74. Surah Al-Muddaththir

المدثرThe Cloaked One · 56 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 74:1

یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ Open ayah 74:1 in the Quran reader

اے کمبل میں لپٹنے والے !

(یا یھا المدثر :”المدثر“ اصل میں ”المتدثر“ تھا ”تائ“ کو دال سے بدل کر دال میں ادغام کردیا گیا۔ جو کپڑا جسم کے ساتھ ملا ہوا ہو اسے ”شعار“ اور جو اس کے اوپر پہنا جائے اسے ”’ ثار“ کہتے ہیں۔ اس خطاب کی وجہ کے لئے دیکھیے سورة مزمل کی پہلی آیت کی تفسیر۔
Ayah 74:2

قُمْ فَاَنْذِرْ۪ۙ Open ayah 74:2 in the Quran reader

اٹھ کھڑا ہو، پس ڈرا۔

قم فانذر : اس آیت میں اور اس کے بعد والی آیات میں رسول اللہ ﷺ کو دعوت کے آغاز کا حکم ہوا۔ سورة علق کے شروع میں آپ کو وہ وحی پڑھنے کا حکم ہوا تھا جو آپ پر نازل ہوئی، اب وحی کے احکام کے مطابق لوگوں کو نصیحت کرنے اور ڈرانے کا حکم ہوا اور وہ اوصاف اختیار کرنے کا حکم دیا گیا جو داعی کے لئے ضروری ہیں۔ ان میں سے پہلی چیز سستی اور غفلت چھوڑ کر کمر ہمت باندھنا اور اللہ کے علاوہ دوسری چیزوں کی پرستش کرنے والوں کو اس کے وبال سے ڈرانا ہے۔
Ayah 74:3

وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ۪ۙ Open ayah 74:3 in the Quran reader

اور اپنے رب ہی کی پس بڑائی بیان کر۔

وربک فکبر :”ربک“ کو پہلے لانے سے یہ معنی پیدا ہوگیا کہ صرف اپنے رب کی بڑائی بیان کر۔”فکبر“ میں ”فائ“ پہلے ”قم“ کے جواب ہی میں ہے، یعنی ”فم فکبر“ ربک“ اسی طرح ”وثیابک فطھر“ اور ”والرجز فاھجر“ میں بھی ”فائ“ اسی ”قم“ کے جواب میں ہے۔ ”وربک فکبر“ کے الفاظ میں ”صرف اپنے رب کو بڑا جان“ اور ”صرف اپنے رب کی بڑائی بیان کر ”’ ونوں معنی موجود ہیں، یعنی دعوت دیتے وقت کوئی کتنا بڑا سردار یا مال دار، یا بادشاہ یا بدمعاش ہو اس کی بڑائی تمہاری دعوت کے لئے رکاوٹ نہ بنے، بلکہ صرف اپنے رب کو بڑا جانو۔ جب تمہارے دل و دماغ میں اور تمہاری آنکھوں کے سامنے صرف وہی بڑا ہوگا تو ساری مخلوق تمہاری نظروں میں ہیچ ہوگی اور تمہیں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے احکام پہنچانے میں کسی کی بڑائی مانع نہیں ہوگی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کا وصف بیان فرمایا :(الذین یبلغون رسلت اللہ ویخشونہ ولا یخشون احداً الا اللہ) (الاحزاب : 39)”وہ لوگ جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور صرف اسی سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتے۔“ دوسرے معنی ہیں ”صرف اپنے رب کی بڑائی بیان کر“ یعنی جاہل اور مشرک لوگ جن جن کی بڑائی مان رہے ہیں ان سب کی نفی کردہ اور صاف اعلان کر دو کہ اس کائنات میں بڑائی صرف اللہ کی شان ہے، اس کے علاوہ بڑا بننا کسی کا حق ہی نہیں ہے، اس لئے عبادت کے لائق بھی صرف اسی لئے عبادت کے لائق بھی صرف اسی کی ہستی ہے۔
Ayah 74:4

وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْ۪ۙ Open ayah 74:4 in the Quran reader

اور اپنے کپڑے پس پاک رکھ۔

(1) وثیابک فطھر : کافر لوگ کتنے بھی صاف ستھرے ہوں اپنے کپڑے پاک نہیں رکھتے، نہ انہیں پیشاب سے پرہیز ہوتا ہے نہ استنجا کی فکر اور نہ غسل جنابت کا خیال۔ حکم ہوا کہ آپ اپنے کپڑے پاک رکھیں۔ جب کپڑے پاک رکھنا ضروری ہے تو جسم پاک رکھنا تو بدرجہ اولیٰ ضروری ہوا۔ آیت کے ظاہری الفاظ کا تقاضا یہی ہے اور سب سے پہلے مراد بھی یہی ہے۔ ہاں ، محاورہ میں پاک دامنی سے مراد گناہوں کی آلودگی سے پاک ہونا بھی ہوتا ہے، اسلئے یہ معنی بھی ہے کہ اپنے آپ کو گناہوں سے بچا کر رکھو۔ طبری نے پہلا معنی زیادہ ظاہر قرار دیا ہے۔ (2) ”وثیابک فطھر“ (اپنے کپڑے پاک رکھو) میں ٹخنے سے اوپر کپڑا اٹھا کر رکھنے کا حکم بھی داخل ہے، کیونکہ لٹکانے کی صورت میں اس کے پلید ہونے کا خطرہ بالکل ظاہر ہے۔
Ayah 74:5

وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ۪ۙ Open ayah 74:5 in the Quran reader

اور پلیدگی کو پس چھوڑ دے۔

(والرجز فاھجر :) اس کا لفظی معنی ہے ”اور پلیدی کو پس چھوڑ دے۔“ مطلب یہ ہے کہ ہر قسم کی پلیدی سے علیحدہ رہو۔”رجز“ اور ”رجس“ ایک ہی چیز ہے، اس کا سب سے پہلا مصداق بت اور غیر اللہ کے آستانے ہیں، جیسا کہ فرمایا :(فاجتبوا الرجس من الاوثان واجتنبوا قول الزور) (الحج : 30)”پس بوتں کی گندگی سے بچو اور جھوٹی بات سے بچو۔“ یعنی پلیدی سے بچو، جو بت ہیں۔ علاوہ ازیں ”الرجز“ (پلیدی) میں ہر قسم کے فاسد اعتقاد، برے اخلاق جھوٹے اقوال ، قبیح اخلاق اور نظر آنے والی اور نظر نہ آنے والی تمام نجاستیں شامل ہیں۔ ان دونوں آیتوں میں داعی کو خود کو ہر لحاظ سے پاک صاف رکھنے کی تاکید ہے ، کیونکہ اگر وہ خود ہی ناپاک یا آلودہ ہوگا تو اس کی دعوت کیا اثر کرے گی ؟
Ayah 74:6

وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ۪ۙ Open ayah 74:6 in the Quran reader

اور (اس نیت سے) احسان نہ کر کہ زیادہ حاصل کرے۔

(ولاتمنن تستکثر :”من یمن“ احسان کرنا۔ ”استکثر“ (استفعال) زیادہ طلب کرنا۔ ”استکثر الشیء“ کا معنی کسی چیز کو زیادہ سمجھنا بھی آتا ہے۔ یعنی آپ کسی پر احسان کریں تو اس نیت سے نہیں کہ مجھے اس سے زیادہ ملے گا۔ نہ راہ حق کی طرف رہنمائی کے احسان پر کسی سے کوئی توقع رکھیں ، نہ کسی کو کچھ دے کہ اس سے زیادہ حاصل ہونے کی طلب رکھیں، تو قع اور طلب صرف اپنے پروردگار سے رکھیں۔ اس کے علاوہ یہ معنی بھی درست ہے کہ آپ کسی پر جتنا بھی احسان کریں اسے زیادہ نہ سمجھیں۔ اس آیت میں داعی کو ہر قسم کی طمع اور لالچ سے اجتناب کا حکم ہے، کیونکہ یہ چیز دعوت الی اللہ کے لئے سخت نقصان دہ ہے۔
Ayah 74:7

وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْؕ Open ayah 74:7 in the Quran reader

اور اپنے رب ہی کے لیے پس صبر کر۔

ولربک فاصبر : یعنی آپ کسی پر جو احسان کریں یا کسی کو جو عطیہ دیں اس کی جزا صرف اپنے رب ہی سے لینے کے لئے صبر کریں۔”ولربک فاصبر“ میں یہ معنی بھی داخل ہے کہ آپ کو حق کا پیغام پہنچانے میں بہت سے مصائب و مشکلات کا سامنا ہوگا، عرب و عجم سے لڑائی درپیش ہوگ ی، آپ ان تمام مصائب پر صبر کریں اور یہ صبر صرف اور صرف اپنے رب کو رضای کرنے کے لئے ہو، اس ہمت اور اولوالعزمی کے بغیر دعوت کا کام سر انجام نہیں دیا جاسکتا۔ لقمان نے اپنے بیٹے کو فرمایا تھا :(وامر بالمعروف وانہ عن المنکر واصبر علی ما اصابک ان ذلک من عزم الامور) (لقمان : 18) ”اور نیکی کا حکم کر اور برائی سے منع کر اور جو تکلیف تجھے پہنچے اس پر صبر کر، یقیناً یہ ہمت کے کاموں سے ہے۔“
Ayahs 74:8–9

فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِۙ Open ayah 74:8 in the Quran reader

سو جب صور میں پھونکا جائے گا۔

فَذٰلِكَ یَوْمَئِذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌۙ Open ayah 74:9 in the Quran reader

