72. Surah Al-Jinn

الجنThe Jinn · 28 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayahs 72:1–2

قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْۤا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًاۙ Open ayah 72:1 in the Quran reader

کہہ دے میری طرف وحی کی گئی ہے کہ بیشک جنوں کی ایک جماعت نے کان لگا کر سنا تو انھوں نے کہا کہ بلاشبہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے۔

یَّهْدِیْۤ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ١ؕ وَ لَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:2 in the Quran reader

جو سیدھی راہ کی طرف لے جاتا ہے تو ہم اس پر ایمان لے آئے اور (اب) ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو کبھی شریک نہیں کرینگے۔

(1) قل اوحی الی انہ استمع…: اس آیت سے معلوم ہوا کہ جنوں کا قرآن سن کر ایمان لانا اور ان کی آپ س کی ساری گفتگو رسول اللہ ﷺ کو وحی کے ذریعے سے معلوم ہوئی۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں :(ماقراء رسول اللہ ﷺ علی الجن و ما راھم) (مسلم، الصلاۃ ، باب الجھر بالقراء ۃ فی الصبح …: 339)”رسول اللہ ﷺ نے نہ جنوں کے سامنے قرآن پڑھا اور نہ انہیں دیکھا (وہ تو آپ کے پاس اقت آئے جب آپ نخلہ میں تھے اور انہوں نے اس موقع پر قرآن سنا۔“ ہاں، اس کے بعد کئی دفعہ آپ ﷺ کی جنوں سے ملاقات ہوئی اور آپ نے انہیں قرآن سنایم اور پڑھایا، جیسا کہ صحیح مسلم میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے ، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ صحابہ سے غائب رہے، صحابہ نے وہ رات سخت پریشانی میں گزاری، تلاش کرتے کرتے وہ آپ سے اس وقت ملے جب آپ حرا کی طرف سے آرہے تھے۔ پوچھنے پر آپ ﷺ نے بتایا :(اتانی داعی الجن فذھبت معہ فقرات علیھم القرآن)”میرے پاس جنوں کا دعوت دینے والا آیا تھا، چناچہ میں اس کیساتھ گیا اور انہیں قرآن پڑھ کر سنایا۔“ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں : پھر آپ ہمیں لے گئے اور ہمیں ان کے نشان اور ان کی آگوں کے نشان دکھائے۔“ (مسلم، الصلاۃ ، باب الجھر بالقراء ۃ فی تصحیح…: 350) اسی طرح ایک دفعہ آپ نے جنوں کے سامنے سورة رحمان پڑھی اور وہ (فبای آلاء ربکما تکذبن) تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے) پر جواب دیتے رہے :(لا بشیء من یعمک ربنا ت کذب فلک الحمد) (ترمذی، التفسیر، باب ومن سورة الرحمن : 3291، وقال الانباتی صحیح)”ہم تیری کسی بھی نعمت کو نہیں جھٹلاتے اے ہمارے رب ! اور تیرے ہی لئے سب تعریف ہے۔“ (2) ان آیات میں کفار قریش کو شرم دلائی گئی ہے کہ دیکھو اتنی مدت تک سننے کے باوجود تم پر قرآن کا کچھ اثر نہیں ہوا، نہ تم شرک کی نجاست سے پاک ہو سکے، جب کہ یہ اتنی اعلیٰ ، موثر اور عجیب کتاب ہے کہ جنوں کی اس جماعت نے اسے سنتے ہی ایمان قبول کرلیا اور ہمیشہ کے لئے شرک چھوڑنے کا اعلانا کردیا، حالانکہ جنوں کی سرکشی مشہور و معروف ہے۔ (3) یہ بھی معلوم ہوا کہ جن وہ زبانیں جانتے ہیں جو انسانوں میں بولی جای ہیں، کم از کم وہ جن تو عربی زبان کی فصاحت و بلاغت کی باریکیوں تک کو اتنا سمجھتے تھے کہ انہوں نے قرآن کو عجیب قرار دیا اور فوراً اس پر ایمان لے آئے۔ (4) جن بھی انسانوں کی طرح شریعت کے مخطاب ہیں اور ان کے رسول بھی وہی ہیں جو انسانوں کے ہیں۔ قرآن مجید یا حدیث میں جنوں میں سے کسی پیغمبر کا ذکر نہیں آیا، اس کے برعکس زیر تفسیر سورت میں صاف ذکر ہے کہ جن قرآن پر ایمان لائے اور سورة احقاف میں ہے کہ انہوں نے کہا، ہم نے ایک ایسی کتاب سنی جو موسیٰ ؑ کے بعد نازل کی گئی ہے۔ (دیکھیے احقاف : ژ 3) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ موسیٰ ؑ کو اپنا رسول مانتے تھے۔ سورة رحمان کی تمام آیات، رسول اللہ ﷺ کا جنوں کے سامنے انہیں پڑھنا اور ان کا جواب دینا بھی اس بات کی دلیل ہے۔ سورة انبیاء (7، 8) سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔ (5) جنوں میں شرک کرنے والے بھی موجود ہیں، جیسا کہ یہ جن مشرک تھے اور انہوں نے قرآن مجید سننے کے بعد شرک چھوڑا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت رسول اللہ ﷺ ایسی آیت ا پڑھ رہ تھے جس سے انہیں شرک کی خرابی معلوم ہوئی۔
Ayah 72:3

