Ayahs 71:1–2ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، یقینا ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا کہ اپنی قوم کو ڈرائو قبل اس کے کہ ان پر دنیا و آخرت میں دردناک عذاب آئے اگر وہ ایمان نہ لائے، نوح (علیہ السلام) نے فرمایا اے میری قوم ! میں تمہیں صاف صاف ڈرانے والا ہوں بایں طور کہ میں تم سے کہتا ہوں کہ اللہ کی بندگی کرو اور اسی سے ڈرو اور میری بات مانو وہ تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا من زائدہ ہے بلاشبہ اسلام کے ذریعہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں یا من تبعیضیہ ہے حقوق العباد کو خارج کرنے کے لئے اور تم کو بلا عذاب مہلت دے گا موت کے مقررہ وقت تک یقینا تم پر اللہ کے عذاب کا وعدہ جب آجائے گا اگر تم ایمان نہ لائے تو مؤخر نہ ہوگا اگر تم اس بات کو جان لیتے تو ایمان لے آتے نوح علیہ الصلوٰۃ السلام نے کہا اے میرے پروردگار ! میں نے اپنی قوم کو رات دن ہمیشہ مسلسل تیری طرف بلایا مگر میرے بلانے سے یہ لوگ ایمان سے اور زیادہ بھاگنے لگے، میں نے انہیں جب کبھی تیری بخشش کے لئے بلایا تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں تاکہ میری بات نہ سنیں اور انہوں نے اپنے کپڑے اوڑھ لئے یعنی کپڑوں سے انہوں نے اپنے سروں کو چھپالیا تاکہ مجھے نہ دیکھیں، اور وہ اپنے کفر پر ڈٹے رہے اور ایمان کے مقابلہ میں بڑا تکبر کیا پھر میں نے انہیں بآواز بلند بلایا اور پھر میں نے ان کو اعلانیہ بھی سمجھایا اور چپکے سے بھی سمجھایا اور میں نے ان سے کہا تم اپنے رب سے شرک سے معافی طلب کرو وہ یقینا بڑا بخشنے والا ہے کثرت سے تمہارے لئے زوردار بارش بھیجے گا اور وہ لوگ بارش سے محروم کردیئے گئے تھے اور تمہارے مال و اولاد میں اضافہ کرے گا اور تمہارے لئے باغات لگا دے گا اور تمہارے لئے نہریں جاری کر دے گا تمہیں کیا ہوگیا کہ تم اللہ کی عظمت کے معتقد نہیں ہو، یعنی اللہ سے اپنے وقار کی امید نہیں رکھتے کہ ایمان لے آئو، حالانکہ اس نے تمہیں طرح طرح سے بنایا اطوار، طور کی جمع ہے، اس کے معنی حال کے ہیں چناچہ ایک حالت نطفے کی ہے، اور ایک حالت دم بستہ کی ہے انسان کی تخلیق کے مکمل ہونے تک اور انسان کی تخلیق میں غور کرنا اس کے خالق پر ایمان کو واجب کرتا ہے، کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے کس طرح تہ بہ تہ سات آسمان پیدا کئے، یعنی بعض کو بعض کے اوپر رکھا اور چاند کو ان میں یعنی ان کے مجموعہ میں جو سماء دنیا پر بھی صادق ہے نور بنایا اور سورج کو روشن چراغ بنایا اور وہ چاند کے نور سے قوی تر ہے اور تم کو زمین سے ایک خاص طریقہ سے پیدا کیا پھر وہ تم کو اسی میں لے جائے گا حال یہ کہ تم قبر میں مدفون ہو گے اور وہ تم کو بعث کے لئے نکالے گا اور اللہ نے زمین کو تمہارے لئے فرش بنایا تاکہ تم اس کے کشادہ راستوں میں چلو۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : ثمان او تسع و عشرون آیۃ، ثمان، ثاء کے ضمہ اور کسرہ کے ساتھ آخر سے یا حذف ہوگئی قاض کے قاعدہ سے یا یدو دم کے قاعدہ سے اصل میں ثمانی تھا۔
