Ayahs 77:1–7والمرسلت ........................................ لواقع
مسئلہ دراصل وقوع قیامت کا ہے۔ مشرکین مکہ کے لئے اس کا سمجھنا مشکل ہورہا تھا کہ آیا یہ کس طرح واقع ہوگی۔ قرآن کریم نے اس مسئلہ کو مختلف اسالیب میں ، مختلف دلائل و شواہد کے ساتھ بیان فرمایا۔ یہ مسئلہ ان لوگوں کے ذہن میں اٹھانا بہت ہی ضروری تھا ، اس لئے کہ اس کے سوا اسلامی نظریہ حیات ان کے ذہن میں بیٹھ ہی نہ سکتا تھا۔ اور نہ ان کی زندگی کی قدریں صحیح طرح متعین ہوسکتی تھیں۔ اور نہ زندگی کے اصول اور فروغ وضع ہوسکتے تھے۔ تمام آسمانی کتب اور عقائد میں وقوع قیامت کا عقیدہ پہلا زینہ رہا ہے۔ دراصل انسانی زندگی کی اصلاح اور صحیح تعمیر اس کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ انسان کی زندگی اور اس کے اعمال کا دارومدار اسی عقیدے پر ہے۔ انسانی زندگی کے مختلف پہلوﺅں کو صرف اس عقیدے کے ذریعہ ہی درست کیا جاسکتا ہے۔ اور انسان کے لئے صحیح قیامت کی جوابدہی کے تصور ہی سے کی جاسکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے اس عقیدے کو عربوں کے ذہن میں بٹھانے کے لئے اس قدر طویل جدوجہد کی تاکہ وہ اس پر اچھی طرح یقین پیدا کرلیں۔
سورت کے آغاز میں اللہ کی قسم اٹھاتا ہے کہ آخرت کا وعدہ پورا ہونے والا ہے۔ اور قسم کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ جن امور پر اللہ نے قسم اٹھائی ہے وہ بھی غیبی حقائق ہیں۔ ایسی قوتیں ہی پوشیدہ ہیں اور اس کائنات کے نظام میں وہ بہت ہی موثر ہیں جس طرح انسانی زندگی کے اندر بھی موثر ہیں۔ سلف صالحین نے ان کے مفہوم کے تعین میں اختلاف کیا ہے۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ ان تمام الفاظ سے مراد ہوائیں ہیں ، بعض نے کہا کہ ان سے مراد ملائکہ ہیں۔ بعض نے کہا کہ بعض الفاظ سے مراد ہوائیں ہیں اور بعض سے مراد ملائکہ ہیں۔ ان تعبیرات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مفہوم اور مدلول بہرحال مجمل اور پوشیدہ ہے۔ اور یہاجمال ، غموض اور عدم وضاحت اس حقیقت کے زیادہ مناسب ہے۔ جس پر قسم اٹھائی جارہی ہے کیونکہ وہ بھی غیبی حقیقت ہے اور جس طرح وہ چیزیں جن کی قسم اٹھائی جارہی ہے ، خواہ فرشتے ہوں یا ہوائیں ہوں ، انسانی زندگی میں موثر ہیں۔ اسی طرح قیامت بھی انسانی زندگی میں موثر ہوگی۔
والمرسلت عرفا (1:77) ” قسم ہے ان کی جو پے درپے بھیجے جاتے ہیں “۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ان سے مراد ملائکہ ہیں۔ مسروق ، ابوالضحیٰ ، مجاہد سے ایک روایت کے مطابق : سدی ، ربیع ابن انس ابو صالح (ایک روایت کے مطابق) سے بھی ایسی ہی روایت ہے۔ اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ قسم ہے ان فرشتوں کی جن کو احکامات الٰہیہ کے ساتھ پے درپے بھیجا جاتا ہے۔ جس طرح گھوڑے کی گردن کے بال (ایال) لمبے اور مسلسل ہوتے ہیں۔ ایک لائن میں اسی طرح یہ فرشتے پے درپے آتے ہیں۔ یہی بات انہوں نے عاصفات ، ناشرات ، فارقات اور ملقلیت کے بارے میں کہی ہے کہ ان سے مراد فرشتے ہیں۔
