75. Surah Al-Qiyaama

القيامةThe Resurrection · 40 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayahs 75:1–2

لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَةِۙ Open ayah 75:1 in the Quran reader

نہیں، میں قیامت کے دن کی قسم کھاتا ہوں !

وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِؕ Open ayah 75:2 in the Quran reader

اور نہیں، میں بہت ملامت کرنے والے نفس کی قسم کھاتا ہوں !

(1) لا اقسم بیوم القیمۃ…:”القیمۃ“ ”قیام“ مصدر ہے ، کھڑا ہونا، تاء ”ایک دفعہ“ کا معنی ادا کرنے کے لئے ہے، یعنی آدمی کا ایک دفعہ کھڑا ہونا۔ یہاں یہ تنبیہ کے لئے لائی گئی ہے کہ قیامت کا وقوع دفعتاً ہوگا۔ (راغب)”یوم القیامۃ“ کا معنی ہوگا ایک ہی دفعہ اٹھ کھڑے ہونے کا دن۔ ”اللوامۃ“”لام یلوم“ سے مبالغے کا صیغہ ہے، یعنی بہت ملامت کرنے والا، جیسے ”علامۃ“ اور ”فھامۃ“ ہے۔ (2) ”لااقسم“ کا معنی یہ نہیں کہ میں قسم نہیں کھاتا، بلکہ ”لا“ الگ ہے اور ”قاسم“ الگ۔ معنی یہ ہے کہ نہیں، میں قیامت کے دن کی قسم کھاتا ہوں۔ عرب کے ہاں یہ محاورہ عام ہے ”لا واللہ“ یعنی جب کوئی شخص انکار کر رہا ہو تو پہلے اس کے انکار کی نفی ”لا“ سے کی جاتی ہے، پھر اپنی بات کی تاکید کے لئے قسم ذکر کی جاتی ہے۔ اردو میں بھی مخاطب کے غلط خیال کی تردید کے لئے ایسے ہی کہا اجتا ہے کہ نہیں، اللہ کی قسم ! بات اس طرح ہے۔ کئی مفسرین نے فرمایا کہ ”لا“ زائدہ ہے اور معنی یہ ہے کہ میں قسم کھاتا ہوں۔ مگر زائدہ ماننے کے بجائے با معنی قرار دینا بلاغت قرآن کے زیادہ لائق ہے، جب کہ معنی بھی درست ہو رہا ہے اور پر زور ہو رہا ہے۔ (3) قرآن میں انسانی نفس کی تین قسموں کا ذکر کیا گیا ہے، ایک وہ جو اسے گناہ پر ابھارتا ہے، اس کا نام ”امارہ“ ہے، جیسا کہ فرمایا :(ان النفس لامارۃ بالسوء) (یوسف، 53)”نفس تو برائی کا حکم دینے والا ہے۔“ دوسرا وہ نفس جو آدمی کو برائی پر ملامت کرتا ہے، اس کا نام ”لوامہ“ ہے۔ کوئی بھی شخص خواہ نیک ہو یا بد، نیک کام میں کوتاہی اور برے کام کے ارتکاب پر خود اس کا نفس اسے ملامت کرتا ہے کہ تم نے ایسا کیوں کیا ؟ اسے عام طورپر اردو میں ضمیر کہتے ہیں۔ تیسرا وہ جسے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی تمام باتوں پر یقین ہو اور ان کے حق ہونے پر اسے پورا اطمینان اور تسلی ہو، منافقین کی طرح شک و شبہ میں مبتلا نہ ہو ، یہ ”نفس مطمئنہ“ ہے۔ بعض اہل علم نے فرمایا کہ یہ ایک ہی نفس کی مختلف وقتوں میں تین حالتیں ہیں۔ (4) ”بیوم القیمۃ“ اور ”بالنفس اللوامۃ“ کی قسم جس بات پر کھائی گئی ہے وہ یہاں لفظوں میں مذکور نہیں، مگر بعد میں آنے والی آیات سے وہ بات خود بخود سمجھ میں آرہی ہے کہ وہ یہ ہے کہ ہم یقینا انسان کی ہڈیاں اکٹھی کر کے اسے دوبارہ زندہ کریں گے۔ (5) قسم سے مراد اس بات کی تاکید ہوتی ہے جس کے لئے قسم کھائی جاتی ہے، پھر بعض اوقات تاکید کی صورت یہ ہوتی ہے کہ وہ چیز نہایت عظیم الشان ہوتی ہے جس کی قسم کھائی گئی ہے اور اس کی عظمت ہی بات کی تاکید کیلئے کافی سمجھی جاتی ہے اور بعض اوقات قسم اپنے جواب قسم کی دل یل ہوتی ہے جس سے اس کی تاکید ہوتی ہے۔ یہاں قیامت کے دن کی قسم قیامت کے حق ہونے کی تاکید کیلئے اٹھائی گئی ہے، اس کی وجہ قیامت کی عظمت بھی ہے اور یہ بھی کہ روز قیامت اپنی دلیل خود ہے، جیسا کہ سورة ص میں قرآن کے حق ہونے کے لئے خود قرآن کی قسم کھائی ہے، فرمایا :(ص والقرآن ذی الذکر) (ص : 1)”ص۔ اس نصیحت والے قرآن کی قسم۔“ اور نفس لوامہ کی قسم اس لئے کہ یہ بات انسان کی فطرت میں رکھ دی گئی ہے کہ اس کا نفس برے کام پر اسے ملامت کرتا ہے، قطع نظر اس سے کہ اس کے نزدیک اچھائی یا برائی کا معیار کیا ہے اورق طع نظر اس سے کہ وہ ضمیر کی اس ملامت کی پروا کرتا ہے یا نہیں ؟ ملامت کرنے والا یہ نفس اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان پر حجت ہے کہ جس طرح تمہارا اپنا نفس خود تم سے باز پرس کر رہا ہے لازم ہے کہ ایک ایسا وقت آئے جب تمہارا پیدا کرنے والا تم سے باز پرس کرے۔
Ayahs 75:3–4

