Ayah 74:1روایت جابر۔ :
1 : جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ میں جبل حراء پر تھا کہ مجھے آواز آئی۔ یا محمد ! اے محمد ﷺ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ پس میں نے اپنے دائیں بائیں دیکھا تو کوئی چیز نظر نہ آئی۔ پھر میں نے اوپر دیکھا تو اچانک وہ آواز دینے والا فرشتہ آسمان و زمین کے مابین ایک تخت پر بیٹھا تھا۔ پس مجھ پر رعب طاری ہوگیا اور میں خدیجہ ؓ کی طرف واپس لوٹا۔ اور میں نے کہا مجھے کپڑا اوڑھا دو مجھے کپڑا اوڑھا دو ! پس خدیجہ ؓ نے آپ کو کپڑا اوڑھا دیا۔ پھر جبرئیل (علیہ السلام) آئے اور یہ آیات پڑھیں : یٰٓـاَیـُّھَا الْمُدَّثِّرُ ] رواہ البخاری : 4923، مسلم 161[ اے کپڑوں میں لپٹے ہوئے المدثردثار سے ہے ہر اس کپڑے کو کہا جاتا ہے جو شعار کے اوپر اوڑھا پہنا جائے۔ الشعار : وہ کپڑا جو جسم سے ملا ہوتا ہے ( مثلا ً بنیان وغیرہ) یہ اصل میں المتدثر ہے ادغام کے بعد المدّثر بن گیا (ایک ارشاد میں یہی معنی ہے الناس دثاری والانصار شعاری)
Ayah 74:22 : قُمْ (اپنی خوابگاہ سے اٹھو) نمبر 2۔ عزم وجزم کے ساتھ اٹھو۔ فَاَنْذِرْ (اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائو اگر وہ ایمان قبول نہ کریں) نمبر 2۔ کسی کی تخصیص کے بغیر سبکو ڈرائو۔
ایک قول یہ ہے کہ آپ نے قریش کا ناپسندیدہ رویہ سنا تو غمگین ہو کر سوچ میں کپڑا اوڑھے لیٹ گئے جیسا مغموم کرتا ہے تو آپ کو کہا گیا اے اپنے آپ سے ایذائے کفار کو کپڑے سے ہٹانے والے۔ اٹھو اور اپنے عمل انذار میں مشغول ہوجائو خواہ فجار آپ کو ایذائیں دیتے رہیں۔
Ayah 74:33 : وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ (اور اپنے رب کی بڑائی بیان کرو) یعنی کبریائی کے ساتھ اپنے رب کو خاص قرار دو تکبر وکبریائی تعظیم کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے اپنی نگاہ میں کسی اور کی بڑائی مت لائو۔ اور جب غیر اللہ کی طرف سے کوئی بات پیش آئے تو کہو اللہ اکبر۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ روایت میں ہے کہ جب یہ آیت اتری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ اکبر۔ پھر خدیجہ ؓ نے اللہ اکبر کہا اور خوش ہوئیں اور ان کو یقین ہوگیا کہ یہ وحی ہے۔ (ذکرہ الزمخشری فی الکشاف) اور کبھی اس کو نماز کی تکبیر پر بھی محمول کیا گیا ہے۔ اور معنی شرط کی وجہ سے آتی ہے گویا اس طرح کہا گیا۔ وماکان فلا تدع تکبیرہٗ ۔ کچھ بھی ہو کسی حال میں ہو۔ اس کی بڑائی کا اظہار مت چھوڑو۔
Ayah 74:4کپڑوں کو پاک رکھیں :
4 : وَثِیَابَکَ فَطَھِّرْ (اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھیے) یعنی پانی کے ساتھ اپنے کپڑوں کو نجاست سے پاک کریں کیونکہ نماز اس کے بغیر درست نہیں اور نماز کے علاوہ میں پاک رکھنا اولیٰ ہے۔ نمبر 2۔ اپنے کپڑوں کو چھوٹا کرو۔ عرب والوں کی اس عادت کی مخالفت کرتے ہوئے۔ کہ وہ کپڑوں کو لمبا رکھتے اور چادروں کے دامن کو زمین پر کھینچتے ہیں اس لئے کہ ایسی حالت میں نجاست سے حفاظت نہیں رہ سکتی۔
