Ayah 72:11 : قُلْ اے محمد ﷺ اپنی امت کو کہہ دیجئے اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّہٗ معاملہ اور شان یہ ہے
قراءت : تمام قراء اَنَّہ کے فتحہ پر اتفاق کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ اوحی کا نائب فاعل ہے۔ اور نمبر 2۔ اَنْ لَّوِ استقامُوا ] الجن : 16[ او اَن المساجد ] الجن : 18[ میں انہ استمع پر عطف ہے پس ان مخففہ من المثقلہ ہے۔ اور نمبر 3۔ اَن قد اَبْلَغُوا ] الجن : 28[ تاکہ یعلم اس کی طرف متعدی ہوسکے۔ اور فاء جزائیہ کے بعد مکسور ہوتا ہے اور قال کے بعد بھی جیسے فاِن لہ نارجھنم ] الجن : 23[ وقالوا انا سمعنا کیونکہ یہ ابتدائی کلام اور قال کا مقولہ ہے۔ ج نمبر 1۔ اَنّہٗ تَعالٰی جدربنا الی اَنَّا منا المسلمون ] الجن : 3۔ 14[ کے فتحہ و کسرہ میں اختلاف ہے۔ نمبر 2۔ ابوبکر کے علاوہ کوفی اور شامی قراء نے فتحہ دیا ہے۔ کیونکہ انہ استمع پر اس کا عطف ہے یا یہ جار مجرور کے محل میں ہے اس آیت میں فاٰمنا بہٖ ] الجن : 2[ تقدیر کلام اس طرح ہے صدقناہ و صدقنا اَنَّہٗ تعالیٰ جدربنا وَانَّہٗ کان یقول سفیہنا ] الجن : 4[ آخری آیت تک۔ نمبر 2۔ دیگر قراء نے اس کو کسرہ دیا اور اِنَّا سمعنا پر عطف کیا اور تمام آیات کے اواخر میں وقف کرتے ہیں۔
جنات کی آمد :
اسْتَمَعَ نَفَرٌ (ایک جماعت) نفرؔ تین سے دس تک جماعت کو کہتے ہیں۔ مِّنَ الْجِنِّ (جنوں میں سے) یہ مقام نصیبین کے جنات تھے۔ فَقَالُوْٓا پس جب وہ نبی اکرم ﷺ کو صلوٰۃ فجر میں قراءت کرتا سن چکے تو انہوں نے لوٹ کر اپنی قوم کو کہا۔ اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًاعَجَبًا (ہم نے ایک عجیب عمدہ قرآن سنا) ۔ جو حسن نظم میں تمام کتب سے الگ ہے اور صحت اور معانی میں ایک نکھار رکھتا ہے۔ العجبؔ جو عادت سے خارج ہو یہ مصدر ہے جس کو العجیب صفت کی جگہ لائے۔
Ayah 72:22 : یَّھْدِیْ اِلَی الرُّشْدِ (وہ راہ راست بتلاتا ہے) وہ درست بات کی طرف دعوت دینے والا ہے یا توحید و ایمان کی طرف۔ فَاٰمَنَّابِہٖ (پس ہم تو اس پر ایمان لائے) ہٗ سے قرآن مجید مراد ہے۔ اور جب قرآن پر ایمان یہ اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس کی وحدانیت پر یقین کرنا اور شرک سے بیزاری اختیار کرنا ہے۔ تو کہنے لگے وَلَنْ نُّشْرِکَ بِرَبِّنَآ اَحَدًا (ہم اپنے رب کے ساتھ اس کی مخلوق میں سے کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے) ۔ نمبر 2۔ یہ بھی درست ہے کہ بہٖ میں ضمیر کا مرجع ذات عزوجل ہو۔ کیونکہ بربِّنا ؔ اس کی تفسیر کر رہا ہے۔
Ayah 72:33 : وَّاَنَّہٗ تَعٰلٰی جَدُّ رَبِّنَا (اور ہمارے رب کی بڑی شان ہے) جدؔ عظمت، عرب کہتے ہیں جد فلان فی عینی ای عظیم وہ میرے ہاں عظمت والا ہوا۔ حضرت عمر ؓ کے قول میں یہی معنی ہے : کان الرجل اذا قرأ البقرۃ وآل عمران جَدفیناؔ وہ ہماری نگاہوں میں بلند ہوجاتا۔ یہ قول حضرت انس ؓ کی طرف بھی منسوب ہے۔ مَا اتَّخَذَ صَاحِبَۃً (اس نے نہ کسی کو بیوی بنایا) وَّلَا وَلَدًا (اور نہ اولاد) جیسا کہ کافر جن و انس کہتے ہیں۔
