75. Surah Al-Qiyaama

القيامةThe Resurrection · 40 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 75:1–2

لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَةِۙ Open ayah 75:1 in the Quran reader

میں قسم نہیں کھاتا ہوں قیامت کے دن کی ،

وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِؕ Open ayah 75:2 in the Quran reader

اور میں قسم نہیں کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی ،

قسم کی طرف اشارہ کرنا اور قسم نہ کھانا زیادہ اثر انگیز ہوتا ہے اور یہی اثر آفرینی یہاں مقصود ہے۔ اور اس انداز سے یہ مقصد اچھی طرح حاصل ہوتا ہے اور یہ انداز قرآن کریم میں بار بار دہرایا جاتا ہے اور اس کے بعد پھر حقیقت قیامت اور ملامت کرنے والے نفس کی حقیقت بیان کی جاتی ہے۔ قیامت کی حقیقت کے بارے میں اس سورت میں مکرر بات کی گئی ہے۔ لیکن نفس لوامہ کیا ہے ؟ اس کے بارے میں تفاسیر ماثورہ میں کئی اقوال مذکور ہیں۔ حضرت حسن بصری سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں : کہ تم جب بھی دیکھو ایک سچا آدمی ہمیشہ اپنے آپ کو ملامت کرے گا کہ میری بات کا کیا مطلب تھا ؟ میرے کھانے کا مقصد کیا ہے ؟ اور میری بات کا فائدہ کیا ہے ؟ رہا فاجر تو اپنی راہ پر آگے ہی بڑھتا ہے اور اپنے آپ کو کسی مرحلے پر بھی ملامت نہیں کرتا۔ اور حضرت حسن سے روایت ہے کہ زمین و آسمان کے باشندوں میں سے کوئی ایسا نہ ہوگا ، جو اپنے آپ کو قیامت کے دن ملامت نہ کرے گا۔ حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ تم خیر اور شر دونوں پر ایک دوسرے کو ملامت کرو گے کہ اے کاش کہ میں ایسا ایسا کرتا۔ اور یہی روایت سعید ابن جبیر سے ہے اور حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ اس سے نفس لوم مراد ہے۔ اور ان ہی سے روایت ہے کہ وہ ملامت زدہ نفس جو کسی مذموم بات پر ملامت کیا جائے اور مجاہد سے روایت ہے کہ ہر نفس جو ان امور پر نادم ہو جو فوت ہوگئے ہوں اور اپنے آپ کو ملامت کرے۔ قتادہ کہتے ہیں لوامہ وہ نفس ہے ، جو فجور کا ارتکاب کرے۔ ابن جریر کہتے ہیں یہ سب اقوال قریب المعنی ہیں اور زیادہ قریب یہ مفہوم ہے کہ نفس لوامہ سے وہ نفس مراد ہے جو اپنے آپ کو خیر اور شر پر ملامت کرے اور جو خیر رہ جائے اس پر نادم ہو۔ ہمارے خیال میں حسن بصری کا قول زیادہ بہتر ہے کہ نفس لوامہ وہ ہے جو ملامت کرتا ہے کہ ” خدا کی قسم ایک مومن کو جب بھی تم دیکھو وہ اپنے آپ کو ملامت ہی کرتا ہے کہ میں نے جو بات کی اس کا کیا مقصد ہے ؟ میں نے جو کھایا اس کا کیا مقصد ہے ، اور میں نے جو کچھ سوچا اس کا کیا مقصد ہے۔ اور فاسق وفاجر بس آگے ہی بڑھتا جاتا ہے۔ اپنی کسی بات پر اپنے آپ کو ملامت کرتا “۔ تو نفس لوامہ وہ ہے جو بیدار ہے ، خدا کا خوف رکھنے والا ہے ، ہر وقت محتاط اور اپنا حساب رکھنے والا ، جو اپنے ماحول پر نظر رکھتا ہو ، وہ اپنی خواہشات پر نظر رکھتا ہو اور ہر وقت اس بات سے محتاط ہو کہ کہیں دھوکہ نہ کھاجائے۔ یہ نفس اللہ کے فاجرہ کے بالمقابل ہوتا ہے۔ نفس فاجرہ وہ ہوتا ہے جو آگے بڑھتا رہتا ہے۔ فسق وفجور میں گم ہوتا ہے ، جس کی صفات یہ ہوتی ہیں کہ وہ جھوٹ بولتا ہے ، روگردانی کرتا ہے ، اور نہایت غرور سے اپنے اہالی وموالی کی طرف رجوع کرتا ہے اور اپنا محاسبہ نہیں کرتا۔ لا اقسم ............................ اللوامة (75:1 ۔ 2) ”” میں قسم نہیں کھاتا ہوں قیامت کے دن کی ، اور میں قسم نہیں کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی “۔ یعنی وقوع قیامت پر قسم نہیں اٹھاتا ، یہاں اللہ نے قسم اٹھانے کی بھی نفی کی اور اس بات کو بھی حذف کردیا کہ کس بات پر قسم نہیں اٹھائی جارہی لیکن جس بات کی قسم اٹھائی جارہی ہے اس کا ذکر ایک دوسرے انداز میں کردیا گیا۔ گویا یہ نئی بات ہے اور قسم کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں۔
Ayah 75:3

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗؕ Open ayah 75:3 in the Quran reader

کیا انسان یہ سمجھ رہا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہ کرسکیں گے ؟

ایحسب ........................ بنانہ (57 : 3۔ 4) ” کیا انسان یہ سمجھ رہا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہ کرسکیں گے ؟ کیوں نہیں ؟ ہم تو اس کی انگلیوں کی پور پور تک ٹھیک بنادینے پر قادر ہیں “۔ مشرکین مکہ اس شعوری خلجان میں مبتلا تھے کہ پرانی ہڈیوں کو کس طرح یکجا کرکے انسان بنادیا جائے گا جبکہ یہ ریزہ ریزہ ہوکر مٹی میں مل گئی ہوں اور زمین میں بکھر گئی ہوں ، کس طرح انسان کو بعینہ اسی طرح دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ اور یہ خلجان آج تک بعض دلوں میں موجود ہے۔ قرآن کریم اس کی تردید نہایت تاکید کے ساتھ کرتا ہے کہ ہاں ایسا ہی ہوگا اور لازماً ہوگا۔
Ayah 75:4

بَلٰى قٰدِرِیْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَهٗ Open ayah 75:4 in the Quran reader

