74. Surah Al-Muddaththir

المدثرThe Cloaked One · 56 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 74:1–2

یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ Open ayah 74:1 in the Quran reader

” اے اوڑھ لپیٹ کرلیٹنے والے ،

قُمْ فَاَنْذِرْ۪ۙ Open ayah 74:2 in the Quran reader

اٹھو اور خبردار کرو۔

یہ عالم بالا کی بہت ہی اہم آواز ہے۔ اور اس نہایت ہی اہم معاملے کے بارے میں ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ انسانوں کو ڈرانا ہے ، ان کو جگانا اور بیدار کرنا ہے اور دنیا میں ان کو شر و فساد سے بچانا ہے اور آخرت میں آگ سے بچانا ہے۔ اور وقت ختم ہونے سے قبل ہی نجات کا طریقہ اور امتحان میں کامیابی کی حکمت بتانا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بہت ہی بڑی ذمہ داری ہے خصوصاً جبکہ یہ ذمہ داری ایک فرد بشر کے کاندھوں پر ڈال دی جائے۔ اگرچہ یہ فردو بشر نبی اور رسول ہو ، کیونکہ انسان اس قدر گمراہ ، سرکش ، باغی ، نافرمان ، معاند ، کج رو اور اپنے روبہ پر اصرار کرنے والا ہے کہ کسی انسان کے لئے اس کی اصلاح کا کام بہت ہی مشکل کام ہے۔ دنیا کے مشکل سے مشکل کام کے مقابلے میں بھی یہ زیادہ مشکل تر کام ہے۔ یایھا المدثر (1) قم فانذر (74:2) ” اے اوڑھ لپیٹ کرلیٹنے والے ، اٹھو اور خبردار کرو “۔ رسالت کے فرائض میں سب سے بڑا فریضہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو برے انجام سے ڈرایا جائے۔ اور ان کو متنبہ کیا جائے کہ خطرہ بہت قریب ہے۔ اور عذاب ان لوگوں کے لئے گھات میں بیٹھا ہوا ہے جو غافل ہیں اور جو بری راہوں پر سرپٹ دوڑ رہے ہیں اور ان کو خطرے کا کوئی شعور اور احساس نہیں ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ کو اپنے بندوں سے کس قدر زیادہ ہمدردی ہے اور وہ کس قدر رحیم ہے۔ باوجود اس حقیقت کے کہ اگر سب کے سب انسان گمراہ ہوجائیں تو وہ اللہ کی بادشاہت میں ذرہ برابر کمی نہیں کرسکتے اور اگر یہ سب کے سب ہدایت پر آجائیں تو اللہ کی بادشاہت میں کوئی اضافہ نہیں کرسکتے۔ لیکن یہ اللہ کا رحم وکرم ہے کہ وہ ان کو آخرت کے درد ناک عذاب سے بچانے کے لئے اب قدر انتظامات کرتا ہے۔ دنیا میں لوگوں کو شر سے بچاتا ہے۔ اور رسولوں کو بھیجتا ہے کہ آﺅ میں تمہیں بخش دوں گا اور اپنے فضل وکرم سے جنت میں داخل کردوں۔
Ayah 74:3

وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ۪ۙ Open ayah 74:3 in the Quran reader

اور اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کرو ،

رسول اللہ ﷺ کو یہ عظیم ڈیوٹی سپرد کرنے کے بعد اب آپ کی ذات کے بارے میں خصوصی ہدایات دی جاتی ہیں۔ (1) پہلے یہ کہ اپنے رب کی بڑائی کرو۔ وربک فکبر (74:3) ” اور اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کرو “۔ یعنی اللہ وحدہ کی بڑائی کا اعلان کردو۔ کیونکہ درحقیقت بڑا صرف اللہ ہے۔ اور صرف وہی مستحق ہے کہ اس کا نعرہ تکبیر بلند کیا جائے۔ اس ہدایت میں یہ بتایا جاتا ہے کہ اسلامی نظریہ حیات میں الٰہ اور توحید کے مفوم کے اندر یہ بات شامل ہے کہ اللہ وحدہ بڑا ہے۔ ہر فرد ، ہر شے ، ہر قدر ، اور ہر حقیقت اللہ کے مقابلے میں صغیروحقیر ہے۔ اور اللہ وحد کبیر اور متعال ہے۔ اللہ کے جلالی کبریائی میں تمام اجرام فلکی ، تمام حجم ، تمام قوتیں ، قدریں ، تمام واقعات ، تمام حالات ، تمام معانی اور تمام صورتیں ناپید اور غائب ہوجاتی ہیں۔ اور اللہ عظیم اور بلند اور بلند تر ہوجاتا ہے۔ نبی ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ اس بلند تصور اور علو عقیدہ کے ہتھیاروں سے مسلح ہوکر ، دنیا کو ڈرانے اور متنبہ کرنے اور ہوشیار وخبردار کرنے کا فریضہ اپنے ذمہ لیں اور حالات اور مشکلات کا مقابلہ کریں اور اس کی سختیاں اور بوجھ برداشت کریں۔ لہٰذا اس تصور کے مقابلے میں مخالفین کی تمام سازشیں جھوٹی ہوں گی ، تمام قوتیں ہیچ ہوں گی ، تمام رکاوٹیں دور ہوں گی۔ اگر داعی یہ سچا تصور رکھتا ہو کہ وہ جس رب کی دعوت لے کر اٹھا ہے ، وہ سب سے بڑا ہے تو اس کے سامنے کوئی مشکل کھڑی نہیں ہوسکتی۔ دعوت اسلامی کی سختیاں اور مشکلیں یہ تقاضا کرتی ہیں کہ انسان کے ذہن میں اللہ کی کبریائی اور کبریائی کا عقیدہ مستحضر ہو۔
Ayah 74:4

وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْ۪ۙ Open ayah 74:4 in the Quran reader

اور اپنے کپڑے پاک رکھو ،

(2) دوسری ہدایت یہ دی جاتی ہے : وثیابک فطھر (74:4) ” اور اپنے کپڑے پاک رکھو “۔ یہ کنایہ ہے ، قلبی ، اخلاقی اور عملی پاکیزگی سے۔ شخصیت کی پاکیزگی ، جس میں ظاہری طہارت بھی شامل ہے اور وہ تمام معاملات بھی شامل ہیں جن کا کسی نہ کسی طریقے سے ذات نبی سے تعلق ہے اور روحانی اور اخلاقی پاکیزگی ہی میں انسان عالم بالا سے اشارات اخذ کرسکتا ہے۔ اور رسالت کے مزاج ہی میں پاکیزگی ہوتی ہے ، اس لئے یہاں پاکیزگی کا حکم دیا گیا۔ پھر فریضہ رسالت اور لوگوں تک پیغام پہنچانے اور ان کو ڈرانے اور مختلف قسم کے لوگوں ، مختلف قسم کی خواہشات اور مختلف قسم کے نشیب و فراز میں دعوت اسلامی کے کام کے لئے یہ ضروری تھا کہ آپ کا دامن ہر داغ اور دھبے سے پاک ہو۔ نیز فریضہ رسالت سپرد ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ہر قسم کے لوگوں میں جانا تھا۔ جن میں گندے لوگ بھی تھے اور غلیظ بھی۔ جو گندگی اور غلاظتوں میں ڈوبے ہوئے تھے اور آپ کا حکم یہ تھا کہ ان گندگیوں اور غلاظتوں میں ملوث ہوئے بغیر دعوت اسلامی کا فریضہ آپ نے سر انجام دینا ہے۔ یہ نہایت ہی اہم اور گہرا اشارہ ہے ، ان تمام لوگوں کے لئے جو دعوت اسلامی کا کام لے کر اٹھتے ہیں ، اور جو وارثین انبیاء کے مقام پر ہوتے ہیں اور جنہوں نے ہر قسم کے لوگوں کے اندر رہ کر کام کرنا ہے۔ ہر قسم کے حالات میں کام کرنا ہوتا ہے ، ہر قسم کے معاشروں اور سوسائٹیوں میں کام کرنا ہوتا ہے۔
Ayah 74:5

وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ۪ۙ Open ayah 74:5 in the Quran reader

اور گندگی سے دور رہو۔

(3) آپ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ شرک ترک کردیں اور تمام وہ افعال ترک کردیں جو آخرت میں عذاب کا موجب ہوں گے۔ والرجز فاھجر (74:5) ” اور گندگی سے دور ہوجاﺅ“۔ حضور اکرم ﷺ تو پہلے سے ہر قسم کے شرک اور ان باتوں سے اجتناب کررہے تھے جو آخرت میں عذال کے موجب تھے اور منصب نبوت پر فائز ہونے سے پہلے ہی آپ اس ہدایت پر عمل پیرا تھے ، کیونکہ آپ نے اللہ کے حکم سے پہلے اپنی فطرت سلیمہ کے تقاضے کے مطابق ان برائیوں کو ترک کردیا تھا۔ تمام نظریاتی ، اخلاقی ، رواجی اور عملی جاہلیت سے آپ پہلے سے مجتنب تھے۔ کسی روایت میں کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ آپ نے کسی جاہلی رسم اور شرکیہ عمل میں شرکت کی ہو۔ پس یہ ہدایت دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ آپ ان سے دور رہیں اور یہ چیزیں اسلام سے لگا نہیں کھاتیں۔ کوئی اسلامی روش ان کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتی۔ اس لئے آپ کو بطور تاکید ہدایت کی گئی ہے کہ آپ ان چیزوں سے دور رہیں۔ ” رجز “ کے معنی عذاب کے ہوتے ہیں ، اس کے بعد اس کا اطلاق ان باتوں پر بھی ہوا جو عذاب کے اسباب تھے یعنی ان چیزوں کو چھویں بھی نہیں۔
Ayah 74:6

وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ۪ۙ Open ayah 74:6 in the Quran reader

اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے

(4) یہ ہدایت بھی آپ کو دی جاتی ہے کہ نبوت کے کام سے اپنے ذاتی مفادات کو دور رکھیں اور آپ جو عظیم کام کررہے ہیں اس پر احسان نہ جتلائیں۔ ولا تمنن تستکثر (74:6) ” اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے “۔ حضور اکرم ﷺ نے دعوت کی زندگی میں بہت کچھ صرف کرنا تھا ، اپنی پوری مادی اور اخلاقی اور جسمانی قوت اس راہ میں صرف کرنی تھی اور قربانیاں دینی تھیں لیکن رب تعالیٰ کا مطالبہ آپ سے یہ تھا کہ اس عظیم جدوجہد کو عظیم نہ سمجھیں اور کسی پر احسان نہ جتلائیں۔ دعوت اسلامی کی راہ میں اگر کسی کے اندر یہ احساس پیدا ہوجائے کہ میں نے بہت کچھ کیا ہے تو وہ ہرگز داعی نہیں رہ سکتا۔ اس راہ میں جدوجہد اس وقت عظمت کا رنگ لیتی ہے ، جس اسے بھلا دیا جائے ، بلکہ نفس انسانی کے اندر یہ شعور اچھی طرح بیٹھ جائے کہ اس راہ میں جو کچھ صرف ہورہا ہے وہ اللہ ہی کا دیا ہوا ہے۔ اور یہ اللہ ہی ہے جس نے ہمیں اس مقصد کے لئے چنا ، توفیق دی اور وسائل دیئے اور ہم اس کے اہل ہوئے۔ بس یہ اللہ کا کرم ، اس کا چناﺅ اور اس کی تکریم ہے اور عزت افزائی ہے جو اس نے ہمیں اس کام کے لئے توفیق دی۔ ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم اللہ کے اس دین پر اس کا شکر ادا کریں نہ یہ کہ ، کسی پر احسان جتلائیں۔
Ayah 74:7

وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْؕ Open ayah 74:7 in the Quran reader

اور اپنے رب کی خاطر صبر کرو۔

(5) آخر میں حضور اکرم ﷺ کو یہ ہدایت دی جاتی ہے کہ جو بھی پیش آئے ، آپ صبر کریں۔ ولربک فاصبر (74:7) ” اور اپنے رب کی خاطر صبر کرو “۔ قرآن کریم میں دعوت اسلامی کے سلسلے میں اللہ بار بار صبر کی تلقین فرماتا ہے ، اور حقیقت بھی یہ ہے کہ دعوت اسلامی کی راہ میں صبر ہی اصل سازو سامان ہے۔ یہ ایک چومجھی لڑائی ہوتی ہے ، ایک طرف خوداپنی خواہشات اور میلانات کے خلاف جنگ کرنا ہوتی ہے ، دوسری جانب دعوت اسلامی کے دشمنوں کے خلاف جنگ کرنا ہوتی ہے۔ یہ دشمن شیطانوں کے ہاتھ میں ہوتے ہیں اور مفادات و خواہشات کے لئے لڑ رہے ہوتے ہیں۔ پھر طویل جدوجہد اور قلت وسائل اور اجر سب کا سب اخروی ہوتا ہے۔ اس دنیا کا کوئی مفاد اس جہد سے وابستہ نہیں ہوتا۔ ان حالات کے ساتھ بھی لڑنا پڑتا ہے۔ خالص رضائے الٰہی کے لئے۔ جب نبی کریم ﷺ کہ یہ اہم ہدایات دے دی گئیں تو اب بتایا جاتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے جس سے آپ نے لوگوں کو ڈرانا ہے۔ ایک چٹکی میں اس بات کو سامنے لایا جاتا ہے۔ وہ خوفناک دن ان کے سامنے پیش کردیا جاتا ہے جس سے آپ نے لوگوں کو ڈرانا ہے۔
Ayahs 74:8–9

فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِۙ Open ayah 74:8 in the Quran reader

اچھا ، جب صور میں پھونک ماری جائے گی ،

فَذٰلِكَ یَوْمَئِذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌۙ Open ayah 74:9 in the Quran reader

وہ دن بڑا ہی سخت دن ہوگا ،

فاذا ........................ الناقور (74:8) ” کے معنی بھی بگل میں پھونکنے کے ہیں لیکن نقر کے معنی میں آواز کی سختی بھی ہے اور آواز کی اس سختی سے اشارہ مقصود ہے ، اس دن کی سختی کی طرف۔ گویا ناقور میں آواز ٹھونکی جاتی ہے اور اس سے سخت آواز نکلتی ہے اور یہ آواز کانوں پر فائر کی طرح لگتی ہے۔ اس لئے یہ دن کافروں پر بہت ہی سخت ہوگا اور اس میں ان کے لئے کوئی سہولت نہ ہوگی۔
Ayah 74:10

عَلَى الْكٰفِرِیْنَ غَیْرُ یَسِیْرٍ Open ayah 74:10 in the Quran reader

کافروں کے لئے ہلکانہ ہوگا “۔

علی ................ یسیر (74:10) ” کافروں کے لئے ہلکانہ ہوگا “۔ یہ دن سب کا سب سخت ہوگا۔ اس قدر سخت کہ اس میں کوئی نرمی نہ ہوگی ، لہٰذا یہ سمجھو کہ اس دن بےحد کرب ہوگا ، سخت تنگی ہوگی ، لہٰذا اس کے بارے میں محتاط ہوجاﺅ۔ اور صور سے بچنے سے پہلے تیاریاں کرلو۔ یوں ان کے سامنے اس دن کا منظر پیش کیا جاتا ہے۔ اب روئے سخن ایک مخصوص مکذب اور جھٹلانے والے معاند کی طرف پھرجاتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص دعوت اسلامی کا ایک خاص معاند تھا اور دعوت کے خلاف تمام تدابیر یہ کرتا تھا۔ چناچہ اسے سخت دھمکی دی جاتی ہے اور اس کی ایسی تصویر کھینچی جاتی ہے کہ سننے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ کون ہے ؟ اس شخص کے پورے خدوخال اس قلمی تصور میں دے دیئے گئے ہیں اور یہ شخصیت صاف صاف الفاظ کے اندر متحرک نظر آتی ہے۔ ذرا ملاحظہ کریں :
Ayahs 74:11–14