Ayah 72:44 : وَّاَنَّہٗ کَانَ یَقُوْلُ سَفِیْھُنَا (اور ہم میں سے جو احمق ہوئے ہیں وہ کہتے تھے) سفیہؔ : جاہل، یا ابلیس کیونکہ اس سے بڑھ کر کوئی جاہل نہیں۔ عَلَی اللّٰہِ شَطَطًا (اللہ تعالیٰ کی شان میں حد سے بڑھی ہوئی باتیں) یعنی کفر کیونکہ وہ درستی میں سب سے دور بات وہی ہے۔ یہ شطت الدار ای بعدت (گھر دور ہوا) سے لیا گیا ہے۔ نمبر 2۔ ایسی باتیں جن میں وہ حق سے تجاوز کرنے والے تھے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف بیوی اور اولاد کی نسبت والا خبیث قول ہے۔ الشططؔ ظلم وغیرہ میں حد سے تجاوز کرجانا۔
Ayah 72:55 : وَّ اَنَّا ظَنَنَّآ اَنْ لَّنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا (اور ہمارا یہ خیال تھا کہ انسان اور جن کبھی اللہ تعالیٰ کی شان میں جھوٹ بات نہ کہیں گے) کذبًا یہ قولا مصدر کی صفت ہے ای قولا کذبا نمبر 2۔ کذب خود مکذوب فیہ کے معنی میں ہے۔ یعنی جھوٹ نمبر 3۔ مصدر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے کیونکہ کذب خود قول کی ایک قسم ہے یعنی ہمارے گمان میں یہ بات تھی کہ کوئی شخص ہرگز اللہ تعالیٰ کے متعلق بیوی اور اولاد کی نسبت والا جھوٹ نہ بولے گا۔ اس لئے ہم ان باتوں میں تصدیق کرتے رہے جو کچھ بھی وہ اس کی طرف منسوب کرتے رہے۔ یہاں تک کہ قرآن مجید سے ان کا کذب ہمارے سامنے کھل گیا۔
Ayah 72:66 : جب کوئی عربی خوفناک علاقے میں وارد ہوتا تو اس طرح کہتا اعوذ بسید ھذا الوادی من سفھاء قومہ۔ اس کا مقصد بڑے جن کی پناہ حاصل کرنا ہوتا تھا۔ اس پر فرمایا۔ وَّاَنَّہٗ کَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُ وْھُمْ ( اور بہت سے لوگ آدمیوں میں سے ایسے تھے کہ وہ جنات میں سے بعض لوگوں کی پناہ لیا کرتے تھے۔ پس انہوں نے ان جنات کی بڑھا دی) یعنی ان انسانوں نے ان جنات کی پناہ لے کر ان جنات کی بڑھا دی۔ رَھَقًا (سرکشی اور جہالت اور تکبر) کہ وہ اس طرح کہنے لگے کہ اب تو ہم جنات اور انسانوں کے سردار ہوگئے یا جنات نے انسانوں کی گمراہی بڑھا دی۔ اس لئے کہ انسانوں نے ان سے پناہ طلب کی اور الرھقؔ کا اصل معنی ممنوع کا ارتکاب کرنا۔
Ayah 72:77 : وَّ اَنَّھُمْ (اور جیسا تم) اے گروہ جنات ظَنُّوْا کَمَا ظَنَنْتُمْ (جنات کے گمان کیا جیسا تم نے گمان کیا) اے اہل مکہ اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰہُ اَحَدًا (کہ اللہ تعالیٰ کسی کو دوبارہ زندہ نہ کرے گا) موت کے بعد اٹھانا۔ مطلب یہ ہے جنات بھی بعث کے منکر تھے جیسا تم انکار کرتے ہو۔ پھر قرآن سن کر انہوں نے ہدایت پائی اور بعث کے اقراری ہوگئے تم کیوں اقرار نہیں کرتے جیسا انہوں نے اقرار کیا۔
