Al-Qiyaama 75:34

Al-Qiyaama · from ayah 34

75:34

اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى ۟ۙاَوۡلٰى لَكَ فَاَوۡلٰىۙ

افسوس ہے تجھ پر پھر افسوس ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Woe to you, and woe!

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qiyaama

All translations of 75:34

یہ روش تیرے ہی لیے سزاوار ہے اور تجھی کو زیب دیتی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

افسوس ہے تجھ پر پھر افسوس ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

افسوس ہے تجھ پر حسرت ہے تجھ پر

— مولانا محمد جوناگڑہی

بربادی ہے تیری، ہاں بربادی ہے تیری !۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تیری خرابی ا ٓ لگی اب آ لگی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تمہارے لئے (مرتے وقت) تباہی ہے، پھر (قبر میں) تباہی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہی تیرے لائق ہے، پھر یہی لائق ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

افسوس ہے تجھ پر افسوس ہے ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ہلاکت ہے تیرے لئے (اے بدبخت انسان) پھر ہلاکت

— مولانا اسحاق مدنی

تیری کم بختی پر کم بختی آنے والی ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

افسوس ہے تجھ پر افسوس ہے !

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

افسوس ہے تجھ پر پھر افسوس ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

This (attitude) is worthy of you, altogether worthy;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(It will be said to such a man,) Woe to you, then woe to you!

— Muhammad Taqi Usmani

(It will be said to such a man,) Woe to you, then woe to you!

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Woe to you! And then woe to you!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Woe to you, and woe!

— Saheeh International

Woe to you!

— Muhammad Sarwar

Nearer to you (is destruction) and nearer,

— Muhammad Habib Shakir

Woe Unto thee; woe!

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 75:34

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 26–40

جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ (کلا) کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ " اے ابن آدم تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے " اور اگر اس لفظ کو (حقا) کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے (تراقی) جمع ہے (ترقوۃ) کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں،…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 34–35

سورة الْقِیٰمَة 22 مفسرین نے اولی لک کے متعدد معنی بیان کیے ہیں۔ تف ہے تجھ پر۔ ہلاکت ہے تیرے لیے۔ خرابی، یا تباہی، یا کمبختی ہے تیرے لیے۔ لیکن ہمارے نزدیک موقع و محل کے لحاظ سے اس کا مناسب ترین مفہوم وہ ہے جو حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ " جب تو اپنے خالق سے کفر کرنے کی جرات کرچکا ہے تو پھر تجھ جیسے آدمی کو یہی چال زیب دیتی ہے جو تو چل رہا ہے " یہ اسی طرح کا طنزیہ کلام ہے جیسے قرآن مجید میں ایک اور جگہ فرمایا گیا ہے کہ دوزخ میں عذاب دیتے ہوئے مجرم انسان سے کہا جائے گا کہ ذق انک انت العزیز الکریم " لے چکھ اس کا مزا، بڑا زبردست عزت دار آدمی ہے تو "۔ (الدخان۔ 49)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 34–39

اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى، ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى لفظ اولی ویل کا مقلوب ہے۔ ویل کے معنے ہلاکت اور بربادی ہیں یہاں اس شخص کے لئے جس نے کفر و تکذیب ہی کو اپنا شعار بنائے رکھا اور دنیا کے مال و دولت میں مست رہا پھر اسی حال پر مر گیا اسکے لئے چار مرتبہ لفظ ہلاکت و بربادی استعمال کیا گیا کہ مرنے کے وقت پھر مرنے کے بعد قبر میں پھر حشر و نشر کے وقت پھر جہنم میں داخلے کے وقت یہ مصیبت و بربادی تیرا حصہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 34–35

’اَوْلٰی لَکَ فَاَوْلٰی ہ ثُمَّ اَوْلٰی لَکَ فَاَوْلٰی‘۔ ’اَوْلٰی‘ لفظ ’ویل‘ سے ہے جو زجر، اظہار حسرت و ملامت اور اظہار نفرت و غضب کے لیے آتا ہے۔ اس معنی میں یہ کلام عرب میں بکثرت آیا ہے۔ خنساء کا مشہور شعر ہے: ھممت بنفسی کل الھموم فَاَولٰی لنفسی اَوْلٰی لھا (میں نے اپنے نفس کے بارے میں طرح طرح کے ارادے کر ڈالے۔ پس افسوس ہے میرے نفس پر، افسوس ہے!) معلوم نہیں بعض مترجمین نے اس کا ترجمہ سزاوار کس طرح کر دیا ہے۔ یہ عربیت کے بھی خلاف ہے اور سیاق و سباق سے بھی بے جوڑ ہے۔ اوپر سے کلام غائب کے اسلوب میں آرہا تھا، اس آیت میں اسلوب خطاب کا آ گیا۔ اسلوب کی یہ تبدیلی افسوس اور نفرت کے اظہار میں شدت پر…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 31–35

