Ayah 75:1لا اقسم بیوم القیامۃ . قنبل اور بزی کی قراءت میں لَاُقْسِمُ آیا ہے۔ اس وقت لام تاکید کا اور اَقْسِمُ
فعل قسم ہوگا۔ جمہور کی قراءت لَآ اُقْسِمُ سے لا زائد ہے۔
Ayah 75:2ولا اقسم بالنفس اللوامۃ . اس میں بھی لا زائد ہے صرف قسم کا مفہوم مراد ہے (نفی قسم مراد نہیں) قسم کا
جواب (جس امر کو قسم کھا کر ظاہر کیا گیا ہے) محذوف ہے۔ آئندہ کلام اس کا قرینہ ہے یعنی ضرور تمہارا حشر ہوگا ‘ ضرور تمہارا حساب ہوگا ‘ ضرور ہر شخص کو اس کے اچھے ‘ برے عمل کا بدلہ ملے گا۔
ابوبکر بن عیاش نے کہا : لا تاکید قسم کے لیے ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ فعل قسم پر لا تاکید قسم کے لیے لانا کلام عرب میں بکثرت ہے۔ میں کہتا ہوں فعل قسم پر نفی لانے میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ آئندہ جو کچھ بیان کیا گیا ہے ‘ وہ بالکل واضح ناقابل انکار ہے۔ قسم کھا کر مؤکد کرنے کی اس کو ضرورت ہی نہیں ہے کیونکہ عقل و فہم رکھنے والے واقف ہیں کہ کچھ لوگ اس دنیا میں اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے والے ہیں۔ خلق خدا پر ظلم کرنے والے اور رشتہ داروں سے تعلق توڑنے والے اور ایسی حرکتوں کا ارتکاب کرنے والے ہیں جن کی خرابی اور برائی ہر دانش مند کی نظر میں یقینی ہے لیکن ان تمام معصیت کوشیوں کے باوجود وہ خوش عیش اور آسودہ حال ہیں اور ان کے خلاف کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے بڑے شکر گزار ‘ ہر حال میں خدا کے حکم پر راضی اور مخلوق پر مہربان ہیں ‘ مگر ہر وقت دکھ اور مصیبت میں ہیں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سزا و جزا کے لیے کوئی اور مقام ہے ورنہ برے کی اچھے پر اور مذموم کی محمود پر ترجیح لازم آئے گی اور یہ ناممکن ہے ‘ اللہ کی شان اس سے اعلیٰ اور بالا ہے۔
النفس اللوامۃ میں لام جنسی ہے۔ ہر نفس مراد ہے (کافر ہو یا مؤمن ‘ نیک ہو یا بد) فراء نے کہا : ہر شخص نیک ہو یا بد ‘ قیامت کے دن اپنے کو ملامت کرے گا ‘ اگر اس نے اچھے کام کیے ہوں گے تو نفس سے کہے گا۔ اس سے زیادہ نیکی تو نے کیوں نہیں کی اور بدی کی ہوگی تو کہے گا برے کام تو نے کیوں کیے۔
حسن نے کہا نفس لوامہ سے مراد مؤمن کا نفس ہے ‘ مؤمن دنیا میں ہر طعام و کلام پر اپنے نفس کو ملامت کرتا رہتا ہے لیکن کافر نہ اپنے نفس سے حساب فہمی کرتا ہے ‘ نہ اس کو برا کہتا ہے۔ مقاتل نے کہا : اس سے کافر مراد ہے۔ ہر کافر قیامت کے دن اپنے نفس کو برا کہے گا کہ دنیا میں حقوق اللہ کی ادائیگی میں اس نے قصور کیوں کیا۔ بعض لوگوں نے کہا : اس سے سے مراد وہ شخص ہے جو کہتا ہے کہ اگر میں ایسا کرلیتا تو ایسا ہوجاتا ‘ یا نہ کرتا تو ایسا نہ ہوتا۔ غرض وہ حکم خداوندی پر راضی نہیں رہتا جو چاہتا ہے کہتا ہے اللہ کی مشیت اور تقدیر پر خوش نہیں رہتا۔
صوفیہ کہتے ہیں نفس بدی کا حکم دیتا ہے لیکن اگر آدمی کوشش کر کے ذکر الٰہی کرے اور اللہ کی طرف سے کشش بھی اس کی مددگار ہو تو اپنے نفس کی برائیاں اس پر کھل جاتی ہیں وہ اپنے نفس کو ماسوی اللہ میں مشغول پاتا ہے اور مخلوق سے کامل طور پر تعلق منقطع کرلینے پر اس کو قدرت نہیں ہوتی تو اس وقت خود اپنے کو ملامت کرتا ہے ‘ اس مرتبہ میں پہنچ کر نفس کو نفس لوامہ کہا جاتا ہے لیکن جب اس کو فنا فی اللہ اور بقاء باللہ کا درجہ حاصل ہوجاتا ہے اور وہ ماسوا اللہ کے تعلق سے بالکل آزاد ہوجاتا ہے اور ذکر الٰہی سے ہی اس کو اطمینان نصیب ہوجاتا ہے تو اس مرتبہ پر اس نفس کو نفس مطمئنہ کہا جاتا ہے۔
Ayah 75:3ایحسب الانسان . استفہام انکاری و توبیخی ہے۔ الانسان سے مراد ہے جنس انسان جس میں وہ شخص بھی داخل ہے جو منکر بعث و حشر تھا یا الف لام عہدی ہے اور کوئی معین شخص مراد ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ یہ آیت عدی بن ربیعہ کے حق میں نازل ہوئی۔ عدی خاندان زہری کا حلیف اور اخنس بن شریق ثقفی کا داماد تھا۔ عدی اور اخنس ہی کے سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ نے دعا کی : الٰہی ! مجھے میرے برے ہمسائے سے محفوظ رکھ۔
بات یہ ہوئی کہ عدی نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا : محمد ﷺ مجھے بتاؤ ‘ قیامت کب ہوگی ‘ اس کے کیا احوال ہوں گے ؟ حضور ﷺ نے اس کو قیامت کی کیفیت بتائی ‘ کہنے لگا : اگر میں قیامت کو دیکھ بھی لوں تب بھی تمہاری بات کی تصدیق نہیں کروں گا اور نہ تمہیں سچا جانوں گا کیا خدا ہڈیوں کو پھر اکٹھا کر دے گا ‘ اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔
ان لم نجمع عظامہ . کیا انسان خیال کرتا ہے کہ اس کی ہڈیوں کو بوسیدہ ‘ فرسودہ اور پراگندہ ہونے کے بعد ہم
اکٹھا نہیں کریں گے ‘ اس سے مراد ہے دوبارہ جی اٹھنے کا انکار کیونکہ ہڈیاں جان کا قالب ہیں۔ دوبارہ زندگی انہی کے اجتماع پر متفرع ہوگی۔
Ayah 75:4بلی . کیوں نہیں۔ یعنی اللہ ہڈیوں کو ضرور اکٹھا کر کے انسان کو زندہ کرے گا۔
قادرین . فاعل مقدر سے حال ہے اور اس سے مراد ہے مزید قدرت کا اظہار یعنی ایسی چیزوں پر قدرت کا اظہار جو انکاری چیزوں سے زیادہ اہم ہیں (یعنی ہڈیاں جمع کرنے پر تو خدا کو قدرت ہے ہی پورا پورا جوڑنے پر بھی اس کو قدرت حاصل ہے) جیسے کہا جاتا ہے کہ کیا تیرا خیال ہے کہ ہم کو تجھ پر قابو حاصل نہیں۔ ہم تجھ پر قابو رکھتے ہیں اور تجھ سے زیادہ طاقت والوں پر بھی ‘ آیت کا خلاصۂ مطلب یہ ہے کہ ہم ہڈیاں جمع کریں گے ‘ ان کو اکٹھا کرنے پر ہم کو قدرت ہے اور علی ان نسوی بنانہ . اس کے پور پور جوڑنے پر بھی ہم قادر ہیں۔ بنان سے مراد ہیں انگلیاں یا انگلیوں کے پورے اور انکی ہڈیاں تو چھوٹی اور باریک ہوتی ہیں۔ جب انکو ہم جوڑ دینگے تو بڑی ہڈیوں کو جوڑنے پر قدرت تو بدرجۂ اولیٰ ہم کو حاصل ہے۔