Ayah 72:88 : وَّاَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآئَ (اور ہم نے آسمان کی تلاشی لینا چاہی) ہم نے آسمان تک پہنچنا اور اہل سماء کی باتیں سننا تلاش کیا۔ اللمس چھونا۔ یہ طلب کیلئے بطور استعارہ استعمال کیا گیا ہے کیونکہ چھونے والا پہچان والا طالب ہوتا ہے۔ فَوَجَدْ نٰھَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا (پس ہم نے اس کو سخت پہرا سے بھر اپایا) فرشتوں کے طاقتور گروہ حفاظت کر رہے ہیں۔
نحو : حَرَسًاؔ جمع حارس کی ہے۔ یہ تمیز کی وجہ سے منصوب ہے۔ ایک قول یہ ہے الحرسؔ یہ اسم مفرد ہے جو حرّاس کے معنی میں ہے جیسا کہ خَدَم بمعنی ال خدام ہے۔ اسی لئے اس کے لئے شدیدؔ کا وصف لا یا گیا ہے۔ اگر معنی کی طرف نظر کی جاتی تو شداداً کہا جاتا۔ وَّ شُھُبًا ( اور شعلوں سے) یہ شہاب کی جمع ہے یعنی روشن ستارے۔
Ayah 72:9شہابِ ثاقب :
9 : وَّاَنَّا کُنَّا نَقْعُدُ مِنْھَا (ہم اس میں بیٹھا کرتے تھے) یعنی آسمان میں اس سے پہلے مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ (موقعوں پر سننے
کیلئے) تاکہ ہم آسمان کی خبریں سنیں یعنی آسمان کے بعض موقعوں کو پہرہ داروں اور شہابوں سے آپ کی بعثت سے پہلے خالی پاتے ( تو وہاں آسمان کی خبریں سننے کیلئے بیٹھ جاتے) فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ (پس جو کوئی اب سننا چاہتا ہے) یعنی سننے کا ارادہ کرتا ہے۔ الانؔ بعثت نبوی کے بعد یَجِدْلَہٗ (تو اپنے لئے پاتا ہے) یعنی اپنی ذات کے لئے شِھَا بًا رَّصَدًا (تیار شعلہ) رصد ؔ یہ شہاب کی صفت ہے۔ اور یہ اسم فاعل الراصد کے معنی میں ہے ای شہابا راصدا لہ ولاجلہ تیار شعلہ اس کے لئے۔ نمبر 2۔ یہ راصد کا اسم جمع ہے معنی اس طرح ہے ذوی شہاب راصدین بالرجم۔ شعلے والے جو رجم کیلئے منتظر ہوتے ہیں۔ اس سے مراد فرشتے ہیں جو ان کو شعلوں سے سنگ سار کرتے ہیں اور سننے سے روکتے ہیں۔
قول جمہور :
یہ حضرت محمد ﷺ کی بعثت سے پہلے نہ تھا۔
رجم شیاطین پہلے نہ تھا :
ایک قول یہ ہے کہ رجم زمانہ جاہلیت میں بھی تھا لیکن شیاطین بعض اوقات چوری چھپے کوئی بات سن پاتے۔ پس بعثت نبوی ﷺ سے استراق سمع والا سلسلہ بھی مکمل طور پر بند کردیا گیا۔
Ayah 72:1010 : وَّاَنَّا لَانَدْرِیْ اَشَرٌّ (اور ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کو کوئی تکلیف پہنچانا مقصود ہے) اشرٌّؔ سے مراد عذاب اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ (اس استراق سمع کو روک کر) اَمْ اَرَادَ بِھِمْ رَبُّھُمْ رَشَدًا (یا ان کے رب نے ان کو ہدایت کرنے کا مقصد فرمایا ہے) رُشدؔ سے خیر اور رحمت مراد ہے۔
Ayah 72:111 1 : وَّاَنَّا مِنَّاالصّٰلِحُوْنَ (اور ہم میں بعضے نیک ہیں) ابرار و متقین ہیں۔ وَمِنَّا (اور بعضے لوگ) دُوْنَ ذٰلِکَ (اور طرح کے ہیں) موصوف کو حذف کردیا وہ بھلائی میں میانہ رو ہیں کامل نہیں ہیں یا انہوں نے اس سے غیر صالحین مراد لیے۔ کُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًا (ہم مختلف طریقوں پر تھے) یہ مذکورہ تقسیم کا بیان ہے۔ مطلب یہ ہے ہم متفرق مذاہب رکھتے تھے۔ نمبر 2۔ مختلف دین رکھتے تھے۔ القِدَدُ جمع قدۃ کی ہے۔ ٹکڑا یہ قددت السیر سے لیا گیا جس کا معنی طے کرنا ہے۔
