Ayah 75:11 : لَآ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ یعنی میں قسم اٹھاتا ہوں ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ اور لا صلہ ہے جیسا اس قول میں لئلا یعلم ] الحدید : 29[ اور اس قول میں ہے : فی بئرلا حور سَرَی و مَا شعر۔ اور اس قول میں ہے تذکرت لیلٰی فاعترتنی صبابۃ : : وکاد ضمیر القلب لا یتقطع۔ اور جمہور کا یہی قول ہے۔
قول فراء :
مشرکین نے بعث کا جو انکار کیا اس کی تردید کیلئے لائے گویا اس طرح کہا گیا معاملہ اس طرح نہیں جیسا تم خیال کرتے ہو پھر فرمایا میں قیامت کے دن کی قسم اٹھاتا ہوں۔ ایک قول یہ ہے اس کی اصل لا قسم ہے جیسا ابن کثیر کی قراءت میں ہے اس صورت میں لام ابتدائیہ اور اقسم یہ مبتدأ محذوف کی خبر ہے یعنی لا نااقسم میں ضرور قسم اٹھاتا ہوں۔ اس کی تقویت اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ مصحف امام میں یہ بغیر الف کے ہے پھر اس میں اشباع کیا گیا تو اشباع سے الف ظاہر ہوا۔ اور عام طور پر اس لامؔ کے ساتھ نون تاکید ہوتا ہے اور بعض اوقات اس سے جدا بھی ہوجاتا ہے۔
Ayah 75:22 : وَلَآ اُقسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَۃِ جمہور کا مسلک ہے کہ یہ دوسری قسم ہے۔
قول حسن (رح) :
قیامت کی قسم اٹھائی اور نفس لوامہ کی قسم نہیں اٹھائی اس لئے کہ یہ مذمت والی صفت ہے اور قسم کی صورت میں مدح والی حالت ہے۔ یعنی وہ تقویٰ والا نفس جو تقویٰ میں کوتاہی پر اپنے کو ملامت کرتا ہے۔
ایک قول یہ ہے کہ یہ آدم (علیہ السلام) کا نفس ہے جو اپنے فعل پر ملامت کرتا رہا جس کی وجہ سے جنت سے نکلے تھے۔ قسم کا جواب محذوف ہے : ای لتبعثن کہ تم ضرور اٹھائے جائو گے اس کی دلیل ایحسب الانسان ہے۔
Ayah 75:33 : اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ (کیا انسان خیال کرتا ہے) کافر انسان جو کہ بعث بعد الموت کا منکر ہے۔ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَہٗ (کہ ہم اس کی ہڈیاں ہرگز جمع نہ کریں گے) ان کے منتشر ہوجانے اور مٹی کے ذرات میں ریزہ ریزہ ہو کر ملنے کے بعد۔
Ayah 75:44 : بَلٰی یہ نفی کے بعد ثبوت وجوب کو ظاہر کرتا ہے۔ (یعنی کیوں نہیں ہم ان کو جمع کریں گے) قَادِرِیْنَ (کیوں نہیں ہم اس پر قادر ہیں) یہ نجمعؔ کی ضمیر سے حال ہے۔ ای نجمعھا قادرین علی جمعھا واعاد تھا کما کانت۔ ہم ان کو جمع کریں گے اس حال میں ان کے جمع کرنے نمبر 2 : قادرین لوٹانے پر پہلے کی طرح قادر ہیں۔ ان نسوی بنانہ ہم اس کے پوروں کو درست کرنے پر قدرت رکھتے ہیں۔ عَلٰٓی اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَہٗ (کہ اس کی انگلیوں کے پوروں تک درست کردیں) بنانہؔ سے انگلیاں مراد ہیں۔ بلا کم وکاست جیسا کہ دنیا میں تھیں۔ باوجود یکہ یہ چھوٹی سی ہیں۔ تو بڑی ہڈیوں کا خود سوچ لو۔