نمبر 3۔ اپنے نفس کو ان افعال سے پاک صاف رکھیے جو افعال نفوس کو میلا کرنے والے ہیں۔ عرب کہتے ہیں : فلان طاہر الثیاب۔ جب کہ اس کی تعریف کرتے ہوئے معایب سے اس کو پاک قرار دیں۔ اور کہتے ہیں : فلان دنس الثیاب یہ دھوکہ باز ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے جس نے اپنے باطن کو پاک کرلیا وہ اپنے ظاہر کو بھی پاک رکھتا ہے۔
Ayah 74:55 : وَالرُّجْزَ (اور بتوں سے) قراءت : یعقوب، سہل، حفص نے ضمہ سے پڑھا ہے جبکہ دیگر قراء نے کسرہ سے پڑھا ہے۔ جس کا معنی عذاب ہے۔ اور یہاں مراد وہ افعال و اعمال ہیں جو عذاب تک پہنچانے والے ہیں۔ فَاھْجُرْ (الگ رہو) اس کے چھوڑنے پر پختگی اختیار کرو۔ کیونکہ آپ ﷺ تو اس سے پاک و صاف تھے۔
Ayah 74:6اعلیٰ اخلاق کی تلقین :
6 : وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَکْثِرُ (اور کسی کو اس غرض سے مت دو کہ زیادہ معاوضہ چاہو) رفع کے ساتھ تستکثر حال ہونے کی وجہ سے منصوب المحل ہے۔ ای لا تعط مستکثرا رائیا لما تعطیہ کثیرا تم کثرت طلب کرنے کیلئے مت دو یہ خیال کرتے ہوئے کہ جو کچھ تم دے رہے ہو وہ کثیر ہے۔
نمبر 2 : مت دو اس حال میں کہ تم اس سے زیادہ چاہنے والے ہو جو تم نے دیا۔ اس لئے کہ آپ کو اعلیٰ ترین اخلاق کا حکم دیا گیا ہے۔ اور عمدہ ترین آداب بتلائے گئے ہیں۔ تمننؔ یہ مَنّ علیہ سے بنا ہے جبکہ وہ انعام کرے۔ حسن نے لا تستکثِرسکون کے ساتھ پڑھا اور اس کو جواب نہی قرار دیا۔
Ayah 74:77 : وَلِرَبِّکَ فَاصْبِرْ (اور پھر اپنے رب کے واسطے صبر کیجئے) یعنی اس کی ذات کیلئے۔ صبر کا استعمال اللہ تعالیٰ کے اوامر اور نواہی ہیں۔ اور ہر ایک مصبور علیہ ہے یعنی اس پر جمے رہنا ضروری ہے اور مصبور عنہ ہے یعنی اسے اپنا بچانا ضروری ہے۔
Ayah 74:8نفخہ صور :
8 : فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِ (پھر جس وقت صور پھونکا جائے گا) نقرنا قو رسے نفخ صور مراد ہے یہ نفخہ اولیٰ ہے۔ ایک قول نفخہ ثانیہ کا ہے۔
Ayah 74:99 : فَذٰلِکَ اس سے پھونکے جانے کے دن کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ یہ مبتدأ اور یَوْمَپذٍ اس کا بدل ہے۔ یَّوْمٌ عَسِیْرٌیہ خبر ہے۔ یَّوْمٌ عَسِیْرٌ (پس وہ وقت یعنی وہ دن کافروں پر ایک سخت دن ہوگا) گویا عبارت یہ ہے۔ فیوم النقر یوم عسیر۔ اور فاذا کی فاء سببیہ ہے۔ اور فذالک کی فاء جزاء کی ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا : اصبر علٰی اذاھم فبین ایدیھم یوم عسیر یلقون فی عاقبۃ اذا ھم و تلقی عاقبۃ صبرک علیہ تم ان کی ایذاء پر صبر کرو۔ پس ان کے سامنے سخت تنگی والا دن ہے جس میں وہ اپنے ایذاء کا انجام پالیں گے اور تم اس پر اپنے صبر کا نتیجہ پالو گے۔ اور فاذاؔ میں عامل وہ ہے جس پر جزاء دلالت کر رہی ہے۔ ای فاذا نقرفی الناقور عسر الا مر۔ پس جب صور میں پھونک ماردی جائے گی تو معاملہ مشکل ہوجائے گا۔