تو وہ اس دن، ایک مشکل دن ہے۔

فاذا نقرفی الناقور…:”الناقور“ ”نقر ینفر“ (ن) سے ”فاعدل“ کے وزن پر ہے جس کا معنی ہے، پھونکنا، ایسی ضرب لگانا کہ سوراخ ہوجائے، مراد صور ہے۔ شروع سورت میں ڈرانے کا حکم ہے، اب اس کی تفصیل ہے کہ جس دن صور میں پھونکا جائے گا اور ہر چیز فنا ہونے کے بعد دوبارہ سب لوگ قبروں سے نکل کر اللہ کے حضور پیش ہوں گے تو وہ ایک مشکل دن ہوگا۔
Ayah 74:10

عَلَى الْكٰفِرِیْنَ غَیْرُ یَسِیْرٍ Open ayah 74:10 in the Quran reader

کافروں پر آسان نہیں۔

علی الکفرین غیر یسیر : پہلے ”یوم عسیر“ (وہ ایک مشکل دن ہے) فرمایا، پھر فرمایا :(علی الکفرین غیر یسیر)”جو کافروں پر آسان نہیں ہے۔“ اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ مشکل ہوتا ہی وہ ہے جو آسان نہ ہو، تو اس صراحت کا مطلب کیا ہے ؟ جواب یہ ہے کہ یہ نہ سمجھا جائے کہ اس مشکل دن میں کوئی نہ کوئی آسانی بھی ہوسکتی ہے، یا ممکن ہے شروع میں مشکل ہو مگر پھر آسانی ہوجائے، اس لئے فرمایا کفار کے لئے تو اس دن کوئی آسانی نہیں، نہ شروع میں نہ بعد میں۔ ہاں ، اہل ایمان کے لئے آسانی ہوگی، جیسا کہ فرمایا :(لایحزنھم الفزع الاکبر) (الانبیائ : 103)”وہ سب سے بڑی گھبراہٹ انہیں غمگین نہیں کرے گی۔“ اور اگر شروع میں کچھ شدت محسوس ہوئی بھی تو بعد میں آسانی ہوجائے گی۔
Ayah 74:11

ذَرْنِیْ وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًاۙ Open ayah 74:11 in the Quran reader

چھوڑ مجھے اور اس شخص کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔

(1) ذرنی ومن خلقت وحیداً : رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو جھٹلانے میں سب سے پیش پیش مکہ کے بڑے بڑے سردار تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی خوش حالی اور دنیوی نعمتیں عطا فرمائی ہوئی تھیں، مگر انہوں نے مال و اولاد ، جاہ و حشمت و اقتدار پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے بجائے اس کے رسول ﷺ کو جھٹلا دیا اور اس کی کتاب پر ایمان لانے کے بجائے اس جادو اور انسانی کلام قرار دیا۔ ان لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ ان لوگوں کے معاملے کو مجھ پر چھوڑ دیں، میں جانوں اور یہ جانیں، ان کا بندوبست میں خود کروں گا۔ ان آیات سے اکثر مفسرین نے اگرچہ ایک خاص شخص ولید بن مغیرہ مراد لی ا ہے، مگر ”من خلقت وحیداً“ میں ”من“ کا لفظ واحد ہونے کے باوجود معنی کے لحاظ سے عام ہے اور آیت میں مذکور مال و دلوت اور اولاد و اقتدار صرف ولید ہی کے پاس نہ تھا اور نہ ہی وہ اکیلا قرآن کو جادو اور انسانی کلام قرار دیتا تھا، بلکہ رسول اللہ ﷺ کو جھٹلانے والے اکثر متکبرین کا یہی حال تھا، اس لئے ان آیات میں ان سب کو تنبیہ کی گئی ہے ہاں، یہ درست ہے کہ یہ آیات ولید بن مغیرہ پر بھی صادق آتی ہیں اور وہ بھی ان لوگوں میں شامل ہے جو ان آیات سے مراد ہیں اور ان آیات کے اس کے متعلق نازل ہونے کا مطلب بھی یہی ہے، مگر وہ اکیلا ان آیات کا مصداق نہیں بلکہا ن سے ولید بن مغیرہ کے علاوہ ان صفات والے تمام متکبر مراد ہیں، خواہ وہ مکہ کے رہنے والے ہوں یا دنیا کے کسی دوسرے خطہ میں رہنے والے ہوں۔ (2)”خلقت وحیداً“ کے دو معانی ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ میں نے اسے اس حال میں پیدا کیا کہ وہ اکیلا تھا، نہ اس کی خدمت میں حاضر رہنے والے بیٹے تھے اور نہ کوئی مال و متاع۔ ہر انسان ماں کے پیٹ سے اکیلا آتا ہے، مال و اولاد، فوج و لشکر اور سامان وغیرہ کچھ ساتھ نہیں لاتا، جیسا کہ فرمایا :(ولقد جئتمونا فراوی کما خلقنکم اول مرۃ) (الانعام : 93) ”اور بیشک تم ہمارے پاس اکیلے اکیلے آگئے، جیسے ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا۔“ دوسرا یہ کہ میں نے اکیلے ہی اسے پیدا کیا اور اسے یہ سب کچھ عطا کیا، اسے پیدا کرنے میں یا یہ مال و اولاد عطا کرنے میں کوئی دوسرا میرے ساتھ شریک نہ تھا۔
Ayahs 74:12–14

