73. Surah Al-Muzzammil

المزملThe Enshrouded One · 20 ayahsاحکام القرآن

Ayahs 73:1–3

یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ Open ayah 73:1 in the Quran reader

اے محمد ﷺ جو کپڑے میں لپٹ رہے ہو

قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:2 in the Quran reader

رات کو قیام کیا کرو مگر تھوڑی سی رات

نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:3 in the Quran reader

یعنی نصف رات یا اس سے کچھ کم

قیام اللیل کا حکم قول باری ہے (یایھا المزمل قم اللیل الا قلیلا، اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے ! رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو مگر کم) زرادہ بن اوفیٰ نے سعد بن ہشام سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے کہا ” مجھے حضور ﷺ کے قیام اللیل کے بارے میں بتائیے۔ “ انہوں نے فرمایا : ” تم سورة مزمل نہیں پڑھتے۔ “ میں نے عرض کیا۔” پڑھتا ہوں۔ “ انہوں نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آغاز میں قیام اللیل کو فرض کردیا تھا۔ چناچہ حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ قیام اللیل کرتے رہے حتیٰ کہ ان سب کے پائوں پھول گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آخری حصے کے نزول کو بارہ ماہ تک روکے رکھا پھر اس سورت کے آخری حصے کے ذریعے تخفیف کا حکم نازل فرمایا اس طرح قیام اللیل کی فرضیت کو نفل میں تبدیل کردیا گیا۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جب سورة مزمل کا اول حصہ نازل ہوا تو صحابہ کرام رمضان کے قیام کی طرح قیام اللیل کرتے رہے حتیٰ کہ سورت کا آخری حصہ نازل ہوگیا۔ دونوں حصوں کے نزول کی درمیانی مدت تقریباً ایک سال تھی۔
Ayahs 73:4–5

اَوْ زِدْ عَلَیْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاؕ Open ayah 73:4 in the Quran reader

یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو

اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْكَ قَوْلًا ثَقِیْلًا Open ayah 73:5 in the Quran reader

ہم عنقریب تم پر ایک بھاری فرمان نازل کرینگے

قول باری ہے (ورتل القران ترتیلا۔ اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” اسے پوری طرح واضح کرکے پڑھو۔ “ طائوس کا قول ہے۔ اسے اس طرح واضح طور پر ٹھہر ٹھہر کر پڑھو کہ تمہارا ذہن پوری طرح کلام الٰہی کے مفہوم ومدعا کو سمجھ لے۔ “ مجاہد کا قول ہے ” ایک لفظ کو دوسرے لفظ کے ساتھ پیوستہ کرکے آہستہ آہستہ پڑھو۔ “ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قیام اللیل کی فرضیت کے نسخ کے متعلق مسلمانوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ نیز یہ کہ قیام اللیل مستحب ومندوب ہے اور اس کی ترغیب دی گئی ہے۔ قیام اللیل کی ترغیب وتحریض کے متعلق حضور ﷺ سے بہت سی روایات مروی ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا : ” اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ نماز حضرت دائود (علیہ السلام) کی نماز تھی ۔ آپ نصف رات تک سوتے، پھر تہائی رات نماز پڑھتے اور آخری چھٹے حصے میں سوجاتے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ روزہ حضرت دائود (علیہ السلام) کا روزہ تھا۔ آپ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن روزہ نہ رکھتے۔ “
Ayahs 73:6–7

اِنَّ نَاشِئَةَ الَّیْلِ هِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّ اَقْوَمُ قِیْلًاؕ Open ayah 73:6 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ رات کا اٹھنا (نفس بہیمی کو) سخت پامال کرتا ہے اور اس وقت ذکر بھی خوب درست ہوتا ہے

