73. Surah Al-Muzzammil

المزملThe Enshrouded One · 20 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 73:1–4

یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ Open ayah 73:1 in the Quran reader

اے محمد ﷺ جو کپڑے میں لپٹ رہے ہو

قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:2 in the Quran reader

رات کو قیام کیا کرو مگر تھوڑی سی رات

نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:3 in the Quran reader

یعنی نصف رات یا اس سے کچھ کم

اَوْ زِدْ عَلَیْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاؕ Open ayah 73:4 in the Quran reader

یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے کپڑے میں لپٹنے والے نبی ! (مزمل) کی اصل متزمل تھی، تاء کو زاء میں ادغام کردیا گیا، یعنی اس پر وحی کے نازل ہونے کے وقت وحی کی ہیبت کے خوف سے کپڑوں میں لپٹنے والے ! رات کو قیام کر نماز پڑھ مگر کم، آدھی رات (نصفہٗ ) قلیلا سے بدل ہے اور نصف کا قلیل ہونا پوری رات کے اعتبار سے ہے، یا اس سے یعنی نصف سے، بھی کچھ کم کرلے ثلث رات تک یا اس پر (دو تہائی تک) زیادہ کرلے، او تخییر کے لئے ہے، اور قرآن خوب صاف صاف اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھ ہم تم پر ایک بھاری کلام قرآن نازل کرنے والے ہیں یعنی با رعب کلام یا شدید، اس لئے کہ اس میں احکام تکلیفیہ ہیں، بلاشبہ سونے کے بعد (رات) کو اٹھنا قرآن فہمی کے لئے دل اور کان کی موافقت کی وجہ سے نہایت موثر ہے اور بات کو خوب واضح اور صاف کرنے والا ہے یقینا آپ کو دن میں بہت شغل رہتا ہے جس کی وجہ سے آپ ﷺ کو تلاوت قرآن کی فرصت نہیں ہوتی، تو اپنے رب کا نام لے، یعنی اپنی قرأت کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ اور سب سے تعلق منقطع کر کے عبادت میں اس کی طرف پوری طرح متوجہ ہوجا، تبتیلاً ، بتل کا مصدر ہے اس کو فواصل کی رعایت سے لایا گیا ہے، یہ تبتل کا ملزوم ہے، وہ مشرق و مغرب کا پروردگار ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اس کو اپنا کارساز بنا لو یعنی اپنے تمام امور اسی کو سپرد کردو اور جو کچھ کفار مکہ ایذا رسانی کی باتیں کرتے ہیں آپ ﷺ ان پر صبر کریں اور وضع داری کے ساتھ اس سے الگ ہوجائو کہ جس میں جزع وفزع نہ ہو، یہ حکم جہاد کا حکم نازل ہونے سے پہلے کا ہے اور مجھے اور جھٹلانے والے آسودہ حال لوگوں کو چھوڑ دے (والمکذبین) کا عطف (درنی) کے مفعول پر ہے یا یہ مفعول معہ ہے، اور معنی یہ ہیں کہ میں ان کے لئے تمہاری طرف سے کافی ہوں اور وہ سرداران قریش ہیں، اور انہیں تھوڑے دن اور مہلت دو ، چناچہ کچھ ہی مدت کے بعد بدر میں وہ قتل کئے گئے بلاشبہ ہمارے پاس بھاری بیڑیاں ہیں، انکال، نکل نون کے کسرہ کے ساتھ، کی جمع ہے، اور دہکتی ہوئی آگ ہے، اور گلے میں پھنسنے والا کھانا ہے یعنی وہ گلے میں اٹک جاتا ہے، اور وہ زقوم ہے یا ضریع ہے یا پیپ ہے یا آگ کے کانٹے، نہ (باہر) نکلیں گے اور نہ (نیچے) اتریں گے، اور دردناک عذاب ہے جو عذاب نبی کریم ﷺ کی تکذیب کرنے والے کے لئے ذکر کیا گیا ہے، یہ اس سے زیادہ ہے جس روز زمین اور پہاڑ ہلنے لگیں گے اور پہاڑ ریت کے ٹیلوں کی مانند ان کے جمع ہونے کے بعد اڑتے ہوئے غبار کے مانند ہوجائیں گے (مھیلا) ھال یھیل سے ہے اس کی اصل مھیول ہے، یاء پر ضمہ ثقیل ہونے کی وجہ سے ھا کی طرف منتقل کردیا اور وائو ثانی، التقاء ساکنین کی وجہ سے حذف ہوگیا، اس کے زائدہ ہونے کی وجہ سے اور ضمہ کو یاء کی مناسبت کی وجہ سے کسرہ سے بدل دیا گیا، اے اہل مکہ ! ہم نے تمہارے پاس ایک ایسا رسول بھیجا ہے اور وہ محمد ﷺ ہیں جو قیامت کے دن تمہارے خلاف گواہی دے گا ان گناہوں پر جو تم سے صادر ہوتے ہیں، جیسا ہم نے فرعون کے پاس ایک رسول بھیجا تھا اور وہ موسیٰ (علیہ السلام) ہیں، پھر فرعون نے اس رسول کی بات نہ مانی تو ہم نے اس کی سخت پکڑ کی سو اگر تم دنیا میں کفر کرو گے تو اس دن (کی مصیبت) سے کیسے بچو گے ؟ جو بچوں کو اپنی ہولناکی کی وجہ سے بوڑھا کر دے گا اور وہ قیامت کا دن ہے، شیبا، اشیب کی جمع ہے اور اصل میں شیب کے شین پر ضمہ ہے یاء کی مجانست کی وجہ سے کسرہ دے دیا ہے اور یوم شدید کے بارے میں کہا جاتا ہے ” یوم یشیب نواصی الاطفال “ ایسا دن کہ جس میں بچوں کے بال سفید ہوجائیں گے اور یہ مجاز ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ آیت میں حقیقت مراد ہو (اور جس دن میں) آسمان پھٹ جائے گا یعنی اس میں اس دن شگاف ہوجائیں گے بیشک اس دن کے آنے کا اس کا وعدہ ضرور پورا ہونے والا ہے بلاشبہ یہ ڈرانے والی آیتیں مخلوق کے لئے نصیحت ہیں پس جو چاہے اپنے رب کی طرف راہ اختیار کرے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : یایھا المزمل یہ آنحضرت ﷺ کو خطاب ہے۔ قولہ : المزل، ای المتلفف بثیابہ، اپنے کپڑوں میں لپٹنے والے، مفسر علام نے یہی معنی مراد لئے ہیں، کہا گیا ہے کہ مزمل بمعنی حامل النبوۃ یا بمعنی حامل القرآن ہیں، زاملۃ، اونٹنی کو کہتے ہیں اس لئے کہ وہ بہت زیادہ وزن اٹھاتی ہے، اب یایھا المزمل کا مطلب ہوگا اے حامل نبوۃ یا اے حامل قرآن ! رات کو اٹھ، یہ آپ ﷺ کے اسماء توقیفی میں سے ہے آپ ﷺ کیلئے قرآن میں مزمل کا لفظ استعمال ہوا ہے لہٰذا آپ پر مزمل کا اطلاق صحیح ہے سہیلی (رح) تعالیٰ نے اس میں اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ مزمل کا اطلاق آپ ﷺ پر بطور اسم درست نہیں ہے، اس لئے کہ یہ آپ ﷺ کی ایک وقتی حالت سے مشتق ہے، مگر یہ صحیح نہیں ہے اس لئے کہ وقتی حالت سے بھی اسم کا اطلاق درست ہے، آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ کی ایک وقتی حالت سے اسم کا اطلاق فرمایا ہے حضرت علی ؓ ایک روز زمین پر لیٹے ہوئے تھے اور آپ ؓ کے پہلو پر مٹی لگی ہوئی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا ” قم یا ابا تراب “ (صاوی ملخصًا، و اضافۃ) قولہ : قلتہ بالنظر الی الکل اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : نصف، نصف کے مساوی ہوتا ہے، ایک نصف کو دوسرے نصف سے قلیل کہنا درست نہیں ہے، حالانکہ یہاں ” اللہ قلیلا نصفہ “ کہا گیا ہے۔ جواب : جواب کا ماحصل یہ ہے کہ نصف کو قلیل، کل کے اعتبار سے کہا گیا ہے، یعنی پوری رات قیام کرنے کے مقابلہ میں نصف شب، قیام قلیل ہے۔ قولہ : نصفہٗ یہ قلیلا سے بدل ہے نہ کہ لیلا سے مطلب یہ کہ آپ ﷺ کو تین باتوں میں اختیار دیا گیا، نصف میں، نصف سے کم میں، نصف سے زیادہ میں۔ قولہ : انا سنلقی علیک قولا ثقیلا یہ جملہ امر بالقیام اور اس کی علت کے درمیان جملہ معترضہ ہے۔ قولہ : ان ناشئۃ اللیل امر بالقیام کی علت ہے۔ قولہ : وطا بمعنی تکلیف، مشقت، دشواری، ایک قرأت میں وطاء، مواطاۃ (مفاعلۃ) سے مصدر ہے بمعنی موافقت یعنی سننے کی سمجھنے سے موافقت، کانوں کی دل کے ساتھ موافقت۔ قولہ : جی بہ رعایۃ للفواصل اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : تبتیلا، تبتل کا مصدر بلفظہ نہیں ہے، جبکہ مصدر بلفظہ تبتل، تبتلا ہونا چاہیے ؟ جواب : جواب کا ماحصل یہ ہے کہ فواصل کی رعایت کی وجہ سے مصدر دوسرے باب کا لایا گیا ہے۔ قولہ : ھو ملزوم التبتل اس کا مقصد بھی سوال مذکور کا جواب ہے، مگر پہلا جواب باعتبار لفظ کے ہے اور یہ باعتبار معنی کے، اس کا خلاصہ یہ ہے تبتیل جو کہ بتل کا مصدر ہے، بول کر مراد اس سے تبتل ہے، تبتل بتل کا ملزوم ہے یعنی لازم بول کر ملزوم مراد لیا گیا ہے اور اس میں کوئی قباحت نہیں ہے، جیسے تکرم تکریما، و تعلم تعلیما۔ قولہ : ھو رب المشرق و المغرب، ھو کا اضافہ کر کے اشارہ کردیا کہ رب المشرق مبتداء محذوف کی خبر ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے اور ربک سے بدل ہونے کی وجہ سے مجرور بھی جائز ہے۔ قولہ : ضریع، نوع من الشوک لا تر عاہ دابۃ لخبثہ ایک قسم کی کانٹے دار گھاس ہے جسے کوئی جانور نہیں کھاتا، سوائے اونٹ کے اور اونٹ بھی اسی وقت تک کھاتا ہے جب تک وہ ہری رہتی ہے، اردو میں اس کو اونٹ کٹارا کہا جاتا ہے۔ (ترویح الارواح) قولہ : زیادۃ علی ما ذکر لمن کذب النبی ﷺ ما قبل میں ان لدینا انکالا الخ تک جہنم کے جس عذاب کا ذکر فرمایا ہے اب عذابا الیما کہہ کر مبہم طریقہ پر اس کے علاوہ درد ناک عذاب کا ذکر فرمایا جو آنحضرت ﷺ کی تکذیب کرنے والوں کے لئے ہوگا۔ قولہ : یوم ترجف یہ فعل محذوف کا ظرف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے ای استقر بھم عندنا ما ذکر یوم ترجف۔ قولہ : مفعول تتقون، یوما حذف مضاف کے ساتھ تقون کا مفعول ہے ای تتقون عذاب یوم یا حذف جار کی وجہ سے بھی منصوب ہوسکتا ہے، اصل میں بیوم تھا ای بیوم یجعل الولدان شیبا۔ قولہ : ویجوز ان یکون المراد فی الایۃ الحقیقۃ یعنی یوما یجعل الولدان شیبا سے مجازاً درازی مدت بھی مراد ہوسکتی ہے اور حقیقی معنی بھی مراد ہوسکتے ہیں یعنی حقیقۃً بچے بوڑھے ہوجائیں گے۔ تفسیر و تشریح یایھا المزمل، جس وقت یہ آیات نازل ہوئیں آپ ﷺ چادر اوڑھ کرلیٹے ہوئے تھے، اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی سی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے مشفقانہ خطاب فرمایا، مطلب یہ کہ اب چادر چھوڑ دیں اور رات کو تھوڑا قیام کریں، یعنی تہجد کی نماز پڑھیں، کہا گیا ہے کہ اسی حکم کی وجہ سے آپ ﷺ پر تہجد فرض کیا گیا ہے، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ تہجد کی نماز آپ ﷺ پر واجب تھی، ایک سال بعد جب سورت کا آخری حصہ نازل ہوا تو تہجد کی فرضیت منسوخ کردی گئی، غار حرا میں نبی کریم ﷺ پر جب جبرئیل امین (علیہ السلام) نازل ہوئے اور سورة اقرأ کی ابتدائی آیتیں آپ ﷺ کو سنائیں، تو فرشتے کے نزول وحی کی شدت سے آپ ﷺ کو چونکہ پہلی مرتبہ سابقہ پڑا تھا، اس لئے طبعی طور پر آپ ﷺ پر خوف طاری ہوا جس کی وجہ سے آپ ﷺ کو سردی محسوس ہوئی آپ ﷺ حضرت خدیجہ ؓ کے پاس تشریف لے گئے سردی کی وجہ سے آپ ﷺ نے فرمایا زملونی، زملونی یعنی مجھے کپڑے اڑھا دو ، اس کے بعد کچھ مدت تک نزول وحی کا سلسلہ بند رہا، اس زمانہ کو فترت کا زمانہ کہا جاتا ہے، فتری وحی کے زمانہ کا ذکر کرتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایک روز میں چلا جا رہا تھا کہ اچانک میں نے آواز سنی تو میں نے نظر آسمان کی طرف اٹھائی، دیکھتا کیا ہوں کہ وہی فرشتہ جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا آسمان اور زمین کے درمیان ایک معلق کرسی پر بیٹھا ہوا ہے اس کو دیکھ کر مجھ پر پھر وہی رعب وہیبت کی کیفیت طاری ہوگئی جو پہلی ملاقات کے وقت طاری ہوچکی تھی میں واپس گھر چلا آیا اور گھر والوں سے میں نے کہا مجھے ڈھانپ دو ، اس پر یایھا المدثر نازل ہوئی، اس حدیث میں آیت یایھا المدثر کے نزول کا ذکر ہے، ہوسکتا ہے اسی حالت کو بیان کرنے کے لئے یایھا المزمل کا خطاب بھی آیا ہو، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یایھا المزمل کے لقب کا واقعہ الگ ہو۔ اس آیت میں قیام لیل یعنی تہجد کی نماز کو صرف فرض ہی نہیں کیا گیا، بلکہ اس میں کم از کم ایک چوتھائی رات مشغول رہنا بھی فرض قرر دیا گیا ہے، امام بغوی (رح) تعالیٰ روایات حدیث کی بنا پر فرماتے ہیں کہ اس حکم کی تعمیل میں رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ رات کے اکثر حصہ کو نماز تہجد میں صرف فرماتے تھے حتیٰ کہ ان کے قدم ورم کر جاتے، ایک سال بعد اس سورت کا آخری حصہ فاقرء و اما تیسر منہ نازل ہوا جس سے اس طویل قیام کی پابندی منسوخ کردی گئی، اور اختیار دے دیا گیا کہ جتنی دیر کسی کے لئے آسان ہو سکے اتنا وقت صرف کرنا کافی ہے۔ (معارف)
Ayah 73:5

اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْكَ قَوْلًا ثَقِیْلًا Open ayah 73:5 in the Quran reader

ہم عنقریب تم پر ایک بھاری فرمان نازل کرینگے

انا سنلقی علیک قولا ثقیلا، مطلب یہ ہے کہ تم کو رات کی نماز کا حکم اس لئے دیا جا رہا ہے کہ ایک بھاری کام ہم آپ ﷺ پر نازل کرنے والے ہیں جس کا بار اٹھانے کے لئے آپ ﷺ میں تحمل کی صلاحیت پیدا ہونی ضروری ہے اور طاقت اسی طرح حاصل ہوسکتی ہے کہ راتوں کو اپنا آرام چھوڑ کر نماز کے لئے اٹھو اور آدھی آدھی رات یا کچھ کم و بیش عبادت میں گزارا کرو، قرآن کو بھاری کام اس بنا پر بھی کہا گیا کہ اس کے احکام پر عمل کرنا، اس کی تعلیم کا نمونہ بن کردکھانا، اس کی دعوت کو لے کر ساری دنیا کے مقابلہ میں اٹھنا اور اس کے مطابق عقائد و افکار، اخلاق و آداب اور تہذیب و تمدن کے پورے نظام میں انقلاب برپا کردینا، ایک ایسا کام ہے جس سے بڑھ کر کسی بھاری کام کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
Ayah 73:6

اِنَّ نَاشِئَةَ الَّیْلِ هِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّ اَقْوَمُ قِیْلًاؕ Open ayah 73:6 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ رات کا اٹھنا (نفس بہیمی کو) سخت پامال کرتا ہے اور اس وقت ذکر بھی خوب درست ہوتا ہے

ان ناشئۃ اللیلھی اشد، اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ رات کو عبادت کے لئے اٹھنا اور دیر تک کھڑے رہنا چونکہ طبیعت پر بار ہوتا ہے کیونکہ نفس اس وقت آرام کا طالب ہوتا ہے اس لئے یہ عمل ایک ایسا مجاہدہ ہے جو نفس کو دہانے اور اس پر قابو پانے کی بڑی زبردست تاثیر رکھتا ہے اس مجاہدہ کے بعد جو ایک روحانی قوت پیدا ہوگی اور وہ اس طاقت کو خدا کے احکام میں استعمال کرے گا تو زیادہ مضبوطی کے ساتھ دین حق کی دعوت کو دنیا میں غالب کرنے کے لئے کام کرسکتا ہے۔ دوسرا مطلب یہ کہ دل و زبان کے درمیان موافقت پیدا کرنے کا یہ بڑا موثر ذریعہ ہے کیونکہ رات کے ان اوقات میں بندے اور خدا کے درمیان کوئی دوسرا حائل نہیں ہوتا۔ تیسرا مطلب یہ کہ یہ آدمی کے ظاہر و باطن میں مطابقت پیدا کرنے کا بڑا کارگر ذریعہ ہے یون کہ رات کی تنہائی میں شخص اپنا آرام چھوڑ کر عبادت کے لئے اٹھے گا وہ لامحالہ اخلاص ہی کی بنا پر ایسا کرے گا، اس میں ریاکاری کا سرے سے کوئی موقع ہی نہیں ہے۔
Ayah 73:7

اِنَّ لَكَ فِی النَّهَارِ سَبْحًا طَوِیْلًاؕ Open ayah 73:7 in the Quran reader

دن کے وقت تو تمہیں اور بہت سے شغل ہوتے ہیں

ان لک فی النھار سبحا طویلا، یہاں سبح سے دن بھر کے مشاغل مراد ہیں جن میں تعلیم، تبلیغ، اصلاح خلق یا اسے معاشی مصالح کے لئے چلنا پھرنا داخل ہے، مذکورہ مشاغل کی وجہ سے میں عبادت کے لئے وقت نکالنا دشوار ہوتا ہے، اس کے علاوہ شورو شغب کی وجہ سے یکسوئی میں خلل پڑنے کا اندیشہ بھی رہتا ہے، رات کا وقت اس کام کے لئے نہایت موزوں و مناسب ہے، لہٰذا بقدر ضرورت آرام کے ساتھ قیام لیل کی عبادت بھی یکسوئی اور اطمینان قلبی کے ساتھ ہوجائے گی۔ فائدہ : حضرات فقہاء نے فرمایا کہ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ علماء و مشائخ جو تعلیم و تربیت اور اصلاح خلق کی خدمتوں میں لگے رہتے ہیں ان کو بھی چاہیے کہ یہ کام دن ہی تک محدود رکھیں، رات کا وقت اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری اور عبادت کے لئے فارغ رکھنا بہتر ہے، جیسا کہ علماء سلف کا معمول رہا ہے، اتفاقی اہم ضرورت اس سے مستثنیٰ ہے۔
Ayahs 73:8–9

