Ayahs 75:1–21۔ (آیت) ” لا “۔ قسم کے ساتھ تاکید معنی کے لئے آتا ہے۔ اور اس کا یہ استعمال کلام عرب میں عام ہے۔ ادخال لاالنافیۃ علی فعل القسم مستفیض فی کلامھم واشعارھم وفائدتھا توکیدالقسم (کشاف) لاقبل القسم لتاکید النفی (ابن کثیر) (آیت) ” بالنفس اللوامۃ “۔ نفس لوامہ یہ ہے کہ بندہ سے جب عمل خیر صادر ہو تو یہ اس پر جرح کر کر کے اس میں عیب نکالا کرے کہ اس میں اخلاص شامل نہ تھا، عمل میں فلاں جزء کیکمی رہ گئی، وقس علی ھذا اور جب معصیت سرزد ہوجائے تو اس پر بہت ہی نادم وسرنگوں ہو۔ الاشبہ بظاہر التنزیل انھا اللتی تلوم صاحبھا علی الخیر والشروتندم علی مافات (ابن کثیر) قرآن مجید میں نفس کے تین اوصاف بیان ہوئے ہیں :۔
(1) نفس امارۃ۔ (آیت) ” ان النفس لامارۃ بالسوٓء “۔ یہ نفس سرکشوں، خود سروں، مجرموں کا ہوتا ہے۔
(2) نفس لوامۃ۔ وہی جس کا یہاں ذکر ہے، ادھر غفلت اور شامت سے کوئی لغزش ہوئی اور ادھر نفس کو توبہ وندامت کی بھی توفیق ہوگئی۔ یہ شان مومنین صالحین کی ہوتی ہے۔
(3) نفس مطمئنۃ۔ یہ نہ تخیلات شیطانی سے متزلزل ہوتا ہے، نہ تحریکات نفسانی سے منتشر۔ یہ حضرات انبیاء کے ساتھ اور اولیاء میں اخص خواص کے ساتھ مخصوص ہے۔
Ayahs 75:3–42۔ (تو جو اس تک پر قادر ہے۔ اس کے لئے ہڈیوں کا اٹھا کھڑا کرنا اور ان میں جان ڈال دینا کیا مشکل ہے ! ) (آیت) ” الانسان “ اس سیاق میں انسان سے مراد ملحد، کافر ومنکر قیامت انسان ہے۔ اے الکافر المنکر للبعث (مدارک) یعنی الکافر (معالم) (آیت) ” نسویہ بنانہ “۔ پورپور کو ترکیب دے دینے سے مراد جسم کی آخری اور نازک ترین ترکیبوں کا اعادہ ہے۔ ملحدوں کے انکار قیامت کی بنیاد اور کچھ نہیں، صرف اس حقیقت کا استبعاد تھا۔ آج کل کے مادیین اور کسی حد تک ” نیچریوں “ کی طرح اس سطحی عقل والوں کے نزدیک جو چیز بھی معمول عام سے، ہٹی ہو بس محال تھی ! قرآن نے اسی لئے جواب میں بار بار یہی پہلو اللہ کی قدرت کاملہ کے استحضار کا اختیار کیا ہے۔
Ayah 75:53۔ (اور اس کی لذت پرستیوں میں کبھی فرق نہ پڑنے پائے) یعنی وہ چونکہ اپنے کو باز پرس سے دور رکھنا اور دیکھنا چاہتا ہے۔ اس لئے قائل بھی ایسے عقیدہ کا نہیں ہوتا جس سے لذتوں سے دستبرداری لازم آتی ہو۔ یہی ایک ذہنیت قدیم وجدید ساری مادہ پرست قوموں میں مشترک رہی ہے۔ (آیت) ” لیفجر “۔ فجور سے یہاں مراد کافرانہ اعمال ہیں۔ واصل الفجور المیل وسمی الفاسق والکافر جاجر المیلہ عن الحق (معالم) اور اس سوال سے اس کی غرض جستجوئے حق اور استفسار محض نہیں ہوتی، بلکہ سوال طنز وتعریض کے ساتھ کرتا ہے۔
