75. Surah Al-Qiyaama

القيامةThe Resurrection · 40 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayah 75:1

لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَةِۙ Open ayah 75:1 in the Quran reader

ہم کو روز قیامت کی قسم۔

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، (لا اقسم) میں لا زائدہ ہے، میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی اور قسم کھاتا ہوں بہت ملامت کرنے والے نفس کی کہ جو خود کو ملامت کرے، باوجود یکہ وہ نیکی کرنے میں جدوجہد کرتا ہے، اور جواب قسم محذوف ہے، یعنی تم کو ضرور زندہ کیا جائے گا، (اس حذف پر) ایحسب الانسان الخ دلالت کرتا ہے، کیا یہ کافر انسان یہ سمجھتا ہے کہ بعث اور حیات کے لئے ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہ کریں گے ؟ کیوں نہیں ! ہم ان کو ضرور جمع کریں گے ہم ان کے جمع کرنے پر قادر ہونے کے ساتھ ساتھ اس پر بھی قادر ہیں کہ اس کی پور پور درست کردیں (بنان) انگلیاں، یعنی ہم اس کی ہڈیوں کو چھوٹا ہونے کے باوجود اس حالت پر لوٹا دیں گے جس حالت پر وہ تھیں، تو بڑی ہڈیوں کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ بلکہ انسان یہ چاہتا ہے کہ آنے والی قیامت کو جھٹلا دے، لام زائدہ ہے اور اس کا نصب ان مقدرہ کی وجہ سے ہے، اس پر یسال ایان یوم القیامۃ دلالت کرتا ہے، وہ استہزاء اور تکذیب کے طور پر، سوال کرتا ہے کہ قیامت کا دن کب آئے گا ؟ پس جب کہ نگاہیں خیرہ ہوجائیں گی (چندھیا جائیں گی) برق راء کے کسرہ اور فتحہ کے ساتھ ہے یعنی مدہوش و متحیر ہوجائیں گی جب کہ وہ ان چیزوں کو دیکھے گا جن کی وہ تکذیب کیا کرتا تھا، اور چاند بےنور ہوجائے گا (یعنی) تاریک ہوجائے گا، اور اس کی روشنی ختم ہوجائے گی، اور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیں گے بایں طور کہ دونوں مغرب سے طلوع ہوں گے، یا دونوں کی روشنی ختم ہوجائے گی، اور ایسا قیامت کے دن ہوگا، اس دن انسان کہے گا آج بھاگنے کی جگہ کہاں ہے ؟ ہرگز نہیں ! یہ فرار کی تردید ہے، کوئی پناہ گاہ نہیں، یعنی ایسا کوئی ٹھکانہ نہیں کہ جس میں وہ پناہ لے سکے، آج تو تیرے پروردگار ہی کی طرف فرارگاہ ہے (یعنی) مخلوق کا ٹھکانہ ہے، لہٰذا ان کا حساب لیا جائے گا اور ان کو صلہ دیا جائے گا اس انسان کو اگلے پچھلے سب اعمال سے آگاہ کردیا جائے گا یعنی اس کا اول عمل بھی اور آخر عمل بھی بتلا دیا جائے گا بلکہ انسان خود اپنے نفس پر شاہد ہوگا، اس کے اعضاء اس کے اعمال کی گواہی دیں گے، بصیرۃ (میں) ھا مبالغہ کے لئے ہے لہٰذا اس کی جزاء کا واقع ہونا ضروری ہے، اگرچہ کتنے ہی حیلے بہانے پیش کرے، معاذیرۃ، معذرۃ کی جمع غیر قیاسی ہے، یعنی اگرچہ ہر قسم کے حیلے بہانے پیش کرے گا مگر قبول نہیں کئے جائیں گے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم اس کو ضرور آگاہ کردیں گے (اے نبی ! ) آپ ﷺ قرآن پڑھنے کے لئے جبرئیل (علیہ السلام) کے اس سے فارغ ہونے سے پہلے اپنی زبان کو قرآن کے فوت ہونے کے اندیشہ کے پیش نظر عجلت کرتے ہوئے حرکت نہ دیجئے، آپ ﷺ کے سینے میں اس کا جمع کرنا اور آپ ﷺ کو اس کا پڑھوانا ہمارے ذمہ ہے یعنی اس کا آپ ﷺ کی زبان پر جاری کرنا (ہمارے ذمہ ہے) پس جبرئیل (علیہ السلام) کی قرأت کے ذریعہ آپ ﷺ سنیں تو آپ ﷺ اس کی قرأت کی سماعت فرمائیں چناچہ آپ ﷺ (اول) سنتے پھر اس کو پڑھتے، پھر آپ ﷺ کو سمجھانے کے لئے اس کا واضح کردینا ہمارے ذمہ ہے اس آیت اور سابقہ آیت کے درمیان مناسبت یہ ہے کہ وہ آیت خدا کی آیتوں سے اعراض (کے مضمون) پر مشتمل ہے اور یہ آیت اللہ کے آیتوں کی حفاظت کی طرف سبقت (کے مضمون پر) مشتمل ہے (گویا کہ دونوں آیتوں میں علاقہ ٔ تضاد ہے لہٰذا دونوں آیتیں بےربط نہیں ہیں) ہرگز ایسا نہیں ! کلا بمعنی الا استفتاح کے لئے ہے، بلکہ تم دنیا کو محبوب رکھتے ہو، دونوں فعلوں میں یاء اور تاء کے ساتھ اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو، کہ اس کے لئے عمل نہیں کرتے، اس دن یعنی قیامت کے دن بہت سے چہرے تروتازہ اور بارونق ہوں گے، اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے یعنی آخرت میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کو دیکھ رہے ہوں گے اور بہت سے چہرے اس روز بدرونق (اداس) بگڑے ہوئے ہوں گے یقین کرتے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑنے والا معاملہ کیا جائے گا یعنی ایسی مصیبت نازل کی جائے گی کہ کمر کے منکوں کو توڑ کر رکھ دے گی، ہرگز ایسا نہیں ! کلا بمعنی الا ہے، جب روح حلق کی ہڈیوں (ہنسلی) تک پہنچے گی اور کہا جائے گا اور کہنے والے وہ ہوں گے جو اس (مرنے والے) کے آس پاس ہوں گے، کیا کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا ہے ؟ کہ اس پر جھاڑ پھونک کرے، تاکہ اس کو شفاء ہوجائے، اور جس شخص کی روح حلق میں پہنچے گی وہ یقین کرلے گا کہ یہ دنیا کو ترک کرنے کا وقت ہے اور موت کے وقت پنڈلیاں آپس میں لپٹ جائیں گی یا دنیا کو چھوڑنے کی تکلیف آخرت میں داخل ہونے کی تکلیف سے لپٹ جائے گی، آج تیرے پروردگار کی طرف چلنا ہے مساق بمعنی سوق ہے اور یہ اذا میں عامل پر دلالت کرتا ہے یعنی یہ ہیں، جب روح حلق میں پہنچے گی تو اس کو اس کے رب کے حکم کی طرف لے جایا جائے گا۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : لا اقسم، لا قسم پر زائدہ ہے، اور یہ کلام عرب میں نظم و نثر میں کثیر الوقوع ہے، قال امرئو القیس ؎ ولا وابیک ابنۃ العامری لا یدعی القوم انی افر اور کہا گیا ہے کہ لا نافیہ ہے، مقصد دعویٰ خصم کو رد کرنا ہے، یہاں لا منکرین بعث پر رد کرنے کے لئے لایا گیا ہے، گویا کہ کہا ” لیس الامر کما زعموا اقسم الخ “ اور جیسا کہ کہا جاتا ” لا واللہ “ قولہ : الن نجمع، ان مخففہ عن الثقیلہ ہے اس کا اسم ضمیر شان محذوف ہے، ای انہ اور لن اور اس کا مدخول ان کی خبر ہے، ان اپنے اسم و خبر سے مل کر جملہ ہو کر حسب کے دو مفعولوں کے قائم مقام ہے، (الن) میں ہمزہ اور لام کے درمیان نون نہیں ہے، یہ رسم مصحف کے طور پر ہے۔ قولہ : قادرین یہ فعل مقدر نجمعھا کی ضمیر فاعل سے حال ہے۔ قولہ : برق البصر، برق میں د قرأتیں ہیں، راء کے کسرہ کے ساتھ اور فتحہ کے ساتھ، کسرہ کی صورت میں متحیر اور خیرہ ہونے کے معنی ہیں اور فتحہ کی صورت میں دھش کے معنی ہیں، مفسر علام نے دونوں معنی کی طرف اشارہ کردیا ہے۔ قولہ : یقول الانسان یہ اذا کا جواب ہے۔ قولہ : بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ، بل الانسان مبتداء ہے بصیرۃ خبر، یہاں انسان سے مراد جوارح (اعضاء) ہیں جو کہ جمع ہے لہٰذا مطابقت موجود ہے مفسر علام نے تنطق جوارحہ کہہ کر اس جواب کی طرف اشارہ کیا ہے۔ دوسرا جواب : دوسرے جواب کا حاصل یہ ہے کہ بصیرۃ میں تاء مبالغہ کی ہے نہ کہ تانیث کی، لہٰذا کوئی اعتراض ہی پیدا نہیں ہوتا۔ قولہ : ما قبلت منہ مفسر علام نے اس عبارت کا اضافہ کر کے اشارہ کردیا کہ ولو القی میں لو شرطیہ ہے اور ما قبلت اس کی جزاء مقدر ہے۔ قولہ : انہ، ای النازل بہ۔ تفسیر و تشریح لا اقسم، کلام کی ابتداء، ” نہیں “ سے کرنا خود بخود اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ پہلے سے کوئی بات چل رہی تھی جس کی تردید میں یہ سورت نازل ہوئی ہے اور اگلے مضمون سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ وہ کیا بات تھی جس کی تردید مقصود ہے، اور وہ قیامت اور آخرت کی زندگی کے بارے میں تھی جس کا اہل مکہ انکار کر رہے تھے بلکہ ساتھ ہی ساتھ اس کا مذاق بھی اڑا رہے تھے۔ قرآن کریم نے نفس انسانی کی تین قسموں کا ذکر کیا ہے، (1) ایک وہ نفس جو انسان کو برائیوں پر اکساتا ہے اس کا نام ” نفس امارہ “ ہے، (2) وہ نفس جو غلط کام کرنے یا غلط سوچنے یا بری نیت رکھنے پر نادم ہوتا ہے اور خود کو اس پر ملامت کرتا ہے، اس کا نام ” نفس لوامہ “ ہے، اسی کو آج کل کی اصطلاح میں ضمیر کہتے ہیں، (3) وہ نفس جو صحیح راہ پر چلنے اور غلط راہ چھوڑنے پر اطمینان محسوس کرتا ہے اس کا نام ” نفس مطمئنہ “ ہے۔ حسن بصری (رح) تعالیٰ نے ” نفس لوامہ “ کی تفسیر ” نفس مؤمنہ “ سے کی ہے اور فرمایا واللہ مومن تو ہمیشہ اور ہرحال میں اپنے نفس کو ملامت ہی کرتا رہتا ہے، سیئات پر ملامت تو ظاہر ہی ہے، حسنات اور نیک کاموں میں بھی وہ بہ مقابلہ شان حق سبحانہ کے، کمی اور کو تایہ محسوس کرتا ہے کیونکہ حق عبادت پورا ادا کرنا تو کسی کے بس کی بات نہیں ہے اس لئے ادائے حق میں کوتاہی اس کے پیش نظر رہتی ہے اس پر وہ ملامت کرتا رہتا ہے۔
Ayahs 75:2–12

وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِؕ Open ayah 75:2 in the Quran reader

اور نفس لوامہ کی (کہ سب لوگ اٹھا کر کھڑے کئے جائیں گے)

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗؕ Open ayah 75:3 in the Quran reader

کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی (بکھری ہوئی) ہڈیاں اکٹھی نہیں کریں گے۔

بَلٰى قٰدِرِیْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَهٗ Open ayah 75:4 in the Quran reader

ضرور کریں گے اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی پور پور درست کریں۔

بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَهٗۚ Open ayah 75:5 in the Quran reader

مگر انسان چاہتا ہے کہ آگے کو خود سری کرتا جائے

یَسْئَلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَةِؕ Open ayah 75:6 in the Quran reader

پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب ہوگا ؟

فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ Open ayah 75:7 in the Quran reader

جب آنکھیں چندھیا جائیں

وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:8 in the Quran reader

اور چاند گہنا جائے

وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:9 in the Quran reader

اور سورج اور چاند جمع کردیے جائیں

یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّۚ Open ayah 75:10 in the Quran reader

اس دن انسان کہے گا کہ (اب) کہاں بھاگ جاؤں

كَلَّا لَا وَزَرَؕ Open ayah 75:11 in the Quran reader

بیشک کہیں پناہ نہیں

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمُسْتَقَرُّؕ Open ayah 75:12 in the Quran reader

