Ayahs 77:1–6ہوائوں کی اقسام :
1، 2، 3، 4، 5، 6 : وَالْمُرْسَلٰتِ عُرْفًا۔ فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًا۔ وَّ النّٰشِرٰتِ نَشْرًا۔ فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًا۔ فَالْمُلْقِیٰتِ ذِکْرًا۔ عُذْرًا اَوْنُذْرًا (قسم ہے ان ہوائوں کی جو نفع پہنچانے کیلئے بھیجی جاتی ہیں۔ پھر ان ہوائوں کی جو تندی سے چلتی ہیں۔ اور ان ہوائوں کی جو بادلوں کو پھیلاتی ہیں۔ پھر ان ہوائوں کی جو بادلوں کو متفرق کردیتی ہیں۔ پھر ان ہوائوں کی جو اللہ کی یاد یعنی تو بہ کا یا ڈرانے کا القاء کرتی ہیں۔ ) اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی ان جماعتوں کی قسم اٹھائی ہے جن کو مختلف کاموں پر بھیجتے ہیں۔ پس وہ احکام کی تعمیل میں تیزی سے چلتے ہیں اور ان فرشتوں کی جماعتوں کی قسم جو اپنے پروں کو اس وقت پھیلاتے ہیں جب وہ وحی لے کر اترتے ہیں یا اللہ تعالیٰ کے احکامات کو زمین میں پھیلاتے ہیں۔ یا کفر و جہالت سے مرے ہوئے نفوس کو وحی کے ذریعہ وہ زندہ کرتے ہیں۔ پس وہ فرشتوں کی جماعتیں حق و باطل میں جدائی کرتی ہیں۔ پس انبیاء (علیہم السلام) کی طرف نصیحت کا القاء کرتی ہیں تاکہ حق پرستوں کیلئے عذر کا باعث ہو اور باطل پرستوں کیلئے ڈراوے کا ذریعہ بنے۔
نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ نے ان ہوائوں کی قسم اٹھائی جن سے اقوام کو عذاب دیا۔ پس ان کو بھیجا پس وہ چلیں بہت تیز۔ اور ان ہوائوں کی جو فضاء میں بادلوں کو پھیلاتی ہیں۔ پھر جدا جدا کرتی ہیں۔ جیسا کہ اس ارشاد میں ویجعلہ کسفا ] الروم : 48 [ پس وہ ذکر کا القاء کرتی ہیں۔ خواہ ان لوگوں کے عذر کیلئے جو توبہ کرکے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں معذرت چاہتے ہیں۔ اور استغفار کے ذریعہ معذرت کرتے ہیں جب وہ بادلوں میں اللہ تعالیٰ کا انعام دیکھتے ہیں۔ اور اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ یا ان لوگوں کو ڈرانے کیلئے جو ناشکرے ہیں اور بارش کی نسبت ستاروں کی طرف کرتے ہیں۔ ان ہوائوں کو ملقیات ذکرا اس لئے کہا کہ وہ ذریعہ ہیں۔ عرفًا
نحو : یہ حال ہے ای متتابعۃ پے درپے جیسے گھوڑے کی گردن کے بال جو ایک دوسرے کے پیچھے ہوتے ہیں۔ نمبر 2۔ یہ مفعول لہ ہے۔ وہ ہوائیں احسان و بھلائی کی خاطر بھیجی جاتی ہیں۔
عصفاؔ و نشرا :
نحو : یہ دونوں مصدر ہیں۔ مفعول مطلق ہیں۔
قراءت : او نُذرًا ابو عمرو، کوفی سوائے ابوبکر اور حماد کے بلاتنوین پڑھا ہے۔ العذر والنذر۔ یہ دونوں مصدر ہیں۔ عذر الاساءۃ جب وہ برائی کو مٹائے اور انذرؔ سے نذر ہے۔ جب کہ وہ ڈرائے یہ فُعل کے وزن پر ہے جیسے کفر، شکر یہ دونوں ذکر ًا سے بدلیت کی بناء پر منصوب ہیں۔ یا مفعول لہ ہونے کی وجہ سے۔