وَّ اَنَّهٗ تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّ لَا وَلَدًاۙ Open ayah 72:3 in the Quran reader

اور یہ کہ بلاشبہ بات یہ ہے کہ ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے، اس نے نہ کوئی بیوی بنائی ہے اور نہ کوئی اولاد۔

وانہ تعلی جدربنا…:”اور یہ کہ ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے ”یعنی ہم اس پر بھی ایمان لے ائٓے کہ ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے۔ یہ جن تثلیث کو ماننے والے نصراین تھے یا کسی ایسے مذہب کو ماننے والے تھے جس میں اللہ تعالیٰ کی بیوی اور اولاد مانی جاتی ہے۔ اب انہیں معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی شان تو اس سے بہت بلند ہے کہ اس کی بیوی ہو یا اولاد ہو۔ بیوی ماننے سے وہ بلند شان والا نہیں بلکہ محتاج ٹھہرتا ہے، کیونکہ خاوند شہوت کے ہاتھوں اس کا محتاج ہوتا ہے اور اولاد بھی اسی شہوت کا نتیجہ ہے جو اسے بیوی کے پاس جانے پر مجبور کرتی ہے، تو پھر شان کیا بلند رہی۔ (طبری)
Ayah 72:4

وَّ اَنَّهٗ كَانَ یَقُوْلُ سَفِیْهُنَا عَلَى اللّٰهِ شَطَطًاۙ Open ayah 72:4 in the Quran reader

اور یہ کہ بلاشبہ بات یہ ہے کہ ہمارا بیوقوف اللہ پر زیادتی کی بات کہتا تھا۔

وانہ کان یقول سفیھنا :”سفیھنا“ (ہمارا بیوقوف) سے مراد ایک فرد بھی ہوسکتا ہے اور ایک گروہ بھی۔ فرد ہو تو ابلیس یا ان جنوں کا سردار مراد ہے۔ گروہ ہو تو مطلبب یہ ہے کہ ہم میں سے کئی بیوقوف اور احمق لوگ اللہ تعالیٰ پر ایسی زیادتی کی باتیں تھوپا کرتے تھے کہ اس کا کوئی شریک ہے یا اس کی اولاد اور بیوی ہے۔
Ayah 72:5

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاۙ Open ayah 72:5 in the Quran reader

اور یہ کہ بیشک ہم نے گمان کیا کہ بیشک انسان اور جن اللہ پر ہرگز کوئی جھوٹ نہیں بولیں گے۔

وانا ظننا ان لن تقول الانس والجن…: یعنی ہم یہی سمجھتے تھے کہ انسان اور جن کم از کم اللہ پر تو ہرگز جھوٹ نہیں باندھ سکتے، اسلئے ہم نے ان سے سن کر مان لیا کہ اللہ کے کچھ شریک ہیں اور اس کی اولاد اور بیوی بھی ہے۔ اب معلوم ہوا کہ یہ ظالم جھوٹے تھے۔
Ayah 72:6

وَّ اَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًاۙ Open ayah 72:6 in the Quran reader

اور یہ کہ بلاشبہ بات یہ ہے کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے بعض لوگوں کی پناہ پکڑتے تھے تو انھوں نے ان (جنوں) کو سرکشی میں زیادہ کردیا۔

وانہ کان رجال من الانس…: عرب کے بعض مشرک جب کسی خوفناک جگہ یعنی جنگل وغیرہ میں جاتے تو کہتے کہ ہم اس علاقے میں جو جنوں کا سردار ہے اس کی پناہ میں آتے ہی۔ اس سے جنوں ک سرکشی اور بڑھ گی، کیونکہ وہ جان گئے کہ انسان ہم سے ڈرتے ہیں، اس لئے انہوں نے اپنے ماننے والوں کو اور زیادہ ڈرانا شروع کردیا۔ معلوم ہوا آدمی کو نہ جنوں سے ڈرنا چاہیے نہ ان کی پناہ مانگنی چاہیے اور نہ کسی غیر اللہ کی دہائی دینی چاہیے، کیونکہ یہ شرک ہے، بلکہ صرف اور صرف اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔ کسی بھی چیز کے شر سے پناہم انگنے کے لئے قرآن مجید کی آخری دو سوتروں جیسی کوئی چیز نہیں مزید وضاحت کے لئے ان دو سورتوں کی تفسیر دیکھیں۔ خولہ بنت حکیم ؓ عنہمانے فرمایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرما رہے تھے :(اذا نزل اخذ کم منزلاً فلیقل اعوذ بکلمات اللہ التامات من شرما خلق، فانہ لا یضرہ شیء حتی برتحمل منہ) (مسلم، الذکر والدعا، باب فی التعوذ من سوء القضاء …: 55/2808)”جب تم میں سے کوئی شخص کسی منزل میں اترے تو اسے یہ کلمات کہنے چاہئیں، تو اسے وہاں سے کوچ کرنے تک کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی :(اعوذ بکلمات اللہ التامات من شر ماخلق)”میں اللہ کے کامل کلمات کی پناہ پکڑتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی۔“
Ayah 72:7

وَّ اَنَّهُمْ ظَنُّوْا كَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ اَحَدًاۙ Open ayah 72:7 in the Quran reader

اور یہ کہ بیشک ان (انسانوں) نے گمان کیا جس طرح تم نے گمان کیا کہ اللہ کسی کو کبھی نہیں اٹھائے گا۔