اس روز پروردگار ہی کے پاس ٹھکانہ ہے

نفس امارہ، لوامہ، مطمئنہ : حضرات صوفیائے کرام نے اس میں یہ تفصیل کی ہے کہ نفس اپنی جبلت اور فطرت کے اعتبار سے (امارۃ بالسوء) ہوتا ہے مگر ایمان اور عمل صالح اور ریاضت و مجاہدہ سے یہ ” نفس لو امہ “ بن جاتا ہے مگر برائی سے بالکلیہ اس کا انقطاع نہیں ہوتا، آگے عمل صالح میں ترقی اور قرب حق کے حصول میں کوشش کرتے کرتے جب اس کا یہ حال ہوجائے کہ شریعت اس کی طبیعت ثانیہ بن جائے اور خلاف شرع کام سے طبعی نفرت بھی ہونے لگے تو اس نفس کا لقب ” مطمئنہ “ ہوجاتا ہے۔ یکایک سلسلہ کلام کو موقوف کر کے آیت 16 سے 19 تک جملہ معترضہ کے طور پر آپ ﷺ نے فرمایا جاتا ہے کہ اس وحی کو یاد کرنے کے لئے آپ ﷺ اپنی زبان مبارک کو حرکت نہ دیجئے اس کو یاد کرانا اور پڑھوانا ہمارا کام ہے الخ، اس کے بعد آیت 20 سے پھر وہی مضمون شروع ہوجاتا ہے جو شروع سے چلا آرہا ہے، یہ جملہ معترضہ اپنے موقع و محل سے اور روایات کی رو سے بھی اس بنا پر دوران کلام میں وارد ہوا ہے کہ جس وقت حضرت جبرئیل (علیہ السلام) یہ سورة حضور ﷺ کو سنا رہے تھے اس وقت آپ ﷺ اس اندیشہ سے کہ کہیں بعد میں بھول نہ جائوں اس کے الفاظ اپنی زبان مبارک سے دھراتے جا رہے تھے، بعد میں جب آپ ﷺ کو اچھی طرح مشق ہوگئی اور تحمل وحی کی عادت پڑگئی تو اس قسم کی ہدایت دینے کی ضرورت نہیں رہی، لہٰذا وہ شبہ بھی ختم ہوگیا کہ آیت نمبر 14 اور 15 میں کوئی جوڑ اور ربط نہیں ہے جس کو مفسر علام نے علاقہ تضاد ثابت کر کے علاقہ ثابت کرنے کی بایں طور کوشش کی ہے کہ سابقہ آیات میں آیات سے اعراض کا ذکر تھا اور ان آیات میں سبقت الی الآیات کا ذکر ہے، اور یہی علاقہ تضاد ہے۔
Ayah 75:13

یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَؕ Open ayah 75:13 in the Quran reader

اس دن انسان کو جو عمل اس نے آگے بھیجے اور جو پیچھے چھوڑے ہونگے سب بتادئیے جائیں گے

ینبوا الانسان یومئذ بما قدم واخر، یہ ایک بڑا جامع فقرہ ہے، اس کے کئی معنی ہوسکتے ہیں، ایک معنی اس کے یہ ہیں کہ آدمی کو اس روز یہ بھی بتادیا جائے گا کہ اس نے اپنی دنیا کی زندگی میں مرنے سے پہلے کیا نیکی یا بدی کما کر اپنی آخرت کے لئے آگے بھیجی تھی ؟ اور یہ حساب بھی اس کے آگے رکھ دیا جائے گا کہ اچھے یا برے اعمال کے کیا اثرات وہ اپنے پیچھے دنیا میں چھوڑ آیا تھا جو اس کے بعد مدتہائے دراز تک آنے والی نسلوں میں چلتے رہے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ اسے وہ سب کچھ بتادیا جائے گا جو اسے کرنا چاہیے تھا مگر اس نے نہیں کیا اور جو کچھ نہ کرنا چاہیے تھا مگر اس نے کر ڈالا، تیسرے معنی یہ ہیں کہ جو کچھ اس نے پہلے کیا اور جو کچھ بعد میں کیا اس کا پورا حساب تاریخ وار اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا، چوتھے معنی یہ ہیں کہ جو نیکی یا بدی اس نے کی وہ بھی اسے بتادی جائے گی اور جن نیکی یا بدی کے کرنے سے وہ باز رہے اس سے بھی اسے آگاہ کردیا جائے گا۔
Ayahs 75:14–15

بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِیْرَةٌۙ Open ayah 75:14 in the Quran reader