اِنَّ لَكَ فِی النَّهَارِ سَبْحًا طَوِیْلًاؕ Open ayah 73:7 in the Quran reader

دن کے وقت تو تمہیں اور بہت سے شغل ہوتے ہیں

قول باری ہے (ان ناشئۃ اللیلھی اشد وطا، درحقیقت رات کا اٹھنا نفس پر قابو پانے کے لئے بہت کارگر ہے) حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابن الزبیر ؓ کا قول ہے کہ جب تم رات کے وقت اٹھ کر سیدھے کھڑے ہوجائو یعنی نماز پڑھو تو یہی رات کا اٹھنا ہے۔ مجاہد کا قول ہے کہ ” پوری رات جب کوئی شخص اٹھ کر نماز پڑھتا رہے تو ایسا شخص رات کو اٹھنے والا کہلائے گا۔ عشاء کی نماز کے بعد کا وقت رات کو اٹھنے کا وقت ہے۔ “ حسن سے بھی اسی قسم کی روایت ہے۔ قول باری (اشد وطاو اقوم قیلا ۔ نفس پر قابو پانے کے لئے زیادہ کارگر اور قرآن ٹھیک پڑھنے کے لئے زیادہ موزوں ہے) کے متعلق حسن کا قول ہے کہ ” یہ جسم کو زیادہ مشقت میں ڈالنے کا ذریعہ اور خیر یعنی میں زیادہ ثابت قدم رہنے کا وسیلہ ہے۔ “ مجاہد کا قول ہے (واقوم قیلا) قرآن ٹھیک پڑھنے کے لئے زیادہ موزوں ہے۔
Ayahs 73:8–19

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًاؕ Open ayah 73:8 in the Quran reader

تو اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کرو اور ہر طرف سے بےتعلق ہو کر اسی کی طرف متوجہ ہوجاؤ

رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِیْلًا Open ayah 73:9 in the Quran reader

وہی مشرق اور مغرب کا مالک (ہے اور) اسکے سوا کوئی معبود نہیں تو اسی کو اپنا کارساز بناؤ

وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِیْلًا Open ayah 73:10 in the Quran reader

اور جو جو (دل آزار) باتیں یہ لوگ کہتے ہیں انکو سہتے رہو اور اچھے طریق سے ان سے کنارہ کش رہو

وَ ذَرْنِیْ وَ الْمُكَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَةِ وَ مَهِّلْهُمْ قَلِیْلًا Open ayah 73:11 in the Quran reader

اور مجھے ان جھٹلانے والوں سے جو دولتمند ہیں سمجھ لینے دو اور انکو تھوڑی سی مہلت دیدو

اِنَّ لَدَیْنَاۤ اَنْكَالًا وَّ جَحِیْمًاۙ Open ayah 73:12 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ ہمارے پاس بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی آگ ہے

وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَّ عَذَابًا اَلِیْمًاۗ Open ayah 73:13 in the Quran reader

اور گلوگیر کھانا ہے اور درد دینے والا عذاب (بھی) ہے

یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ وَ كَانَتِ الْجِبَالُ كَثِیْبًا مَّهِیْلًا Open ayah 73:14 in the Quran reader

جس دن زمین اور پہاڑ کانپنے لگیں اور پہاڑ ایسے بھربھرے (گویا) ریت کے ٹیلے ہوجائیں

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ رَسُوْلًا١ۙ۬ شَاهِدًا عَلَیْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًاؕ Open ayah 73:15 in the Quran reader

(اے اہل مکہ) جس طرح ہم نے فرعون کے پاس (موسی کو) پیغمبر (بناکر) بھیجا تھا (اسی طرح) تمہارے پاس (محمد ﷺ رسول بیجھے ہیں جو تمہارے مقابلے میں گواہ ہونگے

فَعَصٰى فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ فَاَخَذْنٰهُ اَخْذًا وَّبِیْلًا Open ayah 73:16 in the Quran reader

سو فرعون نے (ہمارے) پیغمبر کا کہا نہ مانا تو ہم نے اسکو بڑے وبال میں پکڑ لیا۔

فَكَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ كَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَاۗۖ Open ayah 73:17 in the Quran reader

اگر تم بھی (ان پیغمبر کو) نہ مانو گے تو اس دن سے کیونکر بچو گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا

اِ۟لسَّمَآءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ١ؕ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا Open ayah 73:18 in the Quran reader

(اور) جس سے آسمان پھٹ جائے گا۔ یہ اس کا وعدہ (پورا) ہو کر رہے گا۔

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا۠ Open ayah 73:19 in the Quran reader

