Ayah 73:1(1) یایھا الزمل :’ المزمل“ اصل میں ”المتزمل“ تھا، تاء کو زاء سے بدل کر زاء میں ادغام کردیا، کپڑے میں لپٹنے والا۔ یہ بات لازم ہے۔
(2) یایھا المزمل :”اے کپڑے میں لپٹنے والے !“ ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ ان آیات کے اترنے کے وقت رسول اللہ ﷺ کپڑے میں لپٹ کر لیٹے ہوئے تھے۔ اس خطاب میں رسول اللہ ﷺ سے بہت لطف و کرم اور محبت کا اظہار ہے، کیونکہ اہل عرب کا طریقہ ہے کہ وہ مخاطب سے نرمی اور محب سے بات کرنا چاہتے ہوں تو ایسے لفظ سے مخاطب کرتے ہیں جو مخاطب کی اس وقت کی حالت پر دلالت کر رہا ہو، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے علی ؓ عنہماکو مسجد میں زمین پر لیٹے ہوئے دیکھا تو فرمایا :(قم ابا تراب !) (بخاری، الصلاۃ ، باب نوم الرجال فی المسجد : 331) ”مٹی والے ! اٹھ کھڑا ہو۔“
(3) آپ ﷺ کے چادر میں لیٹنے کی وجہ کیا تھی ؟ اس میں تین قول ہیں، پہلا یہ کہ عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ پہلی وحی :(اقرا باسم ربک الذی خلق) کے نزول کے موقع پر جب فرشتے نے آپ کو تین مرتبہ زور سے دبایا تو آپ گھر میں خدیجہ ؓ کے پاس آئے اور فرمایا :(زملونی زملونی) (بخاری، الوحی، باب کیف کان بدء الوحی …: 3)”مجھے چادر اوڑھا دو ، مجھے چادر اوڑھا دو۔“ اسی طرح جابر بن عبداللہ انصاری ؓ سے مروی ہے کہ کچھ عرصہ تک وحی بند رہنے کے بعد رسول اللہ ﷺ پر جب وحی اتری تو آپ نے اس کے متعلق بیان فرمایا :”میں چلا جا رہا تھا کہ میں نے آسمان سے ایک آواز سنی، میں نے نظر اٹھائی تو وہی فرشتہ جو حرا میں میرے پاس آیا تھا، آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا تھا۔ میں اس سے ڈر گیا اور واپس آکر کہا : (رملونی زملونی) تو اللہ عزوجل نے ”یھا المدثر“ سے لے کر ”والرجز فاھجر“ تک آیات اتاریں۔“ (بخاری، الوحی، یاب کیف کان بدء الوحی …: 3) ان دونوں موقعوں پر ”زملونی“ کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ پر فرشتے کی ملاقات اور وحی کے اترنے سے جو رعب اور خوف طاری ہوتا تھا اس کی وجہ سے آپ کپڑا لپیٹ لیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کے اس بارگراں کو اٹھانے کے لئے تیار کرنے کی خاطر آپ کو قیام اللیل کا حکم دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قیام اللیل کے ساتھ آپ کو وحی کا بوجھ اٹھانے کیلئے تیار کیا جا رہا ہے، چناچہ بعد میں وحی تسلسل اور کثرت سے اترنے لگی۔
دوسرا قول یہ ہے کہ ”اے چادر میں لپٹ کر سونے والے سستی اور سونے کا وقت گیا، رات کو قیام کر…۔“ تیسرا قوال یہ ہے کہ قریش مکہ دارالندوہ میں جمع ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کے لئے کوئی ایسا نام طے کرنے لگے جسے سن کر لوگ آپ کے پاس آنے سے باز رہیں۔ کسی نے کہا کہ کاہن ہے، کچھ دوسرے کہنے لگے کاہن نہیں ہے۔ کسی نے دیوانہ کہا، اس کی بھی تردید ہوگئی۔ کھچ بولے جادوگر ہے، دوسروں نے کہا جادوگر نہیں۔ غرض مشرکین اس قسم کی باتیں کر کے چلے گئے۔ رسول اللہ ﷺ کو یہ باتیں پہنچیں تو آپ کو بہت صدمہ ہوا اور اس پریشانی اور غم کی حالت میں آپ چادر لپیٹ کر لیٹ گئے۔ جبریل ؓ آئے مقصد یہ ہے کہ آپ ان کی باتوں سے بددل اور رنجیدہ ہو کر چادر لپیٹ کر نہ لیٹ جائیں بلکہ رتا کو قیام کریں، اس سے آپ میں یہ بارگراں اٹھانے کی قوت پیدا ہوگی، ان لوگوں کی باتوں پر صبر کریں اور ان سے اچھے طریقے سے علیحدگی اختیار کریں۔ ابن کثیر نبی ہ قول جابر بن عبداللہ ؓ کی روایت سے مسند بزار سے نقل کیا ہے، مگر اس کی سند میں ایک راوی معلی بن عبدالرحمن ہے جس کے متعلق تقریب میں ہے :”متھم بالوضع و قد رمی بالرفض“ ”اس پر احادیث گھڑنے کی توہمات ہے اور رافضیت کا الزام بھی ہے۔“
Ayahs 73:2–4(1) قم الیل الا قلیلاً …: تھوڑا حصہ چھوڑ کر سایر رات کا قیام کر۔”نصفۃ“ ”الیل“ سے بدل ہے، مگر اس ”الیل“ سے جس میں سے ”قلیلاً“ کا استثنا ہوچکا ہے۔ ”قلیلاً“ کا لفظ چونکہ مجمل ہے، اس لئے اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ رات کا تھوڑا حصہ چھوڑ کر جس حصے کا قیام کرنا ہے وہ کتنا ہونا چاہیے۔ فرمایا رات کا نصف قیام کریں یا نصف سے کچھ کم کرلیں یا نصف سے زیادہ کرلیں۔ اس سورت کی آخری آیت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ان آیات کے نزول کے بعد رات کی دو تہائی کے قریب اور رات کے نصف اور رات کی تہائیکے برابر قیام کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ”نصف سے کچھ کم“ کا مطلب ثلث اور ”نصف سے زیادہ“ کا مطلب دو ثلث کے قریب ہے۔”منہ“ اور ”علیہ“ کی ضمیریں ”نصفہ“ کی طرف لوٹ رہی ہیں۔ اس سوال کا ایک اور حل یہ ہے کہ ”قم الیل الا قلیلاً“ کا ترجمہ یہ کیا جائے کہ ”رات کا قیام کر مگر کسی رات رہ جائے تو مضائقہ نہیں۔“”نصفہ“ سے یہ بیان شروع ہوتا ہے کہ رات کا کتنا حصہ قیام میں گزارنا ہے، یہ تفسیر بھی درست ہے۔