قولہ : بانذار اس سے اشارہ کردیا کہ ان انذر میں ان مصدریہ ہے اور تفسیر یہ بھی ہوسکتا ہے اس لئے کہ ارسال میں قول کے معنی ہیں۔ (صاوی)
قولہ : بان اقول لکم کہ ان اعبدوا اللہ میں ان تفسیر یہ ہے اور مصدر یہ ہونا بھی صحیح ہے، کما سبق۔
قولہ : یغفرلکم یہ ما قبل میں مذکور تینوں امروں کا جواب ہے اور اسی وجہ سے مجزوم ہے۔
قولہ : بلا عذاب اس کے اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔
سوال : اللہ تعالیٰ نے ویوخر کم الی اجل مسمی فرمایا حالانکہ دوسری آیت میں ” ولن یوخر اللہ نفسا اذا جاء اجلھا “ فرمایا گیا ہے دونوں میں تعارض ہے ؟
جواب : یوخر کم سے مراددنیا میں عذاب کی تاخیر ہے موت تک نہ کہ موت کے مقررہ وقت میں تاخیر ہے۔
(جمل، صاوی)
قولہ : بعذابکم ان لم تومنوا اس عبارت کے اضافہ کا مقصد بھی سابقہ تعارض کو دفع کرنا ہے۔ (حاشیہ، جلالین)
قولہ : لامنتم اس میں اشارہ ہے کہ لو شرطیہ ہے اور لامنتم اس کی جزاء ہے۔
تفسیر و تشریح
نام :
اس سورت کا نام سورة نوح ہے، اس میں اول سے آخر تک حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ تفصیل سے بیان ہوا ہے جس طرح کہ سورة یوسف میں حضرت یوسف کا قصہ بالتفصیل بیان ہوا ہے مگر دونوں میں فرق یہ ہے کہ سورة یوسف قصہ یوسف (علیہ السلام) کے لئے خاص ہے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قصہ قرآن میں اور کہیں نہیں آیا دیگر مقامات پر صرف نام آیا ہے برخلاف حضرت نوح (علیہ السلام) کے کہ یہ سورت مخصوص قصہ نوح کے لئے ہے مگر قصہ نوح (علیہ السلام) اس سورت کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ قرآن کریم میں دیگر 43 مقامات پر بھی مفصلاً و مجملاً حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر ہے۔
(قصص القرآن، خلاصہ التفاسیر)
حضرت نوح (علیہ السلام) پہلے رسول ہیں :
حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت آدم (علیہ السلام) کے بعد پہلے نبی ہیں کہ جن کو رسالت سے نوازا گیا صحیح مسلم میں باب شفاعت میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک طویل روایت ہے اس میں اول رسول ہونے کی صراحت ہے۔
یا نوح انت اول الرسل الی الارض اے نوح ! تم کو زمین پر پہلا رسول بنایا گیا ہے۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ اجمالاً :
تو رات کے بیان کے مطابق حضرت نوح (علیہ السلام) کا نسب حضرت آدم (علیہ السلام) سے آٹھ واسطوں سے ملتا ہے : نو بن لامک بن متو شالخ بن اخنوخ بن یارد بن مہلئیل بن فینان بن انوش بن شیث بن آدم (قصص القرآن) مگر یہ ظن وتخمین پر مبنی ہے یہی وجہ ہے کہ اس مسئلہ میں تورات کے مختلف نسخوں میں بھی کافی اختلاف ہے۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت سے پہلے پوری قوم خدا کی توحید اور صحیح مذہبی روشنی سے یکسر ناآشنا ہوچکی تھی اور حقیقی خدا کی جگہ خود ساختہ معبودوں نے لے لی تھی، اس قوم کی ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک ہادی اور اپنے سچے رسول حضرت نوح علیہ الصلوٰۃ السلام کو مبعوث کیا، حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی بدبخت قوم کو سمجھانے میں انتہائی کوشش کی اور بہت چاہا کہ رحمت الٰہی کی آغوش میں آجائے مگر قوم نے ایک نہ سنی اور جس قدر اس جانب سے تبلیغی جدوجہد ہوئی اسی قدر قوم کی جانب سے بغض وعناد میں سرگرمی کا اظہار ہوا اور ایذاء رسانی اور تکلیف دہی کے تمام ذرائع استعمال کئے گئے اور قوم کے بڑوں نے عوام الناس سے صاف صاف کہہ دیا کہ ود، سواع، یغوث، یعوق، اور نسر جیسے بتوں کی پرستش کو نہ چھوڑنا، حضرت نوح علیہ الصلوٰ ۃ والسلام ساڑھے نو سو سال کی انتھک کوشش کے نتیجے میں ایک روایت کے اعتبار سے اسی افراد سے زیادہ ایمان نہ لائے۔
Ayahs 71:3–20ان اعبدوا اللہ واتقوہ و اطیعون حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی تبلیغ کا آغاز ان تین باتوں سے فرمایا ایک یہ کہ اللہ بندگی، دوسرے تقویٰ ، تیسرے رسول کی اطاعت، مطلب یہ کہ اگر تم ان تین باتوں کو قبول کرلو تو اب تک جو گناہ تم سے ہوچکے ہیں ان سے وہ درگزر فرمائے گا، یغفرلکم من ذنوبکم و یوخر کم الی اجل مسمی الخ میں بعض مفسرین نے حقوق العباد کو خارج کرنے کے لئے من کو تبعیض کا لیا ہے، اسلام اور ایمان لانے سے حقوق اللہ معاف ہوجائیں گے مگر حقوق العباد سے معافی کے لئے صاحب حق سے معافی ضروری ہوگی، بعض مفسرن نے یہاں من زائدہ یا بمعنی عن لیا ہے مطلب یہ کہ ایمان لانے سے تمہارے سب گناہ معاف ہوجائیں گے مگر دوسری نصوص کی بنا پر شرط مذکور بہرحال ضروری ہے۔
یعنی اگر تم نے یہ تینوں باتیں مان لیں تو تمہیں دنیا میں اس وقت تک بلا عذاب جیتنے کی مہلت دے دی جائے گی جو اللہ تمہاری طبعی موت کے لئے مقرر کی ہے یعنی مقررہ مدت عمر سے پہلے کسی دنیاوی عذاب میں پکڑ کر ہلاک نہ کرے گا، اس کا حاصل یہ ہوا کہ اگر ایمان نہ لائے تو یہ بھی ممکن ہے کہ مدت مقررہ سے پہلے ہی تم پر عذاب لا کر ہلاک کر دے، معلوم ہوا کہ عمر کی مدت مقررہ میں بعض اوقات کوئی شرط ہوتی ہے کہ اس نے فلاں کام کرلیا تو اس کی عمر مثلاً اسی سال ہوگی اور نہ کیا تو ساٹھ سال ہوگی اعمال صالحہ سے عمر کے بڑھنے اور نافرمانی کے کاموں کی وجہ سے عمر کے گھٹنے کا یہی مطلب ہے۔ (معارف ملخصًا)
اس سے معلوم ہوا کہ تقدیر الٰہی کی دو قسمیں ہیں : (1) معلق اور (2) مبرم۔ ان دونوں تقدیروں کی طرف قرآن کریم میں اشارہ موجود ہے ” یمحوا اللہ ما یشآء و یثبت و عندہ ام الکتاب “ یعنی اللہ تعالیٰ لوح محفوظ میں اثبات یعنی ترمیم و تبدیل کرتا رہتا ہے اور اللہ کے پاس اصل کتاب ہے، اصل کتاب سے مراد وہ کتاب جس میں تقدیر معلق لکھی ہوئی ہے کیونکہ تقدیر معلق میں جو شرط پوری کرے گا یا نہیں اس لئے تقدیر مبرم میں قطعی فیصلہ لکھا جاتا ہے۔ (معارف)