وَّ جَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًاۙ Open ayah 74:12 in the Quran reader

اور میں نے اسے لمبا چوڑا مال عطا کیا۔

وَّ بَنِیْنَ شُهُوْدًاۙ Open ayah 74:13 in the Quran reader

اور حاضر رہنے والے بیٹے (عطا کیے)۔

وَّ مَهَّدْتُّ لَهٗ تَمْهِیْدًاۙ Open ayah 74:14 in the Quran reader

اور میں نے اس کے لیے سامان تیار کیا، ہر طرح تیار کرنا۔

وجعلت لہ مالا …:”ممدوداً“”مدیمد“ (ن) سے اسم مفعول ہے، پھیلایا ہوا۔ یعنی مال مویشی، کھیت، باغات، ک اور بار اور تجارت وغیرہ ہر قسم کا لمبا چوڑا مال عطا کیا۔”شھوداً“ ”شاھد“ کی جمع ہے، ہر وقت خدمت میں حاضر بیٹے عطا کئے۔ بیٹے اللہ کی نعمت ہیں اور پاس رہ کر سارا کام سنبھال لیں اور خدمت کے لئے مستعد رہیں تو مزید نعمت ہیں۔ ”مھدث“ (تفعیل) بچھانا ، مہیا کرنا۔ یعنی مال و اولاد کے ساتھ جاہ و حشمت اور سرداری کے تمام اسباب اس کے لئے ہموار کردیے۔
Ayah 74:15

ثُمَّ یَطْمَعُ اَنْ اَزِیْدَۗۙ Open ayah 74:15 in the Quran reader

پھر وہ طمع رکھتا ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں۔

(ثم یطمع ان ارید : پھر وہ طمع رکھتا ہے کہ میں اسے اور دوں گا یعنی اتنا کچھ ملنے کے باوجود دنیا میں اس کی حرص ختم نہیں ہوئی بلکہ آخرت میں اسے مزید ملنے کی توقع ہے۔ کفار کا کہنا تھا کہ اگر واقعی قیامت قائم ہوئی تو مال و اولاد وہاں بھی ہمیں کو ملیں گے۔ وہ دنیا میں ملنے والے مال و اولاد اور جاہ و حشمت کو آزمائش کے بجائے اللہ تعالیٰ کے ان پر رضای ہونے کی دلیل قرار یدتے تھے۔ دیکھیے سورة مریم (77 تا 80)۔
Ayah 74:16

كَلَّا١ؕ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰیٰتِنَا عَنِیْدًاؕ Open ayah 74:16 in the Quran reader

ہرگز نہیں ! یقینا وہ ہماری آیات کا سخت مخالف رہا ہے۔

کلا انہ کان لایتنا عنیداً :”عیداً“ (ن، ض) حق کو پہچانتے ہوئے ضد کی وجہ سے مخالفت کرنے والا۔ ”کان“ سے ہمیشگی کا مفہوم نکل رہا ہے،”کلا“ ہرگز نہیں۔ یعنی اس کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی، مزید نواشز و مہربانی کا حق دار تو تب تھا جب وہ ہماری بات مانتا، وہ تو ہمیشہ سے ہماری آیات کا شدید مخالف رہا ہے۔
Ayah 74:17

سَاُرْهِقُهٗ صَعُوْدًاؕ Open ayah 74:17 in the Quran reader

عنقریب میں اسے ایک دشوار گھاٹی چڑھنے کی تکلیف دوں گا۔

سارھقۃ صعوداً :”سازھقۃ“ ”ارھق یرھق“ (افعال) کسی کو ایسے کام کی تکلیف دینا جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو۔ ”صوداً“ (صعد یصعد“ (س) (چڑھنا) سے ، سخت دشوار گھاٹی۔ یعنی میں اسے قیامت کے دن ایک دشوار گزار گھاٹی پر چڑھنے کے لئے مجبور کروں گا۔ قیامت کے دن کی اور جہنم کی مصیبتیں جھیلنے پر مجبور کرنے کو دشوار چڑھائی کی تکلیف دینے کے الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ ترمذی میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ ”سعود“ آگ کا ایک پہاڑ ہے جس پر کافر ہمیشہ ستر (70) برس چڑھتا رہے گا اور اتنا عرصہ ہی اترتا رہے گا۔ (دیکھیے ترمذی، 2576، 3326) مگر اس کی سند کمزور ہے۔
Ayahs 74:18–25

اِنَّهٗ فَكَّرَ وَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:18 in the Quran reader

بیشک اس نے غور و فکر کیا اور بات بنائی۔

فَقُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:19 in the Quran reader

پس وہ مارا جائے، اس نے کیسی بات بنائی !

ثُمَّ قُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:20 in the Quran reader

پھر مارا جائے، اس نے کیسی بات بنائی !

