76. Surah Al-Insaan

الانسانMan · 31 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 76:1–4

هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَكُنْ شَیْئًا مَّذْكُوْرًا Open ayah 76:1 in the Quran reader

بیشک انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے کہ وہ کوئی چیز قابل ذکر نہ تھا

اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ١ۖۗ نَّبْتَلِیْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 76:2 in the Quran reader

ہم نے انسان کو نطفہ مخلوط سے پیدا کیا تاکہ اسے آزمائیں تو ہم نے اس کو سنتا دیکھتا بنایا

اِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا Open ayah 76:3 in the Quran reader

(اور) اسے راستہ بھی دکھایا (اب) خواہ وہ شکر گزار ہو خواہ ناشکرا

اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَلٰسِلَاۡ وَ اَغْلٰلًا وَّ سَعِیْرًا Open ayah 76:4 in the Quran reader

ہم نے کافروں کیلئے زنجیریں اور طوق اور دہکتی آگ تیار کر رکھی ہے

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، بیشک انسان (یعنی) آدم پر، زمانہ میں ایسا وقت (یعنی) چالیس سال بھی گزرا ہے کہ وہ اس میں کوئی قابل ذکر چیز نہیں تھا (بلکہ) وہ اس زمانہ میں ایک ناقابل ذکر مٹی کا پتلا تھا، یا انسان سے جنس انسان مراد ہے، اور حین سے مدت حمل مراد ہے، بیشک ہم نے انسانوں کو مرد اور عورت (یعنی) حال یہ کہ ہم اس کو اہل بنا کر آزمانے والے تھے، اسی لئے ہم نے اس کو شنوا اور بینا بنایا، ہم نے اس کو راہ دکھائی (یعنی) رسول بھیج کر اس کے لئے راہ ہدایت واضح فرمائی، اب خواہ وہ شکر گزار مومن بنے، یا ناشکرا دونوں مفعول سے حال ہیں یعنی اس کی حالت شکر یا حالت کفر میں جو اس کے لئے مقدر ہے (یعنی) راستہ واضح کردیا، اور اما حالات کی تفصیل کے لئے ہے، بیشک ہم نے کافروں کے لئے زنجیریں جن کے ذریعہ ان کو آگ میں گھسیٹا جائے گا اور طوق ان کی گردن میں کہ جن میں زنجیروں کو باندھا جائے گا اور دہکتی ہوئی آگ جس میں ان کو عذاب دیا جائے گا تیار کر رکھی ہے، بیشک نیک لوگ ایسا جام شراب پئیں گے جس میں کافور کی آمیزش ہوگی کاس شراب کے اس پیالے کو کہتے ہیں جس میں شراب ہو اور کاس سے مراد جام کی شراب ہے، یعنی محل بول کر حال مراد ہے اور من تبعیضیہ ہے، (کافور) ایک چشمہ ہے کہ جس سے اللہ کے نیک بندے اس کے ولی پئیں گے عینا، کافور سے بدل ہے، وہ چشمہ کہ جس میں کافور کی خوشبو ہوگی اور اپنے گھروں میں جہاں چاہیں گے اس سے نہریں نکال کرلے جائیں گے اور خدا کی اطاعت میں جو نذریں پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی بڑائی چاروں طرف پھیل جانے والی ہے اور مسکین کو یعنی فقیر اور یتیم کو جس کا باپ نہ ہو اور قیدیوں کو جو (اس پر) کسی کے حق میں محبوس ہو اس کھانے کی خواہش کے باوجود کھلاتے ہیں (حال یہ کہ وہ کہتے ہیں) ہم تو تمہیں خدا کی رضا مندی یعنی طلب ثواب کے لئے کھلاتے ہیں نہ ہم تم سے کوئی صلہ چاہتے ہیں اور نہ شکر گزاری، اس میں کھانا کھلانے کی علت کا بیان ہے، خواہ انہوں نے یہ بات کہی ہو یا خدا کو ان کے بارے میں اس بات کا علم ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف فرمائی ہو، دونوں قول ہیں، بیشک ہم اپنے پروردگار سے اداسی کے دن سے جس میں چہرے بگڑ جائیں گے ڈرتے ہیں یعنی اس دن کی نہایت شدت کی وجہ سے کریہہ المنظر ہوجائیں