Ayahs 74:1–2ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے، اے کپڑا اوڑھنے والے ! نبی ﷺ (مدثر) کی اصل متدثر تھی، تاء کو دال میں ادغام کردیا گیا، یعنی نزول وحی کے وقت اپنے اوپر کپڑا لپیٹنے والے ! کھڑا ہوجا اور اہل مکہ کو آگ سے ڈرا اگر ایمان نہ لائیں، اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر، مشرکین کے شرک کرنے سے بڑائی بیان کر، اور اپنے کپڑوں کو نجاست سے پاک رکھا کر یا ان کو اونچا رکھ، متکبرین عرب کے کپڑوں کو (زمین) پر گھسیٹنے کے برخلاف، اس لئے کہ بسا اوقات کپڑوں کو نجاست لگ جاتی ہے، اور بتوں کو چھوڑ دے، رجز کی تفسیر آپ ﷺ نے بتوں سے فرمائی ہے، یعنی ترک بتاں پر قائم رہ، اور احسان کر کے زیادہ لینے کی خواہش نہ کر رفع کے ساتھ حال ہے زیادہ طلب کرنے کے لئے کوئی چیز نہ دے (یہ حکم) آپ ﷺ کے ساتھ خاص ہے اس لئے کہ آپ ﷺ اجمل آداب اور اشرف اخلاق کے مامور ہیں، اور اپنے رب کے لئے اوامرونواہی پر صبر کر پس جب صور میں پھونک ماری جائے گی (اور) وہ سینگ ہے، یہ نفخہ ٔ ثانیہ ہوگا، تو وہ پھونکنے کا دن بڑا سخت دن ہوگا یومئذ اپنے ما قبل (ذلک) مبتداء سے بدل ہے اور غیر متمکن کی طرف اس کی اضافت کی وجہ سے مبنی ہے، مبتداء کی خبر یوم عسیر ہے اور اذا میں عامل وہ ہے جس پر جملہ (جزائیہ) دلالت کر رہا ہے، اور (مدلول) اشتد الامر ہے جو کافروں پر آسان نہ ہوگا اس میں اس بات پر دلالت ہے کہ وہ مومن کے لئے آسان ہے یعنی وہ دن اپنی عسرت کے باوجود مومنین کے لئے عسیر نہ ہوگا، مجھے اور اسے جس کو میں نے اکیلا پیدا کیا ہے چھوڑ دے (ومن خلقت) کا عطف ذرنی کے مفعول پر ہے یا مفعول معہٗ ہے، (وحیدا) من سے یا من کی طرف لوٹنے والی ضمیر محذوف سے حال ہے (ای خلقتہٗ ) وحیدا معنی میں منفرداً کے ہے یعنی بلا اہل اور بلامال کے پیدا کیا، اور وہ ولید بن مغیرہ مخزومی ہے، اور اسے میں نے بہت سا مال دے رکھا ہے جو کہ کھیتی اور جانور اور مال تجارت پر مشتمل ہے اور حاضر باش دس یا اس سے زیادہ فرزند بھی دیئے جو محفلوں میں حاضر رہتے ہیں اور ان کی شہادت سنی جاتی ہے اور میں نے اس عیش میں اور عمر میں اور اولاد میں بہت کچھ کشادگی دے رکھی ہے پھر بھی اس کی چاہت ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں، ہرگز نہیں ! میں اس سے زیادہ نہیں دوں گا وہ ہماری آیتوں قرآن کا دشمن ہے میں اسے عنقریب عذاب کی ایک بڑی مشقت میں ڈالوں گا یا آگ کے پہاڑ پر چڑھا ئوں گا جس پر وہ ہمیشہ ہمیش چڑھتا اترتا رہے گا، اس کو غور و فکر کرنے کے بعد تجویز سوجھی اس کے لئے ہلاکت ہو ملعون اور معذب ہو، کیسی تجویز سوجھی ؟ ! ! یعنی کس طرح کی تجویز سوجھی، وہ پھر غارت ہو کیسی تجویز سوجھی ؟ ! ! پھر اس نے اپنی قوم کی طرف دیکھا یا سوچا کہ کس طریقہ سے اس میں عیب نکالے ؟ پھر اس نے منہ بنایا اور بات کہنے کے لئے منہ سکیڑا، (پھر) اور زیادہ منہ بنایا اور بگاڑا، پھر وہ ایمان سے پیچھے ہٹ گیا، اور نبی ﷺ کے اتباع سے تکبر کیا پھر اس نے بات کہی تو اس نے کہا یہ تو پہلے سے چلا آتا جادو ہے اور یہ تو محض انسانی کلام ہے جیسا کہ انہوں نے کہا کہ اس کو کوئی بشر سکھاتا ہے میں اس کو عنقریب جہنم میں داخل کروں گا اور تجھے کیا خبر کہ جہنم کیا چیز ہے ؟ ابہام جہنم کی تعظیم شان کے لئے ہے، گوشت اور رگ پٹھوں سے نہ کچھ باقی رہنے دیتی ہے اور نہ چھوڑتی ہے مگر یہ کہ اس کو سوختہ کردیتی ہے پھر وہ سابقہ حالت پر ہوجاتا ہے اور وہ کھال کو جھلسا دیتی ہے یعنی ظاہر جلد کو جلا کر رکھ دیتی ہے اور اس پر انیس نگران فرشتے مقرر ہیں بعض کفار نے جو کہ طاقتور اور سخت گرفت والا تھا کہا سترہ کے لئے میں (اکیلا) کافی ہوں گا، اور دو سے تم میری مدد کرنا، اور ہم نے دوزخ کے نگران صرف فرشتے رکھے ہیں یعنی یہ ان کے مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتے جیسا کہ ان کا خیال ہے اور ہم نے فرشتوں کی مذکورہ تعداد کافروں کی آزمائش کے لئے رکھی ہے، بایں طور کہ انہوں نے کہا کہ فرشتے انیس ہی کیوں ہیں ؟ تاکہ اہل کتاب پر جو کہ یہود ہیں فرشتوں کی تعداد کے انیس ہونے میں آپ ﷺ کی صداقت ظاہر ہوجائے اس لئے یہ تعداد اس تعداد کے مطابق ہے کہ جو ان کی کتاب میں ہے اور تاکہ اہل کتاب میں سے مومنین کا ایمان اس تعداد سے کہ جو آپ ﷺ نے بیان فرمائی اس تعداد کے مطابق ہونے کی وجہ سے جو ان کی کتاب میں ہے اور زیادہ ہوجائے، اور مومنین اور اہل کتاب وغیرہ شک نہ کریں، اور مدینہ کے وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض شک ہے اور مکہ کے کافر کہیں کہ اس تعداد کے بیان کرنے میں اللہ کا کیا مقصد ہے ؟ (اس بیان تعداد کو) اس کی غرابت کی وجہ سے اس کا نام مثل رکھا ہے اور مثلاً حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اور اس طرح یعنی اس عدد کے منکر اور اس کی تصدیق کرنے والے کے مثل، اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور تیرے رب کے فرشتوں کے لشکر کی تعداد کو اس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ان کی قوت میں اور تعداد میں اور یہ دوزخ تو بنی آدم کے لئے سراسر نصیحت ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : یایھا المدثر، المدثر، لابس الدثار، ھو ما فوق الشعار، شعار اس کپڑے کو کہتے ہیں جو بدن سے متصل ہو جیسا کہ بنیان وغیرہ اور دثار وہ کپڑا جو شعار کے اوپر پہنا جائے مثلاً چادر، چوغہ، شیروانی، کوٹ وغیرہ۔
قولہ : قم، قم کے معنی خواب گاہ وغیرہ سے اٹھنے کے بھی ہیں اور کسی کام کو شروع کرنے کے بھی ہیں یقال قمت بکذا میں نے فلاں کام شروع کردیا۔
قولہ : والرجز، راء کے ضمہ اور کسرہ کے ساتھ زاء، سین سے بدلی ہوئی ہے، اصل میں رجس ہے بمعنی ناپاکی، گندگی، بت، گناہ وغیرہ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے قول ” فاجتنبوا الرجس من الاوثان۔
قولہ : بدل مما قبلہ یعنی یومئذ، ذلک اسم اشارہ سے بدل ہے۔
قولہ : المبتداء یہ مما قبلہٗ میں ما کا بیان ہے یعنی یومئذ، ذلک سے بدل ہے جو کہ مبتداء ہے۔