12: یہ کسی خاص کافر کی طرف اشارہ بھی ہوسکتا ہے، اور کافروں کی عام حالت کا تذکرہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اتنے واضح دلائل کے سامنے آنے کے بعد بھی ماننے کے بجائے تکبر کا مظاہرہ کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 34–35

یہ ایک عام اصطلاحی انداز تعبیر ہے ، عربی روز مرہ کے مطابق ، مگر اس کے اندر تہدید اور ڈوراوا بھی ہوتا ہے۔ ایک بار حضور اکرم ﷺ نے ابوجہل کو گلے سے پکڑا اور کہا : اولی لک ................ فاولی (57 : 53) تو اللہ کے اس دشمن نے کہا : ” محمد کیا تم مجھے دھمکی دیتے ہو ؟ خدا کی قسم نہ تم اور نہ تمہارا رب میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو اور میں ان تمام لوگوں سے زیادہ معزز ہوں جو مکہ کے دونوں پہاڑوں کے درمیان کبھی چلے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے بدر کے دن اسے پکڑا اور یوں حضرت محمد ﷺ اور رب محمد ﷺ نے اس کا سب کھیل بگاڑ دیا۔ اور ابوجہل سے قبل فرعون نے بھی اپنی قوم سے کہا تھا۔ ماعلمت .................... غیری ” میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 34–35

12 یعنی او بدبخت اب تیری کم بختی آئی، ایک مرتبہ نہیں کئی مرتبہ اب تیرے لیے خرابی پر خرابی اور تباہی پر تباہی ہے۔ تجھ سے بڑھ کر اللہ کی نئی نئی سزاؤں کا مستحق اور کون ہوگا۔ (تنبیہ) شاید اول خرابی یقین نہ لانے اور نماز نہ پڑھنے پر، دوسری اس سے بڑھ کر جھٹلانے اور منہ موڑنے، پر تیسری اور چوتھی ان دونوں امور میں سے ہر ایک کو قابل فخر سمجھنے پر ہو۔ جس کی طرف۔ " ثُمَّ ذَہَبَ اِلٰی اَہْلِہٖ یَتَمَطّٰی " میں اشارہ ہے۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 33–35

آیت 33{ ثُمَّ ذَہَبَ اِلٰٓی اَہْلِہٖ یَتَمَطّٰی۔ } ”پھر چل دیا اپنے گھر والوں کے پاس اکڑتا ہوا۔“ ان آیات میں ایک شخص کی حق دشمنی ‘ ڈھٹائی اور اکڑفوں کی لفظی تصویر دکھائی گئی ہے۔ یہ تصویر سردارانِ قریش میں سے کسی خاص شخص کی بھی ہوسکتی ہے اور مجموعی طور پر ان کے عمومی کردار کی بھی۔ سردارانِ قریش کے اس رویے کی جھلک سورة صٓ کی اس آیت میں بھی دکھائی دیتی ہے : { وَانْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْہُمْ اَنِ امْشُوْا وَاصْبِرُوْا عَلٰٓی اٰلِہَتِکُمْج اِنَّ ہٰذَا لَشَیْئٌ یُّرَادُ۔ } ”اور چل پڑے ان کے سردار یہ کہتے ہوئے کہ چلو جائو اور جمے رہو اپنے معبودوں پر ‘ یقینا اس بات میں تو کوئی غرض پوشیدہ ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 29–34

18 یعنی سب سے پہلے پاؤں کی طرف سے جان نکلنا شروع ہوتی ہے۔ جب پنڈلیوں سے جان نکل چکتی ہے تو انسان میں یہ سکت نہیں رہتی کہ وہ ایک پنڈلی کو دوسری سے اٹھا کر الگ کرسکے۔ جب یہ کیفیت طاری ہوجائے تو سمجھ لو کہ سفر آخرت شروع ہوگیا اور میت کا اپنے پروردگار سے ملاقات کا وقت آگیا۔ بس یہی وقت ہے جس کے لئے کافر باربار پوچھتے اور اس کی جلدی کا تقاضا کرتے ہیں۔ جس شخص کو موت آگئی تو گویا پوری قیامت کے احوال اس پر منکشف ہونے لگ جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 34–35