یہ (قرآن) تو نصحت ہے سو جو چاہے اپنے پروردگار تک (پہنچنے کا) راستہ اختیار کرلے

قول باری ہے (واکراسم ربک وتبتل الیہ تبتیلا۔ اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کرو اور سب سے کٹ کر اسی کے ہورہو) مجاہد کا قول ہے ” اللہ سے اپنے اخلاص کا اظہار کرو۔ “ قتادہ کا قول ہے ” پورے اخلاص کے ساتھ اس سے دعا مانگو اور اس کی عبادت کرو۔ “ ایک قول کے مطابق اس سے مراد سب سے کٹ کر اسی کے ہو رہنا اور صرف اسی سے خیر کی امید رکھنا ہے۔ بعض لوگ تکبیر افتتاح کے سلسلے میں اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کیونکہ اس کا ذکر نماز کے ضمن میں ہوا ہے اس لئے یہ اللہ کے تمام اسماء کے ساتھ افتتاح صلوٰۃ کے جواز پر دلالت کرتا ہے۔ قول باری ہے (سبحا طویلا ۔ (دن کے اوقات میں تمہارے لئے) بہت مصروفیات ہیں) قتادہ کا قول ہے کہ طویل فراغت ہے۔ قول باری (ھی اشدوطا) کی ایک قرات وطاء ہے جس کی تفسیر میں مجاہد کا قول ہے ” واطا اللسان القلب مواطاۃ وو طاء “ یعنی رات کا وقت دل اور زبان کے درمیان موافقت پیدا کرنے کا بڑا موثر ذریعہ ہے۔ جن حضرات نے اس لفظ کو ” وطا “ پڑھا ہے انہوں نے یہ معنی بیان کیے ہیں کہ رات کی عبادت دن کی عبادت کی بہ نسبت زیادہ گراں ہوتی ہے۔
Ayah 73:20

اِنَّ رَبَّكَ یَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَیِ الَّیْلِ وَ نِصْفَهٗ وَ ثُلُثَهٗ وَ طَآئِفَةٌ مِّنَ الَّذِیْنَ مَعَكَ١ؕ وَ اللّٰهُ یُقَدِّرُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْهُ فَتَابَ عَلَیْكُمْ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ١ؕ عَلِمَ اَنْ سَیَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰى١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یَضْرِبُوْنَ فِی الْاَرْضِ یَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۖ٘ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنْهُ١ۙ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرًا وَّ اَعْظَمَ اَجْرًا١ؕ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 73:20 in the Quran reader

تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے کہ تم اور تمہارے ساتھ کے لوگ (کھبی) دو تہائی رات کے قریب اور (کھبی) آدھی رات اور (کھبی) تہائی رات قیام کیا کرتے ہو۔ اور خدا تو رات اور دن کا اندازہ رکھتا ہے اس نے معلوم کیا کہ تم اس کو نباہ نہ سکو گے تو اس نے تم پر مہربانی کی۔ پس جتنا آسانی سے ہو سکے (اتنا) قرآن پڑھ لیا کرو۔ اس نے جانا کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوتے ہیں۔ اور بعض خدا کی راہ میں لڑتے ہیں تو جتنا آسانی سے ہو سکے اتنا پڑھ لیا کرو اور نماز پڑہتے رہو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو اور خدا کو نیک (اور خلوص نیت سے) قرض دیتے رہو اور جو نیک عمل تم اپنے لئے آگے بھیجو گے اس کو خدا کے ہاں بہتر اور صلے میں بزرگ ترپاؤ گے اور خدا سے بخشش مانگتے رہو۔ بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