حضرت ابن عباس ؓ کی روایت کے مطابق حضرت نوح (علیہ السلام) کو چالیس سال کی عمر میں نبوت ملی اور قرآن کی تصریح کے مطابق نو سو پچاس سال اپنی قوم کو تبلیغ کی اور طوفان کے بعد ساٹھ سال بقید حیات رہے، اس حساب سے آپ کی عمر ایک ہزار پچاس سال ہوئی، حضرت آدم (علیہ السلام) کی وفات اور ولادت نوح (علیہ السلام) کے درمیان 102 سال کا فاصلہ ہے اور حضرت آدم (علیہ السلام) کی عمر 930 سال ہوئی ہے۔
(قصص القرآن، حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوھاروی (رح) تعالیٰ )
Ayah 71:21ترجمہ : نوح بن لامک بن متوشلخ بن احنوخ واسم امہ شمخی بروزن سکری (علیہ السلام) نے عرض کیا اے پروردگار ! ان لوگوں نے میری نافرمانی کی اور کمزور طبقے اور فقراء نے ان لوگوں کی اطاعت کی کہ جن کے عال و اولاد نے سرکشی اور کفر کے اعتبار سے ان کو نقصان ہی پہنچایا، جو ایسے رئیس ہیں کہ جن کے اوپر ان چیزوں کا انعام فرمایا، ولد وائو کے ضمہ اور لام کے سکون اور دونوں کے فتحہ کے ساتھ (ولد) اور اول کہا گیا ہے کہ ولد (بفتحھما) کی جمع ہے جیسا کہ خشب، خشب کی جمع ہے، اور کہا گیا کہ جمع کے معنی میں ہے جیسا کہ بخل اور بخل اور ان لوگوں نے بڑا تکبر کیا اسی طریقہ پر کہ انہوں نے نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کی، اور ان کو اور ان کے پیروکاروں کو ایذا پہنچائی انہوں نے کمزور طبقے کے لوگوں سے کہا تم اپنے معبودوں کو مت چھوڑنا اور ود کو نہ چھوڑنا وائو کے فتحہ اور ضمہ کے ساتھ اور نہ سواع کو اور نہ یغوث کو اور نہ … چھوڑنا، یہ ان کے بتوں کے نام ہیں اور ان لوگوں نے ان بتوں کے ذریعہ بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا اس طریقہ پر کہ ان لوگوں کو ان بتوں کی بندگی کرنے کا حکم دیا (الٰہی ! ) تو ان لوگوں کی گمراہی اور بڑھا دے یہ عطف ہے قداضلوا پر اور حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان کے لئے یہ بددعاء اس وقت کی کہ جب بذریعہ وحی ان کو یہ معلوم ہوگیا کہ تیری قوم میں سے جو لوگ ایمان لا چکے ہیں ان کے علاوہ اور کوئی ایمان لانے والا نہیں، ان لوگوں کو ان کے گناہوں کی وجہ سے طوفان میں غرق کردیا گیا ما زائدہ ہے، ایک قرأت میں خطیناتھم ہے ہمزہ کے ساتھ، اور جہنم میں پہنچا دیا گیا اور اللہ کے سوا انہوں نے اپنا کوئی مددگار نہ بنایا کہ جو ان سے عذاب کو روک سکے اور نوح (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار ! تو روئے زمین پر کوئی بسنے والا نہ چھوڑ یعنی گمان میں آنے والا مطلب یہ کہ کسی کو نہ چھوڑا اگر تو ان کو چھوڑ دے گا تو یقینا یہ تیرے (دیگر) بندوں کو بھی گمراہ کردیں گے اور فاجروں اور کافروں ہی کو جنم دیں گے یعنی ان لوگوں کو جو کفر و فسق ہی کریں گے، اور آپ نے یہ بدعاء آپ کے پاس وحی آنے کے بعد کی۔ اے میرے پروردگار ! تو میرے والدین کو کہ دونوں مومن تھے اور ہر اس شخص کو جو مومن ہو کر میرے گھر میں میری مسجد میں داخل ہو اور قیامت تک آنے والے مومنین و مومنات کو بخش دے اور کافروں کو سوائے ہلاکت کے اور کسی چیز میں نہ بڑھا چناچہ وہ سب لوگ ہلاک کردیئے گئے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : بذلک، ای بالمال والولد۔
