Ayah 76:1انسانی ذرات میں :
1 : ھَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّھْرِ لَمْ یَکُنْ شَیْئًا مَّذْکُوْرًا (بیشک انسان پر زمانہ میں ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے۔ جس میں وہ کوئی چیز قابل تذکرہ نہ تھا)
ھَلْ اَتٰی آچکا، گزر چکا علی الْاِنْسَانِ اس سے آدم (علیہ السلام) مراد ہیں۔ حِیْنٌ مِّنَ الدَّھْرِ روح پھونکنے سے چالیس سال پہلے آپ کی تصویر بنائی گئی۔ لَمْ یَکُنْ شَیْئًا مَّذْکُوْرًا اس کا نام نہ لیا جاتا تھا۔ اور نہ کوئی جانتا تھا کہ اس سے کیا مراد ہے۔ کیونکہ وہ مٹی کے ذرات تھا جس پر زمانہ گزر رہا تھا۔ اور اگر وہ غیر موجودہوتا تو پھر ھل اتی نہ کہا جاتا کہ اس پر ایک زمانہ گزرا ہے۔ لم یکن شیئًا مذکورًا یہ حال ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہے انسان ذوالحال ہے۔ مطلب یہ ہے اتی علیہ حین من الدھرغیر مذکور۔ انسان پر زمانہ کا ایک ایسا وقت گزرا ہے کہ وہ مذکور نہ تھا۔
Ayah 76:22 : اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ (ہم نے اس کو پیدا کیا) اولاد آدم۔ ایک قول یہ ہے اول بھی انسان سے مراد اولاد آدم ہے۔ اور حین من الدھر سے اس صورت میں مراد اس کا ماں کے پیٹ میں ٹھہرنے کا زمانہ ہے۔ یہاں تک کہ وہ لوگوں میں قابل ذکر شئی بن گیا۔ مِنْ نُّطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ (ملے جلے نطفے سے) یہ صفت ہے نمبر 2۔ اس سے بدل ہے۔ یعنی نطفہ سے جیسا کہ من نطفۃ ] النحل : 4[ اس میں دونوں پانی مل گئے۔ اور مشج اور مزج کا ایک معنی ہوا۔ اور نطفۃ امشاج یہ بُرمَۃُ اعشارٌ (پتھر کی دیگ جس کو دس آدمی اٹھائیں) کی طرح ہے۔ یہ لفظ مفرد ہے جمع نہیں اسی لئے یہ مفرد کی صفت واقع ہوا ہے۔ نَّبْتَلِیْہِ (اس طور پر ہے کہ ہم اس کو مکلف بنائیں) یہ حال ہے۔ یعنی ہم نے اس کو پیدا کیا اس حال میں کہ ہم امرو نہی سے اس کو آزمانے کا ارادہ کرنے والے تھے۔ فَجَعَلْنٰہُ سَمِیْعًام بَصِیْرًا (تو ہم نے اس کو سنتا دیکھتا بنایا) آنکھوں، کانوں والا بنایا۔
Ayah 76:3دو راستے :
3 : اِنَّا ھَدَیْنٰـہُ السَّبِیْلَ (ہم نے اس کو راستہ بتلایا) ہم نے اس کے سامنے ہدایت کا راستہ عقل و سمع کے دلائل سے واضح کردیا۔ اِمَّا شَاکِرًا (یا تو وہ شکر گزار ہوگیا) ایمان لا کر وَّ اِمَّا کَفُوْرًا (یا نا شکرا ہوگیا) کفر اختیار کر کے۔ یہ دونوں ھدیناہ کی ضمیر سے حال ہیں۔ تقدیر کلام یہ ہے ان شکر اَوْکفر فقد ھدیناہ السبیل فی الحالین اگرچہ وہ شکر اختیار کرے یا کفر ہم نے تو دونوں حالتوں میں اس کی راہنمائی راستہ کی طرف کردی ہے۔
نمبر 2 : السبیل سے حال ہے۔ ہم نے اس کو راستہ کی پہچان کر ادی۔ اس حال میں کہ وہ شکرگزاری والا راستہ ہو یا ناشکری والا۔ اس صورت میں السبیل کی صفت کفرو شکر بطور مجاز بنیں گی۔
Ayah 76:4کفار کا انجام :
4 : ربط : جب فریقین کا ذکر کیا تو ان کے پیچھے جو ان کے لئے تیار کیا گیا اس کو ذکر کیا۔ اِنَّآ اَعْتَدْ نَا لِلْکٰفِرِیْنَ سَلٰسِلَا (ہم نے کافروں کیلئے تیار کر رکھی ہیں زنجیریں) سلاسل جمع سلسلہ کی ہے۔