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗؕ Open ayah 75:3 in the Quran reader

کیا انسان گمان کرتا ہے کہ بیشک ہم کبھی اس کی ہڈیاں اکٹھی نہیں کریں گے۔

بَلٰى قٰدِرِیْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَهٗ Open ayah 75:4 in the Quran reader

کیوں نہیں ؟ (ہم انھیں اکٹھا کریں گے) اس حال میں کہ ہم قادر ہیں کہ اس (کی انگلیوں) کے پورے درست کر (کے بنا) دیں۔

(1) ایحسب الانسان الن نجمع عظامہ…:”قدرین“ حال ہے، اس ہلے فعل محذوف ہے : ”ای بلی نجمعھا قادرین…“ ”یعنی کیوں نہیں ہم انہیں جمع کریں گے، اس حال میں کہ ہم اس بات پر قادر ہیں…۔“ (2) قیامت کے منکرین یہ ماننے کیلئے تیار نہ تھے کہ جب ان کی ہڈیاں تک بوسیدہ ہو کر ذرات کی صورت میں بکھر جائیں تو انہیں پھر دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ (انسان اگر یہ خیال کرے کہ اس کی ہڈیاں خود بخود مع نہیں ہوسکتیں یا مخلوق میں سے کوئی انہیں دوبارہ جمع نہیں کرسکتا تو اسے یہ سمجھنے کا حق ہے، مگر) کیا وہ ہمارے متعلق گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہیں کرسکیں گے ؟ پہلی دفعہ جب اس کا نام و نشان تک نہ تھا، ہم نے ایدا کردیا تو اب اس کی ہڈیاں کیوں جمع نہیں کرسکتے ؟ یقینا ہم انہیں جمع کریں گے اور بڑی ہڈیاں ہی نہیں بلکہ ہم یہ بھی قدرت رکھتے ہیں کہ اس کے پورے ، جو نہایت باریک اور نازک ہڈیوں پر مشتمل ہیں، دوبارہ درست کر کے بنادیں۔ سورة یٰسین (77 تا 79) اور سورة بنی اسرائیل (49 تا 51) میں یہ مضمون تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ (3) ان آیات سے صاف ظاہر ہے کہ قیامت کے دن جسم دوبارہ زندہ کئیج ائیں گے اور وہ بھی حساب، عذاب اور ثواب میں روح کے ساتھ شریک ہوں گے۔ صحیح بخاری (3481) میں بنی اسرائیل کے ایک آدمی کا ذکر آیا ہے جس کے بیٹوں نے اس کے کہنے کے مطابق اسے مرنے کے بعد جلا کر اور ہڈیوں کو پیس کر کچھ راکھ ہوا میں اڑا دی اور کچھ پانی میں بہادی، تو اللہ تعالیٰ کے کہنے کے مطابق اسے مرنے کے بعد جلا کر اور ہڈیوں کو پیس کر کچھ راکھ ہوا میں اڑا دی اور کچھ پانی میں بہاد ی، تو اللہ تعالیٰ نے ہوا اور پانی کو حکم دے کر اس کے ذرات اکٹھے کر کے اسے دوبارہ زندہ کردیا۔ اگر روح ہی سے باز پرس ہو تو ذرات جمع کر کے اسے دوبارہ سامنے کھڑا کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟
Ayahs 75:5–6

بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَهٗۚ Open ayah 75:5 in the Quran reader

بلکہ انسان چاہتا ہے کہ اپنے آگے (آنے والے دنوں میں بھی) نافرمانی کرتا رہے۔

یَسْئَلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَةِؕ Open ayah 75:6 in the Quran reader

وہ پوچھتا ہے اٹھ کھڑے ہونے کا دن کب ہوگا ؟

بل یرید الانسان …:”لیفجر“ ”فجر فجوراً“ (ن) جھوٹ بولنا، گناہ کرنا، زنا کرنا۔ یعنی قیامت کے اناکر کی کوئی اور وجہ نہیں، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ انسان چاہتا ہے کہ اپنے آگے یعنی آنے والے دنوں میں بھی نافرمانی اور گناہ کرتا رہے۔ اب اگر وہ قیامت پر ایمان لائے تو اس کا تقاضا ہے کہ گناہ چھوڑ دے جسے چھوڑنے پر وہ آمادہ نہیں۔ گویا وہ عقل کی وجہ سے قیامت کا انکار نہیں کر رہا بلک ہہوس نے اسے اندھا کر رکھا ہے، اس لئے وہ تیاری کے لئے نہیں بلکہ مذاق اڑانے اور جھٹلانے کے لئے پوچھتا ہے کہ وہ دفعتاً اٹھ کھڑے ہونے کا وقت کب ہوگا ؟
Ayah 75:7

فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ Open ayah 75:7 in the Quran reader