Ayahs 75:6–104۔ (اور یہ کلمہ انسان کی زبان پر کمال اضطراب و سراسیمگی کے عالم میں آئے گا) قرآن مجید نے بکمال حکمت وبلاغت ادھر توجی ہی نہیں کی کہ وقوع قیامت کی صدی اور وقت اور تاریخ کی تعیین کی جائے۔ بلکہ عین اس وقت کی کیفیات کی تصویر پیش کردی کہ قیامت اس وقت آئے گی جب نظام کائنات یوں اور یوں درہم برہم ہوجائے گا اور انسان ہر طرف یوں بلبلایا ہوا بدحواس بھاگتا پھرتا ہوتا۔ (آیت) ” فاذا برق البصر “۔ آنکھوں پر یہ چکا چوند کی کیفیت اس وقت کے انتہائی ہیبت ناک منظروں سے طاری ہوجائے گی۔ (آیت) ” وخسف القمر “۔ چاند کی اس بےنوری کی تصریح میں ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ عرب جاہلیت میں چاند ویوتا بہت بڑا دیوتا تھا۔ جس طرح مصر اور بعض دوسروی جاہلی قوموں میں مسجود اعظم سورج رہا ہے۔ (آیت) ” وجمع الشمس والقمر “۔ یہ آج کا نظام مادی تکوینی اس وقت بالکل الٹ جائے گا، یہاں تک کہ جو چیزیں آج محال اور غیرممکن معلوم ہورہی ہیں اس وقت واقع ہو ہو کر رہیں گی،
Ayahs 75:11–135۔ یہ جتلانا اس معنی میں ہوگا کہ ایک بیخبر اور ناواقف کو باخبر اور واقف کیا جارہا ہے بلکہ یہ جتلانا بطور اتمام حجت وقطع جواب کے ہوگا۔ (آیت) ” بما قدم “۔ اس سے مراد وہ عمل خیر ہے جو انسان دنیا میں کر گزرا ہے۔ (آیت) ” واخر “۔ اس سے مرا د اس عمل سے لی گئی ہے جو انسان نہ کرپایا۔
Ayahs 75:14–156۔ (محض اپنے مقتضائے طبیعت سے) مطلب یہ ہوا کہ ہر انسان تو اپنی حالت پر خود گواہ ہوگا، اور بغیر جتلائے ہوئے بھی اسے اپنا حال خوب معلوم ہوگا، یہ اور بات ہے کہ حیلے اور حجت بھی اپنے بچاؤ کے تراشتا رہے۔ یہ ماجرا تو روز حشر کا بیان ہورہا ہے لیکن یہ مفہوم بھی نکل سکتا ہے کہ آج اور اس وقت بھی انسان حیلے حوالے کتنے ہی پیش کرتا رہے، اپنے دل میں حقیقت حال کو خوب سمجھے رہتا ہے اور اس کا ضمیر خود اس کے جرائم پر گواہ رہتا ہے۔ (آیت) ” بصیرۃ “۔ یا تو حجت کے مفہوم میں ہے اے ھو حجۃ علی نفسہ (مدارک) اے حجۃ بینۃ واقعۃ علی نفسہ (روح) (آیت) ” علی نفسہ بصیرۃ “۔ لفظ علی سے اس طرف اشارہ ہوگیا کہ اعمال سوء ہی پر مطلع ہونا یہاں مراد ہے۔ شاھدۃ بما صدر منہ من الاعمال السیءۃ کلمۃ علی (روح) اور یا پھر اس میں ہ مبالغہ کی ہے جیسے علامہ میں۔ قال ابوعبیدۃ الھاء لاجل المبالغۃ (کبیر) التانیث للمبالغۃ (روح) محققین عارفین نے کہا ہے کہ معرفت حق پر انسان میں ودیعت کردی گئی ہے۔ کوئی عارف بالفعل ہوتا ہے کوئی بالقوۃ، اور قیامت میں یہی استعداد عرفان اس پر حجت ہوگی۔