قراءت : حفص نے بلا تنوین پڑھا ہے۔ اسی طرح مکی، ابو عمرو، حمزہ نے بھی مگر دیگر قراء نے مناسبت کی خاطر تنوین پڑھی ہے۔ وَاَغْلٰـلًا وَّ سَعِیْرًا (طوق اور آتش سوزاں) چونکہ یہ دونوں تنوین کے ساتھ ہیں تو ان کی مناسبت سے سلاسلًا پڑھا گیا۔ کیونکہ غیر منصرف کو مناسبت کی وجہ سے منصرف پڑھنا جائز ہے۔ اغلال جمعغُلّ کی ہے۔ سعیرًا بڑھکتی آگ۔
Ayah 76:5ابرار کا بدلہ :
5 : اور فرمایا اِنَّ الْاَبْرَارَ (جو نیک ہیں) ابرارجمع برٌّ کی ہے۔ یا بارٌّ کی جیسے رب وارباب وشاہد و اشہاد۔ بَرَّ جو ایمان میں سچا ہو یا جو باطن میں شر کو نہیں چھپاتے اور چیونٹی تک کو بھی دکھ نہیں دے۔ یَشْرَبُوْنَ مِنْ کَاْسٍ (وہ ایسے جام شراب سے پیویں گے) کاس سے کاس خمر، شراب کے جام، یہاں نفس خمر کو کاس کہہ دیا۔ ایک قول یہ ہے الک اس شیشے کا گلاس جب اس میں شراب ہو۔
کاَنَ مِزَاجُھَا (اس کی آمیزش) کَافُوْرًا (کافور کی ہوگی) کافور کا پانی کیونکہ کافور جنت کے ایک چشمے کا نام ہے۔ جس کے پانی کی سفیدی کافور جیسی ہے اور اسی طرح کی خوشبو اور ٹھنڈک۔
Ayah 76:66 : عَیْنًا : یہ کافورکا بدل ہے۔ یَّشْرَبُ بِھَا عِبَادُ اللّٰہِ (ایسے چشمے سے جس سے اللہ تعالیٰ کے خاص بندے پئیں گے) بامن کے معنی میں ہے اس سے پئیں گے نمبر 2۔ باء زائدہ ہے۔ نمبر 3۔ یشرب بھا کا معنی یتلذذبھا اس سے لذت حاصل کریں گے۔ نمبر 4۔ یشرب بھا یروٰی بھا کے معنی میں ہے ان کو اس سے سیراب کیا جائے گا۔ پہلے لفظ مِنؔ لائے اور پھر حرف باء لائے۔ کیونکہ جام سے انکے پینے کی ابتداء ہوگی اور پہلی غایت ہے۔ باقی چشمہ تو اس کے پانی کو وہ ملاکر پئیں گے تو گویا اس طرح فرمایا یشرب عباد اللہ بھا الخمر۔ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے اس سے شراب پئیں گے۔ یُفَجِّرُ وْنَھَا (جس کو وہ بہا کرلے جائینگے) اپنے مکانوں میں جہاں چاہیں گے جاری کرلیں گے۔ تَفْجِیْرًا (آسانی کے ساتھ) کہ کسی قسم کی رکاوٹ نہ بنے گی۔
Ayah 76:7ایفائے نذر ‘ خوفِ قیامت اور صدقہ :
7 : یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ (وہ لوگ واجبات کو پورا کرتے ہیں) جو انہوں نے اپنے اوپرلازم کیا۔ یہ اس شخص کا جواب ہے جو یہ کہے ان کو کیا ہوا کہ وہ یہ رزق دیئے جارہے ہیں ؟ تو جواب دیا کہ وہ اپنے اوپر لازم کردہ باتوں کو پورا کرنے والے ہیں۔ وفا بالنذر سے ان کی صفت بیان کر کے یہ کہا گیا کہ وہ کثرت سے ادائے واجبات کرتے ہیں۔ کیونکہ جو شخص اپنے نفس پر اللہ تعالیٰ کی خاطر کوئی چیز لازم کر کے اتنی وفاداری کرنے والا ہے تو اللہ تعالیٰ نے جو اس پر واجب کی ہیں ان پر تو بدرجہ اولیٰ وہ کاربند ہوگا۔ وَیَخَافُوْنَ یَوْمًا کَانَ شَرُّہٗ مُسْتَطِیْرًا (اور وہ ایسے دن سے ڈرتے ہیں جس کی سختی عام ہوگی) مستطیر پھیلنے والی۔ یہ استطار الفجر ؔ سے لیا گیا ہے۔