(2) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو قیام اللیل کا حکم دے کر اس کی تاکید فرمائی ہے۔ تہجد ، وتر، قیام رمضان اور تراویح سب قیام اللیل ہی کے نام ہیں۔ اہل علم میں اتخلاف ہے کہ یہ نماز فرض ہے یا سنت اور اگر فرض ہے تو صرف رسول اللہ ﷺ پر فرض تھی یا پوری امت پر فرض ہے ؟ قرطبی میں ہے کہ حسن اور ابن سیرین اس بات کے قائل ہیں کہ رات کو نماز ہر مسلم پر فرض ہے خواہ بکری کا دودھ د ہونے کے برابر پڑھے، مگر اکثر علماء فرماتے ہیں اور صحیحبھی یہی ہے کہ قیام اللیل امت پر فرض نہیں بکلہ یہ ایسی سنت ہے جس کی بہت تاکید کی گئی۔ سورة مزمل کے آخر مں فرمایا :(ان ربک یعلم انک تقوم ادنی من ثلثی الیل و یصفہ وثلثہ و طآئفۃ من الذین معک) (المزمل : 20) یعنی آپ کے ساتھیوں کی ایک جماعت بھی آپ کے ساتھ اتنا قیام کرتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کے علاوہ صحاب ہ کی صرف ایک جماعت قیام کرتی تھی۔ اگر یہ فرض ہوتا تو ایک جماعت کے بجائے تمام صحابہ قیام کرتے۔
صحیحین میں طلحہ بن عبیدا للہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک سائل کو ارکان دین بتائے اور نمازوں میں سے دن رات میں صرف پانچ نمازیں فرض بتائیں، اس سنے پوچھنا :”کیا مجھ پر اس کے علاوہ بھی کچھ فرض ہے ؟“ تو آپ نے فرمایا :(لاء الا ان تطوع) (بخاری، الایمان، باب الزکاۃ من ال سلام : 36۔ مسلم : 11)”نہیں، الا یہ کہ تم اپنی خوشی سے پڑھو۔“ صیحیحن ہی میں عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک رمضان میں تین راتیں لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جماتع کی صورت میں قیام میں شریک ہوتے رہے۔ چوتھی رات آپ باہر تشریف نہیں لائے اور فرمایا :(انی خشیت ان تعرض علیکم) (بخاری، التھجد، باب تحریض النبی ﷺ …: 1129 مسلم : 861) ”میں اس بات سے ڈرا کہ تم پر (یہ نماز) فرض نہ ہوجائے۔“ اگر قیام اللیل فرض ہوتا تو آپ اس کے ان پر (یہ نماز) فرض ہوجانے سے کیوں ڈرتے ؟ رہی یہ بات کہ رسول اللہ ﷺ پر قیام اللیل فرض تھا یا نہیں تو اس کیلئے دیکھیے سورة بنی اسرائیل کی آیت (79) کی تفسیر۔
فرض نہ ہونے کے باوجود قیام اللیل کی تاکید و فضیلت قرآن و حدیث میں بہت ائٓی ہے، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(افضل الصلاۃ بعد الصلاۃ المکتوبۃ الصلاۃ فی جوف اللیل) (ملم، الصیام، باب فضل صوم المحرم : 203/1163)”فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ہے۔ ‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن اور متقی بندوں کی شان میں فرمایا :(تنجافی جنوبھم عن المضاجح یدعوکن ربھم خوفاً وطمعاً ومما رزقنھم ینفقون) (السجدۃ : 16)”ان کیپ ہلو بستروں سے جدا رہتے ہیں، اپنے رب کو ڈرتے ہوئے اور امید کرتے ہوئے پکارتے ہیں اور ہم نے انہیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔“ اور فرمایا :(کانوا قلیلاً من الیل مایھجعون) (الذاریات : 18)”وہ رات کے تھوڑے حصے میں سویا کرتے تھے۔“ اور فرمایا :(ومن الیل فتھجد بہ نافلۃ لک ، عسی ان ینبعثک ربک مقاماً نحموداً) (بنی اسرائیل : 89) ”اور رات کے کچھ حصے میں پھر اس کیساتھ بیدار رہ ، اس حال میں کہ تیرے لئے زائد ہے۔ قریب ہے کہ تیرا رب تجھے مقام محمود پر کھڑا کرے۔“ عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(من قام یعشر آیات لم یکتب من الغافلین ومن قام بمائۃ آیۃ کتب من القانتین ومن قام بالف آیۃ کتب من المفنطرین) (ابو داؤد، تفریع ابواب شھر رمضان، باب تخریب : 1398، وقال الالبانی صحیح) ’ جو شخص دس آیات کے ساتھ قیام کرے وہ غافلین میں نہیں لکھا جاتا ، جو سو آیات کے ساتھ قیام کرے وہ قانتین (عبادت گز اورں) میں لکھا جاتا ہے اور جو ہزار آیات کے ساتھ قیام کرے وہ مقنطرین (خزانے والوں) میں لکھا جاتا ہے۔“ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(رحم اللہ رجلاً قام من اللیل فصلی وایفظ امرانہ فان ابت تصع فی وجھھا الماء رحم اللہ امراہ قامت من اللیل فضلت وایقظت زوجھا فان ابی نصحت فی وجھہ المائ) (ابوداؤد، التطوع، باب قیام اللیل، 1308 وقال الالبانی حسن صحیح)”اللہ تعالیٰ اس آدمی پر رحم کرے جو رتا کو اٹھا، نمازپ ڑھی اور اپنی بیوی کو جگایا (اور اس نے بھی نمازپڑھی) ، اگر اس نے انکار کیا تو اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔ اللہ تعالیٰ اس عورت پر رحم کرے جو رات کو اٹھی اور نمازپڑھی، خاوند کو جگایا (اور اس نے بھی نمازپ ڑھی) ، اگر اس نے انکار کیا تو اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔“