وانھم ظنوا کما ظننتم …: جن اپنی قوم کے لوگوں کو کافر انسانوں کے متعق بتا رہے ہیں کہ شرک کے علاوہ ان انسانوں کا عقیدہ تمہاری طرح یہ بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ کسی کو قیامت کے دن دوبارہ نہیں اٹھائے گا۔ یہ معین بھی ہوسکتا ہے کہ ان کا عقیدہ یہ بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ کسی کو (نبی بنا کر) نہیں بھیجے گا۔ کفار میں ہمیشہ ، خواہ وہ انسان ہوں یا جن، توحید، آخرت اور رسالت تینوں کا انکار پایا جاتا رہا ہے۔
Ayahs 72:8–9

وَّ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّ شُهُبًاۙ Open ayah 72:8 in the Quran reader

اور یہ کہ بیشک ہم نے آسمان کو ہاتھ لگایا تو ہم نے اسے اس حال میں پایا کہ وہ سخت پہرے اور چمکدار شعلوں سے بھر دیا گیا ہے۔

وَّ اَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ١ؕ فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًاۙ Open ayah 72:9 in the Quran reader

اور یہ کہ بیشک ہم اس کی کئی جگہوں میں سننے کے لیے بیٹھا کرتے تھے تو جو اب کان لگاتا ہے وہ اپنے لیے ایک چمکدار شعلہ گھات میں لگا ہوا پاتا ہے۔

(1) وانا لمسنا السمآء فوجدنھا ملئت …: اللہ تعالیٰ نے ستاروں کو آسمان کی زینت کے علاوہ ان شیاطین سے حفاظت کا ذریعہ بھی بنایا ہے جو آسمان کے قریب جا کر فرشتوں کی باتیں سننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کو ہٹانے کے لئے ہر طرف سے ان پر شہابوں (انگ اورں) کی بارش ہوتی ہے۔ (دیکھیے صافات : 6 تا 10) عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ان الملائکۃ تنزل فی العنان وھو السحاب فتذکر الا مر قضی فی السماء فتسترق الشیاطین السمع فتسمعہ فتوحیہ الی الکھان ، فیکذبون معھا مائۃ کذبۃ من عندانفسھم) (بخاری، بدء الخق ، باب ذکر المائکۃ صولات اللہ علیھم : 3210)”فرشتے عنان یعنی بادل میں اترتے ہیں اور (آپس میں) اس بات کا ذکر کرتے ہیں جس کا آسمان میں فیصلہ کیا گیا ہوتا ہے، تو شیطان چوری سے وہ بات سننے کی کوشش کرتے ہیں اور اسے سن لیتے ہیں، پھر وہ یہ بات کاہنوں کو چپکے سے پہنچا دیتے ہیں، پھر کاہن اس میں اپنی طرف سے سو جھوٹ ملا دیتے ہیں۔“ (2) ملئت حرساً شدیداً و شھباً : رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے بھی عالم بالا کی حفاظت کا اتنظام تھا، مگر جن کوئی نہ کوئی بات سن لیتے تھے اور انہیں بالائی فضا میں چھپ کر بیٹھنے کی بھی کوئی نہ کوئی جگہ مل جاتی تھی، اب (آپ ﷺ کی بعثت کے بعد) جب وہ سننے کے لئے اوپر گئے تو ساری بالائی فضا سخت پہرے اور مسلسل شہابوں کی بارش سے بھری ہوئی تھی۔ ”ملئت“ سے معلوم ہو رہا ہے کہ اب پہرے کا نظام پہلے سے بہت سخت ہوگیا تھا۔ اس سے انہیں پریشانی ہوئی اور وہ تلاش میں نکلے کہ اس بندوبست کا باعث ہے ؟ جیسا کہ اس سورت کی شان نزول میں گزر چکا ہے۔ (3) قرآن مجید کی بہت سی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جن انسانوں سے الگ مخلوق ہیں جو مٹی سے نہیں بلکہ آگ سے پیدا کئے گئے ہیں اور جو انسان کی پیدائش سے پہلے موجود تھے۔ جن آسمان کے قریب جاسکتے ہیں اور بعض اوقات عالم بالا کی ایک آدھ بات چرا سکتے ہیں، انہیں انسانوں ہی میں سے سرکش قوم یا چھپے ہوئے جراثیم قرار دے کر ان کا انکار کردینا قرآن و حدیث کا انکار ہے۔ کسی چیز کے انکار کی یہ بنیاد کہ اگر وہ موجود ہوتی تو نظر آتی، بےحد کمزور بنیاد ہے۔ مزید دیکھیے سورة اعراف (27، 38) ، ہود (119) ، حم سجدہ (25، 29) اور سورة احقاف (18، 29، 32)۔ آدم اور ابلیس کا قصہ جو قرآن مجید میں سات مقامات پر بیان ہوا ہے اور سورة رحمان پوری اس بات کی شاہد ہے کہ جن اور انسان الگ الگ مخلوق ہیں۔
Ayah 72:10

وَّ اَنَّا لَا نَدْرِیْۤ اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًاۙ Open ayah 72:10 in the Quran reader

اور یہ کہ بیشک ہم نہیں جانتے کیا ان لوگوں کے ساتھ جو زمین میں ہیں، کسی برائی کا ارادہ کیا گیا ہے، یا ان کے رب نے ان کے ساتھ کسی بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے۔