Ayah 76:88 : وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ (اور وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی محبت سے کھانا کھلاتے ہیں) حبہؔ کی ضمیر طعام کی طرف راجع ہے۔ ای حب الطعام یعنی کھانے کی چاہت اور حاجت کے باوجود۔ نمبر 2۔ یا اللہ تعالیٰ کی طرف ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کی خاطر کھلاتے ہیں۔ مِسْکِیْنًا (مسکین کو) وہ فقیر جو کمائی سے عاجز ہو۔ وَّ یَتِیْمًا (اور یتیم کو) جس کا باپ نہ ہو۔ اس نابالغ کو یتیم کہتے ہیں۔ وَّاَسِیْرًا (قیدی کو) غلام یا دیگر۔
Ayah 76:9انتہاء کا خلوص :
9 : پھر انہوں نے اپنے کھانا کھلانے کی وجہ ذکر کی۔ کہا اِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اللّٰہِ (ہم تم کو محض اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی خاطر کھانا کھلاتے ہیں۔ ) یعنی ثواب حاصل کرنے کیلئے نمبر 2۔ یا یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے دلوں کی بات ظاہر کی گئی کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کو جانتے ہیں ان کے خلوص کی وجہ سے ان کی تعریف فرمائی اگرچہ وہ لوگوں کو زبان سے کچھ نہیں کہتے۔ لَا نُرِیْدُ مِنْکُمْ جَزَآ ئً (نہ ہم تم سے بدلہ چاہیں) کوئی ہدیہ اس کھلانے پر وَّ لَا شُکُوْرًا (اور نہ شکریہ) تعریفی کلمات۔
نحو : یہ شکر کی طرح مصدر ہے۔
Ayah 76:1010 : اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا (ہم اپنے رب کی طرف سے اندیشہ رکھتے ہیں) ہم تم سے اس صدقہ پر کوئی بدلہ کا ارادہ نہیں رکھتے کیونکہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے صدقہ کے بدلہ پر عذاب وسزا کا ڈر ہے۔ نمبر 2۔ ہمیں اپنے رب کا ڈر ہے۔ پس اس کی خاطر ہم صدقہ کرتے ہیں۔ تاکہ ہم اس خوف (منتظر) سے محفوظ رہیں۔ یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا (ایک سخت اور تلخ دن کا) یہاں یوم کی صفت اشقیاء سے کی گئی ہے۔ جیسا کہتے ہیں۔ نھارک صائم حالانکہ دن تو روزہ دار نہیں ہوتا شدت التباس سے کہہ دیتے ہیں۔ والقمطریر ؔ سخت ترش روئی۔ جو آنکھوں کے مابین ماتھے پر ظاہر ہو۔
Ayah 76:111 1 : فَوَقٰھُمُ اللّٰہُ شَرَّ ذٰلِکَ الْیَوْمِ (پس اللہ تعالیٰ ان کو اس دن کی سختی سے محفوظ رکھے گا) یعنی اس کی سختیوں سے بچائے گا۔ وَلَقّٰھُمْ (اور ان کو عطا فرمائے گا) فجار کی ترشروئی کے بدلے عنایت فرمائے گا۔ نَضْرَۃً (تروتازگی) چہرے کا حسن وَّ سُرُوْرًا (اور خوشی) دلوں میں فرحت۔
Ayah 76:12صبر کا بدلہ ملے گا :
12 : وَجَزٰھُمْ بِمَا صَبَرُوْا (اور ان کی پختگی کے بدلہ میں ان کو ان کا رب دے گا) ایثار پر جمے رہنے کی وجہ سے۔ یہ آیت علی و فاطمہ اور فضہ (لونڈی) ؓ کے متعلق اتری جب حسن و حسین ؓ بیمار ہوگئے تو انہوں نے تین دنوں کی نذر مانی، علی ؓ نے ایک یہودی سے تین صاع جو لیے۔ فاطمہ ؓ نے ہر روز ایک صاع پیس کر آٹا گوندھا۔ اور انہوں نے افطار کے وقت میں آنے والے مسکین، یتیم، اسیر کو روٹیاں دے دیں اور خود پانی سے روزہ افطار کیا۔ (قال الحکیم الترمذی، ھذا الحدیث مزوق فھذا وا شباھہ عامتھا مفتعلۃ نوادر الاصول : 246، 247) ۔ جَنَّۃً (باغ جس میں خوشگوار کھانے کی اشیاء ہوں گی) وَّ حَرِیْرًا (اور ریشم) اس میں پر رونق لباس ہوگا۔
