74. Surah Al-Muddaththir

المدثرThe Cloaked One · 56 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 74:39–41

اِلَّاۤ اَصْحٰبَ الْیَمِیْنِؕۛ Open ayah 74:39 in the Quran reader

دائیں بازو والوں کے سوا ،

فِیْ جَنّٰتٍ١ۛؕ۫ یَتَسَآءَلُوْنَۙ Open ayah 74:40 in the Quran reader

جو جنتوں میں ہوں گی ، وہ پوچھیں گے ”

عَنِ الْمُجْرِمِیْنَۙ Open ayah 74:41 in the Quran reader

مجرموں سے

اصحاب الیمین کی رہائی اور قیدوبند سے ان کے چھوٹ جانے کا واقعہ کیونکر پیش آیا کہ اللہ نے اپنے فضل وکرم سے ان کی نیکیوں کو دوگنا کردیا اور ایسے مشکل حالات میں ان کی رہائی اور کامیابی کا اعلان دلوں کو گرما دیتا ہے اور انسان اللہ کی رحمتوں کے یقین سے سرشار ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اس بات کا اثر مجرموں اور تکذیب کرنے والوں پر بھی ہوتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو سخت ترین حالات میں محصور پاتے ہیں۔ نہایت ہی اہانت آمیزی کے ساتھ وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں۔ اور ایک طویل بیان ریکارڈ کراتے ہیں ، جبکہ وہ اہل ایمان جن کو وہ اس دنیا میں کچھ چیز ہی نہ سمجھتے تھے اور ان کو ذرہ برابر اہمیت بھی نہ دیتے تھے ، وہ اب عزت و تکریم کی بلندیوں پر ہیں۔ اور وہ ان سے اس انداز میں سوال کرتے ہیں جس طرح کوئی نہایت ہی شکست خوردہ شخص سے کرتا ہے۔ ذرا سوال دیکھیں :
Ayah 74:42

مَا سَلَكَكُمْ فِیْ سَقَرَ Open ayah 74:42 in the Quran reader

تمہیں کیا چیز دوزخ میں لے گئی ؟ “

ماسلککم فی سقر (74:42) ” تمہیں کیا چیز دوزخ میں لے گئی ؟ “ اور اس صورت حال کا اہل ایمان کے دل پر گہرا اثر ہوتا ہے ، جو ان مجرمین کے ہاتھوں اس جہاں میں سخت اذیتیں جھیل رہے تھے۔ آج وہ عالم آخرت میں اپنے آپ کو نہایت ہی اعلیٰ مقام میں پاتے ہیں ، جبکہ ان کو دق کرنے والے اس توہین آمیز پوزیشن میں ہیں ، یہ منظر اس قدر دلکش اور پرتاثیر ہے کہ فریقین اپنے آپ کو قیامت کے دن حاضر وموجود پاتے ہیں۔ گویا اس دنیا کا صفحہ لپیٹ لیا گیا ہے اور ہم قیامت کے میدان میں حاضر وموجود ہیں۔ اور اب ذرا اس طویل اعتراف جرم کو پڑھیں جو ان مکذبین اور متکبرین نے اللہ اور مومنین کی موجودگی میں کیا اور نہایت ہی ذلت اور خواری کے ساتھ کیا۔
Ayah 74:43

قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَۙ Open ayah 74:43 in the Quran reader

وہ کہیں گے ” ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہ تھے ،

قالو ................ المصلین (74:43) ” وہ کہیں گے ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہ تھے “۔ اشارہ یہ ہے کہ ہم ایمان لاکر اس گروہ میں شامل نہ ہوئے جو نمازیوں کا گروہ تھا ، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں نماز کی اہمیت کیا ہے ۔ یہ گویا ایمان اور فلاح کی دلیل ہے اور نماز کا انکار دراصل کفر ہے اور جو شخص نماز نہیں پڑھتا۔ وہ صفت ایمان سے محروم ہوجاتا ہے۔
Ayah 74:44

وَ لَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِیْنَۙ Open ayah 74:44 in the Quran reader