قولہ : والاول ای ولد کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ولد کی جمع ہے جیسا کہ خشب، خشب کی جمع اور کہا گیا ہے کہ … نہیں ہے البتہ معنی میں جمع کے ہے جیسا کہ بخل، بخل کے معنی میں ہے۔
قولہ : ود مرد کی شکل کے ایک بت کا نام ہے، سواع عورت کی شکل کے ایک بت کا نام ہے، یغوث شیر کی شکل کے … کا نام ہے، یغوق گھوڑے کی شکل کے بت کا نام ہے، نسر کرگس کی شکل کے بت کا نام ہے۔
تفسیر و تشریح
قال نوح رب انھم عصونی (الآیۃ) یعنی میری نافرمانی پر اڑے رہے میری ایک سن کر نہ دی اور مالداروں سرداروں کی پیروی کی کہ جن کو ان کے مال و اولاد نے سوائے نقصان کے کوئی فائدہ نہیں دیا بلکہ سراسر نقصان میں رہے۔
Ayah 71:22ومکروا مکرا کبارا یہ مکر شدید کیا تھا ؟ مکر سے مراد ان سرداروں اور پیشوائوں کے وہ مکر و فریب ہیں جس سے وہ اپنی قوم کے عوام کو حضرت نوح (علیہ السلام) کی تعلیمات کے خلاف بہکاتے تھے اور بہکانے کے طریقے تقریباً تمام وہی تھے جو مشرکین عرب آپ ﷺ پر ایمان لانے سے روکنے کے لئے کرتے تھے، اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ مکر سے مراد حضرت نوح (علیہ السلام) کے قتل کی سازش ہے، اور بعض کے نزدیک ان کے بڑوں کا چھوٹوں سے یہ کہنا تھا کہ تم اپنے معبودوں کی عبادت پر جمے رہنا ان کو ہرگز چھوڑنا۔
Ayahs 71:23–25ولا تذرن ودا الخ یہ پانچوں، قوم نوح (علیہ السلام) کے نیک آدمی تھے اور یہ انہیں کے نام ہیں جب ان کا انتقال ہوگیا تو شیطان نے ان کے عقیدت مندوں سے کہا کہ ان کی تصویریں بنا کر تم اپنے گھروں اور عبادت خانوں میں رکھ لو، تاکہ ان کی یاد زندہ رہے اور ان کے تصور سے تم بھی ان کی طرح نیکیاں کرتے رہو جب یہ تصویر بنا کر رکھنے والے فوت ہوگئے تو شیطان نے ان کی نسلوں کو یہ کہہ کر شرک میں مبتلا کردیا کہ تمہارے آباء تو ان کی پوجا کرتے تھے جن کی تصویریں تمہارے گھروں میں لٹک رہی ہیں، چناچہ انہوں نے ان کی پوجا شروع کردی۔ (بخاری تفسیر، سورة نوح)
قوم نوح (علیہ السلام) کے ان پانچوں بزرگوں کی اتنی شہرت ہوئی کہ عرب میں بھی ان کی پوجا ہونے لگی، چناچہ ” ود “ دومۃ … میں قبیلہ کلب کا معبود تھا اور ” سواع “ ، ساحل بحر کے قبیلہ ہذیل کی دیوی تھی، ” یغوث “ سباء کے قریب قبیلہ ٔ طے کی بعض … خوں کا بت تھا اور ” یعوق “ ہمدان کے علاقہ میں قبیلہ ہمدان کی شاخ خیوان کا بت تھا، اور یہ گھوڑے کی شکل کا تھا، اور ” نسر “ … حمیر کا بت تھا جس کی شکل گدھ کی سی تھی۔
قد اضلوا کثیرا، اضلوا کا فاعل قوم نوح کے رئوساء ہیں جنہوں نے مذکورہ پانچوں بزرگوں کے ناموں سے لوگوں کو گمراہ کیا۔
Ayahs 71:26–28قال نوح رب لا تذر علی الارض من الکافرین دیارا حضرت نوح (علیہ السلام) نے یہ دعاء اس وقت فرمائی جب حضرت نوح (علیہ السلام) ان کے ایمان لانے سے بالکل ناامید اور مایوس ہوگئے، اور اللہ نے بھی بذریعہ وحی اطلاع کردی کہ اب ان میں سے کوئی ایمان لانے والا نہیں دیار، فیعال کے وزن پر دیوار تھا وائو کو یاء سے بدل کر یاء میں ادغام کردیا، رہنے بسنے والے۔
بحمدتم اللہ