71. Surah Nooh

نوحNoah · 28 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 71:1

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ اَنْ اَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 71:1 in the Quran reader

ہم نے نوح کو ان کی قوم کر طرف بھیجا کہ پیشتر اسکے کہ ان پر درد دینے والا عذاب واقع ہو اپنی قوم کو ہدایت کردو

1 : اِنَّآ اَرْسَلْنَا نُوْحًا ایک قول یہ ہے کہ نوح کا معنی سریانی زبان میں ساکن ہے۔ اِلٰی قَوْمِہٖٓ اَنْ اَنْذِرْ نحو : انذارؔ خوف دلانے کے معنی میں آتا ہے۔ اس کی اصل بان انذر۔ پس جار حذف کر کے اَنْ کو فعل سے ملا دیا۔ خلیل (رح) کے نزدیک یہ محل جر میں واقع ہے۔ اور دیگرنحات کے ہاں منصوب ہے۔ نمبر 2۔ ان مفسرہ ہے جو کہ ای کے معنی میں آتا ہے۔ کیونکہ ارسال میں قول کا معنی متضمن ہے۔ قَوْمَکَ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْ تِیَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ عذاب الیم سے آخرت کا عذاب یا طوفان نوح مراد ہے۔
Ayah 71:2

قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 71:2 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ بھائیوں میں تم کو کھلے طور پر نصحیت کرتا ہوں

نوح ( علیہ السلام) کا قوم کو خطاب : 2 : قَالَ یٰقَوْمِ (انہوں نے کہا اے میری قوم) اظہار شفقت کیلئے ان کو اپنی قوم کہہ کر پکارا۔ اِنِّیْ لَکُمْ نَذِیْرٌ (میں تمہارے لئے ڈرانے والا ہوں) نذیر بمعنی مخوف ہے مُّبِیْنٌ (صاف صاف) میں اللہ تعالیٰ کے پیغامات کو تمہاری جانی پہچانی زبان میں بیان کرتا ہوں۔
Ayah 71:3

اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَطِیْعُوْنِۙ Open ayah 71:3 in the Quran reader

کہ خدا کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو اور میرا کہنا مانو

3 : اَنِ اعْبُدُ وا اللّٰہَ (کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو) اس کو وحدہٗ لا شریک مانو۔ فائدہ : اس اَنْ کا حکم دونوں صورتوں میں وہی ہے جو اوپر ان انذر میں بیان ہوا۔ وَاتَّقُوْہُ (اور اس سے ڈرو) اس کی نافرمانی سے ڈرو۔ وَاَطِیْعُوْنِ (اور میرا کہنا مانو ! ان چیزوں میں جن میں میں تمہیں حکم دیتا اور منع کرتا ہوں) یہاں اطاعت کی نسبت اپنی طرف کی کیونکہ کبھی اطاعت غیر اللہ کی عبادت کے علاوہ بھی ہوتی ہے۔
Ayah 71:4

یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرْكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَآءَ لَا یُؤَخَّرُ١ۘ لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 71:4 in the Quran reader

وہ تمہارے گناہ بخش دیگا اور (موت کے) وقت مقرر تک تم کو مہلت عطا کرے گا جب خدا کا مقرر کیا ہوا وقت آجاتا ہے تو تاخیر نہیں ہوتی کاش تم جانتے ہوتے

4 : یَغْفِرْلَکُمْ (وہ معاف کردے گا) یہ امرکا جواب ہے مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ (تمہارے گناہ) مِنْ بیانیہ ہے جیسا کہ اس آیت میں فاجتنبوا الرجس من الاوثان نمبر 2۔ من تبعیضیہ ہے۔ کیونکہ حقوق اللہ معاف ہوجاتے ہیں جو مخلوق کے حقوق ہوتے ہیں وہ اسلام کے بعد بھی قابل مواخذہ ہیں۔ مثلاً قصاص (کذا فی شرح التاویلات) وَیُؤَ خِّرْ کُمْ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی (اور تم کو وقت مقررہ تک مہلت دے گا) اجل مسمی سے وقت موت مراد ہے۔ اِنَّ اَجَلَ اللّٰہِ اِذَا جَآ ئَ لَایُؤَخَّرُ لَوْکُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا وقت جب آجائے گا تو ٹلے گا نہیں۔ کیا خوب ہوتا اگر تم سمجھتے) اجل اللہ ؔ سے موت مراد ہے۔ لو کنتم تعلمون کاش تمہیں معلوم ہوجائے کہ مقرروقت کے اختتام پر تمہیں کتنی بڑی شرمندگی کا سامنا کرنا ہوگا تو تم ایمان لے آتے۔ ایک قول یہ ہے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ قوم نوح اگر ایمان لائے گی تو ان کو ایک ہزار سال عمر ملے گی۔ اور اگر وہ ایمان نہ لائے تو ان کو نو سو سال کے اختتام پر ہلاک کردیا جائے گا۔ پس ان کو کہا جا رہا ہے کہ تم ایمان لائو تاکہ اجل مقررہ تک تمہیں مؤخر کردیا جائے۔ یعنی ایک ہزار سال کی مدت پالو۔ پھر ان کو خبر دی۔ کہ جب ہزار سال گزرجائیں گے تو وہ وقت ایسا نہیں کہ اس کو مؤخر کردیا جائے جیسا کہ پہلا مؤخر کیا گیا۔ ایک قول یہ ہے کہ وہ اپنی قوم کی طرف سے خطرہ محسوس کرتے تھے کہ اگر وہ ایمان لا کر دعوت نوح کو قبول کرلیں گے تو ان کی قوم ان کو ہلاک کر دے گی۔ تو گویا نوح (علیہ السلام) نے ان کو اس سلسلہ میں مطمئن کیا اور ان سے وعدہ فرمایا ایمان لا کر وہ دنیا میں اپناوقت مقررہ کو ضرور پورا کریں گے۔ مطلب یہ ہوا۔ اگر اسلام لے آئو گے تو اپنے دشمنوں سے اپنی موت کے وقت تک زندہ رہو گے۔
Ayah 71:5