کیوں نہیں ؟ ہم تو اس کی انگلیوں کی پور پور تک ٹھیک بنادینے پر قادر ہیں۔

بلی قدرین .................... بنانہ (75:4) ” کیوں نہیں ہم تو اس کی انگلیوں کی پور پور تک ٹھیک بنادینے پر قادر ہیں “۔ بنان انگلیوں کے اگلے سرے کو کہتے ہیں۔ مفہوم کے اندر تاکید یوں پیدا کی جاتی ہے کہ ہڈیوں کو ہم تو پورے پورے تک بنادیں گے اور جب کوئی ایک ایک پورا بناسکتا ہے اس کے لئے ہڈیاں جمع کرنا کیا مشکل ہے۔ مقصد ہے کہ انسان کے ایک ایک جزء کو دوبارہ جمع کردیا جائے گا اور کوئی جز نہ رہ جائے گا۔ پورے کا پورا آموجود ہوگا ، خواہ چھوٹا حصہ ہو یا بڑا۔ یہاں تو یہ کہہ دیا ، لیکن سورت کے آخر میں دوبارہ تخلیق پر ایک دوسری دلیل بھی لائی گئی ہے۔ یہاں تو صرف ان کے خلجان اور اس کے ظاہری سبب کا اظہار کردیا گیا کہ یہ لوگ ہڈیوں کے جمع ہونے کی توقع نہیں رکھتے۔ انسان دراصل فسق وفجور کی خواہش رکھتا ہے۔ اور چاہتا ہے کہ اس فسق وفجور میں آگے ہی جاتا رہے۔ اور کوئی چیز اسے روکنے والی نہ ہو اور نہ اس کو حساب و کتاب کا سامنا کرنا پڑے اور نہ جزاء وسزا کا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ وقوع قیامت کو مستعبد سمجھتا ہے اور قیامت کے وقوع سے فرار کی راہ ڈھونڈتا ہے۔
Ayahs 75:5–6

بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَهٗۚ Open ayah 75:5 in the Quran reader

مگر انسان چاہتا ہے کہ آگے بھی بداعمالیاں کرتا رہے۔

یَسْئَلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَةِؕ Open ayah 75:6 in the Quran reader

پوچھتا ہے : ” آخر کب آنا ہے وہ قیامت کا دن ؟ “

بل یرید ............................ القیمة (75:5 ۔ 6) ” مگر انسان چاہتا ہے کہ آگے بھی بداعمالیاں کرتا رہے۔ پوچھتا ہے : ” آخر کب آنا ہے وہ قیامت کا دن ؟ “۔ یہاں سوال لفظ ” ایان “ سے لیا گیا ہے۔ یہ لفظ مشدود اور مترنم ہے۔ اور اس شد اور ترنم سے دراصل اشارہ ہے۔ اس طرف کہ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی اور یہ سوچ ان لوگوں کو اس لئے کہ یہ فسق وفجور میں آگے ہی بڑھتے رہیں اور بعث بعد الموت اور جواب دہی کا تصور انہیں نہ روک سکے۔ اور نہان کی زندگی کو مکدر کرسکے۔ درحقیقت تصور آخرت ہی وہ چیز ہے جو اس قسم کے احساس کو لگام دے سکتا ہے۔ اور محبان فسق وفجور کو روک سکتا ہے۔ ایسے لوگ اس قسم کی رکاوٹوں اور فسق وفجور کی بندشوں کو بلا روک وٹوک جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ قیامت کے قوع کے بارے میں ہٹ دھرمی اور اسے مستبعد سمجھنے کا جواب یہاں نہایت شتابی کے ساتھ ، فیصلہ کن انداز میں دیا گیا اور یوں دیا گیا کہ اس میں شک ہی نہ رہے۔ اس جواب میں انسانی حواس ، انسانی شعور اور کائناتی مشاہد پیش کیے گئے۔
Ayahs 75:7–9

فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ Open ayah 75:7 in the Quran reader

پھر جب دیدے پتھرا جائیں گے

وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:8 in the Quran reader

اور چاند بےنور ہوجائے گا

وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:9 in the Quran reader

اور چاند سورج ملا کر ایک کردیئے جائیں گے۔

فاذا ............................................ المفر (75:7 تا 10) ” پھر جب دیدے پتھرا جائیں گے اور چاند بےنور ہوجائے گا اور چاند سورج ملا کر ایک کردیئے جائیں گے۔ اس وقت یہی انسان کہے گا ” کہاں بھاگ کر جاﺅں ؟ “۔ جب بجلی چمکتی ہے تو نظر چندھیاجاتی ہے اور جلدی لوٹ آتی ہے۔ اور جب سورج خسف کا شکار ہوتا ہے تو بےنور ہوجاتا ہے اور سورج اور چاند دور ہیں لیکن یہ باہم مل جائیں گے اور اس طرح تمام فلکی انتظام مختل ہوجائے گا اور ایک خوفناک اور انقلابی صورت حالات ہوگی اس وقت ہر انسان پاہم ایک دوسرے سے سوال کریں گے۔
Ayah 75:10

یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّۚ Open ayah 75:10 in the Quran reader

اس وقت یہی انسان کہے گا ” کہاں بھاگ کر جاﺅں ؟ “

این المفر (75:10) ” بھاگنے کی جگہ کہاں ہے “۔ اور انسان اس جزع فزع میں پھر ہر طرف بھاگتا پھرے گا۔ جس طرح چوہا پنجرے میں بند ہوجاتا ہے اور ہر طرف بھاگتا رہتا ہے۔ اب نہ جائے فرار ہے ، نہ جائے پناہ ہے ، نہ آگے جاسکتے ہیں اور نہ پیچھے۔
Ayahs 75:11–12

كَلَّا لَا وَزَرَؕ Open ayah 75:11 in the Quran reader

ہرگز نہیں ، وہاں کوئی جائے پناہ نہ ہوگی ،

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمُسْتَقَرُّؕ Open ayah 75:12 in the Quran reader

اس روز تیرے رب ہی کے سامنے جاکر ٹھہرنا ہوگا۔

کلا لا .................... المسقر (75:12) ” ہرگز نہیں ، وہاں کوئی جائے پناہ نہ ہوگی ، اس روز تیرے رب ہی کے سامنے جاکر ٹھہرنا ہوگا “۔ اس دن یہ صورت حالات نہ ہوگی جو انسان چاہتا ہے کہ بلا حساب و کتاب وہ فسق وفجور کے راستے پر آگے بڑھے اور کوئی پوچھنے والا نہ ہو ، بلکہ اس دن تو پورا پورا محاسبہ ہوگا اور اس نے اپنے جو اعمال بھولے ہوں گے ان کے بارے میں اس سے پوچھا جائے گا۔ اور جب وہ یاد کرے گا تو پھر جزاء وسزا ہوگی۔
Ayah 75:13

یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَؕ Open ayah 75:13 in the Quran reader

اس روز انسان کو اس کا سب اگلا پچھلا کیا کرایا بتادیا جائے گا

ینبؤ ................ واخر (75:13) ” اس روز انسان کو اس کا سب اگلا پچھلا کیا کرایا بتادیا جائے گا “۔ یعنی وہ اعمال جو اس نے اپنی وفات سے پہلے کہے اور وہ آثار جو اس نے مرنے کے بعد چھوڑے۔ خواہ اچھے آثار ہوں یا برے آثار ہوں کیونکہ انسان کے بعض اعمال ایسے ہوتے ہیں جن کے آثار باقی رہتے ہیں اور وہ اس کے اعمال میں اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ پھر وہاں انسان جو عذرات بھی پیش کرے گا ، اس کا کوئی عذر بھی قبول نہ ہوگا کیونکہ وہ اپنے کیے کا ذمہ دار ہوگا۔ نفس انسانی کو اللہ نے خیروشر کی ہدایت کردی ہے۔ اگر نفس انسان کو خیر تک لے جائے تو اچھا انجام ہوگا اور اگر شر تک لے جائے تو اس کا محاسہ ہوگا۔
Ayahs 75:14–15

بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِیْرَةٌۙ Open ayah 75:14 in the Quran reader

بلکہ انسان خود ہی اپنے آپ کو خوب جانتا ہے

وَّ لَوْ اَلْقٰى مَعَاذِیْرَهٗؕ Open ayah 75:15 in the Quran reader

چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے “۔

بل الانسان ................ معاذیرہ (75:15) ” بلکہ انسان خود ہی اپنے آپ کو خوب جانتا ہے چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے “۔ یہاں یہ بات نوٹ کیے جانے کے قابل ہے کہ اس سورة میں ہر چیز نہایت تیز رفتاری سے چل رہی ہے۔ فقرے ، قافئے ، موسیقی اور ترنم ، مناظر اور چمک دمک ، اسی طرح حساب و کتاب بھی سرعت سے ہوگا۔ مقدم اور موخر سب کچھ سامنے ہوگا اور یہ اس لئے کہ وہ ایان سے سوال کرکے قیامت کو بہت دور اور بہت ناممکن سمجھتے تھے۔
Ayahs 75:16–19

لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖؕ Open ayah 75:16 in the Quran reader

اے نبی ! اس وحی کو جلدی جلدی یاد کرنے کے لئے اپنی زبان کو حرکت نہ دو ،

اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗۚۖ Open ayah 75:17 in the Quran reader

اس کو یاد کرادینا اور پڑھوادینا ہمارے ذمہ ہے ،

فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗۚ Open ayah 75:18 in the Quran reader

لہٰذا جب ہم اسے پڑھ رہے ہوں ، اس وقت تم اس کی قرات کو غور سے سنتے رہو ،

ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَهٗؕ Open ayah 75:19 in the Quran reader

پھر اس کا مطلب سمجھا دینا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے

اب چار آیات آتی ہیں جو قرآن مجید کے بارے میں آپ کو ہدایات دے دی ہیں اور یہ جملہ معترضہ ہیں۔ لا تحرک ........................ بیانہ ان آیات کے بارے میں ہم نے سورت کے مقدمہ میں جو کچھ کہہ دیا ہے اس پر اس قدر اضافہ ضروری ہے کہ قرآن کریم کے حفظ و حفاظت کا کام اللہ نے مطلقاً اپنے ذمہ لے لیا ہے۔ اللہ اس بات کا ضامن ہے کہ قرآن زندہ رہے گا ، محفوظ رہے گا ، جمع وتدوین مکمل ہوگی اور اس کی تشریح بھی اللہ کرے گا۔ مکمل ذمہ داری اللہ پر ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی ذمہ داری فقط یہ ہے کہ آپ اسے اٹھائیں اور لوگوں تک پہنچادیں۔ یہ اس لئے کہا گیا کہ حضور اکرم ﷺ اخذ وحی کے لئے بیتاب ہوجاتے تھے اور آپ جلدی سے سب کے سب قرآن کا اخذ اور حفظ چاہتے تھے۔ اور اس بارے میں بےحد سنجیدہ تھے کہ اس کا کوئی کلمہ رہ نہ جائے۔ اس لئے آپ جلدی جلدی دہراتے تھے ، تو آپ کو یہ ہدایت کی گئی کہ آپ زبان سے دہرانے کی کوشش نہ کریں ، حفاظت اللہ کی ذمہ داری ہے۔ یہ بات قرآن کے اندر کئی جگہ ریکارڈ کی گئی ہے ، اس لئے کہ خدا تعالیٰ یہ بات مسلمانوں کے ذہن میں بٹھانا چاہتا تھا کہ قرآن کا حفظ اور جمع بہت اہم ہے۔ جس کی طرف ہم نے سورت کے مقدمہ میں اشارات کیے ہیں۔ اس جملہ معترضہ کے بعد اب سورت میں قیامت کے مناظر آتے ہیں کہ نفس لوامہ کا اس میں کیا حال ہوگا۔ ان مناظر میں یہ بات یاد دلائی جاتی ہے کہ اس دنیا کے بارے میں تمہارے نفوس کے اندر کیا کیا امنگیں آتی ہیں ، کس طرح تم دنیا کے اندر مگن ہو اور آخرت کو بھولے ہوئے ہو۔ اور آخرت کی پرواہ ہی نہیں کرتے ہو۔ ذرا دیکھو تو سہی کہ وہاں تمہاری کیا گت بننے والی ہے۔ ایک نہایت ہی زندہ اور متحرک منظر میں اس حالت کو انسانوں کے سامنے رکھا جاتا ہے جو نہایت ہی موثر اور اشارتی ہے۔
Ayahs 75:20–21

كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَۙ Open ayah 75:20 in the Quran reader

” ہرگز نہیں ، اصل بات یہ ہے کہ تم لوگ جلد حاصل ہونے والی چیز (یعنی دنیا) سے محبت رکھتے ہو

وَ تَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَؕ Open ayah 75:21 in the Quran reader

اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو۔

انداز بیان میں جو پہلی بات نمایاں نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہاں دنیا کے لئے عاجلہ کا لفظ استعمال کیا ہے ، اس لفظ کے مفہوم میں ایک بات تو یہ ملحوظ ہے کہ یہ دنیا جلدی ختم ہونے والی چیز ہے ۔ اور اصل مقصود یہی بتانا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ لفظ اس لئے بھی لایا ہے کہ اس سے قبل قرآن کے بارے میں جملہ معترضہ میں بھی یہ بات کہی گئی تھی۔ لا تجرک ................ بہ (75:16) د ’ وحی جلدی جلدی یاد کرنے کے لئے اپنی زبان کو حرکت نہ دو “۔ اس دنیا اور اس کے ہر کام میں عجلت دراصل اس دنیا کی خصوصیت ہے۔ اور دنیا میں مفادات کے لئے شتابی اور قرآن کو جلد یاد کرنے کے عجلت دونوں اس دنیا کے رنگ ہیں۔ یہ قرآن کریم کا نہایت ہی لطیف اور گہرا اشارتی ہم آہنگی ہے اور یہ قرآنی انداز کلام ہے۔
Ayahs 75:22–23

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌۙ Open ayah 75:22 in the Quran reader

اس روز کچھ چہرے تروتازہ ہوں گے ،

اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌۚ Open ayah 75:23 in the Quran reader

اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے

اب قرآن کریم کا پیش کردہ مصور منظر جو قرآن کا منفرد اسلوب ہے۔ وجوہ ........................ ناضرة (22) الی ربھا ناظرة (75:23) ” اس روز کچھ چہرے تروہ تازہ ہوں گے۔ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے “ یہ آیت ایک ایسی حالت کی طرف ایک جھلک کی شکل میں تیز اشارہ کررہی ہے کہ الفاظ کے اندر کسی انسان کے لئے ایسا اشارہ ممکن نہیں ہے۔ نہ انسان اس حالت کا حقیقی ادراک ہی کرسکتا ہے۔ کامیاب اور نیک بخت لوگوں کی حالت کی یہ ایسی تصویر ہے جس کی حالاتی تصویر کشی ممکن ہی نہیں ہے بلکہ اس حالت کے مقابلے میں جنت کی بھی کوئی حقیقت نہیں رہی۔ حالانکہ وہ نعمتوں کے انواع و اقسام سے بھری ہوئی ہے۔ یہ حالت کہ یہ چہرے تروتازہ ہوں گے ، اور اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔ رب کی طرف دیکھ رہے ہوں اور خوش اور مطمئن ہوں۔ یہ ہے بلند ترین مقام سعادت مندی ! اس جہاں میں انسان بعض اوقات اس کائنات اور نفس انسانی کے اندر پائے جانے والے حسن و جمال سے بےحد لط اندوز ہوتا ہے۔ انسان مثلاً چاندنی رات میں گم ہوتا ہے۔ اگر چاندنی نہ ہو تو اندھیری رات کا بھی ایک لطف ہوتا ہے۔ پھر نمودسپیدہ صبح کیا خوبصورتی دکھاتا ہے۔ درختوں کے طویل اور گہرے سائے ، سمندر کی پے درپے موجیں ، صحراﺅں کی درویاں ، باغات کی سرسبزیاں ، خوبصورت پھل اور پھول فرحاں و شاداں دل ، پختہ ایمانی لمحات ، مشکلات کو انگیز کرنا اور دوسری خوبصورتیاں جن سے یہ جہاں پر ہے اور انسان ان سے لطف اندوز ہوتا رہتا ہے اور تصور اور نور کے پروں کے ساتھ اس جہاں میں دوڑتا اور اڑتا پھرتا ہے۔ اور اس قدر خوشی اور سرور پاتا ہے کہ زندگی کے درد اور دکھ بھول جاتا ہے اور مادی اور جسمانی خوشیوں کو بھول جاتا ہے۔ خواہشات نفس اور مادی شوق اور لذت ایک لمحے کے لئے ذہن سے دور ہوجاتے ہیں۔ لیکن اس کی خوشیوں کا عالم ہی کیا ہوگا جب وہ اللہ کے تخلیق کردہ کمال و جمال کے بھی آگے بڑھ کر ذات باری کے کمالات کو دیکھ رہا ہو اور اللہ کی طرف اس کی نظریں ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ مقام تب حاصل ہوتا ہے جب اللہ کی خاص مدد شامل حال ہو ، پھر یہ تب حاصل ہوتا ہے کہ جب کسی کو اللہ کی جانب سے ثابت قدمی حاصل ہو۔ انسانوں کو اپنے اوپر کنٹرول حاصل ہو ، وہ استقامت کا مالک ہو اور اخروی سعادت مندی سے لطف اندوز ہورہا ہو ، وہ سعادت مندی جس کی تعریف نہیں کی جاسکتی۔ اور جس کی حقیقت کو پوری طرح سمجھنا ہی مشکل ہے۔ وجوہ ............ ناضرة (22) الی ربھا ناظرة (75:23) ” بعض چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے “۔ وہ تروتازہ کیوں نہ ہوں جبکہ وہ رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔ انسان اس دنیا میں اللہ کی تخلیقات کا نظارہ کرتا ہے ، خوبصورت پھل ، عجیب و غریب پھول ، خوش رنگ اور خوبصورت پرندے اور ان کے بال ویر ، خوبصورت روحیں اور اچھے کام اور ان چیزوں کو دیکھ کر اس کارواں رواں خوش ہوتا ہے۔ اور اس کے چہرے سے خوشی ٹپک رہی ہوتی ہے اور چہرہ ترو تازہ ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر انسان اللہ کے مال اور جمال اور نورذات کی طرف دیکھ رہا ہو تو اس کی خوشی اور خوش بختی کے کیا کہنے۔ انسان اس مقام تک تب ہی پہنچ سکتا ہے جب وہ ان تمام رکاوٹوں کو ایک جھٹکے کے ساتھ دور پھینک دے جو اس مقام بلند تک پہنچنے سے روک رہی ہوتی ہیں۔ یہ مقام تب ہی حاصل ہوسکتا ہے کہ انسان اپنی ذات اور اپنے ماحول سے تمام نقائص دور کردے۔ اور وہ اللہ کے سوا کسی چیز کی طرف دیکھ ہی نہ رہا ہو۔ انسان اللہ کی طرف کس طرح دیکھے گا ؟ کس عضو سے دیکھے گا ؟ کیا آلہ بینائی اسے حاصل ہوگا ؟ کیا ذریعہ ہوگا اللہ کے دیکھنے کا ؟ تو یہ وہ بات ہے جو ہمارے تصور سے ماوراء ہے۔ یہ ایک تصور ہے جو قلب مومن کو دیا جارہا ہے۔ ایک فیض ہے جس سے روح مومن فیض یاب ہوگی۔ یہ دنیا کی آلودگیوں سے پاک اور شفاف فیض سعادت ہے ، جو مومن کو حاصل ہوگا۔ رہے عقلیت پسند تو وہ اس سے خوشی اور سرور حاصل کرنے کے بجائے ایسی آیات مجادلہ شروع کردیتے ہیں۔ ان کے ہاتھ کچھ نہیں آتا ، جس طرح وہ خوشی اور اطمینان سے محروم ہوتے ہیں۔ اسی طرح فہم وادراک سے بھی محروم ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ اس جہاں کی باتیں دنیا کی مالوف عقل سے نہیں ، ایمان کی قوت مدرکہ سے معلوم کی جاسکتی ہیں۔ انسانی شخصیت کا ارتقاء اور اس کو محدود زمینی شخصیت سے علیحدہ اور بلند کرنا ہی اسے قیامت کے روز لامحدود شخصیت اور ذات برتر وبالا سے ملاسکتا ہے۔ اس کے بغیر انسان کے لئے یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ لامحدود کے ساتھ کیسے مل سکتا ہے۔ لہٰذا معتزلہ اور اہل سنت کے درمیان رویت باری کے بارے میں جو طویل بحثیں چلیں وہ بالکل لا حاصل تھیں ، کیونکہ انسان کی اس زمینی شخصیت اور اخروی شخصیت کے درمیان فرق ہوگا۔ کلمات الٰہیہ کا ہم وہی مفہوم سمجھ سکتے ہیں جو ہماری محدودذات کے اندر سماتا ہے ، جب ہماری شخصیت ہی بدل جائے اور ان محدود تصورات سے بالا ہوجائے تو پھر ان کلمات کا مزاج اور مفہوم ہی بدل جائے گا۔ کلمات تو دراصل رمز ہوتے ہیں ان مفہومات کے لئے جو انسانی تصور میں ہوتے ہیں۔ جب انسانی تصورت کے حدود وقیود بدل جائیں تو کلمات کے کے مفہوم بھی بدل جائیں گے۔ جب انسانی شخصیت بدل گئی ، اس کی قوت مدرکہ کی طاقت بدل گئی تو اس کے ساتھ ساتھ کلمات اور تصورات دونوں بدل جائیں گے۔ اس دنیا میں ان کلمات کا ہم وہ مفہوم سمجھتے ہیں جو ہمارے حال ہوتا ہے۔ لہٰذا ہمیں ایسے مفاہیم میں نہیں الجھنا چاہئے جو ہم ان کلمات سے اخذ نہیں کرسکتے۔ بس ہمیں اس سعادت مندی اور اس مقدس خوشی اور سرور کی امید رکھنا چاہئے جس کا ہم اس دنیا کے مفاہیم کے اعتبار سے تصور کرسکتے ہیں۔ اور ہمیں چاہئے کہ ہم اس قسم کے فیوض کے لئے اپنی نظریں عالم بالا کی طرف بلند رکھیں۔ اور اس سے بڑا سرور اور کوئی نہیں۔
Ayahs 75:24–25

وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍۭ بَاسِرَةٌۙ Open ayah 75:24 in the Quran reader

اور کچھ چہرے اداس ہوں گے

تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌؕ Open ayah 75:25 in the Quran reader

اور سمجھ رہے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ برتاﺅ ہونے والا ہے “۔

ووجوہ ........................ فاقرة (75:25) ” اور کچھ چہرے اس دن اداس ہوں گے اور سمجھ رہے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ برتاﺅ ہونے والا ہے “۔ یہ کون سے چہرے ہوں گے ، جو پریشان ، بدبخت اور سیاہ ردہوں گے۔ یہ اللہ کی نظرکرم سے محروم اور ناامید ہوں گے۔ اور یہ محرومی خود ان کی اپنی غلطیوں اور پسماندگیوں کی وجہ سے ہوگی۔ ان کی مادیت اور بےبصیرتی کی وجہ سے ہوگی۔ ان کے چہروں پر رنج والم اور حزن وملال چھپایا ہوا ہوگا اور رنج وملال کی وجہ سے چہروں پر سیاہی چھائی ہوئی ہوگی۔ کیونکہ ان کو یہ شدید خطرہ لاحق ہوگا کہ وہ بہت جلد ایسے حادثے سے دو چار ہونے والے ہیں جوان کی کمر توڑ کر رکھ دے گا۔ فاقرہ ریڑھ کی ہڈی کو کہتے ہیں۔ یہاں مراد خوف ، ڈر ، بےچینی ، چہرے کی سیاہی ، پریشانی اور رنج والم ہے۔ یہ ہے نقشہ آخرت کا جسے یہ لوگ پس پشت ڈال رہے ہیں اور مہمل چھوڑ رہے ہیں ، اور دنیا کی اس مختصر زندگی کے پیچھے دوڑ رہے ہیں ، جسے وہ بہت اہمیت دیتے ہیں ۔ حالانکہ جو دن آرہا ہے وہ بہت اہم ہے۔ اصل انجام کا وہاں فیصلہ ہوگا اور اس دنیا اور آخرت کی اہمیت میں بہت بڑا فرق ہے۔ قیامت میں بعض چہرے تروتازہ ہوں گے اور رب تعالیٰ کی طرف دیکھ رہے ہوں گے جب کہ کچھ چہرے پژمردہ ہوں گے اور انہیں یہ شدید خطرہ لاحق ہوگا کہ ان کو کمر توڑ حادثہ پیش آنے والا ہے۔ مشاہد قیامت یوں تھے کہ وہاں دیدے پتھراجائیں گے ، چاند بےنور ہوگا اور شمس وقمر اکٹھے کردیئے جائیں گے اور انسان بےاختیار پکار اٹھے گا کہ کہاں جاﺅں اور پھر وہاں لوگوں کے انجام بہت مختلف ہوں گے ، اور جنتیوں اور دوزخیوں کے انجام کے درمیان طویل فاصلے ہوں گے۔ جنتیوں کے چہرے تروتازہ ہوں گے ، وہ رب کی طرف نظریں جمائے ہوں گے ، جبکہ دوزخیوں کے چہرے سیاہ ہوں گے اور وہ شدید خطرے سے دوچار ہونے والے ہوں گے۔ یہ وہ مناظر ہیں جو بےحد قوی الاثر ہیں اور ان کی اثر آفرینی کی اصل قوت ان کے اسلوب بیان میں ہے۔ جو اک شخص اور مصور اور زندہ اسلوب ہے ، تو ان مناظر اور مشاہد کو آگے بڑھاتے ہوئے اب ایک ایسا منظر سامنے لایا جاتا ہے جو روز مرہ کا منظر ہے اور جسے ہم روز اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ یہ ایک بھاری اور ناگوار منظر ہوتا ہے مگر یہ ہونی شدنی ہے اور ہر جگہ اور ہر گھر میں واقع ہوجاتا ہے۔ یہ منظر ، موت کا منظر ہے۔ وہ موت جسے ہر زندہ کو دو چار ہونا ہوتا ہے۔ جس کو کوئی شخص نے اپنے آپ سے دور رکھ سکتا ہے اور نہ کسی اور کو اس سے بچا سکتا ہے۔ یہ موت دوجگری دوستوں کو جدا کردیتی ہے۔ یہ اپنے راستے پر جاتی ہے اور جاری وساری ہے۔ کسی بھی وقت اس کے وقوع میں وقفہ نہیں ہوتا۔ کسی کا رونا اور کسی کی چیخ و پکار کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ نہ جدا ہونے والوں کی حسرتوں کا اس پراثر ہوتا ہے۔ نہ کسی کی چاہت کا اس پر اثر ہوتا ہے اور نہ کسی کے ڈرکا اس پر اثر ہوتا ہے۔ یہ موت جباروں اور قہاروں کو بھی اسی طرح دبوچ لیتی ہے جس طرح ایک کیڑے کو دبوچ لیتی ہے۔ امراء وغربائ، غلاموں اور ڈکٹیٹروں سب کو نابود کردیتی ہے۔ یہ موت جس کے مقابلے میں انسان کے لئے کوئی حیلہ اور چارہ نہیں ہے لیکن اے افسوس کہ لوگ اس کے بارے میں کم ہی سوچتے ہیں کہ موت کس قدر عظیم قوت قاہرہ رکھتی ہے۔
Ayahs 75:26–28

كَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَۙ Open ayah 75:26 in the Quran reader

” ہرگز نہیں ، جان حلق تک پہنچ جائے گی ،

وَ قِیْلَ مَنْ١ٚ رَاقٍۙ Open ayah 75:27 in the Quran reader

اور کہا جائے گا کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا ،

وَّ ظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُۙ Open ayah 75:28 in the Quran reader