قولہ : بنی لا ضافتہ الی غیر متمکن یعنی یوم مبنی ہے غیر متمکن یعنی اذ کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے، یومئذ کی تنوین جملہ محذوف کے عوض میں ہے ای یوم اذنقر فی الناقور۔
قولہ : والعامل فی اذا مادلت علیہ الجملۃ، یعنی اذا نقر فی الناقور میں اذا کا عامل وہ فعل محذوف ہے جس پر جملہ جزائیہ یعنی فذالک یوم عسیر دلالت کر رہا ہے اور وہ عامل اشتد الامر ہے، تقدیر عبارت یہ ہے اشتدالامر اذا نقر فی الناقور۔
قولہ : عطف علی المفعول یعنی ذرنی کی یاء پر، یا پھر مفعول معہٗ ہے یعنی ومن خلقت میں وائو بمعنی مع ہے۔
قولہ : او من ضمیرہ المحذوف یعنی وحیدا یا تو من سے حال ہے یا خلقت کی ضمیر محذوف سے حال ہے اس لئے کہ اصل میں خلقتہٗ ہے۔
قولہ : لا تبقی ولا تذر دونوں جملوں کا مفہوم ایک ہی ہے یہ عطف تاکید کے لئے ہے۔
قولہ : من غیرھم اس کے اضافہ کا مقصد، اعتراض تکرار کو دفع کرتا ہے۔
اعتراض : ویزداد الذین امنوا میں اہل کتاب میں سے مومنین مراد ہے اور ولا یرتاب الذین اوتو الکتاب سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جو ایمان نہیں لائے اور والمومنون سے پھر وہ اہل کتاب مراد ہیں جن کا بیان شروع میں ہوا لہٰذا یہ تکرار ہے، من غیرھم کہہ کر اس اعتراض کو دفع کردیا، دفع کا خلاصہ یہ ہے کہ اول سے مومنین اہل کتاب مراد ہیں اور ثانی المومنون سے غیر اہل کتاب مراد ہیں۔
قولہ : بالمدینۃ، ای کائنا بالمدینۃ یہ حال ہے، مدینہ کی تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ نفاق مدینہ میں ہی تھا، مکہ میں نفاق نہیں تھا۔
قولہ : وھدی، ھا کا فتحہ اور دال کا سکون نیز ھا کا ضمہ اور دال کا فتح دونوں جائز ہیں۔ (صاوی)
تفسیر و تشریح
شان نزول :
یایھا المدثر (الآیۃ) سورة مدثر قرآن کریم کی ان سورتوں میں سے ہے جو نزول قرآن کے بالکل ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہیں، اسی لئے بعض حضرات نے اس سورت کو سب سے پہلے نازل ہونے والی سورت بھی کہا ہے مگر روایات صحیحہ معروفہ کی رو سے سورة اقرأ کی مالم یعلم تک، ابتدائی آیات کا سب سے پہلے نزول ہوا ہے، فترت وحی کے تین سالہ زمانہ کے بعد سب سے پہلے نازل ہونے والی سورة المدثر کی فاھجر تک، کی آیات ہیں، فترت وحی کی وجہ سے آپ ﷺ زیادہ کبیدہ خاطر رہتے تھے، بعض اوقات یہ کبیدگی اس قدر بڑھ جاتی تھی کہ آپ ﷺ کا جی چاہتا تھا کہ کسی پہاڑ کی چوٹی سے گر کر اپنی جان قربان کردیں مگر جبرئیل امین ظاہر ہوتے اور فرماتے آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں، اس سے آپ ﷺ کو سکون ہوتا اور اضطرابی کیفیت دور ہوجاتی۔ (ابن جریر)
