Ayah 73:11 : یٰٓـاَیُّھَا الْمُزَّمِّلُ صرفی تحقیق : یہ اصل میں المتزمل ہے اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے کپڑوں میں لپٹا ہو۔ تاء کو زاء میں ادغام کردیا۔ نبی اکرم ﷺ کپڑوں میں لپٹے آرام فرما رہے تھے پس آپ کو نماز کیلئے اٹھنے کا حکم دیا گیا فرمایا
Ayah 73:22 : قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًا (رات کو نماز کیلئے کھڑے رہا کرو مگر تھوڑی سی رات)
Ayah 73:33 : نِّصْفَہٗ (آدھی رات) یہ الیل سے بدل ہے اور الا قلیلاً کا استثناء نصفہ سے ہے تقدیر کلام اس طرح ہے قم نصف الیل الا قلیلا من نصف الیل۔ آپ آدھی رات اٹھیں مگر نصف لیل سے تھوڑا۔ اَوِ انْقُصْ مِنْہُ (یا کم کردو آدھی رات سے) نصف سے کم۔
قراءت : عاصم و حمزہ کے علاوہ نے اَوْ کی وائو کا ضمہ پڑھا ہے۔ قَلِیْلًا (تھوڑا) ثلث لیل تک۔
Ayah 73:4دو میں ایک کا چنائو :
4 : اَوْ زِدْ عَلَیْہِ (یا اس سے کچھ بڑھا دو ) نصف سے بڑھا دو ۔ دو ثلث تک اور مقصود اس سے دو باتوں میں سے ایک کا چنائو ہے اور وہ دونوں یہ ہیں۔ نمبر 1۔ نصف سے کم نمبر 2۔ نصف سے زائد۔ اگر نصفہ کو قلیلاً سے بدل قرار دیا جائے۔ تو پھر تین چیزوں میں یہ اختیار بنے گا نمبر 1۔ مکمل آدھی رات کا قیام۔ نمبر 2۔ اس میں سے کچھ کم قیام۔ نمبر 3۔ آدھی رات سے زائدقیام۔ باقی نصف کو کل کے مقابلہ میں قلیل کہا گیا۔ ورنہ قلیل کا مطلقاً استعمال نصف سے کم پر آتا ہے اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ جب ایک آدمی نے اپنے متعلق ایک ہزار درھم کا اقرار کر کے الا قلیلًا سے استثناء کیا۔ تو اس پر نصف سے زائد رقم لازم ہوگی کیونکہ کل کے مقابلہ میں وہی قلیل ہے۔ وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْ تِیْلًا (اور قرآن کو خوب صاف صاف پڑھو) واضح اور جداجدا۔ الثغرالمرتل ان دانتوں کو کہتے ہیں جو فاصلے والے ہوں۔ نمبر 2۔ ٹھہر ٹھہر کر حروف کو واضح کر کے پڑھو اور وقوف کا لحاظ کرو۔ اشباع حرکات کا خیال کرو۔ ترتیلاًؔ رتل کے امر کی تاکید کیلئے لایا گیا ہے کہ قاری قرآن کیلئے ضروری ہے کہ قرآن کو ترتیل سے پڑھے۔
Ayah 73:5باوجاہت کلام :
5 : اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ (ہم تم پر ڈالنے کو ہیں) عنقریب آپ پر ہم اتاریں گے۔ قَوْلًا ثَقِیْلًا (ایک بھاری کلام) قرآن مجیدکیون کہ اس میں اوامر، نواہی ہیں جن کا کرنا مکلفین پر گراں اور بھاری گزرتا ہے۔ نمبر 2۔ منافقین پر بھاری ہے۔ نمبر 3۔ وزن والا کلام ہے اور وجاہت والا پیغام ہے۔ احمقانہ اور سطحی نہیں ہے۔
Ayah 73:6رات کو پیدا ہونے والی عبادت :
6 : اِنَّ نَاشِئَۃَ الَّیْلِ (بیشک رات کا اٹھنا)
قراءت : ورش کے علاوہ بقیہ نے ہمزہ سے پڑھا۔ ناشئہ : مراد قیام لیل ہے۔