اور مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے ،

ولم ............ المسکین (74:44) ” اور ہم مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے “۔ یہ دوسری صفت ہے۔ نماز اللہ کی بندگی کی صفات میں سے ہے جس کا تعلق ذات باری سے ہے جبکہ اطعام مساکین وہ عبادت ہے جس کا تعلق انسانوں کی ذوات سے ہے۔ قرآن کریم میں انسانوں کے رزق کے انتظام کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے اور اس پر بار بار زور دیا گیا ہے۔ عرب معاشرہ ، جہاں فخر ومباہات پر وہ سب کچھ لٹا دیتے تھے۔ وہاں غرباء اور مساکین بھوک سے مرتے تھے اور کوئی پوچھنے والا نہ تھا۔ قرآن اس مسئلہ کی طرف خالص انسانی بنیادوں پر متوجہ کرتا ہے اور صرف رضائے الٰہی کے لئے اطعام مساکین کو عبارت قرار دیتا ہے۔
Ayah 74:45

وَ كُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَآئِضِیْنَۙ Open ayah 74:45 in the Quran reader

اور حق کے خلاف باتیں بنانے والوں کے ساتھ مل کر ہم بھی باتیں بنانے لگتے تھے ،

وکنا ................ الخائضین (74:45) ” اور حق کے خلاف باتیں بنانے والوں کے ساتھ مل کر ہم بھی باتیں بنانے لگتے تھے “۔ یہاں بتایا جاتا ہے کہ وہ لوگ اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی عقیدہ کے بارے میں کس قدر بےباک تھے اور وہ اسلامی عقیدے کو محض گپ شپ سمجھتے تھے۔ اور ایمان ان کے لئے طنز و مزاح کا موضوع تھا۔ حالانکہ ایمان اور عقیدہ ایک نہایت ہی سنجیدہ ، خطرناک اور خوفناک نتائج کا حامل معاملہ تھا۔ یہ ایک ایسا معاملہ تھا جس میں ان کو چاہئے تھا کہ نہایت غوروخوض کے بعد کوئی فیصلہ کرتے۔ زندگی کے تمام معاملات سے قبل اس بارے میں فیصلہ ضروری تھا۔ اس کا تصور ، اس کا شعور ، اس کی قدروقیمت اور اس کی حقیقت کے تعین پر تمام حیات کا تعین موقوف ہے۔ لہٰذا اس موضوع پر سنجیدگی اور غوروفکر کے ساتھ فیصلہ نہ کرنا ایک احمقانہ قدم تھا اور ہم سے اس حماقت کا صدور ہوچکا ہے کہ ہم اس قدر اہم معاملے کو گپ شپ سمجھتے رہے۔
Ayah 74:46

وَ كُنَّا نُكَذِّبُ بِیَوْمِ الدِّیْنِۙ Open ayah 74:46 in the Quran reader

اور روز جزاء کو جھوٹ قرار دیتے تھے ،

وکنا ........................ الدین (74:46) ” اور روز جزاء کو جھوٹ قرار دیتے تھے “۔ یہ ہے اس مصیبت کی اصل بنیاد ، جو شخص قیام قیامت کا منکر ہوتا ہے اس کی زندگی کی تمام قدریں اور پیمانے خلل پذیر ہوجاتے ہیں اور اس کی تمام اقدار مضطرب ہوتی ہیں۔ اس کے احساسات میں زندگی کا دائرہ بہت ہی محدود اور تنگ ہوکر رہ جاتا ہے۔ اس کی پوری سوچ اس زمین کی مختصر عمر تک محدود ہوجاتی ہے اور وہ انہی نتائج کے بارے میں سوچ سکتا ہے۔ جو اس مختصر زندگی میں وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ اس لئے وہ ان نتائج پر کبھی مطمئن نہیں ہوتا اور آخرت کا کوئی حساب و کتاب اس کے پیش نظر نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے تمام معیارات اور تمام قیاسات فساد پذیر ہوتے ہیں۔ اس کے دنیاوی امور میں بھی فساد برپا ہوتا ہے اور اس کے تمام امور شریر منتج ہوتے ہیں۔ مجرم یہ کہتے ہیں اور اعتراف کرتے ہیں کہ ہمارے احوال کچھ یوں تھے کہ ہم نماز نہ پڑھتے تھے ، مساکین کو کھانا نہ کھلاتے تھے اور محض گپ شپ اور غیر سنجیدہ گفتگو میں لگے رہتے تھے اور قیامت کی تکذیب کرتے تھے۔
Ayah 74:47