رات کے اوقات میں سے بھی رات کے آخری حصے میں قیام کی فضیلت زیادہ ہے۔ عمرہ بن عبسہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(اقرب مایکون الرب من العبد فی جوف اللیل الآخر فان استطعت ان تکون ممن یذکر اللہ فی تلک الساعۃ فکن) (ترمذی، الدعوات، باب : 3589، و صححہ الالبانی فی صحیح الجامع)
”رب تعالیٰ بندے کے سب سے زیادہ قریب رات کے آخری حصے میں ہوتا ہے، اگر تو یہ کرسکے کہ اس وقت اللہ کا ذکر کرنے والوں میں سے ہو تو یہ کام کر۔“ قیام اللیل کا سب سیب ہتر طریقہ داؤد ؑ کی نماز ہے، وہ رتا کا نصف سو جاتے اور اس کا تیسرا حصہ قیام کرتے اور چھٹا حصہ سو جاتے۔“
(3) ”ورتل القرآن“ اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھ۔”ترتیلاً“ مصدر تاکید کیلئے ہے، خوب ٹھہر ٹھہر کرپ ڑھ۔ اس میں بتایا ہے کہ رتا کے قیام میں پڑھنا کیا ہے ؟ سو حکم ہوا کہ قرآن پڑھیں اور خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں۔ ترتیل میں کئی چیزیں شامل ہیں، ان میں سے پہلی یہ ہے کہ ٹھہر ٹھہر کر پورے غور و فکر کے ساتھ تلاوت کی جائے۔ رسول اللہ ﷺ اس حکم کے مطابق خوب ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کیا کرتے تھے۔ حفصہ ؓ فرماتی ہیں :(وکان یقرا بالسورۃ فیرتلھا حتی تکون اطول من اطول منھا) (مسلم، صلاۃ المسافرین، یاب جواز النافلۃ قائماً و قاعداً …: 833)”اور آپ ﷺ سورت کی تلاوت کرتے اور اسے اتنا ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے کہ وہ اس سے لمبی سورت سے بھی لمبی ہوجاتی۔“ دوسری چیز جو ترتیل میں شامل ہے، یہ ہے کہ ہر لفظ الگ الگ سمجھ میں آئے، چناچہ یعلی بن ممالک نے ام سلمہ ؓ کی قرأت اور نماز کے متعلق سوال کیا، انہوں نے پہلے آپ کی رات کی نماز کا حال بیان کیا :(ثم نعتت قراء نہ ماذاھی تنعت قراء ہ مفسرۃ حرفاً حرفاً) (ترمذی، فضائل القرآن، باب ماجاء کیف کانت قراء ۃ النبی ﷺ : 2933)”پھر ام سلمہ ؓ عنہمانے آپ ﷺ کی قرأت کی صفت بیان کی تو انہوں نے ایسی قرأت بیان کی جس کا ایک ایک حرف واضح کیا گیا تھا۔“
تیسری چیز ہر آیت پر ٹھہرنا ہے ، بعض لوگ ایک ہی سانس میں وقف کے بغیر آیت کے ساتھ آیت ملائے جاتے ہیں اور اسے کمال سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ سنت کے خلاف ہے، جیسا کہ ام المومنین ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں :(کان رسول اللہ ﷺ یقطع قراءت ہ (وفی روایۃ ابی داؤد، یقطع قراءت ہ آیۃ آیۃ ، یقراء :(الحمد للہ رب العلمین) ثم یصف (الرحمٰن الرحیم) ثم یفف) (ترمذی، القراء ات، باب فی فاتحۃ الکتاب : 2928، ابو داؤد : 3001، وصیححہ الالبانی فی صحیح الجامع الصغیر)”رسول اللہ ﷺ اپنی قرأت الگ الگ کر کے پڑھتے ھتے۔“ اور ابو داؤد کی روایت میں ہے : آپ اپنی قرأت ایک ایک آیت الگ کر کے پڑھتے تھے۔“ آپ ”الحمد للہ رب العلمین“ پڑھتے اور ٹھہر جاتے، پھر ’ الرحمٰن الرحیم“ پڑھتے اور ٹھہر جاتے۔“ چوتھی چیز یہ ہے کہ حروف مدہ کو لمبا کر کے پڑھا جائے۔ قتادہ فرماتے ہیں :(سئل انس کیف کانت قراء ۃ النبی ﷺ ؟ فقال کانت مداثم قراً :(بسم اللہ الرحمٰن الرحیم) یمدبسم اللہ و یمدبالرحمٰن ویمدبالرحیم) (باری، فضائل القرآن، باب مدالقراء ۃ : 8526)”جو شخص قرآن کو خوبصورت لہجے اور خوش آوازی سے نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں۔“ غرض ترتیل کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید کو خوب غور و فکر کیساتھ ، ٹھہر ٹھہر کر، الفاظ کی و اضح ادائیگی کے ساتھ اور حروف مدہ کو لمبا کر کے جس قدر خوش آوازی کے ساتھ ہو سکے پڑھا جائے۔
Ayah 73:5(1) انا سنلقی علیک…: اس آیت میں اور اس کے بعد والی دو آیتوں میں رات کے قیام کے حکم کی حکمت بیان فرمائی گئی ہے کہ وحی الٰہی کا بھاری بوجھ اٹھانے کی استعداد پیدا کرنے کے لئے رات کا قیام اور اس میں پورے غور و فکر کے ساتھ قرآن کی تلاوت نہایت ضروری ہے۔
(2) قولاً ثقیلاً“ (بھاری کلام) سے مراد وحی الٰہی ہے جو اترتے وقت بھی بھاری ہے، ہر کلام اور ہر چیز سے بھاری ہے، اس پر عمل بھاری ہے اور اسے تمام دنیا تک پہنچانے کا فریضہ بھی بہت بھاری ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے :(1) نزول وحی کے وقت آپ ﷺ پر بہت بوجھ پڑتا تھا، جسے برداشتک رنا آپ پر بہت بھاری تھا۔ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ سخت سردی کے دن آپ پر وحی نازل ہوتی اور جب وہ حالت ختم ہوتی تو آپ کی پیشانی سے پسینا ٹپک رہا ہوتا۔ (بخاری، بدہ الوحی، باب کیف کان بدء الوحی …: 2) زید بن ثابت ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی ﷺ پر وحی نازل ہوئی تو آپ کی ران میری ران پر تھی، آپ کی ران کا اتنا بوجھ تھا، قریب تھا کہ وہ میری ران کو کچل دے۔ (دیکھیے بخاری : 2832) عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ اونٹنی پر سوار ہوتے، آپ پر وحی اترتی تو اونٹنی زمین پر گردن رکھ دیتی۔ (دیکھیے سمند احمد : 6/118، ح : 23821) (2) یہ کلام دوسرے تمام کلام سے بھایر ہے، ب اقی سب کلام اس کے مقابلے میں ہی ہیں۔ (3) اس کے احکام پر عمل کرنا بھاری ہے۔ فرئاض پنج گانہ اور دوسرے احکام بجا لانا اور اس کی منع کردہ چیزوں سے اجتناب کرنا نفس پر بہت بھاری ہے۔ (4) یہ اس لئے بھی بھاری ہے کہ اسے تمام دنیا کے لوگوں تک پہنچانے کا حکم ہے جو نہایت دشوار کام ہے۔ اس کے لئے آپ کو لوگوں کی مخالفت طعن و ملامت ، ٹھٹھا و مذاق، گالی گلوچ، جسمانی ایذا، قتل کی سازشیں اور ہجرت و جہاد سب کچھ برداشت کرنا ہوگا۔
Ayah 73:6(1) ان ناشئۃ الیلھی اشد …:”ناشئۃ الیل“ (رات کا اٹھنا) ”نشاء ینشا“ (ف ، ک) کا مصدر بروزن ”عافیۃ“ اور ”کاذبۃ“ ہے۔ نشاء من مکانہ“ وہ اپنی جگہ سے اٹھا۔ ”وطاً“ ”وطی یطا“ (س) کا مصدر ہے، پاؤں سے روندنا کچلنا۔ ”اقوم“ زیادہ سیدھا، زیادہ درست۔ ”قلیلاً“ ”قولاً“ کی طرح مصدر ہے۔
(2) یعنی رات کا اٹھنا طبیعت پر بہت بھاری اور نفس کو کچلنے میں دوسری تمام چیزوں سے بڑھ کر ہے۔ واضح رہے کہ جو لوگ زیادہ سے زیادہ جسمانی ایذا برداشت کرلیتے ہیں بےخوابی کی ایذا کے سامنے ان کے حصول بھی جو بدلے جاتے ہیں۔ نیند جیسی مرغوب چیز چھوڑ کر قیام کا مشکل ترین عمل کرنے سے نفس میں مشقت اٹھانے کی اتنی قوت پیدا ہوگی کہ وہ رحی الٰہی کو اٹھانے اور تبلیغ رسالت کے بھار بوجھ کر بردشات کرنے کے قابل ہوجائے گا۔”اقوم قیلاً“ رات کو جب ہر طرف خاموشی ہوتی ہے اور لوگ سوئے ہوئے ہوتے ہیں اس وقت اٹھ کر آدمی اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو اس مبارک وقت میں کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہوتی جو اس کی توجہ خراب کرے، اس وقت منہ سے نکلنے والے الفاظ زبان اور دل دونوں سے وقت میں کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہوتی جو اس کی توجہ خراب کرے، اس وقت منہ سے نکلنے والے الفاظ زبان اور دل دونوں سے نکل رہے ہوتے ہیں اور اس عمل میں کسی دکھاوے یا سناوے کی آمیزش بھی نہیں ہوتی، کیونکہ کوئی دوسرا نہ دیکھتا ہے نہ سن رہا ہوتا ہے، اس لئے اسے بات کرنے میں زیادہ درست قرار دیا۔ پھر رات کا آخری حصہ خاص قبولیت کا وقت بھی ہے، جیسا کہ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ینزل ربنا تبارک و تعالیٰ کل لیلۃ الی السماء الدنیا حین یسفی ثلث اللیل الاخر یقول من یدعونی فاستجیب لہ ؟ من یسالنی فاعطیہ ؟ من یستغفرنی فاغفرلہ ؟) (بخاری، التھجد، باب الدعاء والصلاۃ من آخر اللیل : 1135۔ مسلم : 858(”ہمارے اب تبارک و تعالیٰ ہر رات آسمان دنیا پر اترتا ہے، جب رات کا آخری ثلث باقی ہوتا ہے، فرماتا ہے :”کون ہے جو مجھے پکارے اور میں اس کی دعا قبول کروں ؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے اور میں اسے عطا کروں ؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش کی درخواست کرے اور میں اسے بخشوں ؟“
Ayah 73:7(ان لک فی الھار سبحاً طویلاً :”سبحا“ اور ”سباحۃ“ (ف) کا اصل معنی تیرنا ہے ، جیسے فرمایا (والسبحت سبحاً (النازعات : 3)”اور جو تیرے تیرنے والے ہیں ! تیزی سے تیرنا۔“ مراد ادھر ادھر آنا جاا، کام کاج اور مشغولیت ہے، یعنی دن کے وقت آپ کو گھر کے کام، فکر معاش، تبلیغ دین، مہمان نوازی، مسلمانوں کے معاملات کی اصلاح اور جہاد فی سبیل اللہ، غرض بیشمار مصروفیات ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جتنا مشغول وقت گزارا ہے ایسا مشغول وقت گزارنے والا کوئی دوسرا نظر نہیں آتا۔ ایسی مشغولیت میں دن کے وقت ذکر الٰہی، قیام اور تلاوت کیلئے الگ وقت ناکلنا ممکن نہیں تھا، اس لئے خاص ان کاموں کے لئے رات کو اٹھنے کی تاکید فرمائی۔
Ayah 73:8واذکر اسم ربک …:”بتل یبتل“ (ن، ض) قطع کرنا۔”تبتل“ منقطع ہونا۔ اس آیت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ رات کو خاص طور پر اٹھ کر قیام، تلاوت اور ذکر الٰہی کے علاوہ دن رات کے ہر وقت میں بھی اللہ کا ذکر جاری رکھ اور اپنی تمام تر توجہ مخلوق سے ہٹا کر اپنے رب ہی کی طرف رکھ۔ اس مطلب کا قرینہ یہ ہے کہ اس میں ذکر و تبل کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں فرمایا، عائشہ ؓ فرماتی ہیں :(کان النبی ﷺ یذکر اللہ علی کل اخیانہ) (مسلم، الحیض، باب ذکر اللہ تعالیٰ فی حال الجنابۃ وغیرھا : 383)”رسول اللہ ﷺ اپنے تمام اقوات میں اللہ کا ذکر کیا کرتے تھے۔“ دوسرا مطلب یہ ہے کہ دن کی لمبی چوڑی مصروفیات سے فارغ ہو کر رات کو خاص طور پر اپنے رب کا ذکر کر اور ہر کام سے کی طور پر منقطع ہو کر اپنے رب کی طرف متوجہ ہوجا، جیسا کہ سورة انشراح میں فرمایا :(افذا فرعت فانصب، والی ربک فارعب) (الانشراح، 808)”جب تو فارغ ہو تو محنت کر اور اپنے رب ہی کی طرف رغبت کر۔“ اس مطلب کا قرینہ شروع سورت سے آیات کا سیاق ہے۔ دونوں مطل ہی دسرت ہیں، پہلے مطلب کی صورت میں اعم ذکر و تبتل مراد ہوگا، جو دوسرے اشغال کے ساتھ بھی جاری رہتا ہے اور دوسرے میں خاص، جو دوسرے کام چھوڑ کر رات کی تنہائی میں یکسوئی سے ادا ہوتا ہے۔
