76. Surah Al-Insaan

الانسانMan · 31 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 76:1

هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَكُنْ شَیْئًا مَّذْكُوْرًا Open ayah 76:1 in the Quran reader

” کیا انسان پر لامتناہی زمانے کا ایک وقت ایسا بھی گزرا ہے جبکہ وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا۔

یہ استفہام تقریری ہے ، یعنی کسی چیز کے بارے میں دریافت کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت کی اطلاع دینا مقصود ہے کہ ایسا ضرور تھا۔ لیکن سوالیہ انداز اس لئے اختیار کیا گیا کہ انسان کو خود اس حقیقت کے بارے میں سوال کرنا چاہئے ، اور سوچنا چاہئے کہ وہ کسی وقت کوئی قابل ذکر شے نہ تھا اور جب وہ اب ایک قابل ذکر شے ہے تو اسے دست قدرت کا کسی قدر تو شعور ہونا چاہئے جو اسے عدم سے وجود میں لائی اور تاریکیوں سے روشنی کی طرف لائی۔ جہاں یہ اس دنیا کے اسٹیج پر اپنا کردار ادا کررہا ہے۔ بہرحال استفہامیہ اور سوالیہ انداز میں ، اس مقام پر چند حقائق کی طرف اشارے کیے گئے ہیں۔ یہ نہایت ہی اونچے درجے کے اشارات ہیں۔ گہرے حقائق ہیں اور ان کو پیش نظر رکھ کر قابل غور نکات کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔ ایک نکتہ یہ ہے کہ ذرا اپنے وجود میں آنے سے قبل اور آغاز وجود کے زمانے اور حالات پر غور کرو ، کہ یہ دنیا ایسی ہی تھی اور اس پر انسان آباد نہ تھا۔ ذرا غور کرو کہ اس وقت یہ دنیا کیسی لگ رہی ہوگی ؟ انسان اللہ کی ایک مخلوق ہے ، لیکن اپنے آپ کو ایک بڑی چیز سمجھتا ہے اور مغرور ہے۔ لیکن وہ نہیں سوچتا کہ یہ دنیا اس کے وجود میں آنے سے بھی پہلے زمانوں سے ایسی ہی تھی۔ بلکہ اس کائنات کی مخلوق انسان کی تخلیق کی توقع ہی نہ رکھتی تھی۔ لیکن اللہ کا ارادہ ہو اور اس نے انسان کی تخلیق فرمائی۔ ایک نکتہ یہ ہے کہ ذرا ان لمحات پر غور کرو جن میں یہ مخلوق انسانی وجود میں آئی۔ ان لمحات کے بارے میں انسان تو ٹامک ٹوئیاں مارتا رہتا ہے جبکہ تخلیق انسان کے آغاز کا علم تو خالق کائنات ہی کو ہوسکتا ہے۔ یہ تو خالق ہی جانتا ہے کہ اس کائنات اور دنیا میں حضرت انسان کا اضافہ کس طرح ہوا۔ اس کائنات کی طویل تایرخ میں اللہ ہی نے انسان کے لئے مخصوص کردار متعین کیا ہے۔ ایک نکتہ یہ ہے اس ذات انسان کو ، کائنات کے اس اسٹیج پر ، دست قدرت نے کس طرح لاکر کھڑا کیا اور ایک ذمہ داری اور ایک کردار اس کے سپرد کیا ؟ اس کے لئے اسے تیار کیا۔ اس کے کردار کا تانا بانا اس پوری کائنات کے خطوط کے ساتھ ملایا۔ اور وہ حالات اس کے لئے مہیا کیے جن کے اندر اس کے لئے وہ کردار ادا کرنا ممکن اور آسان ہو۔ جو اس کے سپرد کیا گیا ہے۔ اور اس کے بعد قدم قدم پر اس کے لئے سہولیات فراہم کیں۔ یوں یہ حضرت انسان اس کائنات کی ہر چیز کے ساتھ وابستہ وپیوستہ ہوگیا۔ بہت سے اشارات ہیں اور بہت سے قابل غور نکات ہیں جو یہ آیات قلب انسانی کے سامنے پیش کرتی ہیں۔ جن سے انسانی سوچ اور انسانی فکر ، انسان کے مقصد وجود ، اس کے ارادوں اور آغاز سے انجام تک ہر مرحلے پر اس کے نظام تقدیر کے نکات اخذ کرتی ہے۔ یہ تو تھے نکات انسان کے آغاز تخلیق کے متعلق۔ رہا وہ نظام جو نسل انسانی کے بقائے دوام کے لئے اور تاقیامت تسلسل کے لئے وضع کیا گیا تو وہ نظام بالکل مختلف ہے اور اس کا ایک اپنا قصہ ہے۔
Ayah 76:2

اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ١ۖۗ نَّبْتَلِیْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 76:2 in the Quran reader

ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا تاکہ اس کا امتحان لیں اور اس غرض کے لئے ہم نے اسے سننے اور دیکھنے والا بنایا۔

انا خلقنا ............................ بصیرا (2:76) ” ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا تاکہ اس کا امتحان لیں اور اس غرض کے لئے ہم نے اسے سننے اور دیکھنے والا بنایا “۔ امشاج کے معنی ہیں مخلوط۔ یہ اشارہ ہے اس حالت کی طرف جب مرد کا خلیہ عورت کے ہیضے میں داخل ہوکر اس کے ساتھ خلط ہوجاتا ہے اور اس میں مرد اور عورت کی موروثی خصوصیات کی طرف اشارہ بھی ہوسکتا ہے ، جن کو علمائے حیاتیات ” جینز “ کہتے ہیں۔ یہ وہ خصائص ہیں جو جنس انسانی کو دوسرے زندہ اجناس سے ممیز کرتے ہیں ، پھر اس کے ذریعہ خاندانی موروثی خصائص بھی بچے میں منتقل ہوتے ہیں۔ اور انسانی نطفہ انسانی جنین کی شکل اختیار کرتا ہے۔ اور دوسرے حیوانات سے مختلف شکل اختیار کرتا ہے اور یہی مخلوط نطفہ ہے جس کی طرف مرد اور عورت کی وراثتی خصوصیات منسوب کی جاتی ہیں بلکہ یہ مخلوط نطفہ کئی مختلف وراثتی خصوصیات کا محزن ہوتا ہے۔ یوں اللہ نے انسان کو مخلوط نطفے سے پیدا کیا۔ یہ نہ اتفاقاً پیدا ہوا ہے۔ اور نہ اس کی تخلیق ایک بےمقصد اور عبث ہے۔ اسے کھیل کے طور پر پیدا کیا گیا ہے۔ بلکہ انسان کو ایک ذمہ دار مخلوق کے طور پر امتحان اور آزمائش کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ آزمائش کیا ہے ؟ کیا امتحان ہے ؟ اور اس امتحان کا نتیجہ کیا ہوگا ؟ البتہ انسان دنیا کے اسٹیج پر جو ڈرامہ کرتا ہے ، یہ محض نتیجے کے اظہار کے لئے ہے تاکہ یہ نتیجہ کھلی عدالت میں پیش ہو اور اس کے اوپر جزا وسزا مرتب ہوں۔ اور لوگ اپنے اچھے اور برے انجام تک پہنچیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے انسان کو سمیع وبصیر بنایا ہے۔ یعنی اسے ادراک کے وسائل دیئے ہیں کہ وہ نیک وبد کو سمجھ سکے اور جان سکے ۔ اور اس دنیا کے افعال واشیاء کی حقیقت کو اچھی طرح پاسکے اور اس امتحان کو اچھی طرح پاس کرسکے۔ پس اللہ تعالیٰ نے انسان کے سلسلہ توالد وتناسل کو چلانے کا جو ارادہ کیا اور اس کے لئے جو نظام متعین فرمایا وہ نطفہ مخلوط سے اس کی تخلیق کا نظام ہے۔ اور اس میں گہری حکمت اور گہری مقصدیت ہے۔ یہ کوئی اتفاقی اور بےسوچے سمجھے کا سلسلہ نہیں ہے۔ اور یہ حکمت اور مقصد اس انسان کو آزمانا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اس ذات کے اندر ہدایت کے اخذ کرنے اور حق کی قبولیت کی استعداد رکھی۔ اور پھر اسے علم ومعرفت اور قدرت واختیار عطا کیا گیا اور یہ تمام صلاحیتیں ، علم وادراک اور اخذ ہدایت اور تربیت کی اللہ نے ایک نہایت ہی متعین وزن اور مقدار کے ساتھ اسے عطا کیں۔ پھر علم ومعرفت اور فہم وادراک کے ساتھ ساتھ اسے یہ قدرت اور اختیار بھی دیا کہ وہ راہ حق کو اختیار کرے۔ چناچہ اسے حق و باطل کی تمیز دے کر چھوڑ دیا کہ جو راہ چاہے اختیار کرے۔ خواہ اللہ کی راہ اختیار کرے یا اس کے سوا کوئی اور راہ اختیار کرے۔
Ayah 76:3

اِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا Open ayah 76:3 in the Quran reader

ہم نے اسے راستہ دکھادیا ، خواہ شکر کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا “۔

انا ھدینہ ............................ کفورا (3:76) ” اور ہم نے اسے راستہ دکھادیا ، خواہ شکر کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا “۔ یہاں اللہ نے راہ ہدایت کی تعبیر شکر نعمت سے کی ہے۔ کیونکہ جب کسی کو ہدایت عطا کردی جاتی ہے تو اس کے پردہ شعور پر سب سے پہلے شکر کا احساس نمودار ہوتا ہے ، وہ جانتا ہے کہ وہ قابل ذکر چیز نہ تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے اسے انسانیت عطا کرکے ایک قابل ذکر چیز بنایا۔ پھر اسے سمع وبصر کرکے دوسرے حیوانات سے ممتاز کیا اور یوں وہ علم ومعرفت پر قادر ہوا ، پھر اسے ازروئے فطرت اور بذریعہ انبیاء ہدایت عطا فرمائی اور آزاد چھوڑ دیا کہ وہ راہ ہدایت اختیار کرکے مشکور بنے یا راہ ضلالت اختیار کرکے کفور اور ناشکرا بنے۔ لفظ کفور کے مفہوم میں ہے کہ ناشکری میں وہ غلو کرے۔ ان تین توجہ مبذول کرنے والی چٹکیوں اور تنبیہات کے بعد اب انسان محسوس کرلیتا ہے کہ وہ ایک ذمہ دار اور بامقصد مخلوق ہے اور وہ آزاد نہیں ہے بلکہ ایک محور کے گرد بندھا ہوا ہے۔ اور گھوم رہا ہے۔ اور اسے جو صلاحیتیں دی گئی ہیں ان پر اس سے حساب کیا جارہا ہے اور یہ جہاں اس کے لئے دارالامتحان ہے۔ یہاں اسے آزمائشی طور پر رکھا گیا ہے۔ یہاں اسے کھیل کے میدان میں نہیں اتارا گیا بلکہ امتحان کے کمزرہ میں بٹھایا گیا ہے۔ غرض ان مختصرتین آیات سے فکرونظر کا بےبہا خزانہ نکلتا ہے اور بلند افکار اور تصورات اور گہری حکمت کے جوہر ظاہر ہوتے ہیں جبکہ ان تمام نکات کے نتیجے میں انسان پر ایک بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور شعور کی پختگی اور طرز عمل میں سنجیدگی اور وقار حاصل ہوتا ہے۔ یہ مختصر آیات انسان کا نظریہ حیات متعین کردیتی ہیں۔ اس کے وجود کا مقصد بتاتی ہیں اور زندگی کا شعور عطا کرتی ہیں۔ اور ان کی روشنی میں انسان اپنی زندگی اور اس کی قدروں کا تعین کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان آیات کے بعد متصلایہ بتادیا جاتا ہے کہ اس آزمائش اور ابتلا کا نتیجہ کیا نکلنے والا ہے۔ اور انسان اگر شکر کی راہ لے گا تو نتیجہ کیا ہوگا اور اگر انسان کفر اور کفران کی راہ لے گا تو انجام کیا ہوگا ؟ جو کفر اور ناشکری کی راہ لیں گے ، ان کا انجام نہایت ہی اختصار کے ساتھ دیا جاتا ہے۔ یہ کیوں ؟ اس لئے کہ پوری سورت کی فضا اور اس کا انداز نرم ونازک اور سہولتوں اور خوشیوں اور جنتوں کی دائمی نعمتوں کا ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ عذاب جہنم کی تفصیلات دے کر اس سورت کی فضا کو مکدر کرنا نہیں چاہتے۔ نہایت اختصار کے ساتھ فرماتے ہیں :
Ayah 76:4

اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَلٰسِلَاۡ وَ اَغْلٰلًا وَّ سَعِیْرًا Open ayah 76:4 in the Quran reader

” کفر کرنے والوں کے لئے ہم نے زنجیریں اور طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کررکھی ہے

انا اعتدنا ........................................ سعیرا ” کفر کرنے والوں کے لئے ہم نے زنجیریں اور طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کررکھی ہے “۔ زنجریں ان کے پاﺅں میں ہوں گی ، طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے ، یہ لوگ زنجیروں میں بندھے ہوئے اور ہتھ کڑیوں میں جکڑے ہوئے جہنم میں گرائے جائیں گے۔ لیکن اس مختصر ذکر کے بعد اب جنت کی نعمتوں کی طرف روئے سخن پھرجاتا ہے اور نہایت سرعت کے ساتھ اور قدرے تفصیل کے ساتھ۔
Ayahs 76:5–6

اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًاۚ Open ayah 76:5 in the Quran reader

نیک لوگ (جنت میں) شراب کے ایسے ساغر پئیں گے جن میں آب کافور کی آمیزش ہوگی۔

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ یُفَجِّرُوْنَهَا تَفْجِیْرًا Open ayah 76:6 in the Quran reader

یہ ایک بہتا چشمہ ہوگا جس کے پانی کے ساتھ اللہ کے بندے شراب پئیں گے اور جہاں چاہیں گے بسہولت اس کی شاخیں نکال لیں گے “۔

ان الابرار .................................... تفجیرا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نیک لوگوں کا مشروب ایسا ہوگا کہ اس میں کافور کی ملاوٹ ہوگی ، یہ مشروب ایک ایسے چشمے سے بھر کردیا جائے گا ، جو ان کے لئے خصوصی طور پر بہایا گیا ہوگا۔ یعنی وہ نہر کی طرح وافر اور کثیر مقدار میں ہوگا۔ عربوں کی یہ عادت تھی کہ شراب میں کبھی کافور اک بھی زنجبیل (سونٹھ) کا آمیزہ کرتے تھے۔ اور اس طرح شراب کو زیادہ لذیذ بنانے کی کوشش کرتے تھے۔ یہاں انہیں بتایا جاتا ہے کہ جنت میں بھی پاک اور صاف مشروب ہوگا ، جس میں کافور کا آمیزہ ہوگا اور یہ شراب بڑی وافر مقدار میں ہوگی۔ اس کا معیار کیا ہوگا ، یہ دنیا کی شراب کے مقابلے میں بہت خوش ذائقہ ہوگی اور اس کی لذت اس قدر زیادہ ہوگی کہ ہم اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ یہ تو درحقیقت قریب الفہم بنانے کے لئے ان اصطلاحات کے اندر کہا جارہا تھا تاکہ لوگ سمجھ سکیں ورنہ جنت کی نعمتیں عالم غیب میں ہیں۔ ان کا صحیح تصور اور ان کی تصحیح تعبیر ہم نہیں کرسکتے۔ اہل جنت کو پہلی آیت میں الابرار کہا گیا ہے اور دوسری میں عباد اللہ کہا گیا ہے۔ یہ محض قرب و محبت کے اظہار کے لئے اور فضل وکرم کے اعلان کے لئے ہے اللہ کے یہ بندے اللہ کے قریب ہوں گے۔ اور ان کے اوصاف اور خدوخال یہ ہوں گے :
Ayah 76:7

یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوْنَ یَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِیْرًا Open ayah 76:7 in the Quran reader

” یہ وہ لوگ ہوں گے جو (دنیا میں) نذر پوری کرتے ہیں ، اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی آفت ہر طرف پھیلی ہوئی ہوگی ،