Ayah 77:77 : اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ (کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے) یعنی قیامت کا دن جس کی آمد کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ لَوَاقِعٌ (وہ ضرور ہونے والی ہے) اترنے والی ہے۔ اس کی آمد میں کوئی شبہ نہیں۔
نحو : یہ جواب قسم ہے یہاں تک وقف نہیں ہے کیونکہ جواب قسم سے متصل ہوتا ہے۔
Ayah 77:8منظر قیامت :
8 : فَاِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْ (پس جب ستارے بےنور ہوجائیں گے) مٹادیئے جائیں گے۔ یا ان کی روشنی جاتی رہے گی۔
نحو : فاِذاؔ کا جواب مخدوف ہے اور اس میں عامل اس کا جواب ہے۔ اور وہ فعل کا واقع ہونا وغیرہ ہے اور النجومؔ یہ اس فعل کا فاعل ہے۔ جس کی تفسیر طمست کر رہا ہے۔
Ayah 77:99 : وَاِذَا السَّمَآئُ فُرِجَتْ (اور جب آسمان پھٹ جائے گا) کھول دیا جائے گا پس وہ دروازے دروازے نظر آئے گا۔
Ayah 77:1010 : وَاِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ (اور جب پہاڑاڑتے پھریں گے) ان کو ان کے مقامات سے اکھاڑ دیا جائیگا۔
Ayah 77:1111 : وَاِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْ (اور جب پیغمبروقت معین پر جمع کیے جائیں گے) اقتت اصل میں وقتت ہے جیسا کہ ابو عمرو کی قراءت میں ہے وائو کو ہمزہ سے بدل دیا گیا۔ توقیت رسل کا مطلب اس وقت کا واضح کردینا جس میں ان کو شہا دت کیلئے حاضر ہونا ہے تاکہ وہ اپنی امتوں کے متعلق گواہی دیں۔
Ayah 77:1212 : لِاَیِّ یَوْمٍ اُجِّلَتْ (کس دن کیلئے پیغمبروں کا معاملہ ملتوی رکھا گیا ہے) مؤخر کیا گیا اور مہلت دے دی گئی۔ اس میں اس دن کی عظمت کو بتلایا اور اس کی ہولناکی پر تعجب کا اظہار کیا گیا۔ جیسا کہ وقت میں کوئی وقت ٹھہرا لیا جاتا ہے۔
Ayah 77:1313 : لِیَوْمِ الْفَصْلِ (فیصلہ کے دن کیلئے) یہ یوم مؤجل کا بیان ہے۔ وہ دن ہے جس میں مخلوقات کا باہمی فیصلہ ہوگا۔
Ayah 77:14فیصلے کا دن :
14 : وَمَآ اَدْرٰکَ مَایَوْمُ الْفَصْلِ ( اور آپ کو معلوم ہے کہ وہ فیصلہ کا دن کیا کچھ ہے) اس میں پھر تعجب کا اظہار کیا گیا اور اس کے معاملے کی بڑائی کو ظاہر کیا گیا۔
Ayah 77:1515 : وَیْلٌ (بڑی خرابی ہے)
نحو : نکرہ ہونے کے باوجود مبتدأ ہے کیونکہ اصل کے اعتبار سے مصدر منصوب ہے۔ جو اپنے فعل کے قائم مقام آگیا۔ لیکن نصب سے رفع کی طرف عدول کیا گیا۔ کیونکہ ہلاکت کے دوام و ثبات کو ظاہر کرتا ہے جس کے لئے یہ بددعا کی جائے۔ اور اس کی مثال سلامٌ علیکم ] القصص : 55[ اس کی خبر للمکذبین ہے۔
یَّوْمَپذٍ (اس دن)