گے، پس انہیں اللہ تعالیٰ نے اس دن کی برائی سے بچا لیا اور انہیں تازگی (یعنی) حسن اور چہرے کی رونق اور خوشی عطا فرمائی اور ان کی معصیت سے باز رہنے پر صبر کرنے کے بدلے انہیں جنت میں داخلہ اور ریشم کا لباس عطا فرمایا، یہ لوگ وہاں مسہریوں پر خیموں میں تکیہ لگائے بیٹھیں گے (متکئین) ادخلوھا مقدر کی ضمیر مرفوع سے حال ہے نہ وہاں آفتاب کی گرمی دیکھیں گے اور نہ جاڑے کی سردی، یعنی نہ گرمی اور نہ سردی ہوگی، (لایرون) لا یجدون کے معنی میں حال ثانیہ ہے، کہا گیا ہے کہ زمھریر سے مراد قمر ہے (جنت) بغیر شمس و قمر کے (نور عرش سے منور ہوگی) اور ان پر جنت کے درختوں کے سایہ جھکے ہوئے ہوں گے، (دانیۃ) کا عطف لایرون کے محل پر ہے ای لایرون غیر رائین کے معنی ہیں، اور ان درختوں کے پھلوں کے گچھے نیچے لٹکائے گئے ہوں گے، یعنی ان درختوں کے پھل قریب کردیئے گئے ہوں گے، کہ ان کو کھڑے کھڑے اور بیٹھے بیٹھے اور لیٹے لیٹے حاصل کرلیں، اور جنت میں ان پر چاندی کے برتنوں اور ایسے جاموں کا دور چلایا جائے گا، کہ جو شیشے کے ہوں گے (اکواب) ایسے جام کہ جن میں ٹونٹی نہ ہو اور شیشے بھی چاندی کے یعنی وہ جام ایسی چاندی کے ہوں گے کہ جن کا اندر باہر سے نظر آئے گا، کانچ کے مانند اور دورچلانے والے ان جاموں کو ایک انداز سے پینے والوں کے پیاس کے مطابق بغیر زیادتی اور کمی کے بھریں گے اور یہ (طریقہ) لذیذ ترین طریقہ ہے اور انہیں وہاں ایسے جام شراب پلائے جائیں گے کہ جن کی آمیزش زنجبیل (سونٹھ) کی ہوگی یعنی ان میں زنجبیل کی آمیزش ہوگی، جنت کے ایک چشمے سے کہ جس کا نام سلسبیل ہے، عینا، زنجبیل سے بدل ہے یعنی اس کا پانی زنجبیل کی مانند ہوگا جس سے عرب لذت حاصل کرتے ہیں جس کا حلق سے اترنا سہل ہوگا، اور ان کے پاس ایسے نو خیز لڑکے آمد و رفت رکھیں گے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے، یعنی نوجوانی کی صفت سے ہمیشہ متصف رہیں گے کبھی بوڑھے نہ ہوں گے، اور جب تو انہیں دیکھے تو سمجھے کہ وہ لڑی یا صدف سے بکھرے ہوئے موتی ہیں اور لڑی میں یا صدف میں حسین ترین معلوم ہونے کی وجہ سے، اور تو وہاں جہاں کہیں نظر ڈالے گا یعنی جب بھی تیری طرف سے رویت پائی جائے گی تو تو نعمت ہی نعمت کہ ان کی صفت بیان نہیں ہوسکتی اور بڑا ملک دیکھے گا ایسا وسیع کہ اس کی کوئی انتہا نہ ہوگی وہ سبز ریشم کے موٹے اور باریک کپڑے پہنے ہوئے ہوں گے (عالیھم) ظرفیت کی وجہ سے منصوب ہے، اور اس کا مابعد مبتداء کی خبر ہے، اور ایک قرأت میں یاء کے سکون کے ساتھ مبتداء ہے اور اس کا مابعد اس کی خبر ہے، اور (عالیھم) کی ضمیر متصل معطوف علیہ (یعنی) جنتیوں کی طرف راجع ہے، خضر رفع کے اور استبرق جر کے ساتھ، ریشم کے موٹے کپڑے کو کہتے ہیں اور وہ استر ہوگا، اور سندس ابرا (اوپر کا کپڑا) اور ایک قرأت میں مذکورہ قرأت کا عکس ہے اور ایک تیسری قرأت میں دونوں کا رفع ہے اور ایک اور قرأت میں دونوں کا جر ہے، اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ایک دوسری جگہ ہے کہ ان کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے، یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کو دونوں قسم کے زیور ایک ساتھ یا متفرق طریقہ پر پہنائے جائیں گے، اور انہیں ان کا رب پاک صاف شراب پلائے گا وہ شراب اپنی طہارت اور نظافت میں انتہا درجہ کو پہنچی ہوگی، بخلاف دنیا کی شرابوں کے (ان سے کہا جائے گا) یہ نعمتیں تمہارے لئے بطور صلہ کے ہیں اور تمہاری کوشش کی قدر کی گئی۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : ھل قد اس میں اشارہ ہے کہ ھل بمعنی قد ہے اس لئے کہ استفہام کے معنی اللہ تعالیٰ کے لئے محال ہیں، یا پھر استفہام تقریری ہوسکتا ہے۔ قولہ : علی الانسان، آدم یہاں انسان کی تفسیر آدم سے کی ہے اور آئندہ انسان کی تفسیر جنس آدم سے کی ہے، حالانکہ قاعدہ ہے اذا اعیدت المعرفۃ کانت عین الاولی جب معرفہ کا اعادہ کیا جائے تو عین اولیٰ مراد ہوتا ہے اس کا مقتضٰی ہے کہ دونوں جگہ انسان کی تفسیر آدم سے ہو۔ جواب : یہ قاعدہ اکثر یہ ہے کلیہ نہیں۔ دوسرا جواب : خلقنا الانسان میں مضاف محذوف ہے ای خلقنا ذریۃ الانسان۔ قولہ : نبتلیہ جملہ مستانفہ ہے یا خلقنا کی ضمیر فاعل سے حال مقدرہ ہے ای خلقناہ حال کونہ مریذین ابتلاء … اس لئے کہ ابتلا بالتکالیف سمیع وبصیر ہونے کے بعد ہی ہوتی ہے نہ کہ اس سے پہلے۔ قولہ : انا ھدیناہ یہاں ہدایت سے مراد دلالت اور رہنمائی ہے مفسر علام نے بینا کہہ کر اسی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ قولہ : کاس ” جام شراب “ یہاں کاس بول کر مجازاً شراب مراد ہے یعنی ظرف بول کر مظروف مراد ہے، اور اگر کاس سے ظرف ہی مراد لیا جائے تو من کو ابتدائیہ ماننا ہوگا یعنی شراب پینے کی ابتداء جام شراب سے ہوگی، ظرف بول کر مظروف مراد لینے سے تکلف کی وجہ یہ ہے کہ کان مزاجھا کافورا جملہ ہو کر کاس کی صفت واقع ہو رہی ہے ترجمہ یہ ہوگا، جنتی ایسے جام سے پئیں گے کہ جس میں کافور کی آمیزش ہوگی حالانکہ جام میں کافور کی آمیزش کا کوئی مطلب نہیں ہے، البتہ شراب میں آمیزش ہوسکتی ہے اسی شبہ کو دفع کرنے کے لئے کہہ دیا اس سے مافی الک اس مراد ہے۔ قولہ : یشرب بھا، باء میں چند وجوہ ہیں، (1) باء زائدہ ای یشربھا اس وقت یشرب متعدی بنفسہ ہوگا، (2) بمعنی من مفسر علام نے یہی معنی مراد لئے ہیں، (3) باء حالیہ، ای ممزوجۃ بھا (4) یشربون یلتذون کے معنی کو متضمن ہو، ای یلتذون بھا شاربین۔ قولہ : المحبوس بحق اس کا مطلب یہ ہے کہ اس پر کسی کا حق واجب ہے مثلاً قرض وغیرہ جس کو یہ ادا نہیں کرسکتا، قرض خواہ نے اپنے حق کے عوض اس کو قید کرا دیا، اس لئے کہ قرض خواہ کو یہ حق ہے کہ مقروض کو عدم ادائیگی کی صورت میں قید کرا دے اور اگر کوئی شخص باطل اور غلط طریقہ پر محبوس ہے تو اس کو کھانا کھلانا بطریق اولیٰ کار ثواب ہوگا۔ قولہ : انما نطعمکم لوجہ اللہ الخ، قائلین اس سے پہلے محذوف ہے۔ قولہ : شکورا، شکرا کے معنی میں ہے فواصل کی رعایت کی وجہ سے شکوراً لایا گیا ہے، ایک نسخہ میں فیہ علۃ الاطعام ہے، اس کا مطلب ہے کہ انما نطعمکم لوجہ اللہ یہ اطعام کی علت ہے، اور بعض نسخوں میں علۃ کے بجائے علی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم تم کو لوجہ اللہ کھانا کھلاتے ہیں اس کھلانے پر ہم شکریہ کے طالب نہیں ہیں، مگر اس صورت میں فیہ کی ضرورت نہیں ہے۔ قولہ : وھل تکلموا بذلک او علمہ اللہ منھم اس عبارت کا مقصد یہ بتانا ہے کہ مذکورہ جملہ میں دو احتمال ہیں اول یہ کہ یہ مقولہ کھانا کھلانے والوں کا ہو اور انہوں نے زبان مقال سے یہ بات کہی ہو، اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ مقولہ اللہ تعالیٰ کا ہو، اور اللہ تعالیٰ کو چونکہ ہر شخص کی نیت اور ارادہ کا علم ہے اور اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات تھی کہ انہوں نے کھانا لوجہ اللہ کھلایا ہے کسی صلہ یا شکر یہ کا طالب ہو کر نہیں کھلایا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف کرتے ہوئے یہ جملہ فرمایا۔ قولہ : یوما عبوسا قمطریرا، عبوس صفت مشبہ کا صیغہ ہے منہ بگاڑنے والا، ترش رو ہونے والا، قمطریرامصیبت اور رنج کا طویل دن (یعنی روز قیامت) کو کہتے ہیں، اصل محاورہ میں قمطرت الناقۃ اس وقت بولتے ہیں جب اونٹنی دم اٹھا کر، ناک چڑھا کر، منہ بنا کر مکروہ شکل اختیار کرلے، اسی مناسبت سے ہر مکروہ اور رنج وہ دن کو ” قمطریر “ کہتے ہیں اصل مادہ قطر ہے میم زائد ہے (لغات القرآن) یوما موصوف ہے عبوسا صفت اول ہے اور قمطریرا صفت ثانی ہے جملہ ہو کر نخاف کا ظرف ہے۔ قولہ : فی ذلک ای فی العبوس۔ قولہ : لایرون یہ بھی اذخلوا کی ضمیر سے حال ثانیہ ہے۔ قولہ : زمھریرا، زمھریر کے معنی سخت سردی کے ہیں فلسفہ کی اصطلاح میں زمہریر فضاء میں ایک نہایت شدید سرد طبقہ کا نام ہے اس کے علاوہ فضاء میں کرہ ناری اور کرہ ہوائی بھی ہیں۔ قولہ : علی محل لا یرون، لا یرون حال ہونے کی بنا پر محلا منصوب ہے اسی وجہ سے دانیۃ بھی منصوب ہے۔ قولہ : علیھم، منھم، علی کی تفسیر من سے کر کے اشارہ کردیا کہ علی بمعنی من ہے اس لئے کہ دانیۃ کا صلہ من مستعمل ہے نہ کہ علی۔ قولہ : شجرھا، ظلالھا کی تفسیر شجرھا سے کرنے کا مقصد ایک اعتراض کو دفع کرنا ہے، اعتراض یہ ہے کہ جنت کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے، حالانکہ سایہ سورج کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اور جنت میں شمس و قمر نہ ہوں گے تو سایہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ اس کا جواب دیا کہ ظلال سے مراد نفس شجر ہے، یعنی درخت کی شاخیں جھکی ہوئی ہوں گی۔ قولہ : احسن منہ فی غیر ذلک اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب دینا ہے۔ سوال : جنت کے غلمان کو بکھرے ہوئے موتیوں سے تشبیہ دینے میں کیا حکمت ہے ؟ جب کہ عام طور پر منظوم اور پروئے ہوئے موتیوں سے تشبیہ دی جاتی ہے ؟ جواب : جنتی غلمان کو حسن و انتشار میں غیر مثقب (بن بندھے) موتیوں سے تشبیہ دینا مقصود ہے، اس لئے کہ موتی میں سوراخ ہونے کے بعد چمک اور صفائی کم ہوجاتی ہے جو کہ ایک قسم کا نقص ہے اور بن بندھے (غیر مثقب) موتی منتشر ہی ہوتے ہیں، یعنی موتی جب صدف اور سلک میں نہیں ہوتا تو وہ حسن و خوبی میں بہتر ہوتا ہے اس سے جو صدف یا سلک میں ہوتا ہے۔ قولہ : اذا رأیت وجدت، رایت کی تفسیر وجدت سے کر کے اشارہ کردیا کہ رأیت یہاں لازم ہے اسی وجہ سے اس کے مفعول کو حذف کردیا گیا ہے۔ تفسیر و تشریح ھل اتی علی الانسان، ھل بمعنی قد ہے جیسا کہ ترجمہ سے ظاہر ہے الانسان سے بعض حضرات نے ابوالبشر ” آدم (علیہ السلام) “ مراد لئے ہیں، اور حین سے روح پھونکنے تک کا زمانہ مراد لیا ہے، جو چالیس سال ہے، اور اکثر مفسرین نے الانسان کو بطور جنس کے استعمال کیا ہے، اور حین سے مراد حمل کی مدت لی ہے جس میں جنبین قابل ذکر شئی نہیں ہوتی، اس میں گویا انسان کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایک پیکر حسن و جمال کی صورت میں رحم مادر سے باہر آتا ہے اور جب عنفوان شباب کا زمانہ آتا ہے تو اپنے رب کے سامنے اکڑتا اور اتراتا ہے، اسے اپنی حیثیت اور حقیقت یاد رکھنی چاہیے کہ میں تو وہی ہوں کہ مجھ پر ایک زمانہ ایسا بھی گزرا ہے جب میں عالم نیست میں تھا اور کوئی قابل ذکر شئی نہ تھا۔
Ayahs 76:5–7

اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًاۚ Open ayah 76:5 in the Quran reader

جو نیکوکار ہیں وہ ایسا مشروب نوش جان کریں گے جس میں کافور کی آمیزش ہوگی

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ یُفَجِّرُوْنَهَا تَفْجِیْرًا Open ayah 76:6 in the Quran reader

یہ ایک چشمہ ہے جس میں سے خدا کے بندے پئیں گے اور اس میں سے (چھوٹی چھوٹی) نہریں نکال لیں گے

یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوْنَ یَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِیْرًا Open ayah 76:7 in the Quran reader

یہ لوگ نذریں پوری کرتے ہیں اور اس دن سے جس کی سختی پھیل رہی ہوگی خوف رکھتے ہیں

ان الابرار یشربون، پہلی آیتوں میں اشقیاء کا ذکر تھا اب ان کے مقابلہ میں سعداء کا ذکر ہے، کاس اس جام کو کہتے ہیں جو بھرا ہوا ہو، کافور ایک ٹھنڈی اور مخصوص خوشبو کی حامل شئی ہوتی ہے اس کی آمیزش سے شراب کا ذائقہ دو آتشہ اور اس کی خوشبو شام جان کو معطر کرنے والی ہوجاتی ہے۔ یوفون بالنذر الخ، یعنی صرف ایک اللہ کی اطاعت اور عبادت کرتے ہیں اور نذر بھی مانتے ہیں تو صرف اللہ کے لئے اور … سے پورا کرتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ نذر کا پورا کرنا ضروری ہے بشرطیکہ معصیت کی نہ ہو۔ نذر ماننے کی چند شرائط : مسئلہ : نذر ماننے کی چند شرائط ہیں، اول یہ کہ جس کام کی نذر مانی جائے وہ جائز ہو معصیت نہ ہو، اگر کسی شخص نے ناجائز … کی نذر مانی تو اس پر لازم ہے کہ وہ ناجائز کام نہ کرے اور قسم کو توڑ دے اور قسم کا کفارہ ادا کر دے اگر نذر قسم کے ساتھ مانی ہو، دوسری شرط یہ ہے کہ وہ پہلے سے واجب نہ ہو اس لئے کہ اگر کوئی شخص واجب یا فرض کی نذر مان لے تو یہ لغو ہوگی۔ امام صاحب (رح) تعالیٰ کے نزدیک یہ بھی شرط ہے کہ جس کام کو بذریعہ نذر اپنے اوپر لازم کیا ہے، اس کی جنس کی کوئی عبادت شریعت میں واجب کی گئی ہو جیسے نماز، روزہ، صدقہ، حج، قربانی وغیرہ، اور جس کی جنس کی شریعت میں کوئی عبادت واجب نہیں، اس کی نذر ماننے سے نذر لازم نہ ہوگی، جیسے کسی مریض کی عیادت کی نذر یا جنازہ کے پیچھے چلنے کی نذر وغیرہ، نذر کے احکام کی تفصیل کے لئے کتب فقہ کی طرف رجوع کریں۔
Ayahs 76:8–22

وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا Open ayah 76:8 in the Quran reader

اور باوجود یہ کہ ان کو خود طعام کی خواہش (اور حاجت) ہے فقیروں اور یتیموں اور قیدیوں کو کھلاتے ہیں

اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا Open ayah 76:9 in the Quran reader

(اور کہتے ہیں کہ) ہم تم کو خالص خدا کے لئے کھلاتے ہیں نہ تم سے عوض کے خواستگار ہیں نہ شکر گزاری کے (طلبگار)

اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا Open ayah 76:10 in the Quran reader

ہم کو اپنے پروردگار سے اس دن کا ڈر لگتا ہے جو (چہروں کو) کری المنظر اور (دلوں کو) سخت (مضطر کردینے والا ہے)

فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْیَوْمِ وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًاۚ Open ayah 76:11 in the Quran reader

تو خدا انکو اس دن کی سختی سے بچا لے گا

وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ Open ayah 76:12 in the Quran reader

اور انکے صبر کے بدلے ان کو بہشت (کے باغات) اور ریشم (کے ملبوسات) عطا کریگا

مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۚ لَا یَرَوْنَ فِیْهَا شَمْسًا وَّ لَا زَمْهَرِیْرًاۚ Open ayah 76:13 in the Quran reader

ان میں وہ تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے وہاں نہ دھوپ (کی حدت) دیکھیں گے نہ سردی کی شدت

وَ دَانِیَةً عَلَیْهِمْ ظِلٰلُهَا وَ ذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِیْلًا Open ayah 76:14 in the Quran reader

ان سے (ثمر دار شاخیں اور) انکے سائے قریب ہونگے اور میوں کے گچھے جھکے ہوئے لٹک رہے ہونگے

وَ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ كَانَتْ قَؔوَارِیْرَاۡۙ Open ayah 76:15 in the Quran reader

(خدام) چاندی کے باسن لئے ہوئے ان کے اردگرد پھریں گے اور شیشے کے (نہایت شفاف) گلاس اور شیشے بھی چاندی کے جو ٹھیک اندازے کے مطابق بنائے گئے ہیں

قَؔوَارِیْرَاۡ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْهَا تَقْدِیْرًا Open ayah 76:16 in the Quran reader

(خدام) چاندی کے باسن لئے ہوئے ان کے اردگرد پھریں گے اور شیشے کے (نہایت شفاف) گلاس اور شیشے بھی چاندی کے جو ٹھیک اندازے کے مطابق بنائے گئے ہیں

وَ یُسْقَوْنَ فِیْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِیْلًاۚ Open ayah 76:17 in the Quran reader

اور وہاں ان کو ایسے مشروب پلائے جائیں گے جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی

عَیْنًا فِیْهَا تُسَمّٰى سَلْسَبِیْلًا Open ayah 76:18 in the Quran reader

یہ بہشت میں ایک چشمہ ہے جس کا نام سلسبیل ہے

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ١ۚ اِذَا رَاَیْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا Open ayah 76:19 in the Quran reader

اور ان کے پاس لڑکے آتے جاتے ہوں گے جو ہمیشہ (ایک ہی حالت پر) آئیں گے جب تم ان پر نگاہ ڈالو تو خیال کرو کہ بکھرے ہوے موتی ہیں

وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا Open ayah 76:20 in the Quran reader

اور بہشت میں (جہاں) آنکھ اٹھاؤ گے کثرت سے نعمت اور عظیم (الشان) سلطنت دیکھو گے

عٰلِیَهُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ١٘ وَّ حُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ١ۚ وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا Open ayah 76:21 in the Quran reader

ان (کے بدنوں) پر دیبا کے سبز اور اطلس کے کپڑے ہونگے اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا پروردگار انکو نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّ كَانَ سَعْیُكُمْ مَّشْكُوْرًا۠ Open ayah 76:22 in the Quran reader