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًاؕ Open ayah 73:8 in the Quran reader

تو اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کرو اور ہر طرف سے بےتعلق ہو کر اسی کی طرف متوجہ ہوجاؤ

رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِیْلًا Open ayah 73:9 in the Quran reader

وہی مشرق اور مغرب کا مالک (ہے اور) اسکے سوا کوئی معبود نہیں تو اسی کو اپنا کارساز بناؤ

واذکر اسم ربک وتبتل الیہ تبتیلا، دن کے اوقات کی مصروفیتوں کے ذکر کرنے کے بعد یہ ارشاد ہے کہ اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کرو، اس سے یہ مفہوم خود بخود ظاہر ہوتا ہے کہ دن میں ہر طرح کے کاموں میں مشغول رہنے کے بعد بھی اپنے رب کی یاد سے کبھی غافل نہ ہوئے اور کسی نہ کسی شکل میں اس کا ذکر کرتے رہے، ذکر لسانی کا کسی کام میں مخل نہ ہونا صاف ظاہر ہے نہ اس کے لئے کسی مخصوص وقت کی ضرورت، نہ طہارت کی اور نہ کسی مخصوص ہیئت کی اور اگر بعض اوقات ذکر لسانی ممنوع ہو مثلاً بیت الخلاء وغیرہ کی حالت میں تو ذکر خیالی یعنی خدا کی کائنات اور اس کی قدرت میں غور و فکر کرنا کسی وقت بھی ممنوع نہیں۔ تبتل الیہ تبتیلا، تبتل کے معنی انقطاع اور علیحدگی کے ہیں، یعنی اللہ کی عبادت اور دعاء مناجات کے لئے یکسو اور ہمہ تن اس کی طرف متوجہ ہوجائو، یہ رہبانیت سے بالکل الگ اور مختلف چیز ہے رہبانیت تو تجرد اور ترک دنیا کا نام ہے جو اسلام میں ناپسندیدہ چیز ہے، تبتل کا مطلب ہے امور دنیا کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ عبادت اور خشوع و خضوع اور اللہ کی طرف یکسوئی جو محمود اور مطلوب ہے۔
Ayah 73:10

وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِیْلًا Open ayah 73:10 in the Quran reader

اور جو جو (دل آزار) باتیں یہ لوگ کہتے ہیں انکو سہتے رہو اور اچھے طریق سے ان سے کنارہ کش رہو

واھجرھم ھجرا جمیلا، الگ ہوجائو، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان سے مقاطعہ کر کے اپنی تبلیغ بند کردو بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے منہ نہ لگو، ان کی بےہودگیوں کو بالکل نظر انداز کردو اور ان کی کسی بدتمیزی کا جواب نہ دو پھر یہ احتراز بھی کسی غم اور غصے اور جھنجھلاہٹ کے ساتھ نہ ہو بلکہ اس طرح ہو جس طرح کہ ایک شریف انسان کسی بازاری آدمی کی گالی سن کر اسے نظر انداز کردیتا ہے اور دل پر میل تک نہیں آنے دیتا اور سمجھ لیتا ہے کہ وہ گالی مجھے نہیں کسی اور کو دے رہا ہے، اگرچہ آپ ﷺ مذکورہ تمام باتوں پر پہلے سے عمل پیرا تھے پھر بھی حکم دینے کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ بھی آپ ﷺ اسی طرز عمل پر قائم رہیں اور ادھر مشرکوں کو یہ پیغام دینا مقصود ہے کہ آپ ﷺ کا نظر انداز کرنا کچھ مجبوری یا بزدلی کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ شرافت کی وجہ سے ہے، تم اس شرافت کو بزدلی نہ سمجھو۔
Ayahs 73:11–19

وَ ذَرْنِیْ وَ الْمُكَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَةِ وَ مَهِّلْهُمْ قَلِیْلًا Open ayah 73:11 in the Quran reader

اور مجھے ان جھٹلانے والوں سے جو دولتمند ہیں سمجھ لینے دو اور انکو تھوڑی سی مہلت دیدو

اِنَّ لَدَیْنَاۤ اَنْكَالًا وَّ جَحِیْمًاۙ Open ayah 73:12 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ ہمارے پاس بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی آگ ہے

وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَّ عَذَابًا اَلِیْمًاۗ Open ayah 73:13 in the Quran reader