بلکہ انسان آپ اپنا گواہ ہے

وَّ لَوْ اَلْقٰى مَعَاذِیْرَهٗؕ Open ayah 75:15 in the Quran reader

اگرچہ عذر و معذرت کرتا رہے

بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ، انسان کا اعمال نامہ اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا مگر اس رکھنے کی غرض درحقیقت یہ نہیں ہوگی کہ مجرم کو اس کا جرم بتایا جائے بلکہ ایسا کرنا تو اس وجہ سے ضروری ہوگا کہ انصاف کے تقاضے برسر عدالت جرم کا ثبوت پیش کئے بغیر پورے نہیں ہوتے ورنہ ہر انسان خوب جانتا ہے کہ وہ خود کیا ہے ؟ اپنے آپ کو جاننے کے لئے وہ اس کا محتاج نہیں ہوتا کہ کوئی دوسرا اسے بتائے کہ وہ خود کیا ہے ؟ ایک جھوٹا دنیا بھر کو دھوکا دے سکتا ہے لیکن اسے خود کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے، ایک چور لاکھ حیلے بہانے اپنی چوری چھپانے کے لئے اختیار کرسکتا ہے مگر اس کے نفس سے تو یہ بات مخفی نہیں کہ وہ چور ہے، اس لئے آخرت کی عدالت میں پیش ہوتے وقت ہر کافر، ہر منافق، ہر فاسق، ہر فاجر اور ہر مجرم خود جانتا ہوگا کہ وہ کیا کر کے آیا ہے اور کس حیثیت میں آج اپنے خدا کے سامنے کھڑا ہے۔
Ayahs 75:16–18

لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖؕ Open ayah 75:16 in the Quran reader

اور (اے محمد ﷺ وحی کے پڑھنے کیلئے اپنی زبان نہ چلایا کرو کہ اسکو جلد یاد کرلو

اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗۚۖ Open ayah 75:17 in the Quran reader

اسکا جمع کرنا اور پڑھانا ہمارے ذمہ ہے

فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗۚ Open ayah 75:18 in the Quran reader

جب ہم وحی پڑھا کریں تو تم اسکو سنا کرو اور پھر اس طرح پڑھا کرو

لاتحرک بہ لسانک لتعجل بہ، یہاں سے لے کر آیت 19 تک ایک جملہ معترضہ ہے جو سلسلہ کلام کو توڑ کر نبی ﷺ کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا گیا ہے جیسا کہ ما قبل میں ہم اس کی وضاحت کر آئے ہیں۔
Ayah 75:19

ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَهٗؕ Open ayah 75:19 in the Quran reader

پھر اس (کے) معانی کا بیان بھی ہمارے ذمے ہے

ثم ان علینا بیانہ، یہ ایک بڑی اہم آیت ہے جس سے چند ایسی اصولی باتیں ثابت ہوتی ہیں جنہیں اگر آدمی اچھی طرح سمجھ لے تو ان گمراہیوں سے بچ سکتا ہے جن میں پہلے بھی بعض لوگ مبتلا ہوتے رہے ہیں اور آج بھی مبتلا ہو رہے ہیں۔ اول اس سے صریح طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر صرف وہی وحی نازل نہیں ہوتی تھی جو قرآن میں درج ہے، بلکہ اس کے علاوہ بھی وحی کے ذریعہ سے آپ ﷺ کو ایسا علم دیا جاتا تھا جو قرآن میں درج نہیں ہے جس کو اصطلاح میں ” وحی غیر متلو “ کہا جاتا ہے اس لئے کہ قرآن کے احکام و فرامین اس کے اشارات اور اس کی مخصوص اصطلاحات کا جو مفہوم و مدعا حضور ﷺ کو سمجھایا جاتا تھا وہ اگر قرآن ہی میں درج ہوتا تو یہ کہنے کی کوئی ضرورت نہ تھی کہ اس کا مطلب سمجھا دینا یا اس کی تشریح کردینا بھی ہمارے ذمہ ہے، کیونکہ وہ تو پھر قرآن ہی میں مل جاتا لہٰذا یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ مطالب قرآن کی تفہیم و تشریح جو اللہ کی طرف سے کی جاتی تھی وہ بہرحال الفاظ قرآن کے ماسوا تھی یہ ” وحی خفی “ کا ایک اور ثبوت ہے جو ہمیں قرآن سے ملتا ہے۔
Ayahs 75:20–21

كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَۙ Open ayah 75:20 in the Quran reader

مگر (لوگو) تم دنیا کو دوست رکھتے ہو

وَ تَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَؕ Open ayah 75:21 in the Quran reader