19۔ یہ تکرار اور تاکید پر تاکید، دوسری زبانوں کی طرح عربی اسلوب بیان میں بھی کمال غضب اور وعید شدید کے اظہار کے لئے ہے۔ روایتوں میں آتا ہے کہ ایک بار رسول اللہ ﷺ نے ابوجہل کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا تھا (آیت) ” اولی لک فاولی، ثم اولی لک فاولی “۔ اس نے ہاتھ چھڑا لیا اور یہ کہتا ہوا چلا گیا کہ نہ تم میرا کچھ کرسکتے ہو نہ تمہارا خدا، حق تعالیٰ نے بجنسہ اس فقرہ کو قرآن میں نازل فرمادیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 31–39

ترجمہ : انسان نے نہ تو تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی، لیکن اس نے قرآن کی تکذیب کی اور ایمان سے روگردانی کی (خود پسندی) سے اتراتا ہوا اپنے گھر والوں کے پاس گیا، افسوس ہے تجھ پر اس میں غیبت سے (حاضر کی طرف) التفات ہے، اور (ویل) کلمہ اسم فعل ہے اور لام تبیین کے لئے ہے یعنی جس چیز کو تو ناپسند کرتا ہے، تجھ کو پیش آنے والی ہے حسرت ہے تجھ پر، پس وہ اولی ہے تیرے لئے یعنی وہ تیرے لئے دوسروں کے اعتبار سے بہتر ہے، پھر وائے ہے تیرے لئے اور خرابی ہے تاکید ہے کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اس کو بےکار چھوڑ دیا جائے گا ؟ کہ اس کو (احکام) و شرائع کا مکلف نہ بنایا جائے گا، کیا وہ منی کا نطفہ نہیں تھا جو ٹپکایا گیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اولی لک فاولی . جملہ بددعائیہ ہے ‘ تیری تباہی ہو یا تہدید و تخویف ہے (تیری تباہی ہوگی) گزشتہ کلام میں یتمطّٰی تک الانسَان کا ذکر بصیغۂ غائب تھا۔ اس جملہ میں طرز کلام میں نیرنگی اختیار کی اور خطاب کی ضمیر استعمال کی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 34–35

(34۔ 35) چناچہ حضور کے سامنے یہ آگیا آپ نے اسے پکڑ کر ایک مرتبہ یا دو مرتبہ حرکت دی اور فرمایا اے ابو جہل تیری کمبختی آنے والی ہے، چناچہ قرآن کریم میں یہ الفاظ اسی طرح نازل ہوگئے۔ شان نزول : اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى۔ ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى (الخ) ابن جریر نے عوفی کے واسطہ سے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی علیھا تسعۃ عشر تو ابوجہل نے قریش سے کہا کہ تمہاری مائیں تمہیں روئیں ابن ابی کبشہ یعنی حضور بتلاتے ہیں کہ جہنم کے خازن انیس ہیں اور تم پوری دنیا ہو کیا تم میں سے دس آدمیوں سے یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک جہنم کے خازن کو پچھاڑ دو ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے پاس…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 31–35

(1) فلا صدق ولاصلی…:”یتمطی“ ”م ط و“ سے ”تمطی“ کا مضارع ہے۔”مطا“ کا معنی پیٹھ ہے، یعنی اکڑتا ہوا۔”اولی“ ”و ل ی“ سے اسم تفصیل ہے، زیادہ لائق، زیادہ حق دار، زیادہ قریب۔ (2) ”فلاصدق“ (سو نہ اس نے سچ مان) میں ضمیر ”الانسان“ کی طرف جا رہی ہے جس کا اوپر ”ایحسب الانسان الن نجمع عظامہ“ میں ذکر ہے۔ یعنی یہ دیکھنے کے بعد کہ موت کے وقت انسان پر کیا گزرتی ہے اور کس طرح بےبس ہو کر اسے اپنے رب کی طرف روانہ ہوناپ ڑتا ہے، حق تو یہ تھا کہ وہ آخرت کو سچ مانتا اور اس دن کی نجات کے لئے نماز ادا کرتا اور اللہ کی زمین پر عجز و بندگی اختیار کرتا، مگر اس نے نہ قعیدہ کی اصلاح کی اور نہ عمل کی اور نہ لوگوں کے ساتھ اپنی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 34–35