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلًا وَّ نَهَارًاۙ Open ayah 71:5 in the Quran reader

جب لوگوں نے نہ مانا تو نوح نے خدا سے عرض کیا کہ پروردگار میں اپنی قوم کو رات دن بلاتا رہا

5 : قَالَ رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلًا وَّنَھَارًا (نوح (علیہ السلام) نے دعا کی۔ اے میرے رب میں نے اپنی قوم کو دن کو بھی اور رات کو بھی بلایا) یعنی بلا تھکاوٹ محسوس کیے ہمیشہ ان کو بلایا۔
Ayah 71:6

فَلَمْ یَزِدْهُمْ دُعَآءِیْۤ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 71:6 in the Quran reader

لیکن وہ میرے بلانے سے اور زیادہ گریز کرتے رہے

نتیجہ دعوت میں قوم کا فرار : 6 : فَلَمْ یَزِدْ ھُمْ دُعَآئِ یْ اِلَّا فِرَارًا (پس میرے بلانے پر اور زیادہ بھاگتے رہے) آپ کی اطاعت سے دعوت کو سبب فرار قرار دیا گیا۔ حالانکہ دعوت سبب فرار تو نہ تھی۔ کیونکہ دعوت کے نتیجہ میں نفرت پیدا ہو کر فرار اختیار کیا گیا۔ یہ اسی طرح ہے جیسا یہ ارشاد واما الذین فی قلوبھم مرض فزاد تھم رجسًا ] التوبہ : 125[ قرآن مجید زیادہ رجس کا سبب تو نہیں اصل قرآن سن کر نفرت بڑھی اور اس نفرت سے رجس کفر اور زیادہ ہوگئی۔ اس قوم کا حال یہ تھا کہ ایک آدمی نوح (علیہ السلام) کے پاس اپنے بیٹے کو لے جا کر یہ نصیحت کرتا۔ اس سے بچتے رہنا کہیں یہ تمہیں دھوکے میں مبتلا نہ کر دے۔ چناچہ بیٹا ! میرے والد نے بھی مجھے اس بات کی وصیت کی تھی جو میں تمہیں کر رہا ہوں۔
Ayah 71:7

وَ اِنِّیْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْۤا اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَ اسْتَغْشَوْا ثِیَابَهُمْ وَ اَصَرُّوْا وَ اسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًاۚ Open ayah 71:7 in the Quran reader

جب جب میں نے انکو بلایا کہ (توبہ کریں اور) تو ان کو معاف فرمائے تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور کپڑے اوڑھ لئے اور اڑ گئے اور اکڑ بیٹھے

قوم کی کیفیت : 7 : وَاِنِّیْ کُلَّمَا دَعَوْتُہُمْ (اور میں نے جب کبھی ان کو بلایا) تاکہ وہ آپ پر ایمان لائیں۔ لِتَغْفِرَلَھُمْ (تاکہ آپ ان کو بخش دیں) تاکہ وہ ایمان قبول کرلیں اور آپ ان کو بخش دیں۔ یہاں مسبب کے تذکرہ پر اکتفاء کیا گیا۔ جَعَلُوْٓا اَصَابِعَھُمْ فِیْ اٰذَانِھِمْ (تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں دے ڈالیں) انہوں نے اپنے کانوں کو بند کرلیا تاکہ وہ میری بات سننے نہ پائیں۔ وَاسْتَغْشَوْا ثِیَا بَہُمْ (اور اپنے کپڑے لپیٹ لیے) انہوں نے اپنے آپ کو کپڑوں سے ڈھانپ لیا تاکہ وہ مجھے نہ دیکھ پائیں۔ اس لئے کہ وہ دین کے داعی کے چہرے کو دیکھنا بھی پسند نہ کرتے تھے۔ وَاَصَرُّوْا (اور انہوں نے اصرار کیا) وہ اپنے کفر پر قائم رہے۔ وَاسْتَکْبَرُوا اسْتِکْبَارًا (اور انہوں نے غایت درجہ کا تکبر کیا) مجھے جواب دینے سے اپنے کو بڑا سمجھا۔ نکتہ : مصدر کو لانا اس بات کو ظاہر کر رہا ہے کہ وہ استکبار میں بہت ہی آگے جانے والے تھے۔
Ayah 71:8