یہ نہایت روشن اور شفاف تصویر ہے اور یہ ان مخلصین اور سچے لوگوں کی شکل ہے جو اللہ کے احکام اور اسلامی نظریہ حیات کے تقاضے پورے کرتے ہیں۔ یہ لوگ اللہ کے بندوں پر غایت درجہ مہربان ہوتے ہیں۔ اور اپنے مقابلے میں دوسرے بندگان خدا کو ترجیح دیتے ہیں اور اللہ کا ڈر اور خوف ان پر طاری رہتا ہے ، وہ اللہ کی رضامندی کے متلاشی ہوتے ہیں۔ اور ان پر اسلام کے حوالے جو بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ان کو دیکھتے ہوئے وہ اللہ کے عذاب سے ہر وقت ڈرتے ہیں۔ یوفون بالنذر (v:76) ” وہ نذر پوری کرتے ہیں “۔ یعنی جو عبادات اور نیک کام خود اپنے اوپر لازم کرتے ہیں ، ان کی وفا کرتے ہیں یعنی وہ دین اسلام کے معاملے کو بڑی سنجیدگی سے لیتے ہیں اور اس کی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہیں۔ وہ ان ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرنے کی سعی نہیں کرتے اور نہ ذمہ داری قبول کرکے اور اس کا حلف اٹھانے کے بعد اسے نظرانداز کرتے ہیں۔ یہی ہے معنی اس بات کا کہ وہ نذر پوری کرتے ہیں۔ یہ ہے مفہوم یوفون بالنذر کا۔ اس کا مفہوم فقہی اور معروف نذر ونیاز سے زیادہ وسیع ہے۔ جس میں اجتماعی اور دینی ذمہ داریاں بھی داخل ہیں۔ ویخافون .................... مستطیرا (7:76) ” اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی آفت ہر طرف پھیلی ہوئی ہوگی “۔ وہ اس دن کی حالت اور صفت کا نقشہ ان کے ذہن میں بڑی خوبی کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے ، جس کی مصیبت عام ہوگی اور تمام قصور واروں اور بدکاروں تک اس دن کی مصیبت پہنچے گی۔ لہٰذا وہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اس دن کے عام اور وسیع شر کے زد میں کہیں وہ نہ آجائیں۔ یہ ہے حالت ان کے موقف اور تقویٰ کی۔ وہ اس بھاری ذمہ داری اور دین کے عظیم فرائض کا شدید احساس رکھتے ہیں اور کوتاہیوں اور قصوروں سے ڈرتے ہیں۔ اگرچہ وہ عبادت گزار اور اطاعت شعار ہوں۔
Ayah 76:8

وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا Open ayah 76:8 in the Quran reader

اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدکو کھانا کھلاتے ہیں

ویطعمون .................... واسیرا (8:76) ” اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدکو کھانا کھلاتے ہیں “۔ یہ ان کی نیکی ، مہربانی اور بھلائی کا شعور ہے لیکن اس کا اظہار مساکین وغیرہ کو کھانا کھلانے کی شکل میں کیا گیا ہے۔ باوجود اس کے کہ ان کو اس کھانے کی خود اشد ضرورت ہے ، کیونکہ ایسے لوگوں کے بارے میں نہیں کہا جاسکتا کہ یہ لوگ اس کھانے سے محبت کرتے ہیں ، الایہ کہ وہ خود اس کی طرف محتاج ہوں ، لیکن اس احتیاج کے باوجود وہ ایثار کرتے ہیں اور یہ کھانا دوسروں پر خرچ کرتے ہیں۔ اس صفت سے معلوم ہوتا ہے کہ مکہ کے اندر موجود مشرک معاشرے میں معاشی صورت حال کیا تھی ، یہاں غرباء اور محتاجوں پر اتفاق کا کوئی رواج نہ تھا۔ فخر ومباہات اور نمائش کے لئے تو وہ بہت کچھ لٹا دیتے تھے لیکن غریبوں کے ساتھ کوئی ہمدردی نہ تھی۔ اس خود غرضی اور کنجوسی کے میدان میں اسلام کے پرور دہ یہ نیک لوگ ہی غرباء کے لئے سایہ دار درخت تھے۔ وہ اپنی ذاتی محتاجی کے باوجود لوگوں کو کھانا کھلاتے تھے۔ خلوص اور محبت کے جذبات کے ساتھ اور اللہ کی رضامندی کی خاطر وہ یہ نیکی کرتے تھے۔ چناچہ ان کی نیت اور ان کے مقصد کو بھی یہاں ظاہر کیا جاتا ہے کہ وہ کس طرح اور کیونکر خرچ کرتے تھے۔
Ayahs 76:9–10

اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا Open ayah 76:9 in the Quran reader

(اور ان سے کہتے ہیں کہ) ” ہم تمہیں صرف اللہ کی خاطر کھلا رہے ہیں ، ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ ،

اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا Open ayah 76:10 in the Quran reader

ہمیں تو اپنے رب سے اس دن کے عذاب کا خوف لاحق ہے جو سخت مصیبت کا انتہائی طویل دن ہوگا “۔

انما نطعمکم .................................... قمطریرا (9:76 تا 10) ” ہم تمہیں صرف اللہ کی خاطر کھلا رہے ہیں ، ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ ، ہمیں تو اپنے رب سے اس دن کے عذاب کا خوف لاحق ہے جو سخت مصیبت کا انتہائی طویل دن ہوگا “۔ یہ گویا بلند پایہ قلوب کے اندر رحمت اور محبت کی موجیں ہیں۔ اور یہ محض اللہ کی رضامندی کے حصول کے لئے ہیں۔ ان مہربانیوں سے وہ کوئی جزاء اور کوئی معاوضہ بلکہ شکریہ تک نہیں چاہتے۔ نہ کبرو غرور کا اظہار کرتے ہیں اور نہ غرباء پر اقتدار قائم کرنا چاہتے ہیں۔ بس وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ اس فعل کی وجہ سے سخت مصیبت کے دن کی تکالیف سے بچ جائیں ، کیونکہ صدقہ کی وجہ سے مصیبت ٹلتی ہے اور اہل ایمان کو حضور اکرم ﷺ نے بتایا ہے۔ اتق .................... تمرہ ” آگ سے بچو اگرچہ کھجور کے دانے کی ایک پھاڑی کے ساتھ “۔ اطعام مساکین دراصل اس اعلیٰ جذبے کا اظہار تھا جو یہ لوگ اپنے اندر رکھتے تھے۔ یوں وہ محتاجوں کی بنیادی ضروریات کا انتظام کرتے تھے ، لیکن غریبوں اور محتاجوں کی امداد کی شکل و صورت مختلف معاشروں میں مختلف ہوسکتی ہے ، لہٰذا ضروری نہیں ہے کہ غریبوں اور محتاجوں کے طعام کی شکل و صورت وہی ہو جو ابتدائی دور میں مروج تھی۔ اصل بات وہ جذبہ ہے جو اطعام المساکین کی تہہ میں کام کررہا ہوتا ہے۔ ہر معاشرے میں اہل ثروت کو اسے زندہ رکھنا چاہئے اور اس معاملے میں ان کے دلوں کو حساس ہونا چاہئے۔ جذبات زندہ ہوں اور دلوں کے اندر جذبہ خیر موجزن ہو ، اور بھلائی کے اس جذبے کے تحت ماسوائے رضائے الٰہی کے اور کوئی دنیاوی مقصد نہ ہو کہ کوئی دنیاوی نفع مقصود ہو یہاں تک کہ شکریہ کی توقع تک پیش نظر نہ ہو۔ دور جدید میں منظم ٹیکس نافذ کیے جاتے ہیں۔ لوگوں کے ذمہ فرائض عائد کیے جاتے ہیں اور حکومتیں اجتماعی کفالت کے لئے بجٹ عائد کرتی ہیں۔ اور محتاجوں کی امداد بھی کی جاتی ہے لیکن ان آیات میں اسلامی نظام نے جو ہدایات دی ہیں ، ان اقدامات کے ذریعہ ان کا ایک پہلو ہی پورا ہوتا ہے اور جسے فریضہ زکوٰة کے ذریعہ پورا کیا گیا ہے۔ لیکن یہ ایک پہلو ہے یعنی محتاجوں کی ضروریات کو پ ورا کرنا ، جبکہ اسلامی نظام کے پیش نظر یہ بھی ہے کہ دہندگان کو بھی روحانی پاکیزگی حاصل ہو اور وہ بھی اعلیٰ سطح تک بلند ہوں ، محتاجوں کی مدد کرنے والوں کی تہذیب اور تربیت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ جیسا کہ بعض لوگ غرباء کی امداد کو ایک برا فعل تصور کرتے ہیں کہ اس طرح غرباء ذلیل ہوتے ہیں اور دینے والوں کا بھی مزاج بگڑ جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام دلوں کا عقیدہ ہے ، وہ ایک نظام تربیت ہے ، اگر جذبہ انفاق درست ہو تو اس کے ذریعہ انفاق کرنے والے کی بھی اصلاح ہوتی ہے اور غرباء کو بھی نفع ہوتا ہے۔ یوں انفاق سے دو فائدے ہوتے ہیں ، جو اس دین کے پیش ہیں۔
Ayah 76:11

فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْیَوْمِ وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًاۚ Open ayah 76:11 in the Quran reader

” پس اللہ تعالیٰ انہیں اس دن کے شر سے بچا لے گا اور انہیں تازگی اور سرور بخشے گا “۔