قولِ ابن مسعود ؓ :
یہ نشاء سے مصدر ہے اذاقام و نہض کے معنی میں ہے اس کا وزن فَاعِلَۃٌ ہے جیسے عافیۃٌ نمبر 2۔ ایسی عبادت جو رات کو پیدا ہوتی ہے اس لئے ناشئہ کہہ دیا۔ نمبر 3۔ رات کی گھڑیاں وہ بھی ایک گھڑی کر کے پیدا ہوتی ہے۔
امام زین العابدین (رح) :
مغرب و عشاء کے درمیانی نماز پڑھتے اور کہتے یہ ناشئۃ الیل ہے۔ (گویا صلوٰۃ اوابین کو یہ نام دیتے) ھِیَ اَشَدُّ وَطْاً (وہ بہت زیادہ موثر ہے روندنے میں) موافقت میں۔
قراءت : وِطاۃ شامی، ابو عمرو واطئی سے ہے جس کا معنی موافقت ہے۔ یعنی قیام کرنے والے کا دل زبان سے موافقت کرنے والا ہے۔
قول حسن (رح) :
سر وعلانیہ میں خوب موافقت پیدا کرنے والا ہے۔ کیونکہ مخلوق کی ملاقات منقطع ہوتی ہے۔
دیگر قراء نے وطئًا پڑھا ہے۔ جس کا معنی بوجھل ہے یعنی نمازی کیلئے دن کی نماز سے زیادہ مشکل ہے کیونکہ یہ نیند کو اس کے اپنے وقت سے بھگاتی ہے۔ آپ ﷺ کے قول میں یہ معنی موجود ہے۔ اللھم اشدد وطأتک علٰی مضر ] رواہ البخاری : 6393، مسلم : 675[ وَّ اَقْوَ مُ قِیْلًا (اور بات خوب ٹھیک نکلتی ہے) بات میں زیادہ درست اور قراءت میں زیادہ پختہ ہے کیونکہ آوازوں سے سکون اور حرکات کا انقطاع ہوتا ہے۔
Ayah 73:77 : اِنَّ لَکَ فِی النَّھَارِ سَبْحًا طَوِیْلًا (بےشک تم کو دن میں بہت کام رہتا ہے) اپنے مشاغل اور مہمات میں بہت آنا جانا پڑتا ہے۔ پس رات کو اپنے رب کی عبادت کیلئے فارغ کرلیں۔ نمبر 2۔ لمبی فراغت ہے نیند اور آرام کیلئے سبحًاؔ فراغت کے معنی میں ہے۔
Ayah 73:88 : وَاذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ (اور اپنے رب کا نام یاد کرتے رہو) دن رات اس کا ذکر کرو۔ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں تسبیح، تہلیل، تکبیر، نماز تلاوت قرآن، علم دینی پڑھانا سب شامل ہیں۔ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْہِ تَبْتِیْلًا ( اور سب سے قطع کر کے اسی کی طرف متوجہ رہو) ہر چیز سے منقطع ہو کر اس کی عبادت میں لگو۔ التبتلؔ اللہ تعالیٰ ہی سے ہر خیر کی امید لگا کر باقی سب سے منقطع ہونا۔ ایک قول یہ ہے کہ دنیا اور جو اس میں ہے تمام کو چھوڑنا۔ اور اللہ تعالیٰ کے پاس جو کچھ ہے اس کی درخواست کرنا۔ تبتیلاً مصدر کو بعد میں زیادہ تاکید کیلئے لائے تقدیر کلام یہ ہے بَتَّلک اللہ فتبتل نمبر 2۔ فواصل کی رعایت سے مصدر یہاں لائے۔
Ayah 73:99 : رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ (وہ مشرق و مغرب کا رب ہے اس کے سوا اور کوئی قابل عبادت نہیں) رب المشرق یہ مبتدأ محذوف کی خبر ہے ای ھو رب المشرق۔ نمبر 2۔ یہ مبتدأاور لا الٰہ یہ اس کی خبر ہے۔
قراءت : شامی و کوفی نے سوائے حفص کے ربِّ المشرق کسرہ سے پڑھا اور رَبِک سے بدل قرار دیا۔