پھر جب آنکھ پتھرا جائے گی۔

فاذا برق البصر :”برق البصر“ (س، ن)”برفا و بروفا“ آکھ کا حیرت سے کھلا رہ جانا یا دہشت زدہ ہو کر کچھ نہ دیکھ سکنا۔ (قاموس) ؓ عنہمانے قیامت کی تاریخ اور قیامت کے متعلق بتانے کے بجائے اس دن واقع ہونے والی چند چیزیں بیان فرما دیں۔ ”فاذا برق البصر“ یعنی قیامت کے دن کے عجیب و غریب حوادث و واقعات کو دیکھ کر آنکھیں حیرت سے کھلی رہ جائیں گی اور خوف و دہشت کے مارے ان سے کچھ دکھائی نہ دے گا، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(ولا تحسبن اللہ غافلاً عما یعمل الظلمون، انما یوخرھم لیوم تشخص فیہ الابصار مھطعین مقنعی رء و سھم لایرتد الیھم طرفھم ، وافدتھم ھوآئ) (ابراہیم)”اور تو ہرگز خیال نہ کر کہ اللہ ان کاموں سے بیخبر ہے جو ظالم لوگ کر رہے ہیں، وہ تو انہیں صرف اس دن کے لئے مہلت دے رہا ہے جس میں آنکھیں کھلی رہ جائیں گی۔ حال یہ ہوگا کہ سر اٹھائے ہوئے تیز بھاگ رہے ہوں گے، ان کی نگاہیں ان کی طرف لوٹ کر نہیں ائٓیں گی اور ان کے دل خالی ہوں گے۔“
Ayah 75:8

وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:8 in the Quran reader

اور چاند گہنا جائے گا۔

وخسف القمر : چاند گہنا جائے گا، یعنی بےنور ہوجائے گا۔
Ayah 75:9

وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:9 in the Quran reader

اور سورج اور چاند اکٹھے کردیے جائیں گے۔

وجمع الشمس والقمر : یعنی یہ نظام فلکی جس میں چاند سورج سے لاکھوں میل کے فاصلے پر ہے، درہم برہم ہوجائے گا اور سورج اور چاند اکٹھے کردیئے جائیں گے۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :) (الشمس والقمر مکوران یوم القیامۃ) (بخاری، بدء الخلق، باب صفۃ الشمس والقمر : 3200)”قیامت کے دن سورج اور چاند لپیٹے ہوئے ہوں گے۔“
Ayahs 75:10–12

یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّۚ Open ayah 75:10 in the Quran reader

اور انسان اس دن کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کہاں ہے ؟

كَلَّا لَا وَزَرَؕ Open ayah 75:11 in the Quran reader

ہرگز نہیں، پناہ کی جگہ کوئی نہیں۔

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمُسْتَقَرُّؕ Open ayah 75:12 in the Quran reader

اس دن تیرے رب ہی کی طرف جا ٹھہرنا ہے۔

یقول الانسان یومئذ …: یہ انسان جو آج پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب ہوگا، اس دن ایسا حیران اور خوف زدہ ہوگا کہ بھگانے کے لئے جگہ تلاش کرے گا، مگر اس دن کوئی جائے پناہ نہیں ملے گی اور سب لوگوں کو اپنے رب کے سامنے پیش ہونا پڑے گا۔
Ayah 75:13

یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَؕ Open ayah 75:13 in the Quran reader

اس دن انسان کو بتایا جائے گا جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا۔

ینبوا الانسان یومئذ …:”جو آگے بھیجا“ سے مراد وہ اعمال ہیں جو اس نے موت سے پہلے کئے اور ”جو پیچھے چھوڑا“ سے مراد وہ اچھے یا برے اعمال ہیں جو اس کے مرنے کے بعد بھی جاری رہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(اذا مات الانسان انفطع عنہ عملہ الا من ثلاثۃ الا من صدقۃ جاریۃ او علم ینفع بہ او ولد صالح یدعو لہ) (مسلم، الوصیۃ، باب ما یلحق الانسان من الثواب بعد وفاتہ : 1631، عن ابی ہریرہ ؓ)”جب انسان فوت ہوتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہوجاتا ہے مگر تین عمل جاری رہتے ہیں، صدقہ جاریہ، وہ علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے اور صالح اولاد جو اس کے لئے دعا کرے۔“ اور فرمایا :(من سن فی الاسلام سنۃ حسنۃ فعمل بھا بعدہ کتب لہ مثل اخر من عمل بھا ولا ینفص من اجورھم شیء ومن سن فی الاسلام سنۃ سیئۃ فعمل بھا بعدہ کتب علیہ مثل وزر من عمل بھا ولا ینفص من اوزاھم شیء) (مسلم ، العلم، باب من سن سنۃ حسنۃ اوسیئۃ…: 1018، بعد الحدیث : 2683”جو شخص اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کرے پھر اس کے بعد اس طریقے پر عمل کیا جائے، تو اس لئے ان لوگوں کی مثل اجر لکھا جائے گا جو اس پر عمل کریں گے اور ان کے ثواب سے بھی کچھ کم نہیں ہوگا اور جو شخص اسلام میں کوئی برا طریقہ جاری رکے، پھر اس کے بعد اس پر عمل کیا جائے، تو اس پر ان لوگوں کے گناہ کی مثل لکھا جائے گا جو اس پر عمل کریں گے اور ان کے گناہ میں سے بھی کچھ کم نہیں ہوگا۔“ ”بما قدم واخر“ کا دوسرا معنی یہ ہے کہ اسے وہ سب کچھ بتادیا جائے گا جو اس نے کیا اور جو کرنا تھا مگر نہیں کیا۔ تیسرا معنی یہ ہے کہ جو کچھ اس نے پہلے وقت میں کیا اور جو بعد میں کیا سب تاریخ اور قوت کے ساتھ اسے بتایا جائے گا۔
Ayah 75:14

بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِیْرَةٌۙ Open ayah 75:14 in the Quran reader