Ayah 72:1212 : وَّاَنَّا ظَنَنَّآ (اور ہم نے سمجھ لیا ہے) ہمیں یقین آگیا ہے۔ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَ اللّٰہَ (کہ ہم اللہ تعالیٰ کو ہرا نہیں سکتے) ہم اس سے بڑھ نہیں سکتے۔ فِی الْاَرْضِ (زمین میں)
نحو : یہ حال ہے تقدیر کلام یہ ہے لن نعجزہ کائنین فی الارض اینما کنا ہم ہرگز اس کو ہرا نہ سکیں گے اس میں کہ زمین میں ہم جہاں بھی ہوں۔ وَلَنْ نُّعْجِزَہٗ ھَرَبًا (اور نہ بھاگ کر اس کو ہرا سکتے ہیں)
نحو : ھربًا یہ مصدر ہے جو موضع حال میں ہے تقدیر کلام یہ ہے لن نعجزہ ھاربین منھا الی السماء اور ہم ہرگز اس کو آسمان کی طرف بھاگ کر بھی ہرا نہیں سکتے۔ یہ جنات کے حالات ہیں اور جو ان کے احوال و عقائد تھے۔
Ayah 72:1313 : وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْھُدٰٓی (اور ہم نے جب ہدایت کی بات سن لی) الھدی سے قرآن مجید مراد ہے۔ اٰمَنَّا بِہٖ (ہم نے تو اس کا یقین کرلیا) قرآن پر نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ پر فَمَنْ یُّؤْمِنْم بِرَبِّہٖ فَـلَا یَخَافُ (پس جو شخص اپنے رب پر ایمان لے آئے گا تو اس کو اندیشہ نہ ہوگا)
نحو : یہ مبتدأ اور خبر ہیں اصل اس طرح ہے فھو لا یخاف۔
بَخْسًا (کمی) ثواب میں کمی کا وَّلَا رَھْقًا (اور نہ زیادتی کا) یعنی اس پر ذلت نہ چھائے گی۔ یہ اس قول کی طرح ہے و ترھقہم ذلۃ ] یونس ؛ 27[ اور فرمایا ولا یرھق وجوھھم قترولا ذلۃ ] یونس : 26[
فائدہ : اس میں دلیل ہے کہ اعمال ایمان میں سے نہیں ہیں۔ یعنی ایمان کا جزء نہیں ہیں۔
Ayah 72:14جنات میں مومن و کافر :
14 : وَّاَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ (اور ہم میں بعضے تو مسلمان ہیں) مومن ہیں وَمِنَّا الْقَاسِطُوْنَ (اور بعضے ہم میں بےراہ ہیں) کافر ہیں جو طریق حق سے ہٹنے والے ہیں۔ قسطؔ ظلم کرنا۔ اقسط انصاف کرنا۔ فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓپکَ تَحَرَّوْا رَشَدًا (پس جو شخص مسلمان ہوگیا انہوں نے بھلائی کا راستہ ڈھونڈ لیا) ہدایت کو طلب کیا التحریؔ اولیٰ کی تلاش کرنا۔
Ayah 72:1515 : وَاَمَّا الْقَاسِطُوْنَ فَکَانُوا (اور جو بےراہ ہیں پس وہ ہیں) اللہ تعالیٰ کے علم میں لِجَھَنَّمَ حَطَبًا (دوزخ کے ایندھن) ان سے جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی۔
فائدہ : کافرجن کو آگ کا عذاب ہوگا البتہ ان کے ثواب کی کیفیت میں توقف کیا جاتا ہے۔
Ayah 72:1616 : وَّ اَنْ لَّوِ اَنْ مخففہ من المثقلہ ہے۔ یعنی اَنَّہٗ یہ من جملہ وحی میں سے ہے۔ یعنی اوحی الی ان الشان لو۔ میری طرف وحی کی گئی بیشک معاملہ یہ ہے اگر اسْتَقَامُوْا (یہ لوگ قائم ہوجائیں) ظالم لوگ عَلَی الطَّرِیْقَۃِ ( طریقہ اسلام پر) لَاَسْقَیْنٰھُمْ مَّآئً غَدَقًا ( تو ہم ان کو فراغت کے پانی سے سیراب کرتے) غدقًا زیادہ کثیر۔ معنی یہ ہے ہم ان پر رزق کی وسعت کردیتے۔ آیت میں ماء ً غدقاً کا ذکر کیا کیونکہ وہ وسعت رزق کا سبب ہے۔