ثُمَّ اِنِّیْ دَعَوْتُهُمْ جِهَارًاۙ Open ayah 71:8 in the Quran reader

پھر میں ان کو کھلے طور پر بھی بلاتا رہا

8 : ثُمَّ اِنِّیْ دَعَوْتُھُمْ جِھَارًا (پھر میں نے ان کو بآواز بلند بلایا) جھار ًاؔ مصدر ہے جو حال کی جگہ لایا گیا ہے۔ ای مجاہر ًا نمبر 2۔ یہ مصدر ہے دعوتہم اس کے اس مثال کی طرح ہے قعدا لقرفصاء۔ کیونکہ جہاد دعوت کی ایک قسم ہے۔ یعنی اظھرت لھم الدعوۃ فی المحافل۔ میں نے محفلوں میں ان کے سامنے کھل کر دعوت دی۔
Ayah 71:9

ثُمَّ اِنِّیْۤ اَعْلَنْتُ لَهُمْ وَ اَسْرَرْتُ لَهُمْ اِسْرَارًاۙ Open ayah 71:9 in the Quran reader

اور ظاہر اور پوشیدہ ہر طرح سمجھاتا رہا

خفیہ اعلانیہ دعوت تھی : 9 : ثُمَّ اِنِّیْ اَعْلَنْتُ لَھُمْ وَاَسْرَرْتُ لَھُمْ اِسْرَارًا (پھر میں نے ان کو علانیہ سمجھایا اور ان کو بالکل خفیہ بھی سمجھایا) میں نے علانیہ دعوت کو خفیہ دعوت کے ساتھ ملا کر کیا۔ حاصل یہ ہے دن رات ان کو خفیہ دعوت دی پھر ان کو بآوازِ بلند دعوت دی۔ پھر ان کو خفیہ اور علانیہ ملا کر دعوت دی۔ امر بالمعروف کرنے والا اسی طرح کرتا ہے۔ آسان بات سے شروع کرتے پھر سخت سے سخت بات کہتے۔ افتتاح خفیہ نصیحت سے فرماتے۔ جب وہ قبول نہ کرتے تو دوبارہ بلند آواز سے ان کو دعوت دیتے۔ جب اس کا اثر نہ ہوتا تو تیسری بار جہر و سر کو جمع فرماتے۔ ثمکا لفظ حالات کے باہمی بعد کو بیان کر رہا ہے۔ کیونکہ بلند آواز کہنا یہ خفیہ کہنے سے سخت انداز ہے اور دونوں کو جمع کرنا ان کو الگ الگ بیان کرنے سے زیادہ سخت تر ہے۔
Ayah 71:10

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًاۙ Open ayah 71:10 in the Quran reader

اور کہا اپنے پروردگار سے معافی مانگو کہ وہ بڑا معاف کرنیوالا ہے

10 : فَقُلْتُ اسْتَغفِرُوْا رَبَّکُمْ (میں نے کہا تم اپنے رب سے گناہ بخشوائو) استغفار مغفرت طلب کرنے کو کہتے ہیں اگر استغفار کرنے والا کافر ہو تو کفر سے توبہ کرنا اور معافی مانگنا ہوگا۔ اور اگر گناہ گار مومن ہو۔ تو وہ گناہوں سے استغفار ہوگا یہاں شرک سے استغفار مراد ہے۔ اِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا (بیشک وہ بڑا بخشنے والا ہے) وہ انابت کرنے والے لوگوں کے گناہ بخشتا چلا آرہا ہے۔
Ayah 71:11

یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًاۙ Open ayah 71:11 in the Quran reader

وہ تم پر آسمان سے لگاتار مینہ برسائے گا .