Ayahs 75:16–177۔ نزول وحی کے دوران میں آپ ﷺ اس خیال سے کہیں یہ الفاظ ذہن سے نکل نہ جائیں، خود بھی جلدی جلدی انہیں کو دہرانے لگتے تھے۔ یہاں یہ حکم مل رہا ہے کہ آپ نزول وحی کے وقت بس سکون وخاموشی سے سنتے ہی رہا کیجئے اور یہ اندیشہ بھی دل میں نہ لائیے کہ وحی کا کوئی خفیف ساجزو بھی قلب سے نکل جائے گا۔ اس کی محفوظیت کے ذمہ دار تو ہم خود ہیں۔ (آیت) ” بہ “۔ بہ دونوں جگہ ضمیر قران کی طرف راجع ہوتی ہے۔ (آیت) ” جمعہ “۔ یعنی قرآن کا آپ کے سینہ میں جمع کردینا۔ معناہ علینا جمعہ فی صدرک وحفضک (کبیر) (آیت) ” وقرانہ “۔ یعنی پورے کے پورے قرآن کا آپ کی زبان سے پڑھوا دینا۔ انا سنقرئک یا محمد الی ان تصیر بحیث لاتنساہ (کبیر) اثبات قراءت ہ فی لسانک (مدارک) اے قراءت ک ایاہ (بحر)
Ayah 75:188۔ یعنی ادہر ہی متوجہ ہوجائیے اور اس کے دہرانے کی فکر میں نہ رہیے (آیت) ” فاذا قرانہ “ یعنی جب ہمارا فرشتہ وحی اسے سنایا کرے۔ حق تعالیٰ نے یہیں فرشتہ وحی کے سنانے کو اپنے ہی سنانے سے تعبیر فرمایا ہے۔ اے اتممنا قرانہ علیک بلسان جبرئیل المبلغ عنا فالاسناد مجازی (روح) محفوظیت و جامعیت متن قرآنی پر یہ آیت ایک مستقل نص کا کام دے رہی ہے۔ اشارۃ اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ نزول وحی میں فرشتہ جبرئیل (علیہ السلام) کا مقام تعلیم وافادہ کا نہیں، صرف تبلیغ و اعادہ کا ہے۔ جیسے جمعہ یا عیدین کی نماز میں مکبرین امام کی تکبیر وتسبیح کو صرف دہرا دیتے ہیں، کسی اور حیثیت سے نائب امام نہیں ہوتے۔ (آیت) ” فاتبع قرانہ “۔ یعنی فرشتہ وحی کی قراءت کا اتباع کرتے رہیے۔ فاتبع قرانہ اے لاینبغی ان تکون قرأتک مفارقۃ بقرأۃ جبرائیل (کبیر)
Ayah 75:199۔ (اور یہ رسول کے ذریعہ سے ہوگا) قرآن کو رسول تک بجنسہ پوری حفاظت کے ساتھ پہنچا دینا جو حق تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا تھا۔ اس کا انصرام تو فرشتہ کی وساطت سے ہوا۔ اب رہا دوسرا وعدۂ الہی یعنی قرآن کی تبیین وتشریح یہ کس کے ذریعہ سے ہوگی ؟ یہ رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ سے۔ گویا حق تعالیٰ سے رسول اللہ ﷺ سے رسول اللہ ﷺ تک متن قرآن پہنچانے کا ذمہ دار تو فرشتہ وحی ٹھہرا۔ اور رسول اللہ ﷺ سے امت تک متن قرآن وشرح قرآن پہنچانے کے ذمہ دار رسول کریم ﷺ قرار پائے۔ اے ثم ان علینا ان نبی نہ بلسانک (روح) اے بعد حفظہ وتلاوتہ نبی نہ لک ونو ضحہ ونفھمک معناہ علی اردنا و شرعنا (ابن کثیر) آج جس نو پیدا گروہ نے رسول اللہ ﷺ کی حیثیت صرف ایک خطوط رساں یا ڈاکیہ کی تسلیم کر رکھی ہے، کاش اس آیت سے اس کی آنکھیں کھلتیں۔
Ayah 75:2010۔ (کہ قیامت نہ آئے گی جیسا کہ یہ احمق منکرین اپنے زعم فاسد میں سمجھے ہوئے ہیں) (آیت) ” کلا “۔ کو حقا کے بھی مرادف سمجھا گیا ہے اور معنی یقیناً کے کئے گئے ہیں۔ قال سائر المفسرین کلامعناہ تحبون العاجلۃ وتذرون الاخرۃ (کبیر)