نحو : یہ اس کا ظرف ہے۔ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ (جھٹلانے والوں کیلئے) جو اس دن کو جھٹلاتے ہیں۔
نحو : یہ ویلٌ کی خبر ہے۔
Ayah 77:16جھٹلانے والوں کی ہلاکت :
16 : اَلَمْ نُھْلِکِ الْاَوَّلِیْنَ (کیا ہم اگلے لوگوں کو ہلاک نہیں کرچکے) جھٹلانے والی اقوام جو گزشتہ زمانوں میں ہوئیں۔
Ayah 77:1717 : ثُمَّ نُتْبِعُھُمُ الْاٰخِرِیْنَ (پھر پچھلوں کو بھی ان کے ساتھ ساتھ کردیں گے) یہ وقف کے بعد جملہ مستانفہ ہے۔ یہ اہل مکہ کے نام وعید ہے کہ پھر ہم ان جیسے پچھلوں سے بھی وہی سلوک کریں گے جو پہلوں کے ساتھ کیا کیونکہ انہوں نے اسی طرح تکذیب کی جیسا انہوں نے کی۔
Ayah 77:1818 : کَذٰلِکَ (اسی طرح) اس جیسا سخت معاملہ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ (ہم مجرمین کے ساتھ کیا کرتے ہیں) ۔ ہر اس شخص سے جو جرم کرے۔
Ayah 77:1919 : وَیْلٌ یَّوْمَپذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ (اس روز جھٹلانے والوں کی بڑی خرابی ہوگی) اس کے سبب جو ہم نے وعدہ کیا ہے۔
Ayah 77:2020 : اَلَمْ نَخْلُقْکُّمْ مِّنْ مَّآ ئٍ مَّھِیْنٍ (کیا ہم نے تم کو ایک بےقدر پانی سے نہیں بنایا) مھینؔ حقیر اور وہ نطفہ ہے۔
Ayah 77:2121 : فَجَعْلَنٰـہُ (پھر ہم نے اس کو رکھا) یعنی پانی کو فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍ (ایک محفوظ جگہ میں) مقرؔ وہ جگہ جہاں کوئی چیز ٹھہرے۔ اور وہ رحم ہے۔
Ayah 77:2222 : اِلٰی قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ (ایک وقت مقررہ تک)
نحو : یہ محلاً حال ہے۔ اس کو وقت کی ایک مقدارتک مؤخر کیا۔ معلومؔ اللہ تعالیٰ کو وہ معلوم ہے اور اسی نے ہی فیصلہ فرمایا ہے۔ اور وہ نو ماہ یا اس سے اوپر یا اس سے کم۔
Ayah 77:2323 : فَقَدَرْنَا (غرض ہم نے ایک اندازہ ٹھہرایا) پس ہم نے اس کا ایک اندازہ کیا۔ فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ (پس ہم کیسے اچھے اندازہ کرنے والے ہیں) پس ہم اس کا خوب اندازہ کرنے والے ہیں۔ نمبر 2۔ پس ہم اس پر قدرت رکھتے ہیں پس ہم اس پر کیا خوب قدرت رکھنے والے ہیں۔ فَقَدَّرنا۔ پہلی تشدید والی قرء ات نافع و علی کے زیادہ مناسب ہے۔ اور اس قول باری تعالیٰ کی وجہ سے بھی من نطفۃ خلقہٗ فقدرہٗ ] عبس : 19[
Ayah 77:2424 : وَیْلٌ یَّوْمَپذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ( جھٹلانے والوں کی بڑی خرابی ہوگی) جو جھٹلاتے ہیں فطرت کے انعامات کو۔