Ayah 76:1313 : مُّتَّکِئِیْنَ
نحو : یہ جزاء ھمؔ کے ھم سے حال ہے۔
فِیْھَا (اس حالت میں کہ وہ تکیہ لگائے ہوئے ہونگے) ھاؔ کی ضمیر جنت کی طرف جاتی ہے۔ عَلَی الْاَرَآئِکِ (مسہریوں پر) تختے یہ اریکۃ کی جمع ہے۔ لَایَرَوْنَ (نہ پاویں گے)
نحو : یہ متکئین میں ضمیر مرفوع سے حال ہے۔ ای غیررائین نہ دیکھیں گے۔ فِیْھَا (اس باغ میں) شَمْسًا وَّلَا زَمْھَرِیْرًا (تپش نہ جاڑا) کیونکہ جنت میں سورج ہے اور نہ ہی زمہریر۔ جنت کے سائے دائمی اور اس کی ہوا متعدل نہ سورج کی دھوپ کہ جو گرمی پہنچائے اور نہ شدید سردی کہ کپکپائے اور ایذاء پہنچائے۔ حدیث میں وارد ہے جنت کی ہوا متعدل ہے نہ اس میں حرارت نہ برودت (زمخشری فی الکشاف) الزمہریر ؔ سخت سردی۔ ایک قول زمہریر سے مراد چاند ہے۔ جنت روشن ہے۔ اس میں سورج و چاند کی محتاجی نہیں ہے۔
Ayah 76:1414 : وَدَانِیَۃً عَلَیْھِمْ ظِلٰلُھَا (اور یہ حالت ہوگی کہ درختوں کے سائے ان پر جھکے ہونگے) ان کے درختوں کے سائے ان کے قریب ہوں گے۔
جنت کے سائے :
نحو : اس کا عطف جنۃ پر ہے۔ وجنۃ اخری دانیۃ علیھم ظلالھا۔ گویا ان سے دو باغوں کا وعدہ کیا گیا۔ کیونکہ ان کی تعریف خوف سے کی گئی۔ فرمایا : انا نخاف من ربنا۔ ہمیں اپنے رب کا خوف ہے۔ اور فرمایا ولمن خاف مقام ربہ رجنتان۔ (الرحمان۔ 46) وَذُلِّلَتْ (اور ان کے اختیار میں ہونگے) کھڑے ہونے والے اور بیٹھنے والے اور ٹیک لگانے والے کیلئے برابر ہونگے۔ ای تدنو ظلالہا علیہم فی حال تذلیل قطوفھاعلیہم ان کے سائے ان پر اس حالت میں تابع ہونگے جیسا ان کے پھلوں کا توڑنا۔ نمبر 2۔ دانیۃ پر معطوف ہے ای ودانیۃ علیہم ظلالھا ومذلّلۃ قطوفھا اور ان کے سائے ان کے قریب ہونگے اور ان کا پھل توڑنا ان کے تابع ہوگا۔ قُطُوْفُھَا (ان کا توڑنا) ان کے پھلوں کا توڑنا۔ قطوف جمع قطف کی ہے۔ تَذْلِیْلًا (اختیار میں کرنا)
Ayah 76:15جنت کے برتن :
15 : وَیُطَافُ عَلَیْھِمْ بِاٰنِیَۃٍ مِّنْ فِضَّۃٍ (اور ان کے پاس چاندی کے برتن لائے جاوینگے) ان کے خدام ان پر شراب کے جام گھمائیں گے۔ الاٰنیہ جمع اناء۔ پانی کا برتن۔ وَّاَکْوَابٍ (آبخورے) یعنی چاندی کے اکواب جمع کو ب ایسا لوٹا جس کا دستہ نہ ہو۔ کَانَتْ قَوَارِیْرا (جو شیشے کے ہونگے) یہ کان تامہ ہے۔ ای کوّنت فکانت قواریرا بتکوین اللہ۔ ان کو بنایا گیا پس وہ اللہ تعالیٰ کے بنانے سے قواریر بن گئے۔
نحو : حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
Ayah 76:1616 : قَوَا رِیْرَا مِنْ فِضَّۃٍ (وہ شیشے چاندی کے ہونگے) یعنی چاندی سے بنے ہونگے۔ وہ چاندی کی سفیدی اور اس کے حسن کے جامع ہونگے اور صفائی اور شفافیت میں شیشے جیسے ہونگے۔ اس طرح کہ باہر سے اندر کا تمام مشروب نظر آجائے گا۔
قول ابن عباس ؓ :
قوار یر۔ ہر زمین کے (قوار یر) شیشے اس کی زمین سے ہوتے ہیں اور جنت کی زمین چاندی کی بنی ہے۔