یہاں نہایت تیزی کے ساتھ یہ اعلان کردیا جاتا ہے کہ یہ لوگ اس دن کے شر سے بچا لیے جائیں گے جس سے وہ بہت ڈرتے ہیں تاکہ دنیا میں بھی یہ لوگ مطمئن ہوجائیں کیونکہ یہاں وہ قرآن کریم کی ہدایات اخذ کرتے ہیں اور اس کی تصدیق کرتے ہیں ، اس لئے وہاں ان کو اللہ کی جانب سے تروتازگی اور مسرت حاصل ہوگی۔ ان کو سخت مصیبت والے دن کا وہاں احساس ہی نہ ہوگا کیونکہ یہاں وہ خوف کھاتے تھے اور اللہ کے سامنے جانے سے ڈرتے تھے۔ چناچہ قیامت میں ان کے دل تروتازہ اور ان کا شعور مسرت آمیز ہوگا۔
Ayah 76:12

وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ Open ayah 76:12 in the Quran reader

اور ان کے صبر کے بدلے میں انہیں جنت اور ریشمی لباس عطا کرے گا “۔ اس جنت میں ان کی مستقل رہائش ہوگی اور ریشمی لباس ہوگا جسے وہ پہنیں گے۔

اس کے بعد جنت کی نعمتوں کا مزید ذکر اور تفصیلات :۔ وجزھم .................... وحریرا ” اور ان کے صبر کے بدلے میں انہیں جنت اور ریشمی لباس عطا کرے گا “۔ اس جنت میں ان کی مستقل رہائش ہوگی اور ریشمی لباس ہوگا جسے وہ پہنیں گے۔
Ayah 76:13

مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۚ لَا یَرَوْنَ فِیْهَا شَمْسًا وَّ لَا زَمْهَرِیْرًاۚ Open ayah 76:13 in the Quran reader

” وہاں وہ اونچی مسندوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔ نہ انہیں دھوپ کی گرمی ستائے گی ، نہ جاڑے کی ٹھر “۔

متکئین ........................ زمھریرا گویا وہاں ان کی محفلیں منعقد ہوتی رہیں گی جن میں وہ اطمینان کے ساتھ بیٹھیں گے اور سب کے سب خوشحال اور نعمتوں اور آسائشوں میں ڈوبے ہوئے ، خوشگوار موسموں میں ہوں گے جہاں نہ گرمی کی شدت ہوگی اور نہ سردیوں کی منجمد کرنے والی سردی ہوگی۔ بہرحال وہ ایک دوسرا جہاں ہوگا ۔ جس میں ہمارے جہاں والے شمس وقمرنہ ہوں گے۔ ایک نئی دنیا ہوگی یہی ہم کہہ سکتے ہیں۔
Ayah 76:14

وَ دَانِیَةً عَلَیْهِمْ ظِلٰلُهَا وَ ذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِیْلًا Open ayah 76:14 in the Quran reader

” جنت کی چھاﺅں ان پر جھکی ہوئی سایہ کررہی ہوگی ، اور اس کے پھل ہر وقت ان کے بس میں ہوں گے (کہ جس طرح چاہیں انہیں توڑڈالیں) “۔

ودانیة ............................ تذلیلا ۔ یہ کہ چھاﺅں بھی قریب ہوگی اور جنت کے درختوں کے پھل بھی ان پر جھکے ہوں گے ، تو اس سے زیادہ خوشی اور مسرت اور عیش و عشرت کیا ہوسکتی ہے۔ یہ اعلیٰ ترین تصور ہے ، خوشحالی اور فارغ البالی کا۔ یہ تو ہے اس جنت کی عمومی صورت حال جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لئے تیار کیا ہے ، جن کے لئے یہ صورت بیان کی گئی ہے ، جو نہایت ہی خوبصورت ہے اور روشن ہے تاکہ دنیا میں کتاب الٰہی میں پڑھ کر وہ خوش ہوں۔ ان نعمتوں اور سہولیات کی مزید تفصیلات :۔
Ayahs 76:15–19

وَ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ كَانَتْ قَؔوَارِیْرَاۡۙ Open ayah 76:15 in the Quran reader

” ان کے آگے چاندی کے برتن اور شیشے کے پیالے گردش کرائے جارہے ہوں گے ،

قَؔوَارِیْرَاۡ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْهَا تَقْدِیْرًا Open ayah 76:16 in the Quran reader

شیشے بھی وہ چاندی کی قسم کے ہوں گے ، اور ان کو (منتظمین جنت نے) ٹھیک اندازے کے مطابق بھرا ہوگا۔

وَ یُسْقَوْنَ فِیْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِیْلًاۚ Open ayah 76:17 in the Quran reader

ان کو وہاں ایسی شراب کے جام پلائے جائیں گے جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی ،

عَیْنًا فِیْهَا تُسَمّٰى سَلْسَبِیْلًا Open ayah 76:18 in the Quran reader

یہ جنت کا ایک چشمہ ہوگا جسے سلسبیل کہا جاتا ہے “۔

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ١ۚ اِذَا رَاَیْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا Open ayah 76:19 in the Quran reader

” ان کی خدمت کے لئے ایسے لڑکے دوڑتے پھر رہے ہوں گے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے۔ تم انہیں دیکھو تو سمجھو کہ موتی ہیں جو بکھیر دیئے گئے ہیں

ویطاف ........................ سلسبیلا یہ لوگ نہایت ہی آسائش اور عیش و عشرت میں ہوں گے۔ سایوں میں تختوں پر بیٹھے ہوں گے ، سائے نہایت ہی گہرے اور خوشگوار ہوں گے ، نہایت ہی اچھی فضا میں پھل درختوں کے ساتھ اس طرح لٹک رہے ہوں گے کہ وہ جب چاہیں توڑ سکیں گے۔ پھر ان پر جو مشروبات تقسیم ہوں گے ، وہ چاندی کے خوبصورت برتنوں میں ہوں گے۔ اور شیشوں کے جام چل رہے ہوں گے اور یہ شیشے بھی چاندی کی قسم کے سفید ہوں گے۔ یعنی چاندی کو اس طرح شفاف بنایا جائے گا کہ وہ شیشہ نظر آئے گا۔ جس کی مثال اس جہاں میں نہ ہوگی۔ پھر جو مشروب ان کے سامنے پیش ہوگا ، وہ نہایت مناسب ، ہر شخص کی ضرورت کے مطابق ہوگا اور یہ مشروب اک ایسے جاری چشمے سے بھر کر لایا جائے گا جسے سلسبیل کہا جائے گا اور یہ نہایت ہی میٹھا اور خوشگوار ہوگا۔ اب خوشی میں مزید اضافے کے طور پر جو لوگ یہ چاندی کے برتنوں میں شراب طہور پیش کررہے ہوں گے وہ نہایت ہی خوبصورت لڑکے ہوں گے جو ہمیشہ ایسے لڑکے رہیں گے اور روشن چہرے والے ہوں گے۔ یہ وقت گزر جانے کے ساتھ بوڑھے نہ ہوں گے۔ یہ لوگ ہمیشہ لڑکوں کی طرح تروتازہ اور خوبصورت چہروں والے ہوں گے۔ وہ یوں نظر آئیں گے جیسے موتی جگہ جگہ بکھرے ہوئے ہیں۔
Ayah 76:20

وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا Open ayah 76:20 in the Quran reader

” وہاں جدھر بھی تم نگاہ ڈالوگے نعمتیں ہی نعمتیں اور ایک بڑی سلطنت کا سروسامان تمہیں نظر آئے گا “۔

اس کے بعد قرآن مجید ایک نگاہ میں پورے لفظ کو نہایت مختصر الفاظ میں پیش کرتا ہے اور دعوت نظارہ دیتا ہے۔ واذا رایت ................................ کبیرا ہر طرف نعمتیں ہی نعمتیں اور ایک عظیم مملکت کا سازو سامان ہوگا ، جس میں ابرار عیش کریں گے جو اللہ کے مقرب بندے ہوں گے اور یہ تو تھی جنت کی اجمالی حالت۔ یہاں بعض چیزوں کا خصوصی ذکر بھی کیا جاتا ہے جو اس عظیم حکومتی انتظام کا مظہر ہیں گویا یہ حکومتی نظام کا نمونہ ہیں۔
Ayah 76:21

عٰلِیَهُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ١٘ وَّ حُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ١ۚ وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا Open ayah 76:21 in the Quran reader

” ان کی اوپر باریک ریشم کے سبز لباس اور اطلس ودیبا کے کپڑے ہوں گے ، ان کو چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے ، اور ان کا رب ان کو نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا “۔