اور گلوگیر کھانا ہے اور درد دینے والا عذاب (بھی) ہے

یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ وَ كَانَتِ الْجِبَالُ كَثِیْبًا مَّهِیْلًا Open ayah 73:14 in the Quran reader

جس دن زمین اور پہاڑ کانپنے لگیں اور پہاڑ ایسے بھربھرے (گویا) ریت کے ٹیلے ہوجائیں

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ رَسُوْلًا١ۙ۬ شَاهِدًا عَلَیْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًاؕ Open ayah 73:15 in the Quran reader

(اے اہل مکہ) جس طرح ہم نے فرعون کے پاس (موسی کو) پیغمبر (بناکر) بھیجا تھا (اسی طرح) تمہارے پاس (محمد ﷺ رسول بیجھے ہیں جو تمہارے مقابلے میں گواہ ہونگے

فَعَصٰى فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ فَاَخَذْنٰهُ اَخْذًا وَّبِیْلًا Open ayah 73:16 in the Quran reader

سو فرعون نے (ہمارے) پیغمبر کا کہا نہ مانا تو ہم نے اسکو بڑے وبال میں پکڑ لیا۔

فَكَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ كَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَاۗۖ Open ayah 73:17 in the Quran reader

اگر تم بھی (ان پیغمبر کو) نہ مانو گے تو اس دن سے کیونکر بچو گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا

اِ۟لسَّمَآءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ١ؕ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا Open ayah 73:18 in the Quran reader

(اور) جس سے آسمان پھٹ جائے گا۔ یہ اس کا وعدہ (پورا) ہو کر رہے گا۔

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا۠ Open ayah 73:19 in the Quran reader

یہ (قرآن) تو نصحت ہے سو جو چاہے اپنے پروردگار تک (پہنچنے کا) راستہ اختیار کرلے

وذرنی و المکذبین اولی النعمۃ الخ ان الفاظ میں صاف اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ مکہ میں دراصل جو لوگ رسول اللہ ﷺ کو جھٹلا رہے تھے اور طرح طرح کے فریب دے کر، تعصبات کو ابھار کر، عوام کو آپ ﷺ کی مخالفت پر آمادہ کر رہے تھے، وہ قوم کے کھاتے پیتے اور خوشحال لوگ تھے کیونکہ اسلام کی اس دعوت اصلاح کی براہ راست زد، ان کے مفادات پر پڑ رہی تھی، قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ یہ معاملہ صرف رسول اللہ ہی کے ساتھ خاص نہ تھا بلکہ ہمیشہ یہی گروہ، اصلاح کی راہ روکنے کے لئے سنگ گراں بن کر حائل ہوتا رہا ہے۔
Ayah 73:20

اِنَّ رَبَّكَ یَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَیِ الَّیْلِ وَ نِصْفَهٗ وَ ثُلُثَهٗ وَ طَآئِفَةٌ مِّنَ الَّذِیْنَ مَعَكَ١ؕ وَ اللّٰهُ یُقَدِّرُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْهُ فَتَابَ عَلَیْكُمْ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ١ؕ عَلِمَ اَنْ سَیَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰى١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یَضْرِبُوْنَ فِی الْاَرْضِ یَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۖ٘ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنْهُ١ۙ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرًا وَّ اَعْظَمَ اَجْرًا١ؕ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 73:20 in the Quran reader

تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے کہ تم اور تمہارے ساتھ کے لوگ (کھبی) دو تہائی رات کے قریب اور (کھبی) آدھی رات اور (کھبی) تہائی رات قیام کیا کرتے ہو۔ اور خدا تو رات اور دن کا اندازہ رکھتا ہے اس نے معلوم کیا کہ تم اس کو نباہ نہ سکو گے تو اس نے تم پر مہربانی کی۔ پس جتنا آسانی سے ہو سکے (اتنا) قرآن پڑھ لیا کرو۔ اس نے جانا کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوتے ہیں۔ اور بعض خدا کی راہ میں لڑتے ہیں تو جتنا آسانی سے ہو سکے اتنا پڑھ لیا کرو اور نماز پڑہتے رہو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو اور خدا کو نیک (اور خلوص نیت سے) قرض دیتے رہو اور جو نیک عمل تم اپنے لئے آگے بھیجو گے اس کو خدا کے ہاں بہتر اور صلے میں بزرگ ترپاؤ گے اور خدا سے بخشش مانگتے رہو۔ بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

