75. Surah Al-Qiyaama

القيامةThe Resurrection · 40 ayahsسراج البیان

Ayahs 75:1–4

لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَةِۙ Open ayah 75:1 in the Quran reader

میں قیامت (ف 1) کے دن کی قسم کھاتا ہوں

وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِؕ Open ayah 75:2 in the Quran reader

اور میں ملامت کرنے والے نفس کی قسم کھاتا ہوں

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗؕ Open ayah 75:3 in the Quran reader

کیا آدمی خیال کرتا ہے ۔ کہ ہم ہرگز اس کی ہڈیاں جمع نہ کرینگے ؟

بَلٰى قٰدِرِیْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَهٗ Open ayah 75:4 in the Quran reader

کیوں نہیں ہم اس پر قادر ہیں کہ اس کی انگلیوں کی پوریاں تک ٹھیک کردیں

سورة القیامہ 1: لا صرف ترئین واستہلال ہے ۔ قسم سے پہلے بطور افتتاح کے عام طور پر عربی لٹریچر میں آتا ہے ۔ اصرار لقیس کے ایک قصیدہ کا آغاز یوں ہوتا ہے ؎ لاوابیک انتباہ انعامری لایدعی انقوم انی افر یوم قیامت اور نفس محاسبہ میں مناسبت یہ ہے ۔ کہ دراصل برے فعل پر نفس کی ملامت نفسیاتی نقطہ نگاہ سے ہلکی کسی عقوبت اور سزا ہے ۔ اور اس کو اگر پھیلا کر آپ دیکھئے اور ممثل شکل میں ملاحظہ کیجئے گا ۔ تویہی وہ نظام قیامت ہے ۔ جس کو قرآن حکیم پیش فرماتا ہے ۔ اور جو مشرکین مکہ کی سمجھ میں نہیں آتا ۔ قرآن حکیم دراصل انسان کی توجہ کو خود اس کے باطن کی طرف مبذول کرنا چاہتا ہے ۔ اور یہ کہنا چاہتا ہے ۔ کہ تم لوگ نظام مکافات اور آخرت وبعثت کے تخیل کی مخالفت تو کرتے ہو ۔ مگر یہ نہیں دیکھتے کہ یہی چیز چھوٹے پیمانے پر خود تمہارے اندر موجود ہے ۔ اور ہر آن اور ہر لحقہ ۔ تم اس سے دوچار ہوتے ہو ۔ اور یہ نفس توامہ ہے ۔ فرمایا ۔ کہ یہ لوگ سمجھتے ہیں ۔ کہ ہم ان کی بوسیدہ ہڈیوں کو جمع نہیں کرسکیں گے ۔ اور ان کو دوبارہ زندگی نہیں عنایت کرسکیں گے ۔ حالانکہ ہم کو یہ قدرت حاصل ہے ۔ کہ ہم ان کی انگلیوں کی پوروں تک کو اکھٹا کرکے درست کردیں ۔ حل لغات :۔ تسورۃ ۔ شیر درندہ ۔
Ayahs 75:5–9

بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَهٗۚ Open ayah 75:5 in the Quran reader

بلکہ آدمی چاہتا ہے کے اپنے (ف 1) سامنے گناہ کرتا رہے

یَسْئَلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَةِؕ Open ayah 75:6 in the Quran reader

پوچھتا ہے قیامت کا دن کب ہے ؟

فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ Open ayah 75:7 in the Quran reader

پھر جب آنکھیں چترا جائیں گی

وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:8 in the Quran reader

اور چاند گہن جائے گا

وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:9 in the Quran reader

اور سورج اور چاند اکھٹے کئے جائیں گے

ف 1: یعنی قیامت کا انکار اس وجہ سے نہیں ہے ۔ کہ یہ عقل وفہم کے منافی ہے ۔ اور یہ بدیں وجہ اس نظام کی مخالفت نہیں کرتے ۔ کہ دانش بینش کا یہ تقاضا ہے ۔ بلکہ کفرو انکار کے پس پردہ جو محرک کام کررہا ہے ۔ وہ فسق وفجور کا جذبہ ہے ۔ یہ لوگ چاہتے ہیں ۔ کہ آئندہ زندگی میں بھی بلاتامل گناہوں کا ارتکاب کرتے چلے جائیں ۔ اور کوئی قوت ان کو اس جذبہ معصیت سے نہ روکے ۔
Ayahs 75:10–13

یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّۚ Open ayah 75:10 in the Quran reader

تو اس دن آدمی کہہ گا کہ بھاگنے (ف 2) کی جگہ کہاں ہے

كَلَّا لَا وَزَرَؕ Open ayah 75:11 in the Quran reader

ہرگز نہیں کہیں پناہ کی جگہ نہیں

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمُسْتَقَرُّؕ Open ayah 75:12 in the Quran reader

اس دن تیرے رب کی طرف ٹھہرنے کی جگہ ہے

یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَؕ Open ayah 75:13 in the Quran reader

اس دن آدمی کو بتایا جائے گا ۔ جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا

ف 2: فرمایا ۔ آج تو یہ لوگ قیامت کے نام سے متنفر ہیں ۔ اور اس کو محض ڈھکوسلا قرار دیتے ہیں ۔ مگر ایک وقت آنے والا ہے جب آنکھیں مارے حیرت کے کھلی کھلی رہ جائیں گی ۔ چاند بےنور رہ جائیگا ۔ اور آفتاب بھی اس تاریکی اور بےنوری میں اس کا شریک ہوجائیگا ۔ اس دن یہ لوگ کہیں گے ۔ کہ آج کہاں بھاگ کرجائیں ۔ اس وقت معلوم ہوگا ۔ کہ کوئی پناہ کی جگہ نہیں ہے ۔ سوائے پروردگار عالم کے حضور کے ۔ اس وقت ان کو ان کے کئے دھرے کا پتہ دیا جائیگا ۔ بلکہ یہ خود اس قابل ہونگے ۔ کہ اپنے اعمال کو کو دیکھ سکیں ۔ اور اپنے متعلق فیصلہ کرسکیں ۔ اگرچہ بتقاضائے بشریت یہ عذر اور بہانے پیش کرینگے ۔ مگر یہ واقعہ ہے ۔ کہ دل میں فیصلہ کے منصفانہ ہونے کا ان کو پختہ یقین ہوگا ۔
Ayahs 75:14–23

بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِیْرَةٌۙ Open ayah 75:14 in the Quran reader

بلکہ آدمی اپنی جان پر حجت (ف 3) (دلیل) ہے

وَّ لَوْ اَلْقٰى مَعَاذِیْرَهٗؕ Open ayah 75:15 in the Quran reader

اور اگرچہ وہ اپنے بہانے بنایا کرے

لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖؕ Open ayah 75:16 in the Quran reader

اور تو قرآن پڑھنے میں اپنی زبان تیزنہ چلا نہ اس طرح کہ اس کے ساتھ شتابی کرلے

اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗۚۖ Open ayah 75:17 in the Quran reader

اس کا جمع کرنا اور پڑھنا ہمارے ذمہ ہے

فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗۚ Open ayah 75:18 in the Quran reader

پھر جب ہم اسے پڑھنے لگیں تو پیروی کر ہمارے پڑھنے کی

ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَهٗؕ Open ayah 75:19 in the Quran reader

پھر اس کو کھول کر بتانا ہمارا ذمہ ہے

كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَۙ Open ayah 75:20 in the Quran reader

نہیں نہیں تم دنیا کو دوست رکھتے ہو

وَ تَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَؕ Open ayah 75:21 in the Quran reader

اور آخرت چھوڑتے ہو

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌۙ Open ayah 75:22 in the Quran reader

کتنے منہ اس دن تازہ ہوں گے

اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌۚ Open ayah 75:23 in the Quran reader

اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہونگے

ایک لطیف ربط 3: بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ کہہ دینے سے شبہ پیدا ہوسکتا تھا ۔ کہ جب اس عالم آخرت میں انسان میں ایسی بصیرت پیدا ہوسکتی ہے ۔ کہ اس کے تمام اعمال اس کے قلب میں مرقسم ہوجائیں ۔ اور ان نفوش کو معلوم کرلے ۔ جو ان اعمال کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں ۔ اور حقیقت حال پر مطلع ہوجائے ۔ تو پھر اس دنیا میں یہ کیوں ممکن نہیں ہے ۔ اور کیوں ایسا نہیں ہوسکتا ۔ کہ یہاں کتاب فطرت کے درد سر کو لیں اور اس طرح وحی والہام کی ضرورت و احتیاج باقی نہ رہے ۔ فرمایا ۔ یہ ہمارے ذمہ ہے ۔ یہاں یہ چیز ممکن نہیں ہے کہ تم اپنی دفاعی کاوش اور محنت سے کسی نظام رشدوہدایت کو معلوم کرلو ۔ چناچہ حضور ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ جب آپ قرآن کی تلاوت فرمائیں سو سہج سہج سے یہ ہمارا کلام ہے کہ ہم اس کو آپ کے شینہ میں جمع کردیں ۔ اور آپ کو پڑھادیں بس جب ہم پڑھیں (فرشتہ کی وساطت سے) تو آپ بھی ساتھ پڑھتے جائیں اور اس پر یقین رکھیں کہ اس کی توضیح وتشریح بھی ہم کرینگے اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح قرآن بحیثیت مسکن کے مطاع ہے ۔ اسی طرح بحیثیت شرع کے مطاع ہے ۔ بحیثیت اور سند رہے ۔ حل لغات :۔ بنانہ ۔ آنکھوں کی پوریں دزر ۔ پناہ ۔
Ayahs 75:24–32

وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍۭ بَاسِرَةٌۙ Open ayah 75:24 in the Quran reader

اور کتنے منہ اس دن اداس (ف 1) ہونگے

تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌؕ Open ayah 75:25 in the Quran reader

وہ خیال کرینگے کہ ان کے ساتھ وہ معاملہ کرلیا جائیگا ۔ جس سے کمر ٹوٹ جائیگی

كَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَۙ Open ayah 75:26 in the Quran reader

ہرگز نہیں جب جان حلقوم میں آپہنچے

وَ قِیْلَ مَنْ١ٚ رَاقٍۙ Open ayah 75:27 in the Quran reader

اور کہا جائیگا یہ کون ہے جھاڑنے پھونکے والا

وَّ ظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُۙ Open ayah 75:28 in the Quran reader

اور وہ جانے کہ اب آیا وقت جدائی کا

وَ الْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِۙ Open ayah 75:29 in the Quran reader

اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمَسَاقُ٢ؕ۠ Open ayah 75:30 in the Quran reader

اس دن تیرے رب کی طرف کھینچ کرچلا جاتا ہے

فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰىۙ Open ayah 75:31 in the Quran reader

پھر نہ یقین لایا ۔ اور نہ نماز پڑھی

وَ لٰكِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 75:32 in the Quran reader

لیکن جھٹلایا اور منہ موڑا

دیدار الٰہی 1: جمہور اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے ۔ کہ قیامت کے دن رویت باری تعالیٰ سے مشتاقان جمال ضرور مشرف ہونگے ۔ اور اللہ تعالیٰ ازراہ قرب و خوشنودی ان کو موقع دیں گے ۔ کہ وہ بارگاہ حسن میں عقیدت نیاز مندی کے نذرانے پیش کرسکیں گے ۔ اہل محل واعتزال کا عقیدہ یہ ہے ۔ کہ قرب وحضوری کے مقامات پر فائز ہونا تو ناممکن ہے ۔ اور یہ بھی ممکن ہے ۔ کہ قرب اتنا زیادہ ہو کہ یہ مقربین متعین جناب قدس کے سامنے اپنے کو محسوس کریں ۔ اور وہی یقین کا مرتبہ حاصل کرلیں ۔ جو اس شخص کو حاصل ہوتا ہے ۔ جو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کررہا ہو ۔ اور اس طرح اس قرب وحضوری پر وہ شادمانی اور مسرت کا اظہار کریں ۔ مگر یہ کیونکر ممکن ہے ۔ کہ وہ حسن مطلق اور جمال جہان سورة جس کو موسیٰ عمران کی قوت وتاب برداشت نہیں کرسکی ۔ جس کی ایک تجلی سے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوگیا ۔ اس کو ان محدود اور بےقوت آنکھوں سے دیکھاجاسکے ۔ دونوں کے پاس دلائل ہیں ۔ اور دونوں ایک حد تک حق پر ہیں ۔ جہاں تک شوق و محبت کا تعلق ہے ۔ اور اللہ کے کرم ونوازش کا تعلق ہے ۔ دیدار میں کیا مضائقہ ہے ۔ اور جہاں اس کی جلالت قدر کا سوال سامنے آتا ہے ۔ کچھ ناممکن سا معلوم ہوتا ہے ۔ کہ یہ وبدار شوخ چشمی کی مد میں داخل ہوجاتا ہے ۔ غالباً حق و اعتدال کی راہ یہ ہے ۔ کہ نظریں تو اٹھیں گی ۔ مگر روایت کا حصول مشکل ہے ۔ یعنی جلوہ فرمائیوں کے منظر تو آنکھوں کے سامنے ہونگے ۔ مگر احاطہ ادراک اور پوری طرحنظروں کا چاروں طرف سے گھیرلینا ناممکن ہوگا ۔ آیت کا مقصد یہ ہے ۔ کہ کچھ لوگ تو ایسے خوش قسمت ہونگے ۔ کہ اس وقت قرب وحضوری کے اس مرتبہ کو پاکر مسرور ہونگے ۔ اور کچھ ایسے ہوں گے جو بورد دوری کی وجہ سے مایوس ان کے چہروں پر وہ آب وتاب نہ ہوگی ۔ جو مومنین کے حصہ میں آئے گی ۔ حل لغات :۔ العاجلۃ ۔ دنیا ناضرۃ ۔ رونق ۔ شاداب وشگفتہ باسرۃ ۔ بےآب ۔ بےرونق فاقوہ ۔ وہ تکلیف جو کمر توڑدے ۔
Ayahs 75:33–38

ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ یَتَمَطّٰىؕ Open ayah 75:33 in the Quran reader

پھر اکڑتا (ف 1) ہوا اپنے گھر کو چلا گیا

اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىۙ Open ayah 75:34 in the Quran reader

خرابی تیری ، پھر خرابی تیری

ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىؕ Open ayah 75:35 in the Quran reader

پھر خرابی تیری ، پھر خرابی تیری

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًىؕ Open ayah 75:36 in the Quran reader

کیا آدمی یہ خیال کرتا ہے کہ وہ بےقید چھوڑ دیا جائیگا !

اَلَمْ یَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِیٍّ یُّمْنٰىۙ Open ayah 75:37 in the Quran reader

کیا وہ منی کی ایک بوند نہ تھا جو ٹپکی ؟

ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ Open ayah 75:38 in the Quran reader

پھر وہ تپ کی ہو ، پھر اس نے بنایا اور ٹھیک کر اٹھایا

ف 1: ان آیتوں میں بتایا ہے ۔ کہ جو بات آخرت میں کام آنے والی ہے وہ اعمال صالحہ ہیں ۔ اور وہ جس نے ساری عمر نافرمانی اور معصیت میں بسر کی ۔ جس نے کبھی خدا کی راہ میں کچھ نہیں دیا ۔ جس نے کبھی مسجد تک آنے کی زحمت گوارا نہیں کی ۔ بلکہ ہمیشہ روگردانی اور تکذیب سے کام لیا ۔ اور اکڑتا ہوا ۔ اپنے گھر کو چل دیتا تھا ۔ وہ آج یوم الحساب کے دن کسی رعایت کا مستحق نہیں ۔ اس پر کم بختی آنے والی ہے ۔ اور ضرور کم بختی آنے والی ہے ۔
Ayahs 75:39–40

فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىؕ Open ayah 75:39 in the Quran reader

پھر اس منی میں نرومادہ (ف 2) کا جوڑا بنایا

اَلَیْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى۠ Open ayah 75:40 in the Quran reader

کیا ایسا شخص مڑے جلانے پر قادر نہیں ؟

ف 2: ان آیات میں اس حقیقت کو بیان کیا ہے ۔ کہ یہ زندگی یوں ہی بلا مقصد کے نہیں ہے ۔ ایسا نہیں ہے ۔ کہ ہر شخص کو بغیر محاسبہ کے چھوڑ دیا جائے ۔ اور اس سے کوئی از پرس نہ ہو ۔ بلکہ یہ زندگی ذمہ داری اور جدوجہد کی زندگی ہے ۔ جس خدا نے ایک قطرہ آب سے مردو عورت کی ایک دنیا بسارکھی ہے ۔ کیا وہ مکافات عمل کے لئے لوگوں کو دوبارہ زندہ نہ کرسکے گا ۔ یہ وہ سوال ہے ۔ جس کو قرآن بطور استدلال کے پیش کرتا ہے ۔ اور مقصد یہ ہے ۔ کہ ایسا ہوسکتا ہے ۔ حل لغات :۔ یتمطی ۔ ناز کرتا ہوا ۔ اور اکڑتا ہوا ۔