Ayah 75:5بل یرید الانسان . بل عاطفہ ہے یَحْسَبُ پر عطف ہے۔ (استفہام کے تحت ہے) اس کو سوالیہ بھی کہا جاسکتا ہے اور تحقیقیہ بھی کیونکہ سابق سائل یا سوال سے اعراض (اور دوسری بات کو بیان کرنے کی طرف میلان ہونا) درست ہے (یعنی یہ دوسرا انسان پہلے انسان سے غیر ہوگا تو سائل اوّل سے اضراب ہوجائے گا اور اگر سائل وہی ہو مگر اس کے سوال سے اعراض ہو تو سوال سے اضراب اور دو سرے مسئلہ کا بیان ہوگا) ۔
لیفجر امامہ . مجاہد ‘ حسن بصری ‘ عکرمہ اور سدی نے اس طرح تفسیری معنی بیان کیے کہ ہر شخص واقف ہے کہ خدا تعالیٰ اس کی ہڈیاں جوڑنے پر قادر ہے مگر وہ آنے والے زمانہ (یعنی قیامت) کا انکار کرنا چاہتا ہے اس لیے کفر پر قائم رہتا ہے ‘ نہ کفر کو چھوڑتا ہے ‘ نہ توبہ کرتا ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا : آدمی گناہ میں جلدی کرتا ہے اور توبہ کو ٹالتا رہتا ہے ‘ کہتا ہے میں پھر نیکی کرلوں گا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اسی بد اعمالی کی حالت میں اس کو موت آجاتی ہے۔ ضحاک نے کہا : اس سے مراد امیدیں باندھنا ہے۔ آدمی کہتا ہے میں زندہ رہوں گا اور اتنا مال و منال حاصل کروں گا ‘ موت کی یاد اس کو نہیں ہوتی۔
حضرت ابن عباس ؓ اور ابن زید نے فرمایا : یفجر سے مراد ہے یکذب اور امامہ سے مراد ہے قیامت ‘ یعنی آگے انے والے روز قیامت و حشر اور حساب کو وہ جھوٹا قرار دیتا ہے۔ لغت میں فجور کا معنی ہے میلان ‘ فاجر کو فاجر کہنے کی وجہ یہ ہے کہ حق سے وہ مڑ جاتا ہے۔
Ayah 75:6یسئل . یہ سوال بطور استہزاء کے ہوتا ہے اور قیامت کو بعید از عقل قرار دیتے ہوئے وہ دریافت کرتا ہے۔
ایان یوم الیقمۃ . کب ہوگا قیامت کا دن ؟ یعنی نہیں ہوگا۔
Ayah 75:7فاذا برق البصر . برق بفتح راء (نافع) بکسر راء (جمہور) دونوں لفظ لغت میں آتے ہیں۔ قاموس میں ہے
برق ‘ فرح اور نصر کی طرح ہے۔ برقًا اور بروًقا مصدر ہیں ‘ متحیر ہوگیا یا دہشت زدہ ہوگیا کہ دیکھ ہی نہ سکا۔ فراء اور خلیل نے کہا : برق بکسر راء کا معنی ہے متحیر ہوگیا ٗ گھبرا گیا۔ وہ عجیب چیزیں دیکھیں جن کی دنیا میں تکذیب کرتا تھا۔
بروق بصر اور تحیر نظر سے مراد کس وقت کی خیرگی ہے۔ بعض کا قول ہے کہ موت کے وقت کا تحیر مراد ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ واقعہ قیامت کا بیان ہے کیونکہ اس کے بعد شمس و قمر کا اجتماع بیان کیا گیا ہے اور یہ اجتماع قیامت کے دن ہوگا لہٰذا بروق نظر سے بھی مراد وہی تحیر ہے جو قیامت کے دن ہوگا۔
Ayah 75:8و خسف القمر . چاند بےنور ہوجائے گا ‘ اس کی روشنی زائل ہوجائے گی۔
Ayah 75:9و جمع الشمس والقمر . یعنی دونوں سیاہ اور بےنور ہوجائیں گے ‘ دونوں کے اجتماع کا مطلب بعض
لوگوں نے بیان کیا کہ دونوں مغرب سے نکلیں گے (جہت طلوع میں اشتراک ہوگا) اور خسوف سے بطور استعارہ بےنور ہونا مراد ہے۔ عطاء بن یسار نے کہا : قیامت کے دن دونوں کو اکٹھا کر کے سمندر میں پھینک دیا جائے گا اور سمندر آگ بن جائے گا۔ یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ بےنور ہوجانے میں دونوں کا اشتراک ہوجائے گا یہی دونوں کا اجتماع ہے۔ جمل میں ہے کہ بروق بصر بعض کے نزدیک موت کے وقت ہوتا ہے ‘ اسی کی تشریح خسوف قمر ہے کہ آنکھوں کی روشنی جاتی رہے گی اور اجتماع شمس و قمر کا معنی یہ ہے کہ حاسۂ نظر کے پیچھے روح بھی جاتی رہے گی یا یہ مراد ہے کہ عالم بالا کے اس مقام پر پہنچ جائے گا جہاں سے نور عقل حاصل ہوتا ہے۔ شمس مؤنث ہے جمع فعل مذکر ہے لیکن چونکہ فاعل ظاہر ہے اس لیے فعل کو مذکر لایا گیا یا یہ وجہ ہے کہ قمر مذکر ہے۔ قمر کا عطف شمس پر ہے ‘ معطوف کی حالت کا لحاظ رکھا گیا اور معطوف علیہ کو نظر انداز کردیا گیا۔ اذا ظرفیہ ہے بَرِق اور خَسَفَ اور جُمِعَ تینوں افعال ایک خاص وقت پر دلالت کر رہے ہیں اور یہ وقت آئندہ فعل (یعنی یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ) کا زمانہ وقوع ہے۔
Ayah 75:10یقول الانسان یومئذ این المفر . الانسان سے مراد ہے کافر۔ این المفر ‘ یقول کا مفعول یعنی کافر کا مقولہ ہے۔
Ayah 75:11کلا . یہ طلب مفر سے بازداشت ہے جس کا بیان آگے آتا ہے۔
لاوزر . کوئی پناہ گاہ اور بچاؤ کی جگہ نہ ہوگی۔ اس سے مراد ہے پہاڑ کیونکہ (اس زمانہ میں) لوگ پہاڑوں پر
(دشمنوں سے) پناہ لیتے تھے۔ وَزَرَ ‘ وِزْرٌ سے بنا ہے۔ وِزْرٌ کا معنی ہے بوجھ۔
Ayah 75:12الی ربک یومئذ المستقر . مستقر ‘ جائے رجوع ‘ لوٹنے کی جگہ۔ یعنی اللہ کی مشیت اور حکم کی طرف ان کو
لوٹنا ہوگا۔ اللہ کا حکم ہی ان کی قرار گاہ ہوگا۔
Ayah 75:13ینبو الانسان یومئذ بما قدم واخر . حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : مَا قَدَّمَ سے
مراد ہیں وہ اچھے ‘ برے عمل جو مرنے سے پہلے انسان کرتا ہے اور مَا اَخَّرَ سے مراد ہیں وہ اچھے ‘ برے طریقے جن کی بنیاد ڈال کر دنیا میں چھوڑ آتا ہے۔ قتادہ نے کہا : آگے کرنے سے مراد ہے اللہ کی اطاعت کرنا اور پیچھے ڈال دینے سے مراد ہے ‘ طاعت کو ضائع کردینا۔ مجاہد نے کہا : مقدم و مؤخر عمل سے مراد ہے اوّل عمل اور اخیر عمل۔ زید بن اسلم نے کہا : اوّل سے مراد وہ مال ہے جو (راہ خدا میں) اپنے فائدہ کے لیے انسان خرچ کردیتا ہے اور دوسرے سے مراد ہے وہ مال جو وارثوں کے لیے پیچھے چھوڑ آتا ہے۔ بعض نے کہا کہ ما قدم واخر کا مطلب یہ ہے کہ دنیوی امور کو آخرت کے کاموں پر ترجیح دی ہو یا اس کے خلاف کیا ہو ‘ دونوں کی اطلاع قیامت کے دن اس کو دے دی جائے گی۔
Ayah 75:14بل الانسان علی نفسہ بصیرہ . یعنی دنیوی زندگی کے اعمال فقط یاد دلانے سے ہی اس کو نظر آجائیں گے۔
وہ ضرور دیکھ لے گا ‘ اطلاع دینے کی ضرورت بھی نہ ہوگی۔ بصیرۃ میں تاء مبالغہ کے لیے ہے (خواب دیکھنے والا) یہی مفہوم ہے آیت : کفٰی بنفسک الیوم علیک حسیبا کا۔ ابو العالیہ اور عطاء کا یہی قول ہے۔ بغوی نے حضرت ابن عباس ؓ کی طرف بھی اس قول کی نسبت کی ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ بصیرۃ کا موصوف محذوف ہو (اور اس میں تاء مبالغہ کی نہ ہو) یعنی انسان اپنے نفس کی حالت دیکھنے کے لیے بچشم خود نگراں ہوگا۔