11 : یُّرْسِلِ السَّمَآ ئَ عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا (وہ کثرت سے تم پر بارش بھیجے گا) الماءؔ سے بارش مراد ہے۔ مدرارًا بکثرت بارش والا۔ یہ مفعال کا وزن ہے اس میں تذکیر و تانیث برابر ہے۔
Ayah 71:12

وَّ یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًاؕ Open ayah 71:12 in the Quran reader

اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہیں باغ عطا کریگا (اور ان مییں) تمہارے لئے نہریں بہاوے گا

12 : وَّ یُمْدِدْکُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ (وہ تمہارے مال اور اولاد میں ترقی دیگا) تمہارے اموال و اولاد میں اضافہ فرما دے گا۔ وَیَجْعَلْ لَّکُمْ جَنّٰتٍ (اور تمہارے لیئے باغ لگا دے گا) جنات : باغات۔ وَّ یَجْعَلْ لَّکُمْ اَنْھٰرًا (اور تمہارے لئے نہریں بہا دے گا) جو تمہارے کھیتوں اور باغوں میں جاری ہونگی وہ اموال و اولاد سے بہت محبت کرتے تھے۔ اس بناء پر اسی کے ذریعہ ان کے دلوں میں ایمان کی تحریک پیدا کرنے کی کوشش فرمائی۔ ایک قول یہ ہے بار بار دعوت کو جب طویل عرصہ گزر گیا اور انہوں نے جھٹلا دیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان سے بارش کو بند کردیا۔ اور ان کی عورتیں اولاد سے بانجھ ہوگئیں یہ چالیس یا ساٹھ سال تک رہا۔ پس نوح (علیہ السلام) نے ان سے وعدہ فرمایا کہ اگر وہ ایمان کو قبول کرلیں گے تو اللہ تعالیٰ سرسبزی عنایت کردیں گے۔ اور وہ سارے مصائب جن میں وہ مبتلا ہیں وہ ان سے ہٹا لئے جائیں گے۔ واقعہ حضرت عمر ؓ : ایک مرتبہ صلاۃ استسقاء کیلئے باہر تشریف لائے۔ پس انہوں نے فقط استغفار کیا۔ ان سے کہا گیا کہ آپ نے بارش طلب نہیں کی ہے تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا میں نے آسمان کے ان سرچشموں سے بارش کی دعا کی ہے۔ جن سے بارش اترتی ہے۔ حضرت عمر ؓ نے استغفار کو بارش کے ان سرچشموں سے تشبیہ دی جو کبھی خطا ٔ نہیں کرتے۔ بلکہ ان سے ہمیشہ بارش ہوتی ہے۔ اور پھر آپ نے یہ آیات تلاوت فرمائیں۔ روایت حسن بصری (رح) : ایک آدمی نے ان سے قحط کی شکایت کی تو آپ نے اس کو استغفار کا کہا دوسرے نے فقر کی شکایت کی تو آپ نے استغفار کا کہا تیسرے نے قلت نسل اور چوتھے نے شادابی زمین کی قلت کی شکایت کی تو آپ نے سبکو استغفار کا حکم دیا۔ ان کے شاگرد ربیع (رح) نے کہا آپ کے پاس آنے والے تو مختلف حاجات کا سوال کر رہے ہیں اور آپ نے سب کو استغفار کا حکم دیا ہے پس آپ نے یہ آیات پڑھ دیں۔
Ayah 71:13

مَا لَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰهِ وَقَارًاۚ Open ayah 71:13 in the Quran reader

تم کو کیا ہوا ہے کہ تم خدا کی عظمت کا اعتقاد نہیں رکھتے

13 : مَالَکُمْ لَاتَرْجُوْنَ لِلّٰہِ وَقَارًا (تم کو کیا ہوا کہ تم اللہ تعالیٰ کی عظمت کے معتقد نہیں ہوتے ہو) تم اللہ تعالیٰ کی عظمت سے نہیں ڈرتے ہو (کذا قال الکلبی) قول اخنس (رح) : یہاں رجاء خوف کے معنی میں ہے۔ کیونکہ رجاء کے ساتھ تھوڑا خوف اور ناامیدی ہوتی ہے الوقارؔ : عظمت۔ نمبر 2۔ اس کی توقیر و تعظیم کی تم کو امید نہیں کہ وہ کس قدرتمہاری قدر دانی اور تمہارا اکرام کرے گا۔ مطلب یہ ہے کہ تمہیں کیا ہوگیا کہ تم ایسی حالت پر نہیں آتے جس میں تم اللہ تعالیٰ کی اس قدر دانی کی امید کرو جو آخرت میں تم کو میسر ہوگی۔
Ayah 71:14

وَ قَدْ خَلَقَكُمْ اَطْوَارًا Open ayah 71:14 in the Quran reader

حالانکہ اس نے تم کو طرح طرح (کی حالتوں) کا پیدا کیا ہے

تخلیق انسانی کے مراتب : 14 : وَقَدْ خَلَقَکُمْ اَطْوَارًا (حالانکہ اس نے تم کو طرح طرح سے بنایا) قد خلقکم اطوارًا نحو : یہ موضع حال میں ہے۔ مطلب یہ ہے تم اللہ تعالیٰ پر ایمان کیوں نہیں لاتے حالانکہ حال یہ ہے اور یہ ایسا حال ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان کو لازم کرنے والا ہے۔ کیونکہ اس نے تمہیں طرح طرح سے بنایا یعنی متعدد بار پہلے تمہاری تخلیق نطفہ پھر علقہ پھر مضغہ پھر تمہاری ہڈیاں اور گوشت بنایا۔
Ayah 71:15