(وانا لاندری اشرارید…: اتنے سخت پہرے دیکھ کر جنوں نے سمجھ لیا کہ دو باتوں میں سے ایک ضرور ہے، یا تو اہل زمین کے ساتھ شرکا کا ارادہ کیا گیا ہے، یعنی کسی قوم پر اچانک عذاب آنے کا فیصلہ ہوچکا ہے اور خبروں پر پہرا الگ گیا ہے، تاکہ اس قوم کو وقت سے پہلے اطلاع نہ ہوجائے، یا اللہ تعالیٰ نے ان کی بھلائی اور ہدایت کار ارادہ کیا ہے، یعنی کوئی رسول مبعوث ہوا ہے جس کی طرف بھیجی جانے والی وحی کی حفاظت کے لئے یہ انتظام کیا یا ہے، تاکہ شیطان نہ اس میں کوئی دخل دے سکیں اور نہ پہلے معلوم کرسکیں کہ پیغمبر کی طرف کیا وحی کی جا رہی ہے۔ جب وہ اس جستجو کے لئے نکلے کہ ان دو باتوں میں سے کون سی بات حق ہے تو انہیں رسول اللہ ﷺ کو قرآن پڑھتے ہوئے سن کر معلوم ہوگیا کہ یہ بہ بندوبست اسی رسول کی وجہ سے ہے۔ اس آیت میں جنوں کے اس گروہ کا حسن ادب ملاحظہ ہو کہ ارادہ رشد کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی ہے اور ارادہ شر کی نسبت اس کی طرف نہیں کی۔
Ayah 72:11

وَّ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَ١ؕ كُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًاۙ Open ayah 72:11 in the Quran reader

اور یہ کہ بیشک ہم میں سے کچھ نیک ہیں اور ہم میں کچھ اس کے علاوہ ہیں، ہم مختلف گروہ چلے آئے ہیں۔

(وانا منا الصلحون و منا دون ذلک …:”طرآئق“ ”طریقہ“ کی جمع اور ”قدداً“ ”قدۃ“ بروز (قطعۃ) کی جمع ہے، ٹکڑے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جنوں میں صالح اور غیر صالح ہر قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں اور اس کے برعکس بھی، ان میں موجودبھی ہیں اور مشرک بھی، متبع سنت بھی ہیں اور بدعتی بھی، خوش اخلاق بھی ہیں اور بد اخلاق بھی، وہ بھی ہیں جو آسمان سے کوئی خبر سن کر اس میں سو جھوٹ ملاتے ہیں اور وہ بھی ہیں جو ایسا نہیں کرتے۔ مومن جنوں کا اپنی قوم کے لوگوں کو یہ بات کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم سب کے سب راہ راست پر نہیں بلکہ ہم میں بھی غیر صالح لوگ موجود ہیں، جنہیں حق بات سمجھانا اور ان کا اسے قبول کرنا ضروری ہے۔
Ayahs 72:12–13

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَ اللّٰهَ فِی الْاَرْضِ وَ لَنْ نُّعْجِزَهٗ هَرَبًاۙ Open ayah 72:12 in the Quran reader

اور یہ کہ بیشک ہم نے یقین کرلیا کہ بیشک ہم کبھی اللہ کو زمین میں عاجز نہیں کرسکیں گے اور نہ ہی بھاگ کر کبھی اسے عاجز کرسکیں گے۔

وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰۤى اٰمَنَّا بِهٖ١ؕ فَمَنْ یُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًاۙ Open ayah 72:13 in the Quran reader

اور یہ کہ بیشک ہم نے جب ہدایت سن لی، ہم اس پر ایمان لے آئے، پھر جو کوئی اپنے رب پر ایمان لائے گا تو وہ نہ کسی نقصان سے ڈرے گا نہ کسی زیادتی سے۔

(وانا ظننا ان لن نعجز اللہ …: مشرک قومیں جنوں کو خدائی اختیارات کا مالک سمجھتی ہیں اور انہیں غیب دان جانتی ہیں مگر ج ن خود اقرار کر رہے ہیں کہ ہم نے سمجھ لیا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں پکڑنا چاہے تو نہ ہم زمین میں کہیں چھپ کر اسے عاجز کرسکتے ہیں کہ وہ ہمیں پکڑ نہ سکے اور نہ کہیں بھاگ کر، غرض پھر کسی صورت ہم اس سے بچ نہیں سکتے۔ اللہ تعالیٰ کے سانے بالکل بےبس ہونے کے اسی عقیدے کا نتیجہ ہے کہ جونہی ہم نے ہدایت کی بات سنی تو فوراً ایمان لے آئے۔”بخساً ولا رھقاً“ نقصان یہ کہ جو نیکیاں کی ہیں ان میں کمی کردی جائے اور زیادہ یہ کہ جو گناہ نہیں کئے وہ تھوپ دیئے جائیں۔ ان آیات میں بھی مومن جن اپنے بھائیوں کو نصیحت کر رے ہیں کہ جس ذات عالی سے نہ بھاگ سکتے ہو اور نہ چھپ سکتے ہو اس پر ایمان لے آؤ اسی میں تمہاری خیریت ہے، پھر وہ ایسا مہربان ہے کہ جو اس پر ایمان لے آئے اسے نہ نقصان کا خوف ہے نہ زیادتی کا۔
Ayahs 72:14–15

