75. Surah Al-Qiyaama

القيامةThe Resurrection · 40 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 75:1–15

لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَةِۙ Open ayah 75:1 in the Quran reader

قسم ہے قیامت کے دن کی

وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِؕ Open ayah 75:2 in the Quran reader

اور قسم ہے پشیمان ہونے والے شخص کی

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗؕ Open ayah 75:3 in the Quran reader

کیا آدمی سمجھ رہا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہ کریں گے ؟

بَلٰى قٰدِرِیْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَهٗ Open ayah 75:4 in the Quran reader

ہاں ہاں ہم اس کے جوڑوں کے ٹھیک کردینے پر قادر ہیں

بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَهٗۚ Open ayah 75:5 in the Quran reader

بلکہ آدمی چاہتا ہے کہ اس کے سامنے ڈھٹائی کرے

یَسْئَلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَةِؕ Open ayah 75:6 in the Quran reader

پوچھتا ہے کہ کب ہے قیامت کا دن

فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ Open ayah 75:7 in the Quran reader

پھر جبکہ نظر چندھیا جائے

وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:8 in the Quran reader

اور چاند گہنا جائے

وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:9 in the Quran reader

اور سورج اور چاند اکٹھے کئے جائیں

یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّۚ Open ayah 75:10 in the Quran reader

اس دن آدمی کہے گا کہاں ہے بھاگ جانے کی جگہ۔

كَلَّا لَا وَزَرَؕ Open ayah 75:11 in the Quran reader

نہیں کہیں پناہ نہیں۔

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمُسْتَقَرُّؕ Open ayah 75:12 in the Quran reader

آپ کے رب ہی کی طرف اس دن ٹھکانا ہے

یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَؕ Open ayah 75:13 in the Quran reader

اس دن انسان کو بتا دیا جائے گا کہ وہ کیا لایا اور کیا چھوڑ آیا

بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِیْرَةٌۙ Open ayah 75:14 in the Quran reader