بلکہ انسان اپنے آپ کو خوب دیکھنے والا ہے۔

بل الانسان لعسی نفسہ بصیرۃ …:’ بصیرۃ“ ”بصر“ (ک) سے صفت کا صیغہ ہے۔ ”تائ“ مزید مبالغے کے لئے ہے، جیسے ”غلامۃ“ میں ہے، یہ تائے تانیث نہیں ہے، خوب دیکھنے والا۔”معاذیر“ ”معذرۃ“ کی جمع ہے۔ یعنی اس دن انسان کو پہلے اور پچھلے اعمال بتائے جانے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے معلوم نہیں کہ وہ کیا کرتا رہا ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کو اپنے متعلق خوب معلوم ہے کہ وہ اچھا کام کر رہا ہے یا برا۔ پھر دوسروں کے سامنے اپنے کفر و شرک، خلاق کی نافرمانی اس کی مخلوق پر ظلم و ستم اور پانی خواہش پرستی کے جواز کے لئے مجبویر یا مصلحت کے لاکھ بہانے گھڑے، مگر خود اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے اور بہانہ بازی کر رہا ہے۔ اس کے نفس کی ملامت بھی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اپنے کرتوتں سے آگاہ ہے۔ نامہ اعمال پیش کئے جانے کا مطلب تو اس پر حجت تمام کرنا ہے اور یہ حجت صرف نامہ اعمال کے ذریعے سے نہیں بلکہ اس کے ہر ہر عضو کو بلوا کر اور زمین کے ہر اس حصے کو بلوا کر جس پر اس نے نافرمانی کی تھی، پوری کی جائے گی۔
Ayahs 75:15–19

وَّ لَوْ اَلْقٰى مَعَاذِیْرَهٗؕ Open ayah 75:15 in the Quran reader

اگرچہ وہ اپنے بہانے پیش کرے۔

لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖؕ Open ayah 75:16 in the Quran reader

تو اس کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دے، تاکہ اسے جلدی حاصل کرلے۔

اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗۚۖ Open ayah 75:17 in the Quran reader

بلاشبہ اس کو جمع کرنا اور (آپ کا) اس کو پڑھنا ہمارے ذمے ہے۔

فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗۚ Open ayah 75:18 in the Quran reader

تو جب ہم اسے پڑھیں تو تو اس کے پڑھنے کی پیروی کر۔

ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَهٗؕ Open ayah 75:19 in the Quran reader