وَّ اَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَ مِنَّا الْقٰسِطُوْنَ١ؕ فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓئِكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا Open ayah 72:14 in the Quran reader

اور یہ کہ بیشک ہم میں سے کچھ فرماں بردار ہیں اور ہم میں سے کچھ ظالم ہیں، پھر جو فرماں بردار ہوگیا تو وہی ہیں جنھوں نے سیدھے راستے کا قصد کیا۔

وَ اَمَّا الْقٰسِطُوْنَ فَكَانُوْا لِجَهَنَّمَ حَطَبًاۙ Open ayah 72:15 in the Quran reader

اور جو ظالم ہیں تو وہ جہنم کا ایندھن ہوں گے۔

(1) وانا منا السلمون ومنا القسطون…:”القسطون ‘ ظلم کرنے والے، راہ حق سے ہٹنے والے۔ ”قسط یقسط“ (ض) ”قسطا“ (قاف کے فتحہ کے ساتھ) ظلم کرنا، سیدھی راہ سے ہٹنا۔”القسط“ (قاف کے کسرہ کے ساتھ) انصاف۔ ”اقسط یقسط“ (افعال) انصاف کرنا۔ یعنی ہدایت سننے کے بعد ہم میں سے کچھ وہ ہیں جو تابع فرمان ہوگئے۔ یہ وہ ہیں جن کا ارادہ ہے کہ پوری کوشش کے ساتھ سیدھی راہ پر چلیں۔ ”تحری یتحری تحریاً“ قصد کرنا، کوشش کے ساتھ ظن سے یقین تک پہنچنا اور جو راہ حق سے ہٹے ہوئے ہیں وہ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ (2) یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جن آگ سے پیدا کئے گئے ہیں، وہ جہنم کا ایندھن کیسے بنیں گے ؟ جواب یہ ہے کہ جس طرح انسان مٹی سے بنا ہے مگر مٹی کا ڈھیلا مارا جائے تو اسے تکلیف ہوتی ہے اور ہر زندہ چیز پانی سے پیدا ہوئی ہے، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(3 جعلنا من المآء کل شیء حی) (الانبیائ : 30) (اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز بنائی) مگر یہی پانی اسے غرق کردیتا ہے۔ پانی آگ کو بجھا دیتا ہے، مگر یہی پانی جنوں کے لئے جو آ سے بنے ہیں نعمت ہے، جیسا کہ سورة رحمٰن کی آیات (16) میں آرہا ہے۔ اصل یہ ہے کہ آگ سے پیدا کئے جانے کے باوجود جنوں کی ایک الگ شکل و صورت ہے جو آگ سے متاثر ہوتی ہے، جس طرح گوشت پوست کا انسان مٹی سے پیدا ہونے کے باوجود مٹی سے الگ شکل و صورت رکھتا ہے۔ یہاں سے جنوں کی تقریر جو اللہ تعالیٰ نے نقل فرمائی ہے ختم ہوئی، آئندہ آیات میں دوبارہ اللہ تعالیٰ کا خطاب شروع ہوتا ہے۔
Ayah 72:16

وَّ اَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَى الطَّرِیْقَةِ لَاَسْقَیْنٰهُمْ مَّآءً غَدَقًاۙ Open ayah 72:16 in the Quran reader

اور (یہ وحی کی گئی ہے) کہ اگر وہ راستے پر سیدھے رہتے تو ہم انھیں ضرور بہت وافر پانی پلاتے۔

(وان لو استقاموا علی الطریقۃ…: اس کا عطف ”انہ استمع نفرمن الجن…“ پر ہے اور ”وان لو استقاموا“ کا اصل ”وانھم لو استقاموا“ ہے، یعنی کہہ دے میری طرف وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے قرآن سنا … اور میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ (یعنی قریش مکہ یا تمام بنی آدم اور جن) اصل راستے پر سیدھے چلتے رہتے تو ہم انہیں وافر پانی پلاتے۔”غقاً“ کا معنی کثیر ہے۔ وافرپانی سے مراد وافر رزق ہے، کیونکہ زمین سے حاصل ہونے والی تمام برزکات بارش ہی سے حاصل ہوتی ہیں۔ یہ وہی بات ہے جو اللہ تعالیٰ نے ایک اور مقام پر بیان فرمائی ہے :(ولو ان اھل القریٓ امنوا و اثقوا لفتحنا علیھم برکت من السمآء والارض) (الاعراف : 96) ’ اور اگر ان بستیوں والے ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکات کھول دیتے۔“ سورة نوح (10 تا 12) اور سورة مائدہ (66) میں بھی یہی بات بیان ہوئی ہے۔
Ayah 72:17

لِّنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهٖ یَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًاۙ Open ayah 72:17 in the Quran reader

تاکہ ہم اس میں ان کی آزمائش کریں اور جو کوئی اپنے رب کی یاد سے منہ موڑے گا وہ اسے سخت عذاب میں داخل کرے گا۔

(لنفتھم فیہ ومن یعرض …: یعنی پانی کی کثرت اور رزق کی فراوانی کا مقصد بھی ان کی آزمائش ہے کہ وہ خوش حالی میں اللہ کا شکر ادا کرتے اور اس کی توحید و اطاعت پر قائم رہتے ہیں یا بدمست ہو کر سرکشی پر اتر آتے ہیں۔ معلوم ہوا مصیبت کی طرح نعمت بھی اللہ یک طرف سے آزمائش ہے۔ سورة انبیاء (35) ، اعراف (168) اور سورة قلم (17 تا 20) میں بھی یہ مضمون بیان ہوا ہے۔”صعداً“”صعد یصعد“ (ع) کا مصدر ہے۔ لفظی معین چڑھائی ہے، مراد ایسا سخت عذاب ہے جو دم بدم بڑھتا ہی جائے گا۔
Ayah 72:18

وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًاۙ Open ayah 72:18 in the Quran reader

اور یہ کہ بلاشبہ مساجد اللہ کے لیے ہیں، پس اللہ کے ساتھ کسی کو مت پکارو۔

(وان المسجد للہ…:”المجسد“”مسجد“ کی جمع ہے، اس کا معنی سجدے بھی ہے (مصدر مسیحی) اور وہ جگہیں بھی جہاں سجدے کئے جاتے ہیں، یعنی مسجدیں اور وہ جگہیں یعنی اعضا بھی جن پر سجدہ ہوتا ہے، یعنی پیشانی، ہاتھ پاؤں اور گھٹنے (ان دونوں معنوں کی صورت میں یہ ظرف ہے)۔ مطلب یہ ہے کہ سب سجدے بھی اللہ کے لئے ہیں، مسجدیں بھی اور اعضائے سجدہ بھی، تو پھر پکارنا بھی صرف اسی کا حق ہے، اس کے ساتھ کسی دوسرے کو مت پکارو۔”المسجد“ کا لفظ اتنا عام ہے کہ اس سے مراد صرف وہی جگہیں نہیں جو عبادت کے لئے تعمیر کی گئی ہیں بلکہ اس میں زمین کا ہر قطعہ شامل ہے، کیونکہ اس امت کیلئے ساری زمین ہی مسجد ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کو پکارنا منع ہے۔ بعض لوگ جو مصیبت یا بیماری میں ”یا اللہ“ کے ساتھ ”یا رسول اللہ“ ،”یا علی“ ، ”یا حسین“ اور ”یا شیخ عبدالقادر“ وغیرہ کہتے اور ان کو مدد کیلئے پکارتے ہیں ان کا یہ فعل درست نہیں۔ غیر اللہ کو پکارنے کی ممانعت کے لئے ملاحظہ فرمائیں سورة یونس (106) ، رعد (14) ، نحل (20، 21) ، حج (62، 73، 74) ، مومنون (117) ، شعراء (213) ، قصص (88) ، سبا (22) ، فاطر (13، 14) اور سورة احقاف (5) اس کی وجہ یہ ہے کہ پکارنا ہی اصل عبادت ہے اور اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت جائز نہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(الدعاء ھو العبادۃ) ”پکارنا ہی عبادت ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی، (وقال ربکم ادعونی استجب لکم ان الذین یستکبرون عن عبادتی سیدخلون جھنم دخرین) (المومن : 60)”اور تمہارے رب نے فرمایا مجھے پکارو ، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ بیشک وہ لوگ جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔“ (ترمذی، تفسیر القرآن، باب ومن سورة المومن : 3238، وصححہ فی ابواب الدعوات، ما جاء فی فضل الدعائ)
Ayah 72:19

وَّ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ یَدْعُوْهُ كَادُوْا یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِ لِبَدًا٢ؕ۠ Open ayah 72:19 in the Quran reader

اور یہ کہ بلاشبہ بات یہ ہے کہ جب اللہ کا بندہ کھڑا ہوا، اسے پکارتا تھا تو وہ قریب تھے کہ اس پر تہ بہ تہ جمع ہوجائیں۔

(وانہ لما قام عبداللہ…:) مشرکین نہ صرف یہ کہ غیر اللہ کی عبادت کرتے تھے بلکہ ان کے لئے اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا اس قدر باعث تعجب اور تکلیف دہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لئے یا توحید کی دعوت کے لئے کھڑے ہوتے اور صرف ایک اللہ ہی کو پکارتے تو مشرکین اظہار تعجب کے لئے اور آپ کو پریشان کرنے کیلے گروہ در گروہ آپ کے اردگرد جمع ہوجاتے۔
Ayah 72:20

قُلْ اِنَّمَاۤ اَدْعُوْا رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 72:20 in the Quran reader

کہہ دے میں تو صرف اپنے رب کو پکارتا ہوں اور میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔

(قل انما ادعواربی…:) یعنی تمہیں جتنا بھی ناگوار ہو اور تم روکنے کے لئے جتنے بھی جمع ہوجاؤ، میں تو صرف اپنے رب ہی کو پکاروں گا، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کروں گا۔ ندائے غیر اللہ کی حرمت کی آیات کے لئے دیکھیں گزشتہ آیت (18) کی تفسیر۔
Ayah 72:21

قُلْ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا Open ayah 72:21 in the Quran reader

کہہ دے بلاشبہ میں تمہارے لیے نہ کوئی نقصان پہنچانے کا اختیار رکھتا ہوں اور نہ کسی بھلائی کا۔

