Al-Qiyaama 75:33

Al-Qiyaama · from ayah 33

75:33

ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰۤی اَهْلِهٖ یَتَمَطّٰى ۟ؕثُمَّ ذَهَبَ اِلٰٓى اَهۡلِهٖ يَتَمَطّٰىؕ

پھر اپنے گھر والوں کے پاس اکڑتا ہوا چل دیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And then he went to his people, swaggering [in pride].

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qiyaama

All translations of 75:33

پھر اکڑتا ہوا اپنے گھر والوں کی طرف چل دیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر اپنے گھر والوں کے پاس اکڑتا ہوا چل دیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر اپنے گھر والوں کے پاس اتراتا ہوا گیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر اکڑ دکھاتا ہوا اپنے گھر والوں کے پاس چلا گیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر اپنے گھر کو اکڑتا چلا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر اپنے اہلِ خانہ کی طرف اکڑ کر چل دیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر اکڑتا ہوا اپنے گھر والوں کی طرف چلا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر اکڑتا ہوا اپنے اہل خانہ کی طرف چل دیا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اکڑتا ہوا اپنے لوگوں میں چل دیا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر یہ چل دیا وہ اپنے گھر والوں کی طرف اکڑتا (اور ناز کرتا) ہوا

— مولانا اسحاق مدنی

اور منہ موڑا تھا پھر فخر کرتا ہوا اپنے گھر چل دیتا تھا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر چل دیا اپنے گھر والوں کے پاس اکڑتا ہوا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر اپنے گھر والوں کے پاس اکڑتا ہوا چل دیا

— محترمہ رفعت اعجاز

then he went back to his kinsfolk, elated with pride.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

then he went to his home, puffed up with pride.

— Muhammad Taqi Usmani

then he went to his home, puffed up with pride.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then he walked in conceit to his family admiring himself!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And then he went to his people, swaggering [in pride].

— Saheeh International

and haughtily goes to his people.

— Muhammad Sarwar

Then he went to his followers, walking away in haughtiness.

— Muhammad Habib Shakir

Then he departed Unto his house hold conceitedly.

— Abdul Majid Daryabadi

Then did he stalk to his family in full conceit!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 75:33

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 26–40

جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ (کلا) کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ " اے ابن آدم تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے " اور اگر اس لفظ کو (حقا) کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے (تراقی) جمع ہے (ترقوۃ) کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں،…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْقِیٰمَة 21 مطلب یہ ہے کہ جو شخص آخرت کو ماننے کے لیے تیار نہ تھا اس نے وہ سب کچھ سنا جو اوپر کی آیات میں بیان کیا گیا ہے، مگر پھر بھی وہ اپنے انکار ہی پر اڑا رہا اور یہ آیات سننے کے بعد اکڑتا ہوا اپنے گھر کی طرف چل دیا۔ مجاہد، قتادہ اور ابن زید کہتے ہیں کہ یہ شخص ابو جہل تھا۔ آیت کے الفاظ سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کوئی ایک شخص تھا جس نے سورة قیامہ کی مذکورہ بالا آیات سننے کے بعد یہ طرز عمل اختیار کیا۔ اس آیت کے یہ الفاظ کہ " اس نے نہ سچ مانا اور نہ نماز پڑھی " خاص طور پر توجہ کے مستحق ہیں۔ ان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول اور اس کی کتاب کی صداقت تسلیم کرنے کا اولین…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 26–33