حَتّٰۤى اَتٰىنَا الْیَقِیْنُؕ Open ayah 74:47 in the Quran reader

یہاں تک کہ ہمیں اس یقینی چیز سے سابقہ پیش آگیا “۔

حتی اتنا الیقین (74:47) ” یہاں تک کہ ہمیں اس یقینی چیز سے سابقہ پیش آگیا “۔ یعنی ہم موت سے دوچار ہوگئے جو تمام شکوک و شبہات کو ختم کردیتی ہے۔ اور معاملہ کا فیصلہ کردیتی ہے اور یہ فیصلہ اس قدر یقینی ہوتا ہے کہ کوئی اسے رد نہیں کرسکتا۔ اب نہ ندامت مفید ہوتی ہے اور نہ توبہ قبول ہوتی ہے۔ اور نہ عمل صالح کا وقت رہتا ہے۔ اور اب یقینی صورت حالات پیش آتی ہے۔ یہاں اس برے موقف پر ایک تبصرہ ہوتا ہے کہ اب تو تمام امیدیں کٹ گئی ہیں اور یہ لوگ اس انجام تک آپہنچے ہیں۔
Ayah 74:48

فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِیْنَؕ Open ayah 74:48 in the Quran reader

اس وقت سفارش کرنے والوں کی کوئی سفارش ان کے کسی کام نہ آئے گی

” اس وقت سفارش کرنے والوں کی کوئی سفارش ان کے کسی کام نہ آئے گی “۔ اب تو فیصلہ ہوچکا اور بات سچ ہوگئی۔ سب کا فیصلہ ہوگیا ، اور یہ فیصلہ اور یہ انجام مجرمین کا حقیقی انجام تھا۔ اب ان مجرموں کو کسی کی کوئی سفارش فائدہ نہ دے گی اور اگر فرض کرلیا جائے کہ کوئی سفارش ہوگی تو بھی یہ سفارش کام نہ آئے گی۔ اس توہین آمیز اور مابوس کن صورت حالات کی تصویر دکھا کر اب پھر ان لوگوں کو ، متوجہ کیا جاتا ہے کہ اس دنیا میں ان کے لئے جو مواقع فراہم کردیئے گئے ہیں ، ان کو چاہئے کہ وہ ان مواقع سے فائدہ اٹھائی لیکن وہ اس ہدایت سے منہ موڑ رہے ہیں اور دوسروں کو بھی اس سے روکتے ہیں بلکہ وہ ہدایت اور خیر سے دور بھاگتے ہیں۔ اور ان وسائل سے دور بھاگتے ہیں جو زندگی ، ابدی زندگی کے حقیقی وسائل ہیں۔ چناچہ یہ لگ جس صورت حال میں ڈوبے ہوئے ہیں اس کی ایک مضحکہ خیز جھلک دکھائی جاتی ہے۔
Ayahs 74:49–51

فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِیْنَۙ Open ayah 74:49 in the Quran reader

آخر ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ اس نصیحت سے منہ موڑ رہے ہیں

كَاَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌۙ Open ayah 74:50 in the Quran reader

گویا یہ جنگلی گدھے ہیں

فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍؕ Open ayah 74:51 in the Quran reader