اور آخرت کو ترک کئے دیتے ہو

کلا بل تحبون العاجلۃ، یہاں سے سلسلہ کلام پھر جڑ جاتا ہے جو جملہ معترضہ سے پہلے چلا آرہا تھا، ہرگز نہیں، کا یہ مطلب ہے کہ تمہارے انکار آخرت کی اصل یہ وجہ نہیں ہے کہ تم خالق کائنات کو قیامت برپا کرنے اور مرنے کے بعد زندہ کرنے سے عاجز سمجھتے ہو، بلکہ اصل وجہ یہ ہے اور یہ انکار آخرت کی دوسری وجہ ہے پہلی وجہ آیت 5 میں بیان کی گئی تھی کہ انسان چوں کہ فجور اور بےراہ روی کی کھلی چھوٹ چاہتا ہے اور ان اخلاقی پابندیوں سے بچنا چاہتا ہے جو آخرت کے ماننے سے لازماً اس پر عائد ہوتی ہیں، اس لئے خواہشات نفس اسے انکار آخرت پر ابھارتی ہیں اور وہ عقلی دلیلیں بگھارتا ہے تاکہ اپنے اس انکار کو معقول ثابت کرے، اب دوسری وجہ یہ بیان کی جا رہی ہے کہ منکرین آخرت چوں کہ تنگ نظر اور کوتاہ بین ہیں اس لئے ان کی نگاہ میں ساری اہمیت انہیں نتائج کی ہے جو اسی دنیا میں ظاہر ہوتے ہیں اور ان نتائج کو وہ کوئی اہمیت نہیں دیتا جو آخرت میں ظاہر ہونے والے ہیں۔
Ayahs 75:22–25

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌۙ Open ayah 75:22 in the Quran reader

اس روز بہت سے منہ رونق دار ہونگے

اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌۚ Open ayah 75:23 in the Quran reader

(اور) اپنے پروردگار کے محو دیدار ہونگے

وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍۭ بَاسِرَةٌۙ Open ayah 75:24 in the Quran reader

اور بہت سے منہ اس دن اداس ہونگے

تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌؕ Open ayah 75:25 in the Quran reader

خیال کرینگے کہ ان پر مصیبت واقع ہونے کو ہے

وجوہ یومئذ ناضرۃ الی ربھا ناظرۃ، ناضرۃ بمعنی ترو تازہ یعنی اس روز کچھ چہرے ہشاش بشاش اور تروتازہ ہوں گے، یہ چہرے اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے، اس سے ثابت ہوا کہ آخرت میں اہل جنت کو حق تعالیٰ کا دیدار بچشم سرنصیب ہوگا، اس پر اہل سنت والجماعت و فقہاء کا اجماع ہے، صرف معتزلہ اور خوارج منکر ہیں اور ان کے انکار کی وجہ فلسفیانہ موشگافیاں اور شبہات ہیں کہ آنکھ سے دیکھنے کے لئے دیکھنے والے اور جس کو دیکھا جائے ان دونوں کے درمیان مسافت کے لئے جو شرائط ہیں، خالق اور مخلوق کے درمیان ان کا تحقق نہیں ہوسکتا۔ اہل سنت والجماعت کا مسلک یہ ہے کہ آخرت میں حق تعالیٰ کی رویت و زیارت ان سب شرائط سے بےنیاز ہوگی نہ کسی جہت سے اس کا تعلق اور نہ کسی سمت سے اس کو ربط اور نہ کسی ہیئت و صورت سے اس کو سروکار روایات حدیث سے یہ مضمون بڑی صراحت و وضاحت سے ثابت ہے، بخاری شریف کی روات ہے ” انکم سترون ربکم عیانا “ تم اپنے رب کو کھلم کھلا دیکھو گے، مسلم و ترمذی میں حضرت صہیب ؓ کی روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جب جنتی لوگ جنت میں داخل ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے دریافت فرمائے گا کہ کیا تم چاہتے ہو کہ میں مزید کچھ عطا کروں ؟ وہ عرض کریں گے : کیا آپ نے ہمارے چہرے روشن نہیں کردیئے ؟ کیا آپ نے ہمیں جنت میں داخل نہیں کردیا ؟ اور کیا آپ نے ہمیں جہنم سے بچا نہیں لیا ؟ اس پر اللہ تعالیٰ پردہ ہٹا دے گا اس وقت ان لوگوں کو جو کچھ انعامات ملے تھے ان میں سے کوئی بھی انہیں اس سے زیادہ محبوب نہہو گا کہ وہ اپنے رب کی دیدار سے مشرف ہوں، اور یہی وہ مزید انعام ہے جس کے متعلق قرآن میں فرمایا گیا ہے ” للذین احسنوا الحسنی و زیادۃ “ بخاری و مسلم کی ایک دوسری روایت میں حضرت ابو سعید خدری ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا ہم قیامت کے روز اپنے رب کو دیکھیں گے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا کیا تمہیں سورج اور چاند دیکھنے میں کوئی دقت ہوتی ہے جب کہ درمیان میں بادل بھی نہ ہو ؟ لوگوں نے عرض کیا : نہیں آپ ﷺ نے فرمایا اسی طرح تم اپنے رب کو دیکھو گے۔ اسی مضمون سے ملتی جلتی اور کئی روایتیں ہیں جن سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ آخرت میں حق تعالیٰ کا دیدار ہوگا، لیکن دیدار کی کیفیت اللہ کو معلوم ہے۔
Ayahs 75:26–30

كَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَۙ Open ayah 75:26 in the Quran reader

دیکھو جب جان گلے تک پہنچ جائے

وَ قِیْلَ مَنْ١ٚ رَاقٍۙ Open ayah 75:27 in the Quran reader

اور لوگ کہنے لگیں (اس وقت) کون جھاڑ پھونک کرنیوالا ہے

وَّ ظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُۙ Open ayah 75:28 in the Quran reader

اور اس (جاں بلب) نے سمجھا کہ اب سے جدائی ہے

وَ الْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِۙ Open ayah 75:29 in the Quran reader

اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمَسَاقُ٢ؕ۠ Open ayah 75:30 in the Quran reader

اس دن تجھ کو اپنے پروردگار کی طرف چلنا ہے

کلا اذا بلغت التراقی (الآیۃ) اس آیت میں انسان کو متوجہ کیا گیا ہے کہ اپنی موت کو نہ بھولے، موت سے پہلے پہلے ایمان اور عمل صالح کی طرف آجائے، تاکہ آخرت میں نجات ملے اس آیت میں موت کا نقشہ اس طرح کھینچا گیا ہے کہ غفلت شعار انسان غفلت میں رہتا ہے یہاں تک کہ موت سر پر آ کھڑی ہو اور روح تر قوہ یعنی گلے کی ہنسلی میں آ پھنسے اور تیمار دار لوگ دوا، علاج سے عاجز ہو کر جھاڑ پھونک کرنے والوں کو تلاش کرنے لگیں اور ایک پائوں کی پنڈلی دوسری پر لپٹنے لگے تو یہ وقت اللہ کے پاس جانے کا ہے، اب نہ توبہ قبول ہوتی ہے اور نہ عمل، اس لئے عقلمند پر لازم ہے کہ اس وقت سے پہلے اصلاح کی فکر کرے۔
Ayahs 75:31–39

فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰىۙ Open ayah 75:31 in the Quran reader

تو اس (ناعاقبت اندیش نے تو کلام خدا کی) تصدیق کی نہ نماز پڑھی

وَ لٰكِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 75:32 in the Quran reader

بلکہ جھٹلایا اور منہ پھیرلیا

ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ یَتَمَطّٰىؕ Open ayah 75:33 in the Quran reader

پھر اپنے گھر والوں کے پاس اکڑتا ہوا چل دیا

اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىۙ Open ayah 75:34 in the Quran reader

افسوس ہے تجھ پر پھر افسوس ہے

ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىؕ Open ayah 75:35 in the Quran reader

پھر افسوس ہے تجھ پر پھر افسوس ہے

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًىؕ Open ayah 75:36 in the Quran reader

کیا انسان خیال کرتا ہے کہ یونہی چھوڑ دیا جائے گا

اَلَمْ یَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِیٍّ یُّمْنٰىۙ Open ayah 75:37 in the Quran reader

کیا وہ منی کا جو رحم میں ڈالی جاتی ہے ایک قطرہ نہ تھا

ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ Open ayah 75:38 in the Quran reader

پھر لوتھڑا ہوا پھر (خدا نے) اس کو بنایا پھر (اسکے اعضاء کو درست کیا)

فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىؕ Open ayah 75:39 in the Quran reader