یہ تمہارا صلہ ہے اور تمہاری کوشش (خدا کے ہاں) مقبول ہوئی

ویطعمون الطعام الخ، یعنی اہل جنت کے لئے مذکورہ انعامات اس لئے بھی ہیں کہ وہ دنیا میں مسکینوں، یتیموں اور … کو کھانا کھلایا کرتے تھے، علی حبہ میں علی بمعنی مع ہے مطلب یہ کہ یہ لوگ ایسی حالت میں بھی غریبوں کو کھانا کھلاتے تھے، جب کہ وہ خود کھانے کے محتاج اور ضرورت مند ہوتے تھے، قیدی سے مراد وہ قیدی ہیں جنہیں اصول شریعت کے مطابق قید … گیا ہو، خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، مگر بہرحال قیدیوں کو کھانا کھلانا حکومت اور بیت المال کی ذمہ داری ہے جو شخص ان کو کھانا کھلاتا ہے وہ حکومت اور بیت المال کی مدد کرتا ہے۔
Ayahs 76:23–31

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلًاۚ Open ayah 76:23 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ہم نے تم پر قرآن آہستہ آہستہ نازل کیا ہے

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًاۚ Open ayah 76:24 in the Quran reader

تو اپنے پروردگار کے حکم کے مطابق صبر کئے رہو اور ان لوگوں میں سے کسی بدعمل اور ناشکرے کا کہا نہ مانو

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًاۖۚ Open ayah 76:25 in the Quran reader

اور صبح و شام اپنے پروردگار کا نام لیتے رہو

وَ مِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَ سَبِّحْهُ لَیْلًا طَوِیْلًا Open ayah 76:26 in the Quran reader

اور رات کو بڑی رات تک اسکے آگے سجدے کرو اور اس کی پاکی بیان کرتے رہو

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَ یَذَرُوْنَ وَرَآءَهُمْ یَوْمًا ثَقِیْلًا Open ayah 76:27 in the Quran reader

یہ لوگ دنیا کو دوست رکھتے ہیں اور (قیامت کے) بھاری دن کو پس پشت چھوڑ دیتے ہیں

نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ وَ شَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ١ۚ وَ اِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَاۤ اَمْثَالَهُمْ تَبْدِیْلًا Open ayah 76:28 in the Quran reader

ہم نے ان کو پیدا کیا اور انکے مفاصل کو مضبوط بنایا اور اگر ہم چاہیں تو ان کے بدلے انہی کی طرح اور لوگ لے آئیں

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 76:29 in the Quran reader

یہ تو نصحیت ہے سو جو چاہے اپنے پروردگار کی طرف پہنچنے کا راستہ اختیار کرے

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۗۖ Open ayah 76:30 in the Quran reader

اور تم کچھ بھی نہیں چاہ سکتے مگر جو خدا کو منظور ہو بیشک خدا جاننے والا حکمت والا ہے

یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمِیْنَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 76:31 in the Quran reader

جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور ظالموں کیلئے اس نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

