Ayahs 72:1–20ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے محمد ﷺ ! لوگوں کو بتائیے کہ مجھے وحی کے ذریعہ یہ بات بتائی گئی ہے (یعنی) وحی کے ذریعہ اللہ کی طرف سے مجھے خبر دی گئی ہے کہ نصیبین کے جنوں کی ایک جماعت نے میری قرأت سنی اور یہ واقعہ بطن نخلہ میں جو کہ مکہ اور طائف کے درمیان ہے فجر کی نماز میں پیش آیا اور یہ جن وہی ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ کے قول ” واذ صرفنا الیک نفرا من الجن “ میں کیا گیا ہے، تو انہوں نے اپنی قوم کے پاس واپس جا کر کہا ہم نے عجیب قرآن سنا ہے کہ اس کی (لفظی) فصاحت اور (معنوی) بلاغت وغیرہ سے تعجب ہوتا ہے جو راہ راست (اور) ایمان کی طرف رہنمائی کرتا ہے ہم اس پر ایمان لا چکے ہیں آج کے بعد ہم کسی کو بھی اپنے رب کا شریک نہ ٹھہرائیں گے، اور بیشک ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے (انہٗ ) میں اور اس کے بعد دونوں جگہ ضمیر شان ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے جلال و عظمت کی تمام ان چیزوں کی کہ اس کی طرف نسبت کرے سے (جو اس کی شایان شان نہیں) پاکی بیان فرمائی نہ اس نے کسی کو (اپنی) بیوی بنایا ہے اور نہ بیٹا، اور یہ کہ ہم میں کا بیوقوف جاہل اللہ کے بارے میں اللہ کو بیوی اور بیٹے سے متصف کر کے افتراء پر دازی میں غلو کرتا ہے اور ہم تو یہی سمجھتے رہے (ان) مخففہ ہے ای انہ کہ انس اور جن اس کو ان چیزوں سے متصف کر کے اس پر ہرگز افتراء پردازی نہ کریں حتیٰ کہ ہمارے اوپر اس بارے میں ان کا کذب ظاہر ہوگیا بات یہ ہے کہ بعض لوگ جب کہ وہ اپنے سفر کے دوران کسی خطرناک مقام پر فروکش ہوتے تھے تو بعض لوگ جنات کی پناہ طلب کیا کرتے تھے اور ہر شخص کہتا تھا کہ میں اس مقام کے سردار کی اس مقام کے بیوقوف (جنوں) سے پناہ چاہتا ہوں جس کی وجہ سے جنات اپنی سرکشی میں اور چڑھ گئے اور کہنے لگے ہم جنوں اور انسانوں کے سردار ہوگئے، اے انسانو ! جنات نے بھی تمہاری طرح گمان کرلیا کہ اللہ تعالیٰ کسی کو موت کے بعد دوبارہ زندہ نہ کرے گا، (ان) مخففہ عن الثقیلہ ہے، اور ہم نے چوری سے سننے کے لئے آسمان کا قصد کیا تو ہم نے اس کو دیکھا کہ پہرہ دار فرشتوں اور سخت جلا دینے والے شہابوں سے بھرا پڑا ہے اور یہ اس وقت ہوا جب آپ ﷺ کو مبعوث کیا گیا اور ہم آپ ﷺ کی بعثت سے پہلے باتیں سننے کے لئے (آسمانوں پر) جگہ جگہ بیٹھ جایا کرتے تھے اب جو بھی کان لگاتا ہے ایک شعلہ کو اپنی تاک میں پاتا ہے یعنی اس کو تاک میں لگا دیا گیا تاکہ وہ اس کے ذریعہ ان کو مارے اور ہم نہیں جانتے کہ سننے کی ممانعت سے آیا زمین والوں کے ساتھ کسی شرکا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے رب نے ان کے ساتھ خیر کا ارادہ کیا گیا ہے ؟ اور یہ کہ قرآن سننے کے بعد بعض ہم میں سے نیک بھی ہیں اور بعض اس کے برعکس بھی یعنی بعض لوگ غیر صالح بھی ہیں، اور ہم مختلف طریقوں میں بٹے ہوئے ہیں، یعنی مختلف فرقے ہوگئے ہیں، کہ بعض مسلمان اور بعض کافر ہیں، اور ہم نے سمجھ لیا کہ ہم اللہ کی زمین میں اللہ کو ہرگز عاجز نہیں کرسکتے، ان مخففہ ہے ای انہ اور نہ بھاگ کر ہم اسے ہرا سکتے ہیں، یعنی نہ ہم اس کو زمین میں رہتے ہوئے عاجز کرسکتے ہیں اور نہ زمین سے آسمان کی طرف بھاگ کر اسے ہرا سکتے ہیں، ہم تو ہدایت کی بات (قرآن) سنتے ہی اس پر ایمان لا چکے، اور جو بھی اپنے رب پر ایمان لائے گا، اسے اس کی نیکیوں میں نقصان کا اندیشہ نہ ہوگا اور نہ ظلم و زیادتی کا یعنی اس کی بدیوں میں زیادتی کا، ہاں ہم میں بعض تو مسلمان ہیں اور بعض اپنے کفر کی وجہ سے ظالم ہیں پس جو فرمانبردار ہوگئے انہوں نے تو راہ راست کا قصد کیا یعنی اس کی ہدایت کا قصد کیا اور جو ظالم ہیں جہنم کا ایندھن بن گئے اور ان اور انھم اور انہ یہ کل بارہ جگہ ہیں اور انہ تعالیٰ اور انا منا المسلمون اور ان کے درمیان ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ بطور استیناف کے اور ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ تاویل کر کے اور اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کے بارے میں فرمایا (اور اے نبی ! یہ بھی کہہ دو ) ان ثقیلہ سے مخففہ ہے اور اس کا اسم محذوف ہے، ای انھم اور اس کا عطف انہ استمع پر ہے کہ اگر لوگ راہ راست طریقہ اسلام پر سیدھے رہے تو یقینا ہم انہیں بڑی وافر مقدار میں آسمان سے پانی پلائیں گے اور یہ (یعنی آیت کا نزول) اس کے بعد ہوا کہ سات سالوں تک (اہل مکہ) سے بارش روک لی گئی تھی تاکہ اس میں ہم انہیں آزمائش اور تاکہ ہم ان کے شکر کی کیفیت کو اپنے علم کے مطابق ظاہر کریں اور جو اپنے پروردگار کے ذکر (قرآن) سے روگردانی کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا، یسل کہ نون اور یاء کے ساتھ ہے اور یہ کہ مسجدیں نماز کے مقامات صرف اللہ ہی کے لئے خاص ہیں پس ان میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو نہ پکاروبایں بطور کہ تم شرک کرنے لگو جیسا کہ یہود و نصاریٰ جب اپنے منتیوں اور عبادت خانوں میں داخل ہوتے تو شرک کرتے اور جب اللہ کا بندہ محمد ﷺ اس کی عبادت کے لئے بلطن نخلہ میں کھڑا ہوتا ہے (انہ) فتحہ کے ساتھ بطور استیناف کے ہے، اور ضمیر شان کی ہے، تو اس کی قرأت کو سننے والے جن اس پر بھیڑ لگانے کو ہوجاتے ہیں (لبد) لام کے کسرہ اور ضمہ کے ساتھ لبدۃ کی جمع ہے یعنی نمدے کے مانند ہوتے ہیں بعض کے بعض پر بھیڑ کر کے چڑھنے کی وجہ سے قرآن سننے کی حرص میں۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : نفر، نفر تین سے دس تک کی جماعت کو کہتے ہیں جمع انفار آتی ہے، نصیبین یمن میں ایک قریہ کا نام ہے علمیت اور عجمہ کی وجہ سے غیر منصرف ہے۔
قولہ : جد ربنا، جد مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے، یہاں عظمت اور بزرگی کے معنی میں مستعمل ہے۔
قولہ : کذبا یہ موصوف محذوف کی صفت ہے ای قولا کذبا۔
قولہ : قال تعالیٰ اس اضافہ کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جنات کے کلام کے درمیان یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔
قولہ : فزادوھم یعنی انسانوں نے جنات کی طغیانی اور سرکشی میں اضافہ کردیا۔
قولہ : وانھم ظنوا کما ظننتم ان لن یبعث اللہ احدا یہ جنات کا مقولہ ہے یعنی اے انسانو ! جس طرح تمہارا عقیدہ ہے کہ اللہ مرنے کے بعد کسی کو زندہ نہیں کرے گا جنات کا بھی یہی عقیدہ تھا، ان لن یبعث اللہ احدا، ظننتم کے دو مفعولوں کے قائم مقام ہے، اور یہ قازع فعلان کے قبیل سے ہے، ثانی کو عمل دیا اور اول کے لئے ضمیر مان کر حذف کردیا۔
