74. Surah Al-Muddaththir
المدثرThe Cloaked One · 56 ayahsاحکام القرآن
یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ Open ayah 74:1 in the Quran reader
اے (محمد ﷺ جو کپڑا لپیٹے پڑے ہو
قُمْ فَاَنْذِرْ۪ۙ Open ayah 74:2 in the Quran reader
اٹھو اور ہدایت کرو
وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ۪ۙ Open ayah 74:3 in the Quran reader
اور اپنے پروردگار کی بڑائی کرو
وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْ۪ۙ Open ayah 74:4 in the Quran reader
اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو
وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ۪ۙ Open ayah 74:5 in the Quran reader
اور ناپاکی سے دور ہو
کپڑوں کی طہارت
قول باری ہے (وثیابک فطھر۔ اور اپنے کپڑے پاک رکھو) نماز کے لئے کپڑوں کو تمام نجاستوں سے پاک کرنے کے وجوب پر آیت دلالت کررہی ہے نیز یہ کہ ناپاک کپڑوں میں نماز جائز نہیں ہے کیونکہ کپڑوں کی تطہیر صرف نماز کے لئے ضروری ہے۔
حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت عمار ؓ کو اپنے کپڑے دھوتے ہوئے دیکھا، پوچھا کہ کپڑے کیوں دھو رہے ہو ؟ حضرت عمار ؓ نے عرض کیا کہ اس میں نخامہ (ناک سے نکلنے والا بلغم) لگ گیا تھا۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ کپڑا صرف خون، پیشاب یا منی وغیرہ لگ جانے سے دھویا جاتا ہے۔
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ مجھے حضور ﷺ نے کپڑے میں لگے ہوئے منی کو دھو دینے کا حکم دیا تھا جب کہ وہ ابھی گیلا ہو۔
بعض کا خیال ہے کہ آیت سے مراد وہ مفہوم ہے جس کی ابور زین نے روایت کی ہے کہ ” اپنے عمل کو درست کرو۔ “ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ ” اپنے کپڑوں کو گناہوں سے پاک رکھو۔ “
عکرمہ کا قول ہے کہ آپ کو جسم سے پاخانہ وغیرہ لگے ہونے کی صورت میں کپڑے نہ پہننے کا حکم دیا گیا ہے۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ سب مجازی معنی ہیں۔ دلالت کے بغیر کلام کو ان معانی کی طرف موڑنا جائز نہیں ہے۔ مذکورہ بالا شخص نے اس سے یہ استدلال کیا ہے یہ گمان کرنا درست نہیں ہے کہ حضور ﷺ کے لئے بھی اس بات کی ضرورت تھی کہ آپ کو پیشاب وغیرہ سے اپنے کپڑے پاک رکھنے کا حکم دیا جائے۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اس قول میں شدید اختلال اور تناقض ہے نیز یہ بات سرے سے غلط ہے کیونکہ آیت میں حضور ﷺ کو بتوں سے کنارہ کش رہنے کا حکم دیا گیا ہے چناچہ ارشاد ہے (والرجزفا ھجر اور گندگی سے دور رہو)
جب کہ یہ بات سب کہ معلوم ہے کہ حضور ﷺ نبوت سے قبل اور نبوت کے بعد بتوں سے کنارہ کش رہے تھے ۔ اسی طرح آپ دونوں حالتوں کے اندر گناہوں اور گندگیوں سے مجتنب رہے تھے۔ جب ان چیزوں سے کنارہ کش رہنے کے سلسلے میں حضور ﷺ کو خطاب کرنا درست ہے جبکہ آپ پہلے ہی سے ان چیزوں سے کنارہ کش تھے تو پھر نماز کے لئے کپڑوں کو پاک رکھنے کا حکم بھی درج بالا امور کی طرح ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا (ولا تدع مع اللہ الھا اخر اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکارو) حالانکہ حضور ﷺ نے کبھی کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارا۔ یہ چیز مذکورہ بالا شخص کے قول کے تناقض اور اس کے فساد پر دلالت کرتی ہے۔
ان صاحب کا یہ خیال ہے کہ زیر بحث آیت نماز یا وضو وغیرہ کے احکام کے نزول سے پہلے قرآن کی نازل ہونے والی سب سے پہلی آیت ہے اور یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ آیت میں زمانہ جاہلیت کے بتوں، شرک پرستی اور برے اعمال سے پاک رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔
اس شخص نے اپنے اس قول کا خود شروع میں یہ کہہ کر نقض کردیا ہے کہ حضور ﷺ کو نجاست سے اپنے کپڑے پاک رکھنے کا حکم دینے کی ضرورت نہیں تھی۔ اب آپ ہی خود سوچے کہ اس شخص کے خیال میں حضور ﷺ کو بتوں سے کنارہ کش رہنے کا حکم دینے کی ضرورت تھی ؟ اگر آپ کو اس کی ضرورت نہیں تھی اس لئے کہ آپ پہلے بتوں سے مجتنب تھے لیکن اس کے باوجود اس شخص کے نزدیک آپ کو ترک اوثان کا خطاب جائز تھا تو پھر کپڑوں کو پاک رکھنے کا مسئلہ بھی اسی طرح ہونا ضروری ہے۔
اس شخص کا یہ کہنا کہ زیر بحث آیت کا نزول سب سے پہلے ہوا تھا لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضور ﷺ کو نماز کے لئے کپڑوں کی تطہیر کا حکم فرض کے طور پر نہ دیا جائے۔
دوسری طرف حضرت عائشہ ؓ ، مجاہد اور عطاء سے مروی ہے کہ قرآن کی نازل ہونے والی سب سے پہلی آیت (اقراباسم ربک الذی خلق۔ پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا) ہے۔