ذَرْنِیْ وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًاۙ Open ayah 74:11 in the Quran reader

چھوڑ دو مجھے اور شخص کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا ،

وَّ جَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًاۙ Open ayah 74:12 in the Quran reader

بہت سا مال اس کو دیا ،

وَّ بَنِیْنَ شُهُوْدًاۙ Open ayah 74:13 in the Quran reader

اس کے ساتھ حاضر رہنے والے بیٹے دیئے ،

وَّ مَهَّدْتُّ لَهٗ تَمْهِیْدًاۙ Open ayah 74:14 in the Quran reader

اور اس کے لئے ریاست کی راہ ہموار کی ،

متعدد روایات میں یہ بات وارد ہے کہ ان آیات سے مراد ولید ابن مغیرہ مخزومی ہے۔ علامہ ابن جریر روایت کرتے ہیں ، ابن عبدالاعلیٰ سے ، وہ محمد ابن ثورہ سے ، وہ معمر سے ، وہ عبادہ ابن منصور سے ، وہ عکرمہ سے ، کہ ولید ابن مغیرہ نبی ﷺ کے پاس آیا۔ آپ نے اس کے سامنے قرآن کریم پڑھا۔ اس کا دل نرم ہوگیا۔ یہ بات ابوجہل ابن ہشام کو پہنچی۔ یہ اس کے پاس آیا اور کہا ” تمہاری قوم چاہتی ہے کہ تمہارے مال جمع کرے “۔ اس نے کہا : کس لیے : اس نے کہا کہ یہ مال وہ تمہیں دینا چاہتے ہیں کیونکہ تم محمد کے پاس گئے اور تم پر اس کا اثر ہوگیا ہے۔ (ابوجہل نے اس کی عزت نفس کے احساس سے فائدہ اٹھانا چاہا۔ اسے معلوم تھا کہ یہ ایک غیرت مند شخص ہے) ولید نے کہا قریش کو معلوم ہے کہ میں ان کا مالدار شخص ہوں۔ ابوجہل نے کہا ، لہٰذا تم اس کے بارے میں کوئی ایسی بات کہہ دو تاکہ لوگ سمجھیں کہ تم اس کے اقوال کو ناپسند کرتے ہو اور محمد کی باتوں کے منکر ہو۔ تو ولید نے کہا کہ میں ان کے بارے میں کیا کہوں ،” خدا کی قسم تم میں سے کوئی شخص محمد جیسا ادب اور شعر میں ماہر نہیں ہے۔ میں اشعار کی تمام اقسام سے واقف ہوں ، رجز ، قصیدہ اور اشعار تک جانتا ہوں۔ اس کا کلام ان میں سے کسی کے مماثل نہیں ہے بلکہ اس کے کلام میں ایک مٹھاس ہے ، اس کے سامنے جو آتا ہے ، پاش پاش ہوجاتا ہے۔ اور اس سے جو بلند ہونا چاہے یہ اس سے بلند ہوتا ہے۔ تو ابوجہل نے کہا خدا کی قسم تمہاری قوم ہرگز اس وقت تک تم سے راضی نہ ہوگی جب تک تم اس کے بارے میں کچھ نہ عو۔ تو اس پر اس نے کہا ذرا مجھے سوچنے دو ، جب اس نے سوچا تو اس نے کہا ، یہ کلام ایک ایسا جادو ہے جو اگلے وقتوں سے چلاآرہا ہے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں : ذرنی ........................ وحید (74:11).... علیھا تسعة عشر (74:30) تک۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضور ﷺ کے ساتھ ولید کی ملاقات کے بعد قریش نے کہا کہ اگر ولید بےدین ہوگیا تو تمام قبیلہ قریش بےدین ہوجائے گا۔ تو ابوجہل نے کہا کہ ولید کو میں ٹھیک کردوں گا۔ اس کے بعد ابوجہل ولید کے پاس آیا۔ اور طویل غوروفکر کے بعد اس نے کہا۔” یہ پرانا جادو ہے ، کیا تم نہیں دیکھتے کہ یہ ایک آدمی اور اس کے گھرانے کے درمیان جدائی کردیتا ہے۔ باپ کو بیٹے سے جدا کردیتا ہے اور مالک اور غلام کے درمیان جدائی پیدا کرتا ہے “۔ یہ ہے واقعہ جس طرح روایات میں آتا ہے۔ لیکن قرآن اس کو نہایت ہی زندہ وتابندہ الفاظ میں پیش کرتا ہے۔ انداز نہایت ہی موثر ہے۔ اس طرح آغاز ہوتا ہے ذرنی .................... وحیدا (74:11) ” چھوڑ دو مجھے اور شخص کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا “۔ یہ خطاب نبی ﷺ کو ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ شخص جسے میں نے اکیلا پیدا کیا تھا اور اس وقت اس کے پاس ان چیزوں میں سے کوئی ایک چیز بھی نہ تھی جن پر اہل دنیا فخر کرتے ہیں۔ مال و دولت اور اولاد اور دوسری اشیاء مثلاً معاشرے میں عزت واحترام ، یہ چیزیں میں نے اسے دیں اور اب یہ ان پر اترا کر تحریک اسلامی کے خلاف جنگ کرتا ہے ، سازشیں کرتا ہے ، اس کو میرے ذمہ چھوڑ دو ۔ میں اس سے نمٹ لوں گا۔ اس مقام پر جب انسان قدرے غور کرتا ہے تو کانپ اٹھتا ہے اور یہ سوچتا ہے کہ اس بدبخت کے خلاف علیم وخبیر کی بےپناہ قدرت اور قوت نے کام شروع کردیا ہے۔ اللہ جبار وقہاری کی قوت ہے۔ یہ قوت اس حقیر وناتواں کو تو پیس کر رکھ دے گی اور اس کا کیا حال ہوگا۔ اس آیت نے اس شخص کے خدوخال ذرا نہایت ہی طوالت سے بیان کیے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کی وہ تفصیلات بھی دی ہیں ، جو اللہ نے اس شخص کو دی تھیں۔ یہ تفصیلات اس کے اعراض اور اس کی سازشوں کے ذکر سے بھی پہلے دی گئی ہیں کہ میں نے اسے اکیلا پیدا کیا ، اس کے پاس کچھ بھی نہ تھا ، یہاں تک کہ بدن پر کپڑے بھی نہ تھے۔ اس کے بعد اللہ نے اسے بہت وسیع دولت دی۔ اور اس کو ڈھیر سے بیٹے دیئے جو اس کے ارد گرد ہر وقت موجود رہتے تھے۔ اور ان کی وجہ سے وہ نہایت ہی معزز سمجھا جاتا تھا۔ اور اللہ نے اس کے لئے زندگی کا ہر سامان فراہم کیا اور ہر موڑ کو آسان کیا۔
Ayah 74:15