Ayah 74:1010 : عَلَی الْکٰفِرِیْنَ (جس میں کافروں پر ذرا آسانی نہ ہوگی) اس کی تاکید اس قول سے فرمائی غَیْرُ یَسِیْرٍ (بالکل آسانی نہ ہوگی) تاکہ یہ اعلان کردیا جائے کہ وہ مؤمنوں پر آسان ہوگا۔ نمبر 2۔ عسیر کا مطلب یہ ہے کہ اس میں امید نہ ہوگی وہ آسانی کی طرف لوٹ جائے جیسا کہ مشکل کے آسان ہونے کی دنیا میں امید کی جاتی ہے۔
Ayah 74:11ولید بن مغیرہ کا حال :
1 1 : ذَرْنِیْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًا (مجھ کو اور اس شخص کو رہنے دو ) یعنی اس کو میرے سپرد کرو مراد اس سے ولید بن المغیرہ ہے۔ اس کا لقب اپنی قوم میں وحید تھا۔
نحو : ومن خلقت یہ معطوف یا مفعول معہ ہے۔ وحیدًا یہ ذرنی کی یاء سے حال ہے۔ ای ذرنی وحدی معہ فانی اکفیک امرہ مجھے اکیلا اس کے ساتھ چھوڑ دو پس میں تمہاری طرف سے اس کے لئے کافی ہوں۔ یا خلقت کی تاء سے حال ہے یا
خلقتہٗ وحدی لم یشرکنی فی خلقہ احدٌ میں اکیلے نے اس کو پیدا کیا اس کے پیدا کرنے میں میرے ساتھ کوئی شریک نہیں۔ نمبر 3۔ ھاء ؔ محذوفہ سے حال ہے۔ نمبر 4۔ مَنْ سے حال ہے ای خلقتہٗ منفردًا بلا اھل ولا مال ثم انعمت علیہ۔ میں نے اس کو اکیلا بلا اہل و مال پیدا کیا اور پھر اس پر انعام کیا۔
Ayah 74:1212 : وَّجَعَلْتُ لَہٗ مَالًا مَّمْدُوْدًا (اور اس کو کثرت سے مال دیا) کھلا اور بہت زیادہ۔ نمبر 2۔ ایسا مال جو نشونما سے آئے روز ترقی پذیر ہے۔ اس کے ہاں کھیتی، دودھ والے جانور، تجارت والے جانور سب قسمیں تھیں۔
قول مجاہد (رح) :
اس کے پاس ایک لاکھ دینار تھے۔ اور اس کے پاس طائف میں ایسی شاندار زمین تھی جس کی کھیتی منقطع نہ ہوتی تھی۔
Ayah 74:1313 : وَّ بَنِیْنَ شُھُوْدًا (اور پاس رہنے والے بیٹے) جو مکہ میں اس کے ساتھ موجود رہتے ان کو مالداری کی وجہ سے سفر کی حاجت نہ تھی۔ ان کی تعداد دس تھی۔ ان میں سے خالد، ہشام، عمارہ کو دولت ایمان نصیب ہوئی۔
Ayah 74:1414 : وَّ مَھَّدْتُّ لَہٗ تَمْھِیْدًا (اور سب طرح کا سامان اس کے لئے مہیا کردیا) اس کو ریاست و جاہ دونوں دے دیں پس اس طرح میں نے اہل دنیا کے ہاں جن میں سے ایک کا ہونا باعث کمال خیال کیا جاتا ہے اس کو دونوں دے کر نعمت مکمل کردی۔
Ayah 74:1515 : ثُمَّ یَطْمَعُ اَنْ اَزِیْدَ (پھر بھی اس بات کی طمع رکھتا ہے۔ کہ میں اور زیادہ دوں) اس میں اس کی حرص و طمع پر استنکار واستبعاد کا اظہار کیا گیا یعنی وہ اس بات کا امیدوار ہے کہ بغیر شکریے کے اس کے مال و اولاد میں اور اضافہ کردوں۔
قول حسن (رح) :
ان ازیدؔ کا مطلب کہ میں اس کو جنت میں داخل کر دوں پھر اس کو مال و اولاد بھی دوں۔ جیسا کہ دوسری آیات میں فرمایا : لاوتین مالاً و ولدًا ] مریم : 77[
Ayah 74:1616 : کَلَّا ( ہرگز نہیں) یہ رد عیہ ہے اس میں جھڑک کر اس کی امیدیں منقطع کیں۔ ای لا یجمع لہ بعد الیوم بین الکفر والمزید من النعم آج کے دن کے بعد کفر اور مزید نعمتیں باہمی جمع نہ ہونگی۔ اس آیت کے اترنے کے بعد اس کے مال و جاہ میں زوال و نقصان شروع ہوا یہاں تک کہ وہ ہلاک ہوگیا۔ اِنَّہٗ کَانَ لِاٰیٰتِنَا (وہ ہماری آیات کا مخالف ہے) آیات سے قرآن مجید
