75. Surah Al-Qiyaama

القيامةThe Resurrection · 40 ayahsاحکام القرآن

Ayah 75:1

لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَةِۙ Open ayah 75:1 in the Quran reader

ہم کو روز قیامت کی قسم۔

Ayah 75:2

وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِؕ Open ayah 75:2 in the Quran reader

اور نفس لوامہ کی (کہ سب لوگ اٹھا کر کھڑے کئے جائیں گے)

Ayah 75:3

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗؕ Open ayah 75:3 in the Quran reader

کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی (بکھری ہوئی) ہڈیاں اکٹھی نہیں کریں گے۔

Ayah 75:4

بَلٰى قٰدِرِیْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَهٗ Open ayah 75:4 in the Quran reader

ضرور کریں گے اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی پور پور درست کریں۔

Ayah 75:5

بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَهٗۚ Open ayah 75:5 in the Quran reader

مگر انسان چاہتا ہے کہ آگے کو خود سری کرتا جائے

Ayah 75:6

یَسْئَلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَةِؕ Open ayah 75:6 in the Quran reader

پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب ہوگا ؟

Ayah 75:7

فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ Open ayah 75:7 in the Quran reader

جب آنکھیں چندھیا جائیں

Ayah 75:8

وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:8 in the Quran reader

اور چاند گہنا جائے

Ayah 75:9

وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:9 in the Quran reader

اور سورج اور چاند جمع کردیے جائیں

Ayah 75:10

یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّۚ Open ayah 75:10 in the Quran reader

اس دن انسان کہے گا کہ (اب) کہاں بھاگ جاؤں

Ayah 75:11

كَلَّا لَا وَزَرَؕ Open ayah 75:11 in the Quran reader

بیشک کہیں پناہ نہیں

Ayah 75:12

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمُسْتَقَرُّؕ Open ayah 75:12 in the Quran reader

اس روز پروردگار ہی کے پاس ٹھکانہ ہے

Ayah 75:13

یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَؕ Open ayah 75:13 in the Quran reader

اس دن انسان کو جو عمل اس نے آگے بھیجے اور جو پیچھے چھوڑے ہونگے سب بتادئیے جائیں گے

Ayah 75:14

بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِیْرَةٌۙ Open ayah 75:14 in the Quran reader

بلکہ انسان آپ اپنا گواہ ہے

انسان اپنے بارے میں خوب جانتا ہے قول باری ہے (بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ ۔ بلکہ انسان خود ہی اپنے آپ کو خوب جانتا ہے) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ انسان اپنے اوپر خود گواہ ہے۔ ایک قول کے مطابق اس کے معنی ہیں کہ انسان خود ہی اپنے آپ کو خوب جانتا ہے۔ قیامت کے دن اس کے اعضا اس پر گواہی دیں گے۔
Ayahs 75:15–40

وَّ لَوْ اَلْقٰى مَعَاذِیْرَهٗؕ Open ayah 75:15 in the Quran reader

اگرچہ عذر و معذرت کرتا رہے

لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖؕ Open ayah 75:16 in the Quran reader

اور (اے محمد ﷺ وحی کے پڑھنے کیلئے اپنی زبان نہ چلایا کرو کہ اسکو جلد یاد کرلو

اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗۚۖ Open ayah 75:17 in the Quran reader

اسکا جمع کرنا اور پڑھانا ہمارے ذمہ ہے

فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗۚ Open ayah 75:18 in the Quran reader

جب ہم وحی پڑھا کریں تو تم اسکو سنا کرو اور پھر اس طرح پڑھا کرو

ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَهٗؕ Open ayah 75:19 in the Quran reader

پھر اس (کے) معانی کا بیان بھی ہمارے ذمے ہے

كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَۙ Open ayah 75:20 in the Quran reader

مگر (لوگو) تم دنیا کو دوست رکھتے ہو

وَ تَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَؕ Open ayah 75:21 in the Quran reader

اور آخرت کو ترک کئے دیتے ہو

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌۙ Open ayah 75:22 in the Quran reader