علیھم ............................ طھورا سندس نہایت باریک ریشم کو کہتے ہیں اور استبرق موٹے ریشم کے کپڑوں کو کہتے ہیں۔ ایسے حالات میں جب وہ سب زینت کیے ہوئے ہوں اور خوب عیش و عشرت کررہے ہوں ، ان کا رب ان کے لئے یہ انتظام فرمارہا ہوگا ، جو نہایت ہی کریم عطا کنندہ ہے۔ اور اس سے ان انتظامات کی قدر و قیمت اور بڑھ جاتی ہے کہ یہ انتظام رب تعالیٰ کی طرف سے ہوگا۔ اور ان بہترین انتظامات کے موقعہ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے اعزاز میں یہ کلمات بھی کہے جائیں گے۔
Ayah 76:22

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّ كَانَ سَعْیُكُمْ مَّشْكُوْرًا۠ Open ayah 76:22 in the Quran reader

یہ ہے تمہاری جزا اور تمہاری کارگزاری قابل قدر ٹھہری ہے “۔

ان ھذا ........................ مشکورا عالم بالا سے یہ تقریر ان کے اعزاز میں ہوگی ، چناچہ ان کلمات کی وجہ سے ان انعامات کی قدروقیمت دوچند ہوجاتی ہے۔ ان الفاظ پر انعامات جنت کی یہ تفصیلات ختم ہوتی ہیں۔ اور یوں لوگوں کو پکارا جاتا ہے کہ قیدوبند اور آگ وسلاسل سے بھاگو اور ان نعمتوں میں داخل ہوجاﺅ۔ ابھی وقت ہے اور دونوں راستے تمہارے لئے کھلے ہیں۔ جنت کی طرف اس پکار کی انتہا پر اور جنت کی خوشگوار نعمتوں کے ذکر کے بعد ، اب ان مشرکین کے حالات کو لیا جاتا ہے ، جو عناد میں مبتلا ہیں اور تکذیب پر اصرار کررہے ہیں ، جو دعوت اسلامی کی حقیقت کو ابھی تک نہیں سمجھ سکے۔ اور وہ دعوت اسلامی کے معاملے میں حضور اکرم ﷺ کے ساتھ سودا بازی کرنا چاہتے ہیں۔ یا وہ چاہتے ہیں کہ حضور ﷺ کی بعض ایسی باتوں کو ترک کردیں جن سے ان کو سخت تکلیف ہوتی ہے۔ ایک طرف یہ لوگ نبی ﷺ کے ساتھ سودا بازی کرتے ہیں اور دوسری طرف اہل ایمان پر تشدد کرتے ہیں۔ ان کو ایذائیں دیتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور خود بھلائی ، جنت اور نعیم میں مقیم سے منہ موڑتے ہیں۔ ان حالات میں اس سورت کا یہ آخری حصہ آتا ہے اور ان مسائل پر قرآن کے مخصوص انداز پر تبصرہ کیا جاتا ہے۔
Ayah 76:23

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلًاۚ Open ayah 76:23 in the Quran reader

اے نبی ! ہم نے ہی تم پر یہ قرآن تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا ہے ،

انا نحن ................................ طویلا ان چار آیات آیات میں دعوت اسلامی کے حوالے سے ایک عظیم حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جو داعیان حق کی زندگی میں اچھی طرح رچ اور بس جائے اور وہ ایک طویل عرصہ تک اس حالت میں رہیں اور اس میں غوروفکر کریں اور اس کے مفہوم کو اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کریں۔ اس کے حقیقی مفہوم ، اس کی عملی شکل اور اس کے ایمانی اور نفسیاتی تقاضوں کو پورا کریں۔ حضور اکرم ﷺ کی دعوت کا بنیادی نکتہ عقیدہ توحید تھا اور آپ ایک عرصہ تک مشرکین مکہ کے سامنے اسے پیش کرتے رہے تھے۔ آپ عقیدہ توحید کو محض ایک عقیدے کے طور پر ان کے سامنے نہ پیش کرتے تھے۔ اگر آپ صرف ایک عقیدے کا اظہار کرتے تو اس کا برداشت کرنا ان کے لئے آسان ہوتا ، کیونکہ عقیدہ شرک جس کے اوپر وہ لوگ جمے ہوئے تھے ، وہ کوئی ٹھوس قوت اور ثبات والا عقیدہ نہ تھا کہ وہ اس کے ذریعہ عقیدہ توحید کا مقابلہ کرسکتے ، کیونکہ اسلامی عقیدہ توحید نہایت قوی ، سادہ اور ٹھوس عقیدہ تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ اسلامی دعوت اور اسلامی عقیدہ توحید کے ساتھ کچھ حالات ایسے تھے جن کی وجہ سے یہ لوگ عناد اور دشمنی پر اتر آئے۔ اور وہ تاریخی کشمکش برپا ہوئی جس کا ذکر قرآن نے بھی جا بجا کیا ہے۔ شرک کے عقیدے کی وجہ سے دراصل قریش کو ایک اجتماعی قیادت کا مقام حاصل تھا۔ اور اس عقیدے کے ارد گرد اعلیٰ خداﺅں کا جو تانا بانا بنا گیا تھا ، اور پھر ان خداﺅں کے ساتھ ان کے جو اجتماعی مفادات وابستہ ہوگئے تھے یہی وہ باتیں تھیں جن کی وجہ سے قریش دعوت اسلامی کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ حالانکہ ان کا موقف بظاہر بالکل باطل تھا۔ اور اس باطل عقیدے کو یہ لوگ لے کر اسلام کے ظاہر ، سادہ اور قوی عقیدے کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ مزید یہ کہ جاہلی زندگی کی عیاشی ، لذت کوشی اور شہوت رانی اور اباحیت ان کو مجبور کررہی تھی کہ اس نئے عقیدہ اور نظام کا مقابلہ کیا جائے۔ کیونکہ اس نظام میں قانونی ، اخلاقی پابندیاں ہیں اور اعلیٰ انسانی قدروں پر زور دیا گیا ہے اور جس میں فحاظی اور آزاد شہوت رانی پر پابندیاں تھیں ، جبکہ وہ ایسی زندگی گزار رہے تھے جو اخلاقی بندھنوں سے آزاد تھی۔ یہ اسباب خواہ ان کا تعلق اجتماعی قیادت وسیادت سے ہو یا اقتدار اور مصالح سے ہو یا عادات ، عرف عام ، رسم و رواج اور موروثی تقالید سے ہو ، یا جن کا تعلق اخلاقی حدود وقیود کی آزادی سے ہو۔ جو پہلی دعوت اسلامی کے مقابلے میں اس وقت کے لوگوں کو اٹھا لائے تھے۔ یہی اسباب آج بھی قائم ہیں اور آج بھی ہر ملک اور ہر سر زمین کی دعوت اسلامی کا مقابلہ انہی اسباب ووجوہات سے کیا جارہا ہے۔ یہ نظریاتی دعوت کا مقابلہ انہی اسباب کی وجہ سے کیا جاتا ہے ، جس کی وجہ دعوت اسلامی کا کام پر مشقت ، مشکل اور دشوار ہوتا ہے۔ لہٰذاداعیان حق کو چاہئے کہ وہ اس حقیقت پر طویل وقت تک غور وفکر کریں اور ان حقائق میں زندہ رہیں جوان آیات میں بیان ہوئے ہیں ، چاہے یہ داعیان جس زمان ومکان میں ہوں کیونکہ دعوت اسلامی خواہ جس زمان ومکان میں ہو ، اسے انہی حالات سے دوچار ہونا پڑے گا۔ جو حضور اکرم ﷺ کو پیش آئے۔ رسول اللہ ﷺ کو اللہ کی جانب سے یہ پیغام ملا کہ آپ لوگوں کو برے انجام سے ڈرائیں اور آپ سے کہا گیا۔ یایھا .................... فانذر (2:74) ” اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے اٹھو اور ڈراﺅ“۔ جب آپ نے دعوت کا آغاز کیا تو یہ اسباب آپ کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوگئے۔ قوم پوری کی پوری دعوت جدید کی راہ روکن کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ جن حالت پر وہ قائم ہیں ان کو جوں کا توں رکھیں ، باوجود اس کے کہ وہ جانتے تھے کہ ان کا عقیدہ کمزور اور ناقابل قیام ہے۔ پہلے ان کے اندر عناد کا جذبہ پیدا ہوا ، پھر انہوں نے اپنے ان کمزور اور بودے عقائد کا دفاع شروع کردیا۔ اور ان کی جو اجتماعی حالت تھی۔ زندگی کے جو رسم و رواج تھے ، جو آزادی اور بےقیدی تھی اور جو عریانی اور فحاشی رائج تھی اس کے دفاع میں یہ لوگ دعوت اسلامی کی راہ روکنے لگے کیونکہ یہ جدید دعوت ان کے لئے خطرہ تھی۔ دعوت اسلامی کا مقابلہ یوں شروع ہوتا ہے کہ ابتداء میں دعوت پر چند سعید روحیں لبیک کہتی ہیں۔ ان کو اذیت دی جاتی ہے اور دھمکیوں اور اذیتوں کے ذریعہ اس کو اس دین سے پھیرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے بعد دعوت کے خلاف ایسا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ لوگوں کے ذہنوں میں دعوت کی غلط تصور بیٹھ جائے۔ مختلق قسم کے بےبنیاد الزامات عائد کیے جاتے ہیں تاکہ جو لوگ داخل ہوگئے ہوں وہ اگر باز نہیں آئے تو اور لوگ داخل نہ ہوں۔ کیونکہ جو لوگ دعوت اسلامی کو سمجھ چکے ہوتے ہیں ان کو دعوت سے روکنے اور واپس لانے کے مقابلے میں نئے لوگوں کو روکنا زیادہ آسان ہوتا ہے۔ یہ وسائل اختیار کرنے کے بعد انہوں نے حضرت نبی ﷺ پر دھمکیوں اور تشدد کے علاوہ دوسرے تمام دباﺅ بھی ڈالنا شروع کیے کہ آپ ان کے ساتھ کچھ لو اور کچھ دو کا طریقہ اختیار کرلیں۔ اور آپ ان کے عقائد ، ان کے رسم و رواج اور بتوں کے خلاف باتیں بند کریں وہ بھی آپ کے ساتھ چھیڑچھاڑ نہیں کریں گے۔ یہ سودا بازی بعینہ ایسی تھی جیسا کہ دنیاوی معاملات کے بارے میں لوگ مصالحت کے لئے درمیانی راستہ اختیار کرتے ہیں۔ یہی وہ مراحل ہیں جو ہر اس شخص کو پیش آتے جو کھبی زمان ومکان میں منہاج النبوة پر دعوت اسلامی کا کام کرتا ہے۔ نبی ﷺ تو اللہ کے رسول تھے۔ اللہ نے ان کو فتنوں اور دشمنوں سے بچا لیا۔ لیکن آپ بہرحال انسان جانتا تھا کہ آپ بشر ہیں اور آپ کے ساتھی ضعیف ہیں اس لئے اللہ نے ان کو دشمنوں کے حوالے نہیں فرمایا اور ان کی مدد فرمائی۔ اور قدم قدم پر نشانات راہ بتلائے گئے .... چناچہ ان آیات میں اسی امداد کا ذکر ہے اور اس رہنمائی کا ذکر ہے جو اس مشکل مرحلے میں کی گئی۔ انا نحن .................... تنزیلا (23:76) ”” اے نبی ! ہم نے ہی تم پر یہ قرآن تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا ہے “۔ یہ پہلا نکتہ توجہ طلب ہے ، بتایا جاتا ہے کہ اس دعوت کا سرچشمہ اور ماخذ کیا ہے۔ یہ دعوت اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ کی طرف ہے۔ اور اللہ ہی اس کا سرچشمہ ہے۔ اسی نے قرآن نازل کیا ہے۔ اللہ کے سوا اس کے اندر کسی اور کا کوئی دخل نہیں ہے اور نہ اللہ کی دعوت کی سوا کسی اور کی دعوت اس کے ساتھ مل سکتی ہے۔ اس کی ہدایات صرف اللہ سے لی جاتی ہیں۔ اس کی کوئی فکر کسی اور ذریعہ سے نہیں پیش جاتی۔ اللہ ہی نے قرآن کریم نازل فرمایا ہے ، اللہ ہی حضرت نبی ﷺ کو حکم دیا ہے لہٰذا یہ دعوت اللہ کی ہدایت کے مطابق چل رہی ہے اور اس کے بتائے ہوئے نشانات پر جارہی ہے۔ کیونکہ اس دعوت کا ماخذ قرآن ہے جو نازل ہی اللہ نے کیا ہے۔ لیکن باطل نہایت مغرور اور سرکش ہوتا ہے اور شربظاہر پھولا ہوا نظر آتا ہے ، اس لئے مومنین کو اذیت دی جاتی ہے۔ ہر قسم کا شر اور فتنہ ان کی راہ میں ہے۔ دعوت اسلامی کے دشمن صرف یہ کرسکتے ہیں کہ وہ لوگوں کو دعوت اسلامی کو قبول کرنے سے روکیں اور اس پر وہ اصرار کرتے رہیں۔ اس پر مزید یہ کہ وہ اپنے عقائد ، رسم و رواج اور فتنہ انگیزیوں پر جمے ہوتے ہیں۔ شر و فساد اور فتنہ انگیزی کے اس دور میں یہ لوگ مصالحت اور میانہ روی کی پیش کش کرتے ہیں ، معاملات کو نصف نصف تقسیم کرتے ہیں۔ یہ ان مشکل حالات میں ایک پرکشش پیشکش ہے۔ اور ایسے حالات میں اس قسم کی پیشکش کو رد کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ لیکن ایسے حالات میں ایک دوسری تنبیہ آتی ہے اور اس اہم معاملے کی طرف مبذول کرائی جاتی ہے۔
Ayah 76:24