ثُمَّ یَطْمَعُ اَنْ اَزِیْدَۗۙ Open ayah 74:15 in the Quran reader

پھر وہ طمع رکھتا ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں۔

ثم یطمع ان ازید (74:15) ” پھر وہ طمع رکھتا ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں “۔ یعنی موجود دولت پر قانع نہیں ہے۔ مزید بھی چاہتا ہے لیکن نہ قناعت کرتا ہے ، اور نہ شکر بجا لاتا ہے۔ یا وہ یہ طمع کرتا ہے کہ اس پر بھی وحی نازل ہو اور اسے کتاب دی جائے جس طرح سورت کے آخر میں آتا ہے۔ بل یرید .................... منشرة (74:52) ” بلکہ ان میں سے تو ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ اس کے نام کھلے خط بھیجے جائیں “۔ یہ شخص ان لوگوں میں سے تھا جو حضرت محمد ﷺ سے حسد کرتا تھے کہ آپ کیوں نبی ہوگئے۔
Ayah 74:16

كَلَّا١ؕ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰیٰتِنَا عَنِیْدًاؕ Open ayah 74:16 in the Quran reader

ہرگز نہیں ، وہ ہماری آیات سے عناد رکھتا ہے۔

یہاں اس کی سرزنش کی جاتی ہے اور اس پر سخت عتاب آتا ہے۔ انہ کان ................ عنیدا (74:12) ” وہ ہماری آیات سے عناد رکھتا تھا “۔ اس نے عناد کی وجہ سے حق کے دلائل کو رد کردیا اور ان اشارات کو قبول نہ کیا جو ایمان کی طرف جاتے تھے۔ یہ دعوت اسلامی کے مقابلے میں آکھڑا ہوا۔ رسول اللہ سے جنگ شروع کردی ، لوگوں کو اسلام سے روکا اور اس کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کیا۔ اس کے بعد ، اس سخت ترین سرزنش کے بعد اب اسے دھمکی دی جاتی ہے ، جس کی وجہ سے اب اس کو حاصل سہولیات مشکلات میں بدل جاتی ہیں۔ اور آسانیوں کی جگہ دشواریاں لیتی ہیں۔
Ayah 74:17

سَاُرْهِقُهٗ صَعُوْدًاؕ Open ayah 74:17 in the Quran reader

میں تو اسے عنقریب ایک کٹھن چڑھائی چڑھواﺅں گا۔

سارھقہ صعودا (74:17) ” عنقریب ایک کٹھن چڑھائی چڑھواﺅں گا “۔ مشقت اور دشواری کی یہ بہترین تمثیل وتصویر ہے۔ چڑھائی چڑھنا نہایت مشقت کا عمل ہوتا ہے اور انسان کے لئے سانس لینا دشوار ہوجاتا ہے۔ اور اگر یہ کام کسی سے زبردستی لیا جائے اور چڑھنے والے کی کوئی ذاتی دلچسپی نہ ہو تو یہ عمل پھر مزید دشوار ہوجاتا ہے۔ یہ تمثیل اور تصویر ایک حقیقی تعبیر بھی ہے۔ کیونکہ جو شخص ایمان کے سیدھے ، ہموار اور خوشگکوار راہ سے منحرف ہوجاتا ہے تو اسے انحراف کی راہ میں مشکلات پیش آتی۔ بیشمار ناہمواریاں اور مشکلات ایسے شخص کی زندگی قلق اور بےچینی میں گزرتی ہے۔ وہ ہمیشہ حیران وپریشان رہتا ہے ، گویا اسے زبردست آسمان پر اور سولی پر چڑھایا جارہا ہو ، اس کی زندگی میں نہ تروتازگی ہوتی ہے ، نہ راحت ، نہ خوشی ، اور نہ سکون اور نہ یہ امید کہ اس پر مشقت سفر کے نتیجے میں وہ منزل مقصود تک پہنچ جائے گا۔ اب اس شخص کی ذہنی کیفیت اور اندرونی نفسیات کی وہ بھدی تصویر کھینچی جاتی ہے جس میں ہر شخص خود اپنے تاثرات اور احساسات کی تکذیب کرتا ہے۔ یہ اپنے اعصاب پر دباﺅ ڈالتا ہے ، ماتھے پر شکن آتی ہے اور منہ بناتا ہے۔ اور یہ تمام ذہنی اور فکری زور اس بات کے لئے لگاتا ہے کہ قرآن اور صاحب قرآن کے اندر کوئی عیب نکال لائے۔
Ayah 74:18

اِنَّهٗ فَكَّرَ وَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:18 in the Quran reader

اس نے سوچا اور کچھ بات بنانے کی کوشش کی

انہ فکر .................... البشر (74:18 تا 25) ” اس نے سوچا اور کچھ بات بنانے کی کوشش کی تو خدا کی مار اس پر ، کیسی بات بنانے کی کوشش کی۔ ہاں ، خدا کی مار اس پر ، کیسی بات بنانے کی کوشش کی۔ پھر (لوگوں کی طرف) دیکھا۔ پھر پیشانی سیکڑی اور منہ بنایا۔ پھر پلٹا اور تکبر میں پڑگیا۔ آخر کار بولا کہ یہ کچھ نہیں ہے مگر ایک جادو جو پہلے سے چلاآرہا ہے ، یہ تو ایک انسانی کلام ہے “۔ انداز تعبیر ایسا ہے کہ ایک ایک لمحے ، ایک ایک سوچ اور ایک ایک حرکت کی تصویر کشی کی جارہی ہے۔ گویا ایک ماہر عکاس کی قلم ہے جو تصویر بناتی جاتی ہے ، الفاظ نہیں بلکہ رنگ بھرے جارہے ہیں۔ نہیں گویا ایک ریل چل رہی ہے اور ایک ایک منظر نظروں کے سامنے آرہا ہے۔ جو لمحہ بہ لمحہ بدل رہا ہے۔ ایک تصویر میں یوں نظرآتا ہے کہ ہر شخص سخت غور وفکر میں ڈوبا ہوا ہے۔ اس منظر میں اسے ایک بددعا بھی دی جاتی ہے۔
Ayah 74:19

فَقُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:19 in the Quran reader

تو خدا کی مار اس پر ، کیسی بات بنانے کی کوشش کی۔

فقتل (74:19) ” یہ مارا جائے “ پھر ایک شدید استہزاء ہے۔ کیف قدر (74:19) ” کیسی بات بنانے کی کوشش کی اس نے “۔ اس کے بعد دوبارہ بددعا دی جاتی۔
Ayahs 74:20–24

ثُمَّ قُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:20 in the Quran reader

ہاں ، خدا کی مار اس پر ، کیسی بات بنانے کی کوشش کی۔

ثُمَّ نَظَرَۙ Open ayah 74:21 in the Quran reader

پھر (لوگوں کی طرف) دیکھا۔

ثُمَّ عَبَسَ وَ بَسَرَۙ Open ayah 74:22 in the Quran reader

پھر پیشانی سیکڑی اور منہ بنایا۔

ثُمَّ اَدْبَرَ وَ اسْتَكْبَرَۙ Open ayah 74:23 in the Quran reader

پھر پلٹا اور تکبر میں پڑگیا۔

فَقَالَ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ یُّؤْثَرُۙ Open ayah 74:24 in the Quran reader

آخر کار بولا کہ یہ کچھ نہیں ہے مگر ایک جادو جو پہلے سے چلاآرہا ہے ،

ثم قتل ........ قدر (74:20) ” پھر خدا کی مار اس پر ، کیسی بات بنانے کی کوشش کی “۔ پھر اگلی تصویر میں وہ ، ادھر ادھر دیکھتا ہے ، منہ بناتا ہے ، پیشانی سیکڑتا ہے اور مضحکہ خیر صورت بناتا ہے۔ جس کے اندر نہایت درجہ مصنوعیت ہے۔ اس کی یہ تمام بناوٹ اور سوچ اسے کوئی معقول نتیجہ نہیں دیتی۔ پس وہ مجبور ہوجاتا ہے کہ روز روشن کو رات کہے اور حق کو باطل کہے۔
Ayah 74:25