قراءت : نافع، کسائی، عاصم اور ایک روایت میں ابوبکر نے تنوین دونوں میں پڑھی ہے۔ اور حمزہ، ابن عامر، ابوعمرو، حفص نے دونوں میں بلاتنوین پڑھا ہے۔ اور ابن کثیر نے اول میں تنوین۔ اور وہ تنوین بھی پہلی آیات کی مناسبت کی وجہ سے ہے۔ اور دوسری میں تنوین پہلے کی اتباع کی وجہ سے ہے۔ اور پہلے پر وقف کے متعلق کہا گیا ہے مگر قابل اعتماد نہیں کیونکہ دوسرا پہلے کا بدل ہے۔ قَدَّرُوْھَا تَقْدِیْرًا (جن کو بھرنے والوں نے ایک مناسب اندازہ سے بھرا ہوگا) یہ قواریر من فضۃ کی صفت ہے یعنی اہل جنت مخصوص شکلوں میں ان کو بھریں گے اور انہوں نے اتنا ہی بھرا جتنا بطور اکرام اندازہ کرنا چاہیے۔ نمبر 2۔ پلانے والے ان کو پینے والوں کی سیرابی کے مطابق بھریں گے۔ وہ ان کے لئے نہایت لذیذ و خفیف ہوگا۔ مجاہد کا قول یہ ہے نہ بہے گا اور نہ خشک و کم ہوگا،۔
Ayah 76:1717 : وَیُسْقَوْنَ (اور ان کو پلایا جائے گا) یعنی ابرار کو فِیْھَا (اس میں) یعنی جنت میں کَاْسًا (جام شراب) کَانَ مِزَاجُھَازَنْجَبِیْلًا (اس میں سونٹھ کی ملاوٹ ہوگی)
Ayah 76:18چشمہ سلسبیل :
18 : عَیْنًا یہ زنجبیل کا بدل ہے۔ فِیْھَا (جنت میں) تُسَمّٰی (ایسے چشمے سے جو وہاں ہوگا جس کا نام ہوگا) یعنی اس چشمے کا نام سَلْسَبِیْلًا (سلسبیل) چشمے کا نام زنجبیل اس لئے رکھا گیا کہ اس میں سونٹھ کا ذائقہ ہوگا۔ اہل عرب اس سے لذت حاصل کرتے اور اس کو عمدہ قرار دیتے تھے۔ اور اس کو سلسبیل اس لیے کہا کہ وہ حلق میں جلدی سے اتر جائے گا اور اس کا نگلنا آسان ہوگا۔
قول ابو عبیدہ ؓ :
ماء سلسبیل یعنی میٹھا پاکیزہ پانی۔
Ayah 76:1919 : وَیَطُوْفُ عَلَیْھِمْ وِلْدَانٌ (اور ان کے پاس ایسے لڑکے آمدورفت کریں گے) غلمان جن کو اللہ تعالیٰ ایمان والوں کی خدمت کیلئے پیدا فرمائیں گے۔ نمبر 2۔ کفار کی چھوٹی اولاد کو اہل جنت کا خادم بنادیا جائے گا۔ مُّخَلَّدُوْنَ (جوہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے) جو نہ مریں گے۔ اِذَا رَاَیْتَھُمْ حَسِبْتَھُمْ (اے مخاطب ! اگر تو ان کو دیکھے تو یوں سمجھے) حسن اور رنگت کے نکھار اور مجالس میں۔ بکھرنے کی وجہ سے لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا (وہ بکھرے ہوئے موتی ہیں) موتی کو منثور ؔ یعنی بکھرنے سے خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ بکھرا موتی پروئے موتی سے زیادہ خوبصورت لگتا ہے۔
Ayah 76:2020 : وَاِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ (اے مخاطب ! اگر تو اس جگہ کو دیکھے) ثمؔ۔ یہ ظرف ہے۔ اس جگہ سے مراد جنت ہے۔ رأیت کا کوئی مفعول ظاہر نہیں ہے۔ اور نہ ہی مقدر ہے۔ تاکہ ہر ہر مرئی چیز میں شائع ہو اس کی تقدیرعبارت اس طرح ہے۔ واذا اکتسبت الرویۃ فی الجنۃ۔ اور جب تم جنت میں رؤیت کرلو۔ رَاَیْتَ نَعِیْمًا (پھر تو بہت سی نعمتیں دیکھے گا) وَّ مُلْکًا کَبِیْرًا (اور بڑی سلطنت) اور وسیع ملک۔ کبیر وسیع کے معنی میں ہے۔
روایت میں ہے ادنی جنتی کو ایسی بادشاہت ملے گی کہ وہ ایک ہزار سال کی مسافت کے برابر ہوگی۔ وہ اپنی سلطنت کے قریبی حصہ کو جس طرح دیکھے گا اسی طرح اس کے آخری حصہ کو بھی دیکھے گا۔ ] رواہ احمد : 2/64 الترمذی : 2556[ ایک قول یہ ہے ایسی بادشاہی جس کو زوال نہیں۔ نمبر 2۔ اس میں ان کو اپنی چاہت کے مطابق ہر چیز میسر ہوگی۔ نمبر 2۔ ان کو فرشتے سلام کریں گے اور ان کے پاس اجازت لے کر داخل ہونگے۔