Ayah 72:1717 : لِّنَفْتِنَھُمْ فِیْہِ (تاکہ اس میں ان کا امتحان کریں) تاکہ ہم ان کو آزمائیں کہ وہ جو انعامات دیئے گئے ہیں ان کا کس طرح شکریہ ادا کرتے ہیں۔ وَمَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِکْرِ رَبِّہٖ (اور جو شخص اپنے پروردگار کی یاد سے روگردانی کرے گا) ذکر سے قرآن مجید یا توحید یا عبادت مراد ہے۔ یَسْلُکْہُ (اللہ تعالیٰ اس کو داخل کریگا)
قراءت : ابو عمرو کے علاوہ عراقی قراء نے یاء سے پڑھا ہے
عَذَابًا صَعَدًا (سخت عذاب) اونچے درجہ کا دکھ صعد ًا یہ صعد کا مصدر ہے عرب کہتے ہیں صَعِدَ صعدً او صعود ًا اسکو عذاب کی صفت کے طور پر لائے کیونکہ وہ معذب پر چڑھ جائیگا اور غالب آجائیگا پھر وہ اس کو برداشت نہ کرسکے گا۔ حضرت عمر ؓ کے قول کا یہی معنی ہے ماتصعدنی شیٔ ماتصعد تنی خطبۃ النکاح مجھ پر گراں نہیں گزرتی کوئی چیز جتنا مجھے خطبہ نکاح گراں ہوتا ہے۔
Ayah 72:18مساجد کا معنی :
18 : وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰہِ (اور جتنے سجدے ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کا حق ہیں) یہ منجملہ دوسری وحی کے یہ بھی وحی آئی ہے یعنی اوحی الی ان المساجد للہ المساجد وہ مقام جو اس لیے بنائے جائیں تاکہ اللہ تعالیٰ کیلئے ان میں نماز پڑھی جائے۔ ایک قول یہ ہے ولان المساجد للہ فلا تدعوا اس لئے کہ مساجد اللہ ہی کیلئے ہیں اور اس کی عبادت کیلئے پس تم ان میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور کسی کو مت پکارو۔ ایک قول یہ ہے المساجد اعضائے سجود۔ پیشانی، گھٹنے، دونوں قدم، فَـلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰہِ اَحَدًا۔ (پس تم اللہ کے ساتھ کسی کو مت پکارو)
Ayah 72:1919 : وَّاَنَّہٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰہِ (اور جب اللہ تعالیٰ کا خاص بندہ کھڑا ہوتا ہے) عبدا للہ سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں قامؔ نماز کیلئے کھڑا ہونا۔ تقدیر عبارت اس طرح ہے فاوحی الیّ لما قال عبد اللہ۔
یَدْ عُوْہُ (اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کیلئے) اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور قرآن پڑھتے ہیں۔ آیت میں نبی اللہ یا رسول اللہ کی بجائے عبداللہ فرمایا۔ کیونکہ یہ نام رسول اللہ ﷺ کو انتہائی محبوب تھا۔ اور جب یہ آپ کے اپنے کلام میں اپنی ذات کی تعبیر کیلئے آئے تو انتہائی تواضع پر دلالت کرتا ہے۔ نمبر 2۔ پہلے ہی جو عبداللہ ہو اس کی عبادت کوئی بعید اور اوپری شئی نہیں یہاں تک کہ یہ ان کے گرد گروہ درگروہ جمع ہو رہے ہیں۔ کَادُوْا (قریب ہے کہ جنات) یَکُوْنُوْنَ عَلَیْہِ لِبَدًا ( اس پر جمگھٹا لگانے والے ہوجائیں) لبد جمع لبدۃ جماعت ہوجائیں اس پر جماعتوں کی صورت میں اس کی عبادت پر تعجب سے جمع ہونے والے اور ان کے صحابہ کی بےمثال اقتداء دیکھ کر تعجب کریں اور جو قرآن مجید آپ نے پڑھا ہے اس پر متعجب ہوں کیونکہ انہوں نے یہاں وہ کچھ دیکھا جو پہلے کبھی نظروں میں نہیں آیا۔