پھر بلاشبہ اسے واضح کرنا ہمارے ذمے ہے۔

(1) لاتحرک بہ لسانک…: ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ قرآن مجید اترتے وقت بہت تکلیف محسوس کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ ساتھ ساتھ ہونٹ ہلاتے جاتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری : لا تحرک بہ لسانک لتعجل بہ ان علینا جمعہ وقرآنہ)”تو اس کیساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دے کہ اسے جلدی حاصل کرے۔ بلاشبہ اس کو جمع کرنا اور (آپ ﷺ کا) اس کو پڑھانا ہمارے ذمے ہے۔”ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا ، اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے آپ کے سینے میں جمع کرنا اور آپ کا اسے پڑھنا ہمارے ذمے ہے۔”فاذا قرانہ فاتبع قرآن ہ“ تو جب ہم اسے پڑھیں تو کان لگا کر سنو اور خاموش رہو۔”ثم ان علینا بیانہ“ پھر یہ ہمارے ذمے ہے کہ آپ اسے پڑھیں گے۔ اس کے بعد جب جبریل ؑ آپ کے پاس آتے تو آپ کان لگا کر سنتے رہتے، جب وہ چلے جاتے تو نبی ﷺ اسی طرح پڑھ لیتے جیسے جبریل ؑ نے پڑھا تھا۔ (بخاری، بدء الوحی، باب کیف کان بداء الوحی : 5)”جمعہ وقرآنہ“ سے اولین مراد یہی ہے جو ابن عباس ؓ عنہمانے بیان فرمائی، مگر لفظ عام ہونے کی وجہ سے قرآن جمع کرنے اور اسے پڑھنے کی تمام صورتیں اس میں شامل ہیں اور اس کے جمع و نشر کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لیا ہے۔ چناچہ خلفاء کا قرآن مجید کو جمع کرنا، لکھوانا اور حفاظ کا حفظ کرنا، ریڈیو، ٹیلی ویژن، پریس اور کمپیوٹر کے ذریعے سے قرآن کا جمع اور نشر ہونا بھی اس میں شامل ہے۔ (2) ثم ان علینا بیانہ“ سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید کی وضاحت ک ذمہ بھی اللہ تعالیٰ نے خود اٹھایا ہے اور یہ وضاحت رسول اللہ ﷺ کے ذریعے سے فرمائی ہے، جو حدیث و سنت کی صورت میں ہمارے پاس محفوظ ہے۔ مثلاً قرآن میں اللہ تعالیٰ نے نماز قائم کرنے کا حکم دیا تو اس کی تشریح رسول اللہ ﷺ کے عمل اور فرمان کیساتھ کردی کہ نمازوں کے اوقات کیا ہیں اور نمازیں کتنی ہیں۔ ان کی رکعات، قیام، رکوع، سجود وغیرہ کی ترتیب اور ان میں پڑھے جانے والے اذکار، غرض یہ سب کچھ قرآن کا بیان ہے جو رسول اللہ ﷺ کے ذریعے سے کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیھم ولعلھم یتفکرون) (النحل : 33) ”اور (اے رسول !) ہم نے تیری طرف یہ ذکر نازل کیا ہے، تاکہ تو لوگوں کے لئے اس (ذکر) کی وضاحت اور تشریح کر دے جو ان کی طرف نازل کیا گیا اور تاکہ وہ غور و فکر کریں۔“ معلوم ہوا کہ حدیث قرآن ہی کا بیان ہے، اس لئے اس پر عمل کرنا بھی اسی طرح واجب ہے جس طرح قرآن پر عمل کرنا واجب ہے۔ (3) ”فاذا قرانہ“ (جب ہم اسے پڑھیں) سے مراد یہ ہے کہ جب جبریل ؑ پڑھ رہے ہوں، کیونکہ ان کا پڑھنا اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہے، اسلئے اس کی نسبت اللہ تعالیٰ نے خود اپنی طرف فرمائی۔ (4) سورت کے شروع میں منکرین حشر اور منکرین قیامت کا ذکر ہے، سورت کے آخر میں بھی یہی ذکر ہے، درمیان میں یہ آیات ہیں جن کا بظاہر ماقبل اور مابعد سے کوئی ربط نہیں۔ اس لئے بعض شیعہ مفسرین نے یہاں تک لکھ دیا کہ اس سورت میں کچھ آیات رہ گئی ہیں مگر یہ بات غلط ہے، کیونکہ اس کا رد خود ان آیات میں موجود ہے کہ قرآن کا جمع کرنا اللہ کے ذمے ہے، پھر اس میں سے آیات کس طرح رہ سکتی ہے ؟ اور یہ با بھی صحیح سندوں سے ثابت ہے کہ قرآن مجید کی آیات کی یہ ترتیب خود رسول اللہ ﷺ کی بتائی ہوئی ہے، جیسا کہ عثمان بن عفان ؓ عنہمانے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ پر ایک قوت میں کئی سورتیں نازل ہو رہی ہوتی تھیں، جب کوئی چیز نازل ہوتی تو آپ کسی وحی لکھنے والے کو بلاک ر فرماتے کہ یہ آیات اس سورت میں لکھو جس میں فلاں فلاں بات کا ذکر ہے اور جب آپ پر کوئی ایٓ اترتی تو فرماتے اسے اس سورت میں لکھ دو جس میں فلاں فلاں بات کا ذکر ہے۔ (ترمذی، التفسیر، باب سورة التوبۃ : 3086) ابو داؤد، نسائی ، مسند احمد، مستدرک حاکم اور صحیح ابن حبان میں بھی یہ حدیث موجود ہے۔ اگرچہ بعض مفسرین نے ان آیات کا ربط ماقبل اور مابعد کے ساتھ بنانے کی کوشش کی ہے مگر ابن عباس ؓ کی تفسیر کے بعد جو بہترین سندوں کے ساتھ امام بخاری ؒ نے قنل فرمائی ہے۔ خود ساختہ ربط کی تکلیف اٹھاتا سراسر تکلف ہے۔ صحیح بات یہی ہے کہ اس سورت کے نازل ہونے کے وقت اور سورة طہ کی آیت (114) : ولا تعجل بالقرآن من قبل ان یقضی الیک وحیہ) (نازل ہونے کے وقت رسول اللہ ﷺ کو جبریل ؑ کے ساتھ پڑھنے کا موقع پیش آیا اور اس وقت ممانتع کا یہ حکم نازل ہوا اور اس مقام پر قرآن میں لکھ دیا یا۔ اس کی مثال ایسے ہی سمجھیں جیسے کوئی استاذ شاگرد کو کوئی چیز پڑھا رہا ہو اور درمیان میں اس کی کسی حرکت کی اصلاح کے لئے کہے ”ایسا مت کرو“ اور پہلا سلسلہ کلام جاری کر دے تو ٹیپ ریکارڈر میں یہ بات بھی ریکارڈ ہوجائے گا اور لفظ بلفظ تحریر میں بھی اسی طرح نقل ہوگی۔ درمیان میں آنے والی اس بات کا معنوی ربط وتعلق ماقبل ومابعد سے جوڑنا تکلف ہوگا، مگر اس بات کو بےمحل نہیں کہہ سکتے، یقیناً اس موقع پر یہی بات ضروری تھی اور یہ بھی ربط کی ایک صورت ہے کہ موقع و محل کے تقاضے سے یہ الفاظ درمیان میں آگئے۔
Ayahs 75:20–21

كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَۙ Open ayah 75:20 in the Quran reader

ہرگز نہیں، بلکہ تم جلدی ملنے والی کو پسند کرتے ہو۔

وَ تَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَؕ Open ayah 75:21 in the Quran reader

اور بعد میں آنے والی کو چھوڑ دیتے ہو۔

کلا بل تحبون العاجلۃ …: یہاں سے پھر وہی سلسلہ کلام شروع ہوتا ہے جو ”لاتحریک بہ لسانک“ سے پہلے چل رہا تھا۔ فرمایا تمہارے قیامت کا انکار کرنے کی وجہ کوئی اور نہیں بلکہ یہ ہے کہ تم دنیا سے محبت کرتے ہ اور اس کی محبت میں آخرت کو چھوڑ ہی بیٹھے ہو، کیونکہ دنیا جلدی ملنے والی اور نقد ہے جب کہ آخرت بعد میں آئے گی اور ادھار ہے، حالانکہ اس نقد کی راحتیں اور رنج عارضی ہیں اور آخرت ہمیشہ رہنے والی اور کہیں بہتر ہے، جیسا کہ فرمایا :(بل توثرون الحیوۃ الدنیا والاخرۃ خیر وابقی) (الاعلی : 16، 18) ”بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے وہ۔ حالانکہ آخرت کہیں بہتر اور زیادہ باقی رہنے والی ہے۔“
Ayahs 75:22–23

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌۙ Open ayah 75:22 in the Quran reader

اس دن کئی چہرے ترو تازہ ہوں گے۔

اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌۚ Open ayah 75:23 in the Quran reader