كَلَّآ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ 26؀ۙوَقِيْلَ مَنْ ۫رَاقٍ 27؀ۙوَّظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُ 28؀ۙوَالْتَفَّتِ السَّاق بالسَّاقِ 29؀ۙاِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِۨ الْمَسَاقُ سابقہ آیات میں قیامت کے حساب کتاب اور اہل جنت و دوزخ کا کچھ حال بیان فرمانے کے بعد اس آیت میں انسان کو متوجہ کیا گیا کہ اپنی موت کو نہ بھولے موت سے پہلے پہلے ایمان اور عمل صاحل کی طرف آجائے تاکہ آخرت میں نجات ملے۔ آیت مذکورہ میں موت کا نقشہ اس طرح کھینچا گیا کہ غفلت شعار انسان بھول میں رہتا ہے یہاں تک مہ موت سر پر آکھڑی ہو اور روح ترقوہ یعنی گلے کی ہنسلی میں آپھنسے اور تیمار دار لوگ دوا وعلاج سے عاجز ہو کر جھاڑ پھونک کرنے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اعراض کی تصویر اور اس کا سبب: ’ثُمَّ ذَھَبَ اِلٰٓی اَھْلِہٖ یَتَمَطّٰی‘۔ یہ اس اعراض کی تصویر بھی ہے اور غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اس میں اس کا سبب بھی بیان ہو گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کے اندر مال و اولاد کا گھمنڈ ہوتا ہے ان کو خدا اور آخرت سے ڈرایا جائے تو یہ تذکیر ان پر کارگر نہیں ہوتی۔ وہ اپنی رفاہیت و جمعیت کو اپنی روش کے صحیح اور کامیاب ہونے کی دلیل سمجھتے ہیں اس وجہ سے ان لوگوں کی نصیحتیں خاطر میں نہیں لاتے جو ان کی روش میں کسی غلطی کی نشان دہی کرتے ہیں۔ وہ ان سے اثرپذیر ہونے کے بجائے اکڑتے ہوئے اپنے اہل و عیال کی طرف چل دیتے ہیں کہ جب ہمیں یہ سب کچھ حاصل ہے تو یہ ہماری اقبال…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 31–35

12: یہ کسی خاص کافر کی طرف اشارہ بھی ہوسکتا ہے، اور کافروں کی عام حالت کا تذکرہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اتنے واضح دلائل کے سامنے آنے کے بعد بھی ماننے کے بجائے تکبر کا مظاہرہ کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 31–33

روایات میں آتا ہے کہ یہ آیات ایک مخصوص شخص کے حق میں نازل ہوئیں ، بعض روایات میں اس شخص کا نام بھی لیا گیا کہ یہ عمرو ابن ہشام ابوجہل تھا۔ یہ شخص بعض اوقات رسول اللہ کے پاس آتا تھا اور قرآن کریم سنتا تھا۔ لیکن پھر چلا جاتا تھا اور ایمان نہ لاتا تھا۔ اور نہ آپ کی اطاعت کرتا تھا۔ نہ اللہ سے ڈرتا تھا۔ اور نہ مودبانہ رویہ اختیار کرتا تھا۔ بلکہ یہ حضور اکرم ﷺ کو مزید اذیت دینے لگتا تھا۔ آپ کو برا بھلا کہتا اور لوگوں کو دین اسلام میں آنے سے روکتا۔ پھر یہ اپنی ان کاروائیوں پر اتراتا ، اور اپنے کارناموں پر فخر کرتا جیسا کہ اس آیت میں کہا گیا۔ قرآن کریم یہاں اس شخص کے ساتھ مزح کرتا ہے اور نہایت ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 31–33

11 یعنی بجائے سچا سمجھنے اور یقین لانے کے پیغمبروں کو جھوٹا بتلاتا رہا، اور بجائے نماز پڑھنے اور مالک کی طرف متوجہ ہونے کے ہمیشہ ادھر سے منہ موڑ کر چلا۔ نہ صرف یہی بلکہ اپنی اس سرکشی اور بدبختی پر اتراتا اور اکڑتا ہوا اپنے متعلقین کے پاس جاتا تھا۔ گویا کوئی بہت بڑی بہادری اور ہنر مندی کا کام کر کے آرہا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 33–35

آیت 33{ ثُمَّ ذَہَبَ اِلٰٓی اَہْلِہٖ یَتَمَطّٰی۔ } ”پھر چل دیا اپنے گھر والوں کے پاس اکڑتا ہوا۔“ ان آیات میں ایک شخص کی حق دشمنی ‘ ڈھٹائی اور اکڑفوں کی لفظی تصویر دکھائی گئی ہے۔ یہ تصویر سردارانِ قریش میں سے کسی خاص شخص کی بھی ہوسکتی ہے اور مجموعی طور پر ان کے عمومی کردار کی بھی۔ سردارانِ قریش کے اس رویے کی جھلک سورة صٓ کی اس آیت میں بھی دکھائی دیتی ہے : { وَانْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْہُمْ اَنِ امْشُوْا وَاصْبِرُوْا عَلٰٓی اٰلِہَتِکُمْج اِنَّ ہٰذَا لَشَیْئٌ یُّرَادُ۔ } ”اور چل پڑے ان کے سردار یہ کہتے ہوئے کہ چلو جائو اور جمے رہو اپنے معبودوں پر ‘ یقینا اس بات میں تو کوئی غرض پوشیدہ ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 29–34