ترجمہ : بیشک تیرا رب بخوبی جانتا ہے کہ آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کی ایک جماعت قریب دو تہائی رات کے اور آدھی رات کے اور ایک تہائی رات کے قیام لیل کرتی ہے (ثلثہ) جر کی صورت میں ثلثی پر عطف ہوگا اور نصب کی صورت میں ادنی پر عطف ہوگا اور آپ کا قیام لیل اول سورت میں مذکور کے مطابق ہی تھا، طائفۃ کا عطف تقوم کی ضمیر پر ہے، اور فصل واقع ہونے کی وجہ سے بغیر تاکید کے بھی (عطف) درست ہے، اور آپ ﷺ کے اصحاب ؓ میں سے ایک جماعت کا قیام آپ ﷺ کی اقتداء کے طور پر اسی طریقہ پر تھا، صحابہ ؓ میں سے بعض حضرات ایسے بھی تھے کہ ان کو اس بات کا علم نہیں ہوتا تھا کہ کتنی رات نماز میں گزر گئی اور کتنی باقی رہی جس کی وجہ سے احتیاطاً پوری رات تہجد کے لئے کھڑے رہتے تھے، وہ اسی طریقہ پر ایک سال تک یا اس سے زیادہ عمل پیرا رہے حتیٰ کہ ان کے قدم متورم ہوگئے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے تخفیف فرما دی اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور رات کا پورا اندازہ اللہ ہی کو ہے یہ بھی وہ جانتا ہے کہ تم (مقدار وقت) کو ضبط نہ کرسکو گے کہ اس میں بقدر واجب قیام کرسکو، مگر اس صورت میں کہ پوری رات کھڑے رہو، اور یہ تمہارے لئے دشوار ہوگا، تو اس لئے تمہارے حال پر عنایت کی یعنی تم کو سہولت کی طرف لوٹا دیا سو (اب) تم سے جتنا قرآن نماز میں آسانی سے پڑھا جاسکے پڑھ لیا کرو یعنی جس قدر آسان ہو نماز پڑھ لیا کرو، اس کو یہ بھی معلوم ہے کہ تم میں سے بعضے آدمی بیمار ہوں گے (ان) مخففہ عن الثقیلہ ہے یعنی انہ اور بعضے تلاش معاش کے لئے ملک میں سفر کریں گے یعنی تجارت وغیرہ کے ذریعہ رزق طلب کریں گے، اور بعضے اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے مذکورہ تینوں فریقوں میں سے ہر ایک پر، مذکورہ طریقہ پر قیام لیل دشوار ہوگا، تو اللہ تعالیٰ نے بقدر سہولت قیام کے ذریعہ ان پر تخفیف فرما دی پھر اس کو بھی پنج وقتہ نماز کے ذریعہ منسوخ فرما دیا سو آسانی سے جتنا قرآن (نماز میں) تم سے پڑھا جاسکے پڑھ لیا کرو جیسا کہ اوپر گزرا، اور فرض نماز کی پابندی رکھو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور اللہ کو اچھی طرح خوش دلی سے قرض دو اس طریقہ پر کہ فرض مقدار کے علاوہ مال میں سے خیر کے راستوں میں خرچ کرو، اور جو نیک عمل اپنے لئے آگے بھیجو گے اس کو اللہ کے پاس پہنچ کر اس سے جو تم نے پیچھے چھوڑا ہے اچھا اور ثواب میں بڑا پائو گے، ھو ضمیر فصل ہے اور اس کا مابعد اگرچہ معرفہ نہیں ہے مگر مشابہ معرفہ ہے اس لئے کہ وہ تعریف سے ممتنع ہے اور اللہ سے گناہ معاف کراتے رہو بیشک اللہ تعالیٰ مومنین کیلئے غفورو رحیم ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : ان ربک یعلم انک تقوم ادنی الخ یہ ابتداء سورت میں بیان کردہ حکم ” قم اللیل الا قلیلا “ کے ناسخ کی تمہید ہے، اصل ناسخ ” فتاب علیکم “ ہے۔ قولہ : اقل من ثلثی اللیل و نصفہٗ اس کا مطلب ہے کہ تیرا رب آپ ﷺ کے دو ثلث رات اور نصف رات اور ایک ثلث رات سے کم قیام لیل کو جانتا ہے، ابتداء سورت میں آپ کو دو ثلث شب سے کم اور نصف شب سے کم قیام لیل میں اختیار دیا گیا تھا، اور یہاں وادنی من ثلثہ سے معلوم ہو رہا ہے کہ ثلث سے کم شب میں بھی اختیار تھا حالانکہ ایسی بات نہیں ہے اور یہ صورت نصفہ جر کی قرأت کی صورت میں ہوگی۔ جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ ادنیٰ سے تقریب مراد ہے یعنی وہ جانتا ہے آپ ﷺ کے دو تہائی اور نصف کے اور ثلث شب کے قریب قیام لیل کو، اسی کو ادنیٰ سے تعبیر کردیا ہے اس لئے کہ مذکورہ مقداریں امر ظنیہ تخمینیہ میں سے ہیں اور صحابہ ؓ اور آپ ﷺ اسی کے مکلف تھے اور نہ اس زمانہ میں ایسا کوئی نظام تھا کہ ٹھیک ٹھیک اوقات کی تعیین کی جاسکے اس لئے کہ یہ نہایت دشوار اور مشکل کام ہے جو کہ اس ترقی یافتہ دور میں بھی بہت مشکل اور دقت طب ہے جب کہ اس زمانہ میں گھڑی وغیرہ بھی نہیں تھیں صرف ستاروں کی رفتار سے وقت کا تعیین کرتے تھے۔ قولہ : وبالنصب یہ نصفہ کی دوسری قرأت کا بیان ہے نصب کی صورت میں ادنی پر عطف ہوگا اور تقوم کا مفعول ہوگا، معنی ہوں گے تقوم نصفہ تارۃ و ثلثہ تارۃ اخری نصب کی صورت ابتداء سورت میں دیئے گئے حکم کے مطابق ہوگا۔ قولہ : و قیامہ کذالک نحوما امر بہ آپ ﷺ کا اس طرح قیام اول سورت میں بیان کردہ حکم کے مطابق ہوگا، قیامہ ٗ کذالک مبتدا ہے اور ما امر بہ اول السورۃ خبر ہے۔ قولہ : وطائفۃ من الذین معک اس کا تقوم کی ضمیر مرفوع متصل پر عطف ہے۔ سوال : ضمیر مرفوع متصل پر عطف کے لئے قاعدہ ہے کہ ضمیر مذکور پر عطف درست ہونے کے لئے ضمیر منفصل کے ذریعہ تاکید ضروری ہوتی ہے حالانکہ یہاں ایسا نہیں ہے۔ قولہ : وجاز من غیر تاکید للفصل سے مفسر علام نے اسی اعتراض کے جواب کی طرف اشارہ کیا ہے۔ جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ ضمیر مرفوع متصل پر عطف کرنے کے لئے دو باتوں میں سے ایک کا ہونا ضروری ہے (1) ضمیر مرفوع متصل کی تاکید ضمیر مرفوع منفصل کے ذریعہ لائی گئی ہو (2) یا معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان فصل ہو یہاں دوسری صورت یعنی فصل موجود ہے، اور وہ ادنی من ثلثی اللیل و نصفہ و ثلثہٗ ہے، لہٰذا عطف درست ہے۔ قولہ : ھو فصل، ای ضمیر فصل۔ قولہ : و ما بعدہ و ان لم یکن معرفۃ یشبھھا الخ یہ بھی ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : ضمیر فصل دو معرفوں کے درمیان لائی جاتی ہے نہ کہ ایک معرفہ اور ایک نکرہ کے درمیان اور یہاں ایسا ہی ہے اس لئے کہ اللہ معرفہ ہے اور خیرا نکرہ ؟ جواب : خیراً خالص نکرہ نہیں ہے بلکہ مشابہ معرفہ ہے اس لئے کہ اس پر حرف تعریف الف لام داخل نہیں ہوتا اگر خالص نکرہ ہوتا تو حرف تعریف کا داخل ہونا صحیح ہوتا : لہٰذا دونوں کے درمیان ضمیر فصل لانا جائز ہے۔ تفسیر و تشریح ان ربک یعلم انک تقوم ادنی، جب سورت کے آغاز میں نصف شب یا اس سے کم یا زیادہ قیام کا حکم دیا گیا تو نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھ صحابہ ؓ کی ایک جماعت رات کو قیام کرتی تھی، کبھی دو تہائی سے کم کبھی نصف رات اور کبھی ایک تہائی، جیسا کہ یہاں ذکر ہے، لیکن ایک تو رات کا یہ مستقل قیام نہایت گراں تھا دوسرے نصف یا ثلث یا دو ثلث شب کے قیام کا تعین اس سے بھی زیادہ مشکل تھا، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں تخفیف کا حکم نازل فرما دیاجس کا مطلب بعض کے نزدیک ترک قیام کی اجازت ہے اور بعض کے نزدیک مطلب یہ ہے کہ فرض کو استحباب میں تبدیل کردیا گیا، اب یہ نہ امت کے لئے فرض ہے اور نہ نبی کے لئے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ تخفیف صرف امت کے لئے ہے نبی ﷺ کے لئے تہجد فرض تھا۔ وما تقدموا لانفسکم من خیر تجدوہ عند اللہ، یعنی تم نے آگے اپنی آخرت کے لئے جو کچھ بھیج دیا وہ تمہارے لئے اس سے زیادہ نافع ہے جو تم نے دنیا میں روک رکھا ہے، اور کسی بھلائی کے کام میں اللہ کی رضا کے لئے خرچ نہ کیا، حدیث میں عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا ” ایکم مالہ احب الیہ من مال وارثہ “ تم میں سے کون ہے جس کو اپنا مال اپنے وارث کے مال سے زیادہ محبوب ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جسے اپنا مال وارث سے زیادہ محبوب نہ ہو، فرمایا اعلموا ما تقولون سوچ لو کہ تم کیا کہہ رہے ہو، صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہمارا حال واقعی یہی ہے اس پر حضور ﷺ نے فرمایا ” انما مال احدکم ما قدم و مال وارثہ ما اخر “ تمہارا اپنا مال تو وہ ہے جو تم نے اپنی آخرت کے لئے آگے بھیج دیا اور جو کچھ تم نے روک رکھا ہے وہ تو وارث کا مال ہے۔ (بخاری، نسائی) بحمدتم اللہ