پھر اس کی دو قسمیں بنائیں ایک مرد اور ایک عورت

ترجمہ : انسان نے نہ تو تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی، لیکن اس نے قرآن کی تکذیب کی اور ایمان سے روگردانی کی (خود پسندی) سے اتراتا ہوا اپنے گھر والوں کے پاس گیا، افسوس ہے تجھ پر اس میں غیبت سے (حاضر کی طرف) التفات ہے، اور (ویل) کلمہ اسم فعل ہے اور لام تبیین کے لئے ہے یعنی جس چیز کو تو ناپسند کرتا ہے، تجھ کو پیش آنے والی ہے حسرت ہے تجھ پر، پس وہ اولی ہے تیرے لئے یعنی وہ تیرے لئے دوسروں کے اعتبار سے بہتر ہے، پھر وائے ہے تیرے لئے اور خرابی ہے تاکید ہے کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اس کو بےکار چھوڑ دیا جائے گا ؟ کہ اس کو (احکام) و شرائع کا مکلف نہ بنایا جائے گا، کیا وہ منی کا نطفہ نہیں تھا جو ٹپکایا گیا تھا ؟ یاء اور تاء کے ساتھ (یعنی) رحم میں ٹپکایا گیا ہے پھر وہ منی کا قطرہ خون کا لوتھڑا ہوگیا ؟ بعد ازاں اللہ نے اس سے انسان پیدا فرمایا پھر اس کے اعضاء کو درست کیا پھر اس نطفہ منی سے جو علقہ یعنی خون کا لوتھڑا ہوگیا تھا مضغہ یعنی گوشت کا لوتھڑا ہوگیا مذکر و مؤنث کا جوڑا بنایا ؟ کبھی لڑکا لڑکی جمع ہوجاتے ہیں کبھی دونوں الگ الگ ہوتے ہیں، کیا ان چیزوں کا کرنے والا اس بات پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کرے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں ! کیوں نہیں۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : واللام للتبیین، اولی لک میں لام مفعول کی وضاحت کے لئے زائدہ ہے جو مفعول پر داخل ہے جیسا کہ سقیا …وردف لکم میں ہے۔ قولہ : ولیک ما تکرہ یہ معنی فعل کا بیان ہے یعنی جس کو تو ناپسند کرتا ہے وہ تجھ کو پیش آئے گا۔ قولہ : یمنی، بالیاء و التاء، اگر یاء کے ساتھ ہے تو مرجع منی ہوگا اور اگر تاء کے ساتھ ہو تو مرجع نطفہ ہوگا۔ تفسیر و تشریح اولی لک فاولی الخ لفظ اولی، ویل کا مقلوب ہے ” ویل “ کے معنی ہلاکت اور بربادی کے ہیں، یہاں اس شخص کیلئے جس نے کفر و تکذیب ہی کو اپنا شعار بنا رکھا ہے اور دنیا کے مال و دولت میں مست رہا ہے، پھر اسی حالت پر مرگیا اس کیلئے چار مرتبہ لفظ ہلاکت و بربادی استعمال کیا گیا ہے سب علی الترتیب ثابت ہوں گے، مرنے کے وقت، پھر قبر میں، پھر حشر میں، پھر جہنم میں۔
Ayah 75:40

اَلَیْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى۠ Open ayah 75:40 in the Quran reader

کیا اس کو اس بات پر قدرت نہیں کہ مردوں کو جلا اٹھائے ؟

الیس ذلک بقدر الخ یعنی کیا وہ ذات حق جس کے قبضے میں موت وحیات اور سارا جہاں ہے اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو دوبارہ زندہ کر دے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص سورة قیامہ کی اس آیت کی تلاوت کرے تو اس کو یہ کلمات کہنا چاہئیں ” بلی وأنا علی ذلک من الشاھدین “ بعض مفسرین نے فلا صدق ولا صلی الخ کا یہ ترجمہ کیا ہے، مگر اس نے نہ سچ مانا اور نہ نماز پڑھی بلکہ جھٹلایا اور پلٹ گیا پھر اکڑتا ہوا اپنے گھر والوں کی طرف چل دیا، یہ روش تیرے ہی لئے سزاوار ہے اور تجھی کو زیب دیتی ہے، ہاں یہ روش تیرے ہی لئے سزا وار ہے اور تجھے ہی زیب دیتی ہے۔ مفسرین نے اولیٰ لک، کے متعدد معنی بیان کئے ہیں : تف ہے تجھ پر، ہلاکت ہے تجھ پر، خرابی یا تباہی یا کمبختی ہے تیرے لئے، لیکن موقع و محل کے لحاظ سے اس کا مناسب ترین مفہوم وہ ہے جو حافظ ابن کثیرنے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ جب تو اپنے خالق سے کفر کرنے کی جرأت کرچکا ہے تو پھر تجھ جیسے آدمی کو یہی چال زیب دیتی ہے جو تو چل رہا ہے۔ بحمد تم اللہ