سکون والا نفس۔
تشریح : اس دنیا میں ہر لمحہ انقلاب بپا ہے۔ کروڑوں سال سے رات دن، صبح اور شام کا آناجانا، چاند، سورج ، ستاروں کا نکلنا، ڈوبنا، غائب ہوجانا اور پھر سے ابھر کر پوری آب و تاب سے نکلنا، اسی طرح قوموں کا عروج وزوال ہر ابتداء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
صاحب قوت اقتدار لوگوں کا عذاب الٰہی سے ہلاک ہونا۔
(ف 1) فرمایا کہ کیا تم نے نہ دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے عاد یعنی ارم ستون جیسے دراز قد والوں کے ساتھ کیسامعاملہ کیا، زور وقوت اور طول قیامت میں عاد کے بیٹوں میں سے شداد بھی ہے جس نے دنیا پر بادشاہت کی اور تمام بادشاہ اس کے مطیع ہوگئے اور اس نے جنت کا ذکر سن کر براہ سرکشی دنیا میں جنت بنانی چاہی اور اس ارادہ سے ایک شہرعظیم بنایاجس کے محل سونے چاندی کی اینٹوں سے تعمیر کیے گئے اور زبرجد اور یاقوت کے ستون اس کی عمارتوں میں نصب ہوئے اور ایسے ہی فرش مکانوں اور ستونوں میں بنائے گئے سنگریزوں کی جگہ آبدار موتی بچھائے گئے ہر محل کے گرد جواہر پر نہریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
[6] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة ص حاشیہ 7 صفحہ 1094۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
سورة الفجر
1: اس سورت میں قسموں کے انداز میں شواہد کو پیش فرمایا ہے اور دلائل کا ذکر کیا ہے ۔ اسی واسطے فرمایا ہے ۔ ھل فی ذلک قسم لذی حجر ۔ کہ اس میں عقلمندوں اور غوروفکر کرنے والوں کے لئے ایک بین دلیل ہے ۔ اس لئے مقام اور موقع کے لحاظ سے زیادہ موزوں یہ ہے کہ یہاں الفجر سے مراد فجر قیامت ہو اور دس راتوں سے مراد وہ دس راتیں ہوں جن میں نافرمان قوموں پر عذاب بھیجا گیا اور الشفع والوتر حسوما اور الیل اذیسر ۔ غرض ہر وہ رات ہے جو معذب قوموں پر آتی ہے ۔ اس نہج سے یہ دعوی ان ربک لبا لمرصاد بالکل درست اور صحیح ثابت ہوگا ۔ یعنی ان معذب قوموں کی تاریخ پڑھو اور ان کے حالات کا مطالعہ کرو ۔ تمہیں معلوم…
Read the full tafseer →(13) آخر کار آپ کے پروردگار نے ان پر عذاب کو کوڑا برسایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
ف 2۔ دو منثور میں عبداللہ بن مسعود سے اس کی تفسیر میں منقول ہے کہ وہ جس کو سزا دیتا اس کے چاروں ہاتھ پاوں چار میخوں سے باندھ کر سزا دیتا اور اس کی ایک تفسیر سورة ص میں گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →پھر ترے رب نے ان پر عذاب کو کوڑا برسایا
13 ؎ ( صب) کا اصل مادہ ص ب ب ہے اور ( صب) کے معنی ہیں اس نے بہایا ۔ اس نے اوپر سے ڈالا صب سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ ( سوط) چمڑے کا کوڑا سواط اور سیاط جمع سوط کے معنی اصل میں کسی شے کے باہم خلط ملط ہونے کے ہیں ۔ کوڑے کو سوط اس لیے کہتے ہیں کہ اس کے تسمے آپس میں بٹے ہوئے ہوتے ہیں ۔ ( کشاف ج اول ص 48 مصر) اور ابن ورید کا بیان ہے کہ جب کوڑے لگائے جاتے ہیں تو کوڑا چونکہ گوشت کو خون سے خلط ملط کردیتا ہے اس لیے اس کا نام سوط ہوا ۔ ( مفردات ِ راغب) ظالموں کے ظلم کی ساری داستان کھول کر رکھ دی اور اس کا نتیجہ بھی واضح کردیا اور یہ کوڑا اس رنگ کا ہوتا ہے جس…
Read the full tafseer →فَصَبَّ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍ (So, your Lord unloosed on them the whip of torment....89:13). The punishment inflicted upon them as a result of their mischief is referred to here as a 'whip of torment'. It signifies that just as lashes are inflicted across different parts of the body, the torment these nations received was similar to it in that they suffered different kinds of punishment.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
6 The words dhul-autad (of the stakes) for Pharaoh have also been used in Surah Suad: 12 above. This can have several meanings. Possibly his forces have been compared to the stakes, and "of the stakes" means "of great forces", for it was by their power and might that he ruled a firmly established kingdom; it might also imply multiplicity of forces and the meaning be that wherever his large armies camped, pegs of the tents were seen driven into the ground on every side; it may also imply the stakes at which he punished the people, and it is also possible that the pyramids of Egypt have been…
Read the full tafseer →