Ayah 72:2020 : قُلْ اِنَّمَآ اَدْعُوْا رَبِّیْ (آپ یہ کہہ دیجے کہ میں تو صرف اپنے پروردگار کی عبادت کرتا ہوں) اکیلے رب کی۔
قراءت : عاصم وحمزہ کے علاوہ نے قال پڑھا ہے۔
وَلَآ اُشْرِکُ بِہٖٓ اَحَدًا (اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا) عبادت میں پھر تم کیوں کرتے اور ٹھٹ کے ٹھٹ مجھ پر جمع ہوتے ہو۔
Ayah 72:2121 : قُلْ اِنِّیْ لَآ اَمْلِکُ لَکُمْ ضَرًّا (کہہ دیجئے میں تمہارے ذرا بھر ضرر کا اختیار نہیں رکھتا ہوں) ضر ًا بمعنی نقصان پہنچانا وَّلَا رَشَدًا (اور نہ کسی بھلائی کا) یعنی نفع کا۔
نمبر 2 : الضر سے گمراہی مراد ہے اس کی دلیل حضرت ابی کی قراءت میں ہے (غیًا ولا رشدًا) یعنی میں تمہیں نقصان پہنچانے کی نہ طاقت رکھتا ہوں اور نہ نفع پہنچانے کی کیونکہ نافع و ضار اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
Ayah 72:2222 : قُلْ اِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَ نِیْ مِنَ اللّٰہِ اَحَدٌ (آپ کہہ دیجئے مجھ کو اللہ تعالیٰ سے کوئی نہیں بچا سکتا) اگر میں اس کی نافرمانی کروں تو مجھ سے اس کے عذاب کو کوئی ہٹا نہیں سکتا یہ اسی طرح ہے جیسا صالح (علیہ السلام) نے فرمایا فمن ینصرنی من اللہ ان عصیتہٗ ] ھود : 63[ وَلَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِہٖ مُلْتَحَدًا (اور نہ میں اس کے سوا کوئی پناہ پاسکتا ہوں) ملتحدًا جائے پناہ۔
Ayah 72:2323 : اِلَّابَلٰغًا مِّنَ اللّٰہِ (لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچانا)
نحو : نمبر 1۔ یہ لا املک سے استثناء ہے ای لا املک لکم ضرًا ولا رشدًا الا بلا غامن اللہ میں تمہارے لئے ذرہ بھرگمراہی اور ہدایت کا مالک نہیں مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے (اس کا پیغام) پہنچانا ہے۔ اور نمبر 2۔ (قل انی لن یجیرنی) یہ جملہ معترضہ ہے جو اپنی ذات سے استطاعت کی نفی اور آپ کے بیان عجز کی تاکید ہے۔ نمبر 3۔ نحو : بلاغاً یہ ملتحد ًا سے بدل ہے۔ ای لن اجد من دونہ منجی الا ان ابلغ عنہ ما ارسلنی بہٖ میں ہرگز اس کے سوا کو پناہ کی جگہ نہیں پاتا سوائے اس کے کہ میں اس پیغام کو پہنچا دوں۔ جو اس نے مجھے دے کر بھیجا ہے۔ یعنی مجھے اور کوئی چیز اس کے سوا پناہ نہیں دے سکتی کہ میں اس کے پیغام کو پہنچا دوں۔ پس یہ بات مجھے نجات دینے والی ہے۔
قول فراء :
یہ شرط اور جزاء ہے استثناء نہیں ہے اور اِنْ یہ لاؔ سے جدا ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے ان لا ابلغ بلاغا ای ان لم ابلغ لم اجد من دونہ ملتجا ولا مجیرًا لی۔ (اگر میں نہ پہنچائوں تو اس کے سوا کو پناہ گاہ اور نہ پناہ دینے والا اپنے حق میں نہ پائوں گا) یہ اسی طرح ہے جیسا کہتے ہیں ان لا قیامًا فقعودًا ان صورتوں میں بلاغؔ تبلیغ کے معنی میں ہے۔ وَرِسٰلٰتِہٖ (اور اس کے پیغاموں کو )