18 یعنی سب سے پہلے پاؤں کی طرف سے جان نکلنا شروع ہوتی ہے۔ جب پنڈلیوں سے جان نکل چکتی ہے تو انسان میں یہ سکت نہیں رہتی کہ وہ ایک پنڈلی کو دوسری سے اٹھا کر الگ کرسکے۔ جب یہ کیفیت طاری ہوجائے تو سمجھ لو کہ سفر آخرت شروع ہوگیا اور میت کا اپنے پروردگار سے ملاقات کا وقت آگیا۔ بس یہی وقت ہے جس کے لئے کافر باربار پوچھتے اور اس کی جلدی کا تقاضا کرتے ہیں۔ جس شخص کو موت آگئی تو گویا پوری قیامت کے احوال اس پر منکشف ہونے لگ جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 32–33

18۔ یعنی اپنے کفر وعصیان پر فخر کرتا ہوا اپنے خدم وحشم میں جا کر اور زیادہ غافل ومغرور ہوجاتا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 31–39

ترجمہ : انسان نے نہ تو تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی، لیکن اس نے قرآن کی تکذیب کی اور ایمان سے روگردانی کی (خود پسندی) سے اتراتا ہوا اپنے گھر والوں کے پاس گیا، افسوس ہے تجھ پر اس میں غیبت سے (حاضر کی طرف) التفات ہے، اور (ویل) کلمہ اسم فعل ہے اور لام تبیین کے لئے ہے یعنی جس چیز کو تو ناپسند کرتا ہے، تجھ کو پیش آنے والی ہے حسرت ہے تجھ پر، پس وہ اولی ہے تیرے لئے یعنی وہ تیرے لئے دوسروں کے اعتبار سے بہتر ہے، پھر وائے ہے تیرے لئے اور خرابی ہے تاکید ہے کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اس کو بےکار چھوڑ دیا جائے گا ؟ کہ اس کو (احکام) و شرائع کا مکلف نہ بنایا جائے گا، کیا وہ منی کا نطفہ نہیں تھا جو ٹپکایا گیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ثم ذھب الی اھلہ یتمطی . یتمطّٰی کا معنی ہے تیز چلتا ہوا۔ قاموس میں ہے مطی فی سیرہ۔ فلاں شخص تیز چال سے چلا اور کوشش سے چلا۔ جوہری نے صحاح میں لکھا ہے وہ پشت دراز کرتا ہے (یعنی اینٹھتا چلتا ہے) بعض لوگوں نے کہا : یتمطٰی کی اصل یتمطط تھی۔ تین ہم جنس حرفوں کے اجتماع کی وجہ سے تیسری طاء کو یاء سے بدل دیا۔ مطا کا معنی ہے دراز کرنا ‘ پھیلانا۔ بہرحال اس جگہ یتمطٰی سے مراد ہے (اکڑتا ہے ‘ اینٹھتا چلتا ہے) اتراتا چلتا ہے۔ گردن اکڑا ٗکر پشت دراز کر کے چلنا اترانے کی علامت ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 31–33

(31۔ 33) اور اس ابو جہل نے نہ وحدانیت خداوندی کی تصدیق کی تھی اور نہ اسلام قبول کرکے نمازیوں میں سے ہوا تھا لیکن توحید کو جھٹلایا تھا اور ان سے منہ موڑا تھا اور پھر تکبر کرتا اور ناز کرتا ہوا دنیا میں اپنے گھر چل دیتا تھا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 31–35

(1) فلا صدق ولاصلی…:”یتمطی“ ”م ط و“ سے ”تمطی“ کا مضارع ہے۔”مطا“ کا معنی پیٹھ ہے، یعنی اکڑتا ہوا۔”اولی“ ”و ل ی“ سے اسم تفصیل ہے، زیادہ لائق، زیادہ حق دار، زیادہ قریب۔ (2) ”فلاصدق“ (سو نہ اس نے سچ مان) میں ضمیر ”الانسان“ کی طرف جا رہی ہے جس کا اوپر ”ایحسب الانسان الن نجمع عظامہ“ میں ذکر ہے۔ یعنی یہ دیکھنے کے بعد کہ موت کے وقت انسان پر کیا گزرتی ہے اور کس طرح بےبس ہو کر اسے اپنے رب کی طرف روانہ ہوناپ ڑتا ہے، حق تو یہ تھا کہ وہ آخرت کو سچ مانتا اور اس دن کی نجات کے لئے نماز ادا کرتا اور اللہ کی زمین پر عجز و بندگی اختیار کرتا، مگر اس نے نہ قعیدہ کی اصلاح کی اور نہ عمل کی اور نہ لوگوں کے ساتھ اپنی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 32–33