اَلَمْ تَرَوْا كَیْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًاۙ Open ayah 71:15 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے سات آسمان کیسے اوپر تلے بنائے ہیں

قدرتِ عظیمہ کے نمونے : 15 : نفوس انسانیہ قریب تر ہونے کی وجہ سے پہلے ان کی طرف متوجہ کر کے خبردار کیا پھر جہان میں نظر دوڑانے کو کہا اور ان چیزوں پر نظر ڈالنے کو کہا جو بنانے والے کی عظیم قدرت پر شہادت دے رہے ہیں۔ فرمایا اَلَمْ تَرَوْا کَیْفَ خَلَقَ اللّٰہُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا (کیا تم کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح سات آسمان اوپر نیچے پیدا کیے) طباقًا ایک دوسرے کے اوپر۔
Ayah 71:16

وَّ جَعَلَ الْقَمَرَ فِیْهِنَّ نُوْرًا وَّ جَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا Open ayah 71:16 in the Quran reader

اور چاند کو ان میں (زمین) کا نور بنایا ہے اور سورج کو چراغ ٹھیرایا ہے

16 : وَّجَعَلَ الْقَمَرَ فِیْھِنَّ نُوْرًا (اور ان میں چاند کو نور بنایا) آسمانوں میں یہ چاند آسمان دنیا میں ہے کیونکہ آسمانوں میں طبقات ہونے کی بناء پر باہمی مناسبت ہے اس لئے اس مناسبت کا لحاظ کر کے ضمیرجمع لانا درست ہے اگرچہ چاند سب میں نہ ہو۔ جیسا کہ عرب کہتے ہیں۔ فی المدینۃ کذا حالانکہ وہ اس کی کسی ایک طرف میں ہوتا ہے۔ قول ابن عباس و ابن عمر ؓ : سورج اور چاند دونوں کے رخ آسمانوں کی طرف اور ان کا نور آسمانوں میں ہی ہے اور ان کی پشت زمین کی طرف ہے۔ پس چاند کی روشنی تمام آسمانوں کو محیط ہے۔ کیونکہ وہ لطیف ہے ان کے نور پر حجاب نہیں ڈالے گئے۔ وَّجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا (اور سورج کو چراغ بنایا) ایسا دیا کہ اہل دنیا اس کی روشنی میں اس طرح دیکھتے ہیں جس طرح گھر والے دئیے کی روشنی میں وہ چیز دیکھ لیتے ہیں جس کی ان کو ضرورت ہوتی ہے اور چاند کی روشنی سے سورج کی روشنی زیادہ تیز و طاقتور ہے۔ اس پر اتفاق ہے۔ کہ سورج چوتھے آسمان میں ہے۔
Ayah 71:17

وَ اللّٰهُ اَنْۢبَتَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًاۙ Open ayah 71:17 in the Quran reader

اور خدا ہی نے تم کو زمین سے پیدا کیا ہے

17 : وَاللّٰہُ اَمنْبَتَکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًا (اور اللہ تعالیٰ نے تم کو زمین سے ایک خاص طور پر پیدا کیا) انبت ؔ یہاں انشاء کے معنی میں ہے گویا انبات کو بطور استعارہ انشاء کے معنی میں لائے ہیں۔ نباتاؔ یہ مصدر ہے ای فنبتم نباتا۔ تم پیدا ہوئے پیدا ہونا۔
Ayah 71:18

ثُمَّ یُعِیْدُكُمْ فِیْهَا وَ یُخْرِجُكُمْ اِخْرَاجًا Open ayah 71:18 in the Quran reader

پھر اسی میں تمہیں لوٹا دیگا اور (اسی سے) تم کو نکال کھڑا کرے گا

18 : ثُمَّ یُعِیْدُ کُمْ فِیْھَا (تم کو پھر وہ زمین میں ہی لے جائے گا) موت کے بعد وَیُخْرِجُکُمْ (اور تم کو باہر نکالے گا) یعنی قیامت کے دن اِخْرَاجًا یہ مصدر ہے جو تاکید کیلئے لائے (تاکہ معلوم ہو کہ تخلیق اول کی طرح تخلیق ثانی بھی ضروری ہے) وہ تم کو نکالے گا کیا خوب نکالنا۔
Ayah 71:19

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًاۙ Open ayah 71:19 in the Quran reader