اولی لک فاولی، ثم اولی لک فاولی۔ دھمکی کے بعد دھمکی ہے۔ وعید کے بعد وعید ہے۔ یہ چار چیزوں پر چار وعیدیں ہیں جس طرح روایت کی گئی ہے یہ ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی جو اپنے رب سے جاہل تھا یعنی اس نے رسول اللہ ﷺ کی تصدیق نہ کی میرے سامنے کھڑانہ ہوا کہ نماز پڑھتا بلکہ اس نے میرے رسول کی تکذیب کی اور میرے سامنے نماز پڑھنے سے روگردانی کی، تصدیق کو چھوڑنا ایک خصلت ہے جھٹلانا ایک خصلت ہے نماز چھوڑنا ایک خصلت ہے اللہ تعالیٰ سے روگردانی کرنا ایک خصلت ہے چار چیزوں کو چھوڑنے کی وجہ سے چار وعیدیں آئیں اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ یہ نہ کہا جائے، اللہ تعالیٰ کا فرمان، ثم ذھب الی اھلہ یتمطی، پانچویں خصلت ہے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 34–35

26۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید والنسائی وابن جریر وابن المنذر والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت اولیٰ لک فاولیٰ کے بارے میں پوچھا کیا یہ کلمات رسول اللہ ﷺ نے اپنی طرف سے ابوجہل کو کہے تھے۔ یا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم فرمایا تھا تو آپ نے فرمایا بلکہ آپ ﷺ نے اپنی طرف سے ابوجہل کو کہے تھے یا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم فرمایا تھا تو آپ نے فرمایا بلکہ آپ ﷺ نے پہلے یہ کلمات اپنی جانب سے اسے کہے پھر اس کو اللہ تعالیٰ نے بھی نازل فرمادیا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 34–35

﴿ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىۙ0034 ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىؕ0035﴾ (تیرے لیے کمبختی ہے پھر کمبختی ہے پھر تیرے لیے کمبختی ہے پھر کمبختی ہے) یہ جھٹلانے والے اور منہ موڑنے والے کے لیے وعید ہے اور وعید پر وعید ہے اور مطلب یہ ہے کہ تو نجات پانے والا نہیں ہے عذاب میں مبتلا ہوگا تو عذاب کا مستحق ہے اور عذاب تیرے حال سے قریب تر ہے، لفظ ” اولی “ ولی سے مشتق ہے، جس کا معنی قرب اور نزدیکی کا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تو عذاب کا مستحق ہے اور عنقریب ہی تیری کمبختی آنے والی ہے۔ حضرت قتادہ ؓ سے منقول ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے سنگریزوں والی زمین میں ابوجہل کے کپڑے پکڑے اور اسے آیت کریمہ ﴿ اَوْلٰى…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–40

احوال روز قیامت مع ذکر مناظر محشر وشدت کرب بوقت مرگ انسانی و حسرت وملال برمحرومی از ہدایت قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بیوم القیمۃ ........ الی ............. الیس ذلک بقدر علی ان یحی الموتی “۔ (ربط) گذشتہ سورت مدثر میں قیامت کے ظاہری احوال کا ذکر تھا اور یہ کہ قیامت کے قریب کیا کیا واقعات پیش آئیں گے اور قیامت کس طرح برپا ہوگی اب اس سورت میں قیامت کے باطنی احوال بیان کئے جارہے ہیں اور یہ کہ قیامت قائم ہونے پر انسان پر کیا کیفیات گزریں گی وہ کس طرح بےچین وبدحواس ہوگا نامہ اعمال کی پیشی نہایت ہی ہیبت ناک اور ہوش وحواش معطل کردینے والا مرحلہ ہوگا اور اس وقت نافرمان اور فاجر و بدکار انسان کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 31–35

12:۔ ” فلا صدق، یہ منکرین حشر و نشر اور جاحدین جزاء وسزا پر زجر ہے۔ اس نے نہ تو توحید و رسالت اور حشر و نشر کو مانا، ایمان لایا نہ نماز پڑھی، نہ دوسرے اعمال صالحہ کی طرف توجہ دی بلکہ تمام ضروریات دین، توحید، رسالت، قیامت وغیرہا کا انکار کیا اور قرآن و ایمان سے اعراض کیا اور کبر و غرور سے اکڑتا ہو اپنے اہل کی طرف چلا گیا تو اب اس کے لیے ہلاکت و تباہی کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے ؟ اولی لک فاولی، ثم تعقیب ذکری کے لیے ہے، تمہارے لیے ہلاکت ہے ہلاکت پھر کہتا ہوں تمہارے لیے ہلاکت ہے ہلاکت، تھدید بعد تھدید ووعید بعد وعید (قرطبی ج 19 ص 112) ۔