بلکہ ہر ایک انسان اپنے حال کو آپ دیکھ رہا ہے

وَّ لَوْ اَلْقٰى مَعَاذِیْرَهٗؕ Open ayah 75:15 in the Quran reader

پڑا بہانے کیا کرے۔

ترکیب : لا اقسم قیل لازائدہ کمازیدت فی قولہ لئلایعلم۔ وقیل لیست بزائدۃ وحینئذ فی معناھاوجھان احدھما انہ نفی القسم بھا لوضوح الامرو الثانی ان ل اور لکلام مقدر لانھم قالوا انت مفترایحسب الھمزۃ للاستفہام الانکاری وان مخففۃ المثقلۃ واسمھا ضمیر الشان محذوف و جواب القسم محذوف یدل علیہ ھذہ الجملۃ ای لیجمعن العظام۔ بلی ایجاب لمابعد النفی المنسحب الیہ الاستفہام والوقف علیہ حسن۔ ویبتدی الکلام بقولہ قادرین وانتصابہ علی الحال من الفاعل ای نجمعھا قادرین وقیل المعنی بل نجمعہا نقدر قادرین بنان جمع اواسم جمع لبنانۃ لیفجر اللام زائدۃ وناصبہ ان مقدرۃ ای ان یکذب امامہ ظرف ای لیکفرفیما یستقبل یسل تفسیر لیفجر ایان خبر مقدم یوم القیامۃ مبتداء موخر ثم بل یرید عطف علی ایحسب فیجوزان یکون ایضا استفہاما ویجوزان یکون ایجابا یقول الانسان جواب اذابرق البصر وجمع الشمس والقمر ولم یقل جمعت لان التانیث مجازی قالہ المبردالیٰ ربک خبروالمبتداء المستقرو یومئذ منصوب بفعل دل علیہ المستقر الانسان مبتداء بصیرۃ خبرہ وعلی متعلقہ بالخبر والتاء فی بصیرۃ للمبالغۃ کمافی العلامۃ ولووصلیۃ معاذیرہ قال الواحدی المعاذ یرجمع معذرۃ یقال معذرۃ و معاذرومعاذ یروقال صاحب الکشاف والمعاذیر لیس جمع معذرۃ وانما ھواسم جمع لھا کالمنا کیرفی المنکر وجمع المعذرۃ معاذر قال المبردوالزجاج المعاذ یرالستور واحدھا معذار۔ تفسیر : یہ سورة بھی بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی ہے جمہور اسی کے قائل ہیں اور ابن عباس اور ابن الزبیر ؓ کا بھی یہی قول ہے۔ اس کی چالیس آیات ہیں اس میں سرسورۃ قیامت کی قسم کھائی ہے اور بعد میں بھی قیامت کے حالات مذکور ہیں۔ اس مناسبت سے اس کا نام سورة قیامہ ہوا۔ مناسبت اس کی سورة مدثر سے یہ ہے کہ سورة مدثر میں قیامت کے ظاہری واقعات کی ابتداء مذکور تھی۔ بقولہ فاذانقرفی الناقور اور انتہا بھی بقولہ ساصلیہ اسقروکل نفس بماکسبت رھینۃ الخ اور اس سورة میں قیامت کے باطنی واقعات کی ابتداء اور انتہا مذکور ہے۔ ابتداء یہ کہ عقل اس روز متحیر ہوجائے گی۔ بقولہ فاذا برق البصر الخ اور انتہا دیدارِالٰہی یا اس سے محرومی کے بعد سیاہ روئی حسرت و ندامت ہے۔ بقولہ وجوہ یومئذ ناضرۃ الیٰ ربہا ناظرۃ ووجوہ یومئذ باسرۃ تظن ان یفعل بھا فاقرۃ۔ اور یہ بھی ہے کہ مدثر کے اخیر میں فرمایا تھا ھواھل التقویٰ و اھل المغفرۃ کہ وہی ڈرنے اور بخشنے کے قابل ہے۔ یہ اس کی شان ہے کہ اس سے خوف کیا جائے اور وہی معافی دیتا ہے مگر دنیا چند روزہ جو دارالعمل ہے اس تقویٰ اور مغفرت کے آثار قویہ ظاہر ہونے کی جگہ نہیں بلکہ ایک دوسرا جہان ہے جو ابدی ہے اور اس کی ابتداء قیامت سے ہے اسی لیے قیامت کی قسم کھاتا ہے اور اس کے بعد نفس لوامۃ کی بھی یعنی اچھے لوگوں کی جان کی بھی جو اپنے برے کاموں پر ملامت کرتے ہیں اور دراصل ایسے ہی لوگ متقی ہیں یہ اس لیے کہ اس روز وہ لوگ مغفرت کے آثار دیکھیں گے۔ اور بھی الفاظ اور معانی میں باہم مناسبتیں ہیں جو غور کرنے سے ظاہر ہوسکتی ہیں اور صحابہ کبار ؓ کے عجیب اذہان صافیہ تھے کہ ترتیب سورة کے وقت ان پر یہ مناسبات ظاہر تھیں۔ فقال لا اقسم بیوم القیامۃ ولا اقسم بالنفس اللوامۃ کہ ہم قسم کھاتے ہیں قیامت اور نفس لوامہ کی کہ انسان اس روز اپنی تقصیرات پر حسرت کرے گا اور سخت نادم ہوگا۔ نفس لوامہ میں اس طرف اشارہ ہے کہ جس طرح اچھے 1 ؎ لوگ دنیا میں اپنی تقصیرات پر حسرت و ندامت کرتے ہیں کیونکہ ان کو چشم بصیرت ہے برے بھلے میں امتیاز کرتے ہیں، نفس کی خواہش سے اگر کوئی تقصیر ہوجاتی ہے تو فوراً نادم بھی ہوجاتے ہیں۔ ان اندھے جاہلوں کی طرح اس پر اڑتے نہیں۔ اسی طرح یہ اندھے اس روز حسرت و ندامت کریں گے کیونکہ اس روز روشن میں ان کی آنکھیں کھل جائیں گی۔ (فکشفنا عنک غطاءک فبصرک الیوم حدید) اس روز روئیں گے، دانت پیسیں گے مگر کیا فائدہ آج اگر روتے اور ندامت کرتے تو فائدہ تھا۔ 1 ؎ وہ نیکی کر کے بھی ملامت کرتے ہیں کہ کم کی اچھی طرح سے نہیں کی اور بدی کر کے بھی اس لیے کہ کیوں کی۔ بدی کرنے کے بعد ان کے دل کو ایک سخت صدمہ ہوتا ہے۔ نفس سے مراد جان یا روح انسانی ہے اور وہی مدرک ہے اور وہی دراصل انسان ہے اور یہ جسم اکتساب کمالات کے لیے اس کا آلہ یا ہتھیار یا اوزار ہے پھر نفوس انسانیہ اپنی استعداد و فیضان کے لحاظ سے کئی قسم پر ہیں۔ حضرات انبیاء (علیہم السلام) و اولیائے کرام کے نفوس قدسیہ مطمئنہ ہیں کہ ان کو حق سبحانہ ٗ کی قربت سے اطمینان و سکون حاصل ہوتا ہے۔ (الابذکر اللہ تطمئن القلوب) ۔ ان کے بعد صالحین ہیں ان کے قلوب کو بھی ذکر الٰہی سے اطمینان ہے مگر نہ اتنا اور ان میں اپنی تقصیرات پر ملامت کرنے کی صفت غالب ہے اس لیے ان کے نفس کو نفس لوامہ کہتے ہیں۔ (ولم یصرواعلٰی مافعلوا وھم نادمون) ؎ بندہ ہماں بہ کہ زتقصیر خویش عذر بدرگاہ خدا آلاد ورنہ سزا در خداوندیش کس نتوا مذ کہ بجاآور بدکار اور فاسقوں کافروں کا نفس امارہ ہے وہ ہل من مزید کہتا رہتا ہے۔ ہر وقت لذات و شہوات حسد و بغض کینہ و انتقام کا حکم ہی دیتا ہے۔ ندامت و ملامت تو درکنار بلکہ وہ ان لائق باتوں پر اصرار کیا کرتا ہے۔ نفس مطمئنہ کو تو قیامت کے ہولناک واقعات سے بحکم وھم من فزع یومئذ اٰمنون اطمینان ہی ہوگا اور امارہ سقر کا ایندھن ہیں البتہ نفس لوامہ متوسط ہے اور زیادہ قیامت کے معاملات سے خوف ورجاء میں اسی کو تعلق ہے اس لیے قیامت کی قسم کے بعد اس کی قسم کھانا اس کی خوبی اور قیامت کے روز فلاح مندی بتا کر اس کو تسلی دیتا ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں نفس لوامہ وہ نفس اور وہ شخص ہے جو قیامت کے دن اپنے برے کاموں پر اپنے تئیں ملامت کرے گا اور وہ کفار کا نفس ہے اس لیے وہ لا اقسم بالنفس اللوامۃ میں لاکوزائد نہیں کہتے بلکہ نفی کے لیے اور یوں معنی بیان کرتے ہیں کہ ہم قسم کھاتے ہیں قیامت کی اور نہیں قسم کھاتے نفس لوامہ کی کس لیے کہ وہ ناپاک اس قابل نہیں۔ کفار منکرین قیامت کے مقابلہ میں قیامت کی قسم کھانا بظاہر مصادرہ علی المطلوب تھا مگر قیامت کا آنا ان کے لیے دلائل سے ثابت کردیا گیا تھا اس لیے اس کے بعد ان کے شک کو اور بھی رفع کرتا ہے۔ ان کے دو قسم کے شبہات تھے۔ اول جہالت کی وجہ سے وہ قیامت اور حساب کے نام لینے کو بھی مخل عیش سمجھتے تھے۔ اول شبہ کو مان کر اس کا رد کرتا ہے فقال ایحسب الانسان الن نجمع عظامہ کیا انسان (یعنی وہ انسان جو قیامت کے منکر ہیں) یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم اس کی بوسیدہ ہڈیوں کو پھر جمع نہ کرسکیں گے ؟ مشرکین مکہ کا قیامت کے بطلان پر کسی دلیل وبرہان پر اعتماد نہ تھا۔ وہ اسی شبہ سے باطل کرتے تھے کہ ہم دیکھتے ہیں انسان مرجاتا ہے اس کی ہڈیاں اور گوشت پوست خاک میں مل جاتا ہے، ہوا اڑا کرلے جاتی ہے، سر کے ذرات ہو کر کہیں اڑ گئے، ہاتھ پائوں کے ذرے ذرے ہو کر کہیں دور جا پڑے، اب باردیگر یہ سب کیونکر جمع ہوسکتے ہیں۔ اس لیے کہتے تھے ھیہات ھیہات لماتوعدون یہ بات کب ہوسکتی ہے اور اسی استبعاد کو ایک شاعر جاہلیت نے بھی بیان کیا ہے ؎ حیات ثم موت ثم نشر حدیث خرافۃ یا ام عمرو کہ جی کے مرنا پھر زندہ ہونا ایک لغو بات ہے اے ام عمرو۔ یہ اس شاعر کی بیوی یا معشوقہ ہے جس سے کلام کر رہا ہے۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے بلی ہاں ہم جمع کریں گے۔ پھر فرماتا ہے قادرین علی ان نسوی بنانہ کہ ہم اس کی انگلیوں کے پوروں کے درست کرنے پر قادر ہیں۔ انسان کے بدن میں سب بدن تیار ہونے کے بعد اخیر انگلیوں کی کھال تیار ہوتی ہے یہ اس کی تعمیر بدن کا خاتمہ ہے اور نیز یہاں گوشت اور چربی ہے اور اس کے اندر عروق و شرائین و اور وہ ہیں اور پھر اعصاب ورباطات و عضلات و مفاصل ہیں اور اسی لیے تمام بدن میں حکماء کے نزدیک اس کا مزاج بہ نسبت اور اعضاء کے زیادہ معتدل اور گرمی سردی ‘ رطوبت یبوست کے دریافت کا مادہ زیادہ ہے۔ پھر جب ان کو باردگر درست اور ٹھیک کردینا فرمایا تو تمام اعضاء کا بھی باردگر ٹھیک کردینا سمجھا گیا۔ آسمان و زمین کی پیدائش اور انسان کا اول بار منی کے قطرے سے بننا وغیرہ ہزاروں اس کی قدرت کاملہ کے نمونہ ان لوگوں نے دیکھے تھے اور سب دیکھتے ہیں پھر جو ایسا قادر و حکیم ہے کہ جس نے اول بار اس کو ایسی چیزوں سے پیدا کردیا وہ باردگر پیدا کرنے پر بھی قدرت رکھتا ہے اس بات کو عقول صافیہ اور اذہان سلیمہ کے حوالے کردیا کہ وہ خود سمجھ سکتے ہیں۔ اور یہی ایک بڑی قوی دلیل حشر کے برپا ہونے پر ہے۔ اس لیے فرماتا ہے کہ یہ انکار و تعجب دراصل کچھ نہیں ہے۔ بل یرید الانسان لیفجرامامہ بلکہ اس انکار سے اس کی غرض یہ ہے کہ پہلے تو جو کچھ کیا تھا سو کیا تھا آیندہ بھی دل کھول کر بدکاری پر بدکاری کرے۔ کس لیے کہ اب قیامت اور وہاں کی بازپرس کا کھٹکا تو اس نے اس انکار سے نکال ہی دیا۔ اس فسق و فجور کا نشہ اس کو قیامت کا لفظ بھی منہ پر نہیں لانے دیتا اور نہ اس کے دلائل میں غوروفکر کی مہلت دیتا ہے اس لیے دلیر ہو کر پوچھتا ہے یسئل ایان یوم القیامۃ کہ کب ہے قیامت کا دن ؟ یسئل سے یہاں تک دوسرے شبہات کا رد ہے جو شہوات پر مبنی ہے۔ بعض مفسرین امامہ کی ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف پھیرتے ہیں تب یہ معنی ہوں گے کہ قیامت کا انکار کر کے اللہ کے سامنے بدکرداری کرنا چاہتا ہے جو پوچھتا ہے کہ ایان یوم القیامۃ کہ کب ہے قیامت کا دن۔ یہ انسان کی کمال بےشرمی اور بےحد دلیری ہے کہ اپنے مولا کے روبرو گستاخانہ سوال کرتا ہے کس لیے کہ اس کو ڈرنا اور اپنے حال کی اصلاح کرنی چاہیے۔ کوئی طبیب حاذق خبر دے کہ یہ مرض تجھ کو لاحق ہے علاج کر ورنہ مرجائے گا پھر یہ بڑے جاہل کا کام ہے کہ اس سے پوچھے کہ کب اور کس تاریخ مروں گا۔ اس کے بعد قیامت کے علامات و حالات بیان کرتا ہے جس کے سننے سے دل لرزتا ہے۔ فقال فاذابرق البصر کہ جب آنکھیں چندھیا جائیں۔ یہ اس روز کی تجلی نورانی سے ہوگا جبکہ تخت رب العالمین عدالت کے لیے فرشتے لا کر دھریں گے۔ اس قہر و جبروت کی تجلی کو آنکھیں دیکھ نہ سکیں گی۔ آفتاب کے سامنے آنکھیں چندھیا جاتی ہیں پھر وہ تجلی تو اس سے لاکھوں درجہ بڑھ کر ہوگی جس کے آگے بجلی کی چمک بھی کوئی چیز نہیں جیسا کہ سورة زمر میں آیا ہے۔ واشرقت الارض بنوربھا۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ قیامت صغریٰ موت کے وقت ہوگا جبکہ اس عالم ناسوتی پر پردہ پڑجائے گا اور دوسرے عالم کا پردہ اٹھ جائے گا تو وہاں کے ہولناک حالات دیکھ کر کافرو فاسق کی آنکھیں حیرت و دہشت کے مارے اوپر چڑھ جائیں گی وہ شہوت کانشہ جس سے انکار قیامت کرتا تھا اتر جائے گا۔ موت کے بعد اس کو قیامت کبریٰ کا آپ یقین ہوجائے گا یہیں سے اس کا وقت شروع ہے۔ اور ایماندار نیک لوگوں کی آنکھیں عالم ملکوت کی تجلیات دیکھ کر خیرہ ہوجائیں گی اور اولیائِ کرام و انبیاء عظام کی اس کی تجلی ذاتی سے جو عین وصال ہے۔ یہ قیامت کی پہلی نشانی تھی۔ اس کے بعد دوسری علامت بیان فرماتا ہے۔ وخسف 1 ؎ القمر کہ چاند گہنا جائے گا یعنی بےنور ہوجائے گا۔ یہ قیامت کبریٰ کے قریب ہوگا۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ بھی موت کے وقت ہوگا کس لیے کہ قمر سے مراد قمرعقل ہے۔ اس وقت عقل ماری جائے گی۔ (تیسری علامت) وجمع الشمس و القمر چاند اور سورج جمع کئے جائیں گے یہ بھی قیامت کے وقت نفخ صور پر ہوگا کہ دونوں بےنور ہو کر کے عدم کے گھڑے میں ایک جا پھینک دیے جائیں گے اور نفخ صور دوم پر نیا آسمان نئی زمین نئے چاند اور سورج پیدا ہوں گے۔ جو ان کو بھی علامات موت سے قرار دیتے ہیں ان کے نزدیک قمروشمس کے جمع ہونے سے بطور کنایہ کے روح آفتاب اور قمر دل کا مع ہونا مراد ہے کہ پھر اس وقت دل پر ادھر ادھر کے خیالات طاری ہوں گے بلکہ صرف روحانی یا ذات وصفات کا اجتماع مراد ہے جو دار دنیا میں عوارض کے سبب اختلاف تھا ذات کا تقاضا معرفت تھا صفات شہوانیہ و عضبیہ اس کو دور پھینکتے تھے اب یہ اختلاف نہ رہے گا۔ 1 ؎ کتاب یسعیاہ کے 24 باب میں بھی اس طرف اشارہ ہے کہ چاند اور سورج خداوند کی عدالت کے روز بےنور ہوجائیں گے۔ 12 منہ اس وقت آدمی کی عجب حالت ہوگی ویقول الانسان یومئذ این المفر اور کہے گا آج بھاگ کر جانے کی کون سی جگہ ہے کہاں جائوں جو اس مصیبت سے امن پائوں۔ فرماتا ہے کلا نہیں نہیں لاوزر کوئی امن اور پناہ کی جگہ اس دن نہ ہوگی جس نے آج پناہ کی جگہ پیدا نہیں کی اس کو اس دن نہ ملے گی۔ الیٰ ربک یومئذ المستقر اس روز تیرے رب کے پاس ٹھہرنے کی جگہ ہوگی۔ مشتاقان دیدار خودبخود آئیں گے اور اشرار و فجار کو بال پکڑ کر کھینچتے ہوئے دربار میں لائیں گے، پھر وہاں حساب و کتاب شروع ہوگا۔ نیبوء الانسان یومئذ بماقدم واخر اس روز آدمی کو بتا دیا جائے گا کہ اس نے کیا نیک کام آج کے دن کے لیے آگے بھیجے تھے یعنی کئے تھے اور کیا نہیں کئے تھے۔ یاقدم سے مراد نیک و بدکام ہیں جو اس نے کئے تھے اور آخر سے وہ نیک و بد باتیں ہیں جو دنیا میں پیچھے چھوڑ آیا کہ اس کے بعد بھی نیک کاموں کا ثواب پہنچتا رہتا ہے جیسا کہ بنائِ مساجد و مدارس و رسم نیک اور بندگان خدا کی اصلاح و فلاح کی تدابیر اسی طرح برے کاموں کا عذاب ملتا رہتا ہے۔ رسم بدچھوڑ آیا تھا یا دنیا کو برباد و ہلاک کرنے والی بات قائم کر آیا تھا یا کسی میں جھگڑے و عداوت کا بیج بو آیا تھا یا قدم سے وہ اعمال مراد ہیں جو پہلے کئے جاتے ہیں اور آخر سے وہ جو ان کے بعد ظہور میں آتے ہیں۔ فرماتا ہے بتلانے کی کوئی حاجت نہ ہوگی محض الزام و اکرام مقصود ہوگا ورنہ بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ آدمی خود اپنے حال اور نیک و بد اعمال سے واقف ہوگا اور اب بھی منصف مزاج واقف ہوسکتے ہیں ولوالقیٰ معاذیرۃ پڑا حیلے بہانے بنایا کرے یا پڑاپردہ ان پر ڈالے اور چھپائے مگر کچھ بھی نہ چھپا سکے گا نہ کوئی حیلہ بہانہ کام آئے گا۔ وہاں یہ حجتیں اور ابلہ فریب تقریریں کچھ کام نہ آئیں گی۔
Ayahs 75:16–30

لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖؕ Open ayah 75:16 in the Quran reader

آپ (جبرئیل کے پڑھنے کے ساتھ) قرآن کے ساتھ ساتھ پڑھنے میں اپنی زبان نہ چلایا کریں

اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗۚۖ Open ayah 75:17 in the Quran reader

کیونکہ قرآن کا جمع کرنا اور اس کا پڑھوا دینا ہمارا ذمہ ہے

فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗۚ Open ayah 75:18 in the Quran reader

پھر تو آپ اس کے پڑھنے کو سنتے رہیں

ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَهٗؕ Open ayah 75:19 in the Quran reader

پھر اس کا بیان کردینا ہمارا ذمہ ہے۔

كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَۙ Open ayah 75:20 in the Quran reader

نہیں نہیں بلکہ تم تو (اے اہل مکہ ! ) جلد آنے والی (دنیا) سے محبت کرتے ہو

وَ تَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَؕ Open ayah 75:21 in the Quran reader

اور دیر میں آنے والی (آخرت) کو چھوڑتے ہو

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌۙ Open ayah 75:22 in the Quran reader

اس دن بہت سے چہرے تروتازہ

اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌۚ Open ayah 75:23 in the Quran reader

اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے

وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍۭ بَاسِرَةٌۙ Open ayah 75:24 in the Quran reader

اور بہت سے منہ اس دن اداس ہوں گے۔

تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌؕ Open ayah 75:25 in the Quran reader

خیال کرتے ہوں گے کہ ان پر کوئی کمر توڑنے والی مصیبت ڈالی جائے گی۔

كَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَۙ Open ayah 75:26 in the Quran reader

نہیں نہیں جبکہ جان گلے تک پہنچ جائے گی

وَ قِیْلَ مَنْ١ٚ رَاقٍۙ Open ayah 75:27 in the Quran reader

اور لوگ کہتے پھریں گے کوئی جھاڑنے والا ہے

وَّ ظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُۙ Open ayah 75:28 in the Quran reader

اور وہ سمجھ چکا ہوگا جدائی ہے

وَ الْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِۙ Open ayah 75:29 in the Quran reader

اور ٹانگ سے ٹانگ مرنے والے کی لپٹی پڑی ہوگی

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمَسَاقُ٢ؕ۠ Open ayah 75:30 in the Quran reader