ولکن کذب وتولی، ثم ذھب الی اھلہ یتمطی۔ اس نے قرآن کو جھٹلایا اور ایمان سے روگردانی کی۔ پھر وہ اس پر فخر کرتے ہوئے تکبر کے انداز میں اپنے گھر چلا گیا یہ مجاہد اور دوسرے علماء کا نقطہ نظر ہے۔ مجاہد نے کہا، اس سے مراد ابوجہل ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ مطا سے مشتق ہے جس کا معنی پشت ہے معنی ہے وہ اپنی پشت کو دہر کرتا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس کی اصل یتمطط ہے یعنی سستی کا اظہار کرنا اور بوجھل ہونا ہے وہ حق کی طرف دعوت دینے والے سے بوجھل ہوتے ہیں۔ اس کی ایک طاء کو یاء سے بدل دیا کیونکہ ایک ہی جنس کے حرف ہونا پسندیدہ تھا۔ تمطی یہ پرواہ نہ کرنے پر دلالت کرتا ہے۔ تمدد سے بھی یہی مراد ہے گویا وہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

24۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کہ ثم ذہب الی اہلہ یتمطی سے مراد ہے اکڑنا تکبر کے ساتھ چلنا اور وہ ابوجہل تھا۔ 25۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کہ یتمطی سے مراد ہے کہ غرور اور تکبر کرنا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰٓى اَهْلِهٖ : پھر وہ گیا اپنے گھر والوں کی طرف ] [يَتمطّٰى: اکڑتا ہوا ] م ط ی [مَطَیًا : (س) ] لمبا ہونا۔ دراز ہونا۔ (تفعل) تَمَطُّیًا بتکلف دراز ہونا۔ اکڑ کر چلنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 33 ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 31–33

انسان کی تکذیب کا حال اور اکڑفوں، کیا اسے پتہ نہیں کہ نطفہ سے پیدا کیا گیا ہے، جس کی یہ تخلیق ہے کیا اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ فرما دے صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں کہ ﴿فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰىۙ0031﴾ کی ضمیر ابو جہل کی طرف راجع ہے (اور اگر کافروں کا ہر سرغنہ مراد لیا جائے تو اس میں بھی کوئی بعد نہیں ہے کیونکہ کفر کے سردار اور چودھری اسی مزاج کے ہوتے ہیں جس کا یہاں تذکرہ فرمایا ہے) ﴿فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰىۙ0031﴾ (سو اس نے نہ تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی) ۔ ﴿ وَ لٰكِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىۙ0032﴾ اور لیکن اس نے جھٹلایا اور منہ موڑا۔ ﴿ ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ يَتَمَطّٰىؕ0033﴾ پھر وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–40

احوال روز قیامت مع ذکر مناظر محشر وشدت کرب بوقت مرگ انسانی و حسرت وملال برمحرومی از ہدایت قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بیوم القیمۃ ........ الی ............. الیس ذلک بقدر علی ان یحی الموتی “۔ (ربط) گذشتہ سورت مدثر میں قیامت کے ظاہری احوال کا ذکر تھا اور یہ کہ قیامت کے قریب کیا کیا واقعات پیش آئیں گے اور قیامت کس طرح برپا ہوگی اب اس سورت میں قیامت کے باطنی احوال بیان کئے جارہے ہیں اور یہ کہ قیامت قائم ہونے پر انسان پر کیا کیفیات گزریں گی وہ کس طرح بےچین وبدحواس ہوگا نامہ اعمال کی پیشی نہایت ہی ہیبت ناک اور ہوش وحواش معطل کردینے والا مرحلہ ہوگا اور اس وقت نافرمان اور فاجر و بدکار انسان کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 31–35