یا بصیرۃ کا معنی ہے ثبوت اور حجت یعنی انسان خود اپنے نفس کے خلاف شاہد اور ثبوت ہوگا۔ بصیرت بمعنی حجت آیت : قد جاء کم بصآئر مِن ربکم میں بھی آیا ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ بصیرۃ سے مراد ہو وہ مؤکل فرشتہ جو ثبوت میں پیش ہوگا۔
مقاتل اور کلبی نے کہا : معنی اس طرح ہے کہ انسان کے نفس پر کچھ نگراں ہیں جو نگرانی کرتے رہتے ہیں اور قیامت کے دن اس کے اعمال کی شہادت دیں گے یہ نگران ہیں آنکھ ‘ کان اور ہاتھ پاؤں۔ اس وقت بصیرۃ میں تاء قیاسی ہوگی (مبالغہ کی نہ ہوگی) کیونکہ بصیرۃ سے مراد ہیں اعضائے انسانی۔ یہ بھی احتمال ہے کہ حرف جر محذوف ہو ‘ یعنی انسان اپنے جوارح اور اعضاء کے ذریعہ سے اپنے نفس کا شاہد ہے جیسے آیت : ان اردتم ان تسترضعوا اولادکم میں حرف جر محذوف ہے ‘ اصل کلام تھا : لاولادکم۔
Ayah 75:15ولو القی معاذیرہ . معاذیر ‘ معذار کی جمع ہے یعنی لوگ پردہ کو معذار کہتے ہیں۔ ضحاک اور سدی نے اسی
لیے آیت کا مطلب اس طرح بیان کیا ہے کہ انسان خواہ اپنے اعمال کو چھپانے کے لیے پردے چھوڑ کر اور دروازے بند کر کے کوئی کام کرے ‘ سود مند نہ ہوگا ‘ اسکا نفس خود اسکے خلاف شہادت دے گا جو فرشتہ مؤکل ہے وہ بھی شاہد ہوگا اور اللہ تو ہر چیز کا حاضر و ناظر ہی ہے۔
مجاہد ‘ قتادہ اور سعید بن جبیر نے اس طرح مطلب بیان کیا کہ انسان کے اعضاء اور ملائکہ اسکے اعمال پر شہادت دینگے ‘ خواہ انسان کچھ ہی عذر پیش کرے اور کتنا ہی جھگڑے لیکن کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ دوسری آیت : لا تنفع الظالمین معذرتھم کا بھی یہی مطلب ہے۔
فراء نے کہا : انسان خواہ معذرت پیش کرے مگر اس کے نفس کی طرف سے خود اس کو جھوٹا قرار دینے والی چیزیں ہوں گی ‘ آیت : والقوا الیھم القول انکم لکاذبون میں القاء قول کا بھی یہی معنی ہے۔ ان اقوال کی بناء پر معاذیر جو معذار کی جمع ہے ‘ معذرت کے معنی میں ہوگا ‘ معاذیر کو اگر معذرت کی جمع کہا جائے گا تو خلاف قیاس ہوگا۔ جیسے مناکیر ‘ منکر کی جمع غیر قیاسی ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ معاذیر اور مناکیر اسم جمع ہیں ‘ معذرۃ کی جمع معاذیر ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جب جبرئیل وحی لے کر آتے تھے تو رسول اللہ ﷺ آیات وحی کو یاد رکھنے کیلئے (جبرئیل کی قراءت میں ہی) اپنی زبان اور لبوں کو (چپکے چپکے) حرکت دیتے تھے اور یہ عمل حضور ﷺ پر سخت گزرتا تھا ‘ جس کے آثار نمایاں ہوتے تھے اور اس پر اللہ نے مندرجہ ذیل آیت نازل فرمائی۔ (صحیحین)
Ayah 75:16لا تحرک بہ لسانک لتعجل بہ . یعنی قرآن کو جلدی جلدی یاد کرلینے کے لیے تکمیل وحی سے پہلے تم
اپنی زبان نہ ہلایاکرو۔ بقول ابن عباس ؓ رسول اللہ ﷺ کو اندیشہ ہوتا تھا کہ نازل شدہ آیات کا کوئی حصہ چھوٹ نہ جائے۔ اس لیے (دوران نزول میں ہی چپکے چپکے) لبوں کو حرکت دیتے رہتے تھے۔ (صحیحین)
Ayah 75:17ان علینا جمعہ . قرآن کو تمہارے سینہ میں جمع کردینا تو ہمارے ذمہ ہے۔
وقرانہ . اور قرآن کو تمہاری زبان سے رواں کرنا بھی ہمارے ذمہ ہے۔
Ayah 75:18فاذا قرانہ . جب ہم قرآن پڑھ چکیں یعنی جبرئیل پڑھ چکیں ‘ چونکہ اللہ کے حکم سے جبرئیل پڑھتے تھے اور وہ
قاصد تھے اس لیے مجازاً جبرئیل کی قراءت کو اپنی قراءت قرار دیا۔
فاتبع قرانہ . تو ہماری قراءت کے بعد تم پڑھو۔ اس کا اتباع کرو تاکہ تمہارے ذہن میں جم جائے۔
شاگرد کے لیے بھی لازم ہے کہ شیخ کی قراءت کے بعد خود پڑھے ‘ ساتھ ساتھ نہ پڑھتا جائے تاکہ قراءت اور یادداشت میں دشواری ‘ پراگندگی اور ٹکراؤ نہ ہو۔
Ayah 75:19ثم ان علینا بیانہ . قرآن کا اظہار اس کے بعد ہمارے ذمہ ہے یعنی اگر معانی قرآن میں کچھ اشکال ہو تو اس کی
مراد کو ظاہر کردینا ہمارے ذمہ ہے۔ میں کہتا ہوں کہ بعض آیات محکم ہیں (واضح المراد) لیکن آیت مذکورہ کی روشنی میں کسی آیت کا رسول اللہ ﷺ کے لیے متشابہ ہونا اور مراد کی اطلاع آپ کو نہ ہونا درست نہیں ‘ ورنہ کلام بےسود ہوگا اور آیت مندرجہ بالا میں جو وعدہ کیا گیا ہے ‘ اس کی بھی مخالفت لازم آئے گی۔ آیت : لا یعلم تاویلہ الاّ اللہ کی تفسیر میں ہم اس کی توضیح کرچکے ہیں۔
آیت ثم ان علینا بیانہ میں لفظ ثم بتارہا ہے کہ خطاب کے وقت اگر مطلب واضح نہ کیا جائے اور کچھ مدت کے بعد مراد واضح کردی جائے تو جائز ہے لیکن وقت ضرورت سے تاخیر جائز نہیں ‘ جملہ لا تحرک بہ لسانک معترضہ ہے جیسے کسی کے بات کرتے وقت اگر مخاطب بھی بولنے لگے تو متکلم اس سے کہتا ہے ‘ ذرا خاموش رہو۔ میری بات نہ کاٹو۔ پوری بات سنو ‘ پھر تم کو بولنے کا حق ہے۔ یہ درمیانی کلام بطور ہدایت بول کر متکلم پھر اصل مدعا پر کلام کرنا شروع کردیتا ہے۔
Ayah 75:20کلا . اسی طرح درمیانی جملہ بطور ہدایت بول کر اللہ نے پھر اصل کلام کی طرف رجوع فرمایا۔ کلا سے بازداشت کی گئی
خواہ انکار حشر یا فجور پر یا بیکار عذر پیش کرنے پر۔
بل تحبون العاجلۃ . تحبون میں خطاب اسی انسان کو ہے جس کا ذکر پہلے آچکا ہے اور چونکہ اس سے مراد جنس
انسان تھی اس لیے خطاب بصیغۂ جمع کیا گیا۔ العاجلۃ سے مراد ہے ‘ دنیا اور خواہشات دنیا۔
Ayah 75:21و تذرون الاخرۃ . یحبون اور یذرون بصیغہ غائب بھی قراءت میں آیا ہے اور ضمیر انسان مذکور کی طرف
راجع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان اس بات سے تو ناواقف نہیں کہ اللہ دوبارہ حشر و تخلیق پر قادر ہے اور قیامت کے دن کوئی معذرت نفع بخش نہ ہوگی۔ بات یہ ہے کہ دنیا کی محبت کی وجہ سے خواہشات کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ ہوا و ہوس نے ان کی آنکھوں کو اندھا اور دلوں کو نابینا کردیا ہے اس لیے وہ آخرت کو چھوڑ بیٹھے ہیں۔ اس کے بعد احوال آخرت کو بیان فرمایا۔
Ayah 75:22وجوہٌ . یہ مبتداء ہے یا تو مضاف الیہ کو حذف کردیا گیا یعنی اہل قرب کے چہرے ‘ صفت محذوف ہے ‘ یعنی بہت چہرے۔
(مطلب یہ وجوہٌ نکرہ ہے جب تک اس میں کوئی تخصیص نہ ہو ‘ مبتداء نہیں ہوسکتا ‘ اس لیے مضاف الیہ کو محذوف مانا جائے گا یا صفت مخصّصہ کو) ۔