اور حضرت ابن سعود سے روایت ہے کہ المرسلات عرفا سے مراد ہوئیں ہیں ، اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ وہ مسلسل اور پے درپے چلتی ہیں جس طرح گھوڑے کے ایال چلتے ہیں۔ یہی رائے انکی عاصفات اور ناشرات کے بارے میں ہے۔ حضرت ابن عباس ، مجاہد ، قتادہ اور ابوصالح نے (ایک روایت کے مطابق) بھی اس کی تائید کی۔
ابن جریر نے المرسلات کے بارے میں توقف کیا ہے کہ اس سے مراد ملائکہ ہیں یا ہوائیں اللہ ہی جانتا ہے۔ لیکن عاصفات سے انہوں نے قطعاً مراد ہوائیں لی ہیں۔ یہی بات انہوں نے ناشرات کے بارے میں کہی کہ یہ ہوائیں ہیں جو بادلوں کو بکھیرتی ہیں۔
اور حضرت ابن مسعود سے روایت ہے (الفارقات فرقا ، الملقیات ذکرا ، عذرا ونذرا) سے مراد فرشتے ہیں۔ یہی رائے حضرت ابن عباس ، مسروق ، مجاہد ، قتادہ ربیع ابن انس ، سدی اور ثوری سے منقول ہے۔ اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ یہ فرشتے اللہ کے احکام لے کر رسولوں پر آتے ہیں اور حق و باطل کے درمیان فرق کرتے ہیں۔ رسولوں پر وحی کا القا کرتے ہیں ، جس کے اندر لوگوں کے لئے ذرا اوالورا تمام حجت ہے۔
میری رائے یہ ہے کہ ان الفاظ یا ان کے اس مفہوم کو ارادتاً مجہول رکھا گیا ہے جس کی قسم اٹھائی گئی ہے مثلاً (الذاریات ذروا) اور (النازغات غرقا) کے مفہوم کو ارادتاً مجمل رکھا گیا ہے۔ نیز متقدمین نے ان کے مفہوم میں جو اختلاف کیا ہے یہ بھی دلیل ہے اس امرپر کہ ان الفاظ کے مفہوم مقسم بہ کو مہم رکھا گیا ہے اور ان مقامات پر ابہام اصل مقصود تھا۔ لہٰذا اشاراتی انداز ہی اس مقام پر زیادہ موزوں ہے۔ یہ الفاظ اور ان کی مبہم اشارات اور ان کا تسلسل اور ترنم اور ان کی پدا کردہ فضا انسانی شعور کے اندر ایک ارتعاش پیدا کرتی ہے۔ اور یہ ارتعاش اور کام ابھارنا اس سورت کے موضوع اور سورت کے رخ کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہیں۔ اس سورت کا ہر مقطع دراصل انسان کو ایک شدید جھٹکا دیتا اور جھنجھوڑتا ہے کہ باز آجاﺅ ان بداعمالیوں سے اور اللہ کی ظاہر اور باہر اور حقیقی آیات ونشانات کا انکار نہ کرو۔ اور اگر تم باز نہیں آتے تو پھر تکذیب پر اصرار کرنے والوں کے متعین انجام کے لئے تیار ہوجاﺅ۔
ویل ............................ للمکذبین ” اس دن انکار کرنے والوں کے لئے ہلاکت ہے “۔
اس کے بعد انسانی فکر ونظر اور شعور کو ایک شدید جھٹکا دیا جاتا ہے کہ جب وہ دن آئے گا جس کا تمام رسولوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ جس دن تمام رسول اپنی کارکردگی پیش کریں گے اور جس دن لوگوں کی اعمال کے فیصلے ہوں گے تو وہ کیسا دن ہوگا۔
Ayahs 77:8–10فاذا النجوم ............................ للمکذبین
جب ستارے ماند پڑجائیں گے اور ان کی روشنی چلی جائے گی۔ اور جب آسمان میں دراڑیں پڑجائیں گی اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑادیئے جائیں گے۔ اس قسم کے مناظر اور مشاہد کو قرآن کی مختلف سورتوں میں مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے۔ سب کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کے دن یہ نظر آنے والی کائنات ایسی نہ رہے گی اور اس کی بساط لپیٹ دی جائے گی۔ یہ کر ات سماوی ریزہ ریزہ ہوں گے۔ بہت عظیم دھماکے ہوں گے ، یہ عظیم دھماکے ایسے ہی ہوں گے جس طرح کے دھماکے معمولی پیمانے ، وہ زلزلوں اور آتش فشانی کی شکل میں دیکھتے رہتے ہیں۔ گویا قیامت کے دن یہ زلزلے ، دھماکے معمولی پیمانے کے ، وہ زلزلوں اور آتش فشانی کی شکل میں دیکھتے رہتے ہیں۔ گویا قیامت کے دن یہ زلزلے ، دھماکے ، آتش فشانی کے واقعات بہت بڑے پیمانے پر ہوں گے۔ جس طرح عید اور شب قدر کے موقعہ پر بچے آتش فشانی کرتے ہیں یا مثلاً ایٹمی دھماکے اور ہائیڈروجن کے دھماکے۔ لیکن پوری کائنات کے کر ات کے باہم ٹکرانے سے جو ہولناکیاں پیدا ہوں گی وہ بہت عظیم ہوں گے۔ وہ انسانی تصور سے بالا ہیں اور ان دھماکوں کے بعد پھر انسانوں کا زندہ موجود رہنا اور تماشے دیکھنا ممکن ہی نہیں ہے۔
ان دھماکوں اور ہولناکیوں کے بعد پھر یہ سورت بتاتی ہے کہ ایک دوسرا عظیم واقعہ ہوگا اور وہ یہ کہ رسولوں سے کہا جائے گا کہ وہ اپنے فریضہ رسالت کی کارکردگی کی رپورٹ پیش کریں۔ آدم (علیہ السلام) سے حضرت محمد ﷺ تک رسولوں کی حاضری کا وقت آجائے گا۔ اور یہ حساب و کتاب اس قدر عظیم ہوگا جس کے لئے اس پوری کائنات کے اندر زلزلہ برپا کرکے میدان ہموار کیا گیا۔ زمینی زندگی کے تمام فیصلے اب ہوں گے۔ اور ہر فیصلے اللہ کے احکام کے تحت ہوں گے۔ اور تمام نسلوں کے انجام کا آخری فیصلہ کردیا جائے گا۔
قرآن کریم نے اس مسئلے کو نہایت ہی ہولناک انداز میں پیش کیا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بہت ہی عظیم حقیقت ہے۔ اس قدر عظیم کہ انسان اچھی طرح اس کا اور اک بھی نہیں کرسکتا۔
Ayahs 77:11–14واذا ........................ الفضل (11:77 تا 14) ” اور رسولوں کی حاضری کا وقت آپہنچے گا (اس روز وہ چیز واقع ہوجائے گی) کس روز کے لئے یہ کام اٹھارکھا گیا ہے ؟ فیصلے کے روز کے لئے۔ اور تمہیں کیا خبر کہ وہ فیصلے کا دن کیا ہے ؟ “
اس انداز تعبیر ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی عظیم بات کا ذکر ہورہا ہے۔ جب انسانی شعور کے پردے پر اس قدر ہولناکی اور خوف طاری ہوگیا ، کیونکہ رسول جو ابدہی کے لئے طلب ہوگئے اور ستارے بےنور ہوگئے اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑ گئے تو اس خوف وہراس کی حالت میں یہ ڈر اور آتا ہے۔
Ayah 77:15ویل ................ للمکذبین (15:77) ” تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے “۔ اور یہ ڈراوا اللہ عزیز اور جبار کی طرف سے ہے اور ان حالات کے بعد ہے جو اس کائنات پر طاری کردیئے گئے۔ اور رسول حاضر ہوگئے اور ان سے بھی کارکردگی کی رپورٹ طلب ہونے لگی۔ اور وہ ایک ایک کرکے حساب پیش کرنے لگے ، تو ایسے حالات میں یہ ڈراوا بہرحال بےحد موثر ہوتا ہے۔ اور واقعی ایک احساس انسا پر مارے خوف کے غشی آنے لگتی ہے۔
اب یوم الفصل اور یوم الحساب کی ان خوفناکیوں سے کھینچ کر انسان کو خود اس دنیا کی انسانی تاریخ کی طرف لایا جاتا ہے کہ اسے مبہوت انسان ذرا اپنی تاریخ پر غور کرو۔
Ayahs 77:16–17الم نھلک ........................ للمکذبین