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِؕ Open ayah 74:25 in the Quran reader

یہ تو ایک انسانی کلام ہے۔

ان ھذا ........................ البشر (74:25) ” یہ کچھ نہیں مگر ایک جادو جو پہلے سے چلاآرہا ہے ، یہ تو ایک انسانی کلام ہے “۔ یہ زندہ لمحات ہیں جن کو قرآن مجید الفاظ کی شکل دیتا ہے۔ یہ اس قدر قومی اور واضح تخیل دیتے ہیں کہ تصویر سے زیادہ واضح ہے ، اور متحرک قلم سے زیادہ اثر انگیز اور سحر آفریں ہے۔ جس شخص کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ اسے قیامت تک اضحوکہ اور قابل نفرت اور نہایت ہی بدنما تصویر دے دی جاتی ہے۔ جسے نسلوں تک لوگوں نے دیکھا پڑھا اور دیکھیں گے اور پڑھیں گے۔ اس تصویر کشی کے بعد اب اس شخص کو ایک خوفناک دھمکی دی جاتی ہے۔
Ayahs 74:26–28

سَاُصْلِیْهِ سَقَرَ Open ayah 74:26 in the Quran reader

عنقریب میں اسے دوزخ میں جھونک دوں گا

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُؕ Open ayah 74:27 in the Quran reader

اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دوزخ ؟

لَا تُبْقِیْ وَ لَا تَذَرُۚ Open ayah 74:28 in the Quran reader

نہ باقی رکھے نہ چھوڑے۔

ساصلیہ سقر (74:26) ” اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دوزخ ؟ “ یہ بہت ہی خوفناک چیز ہے۔ ہماری قوت مدرکہ سے وراء ہے۔ اور اس اجمال اور عدم علم کے بعد دوزخ کی بعض شدید خصوصیات بتائی جاتی ہیں۔ لا تبقی ولا تذر (74:27) ” نہ باقی رکھے اور نہ چھوڑے “۔ جھاڑو دے کر سب کچھ نکل جانے والی ہے اور سب کچھ مٹا دینے والی ہے۔ کوئی چیز بھی اس کے سامنے کھڑے نہیں رہ سکتی۔ اور نہ اس سے کوئی چیزرہتی ہے۔ اور نہ اس سے کوئی چیز زیادہ ہوتی ہے ، وہ سب کچھ فنا کردیتی ہے۔ اب انسان کے ساتھ اس کا سلوک کیا ہے۔
Ayah 74:29

لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِۚۖ Open ayah 74:29 in the Quran reader

کھال جھلس دینے والی۔

لواحہ للبشر (29:74) ” کھال جھلس دینے والی ہے “۔ جس طرح سورة معارج میں کہا گیا۔ تدعوا ................ وتولی (70:17) ” یہ ہر اس شخص کو بلاتی ہے جو پیٹھ پھیر کر جائے اور منہ موڑے “۔ وہ سب کو اپنی طرف بلانے والی ہے اور اس کا منظر بہت ہی خوفناک ہے .... پھر اس کے اوپر چوکیدار اور نگران کھڑے ہیں :
Ayah 74:30

عَلَیْهَا تِسْعَةَ عَشَرَؕ Open ayah 74:30 in the Quran reader

انیس کارکن اس پر مقرر ہیں “۔

علیھا ............ عشر (74:30) ” اس کے اوپر انیس کارکن مقرر ہیں “۔ یہ نگران ملائکہ ہیں۔ جو نہایت ہی شدید القوت ہیں یا ملائکہ کی صفت کی کوئی اور مخلوق ہے۔ یا ملائکہ کی ایک نوع ہے۔ بہرحال ، اللہ نے یہ بتایا کہ انیس ہیں۔ ہمارا اس پر ایمان ہے۔ جہاں تک اہل ایمان کا تعلق ہے وہ چونکہ ذات باری تعالیٰ پر پختہ یقین رکھتے تھے تو انہوں نے کلام الٰہی سنتے ہی یقین کرلیا۔ اور ایسا رویہ اختیار کیا جس طرح بندے کو رب تعالیٰ کے ساتھ اختیار کرنا چاہئے۔ اس لئے انہوں نے کوئی شک نہ کیا۔ رہے مشرک تو انہوں نے فرشتوں کی اس تعداد کو ایک فتنہ بنا دیا۔ کیونکہ ان کے دل ایمان سے خالی تھے۔ ان کے دلوں میں ذات باری تعالیٰ کا مناسب احترام نہ تھا۔ وہ اس عظیم معاملے میں سنجیدہ ہی نہ تھے۔ اس لئے یہ سنتے ہی وہ طنز ومذاب کرنے لگے اور انہوں نے اسے عجیب شے سمجھ کر مذاق شروع کردیا۔ بعض نے کہا کیا تم میں سے دس آدمی ان انیس میں سے ایک کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ بعض نے کہا صرف دو کا مقابلہ تم کرلو باقی کو میرے ذمہ چھوڑ دو ۔ میں ان کا بندوبست کرلوں گا۔ اس قسم کی اندھی ، تنگ نظر اور ہٹ دھرم روح کے ساتھ انہوں نے اس کتاب عظیم کو لیا۔ آنے والی آیات اس بارے میں نازل ہوئیں۔ ان میں اس بات کی تشریح کی گئی ہے کہ اللہ کے غیب کے خفیہ خزانوں میں سے ایک نکتے کا علم کیوں ظاہر کیا گیا۔ اور یہ کہ انیس کی تعداد کیوں مقرر کی گئی ہے اور اس معاملے کو اللہ کے علم غیب کی طرف موڑ دیا جاتا ہے۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ جہنم اور اس کے فرشتوں اور کارکنوں کی تعداد کے ذکر سے کیا مطلوب اور مقصود ہے۔
Ayah 74:31

وَ مَا جَعَلْنَاۤ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓئِكَةً١۪ وَّ مَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۙ لِیَسْتَیْقِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ یَزْدَادَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِیْمَانًا وَّ لَا یَرْتَابَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ۙ وَ لِیَقُوْلَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْكٰفِرُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ مَا هِیَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْبَشَرِ۠ Open ayah 74:31 in the Quran reader

ہم نے دوزخ کے یہ کارکن فرشتے بنائے ہیں ، اور ان کی تعداد کو کافروں کے لئے فتنہ بنادیا ہے ، تاکہ اہل کتاب کو یقین آجائے اور ایمان لانے والوں کا ایمان بڑھے ، اور اہل کتاب اور مومنین کسی شک میں نہ رہیں ، اور دل کے بیمار اور کفار یہ کہیں کہ بھلا اللہ کا اس عجیب بات سے کیا مطلب ہوسکتا ہے۔ اس طرح اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ، ہدایت بخش دیتا ہے اور تیرے رب کے لشکروں کو خود اس کے سوا کوئی نہیں جانتا…. اور اس دوزخ کا ذکر اس کے سوا کسی غرض کے لئے نہیں کیا گیا ہے کہ لوگوں کو اس سے نصیحت ہو “۔