Ayah 73:9(رب المشرق والمغرب…: یعنی مشرق و مغرب کا مالک و مربی وہی ہے، ہر وقت اسی کا ذکر کرو، عبات بھی اسی کی کرو اور بھروسہ بھی اسی پر رکھو، جب وہ معبود اور وکیل ہے تو تمام دنیا سے بےپروا ہوجانے میں فکر کس بات کی ؟ عبادت و توکل دونوں کو اللہ کیلئے خاص کرنے کا حکم کئی آیات میں آیا ہے، جیسے فرمایا :(فاعبدہ و توکل علیہ) (ھود : 123)”سو اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسہ رکھ۔“ اور فرمایا :(ایاک نعبد وایاک نستعین) (الفاتحۃ : 3)”ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ سے مدد مانگتے ہیں۔“ ”وکیلاً“ ”وکل یکل“ (ض) سپرد کرنا۔ وکیل وہ ہے جس کے سپرد کوئی کام کردیا جائے، یعنی اپنی پوری جدوجہد کے باوجود اعتماد صرف اللہ تعالیٰ پر رکھو اور اپنے تمام کام اسی کے سپرد کر دو۔
Ayah 73:10واصبر علی مایقولون…: یعنی ایک اللہ کو اپنا سہارا بنانے، ان کے معبودوں کو یکسر چھوڑنے اور اس عمل کی دعوت و تبلیغ پر یہ آپ کو جو کچھ بھی کہیں آپ صبر کریں، خواہ یہ آپ کو جھوٹا کہیں یا دیوانہ یا کاہن یا شاعر ، یا محمد کے بجائے مذمم کہیں، غرض کچھ بھی کہیں یا جو بھی بہتان باندھیں آپ صبر کریں، انتقا کے چکر میں نہ پڑیں، نہ ا ن کی بدسلوکی کا شکوہ کریں۔ خوبصورت طریقے سے الگ ہوجانے کا مطلب یہ ہے کہ لڑ جھگڑ کر اور بدزبانی کر کے نہیں بلکہ نہایت حسن سلوک، صبر اور شرافت کے ساتھ ان سے کنارہ کش ہوجائیں۔ تیسری یہ کہ ظاہری کنارہ کشی کے باوجود ان کی خیر خواہی و ہمدردی اور ہدایت و رہنمائی میں کسی قسم کی کمی نہ کریں۔
Ayah 73:11وذرنی والمکذبین…: یعنی جب تم نے مجھے اپنا وکیل بنا لیا اور اپنا سب کچھ میرے سپرد کردیا تو ان خوش حال جھٹلانے والوں کا معاملہ بھی مجھ پر چھوڑ دو جن کی نعمت و خوش حالی ایمان لانے کے بجائے ان کے انکار کا باعث بن گئی ہے، میں خود ان سے نمٹ لوں گا، آپ انہیں تھوڑی مہلت دیں۔ تھوڑی مہلت سے مراد دنیا میں تھوڑی مہلت ہے، جیسا کہ کفار مکہ کو جھٹلانے کی سزا جلد ہی میدان بدر میں مل گئی۔ اس کے علاوہ اگر زیادہ سے زیادہ مہلت بھی ہو تو دنیا میں زندہ رہنے تک ہے جو یقینا بالکل کم ہے، پھر اس کے بعد میں جانوں اور یہ جانیں، آپ ایک طرف ہوجائیں۔
Ayahs 73:12–13(ان لدینا انکالاً…:”انکالاً“ ”نکل“ (نون کے کسرہ کے ساتھ) کی جمع ہے، جانور کے پاؤں کی زنجیر اور لگام کے لوہے والے حصے کو کہتے ہیں۔ ”ججیماً“ (حجمۃ“ (آگ کا سخت بھڑکنا) سے مشتق ہے۔ (راغب) ”ذاغضۃ“ جو گلے میں پھنس جائے، نہ نگل سکے نہ اگل سکے۔
Ayah 73:14(یوم ترجف الارض …:”کثیباً“ ریت کا ٹیلہ۔ ”مھیلاً“ (گرایا ہوا)”ھال یھیل ھیلاً“ سے اسم مفعول ہے۔ ”ھال التربا او الزمل“ اس نے مٹی یا ریت کو گرایا۔ یعنی وہ عذاب اس دن ہوگا جب سخت زلزلے سے پہاڑ لرز اٹھیں گے ، پھر اس زلزلے کی شدت سے ان کی سختی اور ذرات کی باہمی بندش ختم ہو جائیگی اور وہ ٹھوس پہاڑوں کے بجائے ریت کے ٹیلوں کی صورت میں بدل جائیں گے، جو خود بخود اس طرح نیچے گر رہی ہوگی جیسے کوئی اسے گرا رہا ہو۔ قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر پہاڑوں پر اس کے بعد گزرنے والی کیفیات بھی ذکر ہوئی ہیں کہ وہ دھنی ہوئی اون کی طرح ہوجائیں گے، پھر بادلوں کی طرح اڑنے لگیں گے، پھر زمین چٹیل میدان بن جائے گی۔ مزید دیکھیے سورة نبا (20) کی تفسیر۔
Ayahs 73:15–19(انا ارسلنا الیکم رسولاً…:) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار کو دو طرح سے ڈرایا ہے، ایک فرعون کا قصہ یاد دلا کر کہ اگر تمہاری سرکشی فرعون کی طرح جاری رہی تو تمہارا انجام بھی فرعون اور اس کے لشکروں جیسا ہوگا، دوسرا یہ کہ اگر تم دنیا کے عذاب سے بچ بھی گئے تو قیامت کے اس عذاب سے کیسے بچو گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا ؟