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 34–35

اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى۝ 34 ۙ ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى۝ 35 ۭ أَوْلَى ويقال : فلان أَوْلَى بکذا . أي أحری، قال تعالی: النَّبِيُّ أَوْلى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ [ الأحزاب/ 6] ، إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْراهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ [ آل عمران/ 68] ، فَاللَّهُ أَوْلى بِهِما [ النساء/ 135] ، وَأُولُوا الْأَرْحامِ بَعْضُهُمْ أَوْلى بِبَعْضٍ [ الأنفال/ 75] وقیل : أَوْلى لَكَ فَأَوْلى[ القیامة/ 34] من هذا، معناه : العقاب أَوْلَى لک وبك، وقیل : هذا فعل المتعدّي بمعنی القرب، وقیل : معناه انزجر . ويقال : وَلِيَ الشیءُ الشیءَ ، وأَوْلَيْتُ الشیءَ شيئا آخرَ أي : جعلته يَلِيهِ ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 31–40

ترکیب : فلاصدق ای لم یصدق لابمعنی لم و العرب تقول لاذہب ای لم یذہب وھذا کثیر فی کلام العرب قالہ الکسائی والاخفش وقیل لابمعنی ماوھو معطوف علیٰ قولہ یسئل ایان الخ والضمیر الفاعل نے لاصدق ولاصلی للانسان المذکور فی قولہ ایحسب الانسان الخ یتمطیٰ حال من فاعل ذہب یتمطی فیہ قولان (الاول) ان اصلہ یتمطط ای یتمدولان المتبختر یمد خطا و فقلبت الطاء فیہ یاء کما قیل فی تقضٰی صلہ تقضض (والثانی) من الط و ھوا لظھر لانہ یلویہ فعلی الاول الالف مَبَّدلۃ من طائٍ وعلی الثانی من واوٍ اولیٰ لک فیہ قولان الاول انہ اسم فعل مبنی علی السکون و معناہ ولیک ماتکرھمہ والفاعل ضمیر مستتریعود علی مایفھم من السیاق وھوالدعاء علیہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 31–35

فَلاَ صَدَّقَ وَلاَ صَلّٰے۔ وَلٰـکِنْ کَذَّبَ وَتَوَلّٰی۔ ثُمَّ ذَھَبَ اِلٰٓی اَھْلِہٖ یَتَمَطّٰی۔ اَوْلٰی لَکَ فَاَوْلٰی۔ ثُمَّ اَوْلٰی لَکَ فَاَوْلٰی۔ (القیامۃ : 31 تا 35) (پس اس نے نہ تو سچ مانا اور نہ نماز پڑھی۔ بلکہ جھٹلایا اور منہ موڑا۔ پھر اکڑتا ہوا اپنے گھر والوں کی طرف چل دیا۔ افسوس ہے تجھ پر افسوس ہے۔ پھر افسوس ہے تجھ پر افسوس ہے۔ ) منکرینِ آخرت کی کیفیت اور انجام آخرت کا منکر ایسا سنگدل ہوجاتا ہے کہ نہ اس پر دلائل اثرانداز ہوتے ہیں نہ قیامت کی ہولناکی اس کی سنگدلی میں کمی کرتی ہے۔ نہ موت کا اندوہناک منظر اس کی بےحسی اور غفلت کو توڑتا ہے۔ چناچہ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 31–36

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے منکر کو موت کے وقت اس لیے زیادہ تکلیف ہوتی ہے کیونکہ وہ نہ قیامت پر یقین رکھتا ہے اور نہ نمازی ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موت کے لمحات بڑے سخت ہوتے ہیں، ان لمحات سے مراد وہ لمحات ہیں جو روح نکلنے سے پہلے شروع ہوتے ہیں۔ جب مومن کی روح نکلنا شروع ہوتی ہے تو اس کے لیے وہ لمحات بہت آسان کر دئیے جاتے ہیں، جس کا حوالہ پچھلی آیت کی تفسیر میں دیا گیا ہے۔ جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لایا اور نہ اس نے قیامت کی تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی، نزع کے وقت اس کی بری حالت ہوتی ہے۔ اس کی حالت کا درج ذیل حدیث میں ذکر کیا گیا ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ وہ اعتقاداً یا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