Ayah 76:21جنتیوں کے کپڑے :
21 : عَلَیْھِمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ (ان جنتیوں پر ایک باریک ریشم کے سبز کپڑے ہونگے)
نحو : یطوف علیہم کی ضمیر سے حال ہونے کی بناء پر علیہم منصوب ہے۔ ای یطوف علیہم ولدان عالیا للمطوف علیھم۔ ثیابؔ۔ سکون کے ساتھ مدنی، حمزہ نے پڑھا۔ اس کو مبتدأ قرار دیا اس کی خبرثیاب سندس ہے۔ ما یعلوھم من ملابسھم ثیاب سندس جو ان کے اوپروالے کپڑے ہیں وہ ایک بار ریشم کے ہونگے۔ سندس : باریک ریشم خضرٌ یہ اخضر کی جمع ہے وَّ اِسْتَبْرَقٌ موٹا دونوں مرفوع ہیں۔ اس صورت میں ثیاب سے متعلق ہونگے۔ نافع و حفص نے اسی طرح پڑھا ہے۔ اور حمزہ، علی نے مجرور پڑھا اور سندس پر محمول کیا ہے۔ دیگر قراء نے اول کا رفع اور ثانی کا جر پڑھا ہے یا اس کا عکس۔ وَّحُلُّوْٓا (اور ان کو پہنائے جائیں گے)
نحو : اس کا عطف ویطوف علیہم پر ہے۔ اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّۃٍ (چاندی کے کنگن) اور سورة الملائکہ 00 میں ہے یحلون فیھا من اساور من ذھب ولؤلؤ ] فاطر : 33[
قول ابن مسیب :
ہر جنتی کے ہاتھ میں تین کنگن ہونگے۔ ایک چاندی، دوسرا سونے اور تیسرا موتی کا ہوگا۔ وَسَقٰھُمْ رَبُّھُمْ (اور ان کا رب ان کو پینے کو دے گا) یہاں اللہ تعالیٰ کی طرف پلانے کی نسبت عظمت و تشریف اور تخصیص ظاہر کرنے کیلئے ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ ملائکہ ان کو شراب پیش کریں گے تو وہ انکار کردیں گے۔ اور کہیں گے ہم تو عرصہ سے ان کو غلمان کے ہاتھوں پی رہے ہیں۔ اچانک پیالے خود بخود بغیر ہاتھوں کے ان کے مونہوں تک پہنچ جائیں گے۔
شرابِ جنت :
شَرَابًا طَھُوْرًا (پاکیزہ شراب) اس میں دنیا کی شراب والی پلیدی نہ ہوگی۔ شراب کی پلیدی شرع سے ثابت ہے عقل سے نہیں۔ اور وہاں تکلیف نہیں ( پس اس شراب کی پلیدی کا کوئی معنی نہیں) ۔ نمبر 2۔ اس کو ہاتھوں نے نچوڑا نہیں کہ میل والے ہاتھ اس تک پہنچیں اور میلے قدم اس کو روندنے پائیں۔ محض قدرت الٰہی سے وہ تیار ہوگی۔
Ayah 76:2222 : اہل جنت کو کہا جائے گا اِنَّ ھٰذَا کَانَ لَکُمْ جَزَآئً (یہ تمہارا صلہ ہے) ھذا سے مراد نعمتیں جزاءؔ یعنی تمہارے اعمال کی جزاء ہے۔ وَّکَانَ سَعْیُکُمْ مَّشْکُوْرًا (اور تمہاری کوشش مقبول ہوئی) قابل تعریف اور مقبول ہمارے ہاں پسندیدہ ہوئی۔ جبکہ تم نے یتیم ‘ اسیر، مسکین کو کہا۔ لا نرید منکم جزاء ولا شکورا۔ ہم تم سے بدلہ و شکر یے کے طالب نہیں۔
Ayah 76:23قرآن کی نعمت :