(2) شاھداً علیکم : رسول اللہ ﷺ اس بات کی شہادت دیں گے کہ انہوں نے حق تعالیٰ کا پیغام ان لوگوں تک پہنچا دیا تھا اور یہبھی کہ کس نے اسے مانا اور کس نے انکار کیا۔ یاد رہے کہ آپ انہی لوگوں کے متعلق یہ شہادت دیں گے جو آپ کی زندگی میں موجود تھے، جیسا کہ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(انہ یجاء برجال من امتی فیوحذ بھم ذات الشمال، فاقول یا رب چ اصبحابی، فیقال انک لاتدری ما احد ثوا بعدک فاقول کما قال العبد الصالح :(وکنت علیھم شھیداً ما دمت فیھم ، فلما توفیتی کنت انت الرقیب علیھم) (فیقال ان ھولاء لم یزالوا مرتدین علی اعقابھم مندفارقتھم) (بخاری، التفسیر، باب :(وکنت علیھم شھدا…): 3625)
”میری امت کے کچھ آدمی لائے جائیں گی اور انہیں بائیں طرف لے جایا جائے گا تو میں کہوں گا :”اے میرے رب ! یہ تو میرے ساتھی ہیں۔“ کہا جائے گا :”آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا نیا کام کیا تھا۔“ تو میں وہی کہوں گا جو عبد صالح (عیسیٰ ؑ) کہیں گے :(ونت علیھم شھیداً ما دمت فیھم ، فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم وانت علی کل شیء شھید) (المائدۃ : 118) ”میں ان پر اس وقت تک شہادت دینے والا تھا جب تک میں ان میں موجود تھا، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو خود ہی ان کا نگہبان تھا اور تو ہر چیز پر شہادت دینے والا ہے۔“ کہا جائے گا کہ جب سے آپ ان سے جدا ہوئے یہ لوگ اس وقت سے اپنی ایڑیوں پر پھرے رہے۔“ اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ ”شاھداً علیکم“ سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تمام لوگوں کے تمام احوال دیکھتے، سنتے اور جانتے ہیں، کیونکہ اس کے بغیر شہادت ہو نہیں سکتی، ان لوگوں کا استدلال درست نہیں۔ علاوہ ازیں شہادت کے لئے خود دیکھنا اور سننا بھی ضروری نہیں، بلکہ اگر ایسے ذریعے سے کوئی بات معلوم ہو جس میں شک کی کوئی گنجائش نہ ہو تو اس پر بھی شہادت دی جاسکتی ہے۔ مزید تفصیل کے لئے دیکھیے سورة بقرہ کی آیت (143) کی تفسیر۔
(3) شیباً“”اشیب“ کی جمع ہے، سفید بالوں والا۔”شاب یشیب شیباً“ (ض) سفید بالوں والا ہونا۔”الولدان“ ”ولید“ کی جمع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن کی ہولناکی سے بچے بوڑھے ہوجائیں گے۔ ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(یقول اللہ عزوجل یوم القیامۃ یا آدم ! یقول لبیک ربنا وسعدیک ، قینادی بصورت ان اللہ یامرک ان تخرج من ذریتک بعثاً الی النار قال یا رب ! و ما بعث النار ؟ قال من کل الف، اراہ قال ، تسع مائۃ وتسعۃ وتسعین، فحینئذ تصنع الحامل حملھا ویشیب الولید (وتری الناس سکریٰ وما ھم بسکریٰ ولکن عذاب اللہ شدید) فشق ذلک علی الناس حتی تغیرت وجوھھم ، فقال النبی ﷺ من یاجوج وماجوج وتسعۃ وتسعین ، ومنکم واحد ، ثم انتم فی الناس کا لشعرۃ السوداء فی جنب النور الابیض، او کا لشعرۃ البیضاء فی جنب الثور الاسود) (بخاری، التفسیر، باب قولہ :(وتری الناس سکری): 3831)”اللہ عزو جل قیامت کے دن آدم ؑ سے کہیں گے :”اے آدم !“ وہ عرض کریں گے :“ اے ہمارے پروردگار ! میں بار بار حاضر ہوں تیری فرماں برداری کے لئے۔“ پھر (انہیں) آواز دی جائے گی :”اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ اپنی اولاد میں سے جہنم کی جماعت نکالو۔“ وہ پوچھیں گے :”اے میرے رب ! جہنم کی جماعت کیا ہے ؟“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا :”ہر ہزار میں سے ننانوے۔“ تو اس وقت حمل والی اپنا حمل گرا دے گی اور بچے بوڑھے ہوجائیں گے (وتری الناس سکری وما ھم بسکری ولکن عذاب اللہ شدید) (الحج : 2)”اور تو لوگوں کو دیکھے گا کہ بےہشو ہیں، حالانکہ وہ بےہوش نہیں ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب سخت ہے۔“ یہ بات لوگوں پر بہت گراں گزری، حتیٰ کہا ن کے چہروں کے رنگ بدل گئے تو نبی ﷺ نے فرمایا :”یاجوج ماجوج میں سے نو سو ننانوے اور تم میں سیا یک ہوگا۔ لوگوں کے مقابلے میں تمہاری تعداد اس طرح ہے جیسے سفید بیل کے پہلو میں ایک سیاہ بال یا سیاہ بیل کے پہلو میں ایک سفید بال ہوتا ہے۔“ آیت اور حدیث میں بچوں کے بوڑھے ہونے کے ذکر سے اس دن کی بےپناہ سختی اور ہولناکی کا اظہار ہو را ہے، کیونکہ عام غم سے آدمی کے بال فوراً سفید نہیں ہوتے۔ یقیناً وہ انتہائی غیر نفاق شدت اور ہولناکی ہوگی جو بچوں کے بالوں کو بھی سفید کرے گی۔
(4) السمآء منفطربہ :”بائ“”فی“ کے معنی میں ہے، یعنی اس دن میں آسمان پھٹ جائے گا، یا ”بائ“ سیبہ ہے، یعنی اس ان کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اس دن کی شدت سے آسمان جیسی عظیم مخلوق پھٹ جائے گی تو دوسری چیزوں کا کیا حال ہوگا اور اگر کفر پر قائم رہے تو تم اس دن سے کس طرح بچو گے ؟ آسمان کے مقابلے میں تمہاری تو کوئی حیثیت ہی نہیں۔