قول ابن عباس ؓ :
حروف قسم کے اضمار سے مجرور ہے جیسا کہ واللہ لافعلن اور لااِلٰہ یہ جواب قسم ہے جیسے کہتے ہیں۔ واللہ لا اَحدٌ فی الدار الازیدٌ۔ فَاتَّخِذْ ہُ وَکِیْلًا (تم اسی کو اپنے کام سپرد کرنے کیلئے قرار دیتے رہو) کارساز۔ نمبر 2۔ کفیل اس وعدے کا جو اس نے آپ کی نصرت کا فرمایا ہے۔ نمبر 3۔ جب آپ کو معلوم ہے کہ وہ مشرق ومغرب کا مالک ہے اور اس کے سوا اور کوئی مستحق عبادت نہیں تو اسی ہی کو اپنے امور کیلئے کفایت کرنے والا قراردو۔
نکتہ فاؔ : فاء کا فائدہ یہ ہے کہ اس معرفت کے بعد واحد قہار کی بارگاہ میں تمام امور کی تفویض میں ذرہ بھر توقف نہ کرنا چاہیے کیونکہ اقرار کے بعد انتظار کے عذر کی گنجائش نہیں۔
Ayah 73:1010 : وَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ (اور یہ لوگ جو جو باتیں کہتے ہیں ان پر صبر کرو) یعنی میرے متعلق اولاد، بیوی جیسی باتیں۔ نمبر 2۔ آپ کے متعلق جو ساحرو شاعر کا طعنہ دیتے ہیں۔ وَاھْجُرْ ھُمْ ھَجْرًا جَمِیْلاً (اور خوبصورتی کے ساتھ ان سے الگ ہوجائو) دل کے ساتھ ان سے پہلو تہی اختیار کرو۔ اچھے انداز سے ان کی مخالفت کرتے رہو۔ بدلہ لینا ترک کردو ایک قول یہ ہے۔ یہ آیت قتال سے منسوخ ہے۔
Ayah 73:111 1 : وَذَرْنِیْ (اور چھوڑدو مجھے) ان کو میرے سپرد کرو میں جانوں اور وہ جانیں۔ وَالْمُکَذِّبِیْنَ (اور ان جھٹلانے والوں کو) رئوسائے قریش۔
نحو : یہ مفعول معہ ہے نمبر 2۔ ذرنی پر اس کا عطف ہے ای دعنی و ایا ھم۔ اُولِی النَّعْمَۃِ (نازو نعمت والوں کو) النعمۃ کسرہ نون سے ہو تو انعام اور ضمہ سے ہو تو خوشی۔ وَمَھِّلْہُمْ (ان لوگوں کو مہلت دو مہلت دینا) قَلِیْلاً (تھوڑے دنوں) یوم بدر تک نمبر 2۔ قیامت کے دن تک۔
Ayahs 73:12–1312، 13 : اِنَّ لَدَیْنَآ (بیشک ہمارے یہاں) کافروں کیلئے آخرت میں اَنْکَالًا (بھاری بیڑیاں ہیں) جمع نِکْلٌ۔ وَّ جَحِیْمًا (اور دوزخ ہے) جلانے والی آگ۔ وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّۃٍ (اور گلے میں پھنس جانے والا کھانا) جو حلق سے چمٹ جائے گا۔ نہ وہ نگلا جاسکے گا۔ مراد الضریعؔ اور الزقومؔ ہے۔ وَّ عَذَابًا اَلِیْمًا (دردناک عذاب) جس کا درد دل تک پہنچنے والا ہے۔ روایت میں ہے آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ اور بےہوش ہوگئے۔ ] رواہ الطبری فی تفسیرہ : 14/135[
قول حسن (رح) :
وہ روزے کی حالت میں تھے۔ افطار کا وقت ہوگیا۔ کھانا لایا گیا۔ اچانک ان کے سامنے یہ آیت آگئی۔ تو فرمانے لگے اس کو اٹھا لو۔ دوسری رات آن پہنچی۔ کھانا رکھا گیا پھر یہ آیت زبان پر آگئی تو فرمایا کھانا اٹھا لو۔ اسی طرح تیسری رات کو پیش آیا۔ پھر ثابت بنانی وغیرہ کو خبر دی گئی۔ وہ آئے اور ان کو تسلیاں دیتے رہے۔ یہاں تک کہ انہوں نے ستوکا گھونٹ پیا۔