اسی زمانہ ٔ فترت کے آخر میں امام زہری کی روایت کے مطابق یہ واقعہ پیش آیا کہ ایک روز آپ ﷺ مکہ میں کسی جگہ تشریف لے جا رہے تھے آپ ﷺ نے ایک آواز سنی تو ادھر ادھر دیکھا مگر کچھ نظر نہ آیا جب آسمان کی طرف دیکھا تو وہی فرشتہ جو غار حرا میں سورة اقرأ کی آیات لے کر آیا تھا وہی آسمان کے نیچے فضاء میں ایک معلق کرسی پر بیٹھا ہوا ہے، اس کو اس حال میں دیکھ کر وہی رعب وہیبت کی کیفیت طاری ہوگئی جو غار حراء میں سورة اقرأ کی آیات نازل ہونے کے وقت ہوئی تھی، سخت سردی اور کپکپی کے احساس سے، آپ ﷺ گھر واپس تشریف لے آئے اور آپ ﷺ نے فرمایا زملونی، زملونی اور آپ ﷺ کپڑا اوڑھ، لپیٹ کرلیٹ گئے، اور بعض روایات میں آپ ﷺ نے فرمایا دثرونی، دثرونی مجھے کپڑا اوڑھائو، دونوں کلموں کے تقریباً ایک ہی معنی ہیں، اسی حالت میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نازل ہوئے اور فرمایا :
” یایھا المدثر “ اس کے بعد آپ ﷺ پر لگاتار وحی کے نزول کا سلسلہ شروع ہوا تو اس سورت کی ابتدائی سات آیتیں نازل ہوئیں، یایھا المدثر اور یایھا المزمل یہ طرز خطاب، عام خطاب یا ایھا النبی، یایھا الرسول کے خطاب سے مختلف ہے اس خطاب میں شفقت، محبوبیت اور قربت نمایاں ہے اس طرز خطاب سے اللہ کا مقصد آپ ﷺ کے اس خوف کو دور کرنا تھا جو جبرئیل (علیہ السلام) کو دیکھ کر طبعی طور پر آپ ﷺ پر طاری ہوگیا تھا، فرمایا آپ اوڑھ لپیٹ کرلیٹ کہاں گئے، اٹھئے ! اب لیٹنے کا وقت ختم ہوا، آپ ﷺ پر تو ایک کار عظیم کا بوجھ ڈالا گیا ہے جسے انجام دینے کے لئے آپ ﷺ کو پورے عزم کے ساتھ اٹھ کھڑا ہونا ہے۔
سورة مدثر اور سورة مزمل میں سے کونسی سورت پہلے نازل ہوئی اس میں روایات بہت مختلف ہیں، لیکن اتنی بات طے شدہ ہے کہ یہ دونوں سورتیں نزول قرآن کے ابتدائی دور کی ہیں اور ان دونوں کے نزول کا زمانہ بھی بہت قریب قریب ہے اور دونوں کا نزول ایک ہی واقعہ میں ہوا ہے، (معارف) مگر فرق دونوں میں یہ ہے کہ سورة مزمل کے شروع میں جو احکام دیئے گئے ہیں وہ اپنی ذاتی شخصیت کی اصلاح سے متعلق ہیں اور سورة مدثر کے شروع میں جو احکام دیئے گئے ہیں ان کا تعلق زیادہ تر دعوت و تبلیغ اور اصلاح خلق سے ہے۔
سورة مدثر میں سب سے پہلا حکم جو آپ ﷺ کو دیا گیا ہے، وہ قم فانذر ہے یعنی کھڑے ہوجائیے، اس کے معنی حقیقی قیام کے بھی ہوسکتے ہیں کہ آپ ﷺ جو کپڑوں میں لپٹ کرلیٹ گئے ہیں اس کو چھوڑ کر کھڑے ہوجائیے اور یہ معنی بھی بعید نہیں کہ قیام سے مراد کام کے لئے مستعد ہو کر کمر کسنا ہو اور مطلب یہ ہو کہ آپ ﷺ ہمت کر کے خلق خدا کی اصلاح کی ذمہ داری سنبھالئے، فانذر یہ انذار سے مشتق ہے جس کے معنی شفقت اور محبت سے ڈرانے کے ہیں جس میں شفقت کے ساتھ ساتھ مضرت سے بھی بچانا ہو جیسے باپ اپنے بچہ کو سانپ بچھو آگ وغیرہ سے ڈراتا ہے، انبیاء کی یہی شان ہوتی ہے، اسی لئے ان کا لقب نذیر اور بشیر ہوتا ہے۔
آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے اوڑھ لپیٹ کرلیٹنے والے ! اٹھو اور آپ ﷺ کے گردوپیش خدا کے جو بندے خواب غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ان کو خبردار کردو انہیں اس انجام سے ڈرائو جس سے وہ یقینا دو چار ہوں گے اگر اسی حالت میں مبتلا رہے، اور انہیں یہ بھی بتادو کہ وہ کسی اندھیر نگری میں نہیں رہتے جس میں وہ اپنی مرضی سے جو کچھ چاہیں کرتے رہیں اور ان کے کسی عمل کی کوئی باز پرس نہ ہو۔