23 : اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْقُراٰنَ تَنْزِیْلًا (ہم نے آپ پر قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا ہے) ضمیر کو دوبارہ لائے اول ضمیر اَنَّ کا اسم بن گئی۔ دراصل اس سے تاکید درتاکید مقصود ہے کہ قرآن مجید کا اتارنا اللہ تعالیٰ ہی کی ذات سے خاص ہے۔ تاکہ آپ کے دل میں یہ بات اور زیادہ پختہ کردی جائے کہ جب قرآن مجید کو اتارنے والے اللہ تعالیٰ ہیں تو تھوڑا اتارنا یقینا حکمت اور بہتری کے پیش نظر ہے۔ اور آپ کا اس پر ایذاء کو سہنا حکمت سے خالی نہیں۔ اسی طرح اہل مکہ جو آپ کی دشمنی میں پیش پیش ہیں ان کے خلاف آپ کی نصرت میں تاکید حکمت بیش کی وجہ سے ہے۔
Ayah 76:2424 : فَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ (آپ اپنے رب کے حکم کے مطابق صبر کیے رہیئے)
کافر و گنہگار کے پیچھے نہ چلیں :
وَ لَاتُطِعْ مِنْہُمْ (آپ ان میں سے کسی کے کہنے پر نہ آئیے) ھمؔ سے کفار مراد ہیں۔ اس بات سے اکتا کر کہ کامیابی میں تاخیر ہو رہی ہے۔ اٰثِمًا (فاسق) جو گناہ کا مرتکب، اور آپ کو گناہ کی طرف دعوت دینے والا ہو۔ اَوْکَفُوْرًا (یا کافر) کفر کا مرتکب اور آپ کو کفر کی طرف بلانے والا ہو۔ کیونکہ وہ آپ کو اپنی معاونت کی طرف یا تو اس فعل کی شرط پر دعوت دیتے ہونگے جو گناہ ہے
یا کفر یا گناہ نہیں اور نہ کفر۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو پہلی دو صورتوں کی مساعدت پر ممانعت کردی۔ نہ کہ تیسری۔
ایک قول گناہ گارؔ سے یہاں عتبہ مراد ہے کیونکہ وہ گناہوں اور فسوق کا رسیا تھا۔ اور کافر ؔ سے الولید مراد ہے۔ کیونکہ وہ کفر و انکار میں غلو کرنے والا تھا۔
قول ظاہر یہ ہے کہ ہر گناہ گار اور کافر مراد ہے۔ کہ ان میں سے کسی کی بھی بات نہ مانیں، جب ایک کی بات ماننے سے روکا تو دونوں کی بات تسلیم کرنے سے روکنا خود ہوگیا۔ اور الگ بھی ممانعت ہر ایک کے لئے ثابت ہوگئی۔ اور اگر یہ وائو کے ساتھ ہو تو پھر جائز ہے کہ ان میں سے ایک کی بات مانیں۔ کیونکہ وائو جمع کیلئے ہے پس دونوں کی اکٹھی اطاعت سے ممانعت ہوگی نہ کہ کسی ایک کی اطاعت سے۔ ایک قول یہ ہے اوؔ بمعنی ولا ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے ولا تطع ٰاثما ولا کفورًا۔ نہ اطاعت کر گناہ گار کی اور نہ کافر کی۔
Ayah 76:2525 : وَاذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلًا (اور اپنے پروردگار کا صبح و شام نام لیجیے) اذکر ؔ سے مراد نماز پڑھو۔ بکرۃؔ سے صلاۃ الفجر اور اصیلاؔ سے نماز ظہر و عصر۔
Ayah 76:26رات کا سجدہ :
26 : وَمِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَہٗ (اور کسی قدر رات کے حصہ میں بھی اس کو سجدہ کیجئے) اور رات کا بعض حصہ پس مغرب و عشاء کی نمازیں ادا کریں۔ وَسَبِّحْہُ لَیْلًا طَوِیْلًا (اور رات کے بڑے حصے میں اس کی تسبیح کیجئے) رات کے دو حصے جو کہ لمبا حصہ ہے تہجد کی نماز ادا کریں یا نصف رات یا ثلث لیل۔
Ayah 76:2727 : اِنَّ ھٰٓؤُلَآئِ (بیشک یہ) کافر یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَۃَ (عاجلہ سے محبت کرتے ہیں) عاجلہ سے محبت کا مطلب آخرت کے مقابلہ میں دنیا کو ترجیح دینا ہے۔ وَیَذَرُوْنَ وَرَآئَ ھُمْ (اور اپنے آگے چھوڑ بیٹھے ہیں) وراءؔ کا معنی آگے یا ان کی پیٹھوں کے پیچھے۔ یَوْمًا ثَقِیْلاً (ایک بھاری دن) ثقیل کا معنی شدید ہے کہ یہ اس کی پرواہ نہیں کرتے اور وہ قیامت کا دن ہے۔ کیونکہ اس کے شدائد کفار پر انتہائی شدید ہونگے۔