مراد ہے۔ عَنِیْدًا (عناد اور ضد سے انکار کرنے والا) ۔ یہ بطور استیناف کے ردع کی تعلیل بیان کی گئی ہے گویا کوئی کہنے ولا کہہ رہا ہے۔ وہ کیوں اضافہ نہیں کرتا ؟ تو جواب دیا گیا کیونکہ وہ منعم کی آیات کا انکاری ہے۔ اور اس سے اس نے کفران نعمت کیا ہے اور کافر اضافے کا مستحق نہیں۔
Ayah 74:1717 : سَاُرْھِقُہٗ صَعُوْدًا (ہم عنقریب اس کو دوزخ کے پہاڑ پر چڑھائیں گے) ہم عنقریب اس کو ڈھانک لیں گے مشکل چڑھائی والی گھاٹی سے۔ حدیث میں ہے کہ الصعودؔ یہ آگ کا پہاڑ ہے۔ جس پر وہ ستر (70) خریف چڑھے گا اس سے اتناہی اترے گا اسی طرح وہ کرتا رہے گا۔ ] رواہ الترمذی : 3326[
Ayah 74:18قرآن کے متعلق اس کی بدزبانی :
18 : اِنَّہٗ فَکَّرَ (اس شخص نے سوچا) یہ وعید کا سبب بتایا گیا۔ گویا اللہ تعالیٰ نے غناء و عزت کے بعد جلدی سے فقرو ذلت میں اس کو اس کے عناد کی وجہ سے کیا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کو آخرت میں سخت عذاب دیں گے کیونکہ وہ عناد میں انتہاء کو پہنچا ہوا تھا۔ اور اس نے قرآن مجید کا نام سحر رکھا یعنی اس نے سوچا پھر قرآن مجید میں کیا رائے زنی کی ہے۔ وَقَدَّرَ (اور اس نے ایک بات تجویز کی) اس نے اپنے دل میں تیاری کی اور اندازہ کیا۔
Ayah 74:1919 : فَقُتِلَ کَیْفَ قَدَّرَ (پس اس پر اللہ تعالیٰ کی مار ہو کہ اس نے کیسی بات تجویز کی) قُتِلَؔ۔ یہ لعن کے معنی میں ہے اور کیف قدر میں اس کے اندازے اور تجویز پر اظہار تعجب کیا گیا۔
Ayah 74:2020 : ثُمَّ قُتِلَ کَیْفَ قَدَّرَ (پھر اس پر اللہ تعالیٰ کی مار ہو اس نے کیسی تجویز کی) اس کو تاکید کیلئے دوبارہ لائے اور ثم لائے تاکہ یہ معلوم ہو کہ دوسری دعا اول سے زیادہ بلیغ ہے۔
Ayah 74:2121 : ثُمَّ نَظَرَ (پھر دیکھا) لوگوں کے چہروں کو یا اس میں جو اس نے اندازہ کیا۔
Ayah 74:2222 : ثُمَّ عَبَسَ (پھر منہ بنایا) ترش روئی اختیار کی۔ وَبَسَرَ (اور زیادہ منہ بنایا) تر شروئی اور تیوری میں زیادتی اختیار کی۔
Ayah 74:2323 : ثُمَّ اَدْبَرَ وَاسْتَکْبَرَ (پھر منہ پھیرا اور تکبر ظاہر کیا) ادؔ برحق سے منہ موڑا اور بڑائی ظاہر کی۔ نمبر 2۔ اپنے مقام سے پیچھے ہٹا اور بات میں متکبر انہ طرز اختیار کی۔ ثم نظر کا عطف فکر اور قدر پر ہے۔ اور جملہ دعائیہ تو معترضہ ہے اور معطوفات یہاں کثرت سے لائے تاکہ واضح کردیا جائے کہ ان افعال میں فاصلہ تھا۔
Ayah 74:2424 : فَقَالَ اِنْ ھٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ یُّوْثَرُ (پھر بولا یہ تو منقول جادو ہے) اِنْ یہاں ماؔ کے معنی میں ہے ای ماھذاؔ۔ یؤثر ؔ وہ جو جادوگروں سے منقول چلا آرہا ہے۔
ولید کا پہلا قول :
روایت میں ہے کہ ولید نے بنی مخزوم کو کہا۔ واللہ لقد سمعت من محمد اٰنفاکلاما ماھومن کلام الانس ولا من کلام الجن ان لہ لحلاوۃ وان علیہ لطلاوہ، وان اعلاہ لمثمر وان سفلہ لمغدق وانہ یعلوو ما یعلی۔ اللہ کی قسم میں نے محمد (ﷺ) سے ابھی ایک ایسا کلام سنا ہے۔ جو نہ انسان کا کلام ہے اور نہ جن کا اس میں عجیب چاشنی اور رونق ہے وہ ایک ایسے درخت کی طرح ہے جس کی چوٹی ثمر آفرین اور نچلا حصہ خوشہ دار ہے اور وہ غالب آئے گا مغلوب نہ ہوگا قریش کہنے لگے اللہ کی قسم ولید صابی ہوگیا۔