جو شیر سے ڈر کر بھاگ پڑے ہیں “۔

فمالھم ............................ قسورة جنگلی گدھے بہت ہی ڈرپوک ہوتے ہیں ، جب یہ شیر کی دھاڑ کی آواز سنتے ہیں تو یہ جدھر منہ ہوتا ہے ادھر بھاگ جاتے ہیں۔ عرب اس قسم کے مناظر سے واقف تھے۔ جب انسانوں کو ان خوفزدہ گدھوں سے تشبیہہ دی جاتی ہے۔ تو یہ منظر نہایت ہی مضحکہ خیزہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تذکرہ اور نصیحت سے ان کی نفرت اور فرار نہیں انسانوں کی بجائے گدھے بنا دیتا ہے۔ سا لئے نہیں کہ انہیں کوئی خوف درپیش ہے بلکہ اس لئے کہ ایک یاددہانی کرانے والا ان کو اپنے رب کی طرف بلارہا ہے اور انہیں یہ موقعہ فراہم کررہا ہے کہ یہ لوگ اس خوفناک انجام سے دو چار ہونے سے بچ جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دست قدر کی محیر العقول عکاسی ہے جس نے اس تشبیہ کو یوں ریکارڈ کیا تاکہ قیامت تک لوگ اسے پڑھتے رہیں اور ان لوگوں کا رویہ قابل نفرت نظر آتا رہے اور لوگ ایسے روئیے سے بچتے رہیں اور جن لوگوں نے یہ رویہ اختیار کیا وہ شرمساری سے منہ چھپاتے پھریں۔ یہ تو تھی ان لوگوں کی بیرونی تصویر کہ ” وہ جنگلی گدھے ہیں جو شیر کے ڈر سے بھاگ پڑے ہیں “۔ لیکن ان کی داخلی نفسیاتی تصور کیا ہے اور ان کا شعوری خلجان کیا ہے۔
Ayah 74:52

بَلْ یُرِیْدُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ یُّؤْتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةًۙ Open ayah 74:52 in the Quran reader

بلکہ ان میں سے تو ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ اس کے نام کھلے خط بھیجے جائیں “۔

بل یرید .................... منشرة یہ شعور وہ نبی ﷺ کے ساتھ حسد کی وجہ سے رکھتے تھے کہ حضور ﷺ کو یہ منصب کیوں عطا ہوا ؟ ہر کہ ومنہ یہ چاہتا تھا کہ یہ منصب اسے دیا جائے اور ہر شخص کے اوپر کھلے صحیفے اترتے نظر آئیں۔ یہ اشارہ ہے ان کبرائے قریش کی طرف جو اس بات پر جل بھن گئے تھے کہ محمد (ﷺ) ابن عبداللہ پر یہ کلام کیوں نازل ہوا۔ لو لا ................................ عظیم ” یہ قرآن دو شہروں کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں ہوا ؟ “ لیکن اللہ نے فرمایا کہ وہ چاہتا ہے کہ منصب رسالت کا اہل کون ہے اور اس عظیم کام کے لئے اس نے کس کا انتخاب کرنا ہے۔ یہی بات تھی جس کی وجہ سے یہ لوگ اسلامی نظریہ حیات سے نفرت کرتے تھے اور قبولیت پر آمادہ نہ تھے۔ ان لوگوں کے نفوس کی اندرونی تصویر کشی جاری ہے ، چناچہ اس طمع اور لالچ اور حسد سے بھر پور ایک دوسرا سبب بھی سامنے رکھ دیا جاتا ہے کہ یہ لوگ اس بےجا حسد اور لالچ میں کیوں مبتلا ہوگئے ہیں تو اس سے بھی دور رس سبب یہ ہے کہ یہ لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے۔ اس وجہ سے اللہ کے اس فضل وکرم سے محروم ہوگئے ہیں۔
Ayah 74:53

كَلَّا١ؕ بَلْ لَّا یَخَافُوْنَ الْاٰخِرَةَؕ Open ayah 74:53 in the Quran reader

ہرگز نہیں ، اصل بات یہ ہے کہ یہ آخرت کا خوف نہیں رکھتے۔

کلا .................... الاخرة ان کی یہ بےخوفی اور لاابالی پن ہی ہے جو انہیں اس نصیحت و حکمت سے دور کررہا ہے اور دعوت اسلامی سے یہ دور بھاگ رہے ہیں۔ اگر ان کے دلوں میں آخرت کا شعور ہوتا تو ان کی صورت حال یہ نہ ہوتی کہ یہ ہر معاملے میں شک میں گرفتار ہیں۔ اس کے بعد ایک بار پھر ان کو تنبیہ کی جاتی ہے۔ اب آخری بات کہہ دی جاتی ہے اور ان کو چھوڑ دیا جاتا ہے کہ اب جو چاہیں کریں اور جو انجام چاہیں ، قبول کریں۔
Ayahs 74:54–55

كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذْكِرَةٌۚ Open ayah 74:54 in the Quran reader

ہرگز نہیں ، یہ تو ایک نصیحت ہے ،

فَمَنْ شَآءَ ذَكَرَهٗؕ Open ayah 74:55 in the Quran reader

اب جس کا جی چاہے اس سے سبق حاصل کرلے “۔

کلا انہ ............................ ذکرہ یہ قرآن جس کے سننے سے یہ لوگ منہ موڑ رہے ہیں اور اس طرح بھاگ رہے ہیں جس طرح جنگلی گدھے بھاگتے ہیں۔ جبکہ ان کے دل حسد اور لالچ سے بھرے ہیں۔ اور آخرت کے بارے میں یہ لوگ لاپرواہ ہیں۔ یہ تو ایک تذکرہ اور تنبیہ اور نصیحت ہے۔ جو چاہے یہ نصیحت حاصل کرے۔ جو نہ چاہے نہ کرے۔ نفع نقصان ہر کسی کا اپنا ہے۔ جو چاہے عزت اور جنت حاصل کرے اور جو چاہے ذلت اور جہنم حاصل کرے۔ یہ بات کہنے کے بعد کہ لوگ نیک وبد کے اختیار کرنے میں آزاد ومختار ہیں۔ یہ حقیقت بھی سامنے لائی جاتی ہے کہ ان کی یہ آزادی اور اختیار دائرہ مشیت الٰہیہ کے اندر ہے اور اللہ کی مشیت بےقید ہے۔ اور انجام کار تمام امور اللہ کے دائرہ اختیار ہی میں ہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے قرآن ہر موقعہ ومناسبت میں واضح کرتا ہے تاکہ انسان یہ نہ سمجھ لے کہ اللہ کی مشیت محدود ہے۔ مطلب یہ کہ انسانی اختیار بھی دائرہ مشیت کے اندر ہی ہوتا ہے اور تمام واقعات اللہ کے حکم ومشیت سے وقوع پذیر ہوتے ہیں۔
Ayah 74:56

وَ مَا یَذْكُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ هُوَ اَهْلُ التَّقْوٰى وَ اَهْلُ الْمَغْفِرَةِ۠ Open ayah 74:56 in the Quran reader

اور یہ کوئی سبق حاصل نہ کریں گے الایہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے۔ وہ اس کا حقدار ہے کہ اس سے تقویٰ کیا جائے اور وہ اس کا اہل ہے کہ (تقویٰ کرنے والوں کو) بخش دے “۔