اس دن ان کے رب ہی کی طرف روانگی ہوگی۔

ترکیب : جمعہ و قرآن ہ اسم ان علینا خبرھا۔ قال الفراء القراءۃ والقرآن مصدران فاذا شرط قراناہ ای اتممتنا قرآتہ علیک فاتبع جواب الشرط ای استمع قرآتہ وکررھا وقیل اعمل بہ کلا للروع عن العجلۃ وقیل کلا بمعنی حقا۔ وجوہٌ مبتداء وجاز الابتداء بالنکرۃ محصول الفائدۃ ناضرۃ خبرہ و یومئذ الظرف للخبر ناضرہ ناعمۃ حسنۃ یقال شجر ناضرای حسن ناعم ونضارت العیش حسنہ وقیل مضیئۃ مسفرۃ مشرقۃ ناظرۃ خبر بعد خبر الیٰ ربھا متعلق بہ۔ وقبل وجوہ مبتداء و ناضرۃ صفۃ لوجوہ و یومئذ ظرف لناضرۃ وناظرۃ خبر۔ تظن الجملۃ صفۃ باسرۃ فی الصحاح بسرالرجل وجھہ بسورا ای کلح وقیل متغیرۃ شدید العبوس والباسل ابلغ من الباسرلکنہ غلب فی الشجاع اذا اشتد کلوحہ 1 ؎ فاقرۃ واہیۃ تکسر القفار اذاشرط والجواب الیٰ ربک یومئذ المساق التراقی جمع ترقوۃٍ وھی فعلوۃ لاتفعلۃ وہی عظم بین ثغرۃ النحر و العاتق یمیناً و شمالاً ولکل انسان ترقوتان ویکنی ببلوغ النفس التراقی عن قرب الموت وقیل ھذا و مابعدہ معطوف علی بلغت من مبتداء راق خبرہ۔ اصلہ راق فعلل۔ فھواسم فاعل 2 ؎ امامن رقی یرقی بالفتح فی الماضی والکسر فی المضارع فھومن الرقیۃ 3 ؎ وھی کلام معد للاستشفاء وامامن یرقی یرقی بالکسر فی الماضی والفتح فی المضارع فھو من الرقی بمعنی الصعودومنہ الترقی۔ تفسیر : پہلے ذکر تھا کہ انسان جلدباز ہے اور یہ جلدبازی خواہ دینی کاموں میں ہو خواہ دنیاوی اس حکمت کے خلاف ہے جو اس نے باوجود ایک دم میں پیدا کرسکنے کے آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا۔ کفار قیامت کے بارے میں جلدبازی کر کے پوچھتے تھے کہ ایان یوم لقیامۃ اسی طرح بمقتضائے بشریت آنحضرت ﷺ وحی کے حاصل کرنے میں جلدی کرتے تھے۔ ادھر جبرئیل (علیہ السلام) نے وحی سنانا شروع کیا ادھر اس کے ساتھ ساتھ شوق میں آپ بھی پڑھتے تھے اور یہ خیال کرتے تھے کہ کبھی بھول نہ جائوں۔ اور نیز یہ بھی شوق تھا کہ جلد مطلع ہو کر لوگوں کو مطلع کروں اس لیے قیامت کے بیان میں بطور جملہ معترضہ کے لاتحرک بہ لسانک سے لے کر ثم ان علینا بیانہ تک آنحضرت ﷺ کو بھی اس جلدی سے منع کیا اور تلقی وحی کا ادب و قاعدہ سکھا دیا اور تسلی کردی کہ آپ کو بھولنے نہ دیں گے اور ہم خود اس کو لوگوں پر ظاہر کردیں گے۔ اور یہ جملہ معترضہ اس مسلسل بیان میں ایسا ہے کہ جیسا کوئی معلم کسی کو تعلیم کرتا ہے اور اثنائِ درس میں شاگرد ادھر ادھر متوجہ ہوتا ہے تو وہ اس کو بیچ میں ٹوک دے اور کہہ دے کہ ادھر ادھر متوجہ نہ ہو۔ پھر کیا اس کے کلام میں بےربطی کا باعث تصور ہوسکتا ہے۔ ایسے موقع پر یہ الزام قائم کرنا معترض کی کم فہمی اور اسلوب بلاغت و طرزِخطاب سے محض بیخبر ی کی دلیل ہے۔ اور ممکن ہے کہ آیات میں انسان کے عذر بیجا کا دھوکا کس لیے عذرات میں اپنی زبان چلاتا ہے تیرے اعمال ہم نے جمع کرنے اور تجھ کو سنوانے اور پڑھوانے آخرت میں جو بعد میں آئے گی اور تم بعد کی چیزوں کو سامنے کی چیزوں پر ترجیح دیتے ہو۔ بخاری و مسلم وغیرہما نے ابن عباس ؓ سے اس آیت لاتحرک بہ لسانک کے متعلق یوں روایت کی ہے کہ نبی ﷺ کو وحی کے وقت ایک گرانی معلوم ہوتی تھی اس لیے آپ بھی ساتھ ساتھ پڑھتے تاکہ بھول نہ جائیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ لاتحرک بہ لسانک لتعجل بہ کہ آپ قرآن سیکھنے میں جلدی کر کے زبان نہ ہلائیں بلکہ متوجہ ہو کر تمام وحی سن لیا کریں۔ اسی طرح ایک اور آیت میں یہی مضمون آیا ہے لاتعجل بالقرآن من قبل ان یقضٰی الیک وحیہ الآیۃ کس لیے ان علینا جمعہ کہ ہمارا ذمہ ہے اس کا تیرے دل میں جمع کرنا یہاں تک کہ آپ کے سینہ سے کچھ بھی فراموش نہ ہوگا اور اس بات کا بھی ذمہ ہے قرآن ہ کہ تیری زبان سے پڑھوائیں یا یہ معنی کہ اس متفرق کلام کو جمع کردیں سب ایک جا مجتمع ہوجائے تب قرآن بمعنی قرأت نہ ہوگا بلکہ بمعنی قرآن فاذا اقرأناہ پھر جب ہم آپ کو جبرئیل کے ذریعہ سے پڑھ کر سنا دیں تو فاتبع قرآن ہ آپ اس کو چپ ہو کر سنیں یا یہ معنی کہ اس پر چلیں اور اس کے تابع ہوں اس کے موافق عمل کریں اور اسی پر موقوف نہیں بلکہ ثم ان علینا بیانہ پھر یہ بھی ہمارا ذمہ ہے کہ ہم اس کو آپ سے بیان بھی کرا دیں گے یا یہ کہ آپ اس کے اشکالات اثنائِ وحی میں نہ پوچھیں بعد میں خود ہم آپ کو الہامی طور پر بتا دیں گے۔ فائدہ : اس جگہ سے علماء کا ایک مسئلہ میں اختلاف ہوا ہے وہ یہ کہ بوقت خطاب کسی مجمل بات کا بیان اگر بعد میں کردیا جائے تو درست ہے اس آیت سے ثابت ہوتا ہے بعض کہتے ہیں نہیں۔ فائدہ : فقال کہتے ہیں ان آیات کے یہ معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ قیامت کے دن جن کا ذکر چلا آتا ہے انسان کو اس کے اگلے پچھلے اعمال بتلاتے ہوئے اور اس کے عذاب کرتے ہوئے یہ کہے گا کہ اپنی کتاب یعنی نامہ اعمال پڑھ پھر جب وہ پڑھنے لگے گا تو زبان لڑکھڑائے گی جلدی جلدی پڑھے گا تب حکم ہوگا کہ اس کے پڑھنے میں جلدی نہ کر۔ کس لیے کہ اپنی حکمت سے یا اپنے وعدہ کے موافق ہم نے ذمہ کرلیا ہے کہ تیرے اعمال جمع کریں اور تجھ سے پڑھوائیں یا تجھ کو سنوا دیں پھر جب سنائیں تو سن اور اس کے تابع ہو یعنی اقرار کر کہ پھر ہم اس عقوبت کی شرح اور اس کے اسرار بھی بیان کئے دیتے ہیں۔ اس تقدیر پر تمام کلام مسلسل ہے۔ 1 ؎ ترش روئی۔ 12 منہ 2 ؎ وقیل صیغۃ الماضی۔ 12 منہ 3 ؎ منتر جھاڑ۔ 12 منہ فائدہ : خدا پاک نے اپنے وعدے کو سچا کردیا۔ قرآن مجید کو ایک جگہ مجتمع بھی کرا دیا کس لیے کہ ٹکڑے ٹکڑے اور سورتیں سورتیں ہو کر نازل ہوا ہے اب سب ایک جا بترتیب موجود ہے اور آپ کے سینہ میں بھی جمع کرا دیا اور تمام قرآن مجید کے حافظ تھے اور آپ کی برکت سے بہت سے صحابہ ؓ بھی حافظ تھے اور بعدہ امت میں بھی اب تک لاکھوں حافظ ہیں جو ایک ایک حرف اور زبرو زیر پر حاوی ہیں۔ یہ عہد آدم (علیہ السلام) سے اب تک کسی مذہبی کتاب کی بابت نہ دیکھا گیا، نہ سنا گیا اور قیامت تک یہ سلسلہ یونہی جاری رہے گا انشاء اللہ۔ اور یہ کھلا ہوا معجزہ ہے جس کی آنکھیں ہوں دیکھے ‘ کان ہوں سنے ‘ دل ہو سمجھے۔ اس کے بعد پھر قیامت اور اس کی نسبت انسانی طبیعت کا تعلق بیان فرما کر خواب غفلت سے بیدار کرتا ہے۔ فقال کلا نہیں ہرگز نہیں جلدی نہ کر۔ مگر کیا کیجئے انسان جلدباز ہے جس لیے تحبون العاجلۃ و تذرون الآخرۃ اے بنی آدم تم جلدی کی بابت پسند کرتے ہو دیر اور بعد میں آنے والی چیز کو چھوڑتے ہو۔ اس میں آنحضرت ﷺ کو بھی تنبیہ ہے اور نیز یہ یہی آیندہ بیان آخرت کی تمہید بھی ہے اور سلسلہ وار کفار سے کلام بھی ہے کیونکہ وہ جلدبازی کر کے پوچھتے تھے کب ہے قیامت کا دن ؟ اس کے جواب میں یہ جملہ ہے کہ کیوں جلدی کرتے ہو ٹھہرو ‘ وہ دن بھی آتا ہے۔ اور نیز انسان غفلت شعار کو اس کی ناعاقبت اندیشی پر ملامت بھی ہے خصوصاً کفار کو جو عاجلہ یعنی دنیا اور اس کے عیش و نشاط فانی کو پسند کرتے ہیں اور ان پر فریفتہ ہو کر آخرۃ پیچھے آنے والی یعنی قیامت یا موت کو چھوڑ بیٹھے اس کا سامان اور سرانجام کچھ نہیں کرتے حال کا سبز باغ دیکھ کر آدمی فریفتہ ہے انجام نہیں سوچتا۔ اب لو اس آخرت کا کچھ حال سن لو جس کو دنیا پر فریفتہ ہو کر چھوڑے بیٹھے ہو۔ وجوہ یومئذ ناضرۃ الی ربہاناظرہ کہ بہت سے منہ یعنی ایماندار نیکوں کے منہ جو دنیا میں آخرت کی تیاری میں رات دن مصروف رہتے ہیں تازہ اور روشن ہوں گے فرحت اور سرور کی وجہ سے یا اس تجلی خاص سے کہ جس کا اثر بدن انسانی پر بھی نمایاں ہوگا اور دنیا میں بھی خدا پرست چہروں پر ایک خاص نورانیت ہوتی ہے اور وہی اپنے رب کو دیکھتے ہوں گے یعنی دیدارِالٰہی کی دولت سے سرفراز ہوں گے اور اسی کی خوشی میں ان کے منہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوں گے۔ دیدارِ الٰہی کی بحث : اہل سنت والجماعت کا اتفاق ہے کہ قیامت کے دن اور بعدہٗ بہشت میں بھی ایمانداروں، نیک بختوں کو دیدارِالٰہی ہوگا۔ بخاری و مسلم و ابن ابی شیبہ و عبد بن حمید و ترمذی و ابن جریر وغیرہ محدثین نے ابوہریرہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ لوگوں نے پوچھا یارسول اللہ ! کیا ہم قیامت میں اپنے رب کو دیکھیں گے۔ آپ نے فرمایا کیا تم آفتاب کو دیکھنے میں جبکہ بادل نہ ہوں کچھ شک کرتے ہو یا کوئی مانع ہوتا ہے۔ عرض کیا نہیں یارسول اللہ ! پھر فرمایا کیا چودھویں رات کے چاند کو دیکھنے میں جبکہ کوئی حجاب اور بادل نہ ہو کوئی مانع ہوتا ہے۔ لوگوں نے عرض کیا نہیں یارسول اللہ ! آپ نے فرمایا پھر تم اسی طرح قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھو گے۔ ابن کثیر کہتے ہیں بحمداللہ یہ مسئلہ صحابہ ؓ میں متفق علیہ تھا اور تابعین اور ان کے بعد آئمہ اسلام میں بھی سب کا اس پر اتفاق ہے۔ شیعہ اور معتزلہ کہتے ہیں عیانا دیکھنا جسمانی چیزوں کے لیے ہوتا ہے اور وہ جسمانیت سے پاک ہے اس لیے عیاناً دیکھنا محال ہے۔ آیت کے معنی سے بھی یہ بات ثابت نہیں ہوئی کس لیے کہ نظر اور چیز ہے جو آیت میں آئی ہے اور روایت دیکھنا اور چیز ہے نظر دیکھنے کا آلہ ہے جیسا کہ کان سننے کا یہ ممکن ہے کہ نظر کریں اور وہ چیز دکھائی نہ دے اور سننا چاہیں اور سنائی نہ دے۔ خصوصاً نظر کے بعد الیٰ کا لفظ کلام عرب میں انتظار اور توقع کے معنی دیتا ہے۔ آیت کے یہ معنی ہوئے کہ وہ اپنے رب کی توقع کرتے ہوں گے۔ کس لیے کہ قرآن مجید میں دوسری جگہ صاف آگیا ہے۔ لاتدر کہ الابصار کہ اس کو کوئی آنکھ دیکھ نہیں سکتی اور وہ لطیف وخبیر ہے ممکنات میں سے لطیف چیزیں دکھائی نہیں دے سکتیں۔ جیسا کہ ملائکہ و جن و ہوا پھر وہ تو سب سے زیادہ لطیف ہے ان آنکھوں سے کیونکر دکھائی دے سکتا ہے۔ اہل سنت کہتے ہیں نظر رؤیت کے معنی میں بہت مستعمل ہے۔ اشعار عرب اور آیات قرآنیہ اس پر دال ہیں اور الیٰ کے ساتھ بھی دیکھنے کے معنی میں مستعمل ہے اور آیت لاتدر کہ الابصار میں ان جسمانی آنکھوں کے دیکھنے کی نفی ہے جو عالم ناسوتی میں مکدرات کے دیکھنے کے لیے مخصوص ہیں نہ عالم آخرت میں جہاں اور آنکھیں عطا ہوں گی اور نیز نفی ادراک کی ہے جو ہر طرف سے گھیر لینے کو کہتے ہیں نہ دیکھنے کی۔ طرفین کے دلائل علم کلام کی کتابوں میں بہت کچھ مذکور ہیں جس کو اس پر زیادہ واقف ہونا ہو وہ شرح مواقف و شرح مقاصد وغیرہما کتابیں دیکھے۔ ووجوہ یومئذ باسرۃ اور بہت منہ اس روز ترش اور بگڑے ہوئے یا سیاہ ہوں گے۔ قیامت کی دہشت اور سخت سزائوں کے خوف سے اور بجائے کسی نیک توقع اور دیدارِالٰہی کے تظن ان یفعل بہافاقرۃ یہ یقین ہوگا کہ ابھی ہم پر کوئی مصیبت پڑتی ہے کس لیے کہ آنکھوں کے سامنے جہنم جوش مارتی ہوگی، فرشتے طوق و زنجیر لیے اس قید خا نہ میں داخل کرنے کے لیے پولس کے سیاہ پوش گارد کی طرح تیار کھڑے ہوں گے اس وقت ادھر ادھر دیکھے گا کہ کوئی چھڑانے والا پیدا ہو کلا یہ ہرگز نہ ہوگا۔ اس کے بعد قیامت صغریٰ کا حال بیان فرماتا ہے جو انسان کے ہر وقت دروازہ پر کھڑی ہے یعنی موت جس کا ذائقہ چکھے بغیر چھٹکارا نہیں۔ اس صورت میں کلا کو آیندہ کلام میں شامل کیا جائے اور اس کے معنی ضرور کے لیے جائیں تو ممکن ہے فقال کلا اذابلغت التراقی ضرور ضرور جب جان گلے تک پہنچ جائے گی۔ یہ نزع کے وقت کا ذکر ہے جبکہ جان نکلنے کو ہوتی ہے گویا کہ حلق تک آگئی۔ یہ اس حالت بےکسی کی تصویر کھینچی جاتی ہے وقیل من راق اور لوگ کہیں گے کوئی جھاڑنے یا علاج کرنے والا ہے ؟ جاہل عرب ٹوٹکوں، شعبدوں، تعویذ گنڈوں، جھاڑاپھون کی کے بڑے قائل تھے اس لیے انہیں کے خیال اور حال کا ذکر کیا گیا۔ اس وقت وارث جھاڑنے والے کی تلاش میں پھرتے ہیں کہ کوئی جھاڑے ‘ منتر سے اس کو ہوش میں لائے۔ وظن انہ الفراق مگر وہ بیمار قریب الموت علامات موت اور ملائکہ کو دیکھ کر یہ سمجھ رہا ہے کہ اب فراق ہے۔ پیارے فرزند اور محبوبہ بیوی اور یہ گھر کہ جس کی تعمیر میں سرگرم رہا کرتا تھا اور یہ املاک و جائیداد اور مال خزانے ہاتھی گھوڑے اور یہ احباب اور جانی دوست جو ہر وقت شریک جلسہ رہا کرتے تھے اور یہ مادر مہربان جس نے گود میں پالا تھا اور یہ شفیق باپ کہ جو جان بھی نثار کرنے کو تیار تھا اور یہ ساتھ کھیلے ہوئے بھائی بہنیں جو باہم مل کر ایک گھر میں پرورش پائی اور مل کر ہنستے بولتے تھے، ہائے آج مجھ سے چھوٹتے ہیں الفراق الفراق ‘ الوداع الوداع ! ؎ کوس رحلت بکوفت دست ِ اجل اے دو چشمم وداع سربکنید اے کف ِ دست و ساعد و بازو ہمہ تودیع یکد گریکنید برمن افتادہ دشمن کام آخر اے دوستاں گزر بکنید روزگارم بشد بنادانی من نہ کردم شماحذر بکنید آخر روح پرواز کرگئی۔ والتفت الساق بالساق اور پنڈلی سے پنڈلی مل گئی۔ مردے کے پائوں اور ٹانگیں ملا دیتے ہیں اور سیدھا اور چت لٹا دیتے ہیں۔ بعض علماء فرماتے ہیں ساق سے مراد سختی اور شدت ہے عرب ساق بول کر شدت اس وجہ سے مراد لیا کرتے ہیں کہ تیاری کے وقت پنڈلی پر سے کپڑا اٹھا لیا اور دامن چڑھا لیا جاتا ہے ایسے وقت کافر پر دو شدت پیش آتی ہیں ایک لذات دنیا اوراقارب و اموال کا بڑی حسرت کے ساتھ چھوڑنا دوسرے وہاں کی بازپرس اور گوناگوں عذاب میں مبتلا ہونا ایک شدت سے دوسری شدت اور ایک مصیبت سے دوسری مصیبت مل گئی۔ اسی طرح من راق میں بھی یہ فرماتے ہیں کہ جان نکلنے کے بعد کا حال ہے فرشتے باہم ایک دوسرے سے کہیں گے کہ اس کو کون اوپر چڑھا کرلے جاتا ہے کس لیے کہ ایماندار کی روح کو اوپر لے جانے کے لیے خوش رو و خوش خلق ملائکہ متعین ہیں اور کافر کی روح کے لیے ہیبت ناک بدخلق متعین ہیں۔ امام احمد و نسائی نے ابوہریرہ و براء بن عازب ؓ سے ایک طویل حدیث نقل کی ہے جس میں مرنے کے بعد کی کیفیت مذکور ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب مومن مرتا ہے تو رحمت کے فرشتے آتے ہیں نہایت خوش رو گویا ان کے منہ آفتاب ہیں اور ان کے پاس جنت کا کفن اور خوشبو بھی ہوتی ہے تو وہ جہاں تک میت کی نظر جاتی ہے آ کر بیٹھ جاتے ہیں اور ملک الموت آ کر نہایت نرمی کے ساتھ جان قبض کر کے ان کو دے دیتا ہے وہ اس کو لے کر عالم بالا کو جاتے ہیں اور اس کی روح سے خوشبو آتی ہے اثنائِ راہ میں ملائکہ پوچھتے ہیں یہ کون ہے تو اس کا تعظیم سے نام لیتے ہیں یہاں تک کہ آسمانوں پر حق سبحانہ ٗ کے حضور میں پیش ہوتا ہے تب حکم ہوتا ہے کہ اس کو علیین میں لے جاؤ جہاں اور مومنین کی ارواح رہتی ہیں۔ یہ وہاں آتا ہے وہاں کے لوگ اس سے اپنے دنیا کے قرابت داروں کا حال پوچھتے ہیں اگر سنتے ہیں کہ فلاں مرگیا اور یہاں نہیں آیاتو کہتے ہیں کہ جہنم میں گیا۔ اور کافر کے پاس سیاہ رنگ بری شکل کے ملائکہ آ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ ملک الموت شدت سے جان قبض کر کے ان کے حوالے کرتا ہے وہ اس ناپاک اور بدبودار روح کو اوپر لے جاتے ہیں اول آسمان تک جا کر اوپر جانے کی بروانگی مانگتے ہیں اس کے لیے اوپر جانے کا حکم نہیں ہوتا۔ (لاتفتح لہم ابواب السماء ولایدخلون الجنۃ) پھر حکم ہوتا ہے کہ اس کو عالم سفلی کے گڑھے میں ڈال دو پھر وہ اس کو پھینک دیتے ہیں کہ جہنم میں آ گرتا ہے۔ انتہٰی ملخصًا۔ مسلم نے بھی اسی کے قریب قریب روایت کی ہے۔ جب سامان موت سب مہیا ہو چکتے ہیں اور ملائکہ روح قبض کرلیتے ہیں تو کہتے ہیں الیٰ ربک یومئذ المساق آج تیرے رب کے پاس جانا ہے چلیے وہاں سامنے ہونا ہے اب تجھ کو وہاں کی حاضری سے کوئی نہیں روک سکتا۔ مومن کو بعزت و احترام سماوات پر حضوری ہوتی ہے کافر کی آسمان اول سے نیچے ہی پیشی ہوجاتی ہے اور اس کے بعد جنت میں جو عالم قدس ہے اور کافر جہنم میں رہتا ہے۔ عالمِ آخرت کے حالات جو کچھ حضرات انبیاء (علیہم السلام) نے مکاشفہ صادقہ اور الہام سے بیان فرمائے ہیں سب صحیح ہیں سرموتفاوت نہیں ان کے خلاف جو کہتا ہے وہ غلط کہتا ہے۔
Ayahs 75:31–40

فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰىۙ Open ayah 75:31 in the Quran reader

پھر نہ اس نے خیرات ہی دی نہ نماز ہی پڑھی

وَ لٰكِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 75:32 in the Quran reader

بلکہ جھٹلایا اور منہ بھی پھیرلیا

ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ یَتَمَطّٰىؕ Open ayah 75:33 in the Quran reader

پھر اپنے گھر کی طرف اکڑتا ہوا چلا

اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىۙ Open ayah 75:34 in the Quran reader

اے انسان ! تجھ پر افسوس اور افسوس

ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىؕ Open ayah 75:35 in the Quran reader

تجھ پر افسوس اور افسوس

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًىؕ Open ayah 75:36 in the Quran reader

انسان یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا

اَلَمْ یَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِیٍّ یُّمْنٰىۙ Open ayah 75:37 in the Quran reader

کیا وہ ٹپکتی منی کی ایک بوند نہ تھا

ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ Open ayah 75:38 in the Quran reader

پھر لوتھڑا بنا پھر خدا نے اس کو بنا کر ٹھیک کیا

فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىؕ Open ayah 75:39 in the Quran reader

پھر اس سے مردو عورت کا جوڑا بنایا

اَلَیْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى۠ Open ayah 75:40 in the Quran reader