ابوجہل کی چال :
اس پر ابو جہل کہنے لگا وہ ولید کا بھتیجالگتا ہے میں تمہاری مصیبت حل کردونگا یہ کہہ کر ابو جہل ولید کے پاس گیا۔ اور غمگین اس کے پاس جا بیٹھا اور اس سے ایسی باتیں کیں جنہوں نے اسے گرم کردیا پس ولید لوٹ کر ان کے پاس آیا اور کہنے لگا۔ قریش کا گمان یہ ہے کہ محمد مجنون ہے کیا تم نے اس کو کبھی گلا گھونٹے ہوئے دیکھا اور قریش کہتے ہیں کہ وہ کا ھن ہے کیا تم نے کبھی اس کو کہانت کرتے دیکھا ؟ لوگوں کا یہ گمان ہے کہ وہ شاعر ہے کیا تم نے اس کو شعر بناتے دیکھا۔ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ وہ کذاب ہے کیا تم نے اس کے بارے میں ذرہ بھر جھوٹ کا کبھی تجربہ کیا۔ انہوں نے ان تمام باتوں کے جواب میں کہا ؟ اللہ کی قسم ان میں سے کوئی بات نہیں۔ پھر لوگوں نے کہا پھر تم ہی بتائو کہ وہ کیا ہے ؟ پس اس نے سوچا پھر کہنے لگا وہ تو ایک جادوگر ہے کیا تم نے اس کو دیکھا نہیں کہ وہ بیوی اور میاں اور باپ بیٹے اور اس کے رشتہ داروں کے مابین تفریق پیدا کرتا ہے۔ اور جو وہ کہتا ہے وہ ایک منقول جادو ہے۔ جو مسیلمہ اور اہل بابل سے چلا آرہا ہے پوری محفل سن کر گرم جوشی سے باغ باغ ہوگئی اور اس کی باتوں پر متعجب ہو کر سب لوٹ گئے۔ فقالؔ میں فاء اس بات کی دلیل ہے یہ کلمہ جونہی اس کے دل میں گزرا اس نے بلا توقف بول دیا۔
Ayah 74:2525 : اِنْ ھٰذَآ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ (بس یہ تو آدمی کا کلام ہے )
نحو : ان دونوں جملوں کے درمیان عاطف کا ذکر نہیں کیا کیونکہ دوسرا جملہ پہلے کی تاکید کے قائم مقام ہے۔
Ayah 74:2626 : سَاُصْلِیْہِ سَقَرَ (میں اس کو جلد دوزخ میں داخل کرونگا)
نحو : یہ سارھقہ صعودًا سے بدل ہے۔ سقر یہ جہنم کا نام ہے تعریف و تانیث کی وجہ سے غیرمنصرف ہے۔
Ayah 74:2727 : وَمَآ اَدْرٰکَ مَا سَقَرُ ( اور تم کو کچھ خبر ہے کہ دوزخ کیسی چیز ہے۔ اس میں قیامت کی ہولناک حالت سے ڈرایا گیا ہے۔
Ayah 74:2828 : لَاتُبْقِیْ وَلَا تَذَرُ (وہ نہ تو باقی رہنے دے گی اور نہ چھوڑے گی) یعنی وہ نہ تو گوشت کو باقی رہنے دی گی اور نہ ہڈیوں کو چھوڑے گی۔ نمبر 2۔ وہ کسی چیز کو باقی نہیں چھوڑتی جو اس میں ڈالی جائے بلکہ اس کو ہلاک کر ڈالتی ہے۔ وہ کسی ہلاک ہونے والے کو نہ چھوڑے گی بلکہ جس طرح ہلاکت سے پہلے تھا اسی طرح لوٹ آئے گا۔
Ayah 74:2929 : لَوَّاحَۃٌ لِّلْبَشَرِ (وہ بدن کی حیثیت بگاڑ دے گی)
نحو : یہ مبتدأ محذوفھی کی خبر ہے ایھی لوا حۃ للبشر۔ بشر جمع بشرۃ کی ہے بمعنی ظاہری جلد۔ وہ آگ ان کھالوں کو سیاہ کر ڈالے گی یا جلا دے گی۔
Ayah 74:30جہنم کے امین فرشتے :
30 : عَلَیْھَا (دوزخ پر) تِسْعَۃَ عَشَرَ (انیس فرشتے) جو ان کے کام کے ذمہ دار ہونگے۔ عند الجمہور : انیس فرشتے ایک قول یہ ہے انیس قسم کے فرشتے ایک اور قول انیس صفیں فرشتوں کی ایک قول یہ بھی ہے صرف نگران۔