قولہ : فوجدنا ھا ملئت، ھا ضمیر وجدہ مفعول اول ہے اور ملئت جملہ ہو کر مفعول ثانی اور حرسا تمیز حرس، حارس کی جمع ہے پہرے دار نگران۔
قولہ : شھب، شھاب کی جمع ہے شعلہ۔
قولہ : تجوما محرقۃ مناسب تھا کہ شعار سیفصیلہ من نار الکوکب فرماتے تھے۔ (صاوی)
قولہ : بتقدیر ھو، ای فھو لا یخاف یہ جملہ اسمیہ ہے اگر فاء کے بعد ھو محذوف نہ ہو تو فاء محذوف ہوگی اور جزاء شرط ہونے کی وجہ سے مجوم ہوگا۔
قولہ : ندخلہ اس کے اضافہ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ نسلکہ، ندخلہ کے معنی کو متضمن ہے جس کی وجہ سے اس کا دو مفعولوں کی طرف متعدی بنفسہ ہونا درست ہوگیا، صعدا کی تفسیر شاقا تفسیر باللازم ہے۔
تفسیر و تشریح
شان نزول :
آیات بالا کی تفسیر کو صحیح طریقہ سے سمجھنے کیلئے پہلے چند واقعات کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔
پہلا واقعہ :
رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے شیاطین آسمانوں تک پہنچ کر فرشتوں کی باتیں سنتے تھے، آپ ﷺ کی بعثت کے بعد شہاب الثاقب کے ذریعہ ان کو روک دیا گیا اسی حادثہ کی تحقیق کے ضمن میں جنات آپ ﷺ تک پہنچے جیسا کہ سورة احقاف میں گزرا۔
دوسرا واقعہ :
زمانہ جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ جب کسی جنگل یا وادی میں سفر کے دوران قیام کی ضرورت پیش آتی تو اس اعتقاد سے کہ جنات کے سردار ہماری حفاظت کردیں گے، یہ الفاظ کہا کرتے تھے اعوذ بعزیز ھذا الوادی من شر سفھاء قومہ یعنی میں اس جنگل کے سرداروں کی پناہ لیتا ہوں اس کی قوم کے بیوقوف شریر لوگوں سے۔
تیسرا واقعہ :
مکہ مکرمہ میں آپ ﷺ کی بددعاء سے قحط پڑا تھا اور کئی سال تک رہا۔
چوتھا واقعہ :
جب آپ ﷺ نے دعوت اسلام شروع کی تو کفار مخالفین کا آپ کے خلاف ہجوم اور نرغہ ہوا۔ (معارف)
بخاری اور مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے چند اصحاب ؓ کے ساتھ بازار عکاظ تشریف لیجا رہے تھے، راستہ میں نخلہ کے مقام پر آپ ﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی، اس وقت جنوں کا ایک گروہ ادھر سے گزر رہا تھا، تلاوت کی آواز سن کر وہ ٹھہر گیا اور غور سے قرآن سنتا رہا اسی واقعہ کا ذکر اس سورت میں ہے۔
اکثر مفسرین نے اس روایت کی بناء پر یہ سمجھا ہے کہ یہ حضور ﷺ کے مشہور سفر طائف کا واقعہ ہے جو ہجرت سے تین سال پہلے 10 ھ نبوی میں پیش آیا تھا مگر یہ قیاس متعدد وجوہ سے صحیح نہیں ہے، اس لئے کہ طائف کے اس سفر میں جنوں کے قرآن سننے کا جو واقعہ پیش آیا تھا اس کا قصہ سورة احقاق میں بیان کیا گیا ہے، سورة احقاف کی ان آیات پر نظر ڈالنے ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر جو جن قرآن مجید سن کر ایمان لائے تھے وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور تورات پر ایمان رکھتے تھے، اس کے برعکس اس سورت کی آیات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس موقع پر قرآن سننے والے جن مشرکین اور منکرین آخرت و رسالت تھے پھر یہ بات تاریخ سے ثابت ہے کہ طائف کے اس سفر میں حضرت زید بن حارثہ ؓ کے سوا اور کوئی آپ ﷺ کے ساتھ نہیں تھا بخلاف اس سفر کے، حضرت ابن عباس کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ چند اصحاب آپ کے ہمراہ تھے۔