Ayah 74:3وربک فکبر، ایک نبی کا سب سے پہلا اور بڑا کام یہ ہوتا ہے کہ جاہل انسان جن جن کی بڑائی مان رہے ہیں، ان کی نفی کر دے اور ہانکے پکارے دنیا بھر میں یہ اعلان کر دے کہ اس کائنات میں بڑائی ایک خدا کے سوا کسی کی نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ اسلام میں کلمہ اللہ اکبر کو بڑی اہمیت حاصل ہے، اذان و اقامت کی ابتداء اللہ اکبر کے اعلان سے ہوتی ہے، نماز میں بھی مسلمان اللہ اکبر کہہ کر داخل ہوتا ہے، اور بار بار اللہ اکبر کہہ کر اٹھتا اور بیٹھتا ہے اور جب ذبح کرتا ہے تو بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر، اور نعرہ تکبیر پوری دنیا میں مسلمانوں کا سب سے زیادہ نمایاں امتیازی شعار ہے، کیونکہ اس امت کے نبی نے اپنا کام ہی اللہ اکبر کی تکبیر سے شروع کیا ہے۔
Ayah 74:4وثیابک فطھر، ثیاب، ثوب کی جمع ہے اس کے حقیقی معنی کپڑے کے ہیں اور مجازی طور پر عمل کو بھی ثوب و لباس کہا جاتا ہے، قلب و نفس کو، خلق و دین کو اور انسانی جسم کو بھی ثوب سے تعبیر کیا جاتا ہے، جس کے شواہد قرآن مجید اور محاورات عرب میں بکثرت موجود ہیں، اس آت میں بھی حضرات مفسرین سے یہ سب ہی معنی منقول ہیں اور ظاہر یہ ہے کہ ان تمام معنی میں کوئی تضاد و تناقض نہیں، بطور عموم مجاز کے اگر یہ سب ہی معنی مراد لئے جائیں، تو اس میں کوئی بعد نہیں، اور معنی اس حکم کے یہ ہوں گے کہ اپنے کپڑوں اور جسم کو ظاہری ناپاکیوں سے پاک رکھئے قلب و نفس کو باطل عقائد و خیالات سے اور اخلاق رذیلہ سے پاک رکھئے، پاجامہ یا تہبند کو ٹخنوں سے نیچے رکھنے کی ممانعت بھی اسی سے مستفاد ہے، اس لئے کہ نیچے لٹکے ہوئے کپڑوں کا نجاست سے آلودہ ہوجانا بعید نہیں۔
اللہ تعالیٰ طہارت کو پسند فرماتا ہے ” ان اللہ یحب التوابین و یحب المتطھرین “ اور حدیث میں طہارت کو نصف ایمان کہا گیا ہے، اس لئے مسلمان کو ہرحال میں اپنے جسم، مکان اور لباس کی ظاہری طہارت کا بھی اہتمام رکھنا ضروری ہے اور قلب کی باطنی طہارت کا بھی۔
Ayah 74:5والرجز فاھجر، گندگی سے مراد ہر قسم کی گندگی ہے، خواہ وہ عقائد و خیالات کی گندگی ہو یا اخلاق و اعمال کی یا جسم و لباس اور رہن سہن کی، مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کے گردوپیش سارے معاشرے میں طرح طرح کی جو گندگیاں پھیلی ہوئی ہیں ان سب سے اپنا دامن بچا کر رکھو، کوئی شخص آپ ﷺ پر انگلی نہ اٹھا سکے کہ جن برائیوں سے آپ ﷺ لوگوں کو روک رہے ہوں ان میں سے کسی کا بھی کوئی شائبہ آپ ﷺ کی زندگی میں پایا جائے۔
Ayah 74:6ولا تمنن تستکثر، اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جس پر احسان کرو بےغرضانہ کرو، آپ ﷺ کی عطا و بخشش، جود و سخا، حسن سلوک و ہمدردی محض اللہ کے لئے ہو اس میں کوئی شائبہ اس خواہش کا نہ ہو کہ احسان کے بدلے آپ ﷺ کو کسی قسم کے دنیوی فوائد حاصل ہوں، اس سے معلوم ہوا کہ کسی شخص کو ہدیہ و تحفہ اس نیت سے دینا کہ وہ اس کے عوض اس سے زیادہ دے گا، یہ مذموم اور مکروہ ہے، قرآن کریم کی دوسری آیات سے اگرچہ عام لوگوں کے لئے اس کا جواز معلوم ہوتا ہے مگر وہ بھی کراہت سے خالی نہیں اور شریفانہ اخلاق کے بھی منافی ہے۔