اور خدا ہی نے زمین کو تمہارے لئے فرش بنایا

19 : وَاللّٰہُ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًا (اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے زمین کو فرش بنایا) بساطًا بچھی ہوئی جیسا کہ فرش ہوتا ہے۔
Ayah 71:20

لِّتَسْلُكُوْا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا۠ Open ayah 71:20 in the Quran reader

تاکہ اس کے بڑے بڑے کشادہ راستوں میں چلو پھرو

20 : لِّتَسْلُکُوْا مِنْھَا (تاکہ تم چلو) تاکہ تم آئو جائو جیسا آدمی اپنے بستر پر الٹتا پلٹتا ہے۔ سُبُلًا ( راستوں میں) فِجَاجًا (وسیع یا مختلف)
Ayah 71:21

قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ اِنَّهُمْ عَصَوْنِیْ وَ اتَّبَعُوْا مَنْ لَّمْ یَزِدْهُ مَالُهٗ وَ وَلَدُهٗۤ اِلَّا خَسَارًاۚ Open ayah 71:21 in the Quran reader

(اسکے بعد) نوح نے عرض کی کہ اے میرے پروردگار یہ لوگ میرے کہنے پر نہیں چلے اور ایسوں کے تابع ہوئے ہیں جن کو انکے مال اور اولاد نے نقصان کے سوا کچھ فائدہ نہیں دیا

21 : قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ اِنَّھُمْ عَصَوْنِیْ (نوح (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار ان لوگوں نے میرا کہنا نہیں مانا) جو کہ میں نے ان کو حکم دیا کہ ایمان لائو اور استغفار کرو۔ وَاتَّبَعُوْا (اور انہوں نے پیروی کی فقراء اور کمینے لوگوں نے) مَنْ لَّمْ یَزِدْہُ مَالُہٗ وَوَلَدُہٗ (کہ جن کے مال اور اولاد نے زیادہ پہنچایا) رؤساء اور مالدار اور اولادیں۔ اِلَّا خَسَارًا (نقصان) آخرت میں۔ قراءت : عاصم کے علاوہ عراقی اور مکی نے وَوُلْدُہٗ پڑھا ہے جو کہ وَلَدْ کی جمع ہے جیسے اُسْدٌ و اَسَد۔
Ayah 71:22

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًاۚ Open ayah 71:22 in the Quran reader

اور وہ بڑی بڑی چالیں چلے

قوم نوح کی حیلہ بازی : 22 : وَمَکَرُوْا (اور انہوں نے تدبیریں کی) اس کا عطف لم یزدہؔ پر ہے ضمیر جمع لائی گئی ہے۔ حالانکہ مرجع منؔ مفرد ہے کیونکہ یہ معناً جمع ہے الماکرون : رؤساء قوم نوح۔ مکرھمؔ ان کے مکر سے ان کی دین کے متعلق حیلہ سازیاں اور نوح (علیہ السلام) کے خلاف سازشیں اور لوگوں کو انہیں تکلیف پہنچانے کیلئے برانگیختہ کرنا اور نوح (علیہ السلام) کی طرف لوگوں کے میلان کو روکنا وغیرہ۔ مَکْرًا کُبَّارًا (بہت بڑی بڑی تدبیریں) کُبَّار یہ کِبَار سے بڑی چیز کیلئے آتا ہے۔ اور یہ کبیر سے بھی بڑھ کر ہے۔ قراءت : ایک قراءت میں کِبَارًا پڑھا گیا ہے۔
Ayah 71:23

وَ قَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَ لَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّ لَا سُوَاعًا١ۙ۬ وَّ لَا یَغُوْثَ وَ یَعُوْقَ وَ نَسْرًاۚ Open ayah 71:23 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور ود اور سواع اور یغوث اور نسر کو کبھی ترک نہ کرنا