یا یوں کہا جائے کہ وجوہٌ سے وجوہٌ منھم مراد ہے یعنی انسانوں میں کچھ چہرے ہوں گے (اس وقت وجوہٌ خبر ہوگا اور مِنْھُمْ مبتداء یا منھم ظرف اور وجوہٌ اس کا فاعل) ۔
یومئذ . اس روز یعنی بروق بصر کے روز یا آخرت کے روز۔
ناضرۃ . تروتازہ ‘ خوبصورت ‘ شگفتہ۔
Ayah 75:23الی ربھا ناظرۃ . الی ربھا کا تعلق ناظرۃ سے ہے یعنی آنکھوں سے اپنے رب کی طرف دیکھیں گے
لیکن بغیر کسی جہت اور کیفیت اور بعد مسافت کے یہ جائز نہیں کہ غائب کو حاضر پر قیاس کیا جائے (اور کہا جائے کہ دیکھنا تو بغیر جہت اور سمت کے ناممکن ہے ‘ پھر آنکھ میں اور اس چیز میں جس کو دیکھا جا رہا ہو ‘ ایک محدود فاصلہ بھی ہونا چاہیے ‘ نہ بہت قرب ہو نہ انتہائی دُوری۔ پھر جس چیز کو دیکھا جائے اس کی کوئی خاص کیفیت بھی ہو ‘ ان شرائط کے بغیر دیکھنا ناممکن ہے اور خدا کی کوئی جہت نہیں ‘ وہ مکانی نہیں ‘ وہ ہر کیفیت اور مکانی قرب و بعد سے پاک ہے ‘ اس کو کیسے دیکھا جاسکتا ہے ؟ یہ حاضر پر غائب کا قیاس ہے ‘ ایسا نہ کرنا چاہیے۔ یہ شرطیں اس وقت دیکھنے کی ہیں اور غیر اللہ کو دیکھنے کی ہیں۔ خدا کو دیکھنا اور وہ بھی آخرت میں دیکھنا اپنی نوعیت جدا رکھتا ہے) ۔
آجری اور بیہقی نے کتاب الرویۃ میں الگ الگ طریق سند سے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ ناضرۃ کا معنی ہے خوبصورت اور الی ربھا ناظرۃ کا معنی ہے اپنے خالق کی طرف نظر کرنے والے حسن بصری (رح) وغیرہ سے یہی تشریح منقول ہے۔
حضرت ابن عمر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ادنیٰ درجہ کا جنتی وہ ہوگا جو اپنے باغوں کو ‘ بیویوں کو ‘ سامان آسائش کو ‘ خدمتگاروں کو اور مسہریوں کو ایک ہزار سال کی راہ کے بقدر دیکھا کرے گا اور اللہ کے ہاں سب سے معزز وہ جنتی ہوگا جو صبح و شام اللہ کا دیدار کرے گا ‘ پھر حضور ﷺ نے آیت : وجوہٌ یومئذ ناضرۃٌ الٰی ربھا ناظرۃ تلاوت فرمائی۔ احمد ‘ ترمذی ‘ دارقطنی ‘ لالکائی ‘ آجری وغیرہ۔ آجری کی روایت ان الفاظ کے ساتھ ہے کہ ادنیٰ جنتی وہ ہوگا جو اپنی ملک میں دو ہزار برس کی راہ کے بقدر (مسافت جنت) دیکھے گا اور آخر تین حصہ کو بھی اسی طرح دیکھے گا جیسے قریب ترین حصہ کو دیکھے گا۔
باب رویت میں حضرت انس کی روایت کردہ حدیث بھی آئی ہے جس کو بزار ‘ طبرانی ‘ بیہقی اور ابو یعلی نے پورا ‘ پورا نقل کیا ہے۔ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ جمعہ کے روز جنت میں دیدارِ الٰہی کی مزید نعمت حاصل ہوگی ‘ اس لیے یوم جمعہ کو یوم مزید کہا جائے گا۔
(بزار و اصفہانی وغیرہ)
آجری نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ جنتی ہر جمعہ کو اپنے رب کو دیکھیں گے۔ حسن بصری (رح) سے مرسلاً مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جنتی ہر جمعہ کو اپنے رب کی طرف دیکھیں گے۔ اس حدیث کی تخریج یحییٰ بن سلام نے کی ہے۔ حضرت انس کی مرفوع روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں جس کی دو پیاری آنکھیں لے لوں گا اس کے بدلہ میں (یہ ہوگا کہ) وہ میرے گھر (جنت) میں اترے گا اور میرے چہرہ کی طرف دیکھے گا۔ (طبرانی وغیرہ)
حضرت جریر بجلی ؓ نے فرمایا : ہم خدمت گرامی میں بیٹھے ہوئے تھے۔ حضور ﷺ نے چودہویں کے چاند کی طرف دیکھ کر فرمایا : بلاشبہ تم اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جیسے چودہویں کے اس چاند کو دیکھ رہے ہو۔ دیکھنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ جہاں تک ہو سکے طلوع و غروب سے پہلے کی نمازوں کی پابندی کرو (ہم نے اس حدیث کے لفظ لا تغلبواکا مرادی ترجمہ پابندی سے کیا ہے ‘ لفظی ترجمہ ہے تم مغلوب نہ ہو) ۔ (صحیحین)
لالکائی نے حضرت حذیفہ کی روایت سے بھی یہ حدیث نقل کی ہے۔
صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بھی ایسی ہی حدیث منقول ہے۔ حضرت زید ؓ بن ثابت کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دعا فرمایا کرتے تھے : الٰہی میں مرنے کے بعد خنک زندگی اور تیرے دیدار کی لذت اور تیری ملاقات کے شوق کی تجھ سے درخواست کرتا ہوں ‘ جس میں نہ ضرر رساں دکھ ہو ‘ نہ گمراہ کن فتنہ۔ (لالکائی)
حضرت عبادہ بن صامت ؓ کی روایت میں ہے ‘ تم مرنے سے پہلے اپنے رب کو ہرگز نہ دیکھو گے۔ (دارقطنی) لالکائی نے یہ حدیث حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کی ہے۔ ابو نعیم نے حلیہ میں حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت : رب ارنی انظر الیک تلاوت فرما کر ارشاد فرمایا کہ اللہ نے (موسیٰ سے) کہا : موسیٰ ! مجھے کوئی زندہ ‘ مرے بغیر نہیں دیکھے گا اور نہ خشک اور نہ کوئی تر۔ مجھے صرف جتنی دیکھیں گے (جنت میں) ان کی آنکھیں مردہ نہیں ہوں گی اور نہ ان کے جسم کہنہ ہوں گے۔
آیت : فمن کان یرجو لقآء ربہ فلیعمل عملاً صالحًا کی تشریح میں حضرت علی ؓ نے فرمایا : جو شخص اپنے خالق کی طرف دیکھنا چاہتا ہے تو لازم ہے کہ وہ نیک عمل کرے اور کسی کو خالق کا شریک نہ بنائے۔ (بیہقی) خلاصہ یہ کہ اس آیت کی تفسیر اور آیت : للذین احسنوا الحسنٰی و زیادۃ کی تشریح اور آیت : لدینا مزید کی توضیح اور ان کے علاوہ بعض دوسری آیات کی تعبیر رویۃ اللہ سے کرنا نقلاً ثابت ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے بھی اور صحابہ ؓ سے بھی اور تابعین سے بھی اس تفسیر کی اتنی احادیث مروی ہیں جو اصحاب حدیث کے نزدیک حد تواتر کو پہنچتی ہیں۔ سیوطی وغیرہ نے اسی طرح بیان کیا ہے۔ اس جگہ ہم نے جس قدر ذکر کردیا وہ کافی ہے۔ اس قسم کی جو آیت جہاں آئے گی ‘ ہم اس کی تفسیر میں اس کے متعلقات پر انشاء اللہ روشنی ڈالیں گے۔