Ayah 75:55 : بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ (بلکہ بعض آدمی یوں چاہتا ہے) اس کا عطف ایحسبؔ پر ہے۔ پس اس قسم کے کلام کا استفہام ہونا درست ہے۔ لِیَفْجُرَ اَمَامَہٗ (کہ وہ اپنی آئندہ زندگی میں فسق و فجور کرتا رہے) کہ وہ زمانہ مستقبل میں جرائم کرتا جائے۔
Ayah 75:66 : یَسْئَلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَۃِ (پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب آئے گا) یہ ضدی اور قیامت کو بعید ازقیاس خیال کرنے والے کا استفسار ہے۔
نحو : یہاں ایانؔ متی کے معنی میں ہے۔
Ayah 75:77 : فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ (پس جس وقت آنکھیں خیرہ ہوجائیں گی) وہ گھبراہٹ سے حیران ہوگا۔
قراءت : مدنی نے شَخَصَ کے معنی میں لیا اور بَرَقَ پڑھا ہے۔
Ayah 75:88 : وَخَسَفَ الْقَمَرُ (اور چاند بےنور ہوجائیگا) یعنی اس کی روشنی جاتی رہے گی۔ نمبر 2۔ غائب ہوجائے گا۔ جیسا کہ اس آیت میں خسف کا معنی ہے فخسفنا بہِ الارض ] القصص : 81[ (اس کو زمین میں غائب کردیا)
قراءت : ـ ابو حیوہ نے ضمہ خاء کے ساتھ خُسفَ پڑھا ہے۔
Ayah 75:99 : وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ( اور سورج چاند ایک حالت کے ہوجائیں گے اور مغرب سے طلوع میں ان کو جمع کردیا جائے گا) نمبر 2۔ روشنی ختم کرنے میں دونوں جمع کردیئے جائیں گے۔ یعنی دونوں کی روشنی مٹا دیں گے۔ نمبر 3۔ ان کو جمع کر کے سمندر میں پھینک دیا جائے گا۔ وہ اللہ تعالیٰ کی بڑی بھڑکتی آگ بن جائے گا۔
Ayah 75:1010 : یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ (اور اس روز انسان کہے گا) انسان سے کافر مراد ہے۔ یَوْمَپذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّ (کہ اب کدھر بھاگوں) المفریہؔ مصدر ہے یعنی آگ سے بھاگنا۔ نمبر 2۔ مومن بھی خوف کی وجہ سے کہے گا۔
قراءت : حسن (رح) نے فاؔ پر کسرہ پڑھا اس صورت میں یہ مصدر اور ظرف مکان دونوں بن سکتا ہے۔
Ayah 75:111 1 : کَلَّا ( ہرگز نہیں) بھاگنے کی جگہ تلاش کرنے کے متعلق ردع ہے۔ لَا وَزَرَ (پناہ گاہ نہیں)
Ayah 75:122 1 : اِلٰی رَبِّکَ یَوْمَئِذِ نِ الْمُسْتَقَرُّ (اس دن صرف آپ ہی کے رب کے پاس ٹھکانہ ہے) بندوں کے قرار کی جگہ نمبر 2۔ ان کے قرار کی جگہ جنت یا نار۔ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی مشیئت کے سپرد ہیں۔ جس کو چاہے جنت میں داخل فرما دے۔ اور جس کو چاہے دوزخ میں داخل کر دے۔