اس روز بہت سے منہ رونق دار ہونگے

اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌۚ Open ayah 75:23 in the Quran reader

(اور) اپنے پروردگار کے محو دیدار ہونگے

وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍۭ بَاسِرَةٌۙ Open ayah 75:24 in the Quran reader

اور بہت سے منہ اس دن اداس ہونگے

تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌؕ Open ayah 75:25 in the Quran reader

خیال کرینگے کہ ان پر مصیبت واقع ہونے کو ہے

كَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَۙ Open ayah 75:26 in the Quran reader

دیکھو جب جان گلے تک پہنچ جائے

وَ قِیْلَ مَنْ١ٚ رَاقٍۙ Open ayah 75:27 in the Quran reader

اور لوگ کہنے لگیں (اس وقت) کون جھاڑ پھونک کرنیوالا ہے

وَّ ظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُۙ Open ayah 75:28 in the Quran reader

اور اس (جاں بلب) نے سمجھا کہ اب سے جدائی ہے

وَ الْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِۙ Open ayah 75:29 in the Quran reader

اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمَسَاقُ٢ؕ۠ Open ayah 75:30 in the Quran reader

اس دن تجھ کو اپنے پروردگار کی طرف چلنا ہے

فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰىۙ Open ayah 75:31 in the Quran reader

تو اس (ناعاقبت اندیش نے تو کلام خدا کی) تصدیق کی نہ نماز پڑھی

وَ لٰكِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 75:32 in the Quran reader

بلکہ جھٹلایا اور منہ پھیرلیا

ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ یَتَمَطّٰىؕ Open ayah 75:33 in the Quran reader

پھر اپنے گھر والوں کے پاس اکڑتا ہوا چل دیا

اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىۙ Open ayah 75:34 in the Quran reader

افسوس ہے تجھ پر پھر افسوس ہے

ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىؕ Open ayah 75:35 in the Quran reader

پھر افسوس ہے تجھ پر پھر افسوس ہے

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًىؕ Open ayah 75:36 in the Quran reader

کیا انسان خیال کرتا ہے کہ یونہی چھوڑ دیا جائے گا

اَلَمْ یَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِیٍّ یُّمْنٰىۙ Open ayah 75:37 in the Quran reader

کیا وہ منی کا جو رحم میں ڈالی جاتی ہے ایک قطرہ نہ تھا

ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ Open ayah 75:38 in the Quran reader

پھر لوتھڑا ہوا پھر (خدا نے) اس کو بنایا پھر (اسکے اعضاء کو درست کیا)

فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىؕ Open ayah 75:39 in the Quran reader

پھر اس کی دو قسمیں بنائیں ایک مرد اور ایک عورت

اَلَیْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى۠ Open ayah 75:40 in the Quran reader

کیا اس کو اس بات پر قدرت نہیں کہ مردوں کو جلا اٹھائے ؟

قول باری ہے (ولو القی معاذیرہ۔ چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ خواہ وہ اعتذار کیوں نہ کرے۔ ایک قول کے مطابق اپنی ذات پر اس کی اپنی گواہی جو اس کے اعضاء وجوارح دیں اس کے اعتذاد سے اولیٰ ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت کے الفاظ میں جب ان تمام معانی کا احتمال موجود ہے تو آیت کو ان پر محمول کرنا واجب ہے، کیونکہ ان معانی کے مابین کوئی منافات نہیں ہے۔ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اس ذات کے بارے میں اس کا قول قابل قبول ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو اس کی ذات پر حجت اور شاہد کی حیثیت دی ہے۔ انسان کا اپنی ذات کے بارے میں آگاہ ہونے کو اسے اپنی ذات پر گواہ ہونے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ بات اپنی ذات پر اس کی گواہی اور اس کے ثبوت کے معاملے کی تاکید پر دلالت کرتی ہے۔ یہ بات اس کے تمام عقود اورک اس کے اقرار اور اس کی ذات پر لازم ہونے والے امور سے تعلق رکھنے والے اس کے اعترافات کے جواز کو واجب کرتی ہے۔