Ayah 73:20(1) ان ربک یعلم انک …: سعد بن ہشام فرماتے ہیں کہ میں نے عائشہ ؓ سے پوچھا :”آپ مجھے رسول اللہ ﷺ کے قیام کے متعلق بتائیں ؟“ انہوں نے فرمایا :”تم ”یایھا المزمل“ نہیں پڑھتے ؟“ میں نے کہا :”کیوں نہیں !“ تو انہوں نے فرمایا :”اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے شروع حصے میں قیام اللیل فرض فرمایا تو نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ ایک سال قیام کرتے رہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کا آخری حصہ بارہ ماہ تک آسمان میں و کے رکھا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آخری حصے میں تخفیف نازل فرمائی اورق یام اللیل فرض ہونے کے بعد نفل ہوگیا۔“ (ملم ، صلاۃ المنافرین و قصرھا، باب جامع صلاۃ اللیل…: 836) سورة مزمل کے اول اور آخر کے نزول کے متعلق سند کے لحاظ سے یہی بات سب سے زیادہ صحیح ہے۔ صحیح مسلم کی اسی روایت کے آخر میں ہے کہ ابن عباس ؓ عنہمانے بھی عائشہ ؓ کی بات کو درست قرار دیا۔ اس لئے بعض روایات میں آٹھ ماہ یا سولہ ماہ کا جو ذکر آیا ہے وہ روایات مرجوع ہیں اور سعید بن جبیر (تابعی) کا قول کہ سورة مزمل کا آخری حصہ دس سال بعد نازل ہوا، یہ عائشہ اور ابن عباس ؓ عنہماجی سے جلیل القدر صحابہ کے ثابت شدہ فرمان کے مقابلے یمں کچھ حیثیت نہیں رکھتا۔
ہمارے دور کے بعض لوگوں نے عائشہ اور ابن عباس ؓ عنہماکے صحیح قول کو چھوڑ کر ایک تابعی سعید بن جبیر کے قول کو زیادہ صحیح قرار دیا ہے اور وجہ یہ بیان کی ہے کہ سورة مزمل کے آغاز کے مضمون سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ مکہ کے باتدائی درو میں نازل ہوئی، جب کہ آخری آیت میں جہاد اور زکوۃ کا ذکر ہے جو مدینہ میں فرض ہوئے، اس لئے اس کے اول و آخر میں دس سال کی مدت کا فاصلہ ہی ہونا چاہیے۔ حالانکہ یہ بات ہی غلط ہے کہ مکی سورتوں میں جہاد یا زکوۃ کا ذکر نہیں، اگرچہ یہ عملاً جہاد مدینہ میں ش رع ہوا اور زکوۃ کا نصاب وغیرہ مدینہ میں مقرر ہوا مگر مکی سورتوں میں جہاد کا ذکر بھی ہے اور زکوۃ کا بھی۔ مزید دیکھیے اسی آیت کا فائدہ (7) اور (8)۔
(2) رسول اللہ ﷺ ایک سال تک تقریباً دو تہائی رات یا نصف یا ثلث قیام کرتے رہے اور صحابہ کی ایک جماعت بھی آپ کے اتباع میں اتنا قیام کرتی رہی، گھڑیاں موجود نہیں تھیں، اسی خیال سے کہ حکم کی تعمیل میں کوتاہی نہ ہوجائے زیادہ سے زیادہ قیام کی کوشش کرتے مگر رات کے نصف یا ثلث کا صحیح اندازہ ان کے بس کی بات نہیں تھی، اس لئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جو دن رات کا خلاق ہے اور جسے دن رات کا خوب اندازہ ہے کہ رات کبھی لمبی ہوتی ہے کبھی چھوٹی، کبھی گرمی میں آتی ہے کبھی سردی میں، وہ خوب جانتا ہے کہ تم ہمیشہ یہ عمل ہرگز نہیں کرسکو گے، اس لئے اس نے مہربانی فرما کر آسانی فرما دی، اب جتنا آسانی سے قیام کرسکتے ہو کرو۔
(3) جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ عنہماہرگز یہ طاقت نہیں رکھتے کہ ہمیشہ رات کا دوثلث یا نصف یا ثلث قیام کرسکیں تو پھر بعض بزرگوں کے متعلق جو ح کیا ات بیان کی جاتی ہیں کہ انہوں نے چالیس (40) سال تک عشاء اورف جر کی نماز ایک وضو سے پڑھی، ان کے متعلق غور کرنا چاہیے کہ جس کام کی طاقت رسول اللہ ﷺ اور صحابہ میں بھی ہرگز نہیں وہ ان لوگوں میں کیسے آگئی ؟ پھر رسول اللہ ﷺ تو رات کو گیارہ یا تیرہ رکعات پڑھتے تھے، مگر ان بزرگوں کا کمال بیان کیا جاتا ہے کہ وہ ہر رات ہزار ہزار رکعات پڑھتے تھے۔ اب یا تو ان ح کیا ات کو جھوٹا ماننا پڑے گا یا ماننا پڑے گا کہ ان بزرگوں کی پوری کوشش تھی کہ ہر کام میں رسول اللہ ﷺ سے آگے بڑھ کردکھائیں۔
(4) فاقرء واما تیسر من القرآن :”ای فضلوا ماتیسرلکم من قیام اللیل“”یعنی رات کا قیام جتنا آسانی سے ہوسکتا ہے اتنی نمازپڑھو۔“ قرأت کا لفظ بول کر نماز مراد لی گی ہے، جیسا کہ اس کے دوسرے ارکان مثلاً قیام، رکوع اور سجدہ بول کر نماز مراد لی جاتی ہے۔ تو مطلب یہ کہ جتنا قیام آسانی سے کرس کتے ہو کرو۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ ”جتنا قرآن آسانی سے پڑھ سکو پڑھ لو“ کا مطلب یہ ہے کہ نماز میں ضروری نہیں کہ سورة فاتحہ ہی پڑھی جائے، آسانی سے جو آیت بھی پڑھ سکتا ہے پڑھ لے ، نماز ہوجائے گی، مگر ی ہ بات درست نہیں۔ یہاں یہ ذکر ہی نہیں کہ نماز میں آسانی سے جتنا قرآن پ ڑھ سکو پڑھ لو، بلکہ آیت کے سیاق سے صاف ظاہر ہے کہ ”من القرآن“ سے مراد رات کا قیام ہے یعنی تم اتنا لمبا قیام نہیں کرسکتے تو آساین سے جتنا قیام کرسکتے ہو کرلو۔ نماز کے متعلق جز بول کر کل مراد لینا عام ہے۔ مثلاً قیام ، رکوع، سجدہ سب نماز کے اجزاء ہیں، مگر ان میں سے ہر لفظ بول کر پوری نماز مرادل ی جاتی ہے۔”فاقرء واما تیسر من القرآن“ میں بھی قرآن بول کر نماز مراد لی گئی ہے۔ صاحب رح المعانی آلوسی حنفی لکھتے ہیں :”ای فضلوا ما تیسرلکم من قیام اللیل غیر عن الصلاۃ بالقراء ۃ کما عبر عنھا بسائر ارکانھا“”یعنی تم جتنا آساین سے رات کا قیام کرسکتے ہو کرو، یہاں قرأت بول کر نماز مراد لی گئی ہے، جس طرح باقی ارکان نماز بول کر نماز مراد لی جاتی ہے۔“ اگر صرف الفاظ کو لیا جائے تو یہ معنی ہوگا کہ تم اتنے لمبے قیام کی طاقت ہرگز نہیں رکھتے، اب جتنا قرآن آساین سے پڑھ سکتے ہو، خواہ نماز میں یا نماز کے بغیر، اتنا ہی رات کو پڑھ لیا کرو۔ صاحب روح المعانی نے اس معنی کی طرف بھی اشارہ کیا ہے، مگر پہلا معنی ہی زیادہ درست ہے۔