مزید برآں روایات اس پر بھی متفق ہیں کہ اس سفر میں جنوں نے قرآن کی روایت کے مطابق جنوں کے قرآن سننے کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب آپ مکہ مکرمہ سے عکاظ تشریف لے جا رہے تھے، ان وجوہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ سورة احقاف اور سورة جن کے واقعے دو الگ الگ ہیں۔
انا سمعنا قرآنا عجبا، عحبا مصدر ہے بطور مبالغہ یا حذف مضاف کے ساتھ ہے ای ذا عجب، معجب کے معنی میں یھدی الی الرشد یہ قرآن کی دوسری صفت ہے کہ وہ راہ راست حق و صواب کو واضح کرتا ہے جد کے معنی عظمت اور جلال کے ہیں یعنی ہمارے رب کی شان اس سے بہت بلند ہے کہ اس کے اولاد یا بیوی ہو۔
Ayahs 72:21–24ترجمہ : کفار کی اس بات کے جواب میں کہ آپ اپنی اس تبلیغ سے باز آجائیے آپ نے جواباً فرمایا ایک قرأت میں قل ہے، میں تو اپنے رب ہی کو معبود ہونے کے اعتبار سے پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا آپ کہہ دیجئے میں تمہارے نفع نقصان کا مالک نہیں آپ کہہ دیجئے کہ مجھے ہرگز کوئی اللہ سے (یعنی) اس کے عذاب سے اگر میں اس کی نافرمانی کروں نہیں بچا سکتا اور میں اس کے علاوہ ہرگز کوئی جائے پناہ نہیں پاتا مگر میرا کام اللہ کی بات اور اس کے پیغامات پہنچا دینا ہے الا بلاغا، املک کے مفعول سے استثناء ہے یعنی میں تمہارے لئے سوائے اللہ کی طرف سے پیغام پہنچانے کے کسی چیز کا مالک نہیں ورسالاتہ کا عطف بلاغا پر ہے اور مستثنی منہ اور استثناء کے درمیان استطاعت کی نفی کی تاکید کے لئے جملہ معترضہ ہے، اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی توحید میں نافرمانی کرے گا کہ ایمان نہ لائے گا، اس کے لئے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا خالدین من کی طرف لوٹنے والی لہ کی ضمیر سے معنی کے اعتبار سے حال ہے اور یہ حال مقدرہ ہے معنی یہ ہیں کہ اس میں داخل ہوں گے حال یہ کہ ان کے لئے جہنم میں داخلہ ہمیشہ کے لئے مقدر ہوچکا ہے، یہ لوگ اپنے کفر پر قائم رہیں گے حتیٰ کہ اس عذاب کو دیکھ لیں جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے حتی ابتدائیہ ہے اس میں (مغیا) مقدر کی غایت کے معنی ہیں تقدیر عبارت یہ ہے لا یزالون علی کفرھم الی ان یروا سو بدر کے دن یا قیامت کے دن جب یہ اس میں داخل ہوں گے تو عنقریب سب معلوم ہوجائے گا کہ کس کا مددگار کمزور اور کس کی جماعت کم ہے، وہ یا مسلمان، اول قول (بدر) کی صورت میں یا میں یا وہ، ثانی قول (قیامت) کی صورت میں تو ان میں سے بعض نے کہا یہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟ تو (قل ان ادری) نازل ہوئی (آپ) کہہ دیجئے مجھے معلوم نہیں کہ جس عذاب کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ قریب ہے یا اس کے لئے میرا رب مدت بعید مقرر کرے گا جس کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا غیب (یعنی) جو بندوں