Ayah 73:14منظر قیامت :
14 : یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ (جس روز زمین اور پہاڑ ہلنے لگیں گے) ترجفسخت حرکت کریں گے۔
نحو : یوم ؔ، لدیناؔ کے معنی فعل کی وجہ سے منصوب ہے۔ اے استقر للکفار لَدَیْنَا کذا وکذا یوم۔ ثابت ہوچکا کفار کیلئے ہمارے ہاں یہ یہ چیزیں اس دن کو جس دن زمین۔ وَکَانَتِ الْجِبَالُ کَثِیْبًا (اور پہاڑ ہوجائیں گے ریت) کثیب ریت کا ٹیلا۔ یہ کثب الشئی جمع کرنا سے لیا گیا۔ گویا فعیل بمعنی مفعول ہے۔ مَّھِیْلًا (رواں) چلنے والی اس کے بعد کہ وہ مجتمع تھی۔
Ayah 73:1515 : اِنَّآ اَرْسَلْنَآ اِلَیْکُمْ (بیشک ہم نے بھیجا تمہاری طرف) اے اہل مکہ رَسُوْلًا (ایک ایسا رسول) یعنی محمد ﷺ شَاھِدًا عَلَیْکُمْ (جو تم پر گواہی دیں گے) جو تمہارے کفر اور تکذیب کی قیامت کے دن گواہی دیں گے۔ کَمَآ اَرْسَلْنَآ اِلٰی فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا (جیسا ہم نے فرعون کے پاس ایک رسول بھیجا تھا) یعنی موسیٰ (علیہ السلام) ۔
Ayah 73:16تذکرئہ فرعون :
16 : فَعَصٰی فِرْ عَوْنُ الرَّسُوْلَ (پھر فرعون نے اس رسول کا کہنا نہ مانا)
نحو : نکرہ کو جب معرفہ کی صورت میں لوٹا یا جائے تو ثانی بعینہٖ اول ہوتا ہے۔
فَاَخَذْنٰـہُ اَخْذًا وَّبِیْلًا (تو ہم نے اس کو سخت پکڑا پکڑنا) وبیلا : سخت۔ یہاں موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ خصوصًا ذکر کیا کیونکہ ان کے حالات یہود کی زبانی اہل مکہ سنتے رہتے تھے۔
Ayah 73:1717 : فَکَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ کَفَرْتُمْ یَوْمًا (پس تم کفر کرو گے تو اس دن سے کیسے بچو گے) ۔ یوماً یہ تتقون کا مفعول ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے : کیف تتقون عذاب یوم کذا ان کفر تم ھنا ؟ تم اس دن کے عذاب سے کیسے بچو گے اگر تم نے یہاں کفر کیا ؟ نمبر 2۔ یہ ظرف ہے تقدیر کلام یہ ہے : فکیف لکم التقوٰی فی یوم القیامۃ ان کفرتم فی الدنیا ؟ قیامت کے دن تمہار ابچنا کیسے ہوگا اگر تم دنیا میں کفر کرو گے ؟ نمبر 3۔ کفرتم کی وجہ سے منصوب ہے اور وہ جحد تم کے معنی میں ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے : فکیف لکم تتقون اللہ وتخشونہ ان جحدتم یوم القیامۃ والجزاء ؟ لان تقوٰی اللہ خوف عقابہٖ ۔ تمہارا تقویٰ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنا کیسا ہے۔ اگر تم قیامت کے انکاری اور یوم جزاء کو نہیں مانتے کیونکہ اللہ کے تقویٰ کا معنی ہی اس کے عقاب کا خوف ہے۔ یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَانِ (جو بچوں کو بوڑھا کر دیگا)