Ayah 77:2525 : اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ کِفَاتًا (کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا) کِفَاتؔ۔ یہ کَفَتَ الشئی سے لیا گیا۔ جب اس کو ملائے اور جمع کرے یہ اسم ہے اس چیز کیلئے بولا جاتا ہے جو کفایت کرے سمیٹے۔ جیسا کہ عرب کا قول الضمامؔ اس کو بولتے ہیں جو ملائے اور اس کی وجہ سے احیاء ً و امواتًا منصوب ہے۔ گویا کلام اس طرح ہے کا فتۃ احیاء و امواتًا۔ وہ زمین مردوں اور زندوں کو سمیٹنے والی ہے۔ نمبر 2۔ اس کا فعل محذوف ہے اور کفاتاً اس پر دلالت کرتا ہے اور وہ تَکِفَتْ ہے کلام اس طرح ہے : تکفت احیائً علی ظہرھا و امواتا فی بطنھا۔ زمین نے زندوں کو پشت پر سمیٹ رکھا ہے اور مردوں کو اپنے بطن میں۔
Ayah 77:2626 : اَحْیَآ ئً وَّاَمْوَاتًا (زندوں اور مردوں کو) ان کی تنوین تفخیم کے لئے ہے کلام اس طرح ہے : تکفت احیاء لا یعدون وامواتا لایحصرون۔ وہ لاتعداد زندوں اور مردوں کو سمیٹتی ہے۔
Ayah 77:2727 : وَّجَعَلْنَا فِیْھَا رَوَاسِیَ (اور ہم نے اس میں پہاڑ بنائے گڑے رہنے والے پہاڑ) ۔ شٰمِخٰتٍ (بلند) وَّاَسْقَیْنٰـکُمْ مَّآئً فُرَاتًا (ہم نے تم کو میٹھا پانی پلایا)
Ayah 77:2828 : وَیْلٌ یَّوْمَپذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ (جھٹلانے والوں کیلئے اس روز بڑی خرابی ہے) جو ان نعمتوں کو جھٹلاتے ہیں۔
Ayah 77:2929 : اِنْطَلِقُوْٓا اِلٰی مَاکُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ (تم اس عذاب کی طرف چلو جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے) یعنی کفار کو قیامت کے دن کہا جائے گا تم اس آگ کی طرف چلو جس کو تم جھٹلاتے تھے۔
Ayah 77:3030 : اِنْطَلِقُوْٓا اِلٰی ظِلٍّ ذِیْ ثَلٰثِ شُعَبٍ (ایک سائبان کی طرف چلو جس کی تین شاخیں ہیں) انطلقواؔ کو تاکید کیلئے دوبارہ لائے۔ ظلؔ سے مراد جہنم کا دھواں ہے۔ ثلاث شعبؔ وہ کئی شاخوں میں بٹا ہوگا جن میں تین بڑی ہونگی۔ اور اسی طرح بڑا دھواں تین بڑے حصوں میں تقسیم ہوجائے گا۔
Ayah 77:3131 : لَّا ظَلِیْلٍ وَّلَا یُغْنِیْ مِنَ اللَّھَبِ (جس میں نہ سایہ ہے اور نہ وہ گرمی سے بچاتا ہے) ظلیلیہ ظل کی صفت ہے۔ مطلب یہ ہے وہ اس دن کی گرمی اور آگ کی حرارت سے سایہ دینے والے نہ ہوگا۔ ولا یغنیؔ یہ محل جر میں واقع ہے۔ ای و غیرمغن عنہم وہ ان کو فائدہ دینے والا نہ ہوگا۔ من اللھبؔ یعنی من حر اللہ ب بھڑک کی حرارت سے وہ ذرہ بھر کام نہ دے گا۔
Ayah 77:32محل جیسی چنگاری :
32 : اِنَّہَا تَرْمِیْ بِشَرَرٍ کَالْقَصْرِ (وہ انگارے برسائے گا جیسے بڑے بڑے محل) انھاؔ یعنی وہ آگ الشررؔ آگ سے اڑنے والی چنگاریاں کالقصرؔ محل کی طرح بڑی بڑی ہونگی۔ ایک قول یہ ہے گھنے درخت اس کا واحد قَصْرَۃٌہے۔
Ayah 77:3333 : کَاَنَّہٗ جِمٰلَتٌ صُفْرٌ (جیسے کالے کالے اونٹ)