Ayah 75:1313 : یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍم (اس دن انسان کو بتلایا جائے گا۔ ) خبر دی جائے گی۔ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ (سب اگلا پچھلا) یعنی جو عمل اس نے کرلیا وہ بما قدمؔ اور جو اس نے چھوڑ دیا ہے وہ اخرؔ ہے۔
Ayah 75:1414 : بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ (بلکہ انسان اپنی حالت پر خود مطلع ہوگا) بصیرۃؔ کی تاء مبالغہ کیلئے ہے جیسا کہ علامہ میں ہے اور اس کا معنی شاہد ہے۔ نمبر 2۔ اس کو مؤنث لائے کیونکہ مراد انسان کے اعضاء ہیں۔ اس لئے کہ انسان کے اعضاء اس کے خلاف گواہی دیں گے۔ نمبر 3۔ وہ خود اپنے نفس پر حجت ہے۔ البصیرہؔ حجت و دلیل کے معنی میں ہے۔ جیسا اس قول میں فرمایا قد جاء کم بصائر من ربکم ] الانعام : 104[ اور محاورہ میں کہتے ہیں۔ انت حجۃ علی نفسک وبصیرۃ یہ مبتدأ ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔ اور اس کی خبر علی نفسہٖ ہے۔ جو کہ مقدم ہے اور یہ مل کر الانسان کی خبر ہے۔ جیسا کہتے ہیں۔ زید علی رأسہ عمامۃ۔ اس صورت میں البصیرۃؔ سے مراد وہ فرشتہ بھی ہوسکتا ہے جو اس پر مقرر ہوگا۔
Ayah 75:1515 : وَّ لَوْاَلْقٰی مَعَاذِیْرَہٗ (گو اپنے حیلے پیش لاوے) اگرچہ وہ اپنے پردے چھوڑ دے۔ المعذارؔ : پردہ۔
ایک قول :
اگرچہ وہ تمام معذرتیں پیش کردے وہ اس کی طرف سے قبول نہ ہونگی اس پر وہ مقرر کردیا جائے گا۔ جو اس کے اعذار کی تکذیب کرے گا۔
نحو : المعاذیرؔ یہ جمع معذرت نہیں ہے کیونکہ اس کی جمع تو معاذر آتی ہے بلکہ یہ اسم جمع ہے اور اس کی مثال المناکیر ہے جو کہ المنکر سے اسم جمع ہے نہ کہ جمع۔
Ayah 75:16عجلت کی ممانعت :
16 : لَاتُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ (اے پیغمبر آپ قرآن پر اپنی زبان نہ ہلایا کیجئے تاکہ آپ اس کو جلدی جلدی لیں) ہٗ کی پہلی ضمیر بھی قرآن مجید کی طرف اور دوسری بھی۔ آپ ﷺ جبرئیل (علیہ السلام) کی تلاوت سے فراغت سے پہلے جلدی جلدی قرآن کو لیتے تاکہ کہیں کوئی حصہ رہ نہ جائے۔ تو آپ کو فرمایا گیا۔ آپ جبرئیل (علیہ السلام) کے پڑھنے تک اپنی زبان کو وحی کیلئے حرکت نہ دیاکریں۔ تاکہ آپ جلدی سے اس کو لے لیں۔ کہ کہیں کوئی حصہ رہ نہ جائے۔ پھر عجلت کی ممانعت کی وجہ بتلائی۔
Ayah 75:1717 : اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاٰنَہٗ (ہمارے ذمہ ہے اس کا جمع کردینا اور اس کا پڑھا دینا) جمع کرنا آپ کے سینہ اطہر میں اور قراٰنہٗؔ اس کی قراءت کا زبان پر چڑھا دینا۔ قرآنؔ کا معنی قراءت ہے اور اس کی مثال دوسری آیت میں ہے ولا تعجل بالقراٰن من قبل ان یقضٰی الیک وحیہ ] طہ : 114[