Ayah 74:7ولربک فاصبر، یعنی جو کام آپ ﷺ کے سپرد کیا جا رہا ہے بڑے جان جوکھوں کا کام ہے، اس میں سخت مصائب اور صبر آزما مشکلت اور تکلیفوں سے آپ ﷺ کو سابقہ پڑے گا، آپ کی اپنی قوم آپ ﷺ کی دشمن ہوجائے گی، پورا عرب آپ ﷺ کے خلاف صف آرا ہوجائے گا مگر جو کچھ اس راہ میں پیش آئے اپنے رب کی خاطر اس پر صبر کرنا اور اپنے فرض کو پوری ثابت قدمی اور مستقل مزاجی سے انجام دینا، اس سے باز رکھنے کے لئے خوف، طمع، لالچ، دوستی، دشمنی، محبت، غرضیکہ ہر چیز آپ ﷺ کے راستہ میں حائل ہوگی ان سب کے مقابلہ میں مضبوطی سے اپنے موقف پر قائم رہنا ہوگا۔
Ayahs 74:8–10فاذا نقر فی الناقور، فذلک یومئذ یوم عسیر، اس سورت کا یہ حصہ، سورت کی ابتدائی آیات کے چند ماہ بعد اس وقت نازل ہوا، جب رسول اللہ ﷺ کی طرف سے علانیہ تبلیغ اسلام شروع ہوجانے کے بعد پہلی مرتبہ حج کا زمانہ آیا، تو سرداران قریش کو یہ اندیشہ ہوا کہ اس موقع پر پورے عرب کے لوگ آئیں گے ایسا نہ ہو کہ محمد ﷺ کے نئے دین سے لوگ متاثر ہوجائیں جس سے اس دین کو تقویت حاصل ہوجائے لہٰذا اس کے سدباب کے لئے کوئی متفقہ لائحہ عمل تیار کیا جائے۔
متفقہ لائحہ عمل کے لئے مشرکین مکہ کی کانفرنس :
قم فانذر، کی تعمیل میں جب آپ ﷺ نے اسلام کی تبلیغ شروع کی اور قرآن مجید کی پے در پے نازل ہونے والی سورتوں کو آپ ﷺ نے سنانا شروع کیا تو مکہ میں کھلبلی مچ گئی، اور مخالفتوں کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا، چند مہینے اس حال پر گزرے تھے کہ حج کا زمانہ آگیا تو مکہ کے لوگوں کو یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ اس موقع پر تمام عرب سے حاجیوں کے قافلے آئیں گے، اگر محمد ﷺ نے ان قافلوں کی قیام گاہوں پر جا کر آنے والے حاجیوں سے ملاقاتیں کیں اور حج کے اجتماعات میں جگہ جگہ کھڑے ہو کر قرآن جیسا بےنظیر اور پر تاثیر کلام سنانا شروع کردیا، تو عرب کے ہر گوشہ تک ان کی دعوت پہنچ جائے گی، اس لئے قریش سرداروں نے ایک کانفرنس کی، جس میں یہ طے کیا گیا کہ حاجیوں کے آتے ہی ان کے اندر رسول اللہ ﷺ کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کردیا جائے، اس پر اتفاق ہوجانے کے بعد ولید بن مغیرہ نے حاضرین سے کہا : اگر آپ لوگوں نے محمد ﷺ کے متعلق مختلف باتیں لوگوں سے کہیں تو ہم سب کا اعتبار جاتا رہے گا، اس لئے کوئی ایک بات طے کرلیجئے جسے سب بالا تفاق کہیں، کچھ لوگوں نے کہا ہم محمد ﷺ کو کاہن کہیں گے، ولید نے کہا نہیں خدا کی قسم وہ کاہن نہیں ہے، ہم نے کاہنوں کو دیکھا ہے ان کے کلام سے قرآن کو دور کی بھی نسبت نہیں ہے، کچھ اور لوگ بولے : انہیں مجنون کہا جائے، ولید نے کہا وہ مجنون بھی نہیں ہے ہم نے دیوانے اور پاگل بہت دیکھے ہیں مجنون جیسی بہکی بہکی، الٹی سیدھی باتیں کرتا ہے وہ کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہیں، کون باور کرے گا کہ محمد ﷺ جو کلام پیش