رہ گئی یہ بات کہی کہ وہ بھی آیت پڑھ لیں تو نماز ہوجاتی ہے، رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان کے بعد اس کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہ جاتی جو عبادہ بن صامت ؓ سے صحیحین میں اور تقریباً حدیث کی ہر کتاب میں موجود ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(لا صلاۃ لمن لم یقرا بفاتحۃ الکتاب) (بخاری، الاذان، باب و جوب الفراء ۃ …: 856۔ مسلم : 393)”جو شخص سورة فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز ہی نہیں ہے۔“ ہاں ، اگر کسی شخص کو سورة فاتحہ بھی یاد نہیں تو وہ ”سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ولا حول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم“ پڑھتا رہے اور رکوع میں چلا جائے۔ (دیکھیے ابو داؤد، الصلاۃ باب ما یجزی الامی …: 832 وحسنہ الانبانی)
(5) علم ان سیکون منکم مرضی …: قیام اللیل میں تخفیف کی وجہ پہلے یہ بیان فرمایء تھی کہ رتا کے دو ثلث ، نصف یا ثلث کے اندازے کے ساتھ ہمیشہ اتنا لمبا قیام کرنا تمہاری طاقت سے باہر ہے، اس لئے جتنا قیام آسانی سے کرسکتے ہو کرو۔ اب طاقت سے باہر ہونے کی تین وجہیں بیان فرمائیں جو ہرش خص کو پیش آسکتی ہیں، پہلی وجہ بیماری ہے ، اس میں بڑھایا اور ہر قسم کی جسمانی معذوری شامل ہے۔ دوسری وجہ اللہ کا فضل یعنی رزق تلاش کرنے کے لئے سفر ہے، اس میں طلب علم، زیارت احباب اور دوسرے تمام جائز مقاصد کے لئے سفر شامل ہے۔ تیسری وجہ اللہ کی راہ میں لڑائی ہے، اس میں جنگ کے علاوہ اس کی تیاری اور پہرا سبھی کچھ شامل ہے۔ یہ اسباب بیان کرنے کے بعد دوبارہ فرمایا :(فاقراء و اما تیسر منہ) یعنی ان عذروں کی وجہ سے جتنا قیام آسانی سے کرسکو کرو۔
(6) تیسر منہ“ کی تعیین میں وہ حدیث بہت مناسب معلوم ہوتی ہے جو عبداللہ بن عمرو ؓ عنہمانے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا :(من فام بعشر آیات لم یکتب من الغافلین ومن قام بمائۃ آیۃ کتب من القانتین و من قام بالف آیۃ کتب من المقنطرین) (ابو داؤد، تفریح ابواب شھر رمضان، باب تخریب (القرآن) 1398 وصحہ الالبانی)”جو شخص دس آیات کے ساتھ قیام کرے وہ غافلوں سے نہیں لکھا جاتا، جو سو آیات کے ساتھ قیام کرے وہ قانتین (عبادت گز اورں) میں لکھا جاتا ہے اور جو ہزار آیات کے ساتھ قیام کرے وہ بڑے خزانے والوں میں لکھا جاتا ہے۔“ اس آیت اور حدیث سے تخفیف کے باوجود کم از کم دس آیات کے ساتھ قیام اللیل کی تاکید صاف ظاہر ہو رہی ہے۔
(7) ”واخرون یقاتلون فی سبیل اللہ“ (اور کچھ دوسرے لوگ اللہ کی راہ میں لڑائی کر رہے ہوں گے) کے متعلق حافظ ابن کثیر ؒ نے فرمایا کہ اس میں بنی ﷺ کی نبوت کی ایک بہت بڑی دلیل ہے، کیونکہ یہ آیت بلکہ ساری سورت مکہ میں اتری جب کہ جہاد شروع نہیں ہوا تھا، اس وقت یہ پیش گوئی غیب کی ایک خبر ہے جو ایک نبی ہی کے ذریعے سے دی جاتی ہے۔
(8) ”واقیموا الصلوۃ و اتوا الزکوۃ“ سے معلوم ہوا کہ زکوۃ مکہ میں فرض ہوچکی تھی، اگرچہ مختف چیزوں کے نصاب کی تعیین مدینہمیں جا کر ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ قیام اللیل جتنا آساین سے ہو سکے کرو، مگر فرض نماز اور زکوۃ کی ادائیگی میں کوتاہی ہرگز نہ کرو۔
(9) واقرضوا اللہ قرضاً حسناً …: زکوۃ کے بعد قرض حسنہ سے مراد نفلی صدقات ہیں، پھر زکوۃ ہو یا نفلی صدقات یا خیر کا کوئی بھی عمل وہ قیامت کے دن دس گناہ سے لے کر سات سو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ کی صورت میں واپس ملیں گے۔
10۔ واتغفر واللہ : یعنی کوئی بھی عمل ہو اس کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو، عمل پر پھول مت جاؤ۔ سورة ذاریات میں متقین کے متعلق فرمایا :(کانوا قلیلاً من الیل مایھجعون، وبالاسحارھم یستغفرون) (الذاریات : 18، 18) ”وہ رات کو بہت کم سوتے تھے اور سحریوں کے وقت استغفار کرتے تھے۔“ ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز سے سلام پھیرتے تو تین دفعہ استغفار کرتے۔ (مسلم، المساجد و مواضع الصلاۃ ، باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ و بیان صفتہ : 591)