Ayah 75:1818 : فَاِذَا قَرَاْنٰہُ (تو جب ہم اس کو پڑھنے لگا کریں) یعنی جبرئیل آپ پر پڑھیں قراءت جبرئیل کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قراءت قرار دیا۔ یہ ان کے نہایت قرب اور قراءت کے عند اللہ مقبول ہونے کی علامت ہے۔ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَہٗ (تو آپ اس کے تابع ہوجایا کریں) یعنی جب وہ آپ کے سامنے پڑھیں۔
Ayah 75:1919 : ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہٗ (پھر اس کا بیان کرا دینا ہمارے ذمہ ہے) جب اس کے معانی میں سے کوئی چیز آپ پر مشکل ہو۔
Ayah 75:2020 : کَلَّا یہ انکار بعث پر ردع ہے۔ نمبر 2۔ رسول اللہ ﷺ کو عجلت سے روکا گیا اور اس کا انکار کیا گیا ہے۔ اور اس کی تاکید اس قول سے فرمائی۔ بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَۃَ (اے منکرو۔ ہرگز ایسا نہیں بلکہ تم دنیا سے محبت رکھتے ہو) گویا اس طرح کہا گیا ہے بل انتم یابنی اٰدم لانکم خلقتم من عجل و طبعتم علیہ تعجلون فی کل شئی ومن ثم تحبون العاجلۃ بلکہ تم اے اولاد آدم جلد بازی سے پیدا ہوئے اور یہ تمہاری طبیعت ثانیہ ہے کہ ہر چیز میں جلدی مچاتے ہو۔ اسی کو سامنے رکھ کر تم عاجلہ کو پسند کرتے ہو۔ العاجلہ سے دنیا اور اس کی شہوات مراد ہیں۔
Ayah 75:2121 : وَتَذَرُوْنَ الْاٰخِرَۃَ (اور آخرت کو چھوڑ بیٹھے ہو) آخرت سے دار الآخرہ اور اس کی نعمتیں مراد ہیں۔ مگر تم آخرت کیلئے عمل نہیں کرتے ہو۔
قراءت : مدنی اور کوفی نے دونوں کو تاءؔ کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 75:2222 : وُجُوْئہ (بہت سے چہرے) یہ ایمان والوں کے چہرے مراد ہیں۔ یَّوْمَپذٍ نَّاضِرَۃٌ (تو اس دن بارونق ہونگے) خوبصورت تروتازہ۔
Ayah 75:2323 : اِلٰی رَبِّھَا نَاظِرَۃٌ (اپنے پروردگار کی طرف دیکھتے ہونگے) یہ دیدار بلا کیف ہوگا اور بلا جہت اور بلا ثبوت مسافت ہوگا۔
ازالہ غلطی :
نظرؔ کو امر رب کے انتظار پر بھی محمول کیا گیا ہے۔ نمبر 2۔ ثواب کے منتظر پر بھی مگر یہ درست نہیں ہے۔ کیونکہ محاورہ میں کہتے ہیں نظرت فیہ ای تکفرت فیہ ونظرتہ بمعنی انتظرتہٗ ہے۔ الی ؔ سے یہ اس وقت متعدی ہوتا ہے جبکہ رؤیت کے معنی میں ہو اور دوسری بات یہ ہے کہ دارالقرار میں انتظار کا کوئی مطلب نہیں۔
Ayah 75:2424 : وَوُجُوْہٌ یَّوْمَپذٍم بَاسِرَۃٌ (اور بہت سے چہرے اس روز بد رونق ہونگے) انتہائی ترش رو، سیاہ، یہ کفار کے چہرے ہونگے۔
Ayah 75:2525 : تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِھَا (خیال کر رہے ہونگے کہ ان کے ساتھ کیا کیا جائے گا) ظنؔ توقع کے معنی میں ہے۔ ان یفعل سے مراد ان سے شدت والا معاملہ کیا جائیگا۔ فَاقِرَۃٌ (کمرتوڑ دینے والا) ایسی مصیبت جو پشت کے مہرے کو توڑ دے۔