کرتے ہیں وہ دیوانے کی بڑ ہے، لوگوں نے کہا : اچھا تو ہم شاعر کہیں گے، ولید نے کہا وہ شاعر بھی نہیں ہے ہم شعر کی ساری اقسام سے واقف ہیں، اس کے کلام پر شاعری کی کسی قسم کا اطلاق بھی نہیں ہوسکتا، کچھ لوگ بولے تو ہم انہیں ساحر کہیں گے، ولید نے کہا وہ ساحر بھی نہیں ہے، جادوگروں کو ہم جانتے ہیں، جادوگر اپنے جادو کیلئے جو طریقہ اختیار کرتے ہیں ان سے بھی ہم واقف ہیں، یہ باتیں بھی محمد ﷺ پر چسپاں نہیں ہوتیں، پھر ولیدنے کہا ان باتوں میں سے جو بات بھی تم کہو گے لوگ اس کو نارو الزام سمجھیں گے، خدا کی قسم ! اس کلام میں بڑی حلاوت ہے اس کی جڑبڑی گہری اور اس کی ڈالیاں بڑی ثمردار ہیں، اس پر ابوجہل ولید کے سر ہوگیا اور اس نے کہا تمہاری قوم تم سے راضی نہ ہوگی جب تک کہ تم محمد ﷺ کے بارے میں کوئی بات نہ کہو، اس نے کہا اچھا مجھے سوچ لینے دو ، پھر سوچ کر بولا : قریب ترین جو بات کہی جاسکتی ہے وہ یہ کہ تم عرب کے لوگوں سے کہو، ولید کی اس بات کو سب نے قبول کرلیا پھر ایک منصوبہ کے مطابق حج کے زمانہ میں قریش کے وفود، حاجیوں کے درمیان پھیل گئے اور انہوں نے آنے والے زائرین کو خبردار کرنا شروع کردیا کہ یہاں ایک ایسا شخص ہے جو بڑا جادوگر ہے اور اس کا جادو خاندانوں میں تفریق ڈال دیتا ہے اس سے ہوشیار رہنا، مگر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قریش نے رسول اللہ ﷺ کا نام خود ہی سارے عرب میں مشہور کردیا۔ (سیرت ابن ہشام)
Ayahs 74:11–30ذرنی و من خلقت وحیدا یہ کلمہ وعید اور تہدید کے لئے ہے، یہ شخص جسے میں نے ماں کے پیٹ سے اکیلا پیدا کیا ہے اس کے پاس نہ مال تھا اور نہ اولاد، یہ ولید بن مغیرہ کی طرف اشارہ ہے، اللہ نے اسے اولاد ذکور سے نوازا تھا اس کے دس بارہ لڑے تھے جو ہر وقت اس کے پاس رہتے تھے، مجلسوں اور محفلوں میں بلائے جاتے تھے، گھر میں دولت کی فراوانی تھی، اس لئے بیٹوں کو کاروبار اور تجارت کے لئے باہر جانے کی ضرورت نہیں تھی، بارہ بیٹوں میں سے تین مسلمان ہوگئے تھے، خالد، ہشام اور ولید بن ولید۔ (فتح القدیر)
Ayah 74:31وما جعلنا اصحب النار الا ملائکۃ، جب جہنم کے نگرانوں کا ذکر فرمایا اور ان کی تعداد بیان فرمائی تو ابوجہل نے جماعت قریش کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کیا تم میں سے ہر دس آدمی کا گروپ ایک ایک فرشتہ کے لئے کافی نہیں ہوگا ؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ کلدہ نامی ایک شخص نے جسے اپنی طاقت پر بڑا گھمنڈ تھا کہا، تم سب صرف دو فرشتے سنبھال لینا، سترہ فرشتوں کے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، کہتے ہیں کہ اسی نے آپ ﷺ کو کئی مرتبہ کشتی کا بھی چیلنج دیا اور ہر مرتبہ شکست کھائی مگر ایمان نہیں لایا کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ رکانہ بن عبدیزید کے ساتھ بھی آپ ﷺ نے کشتی لڑی تھی مگر وہ شکست کھا کر مسلمان ہوگئے تھے، (ابن کثیر) مطلب یہ ہے کہ یہ تعداد بھی ان کے استہزاء اور آزمائش کا سبب بن گئی۔