اللہ تعالیٰ کی رویت پر اہل سنت کا اجماع ہے۔ معتزلہ اور خوارج وغیرہ رویت الٰہی کو ناممکن قرار دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ دیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ جس کو دیکھا جائے وہ جسم ہو ‘ کثیف ہو (یعنی شفاف نہ ہو) اور اس پر پردہ نہ ہو اور دیکھنے و الی آنکھ سے اس کی مسافت متوسط ہو۔ نہ زیادہ دور ہو ‘ نہ بہت قریب (اور ان کا یہ بھی خیال ہے کہ) دیکھنے والے کی آنکھ سے شعاع کا نکل کر مرئی تک پہنچنا ‘ چاہتا ہے کہ مرئی کسی جہت میں ہو۔ پس اگر خدا کو مرئی کہا جائے گا تو اس کا کسی جہت میں ہونا لازم ہوگا۔ یہ تو امتناع رویت پر ان کی عقلی دلیل تھی ‘ نقلی دلیل میں وہ آیت : لا تدرکہ الابصار کو پیش کرتے ہیں (اللہ کو نگاہیں نہیں پا سکتیں) رہی آیت مندرجۂ بالا تو اس کے سلسلہ میں وہ ناظرۃ کو منتظرۃ کے معنی میں لیتے ہیں۔ یعنی کچھ لوگ اس روز اللہ کے حکم اور انعام کے منتظر ہوں گے۔ مگر یہ تاویل عربی لغت کے خلاف ہے۔ انتظار کے بعد (مفعول) پر لام آتا ہے ‘ الیٰ نہیں آتا اور آنکھ سے نظر کے بعد (مفعول پر) الیٰ آتا ہے (اور آیت میں الٰی ربھا سے لربھا نہیں ہے) ۔
اہل سنت کہتے ہیں کہ دیکھنے کے لیے مرئی کا موجود ہونا ہی کافی ہے اور دیکھنے والے کا وجود حیات علم اور نگاہ سے دیکھنا ضروری ہے (اگر مرئی موجود ہو اور دیکھنے والے میں بھی یہ شرائط موجود ہوں تو رویت ہوجاتی ہے) مرئی کی رویت کے لیے ان باتوں کے علاوہ دوسری شرطوں کا پایا جانا اس وقت ضروری ہے جب وہ چیز مادی ہو (اور خدا مادی نہیں) حاضر پر غائب کو قیاس کرنا درست نہیں۔ دیکھو اللہ اپنی ساری مخلوق کو دیکھتا ہے۔ مخلوق مادی ہو یا غیر مادی۔ نہ وہاں کوئی مسافت اور فاصلہ ہوتا ہے ‘ نہ شعاع آنکھ سے نکلتی ہے ‘ وہ بہرحال سمیع وبصیر ہے ‘ پھر رسول اللہ ﷺ کی صراحت کے بعد رویت الٰہی کا کسی طرح انکار کیا جاسکتا ہے۔ رہی آیت : لا تدرکہ الابصار تو اس میں ادراک کی نفی کی گئی ہے اور کسی چیز کو ادراک کرنے کا تقاضا ہے کہ اس چیز کو گھیر لیا جائے اور اس کی حقیقت کا علم ہوجائے (گویا لا تدرک کا معنی ہے لا تحیط) اور خدا کو کسی نظر کا احاطہ کرلینا ناممکن ہی ہے۔ ہاں ! علم حضوری بالکنہ یعنی معلوم کی حقیقت کا عالم کے سامنے حاضر ہوجانا محال نہیں ہے مگر اللہ احاطۂ نظری سے برتر ہے ‘ واللہ اعلم۔
فائدہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جنتی اللہ تعالیٰ کو ہمیشہ پیہم دیکھیں گے ‘ کبھی رویت منقطع نہ ہوگی۔ جیسے چہروں کی شگفتگی اور تازگی کبھی ختم نہ ہوگی کیونکہ جملۂ اسمیہ دوام اور استمرار پر دلالت کرتا ہے البتہ احادیث میں آیا ہے کہ بعض لوگوں کو اللہ کا دیدار ہر جمعہ میں ہوگا اور بعض کو ہر جمعہ یعنی ہر ہفتہ میں دو بار ہوگا۔ ابن ابی الدنیا نے حضرت ابو امامہ کی روایت اسی طرح نقل کی ہے اور بعض لوگوں کو عید کی مقدار کے برابر دیدار ہوگا۔ یعنی سال میں دو بار۔ یحییٰ بن سلام نے ابوبکر بن عبداللہ المزنی کی روایت اسی طرح بیان کی ہے اور بعض کو روزانہ دو بار صبح اور شام دیدار ہوگا۔ ابن عمر ؓ کی روایت میں ایسا ہی آیا ہے۔ جملۂ اسمیہ مفید دوام ضرور ہے مگر اس سے غیر معین جماعت کے لیے دوام رویت ثابت نہیں ہوتا ہے۔ ہر شخص کے لیے دوام رویت ثابت نہیں ہوتاٗ لامحالہ مؤمنوں میں کسی خاص جماعت کی تخصیص کرنی ہوگی ‘ جس کو ہمیشہ نعمت دیدار حاصل رہے گی۔ یعنی مقربین کی جماعت۔ پس (وجوہٌ میں تنوین محذوف مضاف الیہ کے قائم مقام ہوگی اور) اصل کلام یوں ہوگا کہ مقربوں کے چہرے اس روز شاداب و شگفتہ اور اپنے رب کی طرف ہمیشہ دیکھتے ہوں گے۔
ابو نعیم نے ابو یزید بسطامی کا قول نقل کیا ہے کہ اللہ کے کچھ خاص بندے ایسے ہیں کہ اگر جنت میں اللہ ان سے اپنے دیدار کو اڑ میں کرلے گا تو وہ اسی طرح فریاد کریں گے جس طرح دوزخی ‘ دوزخ سے نکلنے کے لیے فریاد کریں گے۔
اس تقریر سے ثابت ہوگیا کہ رویت الٰہی سے فیض یاب ہونے والوں کے نامحدود اور اَن گنت درجات ہوں گے اور احادیث میں ان کے مراتب کو پورا پورا بیان کرنا مقصود نہیں ہے۔ حدیث میں جو آیا ہے کہ اکرمھم علی اللہ من ینظر الی وجھہ غدٰوۃ و عشیۃ (اللہ کے ہاں سب سے معزز وہ شخص ہوگا جس کو صبح و شام دیدارِ الٰہی ہوگا) اس سے مراد یہ ہے کہ صبح و شام نعمت دیدار سے سرفراز ہونے والا ‘ معزز ترین گروہ میں شامل ہوگا۔ یہ مقصد نہیں کہ سب سے زیادہ باعزت ہوگا۔ اس سے زیادہ کسی کی عزت ہی نہیں ہوگی (یعنی اکرمھم میں تفضیل نفسی ہے تفضیل اضافی نہیں کہ سب سے زیادہ معزز ہونے کا مفہوم پیدا ہو) ۔
نعمت رویت سے ہمیشہ اور ہر وقت فیض یاب ہونے والے انبیاء ہوں گے یا پھر وہ اہل قربت ہوں گے جو ذات مقدس سے باوجودیکہ وہ تمام کیفیات اور اعتبارات سے پاک ہے ‘ وصل رکھتے ہیں یہ وہی لوگ ہوں گے جن کو ذات کی تجلی دوامی طور پر حاصل تھی ‘ بجلی کے جھپکنے کی طرح ان پر جلوۂ ذات پر تو افگن نہیں تھا (کہ ایک آن میں چمک پڑھی اور جاتی رہی) مگر قابلیت نہ ہونے کی وجہ سے اس دنیا میں ان کو دیدار میسر نہ تھا۔ لامحالہ آخرت میں میسر ہوگا جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے ابو نعیم نے حلیہ میں حدیث نقل کی ہے۔ مانع زائل ہوگیا تو آخرت میں دوامی دیدار حاصل ہونا ہی چاہیے ورنہ پیچھے کو لوٹنا اور ترقی کی بجائے تنزل ہونا لازم آئے گا (دنیا میں جب دوامی جلوۂ ذات حاصل تھا اور دنیوی زندگی رویت سے مانع تھی اس لیے رویت حاصل نہ تھی اور آخرت میں دنیوی زندگی نہ ہوگی ‘ مانع زائل ہوچکا ہوگا اس لیے دوامی روایت حاصل ہونا چاہیے۔ دوامی جلوۂ ذات سے ترقی کر کے دوامی رویت تک پہنچنا چاہیے اگر دوامی رویت حاصل نہ ہوگی بلکہ کبھی کبھی حاصل ہوگی تو یہ ترقی نہ ہوئی تنزل ہوا۔ جلوۂ ذات کی دوامی پر تو افگنی جو دنیا میں حاصل تھی وہ بھی آخرت میں میسر نہ آئی اور دیار کی نعمت بھی ہر وقت نصیب نہ ہوئی۔ ہاں ! جس شخص کو دنیا میں دوامی تجلی اور بارگاہ قدس میں ہمہ وقت حضور میسر نہ تھا (کبھی کبھی نصیب ہوجاتا تھا) تو حسب مرتبہ کبھی کبھی رویت بھی نصیب ہوگی مثلاً اگر تجلی ذات کی پر تو افگنی برقی تھی تو آخرت میں اس کو دیدار بھی روزانہ دو مرتبہ یا چند مرتبہ حاصل ہوگا اور جس کو حصہ تجلی اس سے بھی کم ملا تھا اس کو ہر جمعہ میں یا ہر سال میں ایک بار دیدار نصیب ہوگا۔