ثُمَّ نَظَرَۙ Open ayah 74:21 in the Quran reader

پھر اس نے دیکھا۔

ثُمَّ عَبَسَ وَ بَسَرَۙ Open ayah 74:22 in the Quran reader

پھر اس نے تیوری چڑھائی اور برا منہ بنایا۔

ثُمَّ اَدْبَرَ وَ اسْتَكْبَرَۙ Open ayah 74:23 in the Quran reader

پھر اس نے پیٹھ پھیری اور تکبر کیا۔

فَقَالَ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ یُّؤْثَرُۙ Open ayah 74:24 in the Quran reader

پھر اس نے کہا یہ جادو کے سوا کچھ نہیں، جو نقل کیا جاتا ہے۔

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِؕ Open ayah 74:25 in the Quran reader

یہ انسان کے قول کے سوا کچھ نہیں۔

انہ فکر و قدر …: کفار کو مشکل یہ درپیش تھی کہ وہ لوگوں کو قرآن مجید سے دور رکھنے کے لئے اس کے متعلق جو کچھ بھی کہتے کوئی اسے ماننے کے لئے تیار نہیں تھا، خود ان کے دل اس سے انکار کرتے تھے۔ وہ قرآن کو شعر، کہانت اور جادو کہہ کر اس سے منتفر کرتے تھے، مگر جانتے اور مانتے تھے کہ نہ اس میں شاعروں کے شعر کا مبالغہ یا جھوٹ ہے، نہ کاہنوں کی تک بندی ہے اور نہ جادوگروں کے ٹونے ٹوٹکے۔ اس لئے ان کے بڑے بڑے سرداروں نے جن میں ولید بن مغیرہ بھی شامل تھا، اپنے دماغ کی ساری صلاحیتیں صرف کر کے جو نتیجہ نکالا وہ دو باتوں پر مشتمل تھا، ایک یہ کہ یہ وہی جادو ہے اور جادوگروں سے خوب واقف تھے اور جانتے تھے کہ ہر موثر کلام جادو نہیں ہوتا۔ دوسرا نتیجہ قرآن کی عظمت گھٹانے کیلئے یہ نکلا کہ یہ بیان کلام نہیں بلکہ انسان کا کلام ہے، حالانکہ ان کے سامنے یہ چیلنج موجود تھا کہ اگر یہ انسانی کلام ہے تو تم اس جیسی ایک سورت ہی بنا کرلے آؤ۔ آج بھی یورپ و امریکہ اور دوسرے ممالک کے تحقیقی ادارے مسلمان طالب علموں کو بھاری وظیفے دے دے کر اپنے ا داروں میں اس موضوع پر پی ایچ ڈی کرواتے ہیں کہ کسی طرح یہ ثابت ہوجائے کہ قرآن محمد ﷺ کی اپنی تصنیف ہے، حالانکہ اتنی محنت کے بجائے یہی کافی تھا کہ وہ تین آیات ہی کی کوئی ایک سورت پیش کردیتے جو وہ نہیں کرسکے اور نہ کرسکتے ہیں۔ ”انہ فکر و قدر“ سے ”ثم ادبر واستکبر“ تک ان کیفیات کا ذکر ہے جن کا اظہار کر کے یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ وہ اپنے دماغ کی آخری قوت تک صرف کر کے یہ نتیجہ نکال ر ہے ہیں، حالانکہ ان کے تیوری چڑھانے، برا منہ بنانے اور تکبر سے پیٹھ پھیر کر بات کرنے سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ یہ بات انصاف سے نہیں کہہ رہے ، بلکہ اس کا باعث صرف اور صرف عنا اور تکبر تھا۔
Ayahs 74:26–27

سَاُصْلِیْهِ سَقَرَ Open ayah 74:26 in the Quran reader

میں اسے جلد ہی سقر (جہنم) میں داخل کروں گا۔

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُؕ Open ayah 74:27 in the Quran reader

اور تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ سقر (جہنم) کیا ہے ؟

ساصلیہ سقر…:”سقر“ جہنم کا ایک نام ہے، علم اور مونث ہونے کی وجہ سے غیر متصرف ہے۔
Ayah 74:28

لَا تُبْقِیْ وَ لَا تَذَرُۚ Open ayah 74:28 in the Quran reader

وہ نہ باقی رکھتی ہے اور نہ چھوڑتی ہے۔

(لاتبقی ولا تدر :”لاتبقی“”ابقی یبقی“ (افعال) باقی رکھنا۔ ”ابقی علیہ“ رحم کرنا۔ یعنی وہ ان کی کوئی چیز جلانے سے باقی نہیں رکھے گی، اس پر بھی انہیں چھوڑے گی نہیں کہ ان کا قصہ تمام ہو اجئے، بلکہ انہیں دوبارہ پہلے کی طرح بنادیا جائے گا اور جہنم پھر انہیں جلائے گی، جیسا کہ فرمایا :(کلما نصجت جلودھم بدلنھم جلوداً غیر ھا لیذوقوا العذاب) (النسائ : 56) ”جب بھی ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم انہیں ان کے علاوہ اور کھلایں بدل دیں گے، تاکہ وہ عذاب چکھیں۔“ اور فرمایا :(ثم لایموت فیھا ولا یحیی) (الاعلیٰ : 13)”پھر وہ نہ اس میں مرے گا اور نہ زندہ رہے گا۔”اگر“ لاتبقی“ کے بعد ”علیھم“ مقدر مانیں تو معنی ہوگا ”نہ وہ ان پر رحم کرے گی اور نہ انہیں چھوڑے گی۔“ یہ معنیبھی درست ہے۔
Ayah 74:29

لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِۚۖ Open ayah 74:29 in the Quran reader

چمڑے کو جھلس دینے والی ہے۔

(لو احۃ للبشر :”لواحۃ“ ”لاح یلوح“ (ن) اور ”لوح یلوح“ (تفعیل) کا معنی جلانا، متغیر کرنا بھی آتا ہے اور ظاہر ہونا اور چمکنا بھی آتا ہے۔”البشر“”بشرۃ“ کی جمع ہے ، کھالیں، یا ”البشر“ بمعنی ٓدمی ہے۔ پہلی صورت میں مطلب یہ ہے کہ وہ کھالوں کی وجلا کر سیاہ کردینے والی ہے (کھالوں کا ذکر خاص طور پر اس لئے کیا کہ آدمی کو اپنے جس حسن و جمال پر نازل ہوتا ہے وہ اسی کھال ہی کی وجہ سے ہوتا ہے) یا وہ آدمیوں کو جلا دینے والی ہے۔ دوسری صورت میں معنی یہ ہے کہ وہ جسم پر چمکتی ہوئی نظر آئے گی۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں :”جیسے لوہا دہکتا سرخ نظر آتا ہے، آدمی کے پنڈے پر وہ سرخ نظر آئے گی۔“ (موضح)
Ayahs 74:30–31

عَلَیْهَا تِسْعَةَ عَشَرَؕ Open ayah 74:30 in the Quran reader

اس پر انیس (مقرر) ہیں۔

وَ مَا جَعَلْنَاۤ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓئِكَةً١۪ وَّ مَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۙ لِیَسْتَیْقِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ یَزْدَادَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِیْمَانًا وَّ لَا یَرْتَابَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ۙ وَ لِیَقُوْلَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْكٰفِرُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ مَا هِیَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْبَشَرِ۠ Open ayah 74:31 in the Quran reader

اور ہم نے جہنم کے محافظ فرشتوں کے سوا نہیں بنائے اور ان کی تعداد ان لوگوں کی آزمائش ہی کے لیے بنائی ہے جنھوں نے کفر کیا، تاکہ وہ لوگ جنھیں کتاب دی گئی ہے، اچھی طرح یقین کرلیں اور وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں ایمان میں زیادہ ہوجائیں اور وہ لوگ جنھیں کتاب دی گئی ہے اور ایمان والے شک نہ کریں اور تاکہ وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جو کفر کرنے والے ہیں کہیں اللہ نے اس کے ساتھ مثال دینے سے کیا ارادہ کیا ہے ؟ اسی طرح اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا اور یہ باتیں بشر کی نصیحت ہی کے لیے ہیں۔