Ayah 74:3131 : وَمَا جَعَلْنَآ اَصْحٰبَ النَّارِ (ہم نے دوزخ کے کارکن بنائے ہیں) نگران اِلَّا مَلٰٓپکَۃً (فرشتے ہی) کیونکہ جن کو عذاب دیا جارہا ہے۔ ان کی جنس ان سے مختلف ہے سز ا کے وقت ان کو نرمی اور رقت نہ ہوگی کیونکہ تمام مخلوق میں وہ سب سے زیادہ سخت مزاج پیدا کیے گئے۔ ان میں ایک کو جن و انس تمام کے برابر قوت حاصل ہے۔ وَّمَا جَعَلْنَا عِدَّتَہُمْ (اور ہم نے ان کی تعداد جو ایسی رکھی ہے) یعنی انیس عدد اِلَّا فِتْنَۃً (وہ کافروں کی گمراہی کا ذریعہ ہے) فتنہ ابتلاء وامتحان۔ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا (کافروں کے لئے) یہاں تک کہ ابو جہل اس تعداد کو سنکر کہنے لگا۔ تم اتنا جھمگھٹا ہو تو دس دس مل کر بھی ایک کو نہ پکڑ سکو گے ؟ اس پر مجمع میں سے ابو الاشد یہ انتہائی مضبوط پہلوان تھا بولا میں سترہ کو اکیلا سنبھال لوں گا پس تم دو کو سنبھال لینا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ وما جعلنا اصحاب النار الا ملائکۃ ہم نے ان کو جنس کے مرد نہیں بنایا کہ تم ان پر قابو پاسکو۔
جہنم کے ان نگران فرشتوں کی تعداد کو خاص کرنے کے متعلق کہا گیا باوجود کہ تعداد میں علت مطلوب نہیں ہوتی چھ فرشتے تو تمام کفار کو آگ کی طرف ہانک کرلے جائیں گے اور چھ فرشتے کھینچ کر آگ کی طرف لانے والے ہونگے۔ اور چھ فرشتے ان کو لوہے کی گرزوں سے مارنے والے ہونگے اور ایک مالک ہے وہ جہنم کا چابی بردار ہے۔ وہ ان تمام کا سردار ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ جہنم کے انیس طبقات ہیں اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ہر ایک طبقہ پر ایک فرشتہ مقرر فرمایا ہے۔ ایک اور قول ہے کفار کو جہنم میں انیس رنگوں کا عذاب دیا جائے گا۔ اور ہر رنگ کے عذاب پر ایک فرشتہ مقرر ہے۔
ایک قول یہ ہے :
جہنم کی حفاظت کیلئے زمین کی طرح حفاظتی انتظام کیا گیا۔ اس میں بھی پہاڑ پیدا کیے گئے۔ اور ان پہاڑوں کی تعداد انیس ہے اگرچہ ان کی اصل ایک سو نوے ہے دوسرے انہی سے نکلتے ہیں۔
لِیَسْتَیْقِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ (اس لئے تاکہ اہل کتاب یقین کرلیں) کیونکہ یہ انیس کی گنتی تو رات و انجیل میں ہے پس جب وہ قرآن سے وہی بات سنیں گے تو ان کو یقین آجائے گا۔ کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتارا گیا ہے۔ وَیَزْدَادَ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا اِیْمَانًا (اور ایمان والوں کا ایمان اور بڑھ جائے) حضرت محمد ﷺ کی ذات گرامی پر۔
نحو : اس کا عطف لِیَسْتَیْقِنَ الذین پر ہے۔
اِیْمَانًا : اسلئے کہ اس سے ان کی تصدیق ہوجائے گی جیسا کہ انہوں نے جو کچھ اتارا گیا ہے اس کی تصدیق کی ہے۔ نمبر 2۔ ان کے یقین میں اضافہ ہوجائے گا کیونکہ ان کی کتاب اہل کتاب کے موافق ہوگی۔ وَّ لَا یَرْتَابَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ وَالْمُؤْمِنُوْنَ (اور اہل کتاب اور مؤمنین شک نہ کریں)
نحو : اس کا بھی عطف ماقبل پر ہے اس میں استیقان اور زیادت ایمان ہونے کی تاکید ہے کیونکہ از دیاد اور استیقان شک کے نہ ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔ پھر لیستقین پر ویقول الذین کو بھی عطف کیا گیا۔
وَلِیَقُوْلَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ وَّالْکٰفِرُوْنَ (اور تاکہ جن لوگوں کے دلوں میں مرض ہے اور کافر لوگ کہنے لگیں) مرض سے مرض نفاق مراد ہے۔ وَّالْکٰفِرُوْنَ اس سے مشرکین مراد ہیں۔
سوال : یہ سورت مکیہ ہے اور نفاق تو مدینہ میں جاکر ظاہر ہوا۔
جواب اس کا معنی یہ ہے اور تاکہ کہیں وہ منافق لوگ جن کا ظہور عنقریب ہجرت کے بعد مدینہ میں ہوگا۔ اور کافر جو مکہ میں ہیں۔
مَاذَا اَرَادَ اللّٰہُ بِھٰذَا مَثَـلَا اس صورت میں اخبار غیوب کی طرح یہ ایک خبر ہے اور اس طرح سورت کا مکیہ ہونا چنداں مضر نہ رہا۔ ایک قول یہ ہے کہ مرض سے ریب و شک کا مرض مراد ہے۔ کیونکہ اہل مکہ کی اکثریت شک میں مبتلا تھی۔ مثلاً ۔
نحو : یہ ھذاؔ کی تمیز ہے۔ نمر 2۔ حال ہے۔ جیسا کہ اس ارشاد میں ہے ھذہ ناقۃ اللہ لکم ٰایۃ ] الاعراف : 73 [ جب گنتی کا آیت میں آجانا ان کو انتہائی عجیب معلوم ہوا۔ تو اس جیسی باتیں اس لائق ہوتی ہیں کہ ان کو خود پائوں لگ جائیں اور امثال کے طور پر لوگ اس کو مثلاً نام رکھ دیں۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا اللہ تعالیٰ کو اس عجیب گنتی سے کیا منظور و مقصود ہے ؟ اور کیا مطلب ہے اس نے ملائکہ کی تعداد انیس مقرر کی نہ زیادہ کہ بیس کرتے نہ کم۔
کفار کا مقصد :
ان کی اصل غرض ان باتوں سے انکار تھا۔ اور یہ کہنا تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں ہے اگر یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہوتا تو یہ ناقص عدد نہ لایا جاتا۔ کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللّٰہُ مَنْ یَّشَآئُ (اسی طرح اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے) کافؔ منصوب ہے۔ اور ذلک سے اضلال و ہدایت کے اس معنی کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے جو پہلے مذکور ہے۔ یعنی اس مذکور اضلال و ہد ٰی کی طرح۔ اضلال منافقین و مشرکین کا یہاں تک کہ انہوں نے کہا جو جو کہا۔ اور ہدایت ایمان والوں کی بڑھی اس لئے کہ انہوں نے اس کی تصدیق کی اور اس میں حکمت کو دیکھا۔ اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتے ہیں اپنے بندوں میں سے گمراہ کرتے ہیں۔ اور وہ وہی ذات ہے جس کی طرف سے ضلال و ہدایت کا اختیار کرنا معلوم ہے۔
اس میں دلیل ہے کہ افعال عباد کا خالق وہی ہے آیت میں اللہ تعالیٰ کی صفت اضلال و اھتداء سے کی گئی ہے۔ جب ابوجہل نے یہ کہا کہ کیا محمد (ﷺ) کے رب کے صرف انیس مددگار و معاون ہیں۔ تو یہ آیت نازل ہوئی وَمَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّکَ (اور تیرے رب کے لشکروں کی کثرت تعداد کو کوئی نہیں جانتا) اِلَّا ھُوَ (مگر وہی) پس اس کے لئے نگرانوں کا بڑھا کر بیس (یا بیس
ہزار) کرنا کوئی مشکل نہیں۔ مگر اس عدد میں خاص حکمت ہے جس کو تم نہیں جانتے۔ وَمَاھِیَ (اور وہ دوزخ صرف) یہ سقر کے وصف سے متصل ہے۔ اور ہی اس کی ضمیر ہے تقدیر کلام یہ ہے : وما سقر و صف تھا اور دوزخ جس کا وصف میں نے بیان کیا وہ صرف اِلَّا ذِکْرٰی لِلْبَشَرِ (وہ آدمیوں کی نصیحت کیلئے ہے) انسانوں کے لئے نصیحت ہے نمبر 2۔ ضمیر ان آیات کی طرف لوٹتی ہے جو اس میں مذکور ہوئیں۔
