Ayahs 74:40–42(1) فی جنت یتسآء لون : یعنی اصحاب الیمین جنتوں میں ایک دوسرے سے مجرموں کے بارے میں سوال کریں گے کہ فلاں مجرم کا کیا بنا اور فلاں کدھر گیا ؟ ذرا جہنم ہی میں انہیں تلاش کریں، پھر جہنم میں جھانک کر دیکھیں گے اور وہ انہیں وہاں نظر آئیں گے تو ان سے کہیں گے :(ماسلکم فی سقر)”تمہیں جہن م میں کس چیز نے داخل کیا ؟“ آیات کی یہ تفسیر ”یتسآء لون“ (تفاعل) اور ”عن“ کے اس ترجمے کے مطابق ہے جو اکثر ساتعمال ہوا ہے۔”فاسلکم علی بعض یتسآء لون ، قال قآئل منھم انی کا ن لی قرین ، یقول ائنک لمن المصدقین ، اذا مثنا وکنا تربااً و عظاماً ، انا لمدینون، قال ھل انتم مظلعون ، فاظلع فراہ فی سوآء الجحیم، قال تاللہ ان کدت لتردین ، و لولا نعمۃ ربی لکنت من المحضرین، افمانحن بمیتین، الا موتتنا الاولی ومانحن بمعذبین، ان ھذا لھو الفوز العظیم، لمثل ھذا فلیعمل العملون) (الصافات : 50 تا 61)”پھر ان کے بعض بعض کی طرف متوجہوں گے ، ایک دوسر سے سوال کریں گے۔ ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا بیشک میں، میرا ایک ساتھی تھا۔ وہ کہا کرتا تھا کہ کیا واقعی تو بھی ماننے والوں میں سے ہے۔ کیا جب ہم مرگئے اور ہم مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا واقعی ہم ضرور جزا دیئے جانے والے ہیں ؟ کہے گا کیا تم جھانک کر دیکھنے والے ہو ؟ پس وہ جھانکے گا تو اسے بھڑکتی آگ کے وسط میں دیکھے گا۔ کہے گا اللہ کی قسم ! یقیناً تو قریب تھا کہ مجھے ہلاک ہی کرے دے۔ اور اگر میرے رب کی نعمت نہ وہتی تو یقیناً میں بھی ان میں ہوتا جو حاضر کئے گئے ہیں۔ تو کیا ہم کبھی مرنے والے نہیں ہیں۔ مگر ہماری پہلی موت اور نہ ہم کبھی عذاب دیئے جانے والے ہیں۔ یقیناً یہی تو بہت بڑی کامیابی ہے۔ اس جیسیصکامیایب) ہی کے لئے پس لازم ہے کہ عمل کرنے والے عمل کریں۔“
آیات کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ ”یتسآء لون“ ”یسالون“ کے معنی میں ہے اور ”عن“ زائد ہے :”ای یسالون المحرمین“ یعنی اصحاب الیمین مجرموں سے سوال کریں گے کہ تمہیں کس چیز نے جہنم میں داخل کردیا ؟ اصحاب الیمین کا جہنیوں سے یہ سوال پوچھنے کے لئے نہیں بلکہ انہیں ذلیل و خوار اور شرمندہ کرنے کے لئے ہوگا۔
(2) ان آیات سے معلوم ہوا کہ جنت و جہنم کے درمیان بےحساب دوری کے باوجود جنتی جہنمیوں کو دیکھیں گے اور ان سے سوال و جواب بھیک ریں گے۔
Ayahs 74:43–46(1) قالوا لم نک من المصلین…: جہنمی اپنے جہنم میں جانے کے چار اسباب بیان کریں گے، پہلا یہ کہ وہ نماز ادا کرنے والوں میں شامل نہ ہوئے، دوسرا یہ کہ وہ مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے، تیسرا یہ کہ دین کی باتوں کو مذاق کرنے اور جھٹلانے کیلئے وہ مجلسوں میں بیٹھ کر فضول بحث کیا کرتے تھے اور چوتھا یہ کہ وہ روز جزا کو جھٹلاتے تھے۔ ان کی فصیل حسب ذیل ہے :(1) نماز ایمان کے ان ارکان میں سے ہے جن کے بغیر کوئی شخص اسلامی برادری میں شامل ہی نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اسے ”انما المومنون اخوۃ“ والی اخوت دینی حاصل ہوسکتی ہے، جیسا کہ فرمایا :(فان تابوا واقاموا ال صلوۃ و اتوا الزکو ۃ فاخوانکم فی الدین) (التوبۃ : 11)”پھر اگر وہ (کفر سے) توبہ کریں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں تو دین میں تمہارے بھائی ہیں۔“ بلکہ جب تک کوئی شخص ایمان قبول کر کے صلوۃ و زکوۃ ادا نہ رکے اس سے جنگ کا حکم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(امرت ان اقاتل الناس حتی یشھدوا الا الہ الا اللہ و ان محمداً رسول اللہ و یقیموالصلاۃ و یوتوا الزکاۃ فاذا فعلوا ذلک عصموا منی دمائھم واموالھم الا بحق الاسلام و حسابھم علی اللہ) (بخاری، الایمان، باب :(فان تابوا واقاموا الصلاۃ…): 25)”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑتا رہوں یہاں تک کہ وہ اس بات کی شہادت دیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور نمازقائم کریں اور زکوۃ ادا کریں۔ پھر جب وہ یہ کام کریں تو انہوں نے اپنے خون اور مال مجھ سے محفوظ کر لئے، مگر اسلام کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔“