اور آدمی سمجھے لے گا کہ یہ دنیا سے جدائی کا وقت ہے

یہ موت کا منظر ہے اور یہ نص قرآنی اسے یوں پیش کررہا ہے گویا وہ آنکھوں کے سامنے ہے۔ یہ منظر آنکھوں کے سامنے یوں آرہا ہے جس طرح مصور کے قلم سے رنگ نکلتے ہی تصویر کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ کلا اذا ................ التراقی (75:26) ” ہرگز نہیں ، جب جان حلق تک پہنچ جائے “۔ جب روح حلق تک آجائے تو اس وقت انسان کی زندگی کے آخری لمحات ہوتے ہیں۔ ان لمحات میں انسان پر ذہول اور مدہوشی طاری ہوجاتی ہے۔ انسان پر شدت کی ایسی حالت طاری ہوجاتی ہے کہ نظریں ٹکٹی باندھ لیتی ہیں اور جس کی موت وقاع ہورہی ہوتی ہے ، اس کے ارد گرد دوست و رشتہ دار جمع ہوجاتے ہیں اور مرنے والے کو بچانے کے لئے ہر حیلہ اور ہر وسیلہ اختیار کرتے ہیں۔ وقیل من راق (75:27) ” کہا جائے کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا “۔ شاید بطور آخری چارہ کار یہ دم درود اور جھاڑ پھونک ہی مفیدہوجائے اور جس شخص پر موت کی حالت طاری ہے شاید یہ اس سے واپس آجائے اور آخری حالت۔
Ayah 75:29

وَ الْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِۙ Open ayah 75:29 in the Quran reader

اور پنڈلی سے پنڈلی جڑ جائے گی۔

والتفت الساق بالساق (75:29) ” پنڈلی سے پنڈلی جڑ جائے “۔ ہر حیلہ اور ہر وسیلہ فیل ہوجائے اور یہ بات طے ہوجائے کہ آپ بیمارنے جانا ہی ہے جس طرح ہر زندہ نے آخر کار جانا ہوتا ہے۔
Ayah 75:30

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمَسَاقُ٢ؕ۠ Open ayah 75:30 in the Quran reader

وہ دن ہوگا تیرے رب کی طرف روانگی کا “۔

الی ............ المساق (75:30) ” وہ دن ہوگا تیرے رب کی طرف روانگی کا “۔ یہ منظر اس قدر زندہ اور متحرک ہے کہ انسان کو ریل پر چلتا ہوا نظر آتا ہے۔ اور ہر لفظ ایک حرکت کو مصور کررہا ہے۔ ہر لمحہ اور ہر قفرہ دوڑ دھوپ اور حرکت کو ظاہر کرتا ہے۔ جوں جوں موت قریب آتی ہے لوگوں کی حرکت اور جزع فزع میں تیزی آتی ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جس کی طرف پورا مجمع بڑھ رہا ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں تمام علاج ناکام ہوگئے ہیں۔ اور آخری منظر آتا ہے۔ الی ربک .................... المساق (75:30) ” یہ تو تیرے رب کی طرف چلنے کا دن ہے “۔ اب پردہ گرتا ہے ، لیکن ہمارے تخیل کے پردے پر تصویر جمی ہوئی ہے۔ ہمارے احساسات پر انمٹ نقوش بیٹھے ہیں۔ اب فضا پر مہیب خاموشی ہے۔ کہیں کہیں رونے کی آواز آرہی ہے۔ اس زندہ ، حقیقی اور ناقابل دفاع منظر کے سامنے اب جھٹلانے والوں اور مدہوس اور غافل لوگوں کا بھی ایک نقشہ ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو عمل اور اطاعت نہ کرنے کی وجہ سے سعادت سے محروم ہیں۔ ان کے دامن میں معاصی اور نافرمانیاں ہی ہیں اور یہ لوگ لہو ولعب میں مصروف ہیں اور اپنے اس حال میں مگن ہیں۔
Ayahs 75:31–33

فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰىۙ Open ayah 75:31 in the Quran reader

مگر اس نے نہ سچ مانا اور نہ نماز پڑھی

وَ لٰكِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 75:32 in the Quran reader

بلکہ جھٹلایا اور پلٹ گیا ،

ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ یَتَمَطّٰىؕ Open ayah 75:33 in the Quran reader

پھر اکڑتا ہوا اپنے گھر والوں کی طرف چل دیا۔ “

روایات میں آتا ہے کہ یہ آیات ایک مخصوص شخص کے حق میں نازل ہوئیں ، بعض روایات میں اس شخص کا نام بھی لیا گیا کہ یہ عمرو ابن ہشام ابوجہل تھا۔ یہ شخص بعض اوقات رسول اللہ کے پاس آتا تھا اور قرآن کریم سنتا تھا۔ لیکن پھر چلا جاتا تھا اور ایمان نہ لاتا تھا۔ اور نہ آپ کی اطاعت کرتا تھا۔ نہ اللہ سے ڈرتا تھا۔ اور نہ مودبانہ رویہ اختیار کرتا تھا۔ بلکہ یہ حضور اکرم ﷺ کو مزید اذیت دینے لگتا تھا۔ آپ کو برا بھلا کہتا اور لوگوں کو دین اسلام میں آنے سے روکتا۔ پھر یہ اپنی ان کاروائیوں پر اتراتا ، اور اپنے کارناموں پر فخر کرتا جیسا کہ اس آیت میں کہا گیا۔ قرآن کریم یہاں اس شخص کے ساتھ مزح کرتا ہے اور نہایت ہی حقارت آمیز تبصرہ کرتا ہے۔ قرآن کریم اس شخص کے غرور کی حرکت کو لفظ یتمطی (75:33) کے ساتھ تعبیر کرتا ہے۔ یعنی اپنی پیٹھ کو اکڑاتا ہوا۔ اور نہایت ہی بوجھل قسم کے تعجب کا اظہار کرتا ہوا جس میں کراہیت کے آثار نمایاں ہیں۔ کسی مخصوص شخص کی بات چھوڑئیے ، ہر دور میں حق کے مقابلے میں ایک ابوجہل ہوتا ہے جو سنتا ہے ، سمجھتا ہے ، لیکن منہ موڑ لیتا ہے اور اللہ کے راستے سے لوگوں کو ہٹانے میں بڑی بڑی فن کاریوں کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اور داعیان حق کو اذیت دیتا ہے۔ اور بڑی بڑی مکاریاں کرتا ہے۔ وہ منہ موڑتا ہے اور اپنی شرانگیزیوں پر فخر کرتا ہے حالانکہ دراصل یہ شخص زمین میں فساد پھیلاتا ہے اور حق ، سچائی اور اصلاح کی راہ روکتا ہے۔
Ayahs 75:34–35

اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىۙ Open ayah 75:34 in the Quran reader

” یہ روش تیرے ہی لئے سزاوار ہے اور تجھی کو زیب دیتی ہے۔

ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىؕ Open ayah 75:35 in the Quran reader