12:۔ ” فلا صدق، یہ منکرین حشر و نشر اور جاحدین جزاء وسزا پر زجر ہے۔ اس نے نہ تو توحید و رسالت اور حشر و نشر کو مانا، ایمان لایا نہ نماز پڑھی، نہ دوسرے اعمال صالحہ کی طرف توجہ دی بلکہ تمام ضروریات دین، توحید، رسالت، قیامت وغیرہا کا انکار کیا اور قرآن و ایمان سے اعراض کیا اور کبر و غرور سے اکڑتا ہو اپنے اہل کی طرف چلا گیا تو اب اس کے لیے ہلاکت و تباہی کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے ؟ اولی لک فاولی، ثم تعقیب ذکری کے لیے ہے، تمہارے لیے ہلاکت ہے ہلاکت پھر کہتا ہوں تمہارے لیے ہلاکت ہے ہلاکت، تھدید بعد تھدید ووعید بعد وعید (قرطبی ج 19 ص 112) ۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ثُمَّ ذَہَبَ اِلٰٓى اَہْلِہٖ يَتَمَطّٰى۝ 33 ۭ ذهب الذَّهَبُ معروف، وربما قيل ذَهَبَةٌ ، ويستعمل ذلک في الأعيان والمعاني، قال اللہ تعالی: وَقالَ إِنِّي ذاهِبٌ إِلى رَبِّي[ الصافات/ 99] ، ( ذ ھ ب ) الذھب ذھب ( ف) بالشیء واذھبتہ لے جانا ۔ یہ اعیان ومعانی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : إِنِّي ذاهِبٌ إِلى رَبِّي[ الصافات/ 99] کہ میں اپنے پروردگار کی طرف جانے والا ہوں ۔ مطی قال تعالی: ثُمَّ ذَهَبَ إِلى أَهْلِهِ يَتَمَطَّى[ القیامة/ 33] أي : يمدّ مَطَاهُ ، أي : ظهرَه، والمَطِيَّة : ما يركب مطاه من البعیر، وقد امتطیته رکبت مطاه، والمِطْوُ : الصاحبُ المعتمد عليه، وتسمیته بذلک کتسمیته…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 31–40

ترکیب : فلاصدق ای لم یصدق لابمعنی لم و العرب تقول لاذہب ای لم یذہب وھذا کثیر فی کلام العرب قالہ الکسائی والاخفش وقیل لابمعنی ماوھو معطوف علیٰ قولہ یسئل ایان الخ والضمیر الفاعل نے لاصدق ولاصلی للانسان المذکور فی قولہ ایحسب الانسان الخ یتمطیٰ حال من فاعل ذہب یتمطی فیہ قولان (الاول) ان اصلہ یتمطط ای یتمدولان المتبختر یمد خطا و فقلبت الطاء فیہ یاء کما قیل فی تقضٰی صلہ تقضض (والثانی) من الط و ھوا لظھر لانہ یلویہ فعلی الاول الالف مَبَّدلۃ من طائٍ وعلی الثانی من واوٍ اولیٰ لک فیہ قولان الاول انہ اسم فعل مبنی علی السکون و معناہ ولیک ماتکرھمہ والفاعل ضمیر مستتریعود علی مایفھم من السیاق وھوالدعاء علیہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 31–35

فَلاَ صَدَّقَ وَلاَ صَلّٰے۔ وَلٰـکِنْ کَذَّبَ وَتَوَلّٰی۔ ثُمَّ ذَھَبَ اِلٰٓی اَھْلِہٖ یَتَمَطّٰی۔ اَوْلٰی لَکَ فَاَوْلٰی۔ ثُمَّ اَوْلٰی لَکَ فَاَوْلٰی۔ (القیامۃ : 31 تا 35) (پس اس نے نہ تو سچ مانا اور نہ نماز پڑھی۔ بلکہ جھٹلایا اور منہ موڑا۔ پھر اکڑتا ہوا اپنے گھر والوں کی طرف چل دیا۔ افسوس ہے تجھ پر افسوس ہے۔ پھر افسوس ہے تجھ پر افسوس ہے۔ ) منکرینِ آخرت کی کیفیت اور انجام آخرت کا منکر ایسا سنگدل ہوجاتا ہے کہ نہ اس پر دلائل اثرانداز ہوتے ہیں نہ قیامت کی ہولناکی اس کی سنگدلی میں کمی کرتی ہے۔ نہ موت کا اندوہناک منظر اس کی بےحسی اور غفلت کو توڑتا ہے۔ چناچہ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 31–36