یوں ایک ہی چوٹ میں اقوام وملل سابقین کی ہلاکتوں کی ایک جھلک دکھادی جاتی ہے۔ اور بعد میں آنے والوں کی جھلک دکھائی جاتی ہے۔ حالانکہ تاریخ بعید اور تاریخ قریب میں ہلاک شدہ اقوام کی مثالیں بیشمار ہیں۔ دور دور تک اور قریب قریب کے زمانوں میں اقوام کی لاشیں ہی لاشیں نظر آتی ہیں۔ اور زبان حال سے سنت الٰہی کی گونج نظر آتی ہے اور سنائی دیتی ہے۔
Ayah 77:18کذلک ................ مین (18:77) ” مجرموں کے ساتھ ہم یہی کچھ کیا کرتے ہیں “۔ یہ تو اللہ کی سنت جاریہ ہے۔ کبھی رکتی نہیں ، کبھی اپنا راستہ بدلتی نہیں۔ جب مجرمین جان لیتے ہیں کہ ان کا انجام ان دور کے مجرمین اور قریب کے مجرمین والا ہونے والا ہے تو ان پر ہلاکت کی بددعا آتی ہے اور اللہ کی طرف سے بددعا تو حکم ہلاکت ہوتی ہے۔
Ayah 77:19ویل ............ للمکذبین (19:77) ” تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے “۔
اب ہمارا سفر پھر ایک موڑ لیتا ہے۔ بربادیوں اور ہلاکتوں اور لاشوں کے مشاہدے سے بالکل مختلف تخلیق اور تعمیر کا سفر کہ اللہ کا نظام تخلیق اور نظام ربوبیت اور نظام تدبیر کس طرح کام کرتا ہے۔
Ayahs 77:20–22الم نخلقکم ............................ للمکذبین
اس سے مراد جنین کا طویل اور عجیب سفر ہے۔ اس طویل نامیاتی سفر کو قرآن کریم چند جھلکیوں کے اندر بیان کردیتا ہے۔ ایک حقیر پانی کی بوند ، پھر قرار مکین اور محفوظ جگہ میں رکھنا ، ایک متعین وقت تک ایک واضح نظام اور اندازے کے مطابق ، اور اس نظام اور اندازے کے بارے میں یہ تبصرہ۔
Ayah 77:23فقدرنا .................... القدرون (23:77) ” ہم قادر تھے پس ہم بہت اچھی قدرت رکھنے والے ہیں “۔ یہ قدرت اور یہ اندازہ اس قدر دقیق ہے کہ اس کا کوئی مرحلہ اور کوئی اندازہ غلط نہیں ہوتا۔ اور اس پر آخری تبصرہ۔
Ayah 77:24ویل ........................ للمکذبین (24:77) ” تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے “۔
اس کے بعد اس زمین کا مطالعاتی سفر ، یہ سفر انسانی زندگی کے بارے میں ہے۔ اور زمین کے اندر اس زندگی کے لئے تمام ضروریات کا مقرر کرنا اور اس کا مطالعہ۔
Ayahs 77:25–28الم نجعل ............................ للمکذبین
یعنی زمین کو ہم نے ایسا بنایا ہے کہ وہ اپنے دامن میں زندہ اور مردہ سب چیزوں کو لپیٹ کر رکھتی ہے اور اس میں ہم نے بلند وبالا پہاڑ جما دیئے ہیں جو ہبت اونچے اور جمے ہوئے ہیں۔ اور ان کے اوپر ہر وقت بادل چھائے رہتے ہیں اور ان سے میٹھا پانی بہتا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ کی عظیم قدرت اور ٹھیک ٹھیک اندازوں کا مظہر ہے۔ اور گہری حکمت پر دلالت کرتا ہے ، لہٰذا مکذبین کے لئے کوئی جواز نہیں ہے کہ وہ جھٹلائیں۔
اب ان مشاہد قدرت اور گہرے حکیمانہ قوانین فطرت کے پیش کرنے اور انسانی شعور کو تاثرات اور احساسات سے بھر دینے کے بعد اب روئے سخن حساب و کتاب اور روز جزاء کی طرف پھرجاتا ہے۔ ایک نہایت ہی مرعوب کرنے والا حکم ہم سنتے ہیں جس میں مکذبین سے کہا جاتا ہے کہ اٹھو اور راستہ لو اس عذاب کا جس کا تم انکار کرتے تھے۔ یہ حکم نہایت ہی سرزنش اور تکلیف دہ انداز میں دیا جاتا ہے۔