نحو : یہ یومًا کی صفت ہے اور ضمیرعائد محذوف ہے۔ ای فیہ شیبًا اس کے ہول وشدت کی وجہ سے بوڑھے ہوجائیں گے۔ یہ اس وقت ہوگا جب آدم (علیہ السلام) کو کہا جائیگا۔ اٹھو اور اپنی اولاد میں سے دوزخ کا حصہ الگ کرلو۔ شیبًا یہ جمع اشیب ہے۔
ایک قول یہ ہے ڈرانے کیلئے یہ تمثیل ہے جیسا کہا جاتا ہے جب کوئی مشکل ٹائم ہو یوم یشیب نواصی الاطفال آج کے دن تو بچوں کی چوٹیاں سفید ہوجائیں گی۔
Ayah 73:1818 : السَّمَآ ئُ مُنْفَطِرٌم بِہٖ (جس میں آسمان پھٹ جائے گا) دن کی تعریف سختی کے ساتھ فرمائی یعنی کہ آسمان باوجود اپنی عظمت اور مضبوطی کے اس دن پھٹ جائے گا۔ پھر دوسری مخلوق کے حال کا خود اندازہ کرلو ؟
فائدہ : منفطر کو مذکر اس لیئے لائے کہ سماء کی تاویل السقفؔ سے کی۔ نمبر 2۔ تقدیرعبارت اس طرح ہے السماء شئی منفطر۔ بہٖؔ یعنی یوم القیامۃ۔ وہ اس دن کی سختی اور ہول کی وجہ سے پھٹ جائے گا۔ جیسا کہ چیز اس سے پھٹ جاتی ہے جس سے اس کو پھاڑا جائے۔ کَانَ وَعْدُہٗ (بیشک اس کا وعدہ ضرور ہو کر رہے گا) وعد مصدر ہے جس کی اضافت مفعول کی طرف کی گئی ہے۔ اور وہ دن ہے نمبر 2۔ یا فاعل کی طرف ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ مَفْعُوْلًا (ہونے والا ہے)
Ayah 73:1919 : اِنَّ ھٰذِہٖ (یہ ایک نصیحت ہے) مشارالیہ وہ آیات ہیں جو وعید پر دلالت کر رہی ہیں۔ تَذْکِرَۃٌ (ایک نصیحت ہے) فَمَنْ شَآئَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیْلًا (پس جس کا جی چاہے اپنے پروردگار کی طرف راستہ اختیار کرے) پس جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے۔ اور تقویٰ اور خشیت سے اس کی طرف راستہ بنائے۔
Ayah 73:2020 : اِنَّ رَبَّکَ یَعْلَمُ اَنَّکَ تَقُوْمُ اَدْنٰی (آپ کا رب جانتا ہے کہ آپ کھڑے ہوتے ہیں دو تہائی رات کے قریب)
قراءت : ادنٰی اقل کے معنی کیلئے استعارۃً لایا گیا ہے۔ کیونکہ جب دو چیزوں میں مسافت قریب ہوجائے تو ان کے درمیان جگہ کم ہوجاتی ہے اور جب فاصلہ زیادہ ہوجائے جگہ زیادہ ہوجاتی ہے۔
مِنْ ثُلُثَیِ الَّیْلِ (رات کے دوتہائی) قراءت : ہشام کے علاوہ قراء نے لام کے ضمہ سے پڑھا ہے۔ وَنِصْفَہٗ وَثُلُثَہٗ (آدھی رات اور تہائی رات )
قراءت و نحو :
یہ دونوں منصوب ہیں۔ اس کا عطف ادنیٰ پر ہے۔ مکی اور کوفی کے نزدیک اور جنہوں نے ان کو جردی تو انہوں نے اس کا عطف ثلثی پر کیا ہے۔ وَطَآ ئِفَۃٌ (اور ایک جماعت) اس کا عطف تقوم کی ضمیر پر ہے اور یہ ضمیر بلاتا کید بھی جائز ہے کیونکہ فاصل تو موجود ہے۔ مِّنَ الَّذِیْنَ مَعَکَ (ان لوگوں میں سے جو آپ کے ساتھ ہیں۔ یعنی یہ مقدار آپ کے صحابہ کی ایک جماعت قیام کرتی ہے۔ وَاللّٰہُ یُقَدِّرُ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ (اور دن رات کا پورا اندازہ اللہ تعالیٰ ہی کرسکتا ہے) رات، دن کے اندازے کی کسی اور کو قدرت نہیں اور نہ ہی ان کی گھڑیوں کے اوقات کی مقدار کو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی جانتا ہے جو کہ اکیلا ہے۔ اسم باری تعالیٰ یقدر کو مبتدأ کے طور پر لایا گیا اور یہی دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ذات تقدیر کے ساتھ خاص ہے۔ پھر صحابہ کرام کا حال یہ تھا کہ وہ قیام کرنے لگے یہاں تک کہ ان کے قدم سوج جاتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْہُ (اس کو معلوم ہے کہ تم اس کو ضبط نہیں کرسکتے) ان مقداروں کے مطابق تم مشقت و شدت کے بغیر قیام نہیں کرسکتے اور اس میں تنگی ہے۔ فَتَابَ عَلَیْکُمْ (تو اس نے تمہارے حال پر عنایت کی) پس اس نے تخفیف کردی اور قیام لیل کی فرضیت ساقط کردی۔ فَاقْرَئُ وْا (پس تم پڑھ لیا کرو) نماز میں یہاں امر و جوب پر دلالت کرتا ہے۔ یا نماز کے علاوہ اوقات میں۔ اس میں امر کی دلالت ندب پر ہے۔ مَا تَیَسَّرَ (جتنا تم سے آسانی سے پڑھا جاسکے) مِنَ الْقُرْاٰنِ (قرآن مجید میں سے) روایت کیا ابوحنیفہ (رح) نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے کہ جس نے قرآن مجید میں سے ایک سو آیات ایک رات میں پڑھیں وہ غافلین میں شمار نہ ہوگا اور جس نے دو سو آیات پڑھیں وہ قانتین میں لکھا جاتا ہے۔ ایک قول یہ ہے قرآن سے نماز مراد ہے کیونکہ یہ بھی نماز کا ایک رکن ہے مطلب یہ ہے پس تم اتنی نماز پڑھو جو آسانی سے پڑھ سکتے ہو۔ اور رات کی نماز سے مشکل نہ ہو۔ یہ آیت پہلی آیت کی ناسخ ہے۔ پھر یہ پانچوں نمازوں سے منسوخ ہوگئی۔ پھر نسخ کی حکمت واضح فرمائی کہ مسافروں اور مریضوں اور مجاہدین پر یہ قیام مشکل ہوجائے گا۔ پس فرمایا عَلِمَ اَنْ سَیَکُوْنُ مِنْکُمْ (اس کو معلوم ہے کہ بعضے آدمی تم میں سے )
نحو : اَنْ یہ اصل میں اِنّہ ہے۔ یہ مخففہ من المثقلہ ہے اور سین تخفیف کا بدل ہے۔ اور اس کے اسم کو حذف کردیا ہے۔
مَّرْضٰی (بیمار ہونگے) پس ان پر قیام لیل انتہائی مشکل ہوگا۔ وَاٰخَرُوْنَ یَضْرِبُوْنَ فِی الْاَرْضِ (اور بعضے زمین میں سفر کریں گے) یَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ (تلاش معاش کیلئے)
نحو : یبتغون یہ یضربون کی ضمیر سے حال ہے۔ فضل اللہ ؔ سے مراد تجارت سے رزق حاصل کرنا۔ نمبر 2۔ طلب علم۔
وَاٰخَرُوْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (اور بعضے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کریں گے) آیت میں تلاش معاش اور مجاہد کے درمیان برابری کی کیونکہ کسب حلال بھی جہاد ہے۔
قول ابن مسعود ؓ :