سے غائب ہے کا جاننے والا ہے اور وہ اپنے غیب پر کسی شخص کو مطلع نہیں کرتا مگر اس رسول کو جس کو وہ پسند کرے، مگر جس رسول کو چاہے بطور معجزہ مطلع کردیتا ہے اس کو اطلاع کرنے کے باوجود اس قاصد کے آگے پیچھے محافظ فرشتے بھیج دیتا ہے کہ وہ اس کی حفاظت کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ فرشتہ اس وحی کو منجملہ وحی کے پہنچا دیتا ہے تاکہ اللہ علم ظہور کے طور پر جان لے کہ ان فرشتوں نے اپنے پروردگار کے پیغام (رسول تک بحفاظت) پہنچا دیا ان مخففہ عن الثقیلہ ہے ای انہ ضمیر کے جمع لانے میں من کے معنی کی رعایت کی گئی ہے اور اللہ ان (پہرہ داروں) کے احوال کا احاطہ کئے ہوئے ہے (واحاط) کا عطف مقدر پر ہے ای فعلم ذلک واحاط اور اس کو ہر چیز کی گنتی معلوم ہے (عددا) تمیز ہے اور یہ مفعول سے منقول ہے اور اصل احصی عدد کل شیء ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : ادعوا ربی الھا، الھا مقدر مان کر اشارہ کردیا کہ ادعوا بمعنی اعتقد ہے جو متعدی بدو مفعول ہے دوسرا مفعول الھا ہے، اگر اعبد کے معنی میں ہو تو الھا مقدر ماننے کی ضرورت نہیں۔
قولہ : الا بلاغا یہ لا املک کے مفعول سے مستثنیٰ ہے، یعنی میں تمہارے لئے سوائے پیغام رسانی کے کسی شیء کا مالک نہیں ہوں نہ نفع کا اور نہ نقصان کا گویا کہ آپ نے فرمایا لا املک لکم شیئا الا بلاغا اس صورت میں مستثنیٰ متصل ہوگا اور قل انی لن یجیرنی الخ مستثنیٰ اور مستثنیٰ منہ کے درمیان میں جملہ معترضہ نفی استطاعت کی تاکید کے لئے ہے۔
قولہ : ورسالاتہ اس کا عطف بلاغا پر ہے ای لا املک لکم الا التبلیغ و الرسالۃ۔
قولہ : علی القول الاول و علی النول الثانی اول قول سے مراد اضعف ناصرا اور ثانی سے اقل عددا ہے یعنی مدد کے اعتبار سے مومنین کمزور ہیں یا وہ اور عدد کے اعتبار سے میں کمزور ہوں یا وہ۔
تنبیہ : اس تکلف کی ضرورت نہیں ہے اس لئے کہ دونوں صورتوں میں دونوں مراد ہوسکتے ہیں۔
قولہ : فقال بعضھم کہا گیا ہے کہ قائل نضر بن حارث ہے۔
قولہ : عالم الغیب یہ ربی سے بدل ہے، مبتداء محذوف کی خبر ہے ای ھو ربی۔
قولہ : ماغاب بہ عن العباد، بہ کو ذ کر نہ کیا جائے تو مناسب ہے۔
تفسیر و تشریح
قل انی لا املک لکم ضرا ولا رشاءا یعنی مجھے تمہاری گمراہی یا نفع و نقصان کا اختیار نہیں ہے میں تو صرف اس کا بندہ ہوں جسے اللہ نے وحی رسالت کے لئے چن لیا ہے
الا بلاغا الخ یہ لا املک لکم سے مستثنیٰ ہے یہ بھی ممکن ہے کہ لن یجیرنی سے مستثنیٰ ہو یعنی مجھے اللہ (کے عذاب) سے اگر کوئی چیز بچا سکتی ہے تو وہ یہی ہے کہ میں تبلیغ و رسالت کا فریضہ بجا لائوں جس کی ادائیگی اللہ نے میرے اوپر واجب کی ہے۔ رسالاتہ کا عطف اللہ پر ہے یا بلاغا پر۔
Ayahs 72:25–26قل ان ادری اقریب ما توعدون (الآیۃ) ان آیتوں میں سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو یہ حکم فرمایا کہ آپ ان منکرین سے جو آپ کو قیامت کا معین وقت بتلانے پر مجبور کرتے ہیں اور اصرار کرتے ہیں، یہ فرما دیجئے کہ قیامت کا آنا اور جزاء سزا کا ہونا تو یقینی ہے لیکن اس کے واقع ہونے کی صحیح تاریخ اور وقت کو اللہ تعالیٰ نے کسی کو نہیں بتلایا، اس لئے میں نہیں جانتا کہ وہ روز قیامت قریب آچکا ہے یا میرا رب اس کے لئے کوئی دور کی مدت مقرر کرے گا دوسری آیت میں اس کی دلیل ارشاد فرمائی، عالم الغیب فلا یظھر علی غیبہ احدا یعنی قیامت کے وقت معین سے میری لاعلمی اس لئے ہے کہ میں عالم الغیب نہیں بلکہ عالم الغیب ہونا صرف اللہ رب العالمین کی خصوصی صفت ہے عالم الغیب میں الف لام استغراق جنسی کے لئے ہے یعنی ہر ہر فرد جنس کا علم اللہ کی مخصوص صفت ہے۔