Ayah 77:29یعنی جاﺅ، اب تم آزادہو ، قیامت کے طویل دن کے فیصلے اب ہوچکے ، لیکن یہ آزادی اب دائمی قید ہے ، جہنم کے اندر۔
انطلقو .................... بہ تکذبون (29:77) ” چلو اب اسی چیز کی طرف جسے تم جھٹلایا کرتے تھے “۔ یہ چیز اب تمہارے سامنے حاضر موجود ہے ۔ وہ کیا ہے۔
Ayah 77:30انطلقوا .................... شعب (30:77) ” چلو اس سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے “۔ یہ جہنم کا دھواں ہے۔ جس کی شاخیں اور بڑھ کر تین حصوں میں پھیل گئی ہیں۔ لیکن یہ بہرحال آگ کے شعلے سے زیادہ بہتر ہے لیکن
Ayah 77:31لا ضلیل ................ الھب (31:77) ” یہ ٹھنڈک پہنچانے والا نہ آگ کے شعلے سے بچانے والا “۔ یہ بظاہر ساشہ ہے لیکن اس میں دم گھٹتا ہے ، سخت گرم ہے اور آگ کے شعلے کی طرح ہے اور اس کو سایہ محض مزاح کے طور پر کہا گیا ہے۔ بلکہ یوں ان کے دلوں کے اندر تمنا پیدا کی گئی ہے کہ کاش کوئی سایہ ہو جس میں وہ پناہ لے سکیں۔
چلو ، لیکن تم جانتے ہو کہ تمہیں اب کہاں چلنا ہے اور جو فیصلہ ہوا ہے اسکی روشنی میں تم اپنی منزل کو جانتے ہوں لہٰذا تصریح وتشریح کی ضرورت نہیں ہے۔ اور جہاں تم جاﺅ گے ” وہ “ کیا کررہی ہے۔
Ayahs 77:32–33انھا ترمی .................... صفر (33:77) ” وہ محل جیسی بڑی چنگاریاں پھینکے گی گویا کہ وہ زرد اونٹ ہیں “۔ شرارے یوں نکل رہے ہوں گے کہ گویا بڑے بڑے پتھروں کے محلات آگے پیچھے آکر گر رہے ہیں۔ (عرب پتھرون کے بنے ہوئے مکانات کو محلات کہتے تھے۔ ضروری نہیں ہے کہ مراد آج کے دیوہیکل محلات ہوں) اور یہ شرارے آگے پیچھے یوں لگ رہے ہوں گے جیسے زرد اونٹ۔ یہ تو ہوں گے اس آگ کے شرارے۔ اب آگ کیسی ہوگی ، اللہ ہی اس سے بچائے۔ اس خوفناک حالت میں مکرر تبصرہ آرہا ہے۔
Ayahs 77:34–37ویل ........................ للمکذبین (34:77) تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے “۔
یہ خوفناک خاموشی بتارہی ہوگی کہ کس قدر خوف میں یہ لوگ مبتلا ہیں۔ کس قدر دباﺅ ہے ان پر ، کس قدر ہیبت ناک عاجزی ہے ، نہ بات کرسکتے ہیں اور نہ عذرات پیش کرسکتے ہیں۔ کیونکہ بات اور عذرات کا وقت ہی گزر گیا۔ آج تو۔
ویل یومئذ للمکذبین (37:77) ” تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے “۔ بعض دوسرے مناظر میں یہ ذکر ہوا ہے کہ وہ حسرت اور افسوس کریں گے ، قسمیں اٹھائیں گے ، معذرتیں پیش کریں گے لیکن اب ان پر تو طویل دن آپڑا ہے۔ اس میں کبھی وہ مہیب سکوت میں ہوں گے اور کبھی چلاتے بھی رہیں گے ، جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا۔ البتہ اس سورت کی فضا کی مناسبت سے ان کی حالت سکوت اور حالت دباﺅ کو لایا گیا ہے۔
Ayahs 77:38–39آج تو فیصلے کا دن ہے۔ عذرات پیش کرنے کا دن نہیں ہے۔ آج تو اولیں اور آخریں جمع ہیں۔ کیا تم دیکھ نہیں رہے۔ اگر کوئی تدبیر خلاصی کی ہے تو چلو آزمالو ۔ اگر تم کوئی تدبیر یا کوئی طاقت وقدرت رکھتے ہو ؟ لیکن اللہ کے مقابلے میں تدبیر کہاں اور طاقت کہاں ؟ بس خاموشی ہی خاموشی ہے۔ اور درد ناک سرزنش۔
Ayah 77:40ویل .................... للمکذبین (40:77) ” تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے “۔