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے منکر کو موت کے وقت اس لیے زیادہ تکلیف ہوتی ہے کیونکہ وہ نہ قیامت پر یقین رکھتا ہے اور نہ نمازی ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موت کے لمحات بڑے سخت ہوتے ہیں، ان لمحات سے مراد وہ لمحات ہیں جو روح نکلنے سے پہلے شروع ہوتے ہیں۔ جب مومن کی روح نکلنا شروع ہوتی ہے تو اس کے لیے وہ لمحات بہت آسان کر دئیے جاتے ہیں، جس کا حوالہ پچھلی آیت کی تفسیر میں دیا گیا ہے۔ جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لایا اور نہ اس نے قیامت کی تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی، نزع کے وقت اس کی بری حالت ہوتی ہے۔ اس کی حالت کا درج ذیل حدیث میں ذکر کیا گیا ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ وہ اعتقاداً یا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

33 : ثُمَّ ذَھَبَ اِلٰٓی اَھْلِہٖ یَتَمَطّٰی (پھر ناز کرتا ہوا اپنے گھر چل دیتا تھا) ۔ اکڑتا ہوا چلنا۔ یتمطٰی اصل میں یتمطط ہے۔ اور اس کا معنی اکڑ کر پشت دراز کرنا۔ کیوں کہ ناز سے چلنے والا اپنے قدم کو کھینچ کر رکھتا ہے۔ پس طاء کو یاؔ سے بدلا کیونکہ تین متماثل حرف جمع ہوگئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 26–40

26۔ 40۔ اوپر ان اہل دنیا کا ذکر تھا جنہوں نے دنیا کے پیچھے اپنی عقبی کو برباد کردیا ان آیتوں میں انہی لوگوں کے خبردار کرنے کے لئے فرمایا کہ جس طرح ان لوگوں نے خیال کرلیا ہے کہ دنیا ایک پائیدار چیز ہے وہ بات ہرگز نہیں ہے یہ لوگ دنیا کو نہ چھوڑیں دنیا کے پیچھے عمر بھر عقبیٰ کو برباد کریں۔ پھر آخر یہ دنیا کی گرویدگی عقبیٰ کی بربادی کب تک۔ ان کے بڑوں میں سے کوئی ہمیشہ جیا ہے جو یہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ قبر ‘ حشر ‘ قیامت کی باتیں تو بھلا آنکھوں کے سامنے نہیں ہیں کیا کسی کی یہ حالت بھی ان کی آنکھوں کے سامنے نہیں گزری کہ آخری وقت آن پہنچا اور جان سارے جسم میں سے کھنچ کر حلق میں آگئی۔ ایسے حکیم یا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 33–35

(اِلٰٓى اَهْلِهٖ يَتَمَطّٰى) اپنے گھروالوں کی طرف اکڑتا ہوا۔ یعنی اس کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو وعید سنائی فرمایا (اولی لک فاولی، ثم اولی لک فاولی) افسوس ہے تجھ پر، پھر افسوس ہے، پھر افسوس ہے تجھ پر، پھر افسوس ہے۔ یہ وعید کے کلمات ہیں اور تکرار وعید کے لیے ان کو مکرر کہا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 15–40

قول باری ہے (ولو القی معاذیرہ۔ چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ خواہ وہ اعتذار کیوں نہ کرے۔ ایک قول کے مطابق اپنی ذات پر اس کی اپنی گواہی جو اس کے اعضاء وجوارح دیں اس کے اعتذاد سے اولیٰ ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت کے الفاظ میں جب ان تمام معانی کا احتمال موجود ہے تو آیت کو ان پر محمول کرنا واجب ہے، کیونکہ ان معانی کے مابین کوئی منافات نہیں ہے۔ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اس ذات کے بارے میں اس کا قول قابل قبول ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو اس کی ذات پر حجت اور شاہد کی حیثیت دی ہے۔ انسان کا اپنی ذات کے بارے میں آگاہ ہونے کو اسے اپنی ذات پر گواہ ہونے سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 32–33

31 منکرین کے اعراض اور ان کے غرور و گھمنڈ کی تصویر : سو ایسوں کے غرور و گھمنڈ اور ان کے اعراض کی تصویر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ پھر وہ چل دیا اپنے گھر والوں کی طرف اکڑتا ہوا۔ یعنی اپنی اس بری روش پر نادم ہونے کی بجائے وہ الٹا اس پر اکڑتا اور فخر کرتا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ کیونکہ ایسے لوگ اپنی دنیاوی رفاہیت اور جمعیت کی بناء پر اس گھمنڈ اور زعم فاسد میں مبتلا ہوتے ہیں کہ ہم لوگ صحیح ہیں ‘ اور ہماری یہ روش درست ہے ورنہ ہمیں یہ سب کچھ کیوں ملتا ‘ سو اس بناء پر وہ کسی ناصح کی نصیحت پر کان دھرنے کی بجائے متکبرانہ انداز میں منہ پھیر کر چل دیتے ہیں اور محروم کے محروم ہی رہتے ہیں ‘ اور جو لوگ قول…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 16–40