(قل انی لا املک لکم…: اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو صاف اعلان کرنے کا حکم دیا کہ آپ ﷺ دوسروں کے لئے نہ نفع کے مالک ہیں نہ نقصان کے اور نہ ہی ہدایت اور گمراہی کا اختیار رکھتے ہیں۔ ”ضراً“ کے مقابلے میں ”نفعاً“ اور ”رشداً“ کے مقابلے میں ”غیاً“ حذف کردیا ہے، کیونکہ وہ الفاظ خود بخود معلوم ہو رہے ہیں۔ ایک اور مقام پر یہ اعلان کرنے کا حکم دیا کہ آپ ﷺ خود اپنے نفع یا نقصان کا بھی اختیار نہیں رکھتے۔ (دیکھیے اعراف : 188) اور کئی مقامات پر واضح فرمایا کہ اللہ کے علاوہ جن لوگوں کو ب ھی پکارا جاتا ہے وہ ذرہ برابر چیز کا بھی اختیار نہیں رکھتے (مثلاً دیکھیے سبا : 22۔ فاطر : 3 ۃ) اتنی صراحت کے بعد بھی کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کو یا دوسرے انبیاء و اولیاء کو اپنے نفع و نقصان کا مالم سمجھے تو اسے خود ہی سوچنا چاہیے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی اور اس کے فرمان کی کیا قدر کی۔
Ayah 72:22

قُلْ اِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ١ۙ۬ وَّ لَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًاۙ Open ayah 72:22 in the Quran reader

کہہ دے یقینا میں، مجھے اللہ سے کوئی بھی کبھی پناہ نہیں دے گا اور میں اس کے سوا کبھی پناہ کی کوئی جگہ نہیں پاؤں گا۔

(قل ان لن یجیرنی من اللہ احد ”یعنی آپ انہیں کہہ دیں کہ اگر میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو پکاروں یا اس کی نافرمانی کروں تو اللہ کی گرفت سے مجھے کوئی نہیں بچا سکے گا اور نہ مجھے اس کے علاوہ کوئی جاجئے پناہ مل سکے گی ، تو تم اس کی گرت سے کیسے بچ سکو گے اور کس کی پناہ میں جاؤ گے ؟
Ayah 72:23

اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِسٰلٰتِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ Open ayah 72:23 in the Quran reader

مگر (میں تو صرف) اللہ کے احکام پہنچانے اور اس کے پیغامات کا (اختیار رکھتا ہوں) اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا تو یقینا اسی کے لیے جہنم کی آگ ہے، ہمیشہ اس میں رہنے والے ہیں ہمیشہ۔

(الا بلغاً من اللہ و رسلتہ…: یہ ”لا املک لکم ضراً ولا رشدا“ ے استثنا ہے اور درمیان والی آیت پہلی آیت ہی کی مزید وضاحت ہے، یعنی میں تو صرف اللہ کے احکام پہنچانے کا اور اس کے پیغام کا اختیار رکھتا ہوں، میرا کام بس اتنا ہی ہے، پیغام پہنچ جانے کے بعد جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اس کے لئے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ نافرمانی سے مراد اس جگہ اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان نہ لانا ہے، کیونکہ پچھلی آیات میں یہی مضمون آرہا ہے۔ ابدی جہنمی صرف کفار ہیں، یہ مطلب نہیں کہ ہر گناہ اور نافرمانی کی سزا ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہنا ہے۔
Ayah 72:24

حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا Open ayah 72:24 in the Quran reader

(یہ اسی طرح غفلت میں رہیں گے) یہاں تک کہ جب وہ چیز دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو ضرور جان لیں گے کہ کون ہے جو مددگار کے اعتبار سے زیادہ کمزور ہے اور جو تعداد میں زیادہ کم ہے ؟

(حتی اذا راواما یوعدون…: یعنی کفار اپنی تعداد کی کثرت اور اپنے مددگ اورں کی قوت پر فخر اور مسلمانوں کی قلت تعداد اور کمزوری پر طعن کرتے ہیں تو کرتے رہیں، یہ سب کچھ تھوڑے وقت کے لئے ہے، یہاں تک کہ جب یہ لوگ وہ چیز (اپنی آنکھوں سے) دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو اس وقت انہیں معلوم ہوگا کہ مددگ اورں کے لحاظ سے کمزور اور تعداد میں کم کون ہے ؟ وہ چیز جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے اس سے مراد اسلام کا غلبہ اور کفار ک شکست بھی ہے، جیسا کہ بدر، خندق، فتح مکہ اور حنین بھی انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا، کفار پر خوف اور قحط کا مسل ہونا بھی ہے اور مرتے وقت فرشتوں کا ان کے مونہوں اور پیٹھوں پر مارنا بھی، قبر کا عذاب بھی ہے، قیامت کی ہولناکی اور جہنم کی آگ بھی۔ درجہ بدرجہ یہ سب کچھ دیکھتے جانے کے ساتھ ہی ان پر اپنی تعداد کی کثرت اور حمایتیوں کی قوت کی حقیقت کھلتی جائے گی۔
Ayahs 72:25–26

قُلْ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ یَجْعَلُ لَهٗ رَبِّیْۤ اَمَدًا Open ayah 72:25 in the Quran reader

کہہ دے میں نہیں جانتا آیا وہ چیز قریب ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے، یا میرا رب اس کے لیے کچھ مدت رکھے گا۔

عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:26 in the Quran reader

(وہ) غیب کو جاننے والا ہے، پس اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔

قل ان ادری اقریب …) یعنی یہ جاننا کہ کل کیا ہوگا اور قیامت کب آئے گی غیب میں شامل ہے اور غیب جاننے والا صرف اور صرف میرا رب ہے، چناچہ دوسری جگہ فرمایا :(ان الہ عندہ علم الساعۃ وینزل الغیث ویعلم ما فی الارحام وما تدری نفس ماذا تکسب غداً وما تدری نفس بای ارض تموت ان اللہ علیم خبیر) (لقمان، 33)”بیشک اللہ ہی ہے جس کے پاس قیامت کا علم ہے اور وہی بارش برساتا ہے اور وہی جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹوں میں ہے اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائی کرے گا اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ کس زمین میں مرے گا، بیشک اللہ سب کچھ جاننے والا، پوری خبر رکھنے والا ہے۔“
Ayah 72:27

اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ Open ayah 72:27 in the Quran reader

مگر کوئی رسول، جسے وہ پسند کرلے تو بیشک وہ اس کے آگے اور اس کے پیچھے پہرا لگا دیتا ہے۔

(الا من ارتضی من رسول …:”اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا“ لیکن اگر وہ اپنے غیب کی کوئی بات بتانا چاہے تو ہر ایک کو نہیں بتاتا بلکہ صرف اسی کو بتاتا ہے جسے وہ رسول کے طور پر پسند کرلے۔”رسول“ کا معنی ہے وہ شخص جسے پیغام پہنچانے کیلئے بھیجا گیا ہو، یعنی وہ غیب کی بات کسی کو عالم الغیب بنانے کے لئے نہیں بلکہ اسے لوگوں تک پہنچانے کے لئے بتاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے چنے ہوئے رسول کو بھی جب غیب کی کسی بات کی اطلاع دیتا ہے تو اس کے چ اورں طرف شہاب ثاقب اور فرشتوں کا زبردست پہرا لگا دیتا ہے، تاکہ شیطان اس وحی میں نہ اپنی کوئی بات داخل کرسکیں اور نہ وقت سے پہلے معلوم کر کے کاہنوں کو اطلاع دے سکیں، بلکہ کلام الٰہی محفوظ طریقے سے رسول تک اور رسول کے ذریعے سے لوگوں تک پہنچے۔
Ayah 72:28

لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیْهِمْ وَ اَحْصٰى كُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا۠ Open ayah 72:28 in the Quran reader

تاکہ جان لے کہ بیشک انھوں نے واقعی اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیے ہیں اور اس نے ان تمام چیزوں کا احاطہ کر رکھا ہے جو ان کے پاس ہیں اور ہر چیز کو گن کر شمار کر رکھا ہے۔

(1) یعلم ان قدا ابلغوا…: اس سارے انتظام کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جان لے کہ رسولوں نے اپنے رب کے پیغام پہنچا دیئے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہر اس چھوٹی اور بڑی چیز کا احاطہ کر رکھا ہے جو ان کے پاس ہے اور ہر ہر چیز کو گن کر شمار کر رکھا ہے۔ رسولوں کی مجال نہیں (خواہ وہ فرشتے ہں جیسے جبریل ؑ یا انسان ہوں جیسے تمام رسول علیہ السلام) کہ اللہ کے پیغامات میں ایک لفظ کی بھی کمی بیشی کرسکیں۔ ی ہاں ایک سوال ہے کہ نص تو پہلے ہی ہر چیز کا علم رکھتا ہے، پھر ”لعلم“ (تاکہ وہ جان لے) فرمانے کا کیا مطلب ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بیشک وہ پہلے ہی سب کچھ جانتا ہے کہ اس طرح ہوگا، مگر اللہ تعالیٰ نے یہ سب انتظام اس لئے کیا ہے تاکہ رسول اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیں اور اللہ تعالیٰ جان لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیئے ہیں۔ (2) بعض لوگ ان آیات سے استدلال کرتے ہیں کہ رسول بھی عالم الغیب ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ انہیں غیب پر مطلع کرتا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم غیب ذاتی ہے اور انبیاء کا علم غیب عطائی یعنی اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ہے، مگر یہ بات درست نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صاف فرمایا ہے :(قل لایعلم من فی السموت والارض الغیب الا اللہ) (النمل : 65)”کہہ دیجیے ہ آسمانوں میں اور زمین میں جو بھی ہے اللہ کے علاوہ غیب نہیں جانتا۔“ یعنی عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اگر وہ کسی رسول کو کوئی بات بتادے تو اس سے وہ عالم الغیب نہیں بن جاتا، کیونکہ ایک تو رسولوں کو صرف اتنی بات معلوم ہوتی ہے جتنی بتائی جاتی ہے، وہ ہر بات نہیں جانتے اور یہ عالم الغیب کی شان کے لخاف ہے کہ اسے کچھ خبریں معلوم ہوں اور کچھ معلوم نہ ہوں۔ دوسیر جب کسی کو غیب کی کوئی بات بتانے سے معلوم ہو تو وہ عالم الغیب نہیں ہوتا، ورنہ ہم سب عالم الغیب ہوجائیں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو غیب کی جو باتیں بتائیں وہ لوگوں کو پہنچانے کے لئے بتائیں، قیامت، جنت، دوزخ اور حوض کوثر وغیرہ یہ سب غیب کی باتیں ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے بتانے سے ہمیں معلوم ہیں، تو کیا ہم بھی عالم الغیب ہیں ؟ ظاہر ہے ایسا نہیں، سو حق یہی ہے کہ عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہے، دوسرا کوئی عالم الغیب نہیں، نہ ذاتی نہ عطائی۔