فائدہ حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کے دل میں حضرت یوسف ( علیہ السلام) کی محبت رچی ہوئی تھی باوجودیکہ اہل قرب کے دل غیر اللہ کی محبت سے خالی ہوتے ہیں ‘ اسکا کیا راز تھا ؟ شیخ سرہندی مجدد الف ثانی (رح) نے مکتوبات جلد سوئم کے مکتوب نمبر : 10 میں اسی تنقیح فرمائی ہے۔ فرمایا ہے کہ :
ہر شخص کے تعین (تشخص) کا مبداء اللہ کے ناموں میں سے کوئی نام ہوتا ہے (کسی کا مبدأ اسم رحمٰن ہے ‘ کسی کا اسم صمد ‘ کسی کا قہار۔ غرض وجود مطلق نے کسی وصف خاص کے ساتھ جب ظہور کیا اور تعینی جامہ پہنا تو مخلوق ظاہر ہوئی پس ہر شخص کا تعین اور تشخص اللہ کے کسی نہ کسی اسم وصفی کا مظہر ہے) اب اس شخص کی جنت اسی اسم وصفی کے ظہور کا نام ہے جو اس شخص کے تعین کا مبدأ ہے اور اس اسم وصفی کا ظہور اور جلوہ پاشی درختوں ‘ دریاؤں ‘ اعلیٰ مکانوں اور حور و غلمان کی شکل میں ہوتی ہے۔ اس انکشاف حقیقت کی تائید رسول اللہ ﷺ کے اس قول سے ہوتی ہے کہ جنت پاکیزہ مٹی والی اور شیریں ہوگی ‘ یعنی اس کے دریا شیریں ہوں گے اور اس کے پودے یہی (کلمات) ہیں یعنی سبحان اللہ اور الحمد اللہ اور لا الٰہ الاّ اللہ وا اللہ اکبر۔ اس کے بعد مجدد صاحب (رح) نے فرمایا ہے کہ وہ درخت اور دریا (جو اسم وصفی کے مظہر ہیں اور جن کا نام جنت ہے) کبھی بلور کی طرح شفاف ہوجائیں گے اور ان کے ذریعہ سے بےکیف رویت الٰہی کی نعمت حاصل ہوگی پھر کچھ و قت کے بعد ان کی شفافیت جاتی رہے گی اور اپنی اصلی حالت پر لوٹ آئیں گے اور خود ان سے مؤمن دل بہلائے گا اور یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا (کبھی جنت بذات خود مؤمن کے دل کا بہلاوا ہوگی اور کبھی رویت خداوندی کا آئینہ) ۔
اس سے آگے مجدد صاحب نے فرمایا : جس طرح دنیا میں صوفی کو کبھی اسماء وصفات کے پردوں سے (چھن کر) تجلی ذات حاصل ہوتی ہے اور کبھی یہ پردے بھی اٹھ جاتے ہیں اور تڑپتی بجلی کی طرح جلوۂ ذات صور افگن ہوجاتا ہے اسی طرح آخرت میں دیدر الٰہی ہوگا۔ ہر جنتی کا ذات خداوندی سے تعلق اس اسم وصفی کے اعتبار سے ہوگا جو جنت کا مبتداء ہے اور جس کا ظہور جنت کی صورت میں ہوگا (کبھی جنت کی نعمتیں دیدارِ الٰہی کا آئینہ ہوں گی اور کبھی لوٹ کر اپنی اصلی حالت پر آجائیں گی) رویت الٰہی کی جنت میں جلوہ پاشی اس تڑپتی بجلی کی طرح ہوگی جو تھوڑی دیر کے لیے چمکتی ہے اور پھر چھپ جاتی ہے لیکن اس کی نورانیت اور برکت جنت کی نعمتوں اور درختوں کی شکل میں باقی رہے گی۔ میں کہتا ہوں کہ شیخ نے جو رویت کی یہ تشریح کی ہے وہ عام مؤمنوں کے لیے ہوگی ‘ خواص کے لیے تو دنیا میں تجلی ذات کی ضوء افگنی دوامی ہوتی ہے ‘ آخرت میں دیدار بھی دوامی ہوگا۔
ایک شبہ اہل تفسیر نے بیان کیا ہے کہ : الی ربھا ناظرۃ میں الیٰ کی تقدیم مفید حصر ہے ‘ اس کا حاصل یہ نکلتا ہے کہ جب اللہ چاہے گا تو جنتی دیدارِ الٰہی میں غرق ہوجائیں گے۔ دیدار کے وقت کسی اور طرف نہیں دیکھیں گے ‘ اس کی تائید حضرت جابر ؓ کی حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جنت والے اپنی راحتوں میں ہوں گے کہ اچانک اوپر سے ایک نور چمکے گا۔ جنتی سر اٹھا کر دیکھیں گے تو پروردگار ان کے اوپر سے جلوہ افگن ہوگا اور فرمائے گا : اے جنت والو ! تم پر سلام ہو۔ آیت : سلام قولاً من رب رحیم کا یہی مفہوم ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : پھر اللہ ان کی طرف اور وہ اللہ کی طرف دیکھیں گے۔ جب تک خدا کی طرف دیکھیں گے کسی دوسری طرف توجہ نہیں کریں گے۔ یہاں تک کہ اللہ ان سے حجاب فرما لے گا ‘ مگر اس کی نورانیت اور برکت ان کے مکانوں میں باقی رہے گی۔ (ابن ماجہ ‘ ابن ابی الدنیا ‘ دارقطنی) اب سوال یہ ہے کہ اگر بعض لوگوں کو دوامی دیدار ہوگا تو حصر کا کیا معنی اور کسی نعمت کی طرف دیدار کے وقت توجہ نہ کرنے کی کیا توجیہ ممکن ہے ؟
جواب جار مجرور ( الی ربھا) کی تقدیم حصر کے لیے قابل تسلیم نہیں بلکہ فواصل آیات کی رعایت سے جار مجرور کو مقدم کیا گیا ہے۔ ممکن ہے دوامی دیدار سے فیض یاب ہونے والوں کے لیے جنت کی کسی دوسری نعمت کی طرف توجہ دیدار میں مخل نہ ہو بلکہ جنت کی نعمتیں ان کے لیے آئینۂ دیدار کا کام دینے والی ہوں اور اس طرح ان کو ہمیشہ ہمیشہ دیدار کی نعمت حاصل ہوتی رہے ‘ ایسے لوگوں کو دو رویتیں نصیب ہوں گی ‘ رویت بےحجاب اور جنت کی نعمتوں کے ذریعہ سے رویت اور ان دونوں رویتوں کے حاصل ہونے کے دوران میں وہ اصل نعمتوں کو بھی دیکھتے ہوں گے اور ان سے لذت اندوز بھی ہوتے ہوں گے۔ ایک حالت دوسری حالت سے ان کو غافل نہیں بنائے گی۔ رہے دوسرے عام جنتی ‘ ان کو جنت کی نعمتوں کی طرف توجہ دیدار سے روک دے گی اور دیدار کسی دوسری نعمت جنت کی طرف متوجہ نہیں ہونے دے گا کیونکہ ان میں استعداد کی کمی ہوگی۔
یا جواب اس طرح دیا جائے گا کہ آیت میں رویت کا حصر صرف اسی شخص کے لیے ہے جس کو نعمت دیدار میسر ہو اور حدیث جابر ؓ میں عام جنتیوں کے حال کا بیان ہے۔
شبہ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ نعمتوں کی طرف توجہ رویت میں مخل نہ ہوگی لیکن نعمت دیدار کے میسر ہونے کی موجودگی میں کسی دوسری نعمت کی طرف توجہ کا جواز ہی کس طرح ہوسکتا ہے۔
ازالہ جنت کی نعمتیں اللہ کے اسماء و صفی کے مظاہر ہیں (آئینہ کی طرح) دیدار کے ہوتے ہوئے نعمتوں کی طرف التفاف ناممکن نہیں۔