ہاں یہ روش تیرے ہی لئے سزاوار ہے اور تجھی کو زیب دیتی ہے “۔

یہ ایک عام اصطلاحی انداز تعبیر ہے ، عربی روز مرہ کے مطابق ، مگر اس کے اندر تہدید اور ڈوراوا بھی ہوتا ہے۔ ایک بار حضور اکرم ﷺ نے ابوجہل کو گلے سے پکڑا اور کہا : اولی لک ................ فاولی (57 : 53) تو اللہ کے اس دشمن نے کہا : ” محمد کیا تم مجھے دھمکی دیتے ہو ؟ خدا کی قسم نہ تم اور نہ تمہارا رب میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو اور میں ان تمام لوگوں سے زیادہ معزز ہوں جو مکہ کے دونوں پہاڑوں کے درمیان کبھی چلے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے بدر کے دن اسے پکڑا اور یوں حضرت محمد ﷺ اور رب محمد ﷺ نے اس کا سب کھیل بگاڑ دیا۔ اور ابوجہل سے قبل فرعون نے بھی اپنی قوم سے کہا تھا۔ ماعلمت .................... غیری ” میں تمہارے لئے اپنے مقابلے میں کوئی دوسرا حاکم نہیں پاتا “۔ اور کہا۔ الیس .................... من تحتی ” کیا مصر کی بادشاہت میری نہیں ہے اور یہ نہریں میرے ماتحت نہیں چل رہی ہیں “۔ کئی ابوجہل گزرے ہیں جنہوں نے اسلامی دعوتوں کے مقابلے میں اپنے قبائل ، اپنی قوت اور اپنی قوم کے بل بوتے پر جرائم کا ارتکاب کیا اور اپنے آپ کو کچھ چیز سمجھتے تھے ، اور انہوں نے اللہ کو بھلا دیا تھا لیکن اللہ نے ان کو مچھروں اور مکھیوں کے ذریعہ ہلاک اور برباد کردیا۔ بہرحال ہر فرعون کی تباہی کی ایک میعاد ہوتی ہے جس میں کوئی تقدیم وتاخیر نہیں ہوتی۔ آخر میں لوگوں کی زندگی سے ایک اور اہم حقیقت کو سامنے لایا جاتا ہے۔ یہ حقیقت بھی حیات بعد موت پر دلالت کرتی ہے۔ جس کا وہ شدت سے انکار کرتے تھے۔ اور اس سے خود ان کی اس زندگی کی نشوونما کی تدبیر اور تقدیر اور تعجب خیز اور عبرت آموز ٹیکنالوجی بھی معلوم ہوتی ہے جو خدا کی پیدا کردہ ہے اور یہ تقاضا کرتی ہے کہ قیامت ضرور واقع ہوگی اور خود مطالعہ حیات وقوع حشرونشر کو لابدی قرار دیتا ہے بشرطیکہ کوئی اسے چشم بینا سے مطالعہ کرے۔
Ayah 75:36

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًىؕ Open ayah 75:36 in the Quran reader

” کیا انسان نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ یونہی مہمل چھو ڑدیا جائے گا ؟

یہ آخری مقطع ہے جو نہایت اثر آفرین ہے اور اس میں گہرے حقائق کی طرف اشارہ ہیں۔ ان حقائق کے بارے میں اس وقت کے سامعین نے کبھی غور ہی نہ کیا تھا۔ ان حقائق میں سے زیادہ انسان کی تخلیق اور اس دنیا میں اس کی حیات کے نشوونما کے لئے تدابیر کی طرف اشارات ہیں۔ ایحسب ........................ سدی (36:75) ” کیا انسان نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اسے یونہی مہمل چھوڑ دیا جائے گا ؟ “ اہل عرب کے نزدیک زندگی ایک ایسی حرکت تھی جس کا نہ کوئی سبب تھا اور نہ کوئی علت تھی۔ نہ کوئی مقصد اور نہ غایت تھی۔ لوگ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتے تھے اور قبروں میں جاتے تھے۔ اور پیدائش اور موت کے درمیان کا عرصہ لہو ولعب کے لئے مخصوص تھا۔ زندگی زینت اور زیبائش اور باہم فخر ومباہات سے عبارت تھی۔ لوگ زندگی اسی طرح گزارتے تھے جس طرح حیوانات گزارتے ہیں یہ کہ اس کائنات میں کوئی ناموس فطرت ہے اور زندگی کا کوئی مقصد ہے اور وہ ایک حکمت کے تحت وجود میں لائی گئی ہے۔ یہ باتیں ان کی سمجھ سے دور تھیں۔ وہ یہ نہ سمجھتے تھے کہ انسان ایک متعین تقدیر کے مطابق پیدا کیا گیا ہے اور یہ کہ وہ کوئی ذمہ دار مخلوق ہے اور اس کی تخلیق کے پیچھے کوئی جزاء وسزا کا نظام بھی موجود ہے۔ اور زندگی کا یہ سفر ایک آزمائش ہے۔ رہا یہ تصور کہ یہ زندگی ایک بامقصد زندگی ہے اور اس کی پشت پر ایک قادر مطلق ذات ہے جو الٰہ العالمین ہے ، اور اس نے ہر چیز کو ایک اندازے اور ایک حکمت کے مطابق پیدا کیا ہے اور ہر چیز ایک انجام کو پہنچنے والی ہے تو یہ تصورات ان کی سوچ میں نہ تھے ، بلکہ یہ لوگ ان تصورات سے کوسوں دور تھے۔ اسلام سے قبل کے زمانے میں عربوں کی ایسی ہی حالت تھی۔ حالانکہ انسان اور حیوان کے درمیان فرق ہی اس شعور کی وجہ سے ہے کہ واقعات ایک مقصد کے تحت وقوع پذیر ہوتے ہیں ، ان کے اہداف اور مقاصد متعین ہیں۔ جس طرح یہ پوری کائنات بامقصد ہے اسی طرح اس کے اندر حضرت انسان بھی بامقصد ہے۔ جوں جوں انسان کا یہ شعور ترقی کرتا رہا ہے ، انسانیت نے ترقی کی ہے ، اس شعور کے تحت انسان کی زندگی باہم مربوط ہوتی ہے۔ اس تصور کے تحت انسان اپنی زندگی کے لمحات کا حساب کرتا ہے۔ تمام حادثات وواقعات پر غور کرتا ہے۔ حال اور مستقبل کو ماضی سے مربوط رکھتا ہے۔ پھر اس پوری زندگی کو اس کائنات کے نظام کے ساتھ مربوط رکھتا ہے۔ اور پھر انسان اور پوری کائنات کو ذات باری تعالیٰ کے ساتھ جوڑتا ہے کہ یہ انسان اور اس کی زندگی اور یہ جہاں عبث نہیں پیدا کیے گئے۔ یہ ہے وہ عظیم تصورحیات جس کی طرف قرآن نے لوگوں کو پہنچایا۔ یہ ایک عظیم انقلاب تصور تھا۔ اس وقت انساوں کے اندر جو سوچ بالعموم موجود تھی اس پر اگر غور کیا جائے تو اس کے مقابلہ میں یہ بہت ہی انقلابی سوچ تھی۔ نیز اس وقت دنیا میں جو فلسفے اور خیالات رائج اور مشاہد تھے ان کے مقابلے میں یہ تصور اور عقیدہ ایک انقلابی تصور اور سوچ تھی۔ (دیکھئے میری کتاب اسلام کائنات اور زندگی اور انسان) ۔ یہ چٹکی کہ۔ ایحسب ................ سدی (36:75) ” کیا انسان نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ یونہی مہمل چھو ڑدیا جائے گا ؟ “۔ یہ دراصل ان چند قرآنی اشارات میں سے ہے جو انسان کو اس کائنات کے ساتھ روابط اور تعلقات قائم کرنے کی ہدایت کرتے ہیں۔ اس جہاں اور انسان دونوں کے لئے غرض وغایت اور ایک مقصد متعین کرتے ہیں۔ واقعات کے لئے علل واسباب متعین کرتے ہیں اور کچھ چیزوں کو کچھ کے نتائج قرار دیتے ہیں۔ یوں یہ پوری کائنات اور اس کے اندر انسان بامقصد اور باہم مربوط ہوجاتے ہیں۔ یہاں اس تصور پر نہایت ہی سادہ اور سیدھے دلائل لائے جاتے ہیں ، جن کے سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہے۔ خلاصہ یہ کہ انسان شتر بےمہار اور بےمقصد نہیں ہے۔
Ayahs 75:37–38