اپنے رب کی طرف دیکھنے والے۔

وجوہ یومئذ ناضرۃ…:”ناضرۃ“ ’ نضر الوجہ والشجر واللون“ (ن، ک، س) چہرے یا درخت یا رنگ کا ترو تازہ ، خوبصورت اور بارونق ہونا۔ معلوم ہوا کہ قیامت کے دن نیک بندوں کو اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب ہوگا اور اس خوشی میں ان کے چہرے ترو تازہ اور چمک رہے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں انسان ہوں یا حیوان، نباتات ہوں یا جمادات، ایسا ایسا حسن و جمال ہے جسے دیکھ کر خوشی سے چہروں پر تازگی اور رونق آجاتی ہے۔ جب حسن و جمال کے خلاق کی ذات کو دیکھیں گے تو ان کی خوشی اور ان کے چہروں کی تازگی کا کیا ٹھکانا ہوگا ! ! حقیقت یہ ہے کہ جنت کی سب سے بڑی نعمت ہی یہ ہوگی کہ جنتی اپنی آنکھوں سے اپنے رب تعالیٰ کا دیدار کریں گے۔ صہیب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(اذا دخل اھل الجنۃ الجنۃ قال یقول اللہ تبارک و تعالیٰ تریدون شیائاً ازیدکم ؟ فیقولون الم تبض وجودھنا ؟ الم تدخلنا الجنۃ وتنجنا من النار ؟ قال فیکشف الحجاب فما اعطوا شیئاً احب الیھم من النظر الی ربھم عزو جل، ثم تلاھذہ الآیۃ :(للذین احسنوا الحسنی و زیادۃ) (مسلم ، الایمان، باب اثبات رویۃ المومنین…: 181)”جب اہل جنت جنت میں داخل ہوں گے تو اللہ تابرک و تعالیٰ فرمائے گا :”تمہیں کوئی چیز چاہیے جو میں تمہیں مزید عطا کروں ؟“ وہ کہیں گے :”کیا تو نے ہمارے چہروں کو سفید نہیں کیا ؟ کیا تو نے ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا اور آگ سے نجات نہیں دی ؟“ فرمایا :”پھر اللہ تعالیٰ پر دہ ہٹا دے گا اور انہیں کوئی بھی چیز نہیں دی گئی ہوگی جو انہیں اپنے رب کو دیکھنے سے زیادہ پیاری ہو۔“ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی :(للذین احسنوا الحسنی و زیادۃ) (یونس : 26) ”جن لوگوں نے اچھے اعمال کئے ان کے لئے اچھا اجر ہے اور مزید بیھ (مزید سے رب تعالیٰ کا دیدار مراد ہے۔)“ جریر بن عبداللہ ؓ سے ریات ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(انکم سترون ربکم عیانا) (بخاری، التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ :(وجوہ یومئذ ناضرۃ…): 8335)”تم اپنے رب کو اپنی آنکھوں سے صاف دیکھو گے۔“ ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں ہے کہ لوگوں نے پوچھا :”یا رسول اللہ ! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے ؟“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ھل تض اورن فی القمر لیلۃ البدر ؟ قالوا لا یا رسول اللہ قال فھل تض اورن فی الشمس لیس دونھا سحاب ڈ قالوا لا یا رسول اللہ ! قال فانکم ترونہ کذلک) (بخاری، التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ (وجو یومئذ ناظرۃ…): 8338۔ مسلم : 182)”کیا تمہیں چودھویں کا چاند دیکھنے میں کوئی تکلیف ہوتی ہے ؟“ انہوں نے کہا : ”نہیں اے اللہ کے رسول !“ فرمایا :”کیا تمہیں سورج دیکھنے میں کوئی تکلیف ہوتی ہے جس کے سامنے بادل کی رکاوٹ بھی نہ ہو ؟“ انہوں نے کہا :”نہیں، اے اللہ کے رسول !“ فرمایا :”(یقین رکھو کہ) تم اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے۔“ قرآن مجید میں فاجر لوگوں کے متعلق فرمایا :(کلا انھم عن ربھم یومئذ لمحجوبون) (المطففین : 15)”ہرگز نہیں، بیشک وہ اس دن اپنے رب سے حجاب میں رکھے جائیں گ۔“ اللہ تعالیٰ ن ان کے دیدار الٰہی سے محروم رکھے جانے کا خاص طور پر ذکر فرمایا۔ اگر ابرار کو بھی اس دن رب کا دیدار نہ ہوا تو ان میں اور فجار میں کیا فرق رہا بڑے بدنصیب ہیں وہ لوگ جو اتنی واضح آیات و احادیث کے باوجود قیامت کے دن دیدار الٰہی کے منکر ہیں۔ اس کا انکار بدلا یہی ہے کہ انہیں قیامت کے دن اس سب سے بڑی نعمت سے محروم ہی رکھا جائے۔
Ayahs 75:24–25

وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍۭ بَاسِرَةٌۙ Open ayah 75:24 in the Quran reader

اور کئی چہرے اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے۔

تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌؕ Open ayah 75:25 in the Quran reader

وہ یقین کریں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑنے والی (سختی) کی جائے گی۔

ووجوہ یومئذ باسرۃ…:”باسرۃ“ ”یسر یسر بسوراً“ (ن) تیوری چڑھانا، منہ بگاڑنا، ”فاقرۃ“ وہ سختی جو کمر توڑ دے۔ یہ ”ففرات الظھر“ سے نکلا ہے جس کے معنی ”پیٹھ کے مہرے“ ہیں۔ کہا جاتا ہے : ”ففرت الرجل“ ”میں نے اس آدمی کی پیٹھ کے مہرے توڑ دیئے۔“
Ayahs 75:26–30

كَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَۙ Open ayah 75:26 in the Quran reader

ہرگز نہیں، (وہ وقت یاد کرو) جب (جان) ہنسلیوں تک پہنچ جائے گی۔

وَ قِیْلَ مَنْ١ٚ رَاقٍۙ Open ayah 75:27 in the Quran reader

اور کہا جائے گا کون ہے دم کرنے والا ؟

وَّ ظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُۙ Open ayah 75:28 in the Quran reader

اور وہ یقین کرلے گا کہ یقینا یہ جدائی ہے۔

وَ الْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِۙ Open ayah 75:29 in the Quran reader

اور پنڈلی، پنڈلی کے ساتھ لپٹ جائے گی۔

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمَسَاقُ٢ؕ۠ Open ayah 75:30 in the Quran reader

اس دن تیرے رب ہی کی طرف روانگی ہے۔

(1) کلا اذا بلغت التراقی…:”بلغت“ کا فاعل ”نفس“ ہے جو محذوف ہے ، یعنی جان ہنسلیوں تک پہنچ جائیگی۔ ”التراقی“ ”ترقوۃ“ کی جمع ہے، سینے کی اوپر والی ہڈی جو گلے کے ساتھ ہے، ہنسلی۔ ”راق“ ”رفی یرفی“ (ض) سے اسم فاعل ہے، دم کرنے والا۔”ظن“ کا معنی گمان کرنا ہے، اگر اس کے بعد ”ان“ ہو تو یقین کے معنی میں بھی آتا ہے۔”المساق“ ”ساق یسوق سوقاً“ (ن) سے مصدر میمی ہے، ہانکنا، چلانا (2) ”کلا“ نہیں نہیں، یعنی تمہارا جلدی حاصل ہونے والی دنیا سے محبت کرنا اور آخرت کو چھوڑ دینا ہرگز درست نہیں، تمہارے سامنے کتنے لوگ دنیا سے رخصت ہوئے، ان کا آخرت وقت یاد کرو جب جان پیروں سے اور تمام جسم سے نکل کر ہنسلیوں تک پہنچ جاتی ہے اور حکمیوں ڈاکٹروں سے مایوس ہو کر کسی دم کرنے والے کی تلاش شروع ہوتی ہے کہ شاید دم ہی سے اچھا ہوجائے۔ ادھر بیمار کو زندگی سے ناامیدی ہوگئی اور مرنے کا گمان قوی ہوگیا۔ پکے دنیا داروں کو جان بہت پیاری ہوتی ہے ، وہ مرنا نہیں چاہتے، آخری وقت تک ان کو زندگی کی توقع رہتی ہے، اس لئے یقین کی جگہ گمان کا لفظ فرمایا، لیکن آخر یہ گمان یوں بقین کے درجے کو پہنچ گیا کہ پاؤں کا دم نکل گیا، پنڈلیاں سوکھ کر ایک دوسرے سے لپٹ گئیں، یہاں تک کہ ٹانگوں کو کوئی دوسرا آدھی سیدھا نہ کرے تو سمٹی ہوئی ہی رہ جائیں، آخر سارے جسم میں سے کھینچ کر جان حلق میں آگئی تھی اس نے بھی جسم کو چھوڑ دیا اور پھر اس کی روانگی اس رب تعالیٰ کی طرف ہوگئی جس نے پہلے جسم میں وہ جان ڈلایھی۔ (خلاصہ احسن التفاسیر)
Ayahs 75:31–35

فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰىۙ Open ayah 75:31 in the Quran reader

سو نہ اس نے سچ مانا اور نہ نماز ادا کی۔

وَ لٰكِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 75:32 in the Quran reader

اور لیکن اس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا۔

ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ یَتَمَطّٰىؕ Open ayah 75:33 in the Quran reader

پھر اکڑتا ہوا اپنے گھر والوں کی طرف چلا۔

اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىۙ Open ayah 75:34 in the Quran reader

یہی تیرے لائق ہے، پھر یہی لائق ہے۔

ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىؕ Open ayah 75:35 in the Quran reader