قول باری ہے (ان ربک یعلم انک تقوم ادنی من ثلثی اللیل ونصفہ وثلثہ ، اے نبی ﷺ ! تمہارا رب جانتا ہے کہ تم کبھی دو تہائی رات کے قریب اور کبھی آدھی رات اور کبھی ایک تہائی رات عبادت میں کھڑے رہتے ہو) تا قول باری (فاقروا ما تیسرمن القران ۔ پس جتنا قرآن بآسانی پڑھا جاسکے پڑھ لیا کرو) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت کئی معانی پر مشتمل ہے۔ ایک تو یہ کہ اس کے ذریعے قیام اللیل کی فرضیت منسوخ ہوگئی۔ ابتداء میں قیام اللیل باری ہے (فاقروا ماتیسر من القران) تیسرے یہ کہ تھوڑی سی قرات کے ذریعے نماز کے جواز پر اس کی دلالت ہورہی ہے چوتھے یہ کہ جو شخص سورة فاتحہ کی قرات کیے بغیر اگر کسی اور مقام سے قرات کرے گا تو اس کی نماز ہوجائے گی۔ ہم نے گزشتہ اوراق میں اس پر روشنی ڈالی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیت کا نزول صلاۃ اللیل کے بارے میں ہوا تھا اور صلوٰۃ اللیل اب منسوخ ہے اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ صلوٰۃ اللیل کی فرضیت منسوخ ہوچکی ہے لیکن اس کی شرائط اور اس کے دوسرے احکام منسوخ نہیں ہوئے نیز ہمیں تسبیح کے ذکر کے بعد قرات کا حکم دیا گیا ہے اور فرمایا گیا ہے (فاقروا ما تیسرمنہ) اگر یہ کہا جائے کہ اگر اس سے نفل نماز میں قرات مراد ہے اس لئے فرض نماز میں قرات کے وجوب پر اس سے استدلال نہیں ہوگا۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ جب نفل نماز میں قرات کا وجوب ثابت ہوگیا تو فرض نماز بھی اسی طرح ہے کیونکہ قرات کے لحاظ سے کسی نے بھی فرض اور نفل نماز کے درمیان فرق نہیں کیا ہے۔ نیز قول باری (فاقروا ما تیسر من القران) وجوب کا مقتضی ہے کیونکہ یہ امر ہے اور امروجوب پر محمول ہوتا ہے۔ دوسری طرف کوئی ایسا مقام نہیں جہاں قرآن کی قرات ضروری اور لازم ہو۔ یہ مقام صرف نماز کا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس سے نماز کے اندر قرات مراد لی جائے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اگر نفل نماز قرات مراد ہے جبکہ نفل نماز خود فرض نہیں ہے تو یہ قرات کی فرضیت پر کس طرح دلالت کرے گی۔ اس کے جواب میں کہاجائے گا کہ نفل نماز اگرچہ فرض نہیں لیکن اس کے باوجود جو شخص نفل نماز پڑھے گا اس پر قرات لازم ہوگی۔ جس وقت وہ نفل نماز شروع کرے گا اس وقت ہی اس پر قرات فرض ہوجائے گی جس طرح نماز کی دوسری شرائط مثلاً طہارت ، ستر عورت وغیرہ اس پر فرض ہوجاتی ہے یا جس طرح انسان پر بیع وشراء کے عقود نیز بیع سلم وغیرہ فرض نہیں ہوتے لیکن جب کوئی شخص ان میں سے کوئی عقد کنا چاہے گا تو اس کے لئے شریعت کے مباح طریقے سے اس عقد کو عمل میں لانا فرض ہوگا۔ آپ حضور ﷺ کے اس ارشاد کو نہیں دیکھتے۔ آپ نے فرمایا (من اسلم فلیسلم فی کیل معلوم و وزن معلوم الی اجل معلوم جو شخص بیع مسلم کرے تو وہ معلوم ناپ اور معلوم وزن کے ذریعے مدت تک کرے) اب ظاہر ہے کہ کسی پر عقد سلم ضروری نہیں ہے لیکن جو شخص عقد مسلم کرے گا وہ ان شرائط کے تحت کرے گا۔ اگر یہ کہا جائے کہ قول باری (فاقروا ما تیسر من القران) سے خود نماز مراد ہے اس لئے آیت میں نماز کے اندر قرات کے وجوب پر کوئی دلالت نہیں ہے اس کے جواب میں کہاجائے گا کہ یہ بات غلط ہے کیونکہ اس کے ذریعے کلام کو اس کے حقیقی معنی سے ہٹا کر مجازی معنی کی طرف پھیر دینا لازم آتا ہے جب کہ یہ بات دلالت کے بغیر جائز نہیں ہوتی۔ علاوہ ازیں معترض نے جو بات کہی ہے اگر اسے درست تسلیم کر بھی لیا جائے تو بھی قرات کی فرضیت پر اس کی دلالت بحالہ قائم رہتی ہے کیونکہ اس صورت میں قرات کے لفظ سے نماز کی تعبیر صرف اس وجہ سے ہوئی ہے کہ قرات نماز کی ایک رکن ہے۔ جس طرح ارشاد باری ہے (واذا قیل لھم ارکعوا لایرکعون، اور جب ان سے جھکنے کے لئے کہا جاتا ہے تو وہ نہیں جھکتے) ۔ مجاہد کا قول ہے کہ آیت سے نماز مراد ہے۔ اسی طرح ارشاد باری ہے (وارکعوا مع الراکعین اور جھکنے والوں کے ساتھ جھکو) اس سے نماز مراد ہے۔ یہاں لفظ رکوع سے نماز کی تعبیر کی گئی کیونکہ رکوع نماز کا ایک رکن ہے۔