Ayah 75:2111۔ (اسی محبت دنیا کے انہماک میں) یہاں یہ بتا دیا کہ انکار آخرت کی بنیاد بھی یہی دنیوی زندگی میں انہماک و غفلت ہے۔
Ayahs 75:22–2312۔ مسئلہ رویت باری و دیدار الہی اہل سنت کا اجماعی مسئلہ ہے اور اس آیت سے بخوبی ثابت ہے۔ اعلم ان جمھور اھل السنۃ یتمسکون بھذہ الایۃ فی اثبات ان ال مومنین یرون اللہ تعالیٰ یوم القیمۃ (کبیر) مسئلۃ النظر ورؤیۃ اللہ تعالیٰ مذکورۃ فی اصول الدین (بحر) قال ابن عباس ؓ و اکثر الناس تنظر الی ربھا عیانا بلاحجاب (معالم) وقد ثبتت رؤیۃ ال مومنین للہ عزوجل فی الدار الاخرۃ فی الاحادیث الصحاح من طرق متواترۃ عند ائمۃ الحدیث لایمکن دفعھا ولامنعھا (ابن کثیر) (آیت) ” وجوہ یومئذ ناضرۃ “۔ جملہ اسمیہ ہے اور جملہ کی ترکیب دلالت حدوث وزوال پر نہیں کرتی بلکہ اس پر کہ یہ بشاشت وشگفتگی دائمی ہوگی، اس بشاشت و سرور کی وجہ بھی معا بعد مذکور ہے۔ یعنی یہ کیفیت اضطراری اور خود بخود طاری نہ ہوگی، بلکہ یہ تلذذ ونشہ ثمرہ رویت ہوگا۔ (آیت) ” الی “۔ سے بعض عارفین نے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ کمال قرب و کثرت انوار کے باوجود نظارہ کرنے والے میں احساس تشخص ودرک باقی رہے گا، تلذذ وتکیف پوری طرح ہوسکے گا فنائے محض کی کیفیت طاری نہ ہوگی۔ (آیت) ” الی ربھا ناظرۃ “۔ فعل نظر کا صلہ جب الی کے ساتھ آتا ہے، تو اس کے معنی رؤیت ہی کے ہوتے ہیں۔ والا یعدی بالی الا بمعنی الرؤیۃ (مدارک)
Ayahs 75:24–2513۔ یعنی نہایت شدت کا معاملہ (آیت) ” فاقرہ “۔ فقر ریڑھ کی ہڈی کو کہتے ہیں۔ اس کو توڑ دینے والی چیز سے کنایہ ہوتا ہے انواع عذاب وغایت مصیبت سے۔ (آیت) ” وجوہ “۔ کے صیغہ نکرہ ہونے سے یہ مستفاد ہوا ہے کہ کچھ ہی بدقسمت اس میں گرفتار ہوں گے، سب نہیں۔
Ayah 75:2614۔ اس تردید کا تعلق آیت 20، 21 سے ہے (آیت) ” بل تحبون العاجلۃ وتذرون الاخرۃ سے۔
Ayah 75:2715۔ (جواب آکر اچھا کرے) راقی کے لفظی معنی جھاڑنے پھونکنے والے کے ہیں، قرآن مجید کے مخاطب اول یاد کرلیجئے کہ عرب تھے اور پھر یہ سورت تو نزول میں بھی بہت ابتدائی ہے۔ اس ان سے وہی بات اس زبان میں کہی گئی، جس سے وہ مانوس اور جس سے وہ خوگر تھے، دوسری مشرک قوموں کی طرح ان میں بھی بڑا زور جھاڑ پھونک کا تھا، اور مرتے ہوئے شخص کو بچانے کی آخری اور انتہائی تدبیریں ان کے درمیان اسی قسم کی ہوتی تھیں، اس وقت اگر ان کے سامنے انجکشن دینے یا مصنوعی تنفس کے سامان کا ذکر کیا جاتا، تو بجز اس کے کہ وہ حیرت سے بھوچکے رہ جاتے اور کوئی حاصل نہ تھا۔ یہاں مراد مطلق معالج ہے۔ طبببا یشفیہ وراقیا یرقیہ (کبیر) لعلہ اریدبہ مطلق الطیب (روح) اے من یرقی ویطیب ویشفی وغیرذلک مما یتمناء لہ ا ھلہ (بحر) اے من طبیب شاف وکذا قال قتادۃ والضحاک وابن زید (ابن کثیر) اے ھل من طبیب یرقیہ ویداویہ فیشفیہ برقیبہ اودواۂ وقال قتادۃ التسموالہ الاطباء (معالم)