پھر کیا وہ خدا مردہ زندہ کردینے پر قادر نہیں ہے۔

ترکیب : فلاصدق ای لم یصدق لابمعنی لم و العرب تقول لاذہب ای لم یذہب وھذا کثیر فی کلام العرب قالہ الکسائی والاخفش وقیل لابمعنی ماوھو معطوف علیٰ قولہ یسئل ایان الخ والضمیر الفاعل نے لاصدق ولاصلی للانسان المذکور فی قولہ ایحسب الانسان الخ یتمطیٰ حال من فاعل ذہب یتمطی فیہ قولان (الاول) ان اصلہ یتمطط ای یتمدولان المتبختر یمد خطا و فقلبت الطاء فیہ یاء کما قیل فی تقضٰی صلہ تقضض (والثانی) من الط و ھوا لظھر لانہ یلویہ فعلی الاول الالف مَبَّدلۃ من طائٍ وعلی الثانی من واوٍ اولیٰ لک فیہ قولان الاول انہ اسم فعل مبنی علی السکون و معناہ ولیک ماتکرھمہ والفاعل ضمیر مستتریعود علی مایفھم من السیاق وھوالدعاء علیہ بالمکروہ واللام زائدۃ کما فی قولہ رؤف لکم والثانی انہ علی وزن افعل من الویل والقلب کا دنیٰ من ونووقیل وزنہ فعلی لمن آل یؤل والاف للالحاق لاللتانیث وعلی التقدیر من ھواعلم فلالم ینون فعلی ھذا اولی مبتداء لک خبرہ۔ سدًی حال والالف مبدلۃ من واومعناہ المھمل و منہ اھل سدًی ای ترعی بلاراع الم یک الخ مستانفۃ واروۃ بطلان الحسبان المذکو ریمنٰی بالیاء والضمیر یرجع الی المعنی فیکون فی موضع جرصفۃ للمعنی وبالتاء والضمیر للنطفۃ وھی الماء القلیل یقال نطف الماء اذا قطرو جمعھا نطاف ونطف فیکون فی موضع نصب الذکر والانثیٰ بدل من الزوجین۔ تفسیر : اب اس روح کی حالت بیان فرماتا ہے کہ خدا کے پاس جانے کے بعد اس سے کیا معاملہ پیش آئے گا اور اس کو کیا کہا جائے گا۔ مومن کا حال چھوڑ دیا گیا کس لیے کہ بالفعل ان سرکش کافروں کا انجام کار بیان کرنا اہم مقاصد تھا اس لیے کفار و بت پرست اور گنہگاروں کا حال بیان فرماتا ہے۔ فقال فلاصدق ولاصلّٰی کہ جب وہ دربار میں حاضر ہوگا تو کہا جائے گا تو نے دنیا میں نہ مالی عبادت کی یعنی خیرات نہ دی، نہ فقیروں محتاجوں کو کچھ دیا جوڑ جوڑ کر رکھتا رہا، خلق خدا پر رحم نہ کھایا اور نہ جانی عبادت کی نہ نماز پڑھی نہ خدا کے سامنے رکوع و سجود کیا، نہ عاجزی اور دعا کی۔ ثم ذھب الی اھلہ یتمطٰی بلکہ اپنے گھر کی طرف اکڑتا ہوا چلا گیا خدا کی طرف کے داعی سے منہ موڑ لیا۔ یا یوں کہو تصدیق نہ کی اللہ اور اس کے رسول کی باتوں پر ایمان نہ لایا، نہ اعمال اچھے کئے۔ نماز سے بیخبر رہا۔ اولیٰ لک فاولیٰ ثم اولیٰ لک فاولیٰ اس کے بعد غصہ سے اس کو کہا جائے گا کمبختی ہو تیری پھر کمبختی ہو تیری یعنی تیری زندگی پر پھٹکار اور مرنے پر پھٹکار اور یہاں زرد رو خالی ہاتھ آنے پر پھٹکار پھر تیرے جہنم میں جانے پر پھٹکار۔ یہ کلمہ زبان عرب میں ایسے موقع پر بولا جاتا ہے چاربار بولا گیا۔ چار موقعوں کے لحاظ سے اس کے بعد اس کو اس اندوہناک اور تاریک قیدخانہ میں ڈال دیا جائے گا جہاں آگ کی لپیٹیں اور طرح طرح کے عذاب ہیں۔ اس قیامت صغریٰ (موت) کے واقعہ کا بیان فرما کر حشر برپا ہونے پر ایک دلیل قائم کرتا ہے۔ اس انداز میں کہ اس کو ادنیٰ فہم کے لوگ بھی سمجھ سکیں۔ دلیل اول قیامت پر : فقال ایحسب الانسان ان یترک سدی کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اس کو بیکار اور آزاد اور نکما چھوڑا جائے گا ؟ ہرگز نہیں اسی طرح اور چند آیات میں جو حشر برپا ہونے کی دلیل ہیں۔ تقریر اس کی یہ ہے کہ انسان کو قدرت و اسباب و عقل عطا کئے گئے ہیں اور ان چیزوں کا عطا کرنا اس بات کا مقتضٰی ہے کہ اس کو چند نامناسب باتوں سے منع کیا جائے اور چند ضروری باتوں کا حکم دیا جائے اور یہ بات کا تقاضا کرتا ہے کہ امور منہی عنہا پر عذاب اور مامور بہا پر ثواب ہے جس کا محل دارآخرت ہے۔ کیا آدمی کا اس جہان میں آنا عقل و حواس پانا اور پھر چند روز رہ کر داردنیا سے غائب ہوجانا اس حکیم و کریم کا کوئی عبث فعل یا کوئی کھیل ہے ؟ ہرگز نہیں پھر کیا یہ ساری باتیں ایک نئی زندگانی کے لیے سامان و اسباب فراہم کرنے کے لیے نہیں ؟ ضرور ہیں۔ پھر انسان نکما اور بیکار اور شتر بےمہار کیونکر ہوسکتا ہے کہ جو چاہے سو کرے ‘ دنیا کے جائز اور ناجائز مزے اڑایا کرے، جانوروں کی طرح سونے ‘ جماع کرنے، کھانے پینے کے سوا اس کو کچھ کام نہ ہو۔ ضرور ضرور وہ کسی کام کے لیے یہاں آیا ہے اس کی فطری بناوٹ اور اس کے عقل و حواس اس پر دلالت کرتے ہیں۔ اور اثبات نبوت کی بھی یہ دلیل ہوسکتی ہے کس لیے کہ جب انسان شتر بےمہار نہیں چھوڑا گیا تو ضرور اس کے لیے کوئی روحانی معلم ہونا چاہیے جس پر اس جہان کے اسرار منکشف کئے گئے ہوں اور وہ اس کو وہاں کے مناسب باتیں تعلیم کرے اور ایسا شخص نبی ہوتا ہے۔ پھر اس کا اتباع بھی ضرور ہے۔ دوسری دلیل : دوسری دلیل حشر برپا ہونے پر یہ ہے الم یک نطفۃ من منی یمنی کہ وہ انسان کیا ایک منی کا قطرہ نہیں تھا ؟ ضرور اس کی ابتدا یہی ہے اس کو کافر و مومن سب جانتے ہیں۔ پھر کیا وہ قطرہ خودبخود انسان بن گیا۔ اس میں یہ تناسب اعضا پیدا ہوگیا یا کسی مادہ بیخبر اور طبیعتِ بےشعور نے یہ عقل و حواس عطا کردیے ؟ ہرگز نہیں بلکہ اسی نے اس کو بترتیب بنایا کس لیے کہ ثم کان علقۃً فخلق فسویٰ قطرہ منی سے خون کا لوتھڑا بنا پھر بتدریج اس کے اعضاء بنے پھر اعضاء بھی ایسے بنائے کہ جن کی تشریح و تناسب میں عقل حیران ہے ہر ایک عضو اس کی کمال صنعت وقدرت کی بآواز بلند گواہی دے رہا ہے۔ پھر خود انسان کا تو یہ کام نہیں کہ ازخود بن جائے ازخود ہوتا تو یکبارگی ہوتا بلکہ کسی نے بنایا ہے۔ پھر کیا یہ اس کے ماں باپ کا کام ہے ؟ ہرگز نہیں۔ ان کو تو خبر بھی نہیں کہ اندر پیٹ میں کیا ہو رہا ہے پھر کیا یہ مادہ اور طبیعت کا کام ہے ؟ جیسا دہری اور طبعی کہتے ہیں یہ بھی نہیں کس لیے کہ فخلق منہ الزوجین الذکروالانثیٰ اس نے ایک قطرہ منی سے مرد بھی پیدا کئے اور عورت بھی۔ مادہ منویہ برابر تھا طبیعت کا مقتضٰی یکساں تھا، پیٹ بھی وہی پیٹ ہے اور نطفہ بھی اس شخص کا نطفہ ہے پھر یہ مرد و عورت کا تفاوت کیونکر ہوگیا ؟ اور لطف یہ کہ ایک ہی حمل میں ایک لڑکی دوسرا لڑکا کبھی دونوں لڑکے کبھی دونوں لڑکیاں یہ تفاوت کیوں ہوا اور کس نے کیا ؟ بیشک اس حکیم مطلق نے اور یہ بھی اس کی کمال قدرت و صنعت اور انسان پر مرحمت کی دلیل ہے کس لیے کہ اگر سب عورتیں ہی ہوتیں یا سب مرد ہی ہوتے تو انسانی توالد و تناسب اور اس کے عیش اور زندگانی کے لطف کا خاتمہ ہوجاتا ایک نطفہ اور اسی سے یہ اعضاء مختلف الآثار کس مرجح کا کام ہے۔ پھر جس نے یہ سب کچھ کردیا تو الیس ذالک بقادر علی ان یحییٰ الموتیٰ کیا وہ مردے کو حشر میں زندہ کردینے پر قادر نہیں ؟ ضرور قادر ہے اس میں کوئی بھی شبہ نہیں۔ عبدبن حمید و ابن الانباری و ابودائود و ترمذی و بیہقی و ابن المنذر و حاکم وغیرہ محدثین نے باسناد مختلفہ روایت کی ہے کہ نبی ﷺ اس آیت کے بعد یہ فرماتے تھے بلیٰ کہ کیوں نہیں آپ ضرور قادر ہیں۔ اور اسی طرح سورة والتین کے بعد بلٰی وانا علی ذلک من الشاھدین اور سورة مرسلات کے بعد آمناباللہ کہتے اور حکم دیتے تھے کہ کہو کس لیے کہ یہ آداب سماعت میں سے ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں نماز کے باہر ان مواقع میں یہ الفاظ کہے نماز میں نہیں۔ بعض کہتے ہیں نماز میں بھی مضائقہ نہیں کس لیے کہ ان الفاظ سے نماز فاسد نہیں ہوتی لیکن اول قول احوط ہے۔