قراءت : کو فیوں نے سوائے ابوبکر کے جِمَالَۃٌ پڑھا ہے۔ جمع جَمَلٍ کی ہے دیگرقراء نے جِمَالَاتٌ پڑھا جو کہ جمع الجمع ہے۔ صفر جمع اصفر یعنی ایسا سیاہ جو زردی کی طرف مائل ہو۔ ان انگاروں کو محلات سے تشبیہ دی کہ محلات جیسے بلند اور بڑے ہوتے ہیں اسی طرح وہ انگارے بڑے بڑے اور اونچے ہونگے۔ اور اونٹوں سے تشبیہ لمبائی ‘ بڑائی اور رنگت میں دی۔
Ayah 77:3434 : وَیْلٌ یَّوْمَپذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ (اس دن جھٹلانے والوں کیلئے بڑی خرابی ہے) بڑی خرابی اس لئے ہے کیونکہ وہ ان صفات سے متصف ہوگی۔
Ayah 77:3535 : ھٰذَا یَوْمُ لَایَنْطِقُوْنَ (یہ وہ دن ہوگا جس دن وہ بول نہ سکیں گے) یومؔ کو نصب سے پڑھا گیا ہے۔ کلام اس طرح ہے۔ ھذا الذی قص علیکم واقع یومئذٍ ۔ یہ جو تم پر بیان ہوا وہ اس دن پڑنے والا ہے۔
قول ابن عباس ؓ :
آپ سے اس آیت اور ثم انکم یوم القیامۃ عندربکم تختصمون ] الزمر : 31[ کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا اس دن کئی مواقف و مواقع ہیں۔ بعض میں وہ جھگڑیں گے اور بعض مواقع میں بات تک نہ کریں گے۔ نمبر 2۔ لا ینطقون ما ینفعھم ایسی بات نہ کریں گے جو ان کو مفید ہو۔ ان کی بات کو عدم نطق سے تعبیر کیا۔ (کیونکہ وہ بات نہ بات کرنے جیسے ہوگی)
Ayah 77:3636 : وَلَا یُؤْذَنُ لَھُمْ فَیَعْتَذِرُوْنَ (اور نہ انکو اجازت ہوگی۔ پس عذر بھی نہ کرسکیں گے) فیعتذرون کا عطف یوذن پر ہے۔ اور یہ بھی نفی کی لڑی میں پرویا ہوا ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے۔ لا یکون لھم اذن ولا اعتذار۔ نہ ان کو اجازت اور نہ معذرت کرنا ہوگی۔
Ayah 77:3737 : وَیْلٌ یَّوْمَپذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ (اس دن جھٹلانے والوں کیلئے بڑی خرابی ہوگی) جو کہ اس دن کو جھٹلانے والے ہیں۔
Ayah 77:38فیصلے اور جمع کا دن :
38 : ھٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ (یہ فیصلے کا دن ہے) اس میں حق پرست اور باطل پرست میں فیصلہ کیا جائے گا۔ اسی طرح محسن، بدسلوکی والے کو بدلہ دیا جائے گا۔ جَمَعْنٰکُمْ وَالْاَوَّلِیْنَ (ہم نے تم کو اور اگلوں کو جمع کرلیا) کمؔ سے مراد وہ مخاطبین جو آپ کی تکذیب کرنے والے تھے۔ الاولینؔ سے مراد وہ جو آپ سے پہلے تکذیب والی اقوام ہوگزریں۔
Ayah 77:3939 : فَاِنْ کَانَ لَکُمْ کَیْدٌ فَکِیْدُوْنِ (اگر تمہارے پاس کوئی تدبیر ہے تو مجھ پر چلا لو) کیدؔ عذاب کو دور کرنے کا حیلہ، فکیدونؔ وہ حیلہ مجھ پر چلا دیکھو تاکہ تم عذاب سے چھوٹ جائو۔ کیدؔ کا لفظ متعدی ہے تم کہتے ہو۔ کدت فلانا جب تم اس پر اپنا حیلہ استعمال کرو۔
Ayah 77:4040 : وَیْلٌ یَّوْمَپذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ (اس دن بڑی خرابی ہے ان لوگوں کیلئے جو تکذیب کرنے والے ہیں) بعث بعد الموت کی۔