(2) جہنمیوں کا یہ اقرار کہ وہ مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام میں مساکین کو کھانا کھلانا کس قدر ضروری ہے۔ (3) اللہ کی آیات سے مذاق کرنا اور ان کے متعلق فضول بحث کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ان پر ایمان نہیں رکھتا تھا۔ اگر کوئی مسلمان اس کا ارتکاب کرے تو وہ بھی کافر ہوجاتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(ولئن سالتھم لیقولن انما کنا نخوض و نلعب قل اباللہ وایتہ و رسولہ کنتم تستھزء ون لاتعذروا قد کفر تم بعد ایمانکم) (التوبۃ : 65، 66)”اگر آپ ان سے پوچھیں تو کہیں گے ہم تو صرف بحث اور دل لگی کر رہے تھے۔ کہہ دے کیا اللہ کے ساتھ، اس کے رسولا ور اس کی آیات کے ساتھ ہی تمہیں ہنسی مذاق کرنا تھا ؟ بہانے مت بناؤ، یقیناً تم ایمان کے بعد بےایمان ہوگئے ہو۔“ (4) قیامت پر قین ایمان کی بنیادی شرط ہے، اس کے بغیر آدمی مسلمان ہی نہیں ہوتا۔ حدیث جبریل میں رسول اللہ ﷺ نے ایمان کی تعریف یہ فرمائی :(ان تومن باللہ و ملائکۃ و کتبہ و رسلہ والیوم الاخر و نومن بالقدر خیرہ و شرہ) (مسلم ، الایمان، باب بیان الایمان واللاسلام…: 8)”ایمان یہ ہے) کہ تم اللہ پر اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر اور یوم آخرت پر ایمان لاؤ اور قدیر پر خواہ اچھی ہو یا بری، ایمان لاؤ۔“
(2) بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ کفار اسلام کے تفصیلی احکام کے مخاطب نہیں ہیں اور نہ اللہ کی طرف سے انہیں اسلام کے احاکم مثلاً نماز و زکوۃ وغیرہ بجا لانے کے مکلف ہیں۔ ایمان لانے سے پہلے انہیں اعمال سے مستثنیٰ قرار دینا ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص کہے کہ وضو کے بغیر چونکہ نماز قبول نہیں ہوتی، اسلئے جب تک کوئی شخص وضو نہ کرلے وہ ”اقیموا الصلوۃ“ کا مخاطب ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح بےو و شخص ”اقیموا الصلوۃ“ کا مخطاب ہے اور اسے حکم ہے کہ وضو کر کے نماز ادا کرے، اسی طرح کفار بھی ”اقیموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ“ اور دوسرے تمام احکام کے مخاطب ہیں اور انہیں حکم ہے کہ ایمان لا کر یہ تمام احکام ادا کریں۔
Ayah 74:47(حتی اتنا الیقین :”الیقین“ سے مراد موت ہے، کیونکہ اس کے آنے پر تمام شکو و شبہات دور ہو کر حقیقت سامنے آجائے گی۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(واعبدربک حتی یاتیک الیقین) (الحجر : 99) ”اور اپنے رب کی عبادت کر، یہاں تک کہ تیرے پاس یقین آجائے۔“ اس سے مراد بھی موت ہے۔ دنیا میں کسی کو آخرت پر کتنا بھی یقین ہو وہ اس یقین کے بربار نہیں ہوسکتا جو موت آنے پر حاصل ہوگا۔
Ayah 74:48(1) فما تنفعھم شفاعۃ الشفعین : کیونکہ کفار کے حق میں سفارش کی اجازت ہی نہیں ہوگی، اگر کوئی کرے گا بھی تو کافر کے حق میں قبول نہیں ہوگی، جیسا کہ ابراہیم ؑ اپنے والد کے حق میں سفارش کریں گے تو قبول نہیں ہوگی۔ یاد رہے کہ کفار کو سفارشیوں کی سفارش کا فائدہ نہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس سفارش سے جہنم سے نہیں نکل سکیں گے، البتہ تخفیف عذاب کا فائدہ ہوسکتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کی وجہ سے ابو طالب کے عذاب میں تخفیف ہوگی۔