نحو : اس کا عطف بلاغاً پر ہے گویا اس طرح کہا گیا لا املک لکم الا التبلیغ والرسالات ای الا ان ابلغ عن اللہ میں تمہارے تبلیغ اور پیغاموں کے علاوہ کسی چیز کا مالک نہیں یعنی مجھے یہی اختیار ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں۔ پس میں کہتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اپنے قول کو میری طرف منسوب کرتے ہوئے۔ کہ میں اس کے اس پیغام کو بغیر کمی بیشی پہنچا دوں جو پیغام اس نے مجھے دیا ہے۔
نحو : مِنْ یہ بلاغا کا صلہ نہیں کیونکہ اس کا صلہؔ عن آتا ہے یہ اس مِنْ کی طرح ہے جو اس آیت میں براءۃ من اللّٰہ میں ہے ] التوبہ : 1[ تقدیر کلام یہ ہے بلاغا کائنًا من اللّٰہ۔
وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وََرَسُوْلَہٗ (جولوگ اللہ اور اس کے رسول کا کہنا نہیں مانتے) یعنی رسول اللہ ﷺ پر اتارا ہوا حکم قبول نہیں کرتے کیونکہ من یعص اللہ کو تبلیغ رسالت کے بعد ذکر کیا گیا ہے۔ فَاِنَّ لَہٗ نَارَ جَھَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْھَآاَبَدًا ( تو یقینا ان لوگوں کے لئے آتش دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے)
نکتہ : لہ میں ضمیر کو واحدلائے اور خالدینؔ صیغہ جمع کا لائے اس کی وجہ مَنْ یعص اللہ میں مَنْ ہے ایک میں ظاہر کا لحاظ جبکہ دوسرے میں معنی کا لحاظ۔
Ayah 72:2424 : حَتّٰی یہ محذوف کے متعلق ہے جس پر موقعہ دلالت کر رہا ہے گویا اس طرح کہا گیا لا یزالون علی ماھم علیہ حتٰی اذا وہ جس پر ہیں اس پر ہمیشہ رہیں گے یہاں تک کہ اِذَا رَاَوْامَا یُوْعَدُوْنَ (جب اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے) یعنی عذابفَسَیَعْلَمُوْنَ (اس وقت وہ جانیں گے) جبکہ عذاب ان پر اتر پڑے گا۔ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًاوَّ اَقَلُّ عَدَدًا (کہ کس کے مددگار کمزور ہیں اور کس کی جماعت کم ہے) آیاوہ یا مومن یعنی کافروں کا اس دن کوئی مددگار نہ ہوگا اور مومن کے مددگار اللہ جل شانہ اور اس کے ملائکہ اور انبیاء (علیہم السلام) ہونگے۔
Ayah 72:2525 : قُلْ اِنْ اَدْرِیْ (آپ کہہ دیجیے کہ مجھ کو معلوم نہیں) یعنی میں نہیں جانتا۔ (اِنْ ماؔ کے معنی میں ہے) اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ (کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے آیا وہ نزدیک ہے) یعنی عذاب اَمْ یَجْعَلُ لَہٗ رَبِّیْ (یا میرے پروردگار نے اس کے لئے مقرر کردی ہے)
قراءت : حجازی اور ابو عمرو نے یاء کے فتحہ سے پڑھا ہے۔ اَمَدًا (مدت دراز) لمبی غایت یعنی تمہیں یقینا عذاب دیا جائے گا لیکن میں یہ نہیں جانتا کہ آیا وہ ابھی اترنے والا ہے یا مؤجل ہے۔
Ayah 72:2626 : عٰلِمُ الْغَیْبِ (غیب کا جاننے والا وہی ہے) نحو : یہ مبتدأ کی خبر ہے ای ھو عالم الغیب۔ فَـلَا یُظْھِرُ عَلٰی غَیْبِہٖٓ اَحَدًا (پس وہ اپنے غیب پر کسی مخلوق کو مطلع نہیں کرتا) یظھر یہ یطلع کے معنی میں ہے اور احدًا سے مراد مخلوق میں سے کوئی۔