34 : اَوْلٰی لَکَ فَاَوْلٰی (تیری کم بختی پر کم بختی آنے والی ہے) اس کا معنی ویل لک ہے۔ یہ بددعا ہے۔ کہ تمہاری ناپسند چیز تو اب تمہارے سامنے ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 34–35

33 ۔” ثم ذھب الی اھلہ “ ان کی طرف لوٹا۔ ” یتمطی “ اکڑتا ہوا اور اترا کر چلتا ہوا۔ کہا گیا ہے اس کی اصل ” یتمطط “ یعنی یتمدد اور والمط بمعنی کھینچنا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 26–40

26۔ 40۔ اوپر ان اہل دنیا کا ذکر تھا جنہوں نے دنیا کے پیچھے اپنی عقبی کو برباد کردیا ان آیتوں میں انہی لوگوں کے خبردار کرنے کے لئے فرمایا کہ جس طرح ان لوگوں نے خیال کرلیا ہے کہ دنیا ایک پائیدار چیز ہے وہ بات ہرگز نہیں ہے یہ لوگ دنیا کو نہ چھوڑیں دنیا کے پیچھے عمر بھر عقبیٰ کو برباد کریں۔ پھر آخر یہ دنیا کی گرویدگی عقبیٰ کی بربادی کب تک۔ ان کے بڑوں میں سے کوئی ہمیشہ جیا ہے جو یہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ قبر ‘ حشر ‘ قیامت کی باتیں تو بھلا آنکھوں کے سامنے نہیں ہیں کیا کسی کی یہ حالت بھی ان کی آنکھوں کے سامنے نہیں گزری کہ آخری وقت آن پہنچا اور جان سارے جسم میں سے کھنچ کر حلق میں آگئی۔ ایسے حکیم یا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 33–35

(اِلٰٓى اَهْلِهٖ يَتَمَطّٰى) اپنے گھروالوں کی طرف اکڑتا ہوا۔ یعنی اس کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو وعید سنائی فرمایا (اولی لک فاولی، ثم اولی لک فاولی) افسوس ہے تجھ پر، پھر افسوس ہے، پھر افسوس ہے تجھ پر، پھر افسوس ہے۔ یہ وعید کے کلمات ہیں اور تکرار وعید کے لیے ان کو مکرر کہا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 15–40

قول باری ہے (ولو القی معاذیرہ۔ چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ خواہ وہ اعتذار کیوں نہ کرے۔ ایک قول کے مطابق اپنی ذات پر اس کی اپنی گواہی جو اس کے اعضاء وجوارح دیں اس کے اعتذاد سے اولیٰ ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت کے الفاظ میں جب ان تمام معانی کا احتمال موجود ہے تو آیت کو ان پر محمول کرنا واجب ہے، کیونکہ ان معانی کے مابین کوئی منافات نہیں ہے۔ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اس ذات کے بارے میں اس کا قول قابل قبول ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو اس کی ذات پر حجت اور شاہد کی حیثیت دی ہے۔ انسان کا اپنی ذات کے بارے میں آگاہ ہونے کو اسے اپنی ذات پر گواہ ہونے سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 34–35

33 منکر انسان کیلئے مکرر طور پر اظہار نفرت و غضب۔ والعیاذ باللہ : سو اس کیلئے مکرر طور پر نفرت و غضب کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ ہاں ہلاکت ہے تیرے لئے اے بدبخت انسان پھر ہلاکت : روایات میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ابوجہل کا ہاتھ پکڑ کر اس کو یہ آیتیں سنائیں ‘ تو اس نے غضبناک ہو کر کہا کہ محمد تم مجھے ڈراتے ہو قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ تم اور تمہارا رب دونوں مل کر بھی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ‘ میں اس وادی میں سب سے زیادہ عزت والا اور طاقتور انسان ہوں ‘ مگر اللہ پاک کا کرنا ایسا ہوا کہ اس کے کچھ ہی عرصہ بعد معرکہ بدر میں وہ ملعون نہایت ذلت کی موت مر کر واصل جہنم ہوا ‘ والعیاذ باللہ اس طرح ان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 16–40