(1) علیھا نسعۃ عشر…: اللہ تعالیٰ نے جب جہنم پر مامور اشخاص کی تعداد انیس (19) تو ساتھ ہی اسے ٹھٹھے اور مذاق کا جواب بھی ذکر کردیا جو کافر اڑا سکتے تھے اور انہوں نے اڑایا بھی کہ انیس (19) شخص ہم ہز اورں لاکھوں کا کیا بگاڑ سکتے ہیں ؟ فرمایا ہم نے جہنم پر جن لوگوں کو مقرر کیا ہے، وہ فرشتے ہیں اور فرشتہ تو ایک بھی ہو تو تم سب کے لئے کافی ہے۔ (2) جہنم کے فرشتوں کی تعداد بتانے کی حکمت یہ بیان فرمائی کہ کافروں کی آزمائش ہوجائے گی، انہوں نے اپنے محب باطن کا جو اظہار کرنا ہے کرلیں گے، جو مذاق اڑانا ہے اڑا لیں گے اور اہل کتاب کو اس کے حق ہونے کا یقین ہوجائے گا، کیونکہ یہ تعداد ان کی کتاب کے مطابق ہے، یا وہ اپنی کتابوں کی وجہ سے فرشتوں کی غیر نفاق قوتوں کو جانتے ہیں اور ایمان والوں کا ایمان مزید بڑھ جائے گا اور الہ کتاب اور ایمان والوں کو اس کے حق ہونے میں کوئی شک نہیں رہے گا۔ وہاں کفار اور وہ لوگ جن کے دلوں میں حسد اور بغض کا مرض ہے، یہی کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ مثال بیان کرنے سے کیا مقصد ہے ؟ فرمایا دیکھ لو ایک ہی بات ہے، مگر کسی کے حصے میں اس سے انکار آیا اور کسی کو ایمان و یقین کی دولت نصیب ہوگئی۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ہے، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے مچھر اور اس سے بڑھ کر کسی چیز کی مثال بیان کرنے پر ایمان والے تو اس کے حق ہونے کی تصدیق کریں گے اور کافر یہی کہیں گے کہ اس قسم کی مثال بیان کرنے سے اللہ تعالیٰ کا کیا مقصد ہے ؟ (دیکھیے بقرہ : 26) اور اہل ایمان تو قرآن کی محکم و متشابہ ہر قسم کی آیات پر بلا چون و چرا ایمان لائیں گے، مگر جن کے دلوں میں کجی ہے وہ فتنہ جؤی کے لئے متشابہات کے پیچھے لگے رہیں گے۔ دیکھیے سورة آل عمران (7) معلوم ہوا اللہ تعالیٰ کا تقاضا ہم سے یہ ہے کہ جو بات اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے آئے اس پر ہم یقین کریں اور ایمان لائیں خواہ اس کی حکمت ہمیں معلوم ہو یا نہ ہو، جب یہ اعتراضات فضول ہے کہ انسان ک ومٹی سے کیوں بنایا ؟ جنوں کو آگ سے کیوں بنایا ؟ بچہ ماں کے پیٹ میں نو ماہ کیوں رتا ہے ؟ انڈے سے بچہ کا کیس دنوں میں کیوں نکلتا ہے ؟ کچھوے کی عمر طویل کیوں ہوتی ہے ؟ وغیرہ وغیرہ، تو یہ اعتراض کیوں کہ جہنم پر اینس (19) فرشتے کیوں مقرر کئے ہیں ؟ ایمان والوں کے پاس اس قسم کی تمام باتوں ایک ہی جواب ہے کہ مالک کی مرضی ہے جو چاہے کرے۔ اس مقام پر بعض مفسرین نے جہنم پر مامور فرشتوں کی تعداد انیس ہونے کی حکمت اپنی عقلی موشگافیوں سے بیان کی ہے جو سرا سر تکلف ہے۔ یہ آیت اس بات کی بھی دلیل ہے کہ ایمان نہ زیادہ ہوتا ہے نہ کم۔ اب قرآن کی صاف آیات کے بعد انہیں قائل کرنے کے لئے کون سی چیز پیش کی جائے۔ (3) وما یعلم جنود ربک الا ھو : یہ اسلئے فرمایا کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس کارکنوں کی کمی ہے، یعنی فرشتے تو اس کے لشکروں میں سے ایک لشکر ہیں، اللہ کے پاس اتنے لشکر ہیں کہ اس کے علاوہ کوئی انہیں جانتا ہی نہیں، پھر ان لشکروں میں سے ہر ایک کی تعداد بھی وہی جانتا ہے۔ حدیث معراج میں ساتویں آسمان کا ذکر کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(فرفع لی البیت المعمور فسالت جبریل فقال ھذا البیت المعمور یصلی فیہ کل یوم سبعون الف ملک، اذا خرجوا لم یعودو الیہ آخرما علیھم) (بخاری، بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ…: 3208)”پھر بیت معمور میرے سامنے ظاہر کیا گیا، میں نے جبریل سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ بیت معمور ہے، اس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے نماز پڑھتے ہیں، جب نکل جاتے ہیں تو اپنے آخری وقت تک دوبارہ یہاں نہیں آسکتے۔“ ’ وماھی“ سے مراد وہ آیات ہیں جن میں ”سقر“ کی تفسیر بیان کی گئی ہے۔
Ayahs 74:32–37

كَلَّا وَ الْقَمَرِۙ Open ayah 74:32 in the Quran reader

ہرگز نہیں، چاند کی قسم !

وَ الَّیْلِ اِذْ اَدْبَرَۙ Open ayah 74:33 in the Quran reader

اور رات کی، جب وہ جانے لگے !

وَ الصُّبْحِ اِذَاۤ اَسْفَرَۙ Open ayah 74:34 in the Quran reader

اور صبح کی، جب وہ روشن ہو !

اِنَّهَا لَاِحْدَى الْكُبَرِۙ Open ayah 74:35 in the Quran reader

بلاشبہ وہ (جہنم) یقینا بہت بڑی چیزوں میں سے ایک ہے۔

نَذِیْرًا لِّلْبَشَرِۙ Open ayah 74:36 in the Quran reader

بشر کے لیے ڈرانے والی ہے۔

لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّتَقَدَّمَ اَوْ یَتَاَخَّرَؕ Open ayah 74:37 in the Quran reader