Ayah 72:27بعض اخبار غیب تاکہ معجزہ بن جائیں :
27 : اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ (ہاں مگر اپنے کسی برگزیدہ پیغمبر کو) مگر رسول کو اس نے بعض غیب کے علم کیلئے پسند کرلیا تاکہ غیب کے متعلق اس کی خبریں رسول کے لئے معجزہ بن جائیں پس وہ اپنے غیب میں اس کو جو چاہتا ہے اس سے مطلع کرتا ہے۔
تشریح : من رسول یہ لمن ارتضٰی کا بیان ہے۔ اور ولی جن چیزوں کی خبر دے اور وہ اسی طرح ہوجائیں تو اس کو اس پر قطعی یقین نہیں ہوتا لیکن وہ اپنے خواب یا فراست ایمانی سے وہ خبر دیتا ہے۔ اور ہر ولی کی کرامت یہ دراصل رسول کا معجزہ ہے۔ التاویلات میں مذکور ہے کہ بعض نے کہا کہ اس آیت میں نجومیوں کی تکذیب پر دلالت پائی جاتی ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں کیونکہ ان میں سے بعض کی خبریں سچی ہوجاتی ہیں۔ اسی طرح اطباء نبات کی طبائع سے واقف ہیں۔ اور یہ بات غور سے معلوم نہیں ہوتی پس معلوم ہوا ان کی اطلاع کا دارومدار ایسے رسول ہیں جن کے حالات لوگوں سے منقطع ہوچکے اور ان کا علم مخلوق میں باقی رہ گیا۔ فَاِنَّہٗ یَسْلُکُ (پس وہ بھیج دیتا ہے) داخل کردیتا ہے۔ مِنْم بَیْنِ یَدَیْہِ (اس پیغمبر کے آگے) رسول کے آگے وَمِنْ خَلْفِہٖ رَصَدًا (اور اس کے پیچھے محافظ فرشتے) حفاظتی فرشتے جو شیاطین سے ان کی حفاظت کرتے اور وساوس سے ان کو بچاتے ہیں شیاطین کی مخالطت سے بچاتے ہیں یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کی وحی پہنچاتے ہیں۔
Ayah 72:2828 : لِّیَعْلَمَ (تاکہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہوجائے) اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا (کہ ان فرشتوں نے پہنچا دیئے ہیں) رِسٰلٰتِ رَبِّہِمْ (اپنے پروردگار کے پیـغامات) مکمل طور پر بغیر کسی کمی بیشی کے مرسل الیہم تک پہنچا دیئے ہیں۔ یعنی تاکہ اللہ تعالیٰ اس کو جان لے موجود اس کے وجود کی حالت میں جیسا کہ وہ اس کو اس کے وجود سے پہلے جانتے ہیں کہ وہ وجود میں آئے گی۔
نکتہ : مِنْ بین یدیہؔ میں ضمیر کو واحد لائے اس میں من کے لفظ کا لحاظ کیا۔ اور ابلغوا ؔ میں مَنؔ کے معنی کا لحاظ کر کے جمع لائے۔
وَاَحَاطَ (اور اللہ تعالیٰ احاطہ کیے ہوئے ہیں) بِمَا لَدَیْھِمْ (ان کے تمام احوال کا) یعنی رسولوں کے پاس جو علم ہے۔ وَاَحْصٰی کُلَّ شَیْ ئٍ عَدَدًا (اور اس کو ہر چیز کی گنتی معلوم ہے) بارشوں کے قطروں کی تعداد ‘ ریت کے ذرات کی تعداد، درختوں کے پتوں کی تعداد اور سمندروں کے جھاگوں کی مقدار۔ جب وہ یہ سب کچھ ذاتی طور پر جانتا ہے تو پھر رسولوں کے پاس جو اس کی بھیجی ہوئی وحی اور اس کا کلام ہے اس کا وہ کیونکر احاطہ کرنے والا نہ ہوگا۔
نحو : عددًا یہ حال ہے۔ اور ہر چیز کا علم گنا ہوا اور شمار کیا ہوا ہے۔ نمبر 2۔ یہ مصدر ہے اور احصاء کے معنی میں ہے۔