فائدہ بعض ائمہ کے کلام میں آیا ہے کہ رویت الٰہیہ صرف مؤمن انسانوں کے ساتھ مخصوص ہے ‘ فرشتوں کو دیدارِ الٰہی نہیں ہوگا لیکن بیہقی نے اس کے خلاف صراحت کی ہے اور اپنے قول کے ثبوت میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص کی روایت کردہ حدیث پیش کی ہے کہ اللہ نے اپنی عبادت کے لیے مختلف ملائکہ کو (مختلف شکل کی عبادتوں میں منہمک) پیدا کیا ہے ‘ کچھ فرشتے اپنی پیدائش کے دن سے صف بستہ قیام میں ہیں اور قیامت تک قیام میں رہیں گے۔ جب قیامت کا دن ہوگا تو پروردگار ان پر جلوہ افگن ہوگا اور فرشتے اس کے مبارک چہرہ کی طرف دیکھیں گے اور عرض کریں گے۔ ہم نے تیری عبادت کا حق ادا نہیں کیا۔ اسی قسم کی حدیث دوسری سند سے عدی بن ارطاف کی وساطت سے ایک اور صحابی سے منقول ہے۔ ہم نے اوپر بیان کیا ہے کہ ہر شخص کو نعمت دیدار اس کے مبداء تعین کے موافق حاصل ہوگی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عام مؤمنوں پر ملائکہ کو فضیلت حاصل ہے کیونکہ تشخصات انسافی کے مبادی پر تشخصات ملائکہ کے مبادی کو فضیلت ہے۔ حضرت مجدد صاحب کی یہی تحقیق ہے ‘ لیکن ہم یہ بھی بیان کرچکے ہیں کہ خاص خاص انسانوں کو نعمت دیدار دوامی طور پر بغیر کسی انقطاع کے حاصل ہوتی رہے گی ‘ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خواص ملائکہ پر خواص بشر کو فضیلت حاصل ہے۔ کتب عقائد میں اس کی تفصیل کردی گئی ہے۔
Ayah 75:24ووجوہ یومئذ باسرۃ . اور کافروں کے چہرے یا بہت چہرے (اوّل صورت میں تنوین مضاف الیہ کے عوض
ہے اور دوسری صورت میں تنوین تکثیر ہے) سخت بدرونق ‘ بگڑے ہوئے ہوں گے۔
Ayah 75:25تظن . یعنی مذکورہ چہروں والے یقین کرلیں گے۔
ان یفعل بھا فاقرۃ . فاقرۃ ایسی سخت مصیبت جو پشت کے مہروں پر ضرب لگائے۔ ابن زید کے نزدیک اس
سے مراد ہے جہنم میں داخلہ اور کلبی کے نزدیک دیدار سے محرومی۔
Ayah 75:26کلا . یہ آخرت پر دنیا کو ترجیح دینے سے بازداشت ہے ‘ گویا یوں کہا گیا ‘ دنیا کو آخرت پر ترجیح دینے سے باز رہو ‘ موت کو یاد کرو۔ موت کے وقت دنیا ختم ہوجائے گی اور غیر فانی آخرت سامنے آئے گی
اذا بلغت التراقی . جب ہنسلی کی ہڈی تک سانس پہنچ جائے گی۔ سیاق کلام بتارہا ہے کہ بطور کنایہ بلغت کا فاعل محذوف نفس ہے۔
اذا شرطیہ ہے اور الی ربک یومئذ المساق جزاء ہے یا ظرفیہ ہے (یعنی ہنسلی تک سانس پہنچنے کے وقت) اور ظرف کا تعلق ایک محذوف فعل سے ہے جس پر لفط مساق دلالت کر رہا ہے۔ یعنی تم کو ربّ کی طرف ہنکا کر اس وقت لے جایا جائے گا جب سانس گلے میں اٹکی ہوگی۔
التراقی (الترقوہ کی جمع ہے) گلے کے زیریں حصہ میں ایک گڑھا ہوتا ہے۔ اس کے دائیں ‘ بائیں (دو ٹیڑھی) ہڈیاں ہوتی ہیں ‘ انہی کو تراقی کہا جاتا ہے ‘ ہنسلی تک سانس پہنچنے سے مراد ہوتی ہے ‘ موت کے قریب پہنچ جانا۔
Ayah 75:27و قیل من سراق . قتادہ نے کہا مراد یہ ہے کہ حاضرین یا مردہ کہتا ہے کہ اس پر کوئی افسوں دَم کر دے کہ یہ
موت سے بچ جائے۔ سلیمان تمیمی اور مقاتل بن سلیمان نے کہا : موت کے فرشتے کہتے ہیں کہ اس کی روح کو لے کر کون چڑھے گا ؟ رحمت کے فرشتے یا عذاب کے فرشتے ؟ راقی (اسم فاعل) رَقْیٌ سے مشتق ہے۔
Ayah 75:28و ظن انہ الفروق . اور مرنے والا یقین کرلیتا ہے کہ اب دنیا اور مرغوبات دنیا کا فراق ہے۔ یعنی موت ان
سب کو چھوڑ دینے کا سبب ہے۔
Ayah 75:29والتفت الساق بالساق . یعنی ایک پنڈلی دوسری پنڈلی سے لپٹ رہی ہوگی اور آدمی میں ان کو ہلانے کی
طاقت نہیں ہوگی۔ شعبی اور حسن بصری (رح) وغیرہ نے یہی تفسیر کی ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : (ساق سے مراد ہے امر دنیا اور آخرت یعنی) امر دنیا امر آخرت کے ساتھ لپٹا ہوگا ‘ دنیا کا آخری اور آخرت کا اوّل ترین دن ہوگا اور مرنے والے پر دوہری شدت ہوگی۔ دنیا کو چھوڑنے کی اور آخرت کے سامنے آنے کی۔
ضحاک نے کہا : مطلب یہ ہے کہ لوگ اسکے جنازہ کی تیاری کرتے ہوتے اور فرشتے اس کی روح کی تیاری میں لگے ہوتے ہیں۔
Ayah 75:30الی ربک یومئذ المساق . یعنی اس روز اللہ ہی کی طرف مرنے والے کا رجوع ہوتا ہے ‘ اللہ ہی جیسا چاہتا
ہے حکم دیتا ہے ‘ کسی اور کی طرف مردہ کی واپسی نہیں ہوتی۔
Ayah 75:31فلا صدق . اس نے رسول یا قرآن کی تصدیق نہیں کی یا مال کی زکوٰۃ نہیں دی۔
ولا صلی . اور اللہ کی فرض کردہ نماز نہیں ادا کی۔ فلا صدّق کا عطف ایحسبُ کے مضمون پر ہے کیونکہ استفہام
سے مراد ہے ‘ زجر اور کسی چیز پر زجر کرنے کا تقاضا ہے کہ وہ چیز واقع ہوچکی ہو (اسی لیے اس پر زجر کی جاتی ہے) تو گویا مطلب اس طرح ہوگا ‘ انسان خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں نہیں جوڑیں گے اور اس کو قیامت کے دن زندہ کر کے نہیں اٹھائیں گے ‘ اسی لیے نہ وہ تصدیق کرتا ہے نہ نماز پڑھتا ہے۔ صَدَّقَ اور صَلّٰی کی ضمیریں الانسان کی طرف راجع ہیں۔ کلام کی رفتار بتارہی ہے کہ آیت میں عدی بن ربیعہ مراد ہے لیکن بغوی کے نزدیک ابوجہل مراد ہے۔ یہ تعیین شخصی اس وقت ہوگی جب الانسان کے الف لام کو عہدہ قرار دیا جائے لیکن اگر الف لام جنسی ہو تو عدی اور ابوجہل (اور ان جیسے سب انسان) الانسان میں داخل ہوجائیں گے۔
Ayah 75:32ولکن کذب و تولی . بلکہ رسول اللہ ﷺ کو جھوٹا قرار دیا اور آپ پر ایمان لانے سے منہ پھیرلیا۔
Ayah 75:33ثم ذھب الی اھلہ یتمطی . یتمطّٰی کا معنی ہے تیز چلتا ہوا۔ قاموس میں ہے مطی فی سیرہ۔ فلاں
شخص تیز چال سے چلا اور کوشش سے چلا۔ جوہری نے صحاح میں لکھا ہے وہ پشت دراز کرتا ہے (یعنی اینٹھتا چلتا ہے) بعض لوگوں نے کہا : یتمطٰی کی اصل یتمطط تھی۔ تین ہم جنس حرفوں کے اجتماع کی وجہ سے تیسری طاء کو یاء سے بدل دیا۔ مطا کا معنی ہے دراز کرنا ‘ پھیلانا۔ بہرحال اس جگہ یتمطٰی سے مراد ہے (اکڑتا ہے ‘ اینٹھتا چلتا ہے) اتراتا چلتا ہے۔ گردن اکڑا ٗکر پشت دراز کر کے چلنا اترانے کی علامت ہے۔
Ayah 75:34اولی لک فاولی . جملہ بددعائیہ ہے ‘ تیری تباہی ہو یا تہدید و تخویف ہے (تیری تباہی ہوگی) گزشتہ کلام میں
یتمطّٰی تک الانسَان کا ذکر بصیغۂ غائب تھا۔ اس جملہ میں طرز کلام میں نیرنگی اختیار کی اور خطاب کی ضمیر استعمال کی۔
Ayah 75:35ثم اولی لک فاولی . جملہ کی تکرار مفید تاکید ہے ‘ یہ بھی احتمال ہے کہ پہلے جملہ میں دنیوی تباہی اور اس جملہ میں
آخرت کی تباہی مراد ہو۔ یعنی قتل ‘ پھٹکار ‘ بدنامی اور دنیوی سزا کی صورت میں تیری تباہی ہوگی اور مرنے کے وقت بھی تیری تباہی ہوگی اور جب تجھے قبر سے اٹھایا جائے گا اس وقت بھی تیری تباہی ہوگی اور جہنم میں داخل ہونے کے وقت بھی تیری تباہی ہوگی۔ (اوّل اور دوسرا اولیٰ دنیوی تباہی کے لیے ہے ‘ یعنی زندگی میں اور مرتے وقت تباہی ہوگی اور تیسرا اور چوتھا اولیٰ آخرت کی تباہی کے لیے ہے۔ یعنی حشر کے وقت اور جہنم میں داخلہ کے وقت تباہی ہوگی) ۔