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًاۚ Open ayah 76:24 in the Quran reader

لہٰذا تم اپنے رب کے حکم پر صبر کرو ، اور ان میں سے کسی بدعمل یا منکر حق کی بات نہ مانو۔

فاصبر لحکم ........................ اوکفورا (24:76) ” لہٰذا تم اپنے رب کے حکم پر صبر کرو ، اور ان میں سے کسی بدعمل یا منکر حق کی بات نہ مانو “۔ کیونکہ تمہارے اور ان کے درمیان کوئی مصالحت نہیں ہوسکتی۔ نہ تمہارے درمیان کوئی پل ہے ، جس کے اوپر سے خیالات ، نظریات ادھر ادھر جاسکیں۔ کیونکہ تمہارے منہاج اور جاہلیت کے منہاج کے درمیان وسیع خلا ہے۔ اس کائنات کے بارے میں تمہارا تصور ان کے تصورات سے جدا ہے۔ تم حق پر ہو اور وہ کفر پر ہیں۔ تم ایمان پر ہو اور وہ باطل پر ہیں۔ تم نور پر ہو اور وہ اندھیرے میں ہیں۔ تم علم ومعرفت پر ہو اور وہ جاہلیت پر ہیں۔ پھر معاملات تمام اللہ کے احکام کے مطابق ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ اللہ کا حکم اور نظام یہ ہے کہ وہ باطل کو بھی موقعہ اور مہلت دیتا ہے۔ شر کو بھی موقعہ دیتا ہے اور بعض اوقات اہل ایمان کو دیر تک آزمائشوں میں ڈال کر ان کو پاک اور خالص کرتا ہے۔ یہ تمام احکام اللہ کی حکمت کے مطابق صادر ہوتے ہیں ، اللہ کی تقدیر اور حکمت دنیا کو چلاتی ہے۔ لہٰذا۔ فاصبر ............ ربک (24:76) ” رب کے حکم پر صبر کرو “۔ اس وقت تک جب وقت آجائے۔ اذیت پر بھی صبر کرو ، مشکلات پر بھی صبر کرو ، باطل اگر غالب ہو تو بھی صبر کرو۔ شہ رگ پھولی ہوئی ہو تو صبر کرو ، آپ حق کے حامل ہیں۔ اور قرآن آپ کے پاس ہے جو حق پر مشتمل ہے اس لئے آپ حق پر جم جائیں ، صبر کریں اور ان کی پیش کشوں کو نظر انداز کردیں۔ یہ لوگ کچھ دو اور کچھ لو کی پالیسی کے مطابق فیصلہ چاہتے ہیں۔ کچھ اپنی باتوں منوانا چاہتے ہیں۔ ولا تطع .................... اوکفورا (24:76) ” اور ان میں کسی بدعمل یا منکر حق کی بات نہ مانو “۔ کیونکہ یہ لوگ آپ کو اللہ کی عبادت ، اللہ کی اطاعت اور حق پر چلنے نہیں دینا چاہتے۔ کیونکہ یہ لوگ بدکردار اور کفار ہیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ آپ بھی کسی قدر کفر اور شرک کا ارتکاب کریں تاکہ معاملے کا فیصلہ نصف نصف پر ہوجائے۔ کچھ اچھی باتیں وہ مانیں ، کچھ بری باتیں آپ مان لیں۔ اس طرح وہ آپ کو دھوکہ دے کر راضی کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کی جسمانی خواہشات پوری کرتے ہیں۔ چناچہ وہ آپ کو سربراہی کا منصب پیش کرتے ہیں۔ اور آپ کو دولت کی پیشکش بھی کرتے ہیں۔ عتبہ ابن ربیعہ آپ سے کہتا ہے ” اس کام کو چھوڑ دیجئے ، میں اپنی بیٹی آپ کے نکاح میں دیتا ہوں۔ میری بیٹیاں قریش کی خوبصورت ترین لڑکیاں ہیں “۔ غرض ہر دور اور ہر زمان ومکان میں داعیان حق کو انہی ذرائع سے ورغلایا گیا ہے۔ صبر کریں اگرچہ طویل عرصہ تک آپ کو جدوجہد کرنی پڑے۔ اگرچہ قریش کا تشدد سخت ہوجائے اور راستہ طویل ہوجائے لیکن صبر تو بہت ہی مشکل کام ہے۔ اور اس کے لئے سخت تیاری اور ریاضت کی ضرورت ہے اور وہ تیاری یہ ہے۔
Ayahs 76:25–26