آیت کا آغاز اس سے ہوتا ہے کہ یہ فرشتے انیس ہیں اور مشرکین اس تعداد میں شک کرتے ہیں۔ وما جعلنا ............................ ملئکة (74:31) ” ہم نے دوزخ کے یہ کارکن فرشتے بنائے ہیں “۔ تو یہ کارکن ان فرشتوں میں سے ہیں جو نہایت ہی قدرت والے ہیں اور ان کی طبیعت اور مزاج کو اللہ ہی جانتا ہے۔ یہ نہایت ہی قوی ہیں اور ان کے بارے اللہ نے فرمایا ہے۔ لا یعصون .................... یومرون ” وہ ان احکام کی خلاف ورزی نہیں کرتے اور ان کو جو کچھ حکم دیا جاتا ہے وہ اسے کر گزرتے ہیں “۔ یعنی وہ اللہ کے احکامات کی پیروی کرتے ہیں۔ اور ان کے اندر اس بات کی طاقت ہے کہ اللہ جو حکم دے وہ اس کی تعمیل کریں ۔ اللہ نے ان کو ایسی قوت دے رکھی ہے کہ وہ ان کو جو حکم دے ، اس کی تعمیل وہ فوراً کردیں۔ اگر اللہ نے ان کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ آگ کے اندر اللہ کے احکام کی تعمیل کریں تو اللہ نے ان کو قدرت دی ہے کہ وہ ایسے حالات میں کام کرسکیں۔ جس طرح اللہ نے ان کو سکھایا۔ لہٰذا ان فرشتوں کے ساتھ یہ بیچارے کب پنجہ آزمائی کرسکتے ہیں ، ان لوگوں نے جو یہ کہا کہ ان فرشتوں کو وہ قابو کرلیں گے تو یہ محض جہالت کی وجہ سے کہا ، ان لوگوں کو دراصل اللہ کی قوتوں اور اللہ کی فوجوں کی طات کا کوئی پتہ ہی نہیں۔ اور یہ معلوم ہی نہیں کہ اپنے معاملات کو کس طرح چلاتا ہے۔ وما جعلنا ................ کفروا (74:31) ” اور ہم نے ان کی تعداد کو کافروں کے لئے فتنہ بنادیا ہے “۔ یہ کافر دراصل ان فرشتوں کی تعداد پر تعجب کا اظہار کرتے ہیں۔ ان لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ وہ مقامات کیا ہیں جہاں تسلیم کے بغیر بات نہیں بنتی اور وہ مقامات کیا ہیں جہاں جدل وجدال اور بحث ومباحثے کی گنجائش ہوتی ہے۔ یہ معاملہ غسیلت کا ہے۔ اور اس میں تسلیم ورضا کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ کیونکہ ان غیبی شعبوں اور موضوعات پر انسان کے پاس نہ قلیل علم ہے اور نہ کثیر علم ہے۔ جب الہل نے اپنے نبی کے ذریعہ یہ اطلاع کردی اور نبی سچا ہے اور اللہ سچا ہے تو پھر بحث و مباحثہ کی گنجائش نہیں رہتی۔ انسان کا مقام یہ ہے کہ بس نبی کی بات تسلیم کرے اور یہ اطمینان رکھے کہ جس قدر خبر اللہ نے بتا دی اسی قدر بتانے میں خیر ہے اور اس میں مباحثے کی کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ انسان مناقشہ اس موضوع پر کرسکتا ہے جس کے بارے میں اس کے پاس کوئی سابقہ علم ہو اور جدید علم کے بارے میں وہ اعتراض کرتا ہو۔ تو فرشتوں کی تعداد کے بارے میں انسان کے پاس سرے سے کوئی سابقہ علم ہی نہیں ہے اور یہ کہ ” وہ “ انیس ہیں تو اس کا علم اللہ ہی کو ہے کہ وہ کیا ہیں اور انیس کیوں ہیں ؟ تو اعتراض کرنے والے بیس پر بھی اعتراض کرسکتے ہیں۔ آخر آسمان سات کیوں بنائے ہیں ، اس پر بھی اعتراض ہوسکتا ہے اور انسان کو موجودہ شکل میں کیوں بنایا اور سوکھی مٹی سے کیوں بنایا اور جنوں کو آگ کے شعلہ سے کیوں بنایا ؟ اور انسان کیوں ماں کے پیٹ میں 9 ماہ رہتا ہے اور کچھوے کیوں ہزار ہا سال زندہ رہتے ہیں اور یہ کیوں ؟ اور یہ کیوں ؟ جواب صرف یہی ہے کہ یہ اللہ کی مرضی ہے اور یہی حقیقی جواب ہے ایسے معاملات کا۔ لیستیقن ............................ والمومنون (74:31) ” تاکہ اہل کتاب کو یقین آجائے اور ایمان لانے والوں کا ایمان بڑھے ، اور اہل کتاب اور مومنین کسی شک میں نہ رہیں “۔ اور یہ دونوں فریق دوزخ کے نگرانوں کی تعداد میں یقین کا مواد پائیں گے اور اہل ایمان کا تو ایمان زیادہ ہوگا۔ رہے اہل کتاب ، تو ان کے پاس اس سلسلے میں کوئی نہ کوئی علم ضرور ہوگا۔ اور جب وہ سنیں گے کہ قرآن کریم بھی اس بات کی تصدیق کررہا ہے تو وہ بات درست ہے کیونکہ قرآن کریم کتب سابقہ کی تصدیق کرنے والا ہے۔ رہے اہل ایمان ، تو ان کا ایمان تو ہر نئی آیت کے بعد زیادہ ہی ہوتا ہے۔ کیونکہ ان کے دل کھلے ہیں اور عالم بالا سے ان کا بذریعہ رسول ہر وقت رابطہ رہتا ہے۔ اور جو حقائق بھی وارد ہوتے ان کے ایمان میں اضافے کا موجب بنتے ہیں۔ ان کے دلوں میں عنقریب یہ حکمت بیٹھ جائے گی کہ کیوں اللہ نے انیس فرشتے مقرر کیے ہیں ، کیونکہ اللہ کے نظام تخلیق وتدبیر میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہوتی ہے اور ان دونوں کے ذہن میں جب یہ حقیقت بیٹھ جائے گی تو یہ دونوں فریق شک نہ کریں گے کیونکہ یہ بات اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔ ولیقول ............ مثلا (74:31) ” اور دل کے بیمار اور کفار یہ کہیں کہ بھلا اللہ کا اس عجیب بات سے کیا مطلب ہوسکتا ہے “۔ یوں اس ایک ہی حقیقت کا اثر مختلف دلوں میں مختلف ہوتا ہے ، جن لوگوں کو کتاب دی گئی ہے وہ یقین کرتے ہیں اور جو مومن ہیں ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور جن لوگوں کے دل میں بیماری ہے اور جو ضعیف الایمان اور منافق ہیں وہ حسرت واستعجاب میں پوچھتے ہیں : ماذارا ............ مثلا (74:31) ” اللہ کا اس بات سے مطلب کیا ہے ؟ “۔ کیونکہ اس تعداد کی حکمت وہ نہیں سمجھتے۔ اور نہ وہ اصولاً اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ خالق کائنات کی تمام باتوں میں کوئی نہ کوئی حکمت ہوتی ہے۔ وہ خدا اور رسول اللہ ﷺ کی خبروں کی تصدیق پیش کرتے ہیں اور نہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ اللہ کے ہر کام میں خیر اور حکمت پوشیدہ ہوتی ہے۔ کذلک .................... من یساء (74:31) ” اس طرح اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ، ہدایت بخش دیتا ہے “۔” اسی طرح “ یعنی حقائق کے بیان کے ذریعہ اور آیات قرآنیہ کے بیان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مختلف دلوں کو مختلف انداز میں متاثر کرتا ہے۔ ایک گروہ اللہ کی مشیت کے مطابق ان سے ہدایت لیتا ہے اور دوسرا گروہ اللہ کے نظام مشیت کے تحت گمراہ ہوتا ہے۔ کیونکہ ہر امر کا آخری سبب اللہ کا ارادہ مطلقہ ہوتا ہے۔ ان انسانوں کو قدرت الٰہیہ نے دونوں طرز کی صلاحتیں دی ہیں۔ ان کے اندر ہدایت کی صلاحیت بھی ہے اور گمراہی کی صلاحیت بھی ہے۔ اور یہ صلاحیت اللہ کے نظام مشیت کے اندر ہے۔ پس جو گمراہ ہو ، وہ بھی مشیت کے اندر ہے اور جو ہدایت پائے وہ بھی اس دائرے کے اندر ہے ، کیونکہ ان کی تخلیق کے اندر دونوں قسم کی صلاحیتیں رکھ دی گئی ہیں۔ دونوں راستے ان کے لئے آسان کردیئے گئے ہیں ، جو کوئی جس راستہ کو اختیار کرتا ہے ، اللہ کے دائرہ مشیت کے اندر ہی ہوتا ہے اور یہ دائرہ اللہ کی گہری حکمت پر مبنی ہے۔ یہ تصور کہ اللہ کی مشیت مطلق اور بےقید ہے اور اس کائنات میں جو امر واقع ہوتا ہے وہ اس مشیت کے دائرہ کے اندر ہوتا ہے۔ یہ ایک وسیع تصور ہے اور یہ متکلمین کی ان محدود بحثوں سے وسیع تر ہے جو وہ انسان کی جبریت اور اختیار کے بارے میں کرتے رہے ہیں۔ یہ ایک ایسی بحث ہے جس کا کسی فیصلہ کن انجام تک پہنچنا ہی ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ جبرواختیار کی مباحث نہایت ہی تنگ زاویہ سے کی جاتی ہیں۔ یہ بحثیں انسان کی محدود سوچ ، محدود طرز استدلال کے انداز میں اور انسان کے محدود تصورات کے اندر کی جاتی ہیں جبکہ اللہ کے نظام مشیت کا تعلق اللہ کی غیر محدود الوہیت کے نظام سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ہدایت اور ضلالت کا راستہ بتا دیا اور وہ منہاج بھی بتادیا جس پر چل کر ہم سعادت اور کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ اور وہ طریقے بھی بتادیئے جن کے ذریعہ انسان گمراہ ہوتے ہیں اور برے انجام تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ نے ہمیں مکلف نہیں بنایا کہ اس سے زیادہ بھی ہم جان لیں ، نہ اللہ نے اس سے زیادہ ہمیں قدرت اور طاقت دی ہے۔ اللہ کا کہنا یہ ہے کہ میرا ارادہ بےقید ہے اور میں جو کچھ چاہتا ہوں وہی ہوتا ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنے فہم اور ادراک کے مطابق اللہ کی بےقید مشیت اور ارادہ مطلق کو سمجھنا چاہئے اور اس کے مطابق چلنا چاہئے۔ ہمیں اس منہاج پر چلنا چاہئے جس کے نتیجے میں ہدایت ملتی ہے اور اس منہاج سے بچنا چاہئے جس سے ہم گمراہ ہوتے ہیں اور ان سائل پر ہمیں فضول اور لاحاصل بحث نہیں کرنا چاہئے جن تک انسانی قوائے مدرکہ کی رسائی ممکن ہی نہیں ہے۔ اس اصول کے مطابق متکلمین مسئلہ قدرواختیار کے موضوعات پر جو مباحث کیے ہیں وہ لا حاصل ہیں۔ ہم اس حقیقت تک نہیں پہنچ سکتے کہ اللہ کی مشیت ہمارے بارے میں کیا کرتی ہے۔ البتہ ہم اس حقیقت کو پاسکتے ہیں کہ انسان اللہ کے فضل وکرم کے مستحق کس طرح ہوتے ہیں لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی قوتیں ان کاموں میں صرف کریں جن کا ہمیں مکلف بنایا گیا ہے اور اللہ کے پوشیدہ اور مشتبہ امور کو اللہ پر چھوڑدیں۔ جب اللہ کی مشیت ظاہر ہوجاتی ہے تو ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ اللہ کی مشیت تھی اور ایسا ہوگیا۔ مشیت کے ظہور سے قبل ہم سمجھ ہی نہیں سکتے۔ ہر مشیت کے پیچھے ایک حکمت پوشیدہ ہوتی ہے اور یہ حکمت بھی اللہ جانتا ہے ، صرف اللہ وحدہ۔ یہ تو ہے ایک سچے مومن کا طریقہ کار۔ وما یعلم ................ الا ھو (47 : 13) ” اور تیرے رب کے لشکروں کو خود اس کے سوا کوئی نہیں جانتا “۔ اس لئے اللہ کی افواج ، ان کی حقیقت ان کے وظائف اور ان کی قوت کا ہمیں علم نہیں ہے ، کیونکہ یہ اللہ کے غیبی امور میں سے ہیں۔ یہ اللہ کی مرضی ہے کہ وہ ان امور میں سے کسی چیز کا انکشاف کردے۔ اور اللہ جو بات کردے وہ فیصلہ کن اور اٹل ہوتی ہے۔ اللہ کے قول کے بعد کوئی مجادلہ نہیں کرسکتا ، کسی کو کوئی بات کرنے کی اجازت نہیں ہے اور نہ کسی بات کے معلوم کرنے کی اجازت ہے۔ کیونکہ یہ کام کوئی کر ہی نہیں سکتا۔ وماھی ................ للبشر (74:31) ” اور اس دوزخ کا ذکر اس کے سوا کسی غرض کے لئے نہیں کیا گیا ہے کہ لوگوں کو اس سے نصیحت ہو “۔ ھی کی ضمیر یا تو اللہ کے ” جنود “ کی طرف راجح ہے یا جہنم کی طرف۔ اور اس پر جو فرشتے ہیں ان کی طرف۔ اور یہ بھی اللہ کی افواج میں سے ہیں۔ اور ان کا ذکر لوگوں کو متنبہ کرنے اور ڈرانے کے لئے کیا گیا ہے۔ محض جدل وجدال کے لئے نہیں۔ اللہ کے کلام سے صرف اہل ایمان ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں ، رہے گمراہ دل ، تو وہ ان چیزوں کو محض جدل وجدال کا ذریعہ بناتے ہیں۔ اس غیبی حقیقت کی وضاحت اور ہدایت لینے اور گمراہ ہونے کے طریقے اور اسباب بتانے کے بعد اب حقیقت آخرت حقیقت جہنم اور رب تعالیٰ کی خفیہ قوتوں کو اس کائنات کے ظاہری مشاہد اور نشانیوں کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ ان ظاہری نشانیوں کو تو انسان دیکھتے ہوئے بھی غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہیں جبکہ غیبی حقائق معلوم کرنے کے لئے تیر تکے چلاتے ہیں ، حالانکہ ان ظاہری امور اور نشانات سے اللہ کے ارادے اور قوتیں اچھی طرح ظاہر ہوتی ہیں اور ان ظاہری نشانات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پیچھے بڑا مقصد اور ایک طاقتور ارادہ ہے۔
Ayahs 74:32–34