اس کے لیے جو تم میں سے چاہے کہ آگے بڑھے، یا پیچھے ہٹے۔

(کلا و القمر…:”کلا“ ہرگز نہیں، یعنی جہنم یا اس پر مامور فرشتوں کی تعداد سے انکار ہرگز درست نہیں۔ اس کے بعد تینچ یزوں کی قسم کھا کر فرمایا کہ جہنم یقیناً بہت ہی بڑی چیز ہے۔ ان قسموں کی مناسبت جواب قسم سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ جہنم کا انکار کرنے والوں کا انکار اس لئے ہے کہ وہ ان کی نگاہوں سے اوجھل ہے اور ان کے خیال میں اتنی بڑی ہولناک اور عظیم الشان چیز کا موجود ہونا ممکن نہیں۔ فرمایا اس کائنات میں چاند کو دیکھو، وہ ہلال اور بدر اور بدر سے ہلال ہونے تک روزانہ جن مراحل سے گزرتا ہے ان پر غور کرو، رات کو دیکھو جب وہ رخصت ہوتی ہے اور کائنات میں روزانہ ایک عظیم انقلاب رونما ہوتا ہے، پھر صبح کو دیکھو جب روشن ہوتی ہے تو رات کی ظلمت اپنا بوریا بستر سمیٹ لیتی ہے۔ ان میں سے ہر چیز اللہ کی قدرت کی بہت بڑی نشانی ہے، ان میں سے کوئی بھی چیز اگر تم نے دیکھی نہ ہوتی اور تمہیں اس کے متعلق بتایا جاتا تو تم اس کا اسی طرح انکار کردیتے جس طرح جہنم کا اناکر کر رہے ہو ؟ جب اتنی بڑی بڑی حقیقتیں تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو اور تمہیں ان کے موجود ہونے میں کوئی شک نہیں تو ان چیزوں کا پیدا کرنے والا تمہیں بتارہا ہے کہ یقیناً جہنم بھی اس کی بہت بڑی نشانیوں میں سے ایک ہے، اس میں تمہیں شک کیوں ہے ؟ ایک مناسبت یہ بھی ہے کہ تمہارا یہ جلدی مچانا بھی بےمحل ہے کہ اگر سچے ہو تو ابھی لاؤ وہ قیامت اور جہنم جس سے ڈراتے ہو۔ فرمایا چاند کا ہلال سے بدر اور بدر سے ہلال تک پہنچنا، رات کا جانا اور صبح کا روشن ہونا اور کائنات کے بڑے بڑے انقلابات میں سے ہر انقلاب اپنے مقرر وقت پر آتا ہے، کبھی وقت ہلے نہیں آتا، اسی طرح تم یقینا درجہ بدرجہ قیامت کی طرف جا رہے ہو اور بہت جلد جہنم تمہارے سامنے آجائے گی۔ سورة انشقاق کی آیات (16 تا 19) میں یہ مضمون بیان ہوا ہے، تفصیل کے لئے ان آیات کی تفسیر ملاحظہ کریں۔ ”الکبر“”کبری“ کی جمع ہے، جو ”اکبر“ کی مونث ہے۔ ”نذیراً“ ڈرانے والی ”فعیل“ کا وزن مذکر و مونث اور واحد، تثنیہ و جمع سب کے لئے آجاتا ہے۔ یعنی یہ انسانوں کو ڈرانے والی ہے، ان انسانوں کو جنہیں اختیار ہے کہ یہ جہنم سے ڈرانے والی آیات سن کر چاہیں تو ایمن قبول کر کے جنت کی طرف بڑھ جائیں اور چاہیں تو پیچھے رہ کر جہنم کے سزا وار بن جائیں، جیسا کہ فرمایا :(فمن شآء فلیومن ومن شآء فلیکفر) (الکھف : 29)”پھر جو چاہے سو ایمان لے آئے اور جو چاہے سو کفر کرے۔“ یعنی ایمان و کفر دونوں کا اختیار ہے، ہاں، کفر کی اجازت نہیں اور نہ وہ اللہ کو پسند ہے، جیسا کہ فرمایا :(ولا یرضی لعبادہ الکفر“ (الزمر : 8)”اور وہ اپنے بندوں کیلئے کفر کو پسند نہیں کرتا۔“
Ayahs 74:38–39

كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ رَهِیْنَةٌۙ Open ayah 74:38 in the Quran reader

ہر شخص اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی رکھا ہوا ہے۔

اِلَّاۤ اَصْحٰبَ الْیَمِیْنِؕۛ Open ayah 74:39 in the Quran reader

مگر دائیں طرف والے۔

(کل نفس بما کسبت …: یعنی جس طرح کوئی گروی رکھی ہوئی چیز اس وقت تک نہیں چھوٹتی جب تک وہ حق ادا نہ کردیا جائے جس سکے بدلے اسے گروی رکھا گیا ہے، اسی طرح ہر شخص اپنے عمل کے عوض گروی اور گرفتار ہوگا ، جب تک وہ عمل پیش نہ کرے جس کی ادائیگی اس پر واجب تھی، رہئای نہیں پاسکتا۔ ہاں جنہیں دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا وہ گرفتار نہیں ہوں گے بلکہ اعمال صالحہ کی وجہ سے رہا ہو جایئں گے، جس طرح حق ادا کرنے سے گروی چھوٹ جاتی ہے۔