Ayah 74:3232 : کَلَّا (بالتحقیق) یہ انکار ہے اس کے بعد کہ اس کو نصیحت بنایا۔ ان کو نصیحت کیسے آئے گی وہ تو نصیحت حاصل کرنا نہیں چاہتے۔ وَالْقَمَرِ (اور قسم ہے چاند کی) چاند کے منافع بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کی قسم کھائی۔
Ayah 74:3333 : وَالَّیْلِ اِذْ اَدْبَرَ (اور قسم ہے رات کی جب وہ جانے لگے)
قراءت : نافع، حفص، حمزہ، یعقوب، خلف نے اذا دبر پڑھا ہے۔ اور دیگرقراء نے اذا دبر پڑھا ہے۔ اور دبر اور ادبرؔ دونوں کا معنی جانا اور پیٹھ پھیرنا ہے۔ ایک قول یہ ہے ادبر منہ پھیرنا، جاناا وردبر دن کے بعد آنا۔
Ayah 74:3434 : وَالصُّبْحِ اِذَآ اَسْفَرَ (اور قسم ہے صبح کی جب وہ روشن ہوجائے) اسفر روشن ہونے کے معنی میں ہے اور جواب قسم انھا لَاِحْدَی الکُبَرِ ہے۔
Ayah 74:3535 : اِنَّھَا (بیشک وہ دوزخ) لَاِحْدَی الْکُبَرِ (بڑی بھاری چیز ہے) کُبَر یہ جمع کبر ٰی کی ہے یعنی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت ہے۔ نمبر 2۔ بڑی تباہیوں میں سے ہے اور لا حدی ؔ کہ ان میں سے ایک ہے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ان کے درمیان ایک بڑی بھاری چیز ہے۔ کہ جس کی کوئی نظیر و مثال نہیں ہے۔ جیسا کہتے ہیں : ھو احد الرجال وھی احدی النساء یعنی وہ عظیم آدمی اور عظیم عورت ہے۔
Ayah 74:3636 : نَذِیْرًا لِّلْبَشَرِ (انسان کیلئے بڑا ڈراوا ہے)
Ayah 74:3737 : لِمَنْ شَآ ئَ مِنْکُمْ اَنْ یَّتَقَدَّمَ اَوْ یَتَاَخَّرَ (تم میں سے جو آگے کو بڑھے اس کے لئے بھی اور جو پیچھے کو ہٹے اس کے لئے بھی) لامؔ جارہ کا اعادہ کیا گیا ہے۔ ان یتقدمؔ سے مراد خیر کی طرف بڑھنا۔ اویتاخرؔ کا معنی خیر سے پیچھے ہٹنا۔ قول الزجاج : اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا یا منع کیا اس کی طرف بڑھنا اور پیچھے ہٹنا مراد ہے۔
Ayah 74:3838 : کُلُّ نَفْسٍم بِمَا کَسَبَتْ رَھِیْنَۃٌ (ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں محبوس ہوگا) رھینۃ یہ رہین کی مؤنث نہیں ہے۔ جو اس ارشاد میں آیا ہے کل امری بما کسب رھین ] الطور : 21[ کیونکہ نفس مؤنث ہے اگر صفت مراد ہوتی تو رھینؔ کہا جاتا کیونکہ فعیل مفعول کے معنی میں ہے۔ اور اس وزن میں مذکر و مؤنث برابر ہے۔ یہ اسم بمعنی الرھنؔ کے ہے۔ جیسا کہا الشتیمہ بمعنی الشتم ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا کل نفس بما کسبت رَھنٌ معنی یہ ہے۔ ہر نفس اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے اعمال کے بدلے رہن رکھا ہوا ہے۔ وہ اس سے آزاد نہیں ہے۔
Ayah 74:3939 : اِلَّآ اَصْحٰبَ الْیَمِیْنِ (مگر داہنے والے) یعنی مسلمانوں کے بچے کیونکہ ان کے کوئی اعمال ہی نہیں جن کے بدلے میں وہ رہن رکھے جائیں۔ نمبر 2۔ الا المسلمین تمام مسلمان کیونکہ انہوں نے اطاعت کر کے اپنی گردنوں کو آزاد کرلیا۔ جیسا کہ حق کی ادائیگی سے راہن اپنے رہن سے چھوٹ جاتا ہے۔