اللہ کا وعدہ وحی کے بارے میں اور دوبارہ زندہ کرنے کا تشریح : قیامت کا بیان کرتے کرتے وحی کے بارے میں حکم آگیا ہے۔ جیسا کہ شروع میں بتایا گیا ہے کہ یہ سورت مکی زندگی کے شروع میں نازل ہوئی۔ تو اس وقت آپ ﷺ کا تجربہ وحی کے سلسلے میں کچھ کم ہی تھا اس لیے فرمایا کہ وحی کے آنے پر گبھرا کر ساتھ ساتھ پڑھنے کی ضرورت نہیں بلکہ آپ صرف دھیان سے سن لیا کریں اس کو آپ کے ذہن میں بٹھانا اور اس کے مطالب واضح کرنا یہ اللہ کا کام ہے وہ خود ہی اپنی قدرت سے یہ دونوں کام کردے گا آپ ﷺ تو صرف غور سے سنتے رہیں۔ پھر دوبارہ قیامت کے بیان سے رابطہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ نیک و بد اپنے کاموں سے تو اچھی طرح آگاہ ہوتے ہیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 31–40

آیات 31 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ کافر نے نہ تو تصدیق کی نہ ایمان لایا اور نہ اللہ سے تعلق جوڑا جو اس کی عبادت کے ذریعے جوڑا جاسکتا تھا بلکہ سارے دین یعنی نظام حیات کا انکار کردیا اور اس سے منہ موڑ لیا اور اپنے اہل و عیال اور دولت دنیا میں منہمک ہوگیا بڑے فخر اور تکبر کے ساتھ تباہ ہوگیا تباہ ہوگیا ، تباہ ہوگیا ۔ یعنی زندگی میں موت میں برزخ میں اور حشر میں ہر جگہ اپنے لیے تباہی خریدلی کیسا بیوقوف ہے سمجھتا ہے حساب کتاب نہ ہوگا اور یونہی عالم ختم ہوجائے گا حالانکہ ایک مربوط نظام ہے خود یہ ایک قطرہ منی سے بنایا گیا پھر شکم مادر میں محض خون تھا جماہوا پھر اسے انسان بناکرزندگی دی اور اس میں مردو عورت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 31–35

ف 13 حضرت بن عباس کہتے ہیں کہ یہ الفاظ رسول اللہ ﷺ نے ابوجہل سے فرمائے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں قرآن میں نازل فرمایا۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(75:34) اولی لک فاولی : اولی افعل التفضیل کا صیغہ ہے (جملہ بددعائیہ ہے) زیادہ لائق ۔ زیادہ قریب۔ زیادہ مستحق۔ ولی سے۔ جس کے معنی پے در پے اور مسلسل واقع ہونے کے ہیں اور اسی لحاظ سے قریب ہونے کے معنی میں آیا ہے۔ النبی اولی بالمومنین من انفسہم (33:6) پیغمبر مؤمنوں پر ان کی جان سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں۔ اور پیغمبر کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔ جب اولی کا صلہ لام واقع ہو (جیسا کہ آیت زیر مطالعہ میں) تو یہ ڈانٹ اور دھمکی کے لئے آتا ہے اس صورت میں برائی اور خرابی سے زیادہ قریب اور اس کے زیادہ مستحق ہونے کے معنی ہونگے۔ سو اولی لک فاولی کے معنی ہوں گے۔ تیرے لئے خرابی ہی خرابی ہے۔ گذشتہ کلام میں یتمطی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 16–40

لغات القرآن۔ لاتحرک۔ حرکت نہ دے۔ قرانہ۔ اس کو پڑھوا دینا۔ بیانہ۔ اس کو کھول دینا۔ بیان کرا دینا۔ العاجلۃ ۔ جلد ملنے والی چیز۔ ناضرۃ ۔ تروتازہ۔ باسرۃ۔ اداس ہونے والے۔ فاقرہَ کمر کو توڑ دینے والی۔ تراقی۔ ہنسلی۔ راق۔ جھاڑ پھونک کرنے والا۔ التفت۔ لپٹ گئی۔ المساق۔ چلنا۔ روانگی۔ یتمطی۔ اکڑتا ہوا۔ اولی لک۔ تیرے لئے خرابی ہے۔ سدی۔ یوں ہی ۔ یمنی۔ ٹپکائی گئی۔ یحییٰ ۔ وہ زندہ کرتا ہے۔ الموتی۔ مردے۔ بےجان۔ تشریح : حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ (ابتداء میں) جب نبی کریم ﷺ پر قرآن نازل کیا جاتا تو آپ اس خوف سے کہیں کسی چیز ( آیات قرآنی) کو بھول نہ جائیں تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے ساتھ جلدی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 34–40