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًاۖۚ Open ayah 76:25 in the Quran reader

اپنے رب کا نام صبح وشام یاد کرو ،

وَ مِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَ سَبِّحْهُ لَیْلًا طَوِیْلًا Open ayah 76:26 in the Quran reader

رات کو بھی اس کے حضور سجدہ ریز ہو اور رات کے طویل اوقات میں اس کی تسبیح کرتے رہو “۔

واذکراسم ........................ طویلا (25:76 تا 26) ” اپنے رب کا نام صبح وشام یاد کرو ، رات کو بھی اس کے حضور سجدہ ریز ہو اور رات کے طویل اوقات میں اس کی تسبیح کرتے رہو “۔ یہ ہے زادراہ ۔ صبح وشام اللہ کا نام لینا اور طویل راتوں میں اللہ کی پاکی بیان کرنا ، اس سرچشمے سے رابطہ بحال رکھنا جہاں سے قرآن کریم کا نزول ہورہا ہے۔ جہاں سے دعوت اسلامی اور تحریک اسلامی برپا کرنے کا حکم صادر ہوا ہے۔ یہی سرچشمہ قوت کا بھی سرچشمہ ہے۔ یہی اس راہ کے سازو سامان کا بھی ماخذ ہے۔ اور اس کے ساتھ رابطے کا طریقہ ذکروفکر ، تسبیح وتہلیل اور دعاء و عبادت ہے۔ خصوصاً طویل راتوں کے اوقات میں۔ اس لئے کہ یہ راہ طویل ہے۔ اور یہ بوجھ بھاری ہے۔ لہٰذا اس راہ کے لئے بہت ہی بڑی مقدار میں زادراہ کی ضرورت ہے۔ اور طویل راتوں کی تنہائیوں میں صرف بندے اور رب کی ملاقات تنہائی میں رہتی ہے۔ نہایت پر امیدی اور محبت کی فضا میں۔ اس ملاقات سے تمام تھکاوٹیں اور تمام الجھنیں حل ہوجاتی ہیں۔ اور ضعیفی اور قلت وسائل کی کمی دور ہوجاتی ہے۔ اور تمام تھکاوٹیں ختم ہوجاتی ہیں۔ اور انسان دیکھ لیتا ہے کہ جس مقصد کے لئے وہ کام کررہا ہے وہ ایک عظیم مقصد ہے اور پھر اس کے مقابلے میں جدوجہد اور قربانیاں اور راہ کی مشکلات اور قربانیاں بہت کم نظر آتی ہیں۔ اللہ رحیم وکریم ہے ، اس نے اپنے بندوں کو دعوت کا ذمہ دار بنایا ، اس پر قرآن نازل فرمایا ، انہیں بتایا گیا کہ ان ذمہ داریوں کا بوجھ کیا ہے ، اور راہ کی مشکلات کیا ہیں۔ لہٰذا اللہ نے اپنے نبی کو بےسہارا نہیں چھوڑا۔ اس کی نصرت فرمائی اور یہ تربیت اور راہ کی ان مشکلات کے مقابلے کے لئے تیاری کروانا بھی دراصل اللہ کی مدد اور نصرت ہے۔ اصحاب دعوت اور احیائے اسلام کے لئے کام کرنے والوں کا یہی زادراہ ہے۔ ہر دور میں اور ہر جگہ .... یہ دعوت ایک ہے۔ اس کا طریق کار بھی ایک ہے اور حالات اور واقعات بھی ایک ہیں۔ اہل باطل نہ ہمیشہ اس کے خلاف ایک ہی راستہ اختیار کیا ہے۔ جو وسائل نبی ﷺ کے بر خلاف باطل نے اختیار کیے وہی ہر باطل ہر حق کے خلاف استعمال کرتا ہے۔ ہمیشہ باطل ایک ہی قسم کے اسباب و وسائل لے کر حق کے مقابلے میں آتا ہے۔ لہٰذا حق کے اسباب اور وسائل بھی وہی ہونے چاہئیں۔ جو اللہ نے اختیار کیے ہیں۔ وہ حقائق کیا ہیں جن کے اندر داعیان حق کو رہنا چاہئے ؟ یہ وہی ہیں جو داعی اول نبی ﷺ کو سکھائے گئے۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ یہ دعوت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور یہ کام اللہ کا ہے۔ دوسری بات یہ کہ یہ حق جو اللہ کی طرف سے آیا ہے۔ اس کے ساتھ باطل کا آمیزہ نہیں ہوسکتا۔ نہ اہل حق اور اہل باطل کے درمیان باہم تعاون ہوسکتا ہے۔ یا کچھ لو اور کچھ دو پر سودا بازی ہوسکتی ہے۔ اس لئے کہ دونوں کے منہاج باہم مختلف ہیں ، دونوں کے راستے جدا ہیں۔ اگر کسی وقت باطل اپنی قوت اور دبدبے کی وجہ سے غالب ہوتا ہے تو اس میں بھی اللہ کی رضا اور حکمت ہوتی ہے۔ ایسے حالات میں اہل ایمان کے لئے صبر ضروری ہوتا ہے اور اس میں اللہ کی حکمت ہوتی ہے۔ اور اہل حق کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ صبر ، نماز اور تسبیح اور تہلیل اور ذکر وفکر کے ذریعہ مشکلات پر قابو پائیں .... یہ ہے وہ عظیم حقیقت جس کا ادراک ان تمام لوگوں کو اچھی طرح کرلینا چاہئے جو دعوت دین لے کر اٹھتے ہیں۔ اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ ان لوگوں کے منہاج اور طریق کار کے درمیان جو جاہلیت کا منہاج ہے۔ اور اسلامی منہاج اور طریق کار کے درمیان جو خدائی منہاج ہے۔ مکمل جدائی اور فرق ہے۔ یہ لوگ اپنا بھلا نہیں چاہتے ، ان کے اغراض ومقاصد نہایت گرے پڑے ہیں اور ان کی سوچ بہت ہی چھوٹی ہے۔ کیا فرق ہے دونوں میں ؟
Ayah 76:27

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَ یَذَرُوْنَ وَرَآءَهُمْ یَوْمًا ثَقِیْلًا Open ayah 76:27 in the Quran reader

یہ لوگ تو جلدی حاصل کرنے والی چیز (دنیا) سے محبت رکھتے ہیں اور آگے جو بھاری دن آنے والا ہے اسے نظر انداز کردیتے ہیں