23 : وَقَالُوْا (اور انہوں نے کہا) سرداروں نے اپنے ماتحتوں کو لَا تَذَرُنَّ اٰلِھَتَکُمْ (تم اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑو) یہ اپنے عموم پر ہے یعنی ان کی عبادت نہ چھوڑو۔ قراءت : نافع نے وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا (نہ روکو) دُدًا ضمہ سے پڑھا ہے اور یہ دونوں لغتیں ہیں۔ یہ بت آدمی کی صورت میں تھا۔ وَّلَاسُوَاعًا (سواع کو) یہ بت عورت کی شکل کا تھا۔ وَّلَا یَغُوْثَ (اور یغوث کو) یہ شیر کی شکل پر تھا وَیَعُوْقَ (اور یعوق کو) یہ گھوڑے کی صورت پر تھا۔ وَنَسْرًا (اور نسرکو) نحو : یہ دونوں اسم غیر منصرف ہیں۔ وزن فعل اور معرفہ ہیں اگر ان کو عربی لفظ مانا جائے اور اگر عجمی مانیں تو معرفہ اور عجمہ پھر بھی دو سبب پائے جاتے ہیں۔ یہ جن بتوں کا تذکرہ آیا ہے یہ ان کے نزدیک سب سے بڑے بت تھے پہلے عمومی تذکرہ کے بعد ان کا خاص ذکر کیا۔ یہ بت قوم نوح سے عرب میں منتقل ہوئے۔ ودؔ یہ بنوکلب اور سواع۔ ھمدان اور یغوث۔ مذحج اور یعوق۔ مراد قبیلہ اور نسرؔ حمیر والوں کے بت تھے۔ یہ نیک لوگوں کے نام ہیں : ایک قول یہ ہے یہ نیک لوگوں کے نام ہیں لوگ نوح (علیہ السلام) اور آدم (علیہ السلام) کے درمیانی زمانہ میں ان کی اقتداء کرتے تھے۔ جب یہ فوت ہوگئے تو لوگوں نے ان کی تصاویر بنالیں تاکہ یہ بات ان کو عبادت کیلئے برانگیختہ کرتی رہے جب عرصہ گزر گیا تو ابلیس نے ان کے کانوں میں پھونکی۔ کہ وہ لوگ ان تصاویر کی عبادت کرتے تھے۔ پس انہوں نے شیطان کے کہنے پر ان کی عبادت شروع کردی۔
Ayah 71:24

وَ قَدْ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا١ۚ۬ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا ضَلٰلًا Open ayah 71:24 in the Quran reader

(پروردگار) انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا ہے اور تو ان کو اور گمراہ کر دے

24 : وَقَدْ اَضَلُّوْا (انہوں نے بہتوں کو گمراہ کردیا) یعنی اصنام نے جیسا کہ اس ارشاد میں ہے انہن اضللن کثیرًا من الناس ] ابراہیم : 36[ یا سرداروں نے کَثِیْرًا (بہت لوگوں کو) وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ (اور ان ظالموں کی گمراہی اور بڑھا دی) نحو : اس کا عطف رب انہم عصونی پر ہے۔ اور یہ کلام نوح کی حکایت ہے۔ قالؔ کے بعد اور وائو کے بعد جو اس کا نائب ہے۔ معنی یہ ہوگا قال نوح رب انہم عصونی وقال لاتزد الظالمین یعنی نوح (علیہ السلام) نے یہ دونوں باتیں فرمائیں۔ اور یہ دونوں محل نصب میں واقع ہیں کیونکہ یہ قال کے مفعول ہیں۔ اِلَّا ضَلٰلًا ضلال ؔ یہ ہلاکت کے معنی میں ہے۔ جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا۔ ولا تزد الظالمین الا تبارًا (آپ ظالموں کی ہلاکت میں اضافہ فرمادیں) ] نوح : 28 [
Ayah 71:25

مِمَّا خَطِیْٓئٰتِهِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا١ۙ۬ فَلَمْ یَجِدُوْا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْصَارًا Open ayah 71:25 in the Quran reader

(آخر) وہ اپنے گناہوں کے سبب ہی غرقاب کردیے گئے پھر آگ میں ڈال دیئے گئے تو انہوں نے خدا کے سوا کسی کو اپنا مددگار نہ پایا

25 : مِمَّا خَطِیْئٰتِھِمْ (اپنے انہی گناہوں کے سبب) قراءت : ابو عمرو نے خطایا ھم پڑھا۔ معنی گناہ ہے۔ غرق گناہوں کے باعث ہوا : اُغْرِقُوْا (وہ غرق کیے گئے) طوفان کے ساتھ فَاُدْخِلُوْا نَارًا (پھر دوزخ میں داخل کیے گئے) ۔ بڑی آگ میں داخل کیے گئے۔ مما خطیئاتھم کو وضاحت کیلئے مقدم کیا گیا۔ اگرچہ ان کا غرق اور ان کا آگ میں داخلہ وہ صرف ان کی غلطیوں اور ان کے گناہ کے باعث تھا۔ اس معنی کو ماؔ زیادہ کر کے اور مؤکد کردیا گیا۔ یہ آیت گناہوں کے مرتکب کو ڈانٹ پلانے کیلئے کافی ہے۔ قوم نوح (علیہ السلام) کا کفر ان کی من جملہ غلطیوں اور گناہوں میں سے ایک تھا۔ اگرچہ یہ گناہ سب سے بڑا تھا۔ فادخلوا نارا۔ فاءؔ اس لئے لائی گئی کہ ان کو غرق کے معاً بعد احراق نارکا عذاب دیا گیا۔ اس صورت میں یہ عذاب قبر کے ثبوت کی دلیل ہے۔ فَلَمْ یَجِدُ وْا لَھُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَنْصَارًا (اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کو کچھ حمایتی بھی میسر نہ ہوئے) جو ان کی مدد کرتے اور اللہ تعالیٰ کے اس عذاب سے ان کو بچاتے۔
Ayah 71:26