(ف 1) شان نزول : نسائی ، تفسیر ابن جریر وغیرہ میں معتبر سند سے حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت ہے کہ ابوجہل کی طرح طرح کی شرارتوں کے سبب سے ایک روز نبی ﷺ نے ابوجہل کی چادر کا پلو پکڑ کر فرمایا کہ تیری خرابی آلگی ، اب آلگی پھر تیری خرابی آلگی اب آلگی، تو ابوجہل نے کہا، اے محمد ﷺ کیا تم مجھے دھمکاتے ہو، تم اور تمہارا رب میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ مکہ کے پہاڑوں کے درمیان میں سب سے زیادہ قوی زورآور صاحب شوکت وقوت ہوں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کے کلام کی صداقت کے طور پر یہی الفاظ ان آیتوں میں نازل فرمائے اور اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے قرآنی خبر ضرور پوری ہوتی تھی اور آن حضرت کا فرمان ضرور پورا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 26–40

[13] یعنی آخرت کو ہرگز دور نہ سمجھو۔ اس سفر آخرت کی پہلی منزل تو موت ہے جو بالکل قریب ہے۔ یہیں سے باقی منزلیں طے کرتے ہوئے اپنے ٹھکانے پر جا پہنچو گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 33–38

ف 1: ان آیتوں میں بتایا ہے ۔ کہ جو بات آخرت میں کام آنے والی ہے وہ اعمال صالحہ ہیں ۔ اور وہ جس نے ساری عمر نافرمانی اور معصیت میں بسر کی ۔ جس نے کبھی خدا کی راہ میں کچھ نہیں دیا ۔ جس نے کبھی مسجد تک آنے کی زحمت گوارا نہیں کی ۔ بلکہ ہمیشہ روگردانی اور تکذیب سے کام لیا ۔ اور اکڑتا ہوا ۔ اپنے گھر کو چل دیتا تھا ۔ وہ آج یوم الحساب کے دن کسی رعایت کا مستحق نہیں ۔ اس پر کم بختی آنے والی ہے ۔ اور ضرور کم بختی آنے والی ہے ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 29–38

ف 9۔ مراد اس سے ظہور سکرات موت ہے کچھ تخصیص التفات کی نہیں، اس کا ذکر تمثیلا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 31–35

(تو) ابو جہل نے (نہ تصدیق کی) قرآن کی۔ یا ۔۔۔ نہ صدقہ دیا جو کچھ مال میں سے دینا واجب تھا (اور نہ نماز پڑھی) خدا کے وسطے یا ۔۔۔ نہ پیروی کی پیغمبر کی (لیکن جھٹلایا) پیغمبر کو (اور باز رہا) راہ حق سے۔ تکذیب کا ذکر خاص طور پر اس لیے کردیا کیونکہ تصدیق نہ کرنا تکذیب کو مستلزم نہیں ، تو اس بدبخت نے تصدیق نہ کرنے کے ساتھ ساتھ تکذیب بھی کرڈالی۔ (پھر گیا اپنے والوں کی طرف) اس حال میں کہ (اکڑ رہا ہے) اور فخر و افتخار کی راہ سے ٹہل رہا ، ہے کہ میں نے ایسا ایسا کام کیا ہے ، یعنی تکذیب بھی کی ہے اور بےرخی بھی برتی ہے۔ تو اے ابو جہل سن لے ! کہ سزاوار ہے تجھ کو مت سخت ، تو (تیرا برا ہو) موت کے وقت۔ ۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 34–39

اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى '[ It will be said to such a man,] Woe to you, then woe to you! Again, woe to you, then woe to you!...(75:34-35) The word aula is the inverted form of wail which means ' The expression 'woe' has been mentioned four times for the has made it his habit to deny and reject, and was steeped in died in that state. Therefore, destruction has been heaped times: [ 1] at the time of death; [ 2] in the grave; [ 3] at Resurrection; and finally [ 4] at the time of entering Hell. destruction'. person who wealth, and on him four the time of

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 33–34

21 It means that the one who was not prepared to believe in the Hereafter, heard all that has been described in the above verses; yet he persisted in his denial, and hearing these verses went back to his household, arrogantly. Mujahid, Qatadah and Ibn Zaid say that this person was Abu Jahl. The words of the verse also indicate that it was some particular person, who adopted such a conduct after having heard the above-mentioned verse of Surah Al-Qiyamah. The words, "He neither affirmed the Truth nor offered the Prayer", are particularly noteworthy. They clearly show that the first and…

Read the full tafseer →