كَلَّا وَ الْقَمَرِۙ Open ayah 74:32 in the Quran reader

ہرگز نہیں ، قسم ہے چاند کی ،

وَ الَّیْلِ اِذْ اَدْبَرَۙ Open ayah 74:33 in the Quran reader

اور ات کی جبکہ وہ پلٹتی ہے ،

وَ الصُّبْحِ اِذَاۤ اَسْفَرَۙ Open ayah 74:34 in the Quran reader

اور صبح کی جبکہ وہ روشن ہوتی ہے ،

چاند کے مناظر ، رات کے مناظر جب وہ ختم ہوتی ہے اور صبح نمودار ہوتی ہے ، یہ زبردست مشاہد اور مناظر ہوتے ہی۔ یہ آنکھیں کھول دینے والے مناظر ہیں اور انسانی دل و دماغ پر ان کے بیشمار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اور انسان ان پر اگر غور کرے تو اس پر کئی راز کھلتے ہیں اور انسانی دل و دماغ پر ان کے بیشمار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اور اس ان ان پر اگر غور کرے تو اس پر کئی راز کھلتے ہیں۔ کئی گہرے تصورات انسان کے پردہ خیال پر آتے ہیں اور اسے پختہ شعور ملتا ہے۔ قرآن کریم انسان کو ان مظاہر کی طرف متوجہ کرکے انسان کے دل میں ان تصورات کو بٹھاتا ہے۔ اور ان احساسات کو اچھی طرح جانتا ہے۔ جب چاند طلوع ہوتا ہے ، فضائے کائنات میں چلتا ہے اور پھر غائب ہوجاتا ہے۔ اگر انسان اس پر غور کرے تو وہ انسان کے کان میں اس کائنات کے کچھ نہ کچھ راز ضرور ڈال دیتا ہے اور بعض اوقات تو چاند کی روشنی میں کھڑے ہوکر غوروفکر کرنے سے انسان پر یہ اثر ہوتا ہے کہ گویا اس نے نور کا غسل کرلیا ہے۔ اور رات کے جانے کا منظر بھی عجیب ہوتا ہے ، صبح کی نموداری کے وقت اور سورج کے طلوع سے پہلے کے ان پر سکون لمحات میں ، اگر انسان چشم بینا سے دیکھے تو اس کو نظر آتا ہے کہ ایک شعوری ارادہ اور دست قدرت کا ایک صورت حال کو ہٹا کر دوسری حالت کو بڑھا دیا ہے۔ اس منظر میں جس طرح دنیا آہستہ آہستہ منور ہوتی ہے ، قلب بینا بھی منور ہوتا چلا جاتا ہے۔ غرض صرف چشم بینا کی ضرورت ہے اور احساس و شعور کی۔ اللہ تعالیٰ انسان قلب ونظر کا خالق ہے اور وہ جانتا ہے کہ یہ مناظر انسانی احساسات پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔ اور بعض اوقات تو یہ اثرات اس قدر گہرے ہوتے ہیں کہ انسان یہ سمجھتا کہ وہ از سر نو پیدا کردیا گیا ہے اور پہلی مرتبہ یہ دیکھ رہا ہے۔ اور ان موثرات ، اشراقات اور تاثرات کے استقبال کے پیچھے ، شمس وقمر اور لیل ونہار اور نموداری صبح میں ایک دوسری عظیم حقیقت بھی پوشیدہ ہے جس کی طرف قرآن انسان کو متوجہ کررہا ہے۔ انسانی قلب ونظر کو آمادہ کررہا ہے کہ وہ اس حقیقت کا ادراک کرے کہ ان مظاہر میں اللہ کی قدرت تخلیق ، اللہ کی حکمت تدبیر اور اس کائنات کے زبردست نظم ونسق کے نشانات ہیں اور یہ کہ یہ کائنات اس قدر دقیق اور پیچیدہ نظم کے ساتھ چل رہی ہے کہ اسے دیکھ کر انسانی عقل حیرت زدہ ہوجاتی ہے۔ ان عظیم کائناتی حقائق کے ساتھ قسم اٹھا کر اللہ تعالیٰ غفلت میں ڈوبے ہئے لوگوں کو جگاتا ہے کہ اللہ کی عظیم قدروں کو ذرا سمجھنے کی کوشش کرو ، اور ان کے اندر جو آثار ونشانات ہیں ان سے عبرت لو۔ یہ کہ جہنم اور اس کے اوپر متعین افواج الٰہیہ اور آخرت اور اس کی ہولناکیاں دراصل ان عظیم امور میں سے ہیں جو عجیب بھی ہیں اور خوفناک بھی ہیں اور یہ واقعات نہایت ہی پر خطر ہیں۔ انہیں سنجیدگی سے لو۔
Ayahs 74:35–36

اِنَّهَا لَاِحْدَى الْكُبَرِۙ Open ayah 74:35 in the Quran reader

یہ دوزخ بھی بڑی چیزوں میں سے ایک ہے ،

نَذِیْرًا لِّلْبَشَرِۙ Open ayah 74:36 in the Quran reader

انسانوں کے لئے ڈراوا “۔

انھا ........ الکبر (35) نذیر للبشر (74:36) ” یہ دوزخ بھی بڑی چیزوں میں سے ایک ہے ، انسانوں کے لئے ڈراوا “۔ یہ قسم اور اس کے مشمولات اور وہ بات جس پر اس انداز میں قسم اٹھائی جارہی ہے۔ یہ سب باتیں انسانی قلب ونظر کو جھنجھوڑنے والی ہیں اور انسان کو بڑی شدت سے جھٹکے دینے والی ہیں اور یہ بات اپنے مضمون اور صوتی ہم آہنگی کے اعتبار سے ، صور میں پھونکے جانے (القرفی الناقور) کے نیز سورت کے آغاز میں مدثر کے نام سے پکارنے اور نہایت ہی سخت حکم بلکہ کاشن۔ قم فانذر (74:2) کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ گویا حالات خطرناک ہیں ، فضا پر خوف طاری ہے اور ہنگامی حالت کا ہائے وہوبرپا ہے۔ اب ان شدید جھٹکوں اور تنبیہات اور نہایت ہی اگر انگیز نداﺅں کی روشنی میں یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ ہر نفس اپنے کیے کا حق دار اور ذمہ دار ہے۔ لہٰذا ہر شخص کو چاہیے کہ جو راہ وہ اختیار کرتا ہے ، پوری پوری ذمہ داری کے ساتھ اختیار کرے۔ یہ کہ ہر نفس خود مختار ہے اور وہ اپنے لئے جو انجام چاہے اختیار کرلے۔ وہ اپنے اعمال اور کسب کا ذمہ دار ہے۔ ہر شخص اپنے حق کا حقدار ہوگا اور اپنے گناہوں کا بوجھ خود اٹھائے گا۔
Ayahs 74:37–38

لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّتَقَدَّمَ اَوْ یَتَاَخَّرَؕ Open ayah 74:37 in the Quran reader

تم میں سے ہر اس شخص کے لئے ڈراوا جو آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے رہ جانا چاہے۔

كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ رَهِیْنَةٌۙ Open ayah 74:38 in the Quran reader

ہر شخص اپنے کسب کے بدلے رہن ہے۔

ہر شخص اپنے نفس کا ذمہ دار ہے ، جس حالت میں اسے چاہے ، رکھ دے ، جو بوجھ چاہے اٹھالے ، جو قدم چاہے اٹھائے۔ اچھائی کی طرف آگے بڑھے ، یا پیچھے رہ جائے۔ اپنے آپ کو عزت دے یا ذلیل کرے۔ ہر نفس اپنی کمائی کے ہاتھ رہن ہے اور اپنے اعمال کے ہاں قید ہے۔ اللہ نے ہر شخص کو راہ ہدایت بھی بتادی ہے اور راہ ضلالت بھی دکھا دی ہے اور اس کائنات کے ان مناظر کی روشنی میں اور جہنم کی منظر کشی کے بعد وہ ہر اس چیز کو فنا کردینے والی ہے ، جو اس کے دائرے کے اندر آجائے۔ اس منظر کے بعد کہ ہر نفس اپنے کیے کا ذمہ دار ہے اور جو کچھ اس نے کیا اس کا مرہون ہے۔ یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اصحاب الیمین ان جکڑ بندیوں اور ان پابندیوں سے آزاد ہوں گے اور وہ حساب و کتاب کے بعد رہائی پالیں گے۔ اور اس کامیابی کے بعد اب وہ مجرمین سے پوچھیں گے کہ وہ کیا وجوہات تھیں جن کی وجہ سے وہ اس انجام سے دوچار ہوئے۔