ان ھؤلآئ ........................ ثقیلا ” یہ لوگ تو جلدی حاصل کرنے والی چیز (دنیا) سے محبت رکھتے ہیں اور آگے جو بھاری دن آنے والا ہے اسے نظر انداز کردیتے ہیں “۔ یہ لوگ جن کی امیدیں نہایت ہی قریبی ہیں ، جو نہایت ہی چھوٹی چیزوں کو بڑی اور اہم سمجھتے ہیں ، جن کی سوچ اور جن کے مطالبے بہت ہی چھوٹے ہیں۔ یہ چھوٹے لوگ ہیں اور یہ اس دنیا ہی میں گم ہیں ، دنیا کے شب وروز ہی ان کے لئے اہم ہیں۔ اور وہ عظیم اور ثقیل دن اور بھاری ذمہ داریوں کا دن ان کی نظروں سے اوجھل ہے۔ حالانکہ وہ بہت ہی بھاری دن ہوگا۔ یہ ایسے لوگ ہیں جن کی اطاعت کسی چیز میں نہیں کی جاسکتی۔ جن کا اتباع کسی راہ پر نہیں کیا جاسکتا۔ یہ مومنین کے ساتھ کسی دورا ہے پر ملتے ہی نہیں ، کسی نکتے پر ہم مقصد نہیں۔ ان کی نظریں دنیا پر ہیں ، دنیا کے اقتدار اور مال واسباب پر ہیں ، جو نہایت ہی حقیر وقلیل قدروقیمت کی حامل ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ اصل چیز سے غافل ہیں۔ یہ لوگ جلدی حاصل ہونے والی چیز کو حاصل کرتے ہیں اور وہ بھاری نتائج کا دن جب یہ زنجیروں اور طوق وسلاسل میں کجڑے ہوں گے اور سخت حساب و کتاب ہوگا۔ اسے یہ بھولے ہوئے ہیں۔ اس آیت میں روئے سخن تو نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کی طرف ہے کہ یہ لوگ ایسے ہیں اور ان کے ساتھ سلوک ایسا ہونا چاہئے لیکن بالواسطہ یہ ان لوگوں کی ایک قسم کی دھمکی ہے جو دنیا پرست ہیں اور دنیا کے اہتمامات میں لگے ہوئے ہیں۔ اور ایسے دنیا پرست لوگ درحقیقت اسلامی تحریک کے کام کے نہیں۔ اب یہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ ہی نے ان کو یہ حالات دیئے ہیں ، یہ قوت ، یہ مقام ، یہ شوکت ، ان کو اللہ ہی نے دی ہے۔ اور اللہ اس پر قادر ہے کہ ان لوگوں کو ضعیف وناتواں بنادے اور ان سے ان کی یہ حالت چھین لے لیکن اللہ کے کام گہری حکمت پر مبنی ہوتے ہیں اور اس دنیا کو ایک طویل عرصے سے اپنی حکمتوں کے مطابق چلاتا آرہا ہے۔
Ayah 76:28

نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ وَ شَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ١ۚ وَ اِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَاۤ اَمْثَالَهُمْ تَبْدِیْلًا Open ayah 76:28 in the Quran reader

” ہم نے ہی ان کو پیدا کیا ہے اور ان کے جوڑ بند مضبوط کیے ہیں ، اور ہم جب چاہیں ان کو بدل کر رکھ دیں “۔

نحن خلقنھم .................... تبدیلا یہ ذرا ان لوگوں کو تنبیہہ اور تذکیر ہے جو اپنی قوتوں پر مغرور ہیں کہ تمہاری قوت بلکہ تمہارے وجود کا سرچشمہ بھی درحقیقت ہم ہیں۔ اور اس کے بعد مومنین کو اطمینان دلایا جاتا ہے کہ اگرچہ تم قلیل و ضعیف ہو لیکن تم جس ذات کی دعوت لے کر اٹھے ہو وہ نہایت ہی قوت والی ذات ہے۔ اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ تمام واقعات اللہ کی قدرت سے وجود میں آتے ہیں اور ان کی پشت پر اللہ کی قدرت کار فرما ہوتی ہے۔ اور تمام امور اس کی حکمت کے مطابق سرانجام پاتے ہیں اور وہ احکم الحاکمین ہے۔ واذا شئنا ................ تبدیلا (18:76) ” اور جب ہم چاہیں ان کو بدل کر رکھ دیں “۔ اللہ کے مقابلے میں یہ کچھ نہیں کرسکتے۔ اللہ نے ہی ان کو پیدا کیا ہے۔ یو قوت اللہ ہی نے ان کو دی ہے۔ وہ اس بات پر قادر ہے کہ ان کے مقابلے میں ایک دوسری قوم اٹھا دے جو ان کی جگہ لے لے۔ اللہ نے جو ابھی تک ان کو مہلت دی ہے اور ان کی جگہ دوسری قوت نہیں اٹھائی تو یہ اللہ کا فضل وکرم ہے اور اس کا فیصلہ اور حکمت ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس آیت میں بھی رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور آپ کے ساتھیوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ اہل ایمان کے موقف اور دوسروں کے موقف کی وضاحت کی گئی ہے۔ اور ان لوگوں کو تنبیہہ کی گئی ہے جو اس دنیا کے معاملات میں غرق ہیں ، جو اپنی قوت پر مغرور ہیں کہ وہ اللہ کی نعمتوں کی قدر کریں ، یا نہ کریں کہ شکر ادا کرنے کی بجائے وہ اللہ کی نعمتوں کو ذریعہ غرور بنائیں اور اس بات کا خیال رکھیں کہ یہ نعمتیں اور یہ مہلت دراصل آزمائش ہے۔ جس طرح سورت کے آغاز میں تصریح کی گئی تھی۔ اس کے بعد ان کو اس بات کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ تم کو جو مہلت دی گئی ہے اس کی ایک ایک گھڑی تمہارے لئے بہت قیمتی ہے ، قرآن کریم اللہ کی رحمت ہے۔ یہ مسلسل نازل ہورہا ہے اور یہ سورت بھی ایک تذکرہ ہے۔
Ayah 76:29

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 76:29 in the Quran reader

” یہ ایک نصیحت ہے ، اب جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف جانے کا راستہ اختیار کرلے “۔

ان ھذہ .................... سبیلا اور اس کے بعد یہ تصریح بھی کردی جاتی ہے کہ اللہ کی مشیت بےقید ہے۔ اور ہر چیز اللہ کی مشیت کے مطابق ظہور پذیر ہوتی ہے۔ تاکہ لوگوں کی آخری توجہ اللہ کی طرف ہو۔ اور آخر کار سب لوگ اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کردیں۔ انسان اپنی قوت پر مغرور ہونے کی بجائے اللہ کی قوت پر بھروسہ کرے۔ اور یہ عقیدہ رکھے کہ حقیقی قوت اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے یعنی پوری طرح اللہ کے آگے جھک جائے۔
Ayah 76:30

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۗۖ Open ayah 76:30 in the Quran reader

اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اللہ نہ چاہے ، یقینا اللہ بڑا علیم و حکیم ہے “۔

وما تشاءون .................... حکیما یہ اس لئے تاکہ انسانوں کے دل یہ جان لیں کہ فاعل مختار دراصل اللہ ہے۔ وہی متصرف اور زبردستی کنٹرول کرنے والا ہے تاکہ سب دل اللہ ہی کی طرف متوجہ ہوں اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کردیں۔ یہ ہے وہ حقیقت جو ان آیات میں بیان کی گئی ہے کہ اصل فاعل مختار اللہ ہے لیکن اللہ نے انسان کو یہ طاقت دی ہے کہ وہ حق و باطل کو سمجھ سکے اور اللہ کی مشیت کے مطابق سچائی یا باطل کی طرف اپنا رخ کرسکے۔ اس کے لئے اللہ نے انسان کو علم ومعرفت بھی عطا کیا۔ اور رسول بھیج کر انسانوں کو حق و باطل کا راستہ بھی اچھی طرح سمجھایا۔ اور قرآن اور دوسری کتابیں اتار کر راستے کی نشاندہی بھی کردی۔ لیکن یہ سب امور اللہ کی قدرت اور مشیت کے دائرے کے اندر ہوتے ہیں۔ پس جو شخص اللہ کی طرف اپنا رخ کرتا ہے۔ اللہ اسے راہ راست کی طرف آنے کی توفیق دیتا ہے۔ جب وہ اپنا رخ اللہ کی طرف نہ کرے اور اللہ کے سامنے دست بدعا نہ ہو تو وہ ہدایت و فلاح سے محروم ہوجاتا ہے اور ایسے شخص کو توفیق نہیں ہوتی۔
Ayah 76:31

یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمِیْنَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 76:31 in the Quran reader

اپنی رحمت میں جس کو چاہتا ہے داخل کرتا ہے ، اور ظالموں کے لئے اس نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

یدخل ............................ الیما غرض اللہ کی مشیت بےقید ہے ، جس طرح چاہے فیصلہ کردے ۔ اگر اللہ چاہے تو کسی کو بھی اپنی رحمت میں داخل کردے۔ انسانوں میں سے ہو ، جو بھی اس کی رحمت میں داخل ہونے کی التجا کرے۔ اس کی اطاعت پر اللہ کی مدد طلب کریں۔ ہدایت کی توفیق کے طلبگار ہوں جبکہ ظالموں کے لئے اس نے عذاب تیار کررکھا ہے ، جو بہت درد ناک ہے اور اللہ نے ان کو اس جہاں میں مہلت دے رکھی ہے تاکہ وہ عذاب الیم تک جا پہنچیں۔ سورت کا یہ خاتمہ اس کے آغاز سے ہم آہنگ ہے۔ اس میں آزمائش کا آخری انجام بتلایا گیا ہے۔ جس کے لئے اللہ نے انسان کو نطفہ امشاج (مخلوط نطفے) سے پیدا کیا ہے جس کے لئے اللہ نے انسان کو سمع وبصر عطا کیا۔ اور جنت اور دوزخ کا راستہ بتلایا ہے۔