ترجمہ : بیشک ہم نے قرآن کو آپ ﷺ پر بتدریج نازل کیا نحن، ان کے اسم کی تاکید ہے یا فصل کے لئے ہے (نزلنا علیک الخ) ان کی خبر ہے یعنی ہم نے قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا، پس تو اپنے رب کے حکم پر اس کے پیغام کو پہنچا کر قائم رہ اور ان کفار میں سے کسی گنہگار اور ناشکرے کی بات نہ مان یعنی عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن مغیرہ کی جنہوں نے نبی ﷺ سے کہا تھا کہ تم اپنی اس تحریک سے باز آجائو اور یہ بھی درست ہے کہ ہر گنہگار اور کافر مراد ہو یعنی ان میں سے تو کسی کی بات نہ مان اس گناہ اور کفر کے معاملہ میں جس کی طرف یہ آپ ﷺ کو دعوت دے رہے ہیں، اور اپنے رب کے نام کا نماز میں صبح و شام ذکر کیا کر یعنی فجر اور ظہر اور عصر میں اور رات کے وقت اس کے سامنے سجدہ کر یعنی مغرب اور عشاء کی نماز پڑھ، اور بہت رات تک اس کی تسبیح کیا کر (یعنی) رات میں نفل نماز پڑھا کر جیسا کہ سابق میں گزر چکا ہے، دو تہائی یا نصف رات یا ایک تہائی رات، بیشک یہ لوگ دنیا کو چاہتے ہیں اور اپنے پیچھے ایک بڑے بھاری دن کو چھوڑ دیتے ہیں سخت دن کو، یعنی قیامت کے دن کو، کہ اس کے لئے عمل نہیں کرتے ہم نے ان کو پیدا کیا اور ان کے اعضاء و مفاصل کو مضبوط کیا اور ہم جب چاہیں ان کے بدلے تخلیق میں ان جیسے (دیگر لوگ) لے آئیں اس طریقہ پر کہ ان کو ہلاک کردیں تبدیلا تاکید ہے اور اذا، ان کی جگہ واقع ہوا ہے جیسا کہ ” ان یشایذھبکم “ میں، مگر اللہ تعالیٰ نے ایسا نہیں چاہا، اور اذا، یقینی الوقوع کے لئے استعمال ہوتا ہے، بیشک یہ سورت مخلوق کے لئے نصیحت ہے پس جو چاہے طاعت کے ذریعہ اپنے رب کی راہ اختیار کرے اور تم طاعت کے ذریعہ راستہ نہ چاہو گے مگر یہ کہ اللہ ہی چاہے (تشائون) تاء اور یاء کے ساتھ بیشک اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق اور اپنے فعل کے بارے میں علم و حکمت والا ہے جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل کرلے اور وہ مومنین ہیں اور ظالموں کے لئے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے اور وہ کافر ہیں (الظالمین) کا ناصب فعل مقدر ہے اور وہ اعد ہے جس کی تفسیر اعدلھم کر رہا ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : تاکید لاسم ان، اوفصل، اس عبارت کا مقصد انا نحن نزلنا الخ کی دو ترکیبوں کی طرف اشارہ کرنا ہے، (1) نحن، انا کی ضمیر کی تاکید ہے اور تاکید مؤکد سے مل کر مبتداء اور نزلنا اس کی خبر (2) انا مبتداء اول نحن ضمیر فصل، مبتداء ثانی نزلنا خبر مبتداء ثانی وہ اپنی خبر سے مل کر جملہ ہو کر، مبتداء اول کی خبر۔ قولہ : ان ھولاء یحبون العاجلۃ یہ ما قبل مذکور امرونہی کی علت ہے، یعنی آپ ﷺ مذکورین سے اعراض اور توجہ الی ذکر اللہ اس لئے کیجئے کہ ان لوگوں کے توجہ الی اللہ نہ کرنے کی وجہ دنیا طلبی اور آخرت سے بےخوفی ہے۔ قولہ : ویذرون وراء ھم یوما ثقیلا، ورائھم، یوما سے حال مقدم ہے اس لئے کہ دراصل وراء ھم، یوما نکرہ کی صفت ہے یوما ثقیلا موصوف صفت سے مل کر یذرون کا مفعول ہے۔ قولہ : وقعت اذا موقع ان اس عبارت کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : اذا امور محققہ کے لئے استعمال ہوتا ہے اور یہ تبدیلی واقع نہیں ہوئی اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے نہیں چاہا تو یہ امر محتمل ہوا نہ کہ محقق اور امور محتملہ کے لئے ان آتا ہے نہ کہ اذا ؟ جواب : اذا بمعنی ان ہے مجازاً ۔ قولہ : ذلک ای اتخاذ السبیل۔ قولہ : ناصبہ فعل مقدر یہ ما اضمر عاملہ علی شریطۃ التفسیر کے قبیل سے ہے یعنی الظالمین فعل مقدر کی وجہ سے منصوب ہے ای اعد الظلمین اعدلھم۔ تفسیر و تشریح فاصبر لحکم ربک الخ یعنی آپ ﷺ کے رب نے جس کار عظیم پر آپ کو مامور کیا ہے اس کی راہ میں سختوں اور تکالیف پر صبر کرو، آپ ﷺ پر اس سلسلہ میں جو حالات بھی آئیں انہیں پامردی سے برداشت کرو، اور اس معاملہ میں کسی منکر حق کی بات نہ مانو خواہ وہ تمہیں کتنا ہی لالچ دے یا ڈرائے۔ کہا گیا ہے کہ آثم سے مراد عتبہ بن ربیعہ اور کفور سے مراد ولید بن مغیرہ ہے اس لئے کہ ان دونوں نے آپ ﷺ سے کہا تھا کہ اگر تم اپنے اس تبلیغی مشن کو ترک کردو تو ہم تم کو مالا مال کردیں گے اور عرب کی حسین ترین عورت سے شادی کردیں گے اور اپنا بادشاہ تسلیم کرلیں گے۔ تمت