ایک اور آیت میں حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا تھا : والسّلام علیہ یوم ولد و یوم یموت و یوم یبعث حیًّا۔ اس آیت میں (عدی یا ابوجہل یا مغرور کافر کے متعلق) دنیوی اور اخروی تباہی کی صراحت فرمائی تو اس کلام کا مفہوم اس کلام کے مفہوم کے برعکس ہے جو حضرت یحییٰ کے متعلق فرمایا تھا (ایک میں سلامتی کی بشارت ہے اور دوسرے میں تباہی کی خبر) ۔
اس تقدیر پر اولٰی اصل میں اویل تھا اور اویل ‘ ویل سے اسم تفضیل کا صیغہ ہے (بڑی تباہی) جیسے . ادنٰی کی اصل اَوْدَنُ تھی اور اَوْدَنُ ‘ دون سے اسم تفضیل ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اولٰی لَکَ میں لازم زائد ہے (اور اَوْلٰی ماضی کا صیغہ ہے) یعنی اولاک اللہ ما تکرھہٗ ۔ اللہ تجھے وہ چیزیں دے گا جو تجھے ناگوار ہوں گی جیسے رَدِفَ لکم میں لام زائد ہے۔ بعض لوگوں نے اولی لک کی اصل اولی لک الھلاک قرار دی ہے (یعنی لک مفعول نہیں ہے کہ لام کو زائد ماننا پڑے بلکہ الھلاک مفعول محذوف ہے) یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اٰل یؤُول سے فعل (متعدی ماضی) ہے بعض لوگ اس کو اسم فعل کہتے ہیں (لیکن بمعنی ماضی) یعنی وہ مصیبت جو تجھے گوارا نہیں ‘ تجھ سے قریب ہوگئی۔ قاموس میں ہے : اولٰی لک تہدید اور دھمکی ہے یعنی ہلاکت تیرے قریب آگئی ‘ اس صورت میں اولٰی ولیٌّ سے مشتق ہوگا اور ولیٌ کا معنی ہے قرب۔
قتادہ کا قول ہے کہ ہم سے بیان کیا گیا جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے بطحاء میں ابوجہل کے پورے کپڑے تھام کر فرمایا : اولٰی لک فاولٰی ثم اولٰی لک فاولٰی۔ ابوجہل نے کہا : محمد ﷺ کیا تم مجھے دھمکی دیتے ہو۔ خدا کی قسم ! نہ تم میرے کچھ کرسکتے ہو نہ تمہارا ربّ ۔ میں مکہ کے پہاڑوں کے درمیان چلنے والوں میں سب سے طاقتور ہوں لیکن بدر کا دن ہوا تو اللہ نے بدترین طور پر اسکو ہلاک کیا اور بہت بری طرح وہ مارا گیا۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ ہر امت کا ایک فرعون ہوتا ہے ‘ اس امت کا فرعون ابوجہل ہے۔
ابن جریر نے عوفی کی وساطت سے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ جب آیت علیھا تسعۃ عشر نازل ہوئی تو ابوجہل نے قریش سے کہا : تمہاری مائیں تم پر روئیں۔ ابو کبشہ کا بیٹا تم سے کہہ رہا ہے کہ دوزخ کے دربانوں کی تعداد انیس ہے ‘ تم بڑے پہلواں ہو ‘ کیا تم میں سے دس دس آدمی بھی ایک ایک دربان کو پکڑ لینے سے عاجز ہیں۔ اس پر اللہ نے اپنے پیغمبر ﷺ کے پاس وحی بھیجی کہ ابوجہل کے پاس جاؤ اور اس سے کہو : اولٰی لک فاولٰی ثم اولٰی لک فاولٰی۔
نسائی نے بیان کیا کہ سعید بن جبیر ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ سے دریافت کیا کہ : اولٰی لک فاولٰی رسول اللہ ﷺ نے خود اپنی طرف سے فرمایا تھا ‘ یا اللہ نے ایسا کہنے کا آپ ﷺ کو حکم دیا تھا ؟ حضرت ابن عباس ؓ نے جواب دیا : پہلے حضور ﷺ نے خود اپنی طرف سے فرمایا تھا ‘ پھر اللہ نے آیت نازل فرمائی۔
Ayah 75:36ایحسب الانسان ان یترک سدی . کیا انسان کا یہ خیال ہے کہ اس کو یونہی بیکار چھوڑ دیا جائے گا ‘ نہ کسی
کام کو کرنے کا حکم دیا جائے گا نہ کسی فعل سے منع کیا جائے گا ‘ نہ اس کا حشر ہوگا ‘ نہ جزا و سزا ‘ انکار حشر کا تو اقتضاء ہے کہ آدمی کو آزاد چھوڑ دیا جائے ‘ حالانکہ انسانی پیدائش کی غرض ہی پابندی امر و نہی ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون۔ دوسری جگہ فرمایا : قل ما یعبأبکم ربی لولا دعاء کم۔
Ayah 75:37الم یک نطفۃ من منی یمنی
انسان حشر کا کیسے انکار کرتا ہے اور کس طرح دوبارہ جی
اُٹھنے کو ناممکن قرار دیتا ہے ‘ کیا وہ منی کی ایک بوند نہ تھا ‘ جو رحم میں ٹپکائی جاتی ہے۔ پھر نطفہ ہونے کے چالیس روز بعد خون کا لوتھڑا ہوا ‘ پھر اتنے ہی دنوں میں بوٹی بنا ‘ پھر ہڈیاں بنیں ‘ پھر ان کو گوشت پہنایا گیا۔
Ayah 75:38ثم کان علقۃ
فخلق فسوی . پھر اللہ نے اسکے اندر روح پھونک کر اسکو پیدا کیا اور اسکی ساخت کو بغیر کسی نقصان کے درست کیا۔
Ayah 75:39فجعل منہ الزوجین الذکر والانثی . اور اسی منی سے جو علقہ ‘ پھر مضغہ ‘ پھر ہڈیاں اور گوشت کی شکل اختیار
کر چکی ہے دو صنفیں اللہ نے بنائیں ‘ نر اور مادہ۔ کبھی دونوں رحم کے اندر جم ہوتی ہیں ‘ کبھی ایک ہوتی ہے ‘ دوسری نہیں ہوتی۔
Ayah 75:40. الیس ذلک بقدر علی ان یحی الموتی . کیا وہ خدا جو مذکورۂ بالا عمل انجام دیتا ہے اور عدم سے
وجود میں لاتا ہے ‘ مردوں کو زندہ کرنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ حشر جسمانی سے زیادہ تعجب آفریں قدرت کا مشاہدہ ہوتے ہوئے حشر کا انکار کرنا انتہائی حماقت اور عناد پر دلالت کرتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم میں سے جو شخص (سورۃ التین) پڑھے اور آخر سورت الیس اللہ باحکم الحاکمین پر ختم کرے تو اس کو کہنا چاہیے : بلٰی وانا علٰی ذٰلک من الشاھدین (کیوں نہیں ‘ میں اس کی شہادت دینے والوں میں سے ہوں) اور جو شخص لا اقسم بیوم القیامۃ پڑھے اور سورت کو الیس ذٰلک بقٰدرٍ علٰٓی ان یحییٰ الموتٰی پر ختم کرے تو اس کو کہنا چاہیے : بلٰی وانا علٰی ذٰلک من الشاھدین۔ اور جو شخص والمرسلات پڑھے اور فبایّ حدیث بعدہ یؤمنون پر پہنچے تو کہے : امنّا باللہ۔
موسیٰ بن عائشہ ؓ نے کہا : ایک شخص اپنے مکان کی چھت پر نماز پڑھا کرتا تھا ‘ جب آیت : الیس ذلک بقٰدر علٰٓی ان یحی الموتٰی پر پہنچتا تو کہتا : سبحانک بلٰی۔ لوگوں نے اس کا سبب دریافت کیا ‘ تو اس نے جواب دیا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح سنا ہے ‘ مذکورہ بالا دونوں حدیثیں ابوداؤد نے نقل کی ہیں۔
الحمد اللہ ! سورة القیامۃ ختم ہوئی ‘ بعونہ و منہ تعالیٰ