Ayah 75:2626 : کَلَّآ ( ہرگز ایسا نہیں) آخرت پر دنیا کے ترجیح دینے پر ردع ہے گویا اس طرح کہا گیا اس سے باز آئو۔ اور تمہارے سامنے موت ہے اس سے خبردار ہوجائو۔ ایسی موت کہ جس کے آتے ہی یہ جلد ملنے والی ختم ہوجائے گی۔ اور تم اس وقت مقررہ وقت پر آنے والی کی طرف منتقل ہوگے۔ جس میں تم نے ہمیشہ رہنا ہوگا۔ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَ (جب جان ہنسلی تک پہنچ جاتی ہے) جب روح نکلنے لگتی ہے اور روحؔ مراد لینا درست ہے کہ اگرچہ اس کا تذکرہ پہلے موجود نہیں کیونکہ التراقی کی دلالت اس پر ہے۔ التراقیؔ گلے کے زیریں حصہ میں ایک گڑھا جس کے دائیں بائیں دو ٹیڑھی ہڈیاں ہوتی ہیں۔ انہی کو التراقی کہتے ہیں۔ اس کا واحد تَرْقُوَۃٌ ہے۔
Ayah 75:2727 : وَقِیْلَ مَنْ رَاقٍ (اور کہا جاتا ہے کہ کوئی جھاڑنے والا بھی ہے) ۔ حفص نے من پر معمولی وقف کیا ہے۔ مطلب یہ ہے تم قریب المرگ کے پاس حاضر ہو تم میں سے کون اس کا دم کرے گا۔ جس میں وہ مبتلا ہے۔ راقؔ یہ الرقیہ سے لیا گیا ہے۔ یہ باب ضرب سے ہوگا۔ نمبر 2۔ یہ کلام ملائکہ سے ہے تم میں سے کون اس کی روح کو لے کر اوپر جائے گا۔ کیا ملائکہ رحمت لے جائیں گے یا ملائکہ۔ یہ الرقی سے ہے یہ باب عَلِمَ سے ہے۔
Ayah 75:2828 : وَّ ظَنَّ اَنَّہُ الْفِرَاقُ ( اور وہ یقین کرلیتا ہے کہ مفارقت کا وقت ہے) ظنؔ یہ ایقن کے معنی میں ہے۔ الفراقؔ یہ جو اس پر اترا ہے۔ وہ محبوب دنیا کی جدائی ہے۔
Ayah 75:29دو غم :
29 : وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ (ایک پنڈلی دوسری پنڈلی سے لپٹ لپٹ جائے گی) اس کی دونوں پنڈلیاں موت کے وقت
لپٹ جاتی ہیں۔
قول سعید بن مسیب (رح) :
اس سے مراد اس کی دونوں پنڈلیاں جب کفن میں لپیٹی جاتی ہیں۔ ایک قول یہ ہے پنڈلی یہ شدت کی تمثیل ہے گویا دنیا کی جدائی کی تکلیف و شدت اور آخرت کے سامنے آنے کی تکالیف مل جاتی ہیں۔
قول ابن عباس ؓ :
اس سے مراد دو غم ہیں۔ نمبر 1۔ اہل و اولاد کا غم۔ نمبر 2۔ بارگاہ صمد میں پیشی کا غم۔
Ayah 75:3030 : اِلٰی رَبِّکَ یَوْمَئِذِنِ الْمَسَاقُ (اس روز تیرے رب کی طرف جانا ہوتا ہے) المساقؔ یہ ساقہ کا مصدر ہے یعنی بندے اس جگہ چلے جائیں گے جہاں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا۔ خواہ جنت میں یا نار میں۔
Ayah 75:3131 : فَـلَا صَدَّقَ (تو اس نے نہ تو تصدیق کی تھی) رسول اللہ ﷺ اور قرآن مجید کی وَلَا صَلّٰی (اور نہ نماز پڑھی تھی) انسان نے جیسا کہ ایحسب الانسان ان لن نجمع عظامہ میں فرمایا گیا ہے۔