مقصود اس کلام سے علم غیب کلی کا جس سے کائنات کا کوئی ذرہ مخفی نہ ہو اس کی غیر اللہ سے نفی اور صرف اللہ تعالیٰ کے لئے اثبات ہے۔
Ayahs 72:27–28الا من ارتضی من رسول (الآیۃ) یعنی اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو بعض امور غیب سے مطلع کردیتا ہے جن کا تعلق یا تو اس کے فرائض رسالت سے ہوتا ہے یا وہ اس کی صداقت کی دلیل ہوتے ہیں اور ظاہر بات ہے کہ اللہ کے مطلع کرنے سے پیغمبر عالم الغیب نہیں ہوسکتا، کیونکہ اگر پیغمبر عالم الغیب ہو تو پھر اس پر اللہ کی طرف سے اظہار کا کوئی مطلب نہیں رہتا اللہ تعالیٰ اپنے غیب کا اظہار اسی وقت اور اسی رسول پر کرتا ہے جس کو پہلے اس غیب کا علم نہیں ہوتا اس لئے عالم الغیب صرف اللہ ہی کی ذات ہے جیسا کہ یہاں بھی اس کی صراحت فرمائی گئی ہے۔
علم غیب اور غیبی خبروں میں فرق :۔
الا من ارتضی من رسول (الآیۃ) اس استثناء کا حاصل اس شبہ کا جواب ہے کہ ملجب کلی کی نفعی سے مطلقاً ہر غیب کی نفی ہوتی ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ منصب رسالت کے لئے جس قدر علم غیب کی خبروں کو غیب کی چیزوں کا کسی رسول کو دینا ضروری ہے وہ ان کو منجانب اللہ بذریعہ وحی دے دیا جاتا ہے اور وہ ایسے محفوظ طریقہ سے لیا جاتا ہے کہ جب ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی وحی نازل ہوتی ہے تو اس کے ہر طرف فرشتوں کا پہرہ ہوتا ہے تاکہ ثبوت اس میں کوئی مداخلت نہ کرسکیں، اس میں اول تو رسول کے لفظ سے اس غیب کی نوعیت متعین کردی گئی جس کا علم نبی کو دیا ہے اور وہ ظاہر ہے شرائع اور احکام یا ان چیزوں کا علم ہوتا ہے جو دلیل نبوت ہوں۔
بعض ناواقف لوگ ” غیب “ اور ” انباء الغیب “ میں فرق نہیں سمجھتے اس لئے انبیاء اور خصوصاً خاتم الانبیاء ﷺ کے لئے علم غیب کلی ثابت کرتے ہیں اور آپ کو بالکل اللہ تعالیٰ کی طرح عالم الغید ہر ذرہ کائنات کا علم رکھنے والا کہنے لگتے ہیں جو کھلا ہوا شرک اور رسول کو خدا کا درجہ دینا ہے، اگر کوئی شخص اپنا خفیہ راز کسی دوست کو بتادے جو کسی اور کے علم میں نہ ہو تو اس سے دنیا میں کوئی بھی اس دوست کو عالم الغیب نہیں کہہ سکتا اسی طرح انبیاء (علیہم السلام) کو ہزاروں غیب کی چیزوں کا بذریعہ وحی بتلا دینا ان کو عالم الغیب نہیں بنا دیتا۔
آخر سورت میں واحصی کل شیء عددا یعنی اللہ تعالیٰ ، ذات خاص ہے کہ جس کے علم میں ہر چیز کے اعداد شمار ہیں اس کو ریگ زاروں کے ذروں اور دریائوں کے قطروں کے پتوں غرضیکہ کائنات کی ہر شیء کا پوری طرح تفصیلی علم ہے ان تمام چیزوں کے علم کی نبی کو نبی اور رسول ہونے … سے کوئی ضرورت نہیں ہے، سورة نمل میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے ملاحظہ کرلیا جائے۔