اللہ کا وعدہ وحی کے بارے میں اور دوبارہ زندہ کرنے کا تشریح : قیامت کا بیان کرتے کرتے وحی کے بارے میں حکم آگیا ہے۔ جیسا کہ شروع میں بتایا گیا ہے کہ یہ سورت مکی زندگی کے شروع میں نازل ہوئی۔ تو اس وقت آپ ﷺ کا تجربہ وحی کے سلسلے میں کچھ کم ہی تھا اس لیے فرمایا کہ وحی کے آنے پر گبھرا کر ساتھ ساتھ پڑھنے کی ضرورت نہیں بلکہ آپ صرف دھیان سے سن لیا کریں اس کو آپ کے ذہن میں بٹھانا اور اس کے مطالب واضح کرنا یہ اللہ کا کام ہے وہ خود ہی اپنی قدرت سے یہ دونوں کام کردے گا آپ ﷺ تو صرف غور سے سنتے رہیں۔ پھر دوبارہ قیامت کے بیان سے رابطہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ نیک و بد اپنے کاموں سے تو اچھی طرح آگاہ ہوتے ہیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 31–40

آیات 31 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ کافر نے نہ تو تصدیق کی نہ ایمان لایا اور نہ اللہ سے تعلق جوڑا جو اس کی عبادت کے ذریعے جوڑا جاسکتا تھا بلکہ سارے دین یعنی نظام حیات کا انکار کردیا اور اس سے منہ موڑ لیا اور اپنے اہل و عیال اور دولت دنیا میں منہمک ہوگیا بڑے فخر اور تکبر کے ساتھ تباہ ہوگیا تباہ ہوگیا ، تباہ ہوگیا ۔ یعنی زندگی میں موت میں برزخ میں اور حشر میں ہر جگہ اپنے لیے تباہی خریدلی کیسا بیوقوف ہے سمجھتا ہے حساب کتاب نہ ہوگا اور یونہی عالم ختم ہوجائے گا حالانکہ ایک مربوط نظام ہے خود یہ ایک قطرہ منی سے بنایا گیا پھر شکم مادر میں محض خون تھا جماہوا پھر اسے انسان بناکرزندگی دی اور اس میں مردو عورت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 31–35

ف 13 حضرت بن عباس کہتے ہیں کہ یہ الفاظ رسول اللہ ﷺ نے ابوجہل سے فرمائے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں قرآن میں نازل فرمایا۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(75:33) یتمطی۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ تمطی (تفعل) مصدر سے۔ غرور سے اکڑتا ہوا۔ ناز سے مٹکتا ہوا۔ ذھب کے فاعل سے حال ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 16–40

لغات القرآن۔ لاتحرک۔ حرکت نہ دے۔ قرانہ۔ اس کو پڑھوا دینا۔ بیانہ۔ اس کو کھول دینا۔ بیان کرا دینا۔ العاجلۃ ۔ جلد ملنے والی چیز۔ ناضرۃ ۔ تروتازہ۔ باسرۃ۔ اداس ہونے والے۔ فاقرہَ کمر کو توڑ دینے والی۔ تراقی۔ ہنسلی۔ راق۔ جھاڑ پھونک کرنے والا۔ التفت۔ لپٹ گئی۔ المساق۔ چلنا۔ روانگی۔ یتمطی۔ اکڑتا ہوا۔ اولی لک۔ تیرے لئے خرابی ہے۔ سدی۔ یوں ہی ۔ یمنی۔ ٹپکائی گئی۔ یحییٰ ۔ وہ زندہ کرتا ہے۔ الموتی۔ مردے۔ بےجان۔ تشریح : حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ (ابتداء میں) جب نبی کریم ﷺ پر قرآن نازل کیا جاتا تو آپ اس خوف سے کہیں کسی چیز ( آیات قرآنی) کو بھول نہ جائیں تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے ساتھ جلدی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 26–33