جو شخص مسلمان علاقوں سے کوئی چیز مدینہ میں لایا۔ اس حال میں کہ وہ راستے میں صعوبتیں برداشت کرنے والا اور ان میں ثواب کی نیت کرنے والا تھا۔ پھر اس نے اس چیز کو اسی دن کے بھائو کے ساتھ فروخت کیا وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں شہداء میں لکھا جاتا ہے۔
قول ابن عمر ؓ :
اللہ تعالیٰ کے ہاں قتال فی سبیل اللہ کے بعد سب سے افضل موت یہ ہے کہ میں کجاوے پر سوار ہو کر زمین میں سفر کر رہا ہوں۔ اور رزق کو طلب کرنے والا ہوں۔ فَاقْرَئُ وْا مَاتَیَسَّرَ مِنْہُ (پس تم لوگ جتنا قرآن آسانی سے پڑھا جاسکے پڑھ لیا کرو) آسانی کیلئے دوبارہ حکم دے دیا کیونکہ صحابہ کرام اس سلسلے میں بڑے محتاط تھے۔ وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ (اور نماز کی پابندی کرو) فرض نمازیں وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ (اور زکوٰۃ دیتے رہو) فرض زکوٰۃ وَاَقْرِضُوا اللّٰہَ (اور اللہ تعالیٰ کو قرض دو ) نوافل ادا کیا کرو۔ القرضؔ لغت میں کاٹنے کو کہتے ہیں۔ پس قرضہ دینے والا اپنے مال میں اتنا حصہ کاٹ کر دوسرے کو دیتا ہے۔ اسی طرح صدقہ کرنے والا اپنے مال سے اتنی مقدار الگ کر کے اس کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کرنے کیلئے مقرر کرلیتا ہے۔ اقرضوا اللہ میں قرضہ کی نسبت اپنی طرف فرمائی تاکہ صدقہ کرنے والا فقیروں پر احسان نہ رکھے کہ میں نے تجھ پر صدقہ کیا ہے اور اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ فقیر اس نیکی میں اس کا معاون ہے اس وجہ سے اس پر کوئی احسان نہیں۔ بلکہ فقیر کا اس پر احسان ہے۔
قَرْضًا حَسَنًا (اچھاقرض) اخلاص کے ساتھ حلال و طیب مال سے وَمَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِکُمْ مِّنْ خَیْرٍتَجِدُوْہُ (اور جو نیک عمل اپنے لئے آگے بھیج دو گے۔ اس کو پائو گے) یعنی اس کا ثواب۔
نحو : یہ شرط کی جزاء ہے۔
عِنْدَ اللّٰہِ ھُوَ خَیْرًا (اللہ تعالیٰ کے ہاں جو کہ بہت بہتر ہے) اس سے جو تم نے چھوڑ دیا اور پیچھے رہنے دیا خیر ًا یہ تجدوہ کا دوسرا مفعول ہے اور ھوؔ ضمیر فاصل ہے اور دو معرفوں کے درمیان ضمیر فصل نہ بھی ہو تو درست ہے کیونکہ افعل التفضیل یہ معرفہ کے مشابہ ہے کیونکہ حرف تعریف اس پر نہیں آتا۔ وَّ اَعْظَمَ اَجْرًا (اور ثواب میں بڑھ کر ہے) ْثواب کے لحاظ سے کثرت والا ہے۔ وَاسْتَغْفِرُوا اللّٰہَ (اور اللہ تعالیٰ سے گناہ معاف کر اتے رہو) سیئات سے استغفار اور حسنات میں کوتاہیوں سے استغفار دونوں کو شامل ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (بیشک اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے) وہ غفور ہے تبھی تو گناہ گاروں اور کوتاہی کرنے والوں پر ستاری فرماتا ہے اور رحیم ہے کہ اہل توفیق اور محنت کرنے والوں کے سلسلہ میں تخفیف فرماتا ہے۔