(2) اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو لوگ مومن موحد ہیں مگر اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں جائیں گے انہیں سفارش فائدہ دے گی۔ اللہ تعالیٰ کی اجازت سے انبیاء شہداء اور صلحاء ان کی سفارش کریں گے اور وہ ان کی سفارش سے جہنم سے نکل ائٓیں گے جیسا کہ صحیح احادیث میں آیا ہے۔
Ayahs 74:49–51فما لھم عن التذکرۃ…:”مستنفرۃ“ باب استفعال سے اسم فاعل بمعنی ”نافرۃ“ ہے، جیسے ”عجب“ اور ”استعجب“ اسی طرح ”سخر“ اور ”استخر“ ہم معنی ہیں۔ حروف زیادہ ہونے سے معنی میں مبالغہ پیدا ہوگیا ، سخت بدکنے والے۔ ”قسورۃ“”قسر“ سے ہے جس کا معنی غلبہ اورق ہر ہے، چونکہ شیر اپنے شکار کو مغلوب و مقہور کرتا ہے اسلئے اسے ”ق سورة“ کہتے ہیں۔ شکاریوں کی جماعت کو بھی ”ق سورة“ کہتے ہیں اور لوگوں کے شور و غل کو بھی ”ق سورة“ کہتے ہیں۔ کفار کے نصیحت اور آیات قرآنی سننے سے بھگانے کو ان جنگلی گدھوں کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو شیر کی آہٹ یا شکاریوں کے خطرے سے بدک کر بےتحاشا بھاگتے ہیں۔
Ayah 74:52(بل یرید کل امری منھم…: یعنی قرآن مجید اور رسول اللہ ﷺ کا حق ہونا واضح ہوجانے کے باوجود ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اسے تازہ لکھی ہوئی تحریر دی جائے جو ابھی تہ بھی نہ کی گئی ہو اور ان کے ہر شخص کو باقاعدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خط آئے کہ محمد (ﷺ) ہمارے رسول ہیں، انہیں مان لو۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے خیال میں اتنے بڑے بن رہے ہیں کہ یہ رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے اور ان کی اطاعت کے لئے تیار ہی نہیں، بلکہ ان کی خواہش اور تقاضا یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک کو نبی بنادیا جائے، اسے کتاب عطا ہو اور وہ بھی خرق عادت کے طور پر کاغذپر لکھی ہوئی سب کے سامنے کھلی ہوئی حلات میں ان پر نازل ہو۔ لیکن یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہر شخص ہی کو نبوت و کتاب عطا ہوجائے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(واذا اجآء تھم ایۃ قالوا لن نومن حتی نوتی مثل ما اوتی رسل اللہ ، اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ) (الانعام : 123)”اور جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے، کہتے ہیں ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے جب تک ہمیں اس جیسی چیز نہ دی جائے جو اللہ کے رسولوں کو دی گئی۔ اللہ بہتر جانتا ہے اس جگہ کو جاں وہ اپنی رسالت رکھے۔“ اس سے ملتا جلتا مضمون سورة فرقان (21) میں بھی بیان ہوا ہے۔
Ayah 74:53کلا بل لایخافون الاخرۃ :”کلا“ یعنی ایسا تو ہرگز نہیں ہوسکتا کہ ان میں سے ہر ایک کو کتاب دی جائے اور ان کے انکار کی وجہ بھی یہ نہیں، بلکہ ان کے نصیحت سے بھاگنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان کا آخرت پر ایمان نہیں اور تمام خرابیوں کی جڑ یہی ہے۔ جب تک یہ لوگ دنیا کی زندگی کو سب کچھ سمجھتے رہیں گے آپ ان کو ان کے تقاضوں کے مطابق کوئی معجزہ بھی دکھا دیں تو وہ اسے جادہ قرار دے کر ماننے سے انکار کردیں گے۔ دیکھیے سورة انعام (7)۔
Ayahs 74:54–56کلا انہ تذکرۃ…: یعنی ان مشرکین نے جو قرآن کو جادو یا انسانی کلام قرار دیا ہے یہ بات ہرگز درست کی ، مگر اس کا یہ اختیار بھی اللہ تعالیٰ کے چاہنے کے تحت ہے۔ یہ نہیں کہ وہ ہدایت حاصل کرنا چاہے مگر اللہ کا ارادہ نہ ہو تو اسے ہدایت حاصل ہو ہی جائے گی، یا گمراہ ہونا چاہے مگر اللہ کی مشیت نہ ہو تو ضرور گمراہ ہو کر ہی رہے گا۔ پھر جب سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے تو وہی اس لائق ہے کہ ہر وقت اس سے ڈرا جائے اور اسی کی شان ہے کہ جو اس سے ڈرے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے وہ اسے بخش دے۔