انسان کی پیدائش اور اس کی روح نکلنے کا ذکر۔ منکرین خدا اور محبوبان خدا کی جداجداحالت۔ (ف 2) اوپر ان اہل دنیا کا ذکر تھا جنہوں نے دنیا کے پیچھے اپنی عقبی کو برباد کیا، ان آیتوں میں انہی لوگوں کے خبردار کرنے کے لیے فرمایا جس طرح ان لوگوں نے خیال کرلیا ہے کہ دنیا ایک پائدارچیز ہے وہ بات ہرگز نہیں ہے یہ لوگ دنیا کو نہ چھوڑیں دنیا کے پیچھے عمربھر عقبی کو برباد کریں ، پھر آخر یہ دنیا کی گرویدگی عقبی کی بربادی کب تک ، ان کے بڑوں میں سے کوئی ہمیشہ جیا ہے جو یہ ہمیشہ زندہ رہیں گے قبر، حشر قیامت کی باتیں تو بھلاآنکھوں کے سامنے نہیں ہیں کیا کسی کی یہ حالت ان کی آنکھوں کے سامنے نہیں گذری کہ آخری وقت آن…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 26–40

[13] یعنی آخرت کو ہرگز دور نہ سمجھو۔ اس سفر آخرت کی پہلی منزل تو موت ہے جو بالکل قریب ہے۔ یہیں سے باقی منزلیں طے کرتے ہوئے اپنے ٹھکانے پر جا پہنچو گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 33–38

ف 1: ان آیتوں میں بتایا ہے ۔ کہ جو بات آخرت میں کام آنے والی ہے وہ اعمال صالحہ ہیں ۔ اور وہ جس نے ساری عمر نافرمانی اور معصیت میں بسر کی ۔ جس نے کبھی خدا کی راہ میں کچھ نہیں دیا ۔ جس نے کبھی مسجد تک آنے کی زحمت گوارا نہیں کی ۔ بلکہ ہمیشہ روگردانی اور تکذیب سے کام لیا ۔ اور اکڑتا ہوا ۔ اپنے گھر کو چل دیتا تھا ۔ وہ آج یوم الحساب کے دن کسی رعایت کا مستحق نہیں ۔ اس پر کم بختی آنے والی ہے ۔ اور ضرور کم بختی آنے والی ہے ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 29–38

ف 9۔ مراد اس سے ظہور سکرات موت ہے کچھ تخصیص التفات کی نہیں، اس کا ذکر تمثیلا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 31–35

(تو) ابو جہل نے (نہ تصدیق کی) قرآن کی۔ یا ۔۔۔ نہ صدقہ دیا جو کچھ مال میں سے دینا واجب تھا (اور نہ نماز پڑھی) خدا کے وسطے یا ۔۔۔ نہ پیروی کی پیغمبر کی (لیکن جھٹلایا) پیغمبر کو (اور باز رہا) راہ حق سے۔ تکذیب کا ذکر خاص طور پر اس لیے کردیا کیونکہ تصدیق نہ کرنا تکذیب کو مستلزم نہیں ، تو اس بدبخت نے تصدیق نہ کرنے کے ساتھ ساتھ تکذیب بھی کرڈالی۔ (پھر گیا اپنے والوں کی طرف) اس حال میں کہ (اکڑ رہا ہے) اور فخر و افتخار کی راہ سے ٹہل رہا ، ہے کہ میں نے ایسا ایسا کام کیا ہے ، یعنی تکذیب بھی کی ہے اور بےرخی بھی برتی ہے۔ تو اے ابو جہل سن لے ! کہ سزاوار ہے تجھ کو مت سخت ، تو (تیرا برا ہو) موت کے وقت۔ ۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 26–33

كَلَّآ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ وَقِيْلَ مَنْ ۫رَاقٍ وَّظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِۨ الْمَسَاقُ (When the soul [ of a patient ] reaches the clavicles, and it is said, "Who is an enchanter [ that can save him?] ", and he realizes that it is [ the time on departure [ from the world,] and one shank is intertwined with the other shank, then on that day, it is to your Lord that one has to be driven.... 75:26-30] In the preceding verses, reckoning on the Day of Reckoning and conditions of the inmates of Paradise and Hell were described. In…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 33–34

21 It means that the one who was not prepared to believe in the Hereafter, heard all that has been described in the above verses; yet he persisted in his denial, and hearing these verses went back to his household, arrogantly. Mujahid, Qatadah and Ibn Zaid say that this person was Abu Jahl. The words of the verse also indicate that it was some particular person, who adopted such a conduct after having heard the above-mentioned verse of Surah Al-Qiyamah. The words, "He neither affirmed the Truth nor offered the Prayer", are particularly noteworthy. They clearly show that the first and…

Read the full tafseer →