اَلَمْ یَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِیٍّ یُّمْنٰىۙ Open ayah 75:37 in the Quran reader

کیا وہ ایک حقیر پانی کا نطفہ نہ تھا جو (رحم مادر میں) ٹپکایا جاتا ہے ؟

ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ Open ayah 75:38 in the Quran reader

پھر وہ ایک لو تھڑا بنا ، پھر اللہ نے اس کا جسم بنایا اور اس کے اعضا درست کیے ،

الم یک ................ یمنی (37) ثم ................ فسوی (38) فجعل ........................(39) (37:75 تا 39) ”” کیا وہ ایک حقیر پانی کا نطفہ نہ تھا جو (رحم مادر میں) ٹپکایا جاتا ہے ؟ پھر وہ ایک لو تھڑا بنا ، پھر اللہ نے اس کا جسم بنایا اور اس کے اعضا درست کیے ، پھر اس سے مرد اور عورت کی دو قسمیں بنائیں “۔ یہ انسان کیا ہے ؟ یہ کس سے بنایا گیا ہے ؟ کس طرح تھا اور کس طرح ہوگیا۔ اور زندگی کا یہ سفر اس نے کہاں سے شروع کیا اور کہاں تک پہنچا۔ اس کرہ ارض پر وہ کیسے پہنچا جو ایک چھوٹا سا ستارہ ہے۔ کیا وہ پانی کا چھوٹا سا نطفہ نہیں تھا ، پانی کی ایک بوند جو ٹپکتی ہے۔ کیا انسان ایک نہایت ہی خوردبینی نکتہ نہ تھا۔ پھر وہ ایک خلیہ بن گیا۔ پھر وہ خون کا ایک مخصوص لوتھڑا بن گیا۔ یہ لو تھڑا رحم مادر میں بڑھتا رہا۔ پہلے یہ رحم کی دیواروں کے ساتھ معلق رہا اور اس کے خون سے اپنی غذا اخذ کرتارہا۔ یہ تمام مراحل سفرا سے کس نے سکھائے ؟ اور یہ طاقت اسے کس نے دی اور یہ راستہ اسے کس نے بتایا ؟ اس کے بعد کس نے اسے ایک جنین کی شکل دی۔ جس کی قوتوں کے اندراعتدال اور جس کے اعضا باہم ہم آہنگ اور متناسب بن گئے۔ پھر کس طرح یہ ایک خلیہ اب کئی ملین خلیوں کی شکل اختیار کر گیا۔ حالانکہ پہلے یہ ایک خلیہ تھا اور ایک خوردبینی انڈا تھا۔ وہ سفر اور تغیر پذیری جو اس خلیے نے ایک جنین تک طے کی ، یہ پیدائش سے موت تک کے مراحل سے طویل تھی۔ سوال یہ ہے کہ کون ہے جو اسے ان طویل تغیرات کے لئے تیار کررہا ہے۔ حالانکہ آغاز میں وہ ایک نہایت ہی چھوٹی مخلوق تھی۔ نہ عقل اور نہ قوائے ادراک اس کے اندر تھیں۔ اور نہ دنیاوی تجربات اسے حاصل تھے۔ پھر ایک ہی مخلوق سے اللہ نے کس طرح مرد اور عورت پیدا کیے۔ کیا یہ مخلوق خود اپنے آپ کو مرد اور عورت کی شکل میں ڈھالتی ہے۔ کیا یہ مخلوق خود مذکر مونث ہونے کا فیصلہ کرتی ہے یا یہ کوئی دوسری قوت ہے جو ان تاریکیوں میں اسے مذکر ومونث بناتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک ایسی ذات کے تصور کے سوا اس جہاں کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہوسکتا جو قادر مطلق ہے۔ جو مدبر ہے ، جو تمام واقعات اور حادثات کا سبب اول ہے۔ جو قدرت مطلقہ رکھتی ہے۔ یہ وہی ذات ہے جو انسان کو ایک خوردبینی ذرے سے یہاں تک لاتی ہے۔
Ayahs 75:39–40

فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىؕ Open ayah 75:39 in the Quran reader

پھر اس سے مرد اور عورت کی دو قسمیں بنائیں۔

اَلَیْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى۠ Open ayah 75:40 in the Quran reader

کیا وہ اس پر قادر نہیں ہے کہ مرنے والوں کو پھر سے زندہ کردے “۔

فجعل ........................ والانثی (39:75) پھر اس سے مرد اور عورت کی دو قسمیں بنائیں “۔ یہ حقیقت جو انسانی شعور کے ساتھ چپک جاتی ہے پھر پوری سورت کی تلخیص یوں کی جاتی ہے اور ان تمام حقائق سے نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے۔ الیس .................... الموتی (40:75) ” کیا وہ اس پر قادر نہیں ہے کہ مرنے والوں کو پھر سے زندہ کردے “۔ ہاں بیشک اللہ قادر ہے کہ مردوں کو دوبارہ زندہ کردے۔ ہاں اللہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ حشرونشر کے دن سب کو اٹھائے۔ ہاں یہ حقیقت ہے کہ انسان مجبور ہے کہ عقیدہ آخرت پر ایمان لائے۔ کیونکہ یہ پوری کائنات اس پر شاہد ہے۔ یوں یہ سورت ایک زور دار فقرے پر ختم ہوتی ہے۔ جس کا اثر فکر واحساس کے پردوں پر نہایت گہرا اور فیصلہ کن ہوتا ہے اور انسان اس کائنات ، اس کی حقیقت اور اس کی پشت پر کام کرنے والی ذات مدبرہ کے قریب چلا جاتا ہے۔