Ayah 75:3232 : وَلٰکِنْ کَذَّبَ (لیکن اس نے تکذیب کی تھی) قرآن مجید کی۔ وَتَوَلّٰی (اور منہ موڑا تھا) ایمان سے یا اس نے نہ مال صدقہ کیا یعنی زکوٰۃ نہ دی۔
Ayah 75:3333 : ثُمَّ ذَھَبَ اِلٰٓی اَھْلِہٖ یَتَمَطّٰی (پھر ناز کرتا ہوا اپنے گھر چل دیتا تھا) ۔ اکڑتا ہوا چلنا۔ یتمطٰی اصل میں یتمطط ہے۔ اور اس کا معنی اکڑ کر پشت دراز کرنا۔ کیوں کہ ناز سے چلنے والا اپنے قدم کو کھینچ کر رکھتا ہے۔ پس طاء کو یاؔ سے بدلا کیونکہ تین متماثل حرف جمع ہوگئے ہیں۔
Ayah 75:3434 : اَوْلٰی لَکَ فَاَوْلٰی (تیری کم بختی پر کم بختی آنے والی ہے) اس کا معنی ویل لک ہے۔ یہ بددعا ہے۔ کہ تمہاری ناپسند چیز تو اب تمہارے سامنے ہے۔
Ayah 75:3535 : ثُمَّ اَوْلٰی لَکَ فَاَوْلٰی (پھرتیری کم بختی گویا آنے والی ہے) یہ تاکیدکیلئے دوبارہ لائے گویا اس طرح فرمایا ویل لک فویل ثم ویل لک فویل۔ تیرے لئے ہلاکت درہلاکت درہلاکت درہلاکت ہو۔ ایک قول یہ ہے تیرے لئے موت کے دن ہلاکت و تباہی اور قبر میں تیرے لئے ہلاکت اور تیرے لئے بعث بعدا لموت تک ہلاکت اور تیرے لئے آگ میں ہلاکت۔
Ayah 75:3636 : اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَکَ سُدًی (کیا انسان یہ خیال کرتا ہے۔ کہ یونہی مہمل چھوڑ دیا جائیگا۔ ) کیا کافر کا خیال ہے کہ اس کو یوں بیکار چھوڑا جائے گا۔ اس کو کسی بات کا حکم اور کسی بات کی ممانعت نہ کی جائے گی اور نہ اس کو اٹھا یا اور نہ اس سے بدلہ لیا جائے گا ؟
Ayah 75:37تخلیق انسانی :
37 : اَلَمْ یَکُ نُطْفَۃً مِّنْ مَّنِیٍّ یُّمْنٰی (کیا یہ شخص ایک قطرہ منی نہ تھا۔ جو ٹپکایا گیا تھا)
قراءت : ابن عامر نے یاء سے پڑھا ہے اور حفص نے بھی یعنی۔ منی رحم میں ٹپکائی جاتی ہے اور تاء ہو تو ضمیر نطفہ کی طرف لوٹے گی کہ وہ رحم میں ٹپکایا جاتا ہے۔
Ayah 75:3838 : ثُمَّ کَانَ عَلَقَۃً (پھر وہ خون کا لوتھڑا ہوگیا) یعنی منی چالیس یوم کے بعد جمے ہوئے خون کا لوتھڑا بن گیا۔ فَخَلَقَ فَسَوّٰی (پھر اللہ تعالیٰ نے بنایا پھر اعضاء درست کیے) اللہ تعالیٰ نے اس سے درست انسان بنادیا۔
Ayah 75:3939 : فَجَعَلَ مِنْہُ الزَّوْجَیْنِ الذَّکَرَ وَ الْاُنْثٰی (پھر اس کی دو قسمیں کردیں۔ مرد اور عورت) یعنی منی سے دو قسمیں بنادیں۔
Ayah 75:4040 : اَلَیْسَ ذٰلِکَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓی اَنْ یُحْیِ یَ الْمَوْتٰی (کیا وہ اس بات پر قدرت نہیں رکھتا کہ وہ مردوں کو زندہ کرے) کیا وہ ان اشیاء کا کرنے والا اعادہ کی قدرت نہیں رکھتا۔ آپ ﷺ جب یہ آیت پڑھتے تو سبحانک، بلٰیفرماتے ] رواہ ابو دائود : 887[۔ اے اللہ تو پاک ہے۔ کیوں نہیں تو بلا شبہ قادر ہے۔