Ayahs 75:28–2916۔ (سکرات موت کی شدت سے) (آیت) ” ظن انہ الفراق “۔ ظن۔ یہاں یقین کے معنی میں ہے۔ و اکثر المفسرین علی تفسیرہ بالیقین (روح) وتظن بمعنی توقن (بحر)
Ayahs 75:30–3117۔ یعنی نہ ایمان لایا تھا نہ اعمال کی پروا کی تھی ، (آیت) ” فلاصدق “۔ تصدیق سے مراد توحید و رسالت کی تصدیق ہونا ظاہر ہے۔ الفاظ آیت کی ترکیب سے ایک اشارہ پیدا کیا گیا ہے کہ جس طرح نماز بغیر ایمان صحیح نہیں ہوتی، اس طرح ایمان بھی بغیر نماز کے کامل نہیں ہوتا۔ علماء نے یہ مسئلہ بھی نکالا ہے کہ ایمان کے بعد نماز سے بڑھ کر کوئی عمل اہم ومؤکد نہیں۔ یہ مسئلہ بھی نکالا گیا ہے کہ مستحق زجروملامت جس طرح عدم ایمان ہے، اسی طرح ترک نماز بھی، اعلم ان الایۃ دالۃ علی ان الکافر یستحق الذم والعقاب بترک الصلوۃ کما یستحقھما بترک الایمان (کبیر)
Ayahs 75:32–3318۔ یعنی اپنے کفر وعصیان پر فخر کرتا ہوا اپنے خدم وحشم میں جا کر اور زیادہ غافل ومغرور ہوجاتا تھا۔
Ayahs 75:34–3519۔ یہ تکرار اور تاکید پر تاکید، دوسری زبانوں کی طرح عربی اسلوب بیان میں بھی کمال غضب اور وعید شدید کے اظہار کے لئے ہے۔ روایتوں میں آتا ہے کہ ایک بار رسول اللہ ﷺ نے ابوجہل کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا تھا (آیت) ” اولی لک فاولی، ثم اولی لک فاولی “۔ اس نے ہاتھ چھڑا لیا اور یہ کہتا ہوا چلا گیا کہ نہ تم میرا کچھ کرسکتے ہو نہ تمہارا خدا، حق تعالیٰ نے بجنسہ اس فقرہ کو قرآن میں نازل فرمادیا۔
Ayah 75:3620۔ (بلا حساب و کتاب اور بغیر جزاء وسزا کے) (آیت) ” الانسان “۔ انسان سے یہاں مراد کافر، ناسپاب، منکر حشر انسان ہے۔
Ayah 75:3721۔ (عورت کے رحم میں) اشارہ ہے انسان کی اصل حقیر کی طرف دنیا میں مشرک، جاہلی قومیں ایسی بھی گزری ہیں جو منی کے تقدس اور نطفہ کے احترام کی قائل ہوئی ہیں۔ قرآن مجید کی اس مضمون کی آیتیں ضمنا اس جاہلانہ عقیدہ کی بھی تردید کرتی جاتی ہیں۔ ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔
Ayahs 75:38–3922۔ (تو جس کی محض پیدائش میں یہ اہتمام وانضباط ہو اور جس کی خلقت، ترکیب وارتقاء میں اتنی صنعت صرف ہو، کیا اس کا انجام کار کی طرف سے غفلت اور اسے محض بخت واتفاق پر چھوڑے رہنا عقل سلیم کسی طرح بھی قبول کرتی ہے ؟ ) والمقصود ھنا اثبات المعاد والرد علی امن انکرہ من اھل الزیغ والجھل والعناد (ابن کثیر)
Ayah 75:4023۔ یعنی جو قادر مطلق وصناع برحق ابتداء محض اپنی قدرت سے یہ سب کچھ کرسکتا اور نیست کو ہست کرسکتا ہے وہ اب صرف اعادہ پر بھی قدرت نہیں رکھتا ؟