پھر تیرے لائق یہی ہے، پھر یہی لائق ہے۔

(1) فلا صدق ولاصلی…:”یتمطی“ ”م ط و“ سے ”تمطی“ کا مضارع ہے۔”مطا“ کا معنی پیٹھ ہے، یعنی اکڑتا ہوا۔”اولی“ ”و ل ی“ سے اسم تفصیل ہے، زیادہ لائق، زیادہ حق دار، زیادہ قریب۔ (2) ”فلاصدق“ (سو نہ اس نے سچ مان) میں ضمیر ”الانسان“ کی طرف جا رہی ہے جس کا اوپر ”ایحسب الانسان الن نجمع عظامہ“ میں ذکر ہے۔ یعنی یہ دیکھنے کے بعد کہ موت کے وقت انسان پر کیا گزرتی ہے اور کس طرح بےبس ہو کر اسے اپنے رب کی طرف روانہ ہوناپ ڑتا ہے، حق تو یہ تھا کہ وہ آخرت کو سچ مانتا اور اس دن کی نجات کے لئے نماز ادا کرتا اور اللہ کی زمین پر عجز و بندگی اختیار کرتا، مگر اس نے نہ قعیدہ کی اصلاح کی اور نہ عمل کی اور نہ لوگوں کے ساتھ اپنی روش درست کی، بلکہ رات کو اور پیدا کرنے والے کو جھٹلایا اور ماننے کے بجائے منہ پھیر کر چلا گیا اور عجز و بندگی اختیار کرن کے بجائے گھر گیا تو اکڑتا ہوا گیا۔ (2) اولی لک فاولی : اس آیت کی سب سے بہتر تفسیر وہ ہے جو حافظ ابن کثیر نے فرمائی ہے کہ اس کافر کو جس نے اپنے خلاق سے کفر کیا اور متکبرانہ چلا چلا، اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے طنز اور دھمکی کے طور پر کہا جا رہا ہے کہ جب تو نے جھٹلا دیا اور اپنے خلاق سے کفر کی جرأت کرچکا تو تیرا حق بنتا ہے کہ یہ چلا چلے اور یہی چال تیرے لائق ہے۔ ہم تمہاری چال دیکھ رہے ہیں اور تمہیں اس کا نتیجہ مل جائے گا، جیسا کہ فرمایا، (کلوا وتمثعوا قلیلاً انکم مجرمون) (المرسلات : 36)”کھاؤ اور فائدہ اٹھاؤ، تھوڑا، یقیناً تم مجرم ہو۔“ اور فرمایا :(کلوا وتمتعوا قلیلاً انکم مجرمون) (المرسلات : 36)”کھاؤ اور فائدہ اٹھاؤ، تھوڑا یقینا تم مجرم ہے۔“ اور فرمایا :(فاعبدوا ماشئتم من دونہ) (الزمر : 15)”اس اللہ کے علاوہ جس کی چاہو عبادت کرتے رہو۔“ اور فرمایا :(اعملوا ما شئتم) (المومن : 30)”تم جو چاہو کرو۔“”اولی لک فاولی ثم اولی لک فاولی“ میں تکرار مزید وعید کیلئے ہے۔ یہ معنی اس لئے بھی بہتر ہے کہ ”اولی“ کا معنی ”زیادہ لائق، زیادہ حق دار“ معروف ہے۔ (4) بہت سے مفسرین نے ”اولی لک“ کا معنی ”خرابی ہے تیرے لئے، افسوس ہے تیرے لئے ہلاکت ہے تیرے لئے“ کیا ہے، کیونکہ ”اولی لک“ کلام عرب میں د ’ ویل لکذ کے معنی میں بھی آتا ہے۔ مگر یہ معنی ”اولی لک“ کا لفظی معنی نہیں ہے لفظی معنی ”زیادہ لائق ، زیادہ حق دار“ ہی ہے، کیونکہ ”اولی“ کے حروف اصلی ”ول ی“ ”و ی ل ‘ ‘ نہیں ، بلکہ یہ معنی مرادی ہے اور اس کی توجیہ یہ ہے کہ موقع و محل کے مطابق ”اولی لک“ کا مبتدا ”الھلاک“ یا ”النار“ محذوف مانا جائے، یعنی ہلاکت ہی یرے زیادہ لائق ہے، یا آگ ہی تیرے زیادہ لائق ہے۔
Ayahs 75:36–40

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًىؕ Open ayah 75:36 in the Quran reader

کیا انسان گمان کرتا کہ اسے بغیر پوچھے ہی چھوڑ دیا جائے گا ؟

اَلَمْ یَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِیٍّ یُّمْنٰىۙ Open ayah 75:37 in the Quran reader

کیا وہ منی کا ایک قطرہ نہیں تھا جو گرایا جاتا ہے۔

ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ Open ayah 75:38 in the Quran reader

پھر وہ جما ہوا خون بنا، پھر اس نے پیدا کیا، پس درست بنادیا۔

فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىؕ Open ayah 75:39 in the Quran reader

پھر اس نے اس سے دو قسمیں نر اور مادہ بنائیں۔

اَلَیْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى۠ Open ayah 75:40 in the Quran reader

کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کردے ؟

(1) ایحسب الانسان ان یثرک سدی …:”سدی“ وہ اونٹ جو کھلے چھوڑ دیئیج ائیں، انہیں ”ایل سدی“ کہتے ہیں، یعنی کھلا چھوڑا ہوا ، جس سے کوئی باز پرس نہ ہو۔”یمنی“”امنی یمنی“ (افعال) سے مضارع مجہول ہے، گرایا جاتا ہے، ٹپ کیا ا جاتا ہے۔ (2) حشر و نشر کے منکر اس بات کو ناممکن قرار یدتے تھے کہ بوسیدہ ہڈیاں دوبارہ زندہ ہوں گی اور ان کا محاسبہ ہوگا۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو دوبارہ زندہ کر کے اس سے حساب لینے کی دلیل بیان فرمایا ہے کہ کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے پوچھے بغیر ہی رہنے دیا جائے گا ؟ نہیں، یہ غلط سوچ ہے، جس قادر مطلق نے پانی جیسی پتلی چیز کی ایک بوند کو رحم مادر میں مے ہوئے خون میں بدلنے کے بعد گوشت، ہڈیاں اور تمام اعضا مکمل کر کے روح پھونک کر مرد یا عورت کی صورت والا زندہ انسان بنادیا، تو اس کے لئے اسی کی مٹی کو دوبارہ اصل شکل میں لے آنا کیا مشکل ہے ؟ اس کے علاوہ اگر انسان اپنی اصل پر غور کرے کہ وہ ایک حقیر قطرہ تھا جو باپ کے ان اعضا سے ماں کے ان اعضا میں گرایا گیا جن کا نام بیھ شرم و حیا کی وجہ سے نہیں لیا جاتا، پھر وہاں مختلف مراحل سے گزار کر اس کی مکمل صورت گری کے بعد اسے اسی راستے سے واپس لایا گیا جس کا ذکر ہی موجب حیا ہے۔ اب کیا انسان کو یہ زیب دیتا ہے کہ اپنے پیدا کرنے والے کے سامنے سرکشی کرے اور اکڑ کر چلے اور یہ سمجھے کہ اسے کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ؟