وَ قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ دَیَّارًا Open ayah 71:26 in the Quran reader

اور (پھر) نوح نے (یہ) دعا کی کہ اے میرے پروردگار کسی کافر کو روئے زمین پر بسا نہ رہنے دے

26 : وَقَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَاتَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ دَیَّارًا ( اور نوح نے کہا اے میرے پروردگار کافروں میں سے زمین پر ایک باشندہ بھی مت چھوڑ) کوئی ایک نہ چھوڑ جو زمین میں گھومے پھرے۔ دَیَّارا یہ فیْعَال کا وزن ہے۔ الدور سے بنا ہے۔ یہ ایسے اسموں میں سے ہے۔ جو نفی عام کیلئے استعمال ہوتے ہیں۔
Ayah 71:27

اِنَّكَ اِنْ تَذَرْهُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَكَ وَ لَا یَلِدُوْۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا Open ayah 71:27 in the Quran reader

اگر تو انکو رہنے دے گا تو تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان سے جو اولاد ہوگی وہ بھی بدکار اور ناشکر گزار ہوگی

27 : اِنَّکَ اِنْ تَذَرْھُمْ (اگر آپ ان کو روئے زمین پر رہنے دیں گے) اور ان کو ہلاک نہ کریں گے یُضِلُّوْا عِبَادَکَ (تو یہ لوگ آپ کے بندوں کو گمراہ کریں گے) ان کو گمراہی کی طرف دعوت دیں گے۔ وَ لَایَلِدُوْا اِلَّا فَاجِرًا کَفَّارًا (اور ان کے محض فاجر اور کافر ہی اولاد پیدا ہوگی) جو بھی بلوغت کو پہنچا اس نے فجور و کفر اختیار کیا۔ یہ بات انہوں نے اس بنیاد پر کہی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مطلع کردیا تھا فرمایا لن یؤمن من قومک الامن قد ٰامن ] ھود : 36[
Ayah 71:28

رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَّ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا تَبَارًا۠ Open ayah 71:28 in the Quran reader

اے میرے پر دوردگار مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اور جو ایمان لا کر میرے گھر میں آئے اسکو اور تمام ایمان والے مردوں اور ایمان ولی عورتوں کو معاف فرما۔ اور ظالم لوگوں کے لیے اور زیادہ تباہی بڑھا۔

28 : رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ (اے میرے رب مجھ کو اور میرے ماں باپ) آپ کے والدین مسلمان تھے۔ آپ کے والد کا نام لمک اور والدہ کا نام شمخاء ایک قول یہ ہے وہ آدم وحواء ہیں۔ قراءت : لولدیّ پڑھا گیا اس سے مراد سام اور حام ہیں۔ وَ لِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ (اور جو مومن ہونے کی حالت میں میرے گھر میں داخل ہیں ان کو) بیتیؔ سے مراد میرا مکان نمبر 2۔ میری مسجد نمبر 3۔ میری کشتی مُؤْمِنًا کیونکہ ان کو معلوم ہوگیا کہ جو ان کے گھر میں آگئے ہیں وہ کفر کی طرف نہ لوٹیں گے۔ وَّ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ( اور تمام مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو بخش دے) جو قیامت تک آنے والے ہیں۔ آیت میں پہلے ان کو خصوصًا بیان کیا جو خود ان کی ذات سے متصل تھے کیونکہ وہ زیادہ حقدار ہیں۔ اور آپ کی دعا کے زیادہ مستحق ہیں۔ پھر عام مؤمنین اور مؤمنات کو شامل فرمایا۔ وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا تَبَارًا ( اور ظالموں کی ہلاکت اور بڑھا دیجئے) ظالمینؔ سے کافر مراد ہیں۔ تبارؔ ہلاکت وتباہی۔ پس ان کو ہلاک کردیا گیا۔ قول ابن عباس ؓ : نوح (علیہ السلام) نے دو دعائیں فرمائیں۔ نمبر 1۔ ایمان والوں کیلئے مغفرت کی اور کافروں کیلئے تباہی و ہلاکت کی۔ کفار کے متعلق آپ کی دعا تو تباہی کی صورت میں قبول کرلی گئی پس ناممکن ہے کہ ایمان والوں کے حق میں آپ کی دعاقبول نہ ہوئی ہو۔ ایک اختلاف : جب ان کو غرق کیا گیا تو ان کے بچوں کے متعلق اختلاف ہے ایک قول یہ ہے ان کی عورتوں کے ارحام کو طوفان سے چالیس سال قبل بانجھ کردیا تھا۔ پس ان کے ساتھ کوئی بچہ نہ تھا جب ان کو ڈبویا گیا۔ ایک اور قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ان کی براءت کا علم ہے پس ان کو بغیر عذاب کے ہلاک کردیا گیا۔