ومایذکرون .................... المغفرة اس کائنات میں جو چیز بھی واقع ہوتی ہے اللہ کے عظیم تر نظام مشیت میں بندھی ہوتی ہے۔ اللہ کے ارادے اور مشیت ہی کے رخ پر اور اس کے وسیع دائرے کے اندر واقعات چلتے ہیں۔ لہٰذا کسی انسان سے کوئی فعل اللہ کی مشیت کے بغیر سر زد نہیں ہوسکتا۔ زمین کی تمام قدروں کی مشیت الٰہیہ اپنے دائرے کے اندر لیے ہوئے ہوتی ہے۔ کیونکہ تمام قدریں اللہ کی مشیت کی پیدا کردہ ہیں اور انسان اور نوامیس فطرت اللہ کے پیدا کردہ ہیں۔ اس کائنات میں جو واقعات چلتے ہیں وہ مشیت الٰہیہ کی ریل کے اندر ہی چلتے ہیں جس پر کوئی حد اور قید نہیں ہے۔ اس ریل کے اندر ہر انسان آزاد بھی ہے اور بند بھی۔ تذکر اور نصیحت آموزی تو اللہ کی توفیق کے مطابق ہوتی ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ کون اس کا مستحق ہے۔ دل اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان ہوتے ہیں۔ اللہ جس طرح چاہتا ہے انہیں پھیر دیتا ہے۔ اگر اللہ جان لے کہ یہ شخص اچھی نیت کا مالک ہے تو اللہ اسے اچھائی کی طرف پھیر دیتا ہے۔ لیکن انسان کو کوئی پتہ نہیں ہے کہ اللہ کیا چاہتا ہے ؟ اللہ کی چاہت تو پردہ غیب میں ہے۔ البتہ اس کو یہ معلوم ہے کہ اللہ کی رضا کیا ہے ؟ کس میں ہے ؟ اور یہ بات اللہ نے قرآن میں بتادی ہے کہ اللہ کی رضا کس میں ہے ؟ جب انسان اللہ کی مرضی کے راستے کی طرف بڑھتا ہے تو اللہ اسے مزید آگے بڑھنے کی توفیق دیتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ ایک مومن کے احساس کے اندر جس چیز کو اچھی طرح بٹھانا چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کی مشیت بےقید ہے۔ اور یہ کہ اللہ کی مشیت اسے گھیرے ہوئے ہے ، تاکہ ایک مخلص بندے کی تمام تر توجہ اللہ کی ذات پر مرکوز رہے۔ اور ایک مسلم پوری طرح اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کیے رکھے۔ یہ ہے وہ بنیادی حقیقت جسے ذہن نشین کئے بغیر اسلام کسی انسانکے دل میں جاگزیں نہیں ہوسکتا۔ اور جب یہ کیفیت ذہن میں اچھی طرح بیٹھ جائے اور انسانی قلب ونظر اس میں سرشار ہوجائیں اور انسان زندگی کے تمام واقعات اور حادثات کی تعبیر اس تصور کے مطابق کرنے لگے تو وہ صحیح طرح مسلم ہوتا ہے۔ یہی مقصد ہے اللہ کی مشیت کے بےقید ہونے کا اور اللہ کی مشیت کا یہ اطلاق قرآن میں ہر فیصلے کے ساتھ لایا جاتا ہے۔ چاہے جنت اور دوزخ کا فیصلہ ہو ، چاہے کسی شخص کی ہدایت وضلالت کا فیصلہ ہو۔ رہا وہ تاریخی اور کلامی مجادلہ و مباحثہ جو انسان کے جبرواختیار کے بارے میں چلا ، تو وہ پوری حقیقت کو ظاہر نہیں کرتا ، وہ دراضل کلی حقیقت کے ایک جزء کو لیتا ہے اور اس کیو جہ سے فکر انسانی کسی تشقی بخش قول تک کبھی نہیں پہنچ سکا۔ کیونکہ یہ مباحثہ ومجادلہ قرآن کے صحیح اور سادہ راہوں سے ہٹ کر نہایت ہی پیچیدہ راہوں پر جانکلا اور جس قدر یہ مباحثہ آگے بڑھا ، فکر انسانی کی تگ وتازی کی راہیں تنگ ہوتی رہیں۔ وما یذکرون ................ اللہ (74:56) ” اور یہ کوئی سبق حاصل نہ کریں گے۔ الایہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے “۔ کیونکہ وہ اللہ کی مشیت کے نظام سے متصادم نہیں ہوسکتے۔ اور نہ وہ کسی حیثیت میں کوئی مخالفانہ حرکت کرتے ہیں۔ انسان کی حرکت اور انسان کا ارادہ بھی وسیع تر دائرہ مشیت کے اندر ہی ہوتا ہے۔ ھواھل التقوی (56:74) ” وہ اس کا حقدار ہے کہ اس سے تقویٰ کیا جائے “۔ اللہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے بندے اس سے ڈریں ، اس لئے ان سے یہ مطالبہ ہے کہ وہ اللہ سے ڈریں۔ واھل المغفرة (74:56) ” اور وہ اس بات کا اہل ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو بخش دے “۔ اور یہ کرم وہ جن بندوں پر چاہتا ہے کرتا ہے اور اللہ کا کرم اس کے نظام مشیت کے مطابق ہوا کرتا ہے۔ تقویٰ ہی انسان کو مغفرت کا اہل بناتا ہے۔ اور اللہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔ ھواھل ........................ المغفرة (74:56) ” وہ اس بات کا حق دار ہے کہ اس سے تقویٰ کیا جائے اور وہ اس کا اہل ہے تقویٰ کرنے والوں کو بخش دے “۔ ٭٭٭٭٭