Ayah 76:2828 : نَحْنُ خَلَقْنٰھُمْ وَ شَدَدْنَآ اَسْرَھُمْ (ہم ہی نے ان کو پیدا کیا اور ہم ہی نے ان کے جوڑ بند مضبوط کیے) شددنا ہم نے مضبوط کیا۔ اسرھم ؔ ان کی خلقت۔ یہ قول عبد اللہ بن عباس ؓ اور فراء کا ہے۔ وَاِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَآ اَمْثَالَھُمْ تَبْدِیْلًا (اور جب ہم چاہیں تو انہی جیسے لوگ ان کی جگہ بدل دیں) یعنی جب ہم چاہیں کہ ان کو ہلاک کرنا ہے تو ہلاک کر ڈالیں گے اور ان کی جگہ اور لوگ بدل دیں گے جو خلقت میں ان جیسے انسان ہونگے مگر مطیع و فرمانبردار ہونگے۔
Ayah 76:2929 : اِنَّ ھٰذِہٖ (بیشک یہ) سورت تَذْکِرَۃٌ (نصیحت ہے) فَمَنْ شَآ ئَ اتَّخَذَاِلٰی رَبِّہٖ سَبِیْلًا (پس جو شخص چاہے اپنے رب کی طرف رستہ اختیار کرنا) تو طاعت سے اور اس کے رسول کی اتباع سے اس کا تقرب حاصل کرلے۔
Ayah 76:3030 : وَمَاتَشَآ ئُ وْنَ اِلَّآ اَنْ یَّشَآ ئَ اللّٰہُ (اور بدوں اللہ تعالیٰ کے چاہے تم لوگ کوئی بات چاہ نہیں سکتے) ماتشائون تم چاہ نہیں سکتے اللہ تعالیٰ کی طرف راستہ اختیار کرنا۔
قراءت : مکی، شامی، ابوعمرو نے یشائون پڑھا ہے۔
ط الا ان یشاء اللہ۔ یہ ظرفیت کی وجہ سے محلاً منصوب ہے۔ ای الا وقت مشیۃ اللہ۔ مگر اللہ تعالیٰ کی مشیئت کے وقت اللہ تعالیٰ اس کو اس کیلئے چاہیں گے جس کے متعلق وہ جانتے ہیں۔ کہ اس نے اس راستہ کو اختیار وپسند کرلیا۔ ایک قول یہ ہے یہ اطاعت و عصیان اور کفر و ایمان میں عموم مشیت کو ظاہر کرنے کیلئے ہے۔ اس صورت میں یہ معتزلہ کے خلاف ہم اہل سنت کی دلیل ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا (بیشک اللہ تعالیٰ بڑا علم والا) ان احوال کے متعلق جو ان سے پیش آئیں گے۔ حَکِیْمًا (حکمت والا ہے) افعال و اقوال میں مُصِیْب ہے۔
Ayah 76:31جنت اسکی رحمت سے :
31 : یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآئُ (وہ جس کو چاہے داخل کرلیتا ہے) اس سے مراد مومن ہیں۔ فِیْ رَحْمَتِہٖ (اپنی رحمت میں) اپنی جنت میں کیونکہ جنت اس کی رحمت ہی سے ملے گی۔ یہ معتزلہ کے خلاف ہماری دلیل ہے کیونکہ ان کے بقول اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ تمام کو اپنی رحمت میں داخل کرے۔ کیونکہ اس نے تمام کا ایمان چاہا۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں خبر دی کہ وہ جس کو چاہے گا اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا اور اسی ہی کی ذات کو علم ہے کہ وہ ہدایت کو اختیار کرے گا۔ وَالظّٰلِمِیْنَ (اور ظالموں کیلئے) یہاں ظالم سے کافر مراد ہیں۔ کیونکہ انہوں نے عبادت کو غلط مقام پر استعمال کیا۔ یہ حالت نصبی میں واقع ہے۔ اس فعل کی وجہ سے جس کی تفسیر اَعَدّ کر رہا ہے۔ مثلاً اوعد الظالمین یا کا فأ الظالمین۔ اَعَدَّلَہُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا (ان کے لئے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے)