71. Surah Nooh

نوحNoah · 28 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 71:1

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ اَنْ اَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 71:1 in the Quran reader

بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا کہ اپنی قوم کو ڈرا، اس سے پہلے کہ ان پر ایک درد ناک عذاب آجائے۔

(انا ارسلنا نوحاً الی قومہ…: نوح ؑ کی قوم جس شرک اور بت پرستی میں گرفتار تھی اس کا لازمی نتیجہ دنیا اور آخرت میں عذاب الیم تھا، لیکن اللہ تعالیٰ کا قاعدہ یہ ہے کہ وہ آگاہ کرنے اور ڈرانے کے بغیر عذاب نہیں دیتا۔ (دیکھیے بنی اسرائیل : 15) سو اس عذاب الیم سے ڈرانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے نوح ؑ کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔
Ayahs 71:2–3

قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 71:2 in the Quran reader

اس نے کہا اے میری قوم ! بلاشبہ میں تمہیں کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔

اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَطِیْعُوْنِۙ Open ayah 71:3 in the Quran reader

کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو اور میرا کہنا مانو۔

قال یقوم انی لکم نذیر مبین…: نوح ؑ نے اپنی قوم کو تین باتوں کا حکم دیا، پہلی یہ کہ بت پرستی اور ہر قسم کا شرک چھوڑ کر اکیلے اللہ کی عبادت کرو۔ دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو، یعنی ہر کام کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھو۔ اس کے بھیجے ہوئے احکام کی پابندی کرو۔ تیسری بات یہ کہ میرا حکم مانو، کیونکہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اللہ کی عبادت بھی وہی قبول ہے جو میرے بتائے ہوئے طریقے پر ہوگی۔ تینوں کا خلاصہ توحید، شریعت الٰہی کی پابندی اور اطاعت رسول ہے۔
Ayah 71:4

یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرْكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَآءَ لَا یُؤَخَّرُ١ۘ لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 71:4 in the Quran reader

وہ تمہیں تمہارے گناہ معاف کردے گا اور ایک مقرر وقت تک تمہیں مہلت دے گا۔ یقینا اللہ کا مقرر کردہ وقت جب آجائے تو مؤخر نہیں کیا جاتا، کاش کہ تم جانتے ہوتے۔

یغفرلکم من ذنوبکر :”من“ کا معنی عام طور پر ”بعض“ ہوتا ہے، اس صورت میں معنی ہوگا ”اور وہ تمہارے کچھ گناہ معاف کر دے گا۔“ مگر اس پر یہ سوال وارد ہوتا ہے کہ کچھ گناہ تو پھر بھی باقی رہ گئے، ان کا کیا بنے گا ؟ اس کا ایک جواب وہ ہے جو امام ابن جریر طبری ؒ نے دیا ہے کہ یہاں ”من“ ”عن“ کی جگہ آیا ہے اور ”جمیع“ کا معنی دے رہا ہے، گویا ”یغفر“ کے ضمن میں ”یصفح“ اور ”یعفو“ کا معنی ملحظو ہے : ای یعفولکم عن جمیع ذنوبکم،“ یعنی وہ تمہارے سب گناہ معاف کر دے گا۔“ دوسرا یہ ہے کہ ”من“ ”بعض“ ہی کے معنی میں ہے اور مراد یہ ہے کہ اگر تم میری دعوت قبول کر کے ایمان لے آؤ گے تو تمہارے پہلے گناہ معاف ہوجائیں گے، کیونکہ اسلام پہلے سب گناہ مٹا دیتا ہے۔ البتہ آئندہ کے لئے گناہوں سے بچتے رہنا، یہ نہ سمجھنا کہ ایمان لانے سے پہلے پچھلے سب گناہ معاف ہو اجیئں گے۔ (2) ویوخرکم الی اجل مسمی : یعنی طبعی موت کا ایک وقت مقرر ہے، وہ کفر کی وجہ سے یا ایمان نہ لانے کی وجہ سے نہیں آتی بلکہ ہر مومن و کافر پر آتی ہے۔ وہ تو اپنے مقرر وقت پر آکر رہے گی، البتہ ایمان لے آؤ گے تو اللہ تعالیٰ اس عذاب سے جو کفر کے نتیجے میں آتا ہے، تمہیں محفوظ رکھے گا۔ (3) ان اجل اللہ اذا جآء لایوخر…: اس مقرر وقت سے مراد وہ وقت ہے جو اللہ تعالیٰ کے علم میں کسی قوم پر عذاب کے لئے مقرر ہوتا ہے۔ کاش ! تمہیں اس بات کا یقین ہوجائے کہ وہ وقت ہے جو اللہ تعالیٰ کے علم میں کسی قوم پر عذاب کے لئے مقرر ہوتا ہے۔ کاش ! تمہیں اس بات کا یقین ہوجائے کہ وہ وقت آنے پر مہلت ختم ہو اجئے گی، پھر ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا تو تم اس سے پہلے پہلے ایمان لے آؤ۔
Ayah 71:5

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلًا وَّ نَهَارًاۙ Open ayah 71:5 in the Quran reader

اس نے کہا اے میرے رب ! بلاشبہ میں نے اپنی قوم کو رات اور دن بلایا۔

قال رب انی دعوت قومی لیلاً ونھاراً : نوح ؑ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنی قوم کو اللہ کا پیغام پہنچاتے رہے۔ سینکڑوں برس کی تبلیغ کے باوجود جب چند قلیل آدمیوں کے علاوہ کسی نے ایمان قبول نہ کیا اور نوح ؑ ان سے ہر طرح سے مایوس ہوگئے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ درخواست پیش کی۔ اے میرے رب ! میں نے اپنی قوم کو رات دن دعوت دی، یعنی کوئی وقت نہیں چھوڑا جس میں دعوت نہ دی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ نوح ؑ نے جتنا لمبا عرصہ مسلسل دعوت میں گزارا اس کی کوئی مثال نہیں ملتی، ہر داعی اور عالم کو اسی جذبے اور محنت سے دعوت دینی چاہیے۔
Ayah 71:6

فَلَمْ یَزِدْهُمْ دُعَآءِیْۤ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 71:6 in the Quran reader

تو میرے بلانے نے دور بھاگنے کے سوا ان کو کسی چیز میں زیادہ نہیں کیا۔

فلم یردھم دعآء ی الا فراراً : مگر ان پر لاٹا اثر ہوا، وہ ایمانق بول کرنے کے بجائے اور زیادہ دور بھاگنے لگے۔
Ayah 71:7

وَ اِنِّیْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْۤا اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَ اسْتَغْشَوْا ثِیَابَهُمْ وَ اَصَرُّوْا وَ اسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًاۚ Open ayah 71:7 in the Quran reader

اور بیشک میں نے جب بھی انھیں دعوت دی، تاکہ تو انھیں معاف کردے، انھوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں اور اپنے کپڑے اوڑھ لیے اور اڑ گئے اور تکبر کیا، بڑا تکبر کرنا۔

(1) وانی کلما دعوتھم لتغفرلھم…: اس آیت میں تھوڑا سا حصہ حذف ہے، یعنی میں نے جب بھی انہیں دعوت دی کہ ایمان لے آئیں، تاکہ اس کے نتیجے میں) تو انہیں معاف فرما دے تو انہوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں، منہ سر کپڑوں میں لپیٹ لئے اور اپنی بات پر اڑ گئے …۔ یعنی ان کے پاس نوح ؑ کی دعوت کو رد کرنے کا کوئی جواز نہ تھا اور نہ ہی آپ کے دلائل کا سامنا کرنے کی ہمت تھی، ادھر وہ شرک چھوڑنے پر بھی تیار نہیں تھے اور نہ اپنی بڑائی سے دستبردار ہونے پر تیا تھے۔ نوح علیہ اسللام کی بات ماننے میں ان کی سرداری، بڑائی اور چودھراہٹ میں فرق آتا تھا، اس لئے ان کی کوشش یہ تھی کہ نوح ؑ کی بات کانوں میں پڑے اور نہ ان کی نظر ان پر پڑے۔ غرض کسی صورت بھی ان سے آمنا سامنا نہ ہونے پائے، مباداوہ پھر تبلیغ شروع رک دیں، اسلئے جیسے بھی ہو سکے ہر صورت منہ سر چھپا کر ان کے پاس سے نکل جائیں۔ (2) واستکبروا استکباراً : نوح ؑ کی قوم کا تکبر یہ تھا کہ انہوں نے حق بات ماننے سے انکار کردیا تھا۔ عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، (لایدخل الجنۃ من کان فی قلبہ مثقال ذرۃ من کبیر، قال رجل ان الرجل یحب ان یکون ثوبہ حسناً ونعلہ حسنۃ، قال ان اللہ جمیل یحب الجمال الکبر بطر الحق وغمط الناس) (مسلم، الایمان، بابا تحریم الکبر و بیانہ : 91)”جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر تکبر ہو وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔“ ایک آدمی نے کہا :”آدمی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کا کپڑا اچھا ہو اور اس کا جوتا اچھا ہو (تو کیا یہ بھی تکبر ہے ؟)“ ایک آدمی نے کہا ”آدمی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کا کپڑا اچھا ہو اور اس کا جوت ا اچھا ہو (تو کیا یہ بھی تکبر ہے ؟)“ آپ ﷺ نے فرمایا :”(یہ تکبر نہیں) اللہ خوبصورت ہے، خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ تکبر تو حق سے انکار کردینا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔“
Ayahs 71:8–9

ثُمَّ اِنِّیْ دَعَوْتُهُمْ جِهَارًاۙ Open ayah 71:8 in the Quran reader

پھر بیشک میں نے انھیں بلند آواز سے دعوت دی۔

ثُمَّ اِنِّیْۤ اَعْلَنْتُ لَهُمْ وَ اَسْرَرْتُ لَهُمْ اِسْرَارًاۙ Open ayah 71:9 in the Quran reader

پھر بیشک میں نے انھیں کھلم کھلا دعوت دی اور میں نے انھیں چھپا کر دعوت دی، بہت چھپا کر۔

ثم انی دعوتھم جھاراً …: جب ان کے کانوں میں انگلیاں لے لینے اور منہ سر کپڑوں میں چھپا لینے تک نوبت پہنچ گئی تو پھر بھی میں نے انہیں سمجھانا نہیں چھوڑا، بلکہ پھر انہیں مزید بلند آواز سے دعوت دی۔ پھر انہیں کھلم کھلا مجمع عام میں بھی سمجھایا اور لوگوں سے چھپا کر ایک ایک کو نجی طور پر بھی سمجھایا، غرض جس طرح دن رات ہر وقت دعوت دی جاسکتی تھی، اسی طرح ہر طریقے سے دعوت دی۔
Ayah 71:10

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًاۙ Open ayah 71:10 in the Quran reader

تو میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگ لو، یقینا وہ ہمیشہ سے بہت معاف کرنے والا ہے۔

فقلت استغفرواربکم…: چناچہ میں نے ان سے ہا کہ اپنے رب سے بخشش مانگو، (ظاہر ہے ایمان لانے کے بعد ہی بخشش مانگنے کا مرحلہ آتا ہے) یقیناً وہ بہت ہی بخشنے والا ہے۔”کان“ دوام اور استمرار کے لئے ہے، یعنی بخشنا اور معاف کرنا ہمیشہ سے اس کی صفت رہی ہے، پھر کسی واسطے یا وسیلے سے مانگنے کی کیا ضرورت ہے، اپنے رب سے خود ہی معافی ماگن لو، وہ تمہیں بخش دے گا۔ جب معافی مل گئی تو آخرت میں سزا سے بچ جاؤ گے۔
Ayahs 71:11–12

یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًاۙ Open ayah 71:11 in the Quran reader

وہ تم پر بہت برستی ہوئی بارش اتارے گا۔

وَّ یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًاؕ Open ayah 71:12 in the Quran reader

اور وہ مالوں اور بیٹوں کے ساتھ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں باغات عطا کرے گا اور تمہارے لیے نہریں جاری کردے گا۔

(یرسل السمآء علیکم مداراً…: نوح ؑ نے اپنی قوم کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لا کر اس سے بخشش مانگنے سے صرف تمہاری آخرت ہی درست نہیں ہوگی بلکہ اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی بیشمار نعمتیں عطا فرمائے گا، وہ تم پر موسلادھار بارشیں برسائے گا، قسم قسم کے مالوں کیساتھ اور بیٹوں کے ساتھ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں باغات اور نہریں عطا فرمائے گا۔ نوح ؑ کے علاوہ ہمارے نبی کریم ﷺ اور دوسرے انبیاء ؑ نے بھی اپنی اپنی قوم کو ایمان و استغفار سے آخرت میں حاصل ہونے والی نعمتوں کے علاوہ ان سے حاصل ہونے والی دنیوی برکتیں بھی بتائیں۔ تفصیل کے لئے دیکھیے سورة ہود (3، 52) ، مائدہ (66) اور سورة اعراف (96)۔ ان آیا سے معلوم ہوا کہ بارش کی ضرورت ہو یا مال و اولاد کی یا کسی بھی نعمت کی ضرورت ہو تو اللہ تعالیٰ سے استغفار کرنا چاہیے۔ اس مقام پر تفسیر طبری اور تفسیر ابن کثیر میں عمر بن خطاب ؓ عنہماکا واقعہ لکھا ہوا ہے کہ وہ استسقا کے لئے نکلے تو انہوں نے استغفار سے زیادہ کچھ نہیں کیا اور واپس آگئے۔ لوگوں نے پوچھا :”امیر المومنین ! ہم نے آپ کو بارش کی دعا کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔“ تو فرمایا :”میں نے آسمان کو حرکت دینے والی ان چیزوں کے ذریعے سے بارش طلب کی ہے جن کے ذریعے سے بارش کا سوال کیا جاتا ہے۔“ پھر یہ آیت اور سورة ہود کی آیت (52):(ویزدکم قوۃ الی قوتکم) پڑھی۔ تفسیر طبری میں عمر بن خطاب ؓ کا یہ واقعہ شعبی سے روایت کیا گیا ہے، جن کی ملاقات عمر بن خطاب ؓ سے ثابت نہیں، اسلئے یہ واقعہ پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتا اور امیر المومنین سے امیدبھی نہیں کہ وہ بارش کی دعا کے لئے نکلے ہں اور مسنون طریقہ پر نماز اور دعا کے بغیر صرف استغفار کر کے واپس آگئے ہوں۔ صحیح بخاری (1010) میں معر بن خطاب ؓ عنہماکا بارش کی دعا کرنا اور عباس ؓ سے دعا روانا موجود بھی ہے۔ ہاں، یہ بات درست ہے کہ دعائے استسقا میں بھی استغفار زیادہ سے زیادہ کرنا چاہیے۔ مگر ہر مقام پر استغفار اس طریقے سے کیا جائے گا جس طریقے سے رسول اللہ ﷺ نے کیا ہے۔
Ayah 71:13

مَا لَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰهِ وَقَارًاۚ Open ayah 71:13 in the Quran reader

تمہیں کیا ہے کہ تم اللہ کی عظمت سے نہیں ڈرتے۔

(مالکم لاترجون اللہ وقاراً :) (لاترجون“ (رجا یرجو رجائ“ (ن) امید رکھنا۔ اس کا معنی عقیدہ رکھنا اور ڈرنا بھی آتا ہے، کیونکہ یہ دونوں چیزیں اور امید آپ س میں لازم و ملزوم ہیں۔ امید اسی چیز کی ہوتی ہے جس کے موجود ہونے کا عقیدہ ہو اور امید کا مطلب ہی یہ ہے کہ خوف بھی موجود ہے۔ ”وقاراً“ کا معین عظمت ہے۔ آیت کا معنی یہ ہوگا کہ تمہیں کیا ہے کہ اپنے بتوں کی عظمت تو تمہارے دلوں میں بہت ہے ، مگر تم اللہ تعالیٰ کی عظمت کا عقیدہ نہیں رکھتے ؟ دوسرا معنی ہے کہ تم اللہ کی عظمت سے نہیں ڈرتے۔ اگر تم اس کے وقار و عظمت کے معتقد ہوتے اور تمہیں اس کا خوف ہوتا تو اس کے ساتھ ایسی ہستیوں کو کبھی شریک نہ بناتے جو اس کے مقبالے میں کوئی وقار اور کوئی عظمت نہیں رکھتیں۔
Ayah 71:14

وَ قَدْ خَلَقَكُمْ اَطْوَارًا Open ayah 71:14 in the Quran reader

حالانکہ یقینا اس نے تمہیں مختلف حالتوں میں پیدا کیا۔

(وقد خلقکم اطواراً : یعنی حقیقت حال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کے دلائل خود تمہاری ذات میں موجود ہیں، اس نے تمہیں مختلف اطوار میں پیدا فرمایا ہے۔ پہلے ٹمی، پھر نطفہ، پھر علقہ، پھر مضغہ، پھر ہڈیاں، پھر ان پر گوشت، پھر بہترین شکل و صورت کا انسان، جس کا ہر روز نئے سے نیا طور (انداز) ہوتا ہے، بچپن ، جوانی، بڑھپا، پھر موت، اتنے اطوار کے بعد دوبارہ پیدا کرنا اس کے لئے کیا مشکل ہے ! ؟ اگر تم ایسے خلاق کی عظمت کا خیال نہ کرو اور اس کے حضور پیش ہونے کو محال سمجھتے رہو تو کتنے تعجب کی بات ہے۔ یہی بات تفصیل کے ساتھ سورة حج (5، 6) اور سورة مومنون (14 تا 16) میں بھی بیان ہوئی ہے۔ ”خلقکم اطواراً“ کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ تمہیں مختلف انداز میں پیدا فرمایا کہ کوئی ایک شخص بھی شکل و صورت، قد و قامت، رنگ روپ، آواز اور ذہنی صلاحیت، غرض کسی بھی چیز میں دوسرے سے نہیں ملتا۔ یہی مفہوم سورة روم (22) میں بیان ہوا ہے۔
Ayahs 71:15–20

اَلَمْ تَرَوْا كَیْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًاۙ Open ayah 71:15 in the Quran reader

کیا تم نے دیکھا نہیں کہ کس طرح اللہ نے سات آسمانوں کو اوپر تلے پیدا فرمایا۔

وَّ جَعَلَ الْقَمَرَ فِیْهِنَّ نُوْرًا وَّ جَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا Open ayah 71:16 in the Quran reader

اور اس نے ان میں چاند کو نور بنایا اور سورج کو چراغ بنادیا۔

وَ اللّٰهُ اَنْۢبَتَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًاۙ Open ayah 71:17 in the Quran reader

اور اللہ نے تمہیں زمین سے اگایا، خاص طریقے سے اگانا۔

ثُمَّ یُعِیْدُكُمْ فِیْهَا وَ یُخْرِجُكُمْ اِخْرَاجًا Open ayah 71:18 in the Quran reader

پھر دوبارہ وہ تمہیں اس میں لوٹائے گا اور تمہیں نکالے گا، خاص طریقے سے نکالنا۔

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًاۙ Open ayah 71:19 in the Quran reader

اور اللہ نے تمہارے لیے زمین کو ایک فرش بنادیا۔

لِّتَسْلُكُوْا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا۠ Open ayah 71:20 in the Quran reader

تاکہ تم اس کے کھلے راستوں پر چلو۔

الم تروا کیف خلق اللہ …: نوح ؑ نے اپنی قوم کو ان کی پیدائش میں توحید اور قیامت کے دلائل کی طرف توجہ دلانے کے بعد ان چیزوں پر غور و فکر کی دعوت دی جو اللہ تعالیٰ نے ان کے گرد و پیش ان کی ضرورتوں کے لئے پیدا فرمائی ہیں۔ فرمایا، کیا تم نے غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اوپر تلے سات آسمان، ان میں روشنی پھیلانے والا چاند اور جلتا ہوا چراغ یعنی سورج کس طرح پیدا فرمایا ؟ زمین کو بچھونے کی طرح نرم کردیا اور تمہاری سہولت کے لئے اس میں گھاٹیاں اور کشدہ رستے بنا دیئے۔ یہ تمام انتظام سا بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ بےکار اور بےمقصد پیدا نہیں کیا، بلکہ جس طرح اس نے تمہیں پہلے زمین سے پیدا کیا ہے اسی طرح زمین میں دفن کرنے کے بعد تمہیں دوبارہ زندہ کرے گا۔ اس کے علاوہ تمہاری ضرورت کی یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی ہیں، تمہارے معبود ان باطلہ نے تو کچھ بھی پیدا نہیں کیا، تم نے دونوں کو برابر کیسے سمجھ لیا ؟
Ayah 71:21

قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ اِنَّهُمْ عَصَوْنِیْ وَ اتَّبَعُوْا مَنْ لَّمْ یَزِدْهُ مَالُهٗ وَ وَلَدُهٗۤ اِلَّا خَسَارًاۚ Open ayah 71:21 in the Quran reader

نوح نے کہا اے میرے رب ! بیشک انھوں نے میری بات نہیں مانی اور اس کے پیچھے چل پڑے جس کے مال اور اولاد نے خسارے کے سوا اس کو کسی چیز میں زیادہ نہیں کیا۔

قال نوح رب انھم عصوتی …: یہ نوح ؑ کی دوسری ش کیا ت ہے کہ اے میرے رب ! انہوں نے میرا کہا نہیں مانا اور ان سرداروں اور مال داروں کے پیھچے لگ گئے جنہیں تو نے مال اور اولاد عطا فرمائی، مگر وہ مال و اولاد انہیں کوی فائدہ پہنچانے کے بجائے ان کے لئے اور زیادہ خسارے کا باعث بن گئے، کیونکہ اس مال و اولاد کے غرور ہی کی وجہ سے انہوں نے حق کو ٹھکرایا اور اسی مال و اولاد کو اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی دلیل کے طور پر پیش کر کیق وم کو بہ کیا ا اوری ہی مال خرچ کر کے لوگوں کو اللہ کی راہ سے ہٹایا۔ ا سے معلوم ہوا کہ دنیا میں کافروں کو جتنا مال و اولاد یا نعمتیں ملیں درحقیقت ان کے لئے عذاب ہی کا سامان ہے، کیونکہ اس سے وہ مزید غفلت و سرکشی اختیار کر کے جہنم کا ایندھن بنتے ہیں۔
Ayah 71:22

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًاۚ Open ayah 71:22 in the Quran reader

اور انھوں نے خفیہ تدبیر کی، بہت بڑی خفیہ تدبیر۔

(ومکروا مکراً کباراً :”کباراً“ (باء کی تشدید کیساتھ) میں ”کبار“ (باء کی تشدید کے بغیر) سے زیادہ مبالغہ ہے اور ”کبار“ میں ”کبیر“ سے زیادہ مبالغہ ہے، یعنی انہوں نے بہت ہی بڑی بڑی خفیہ تدبیریں کیں۔ ”مکرا“ جنس ہے، اس سے صرف ایک ہی مکر مراد نہیں۔ یہ اسی قسم کے حربے تھے جو ہمیشہ کسی قوم کے چوھدری اور مال دار لوگ اپنے اقتدار کی خاطر اہل حق کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ قرآن میں ان میں سے کئی حربے مذکور ہیں ، مثلاً یہ کہ اگر نوح ؑ اللہ کا نبی ہوتا تو فرشتہ ہوتا، یہ تو ہمارے جیسا انسان ہے۔ اس کے پیرو کار پنچ لوگ ہیں، اگر یہ رسول ہوتا تو اس کے پاس خزانے ہوتے ، بڑے بڑے لوگ اس کے ساتھ ہوتے، یہ غیب جانتا ہوتا، یہ تو بس سرداری چاہتا ہے، یہ دیوانہ ہے وغیرہ۔ مزید تفصیل کے لئے سورة اعراف، سورة ہود اور سورة مومنوں وغیرہ میں نوح ؑ کے واقعات ملاحظہ فرمائیں۔ ہمارے نبی ﷺ کے خلاف بھی یہی حربے استعمال کئے گئے۔
Ayah 71:23

وَ قَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَ لَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّ لَا سُوَاعًا١ۙ۬ وَّ لَا یَغُوْثَ وَ یَعُوْقَ وَ نَسْرًاۚ Open ayah 71:23 in the Quran reader

اور انھوں نے کہا تم ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور نہ کبھی ودّ کو چھوڑنا اور نہ سواع کو اور نہ یغوث اور یعوق اور نسر کو۔

(1) وقالوا لاتذرون الھتکم…: ساڑھے نو سو سال میں اللہ بہتر جانتا ہے کتنی ہی نسلیں ختم ہوئیں اور کتنی نئی پیدا ہوئیں، مگر ہر پہلا پچھلے کو جیتے جی اور مترے وقت یہی تاکید کرتا رہا کہ دیکھنا ! ن وح کے کہنے پر ود، سواع، یغوث ، یعقو اور نسر کی عبادت ہرگز ہرگز نہ چھوڑنا۔ یہ وہ پانچ بت تھے جن کی عبادت قوم نوح کرتی تھی۔ عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں : ”یہ پانچوں نوح ؓ کی قوم کے صالح لوگوں کے نام ہیں، جب وہ فوت ہوگئے تو شیطان نے ان کی قوم کے دلوں میں یہ بات ڈلای کہ (بطور یادگار) جن مجلسوں میں وہ بیٹھتے تھے وہاں ان کے بت نصب کردو اور ان کے وہی نام رکھ دو چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا تو اس وقت ان کی عبادت نہیں کی گئی، یہاں تک کہ جب وہ بطور یادگار بت نصب کرنے والے) فوت ہوگئے اور (کسی کو اس بات کا) علم نہ رہا تو ان بتوں کی عبادت ہونے لگی۔“ (بخاری، التفسیر، باب :(ودا ولا سواعا…“: 392) اس روایت سے معلوم ہوا کہ بت پرستی کا اصل باعث اکابر کی محبت میں غلو اور ان کے مجسمے بنا کر انہیں نصب کرنا تھا۔ شریعت میں تصویر کی حرمت کے دیگر اسبابکے عالوہ ایک بہت بڑا سبب یہ بھی ہے۔ ابن عباس ؓ کی اسی روایت میں جو اوپر گزری ہے، مذکور ہے کہ یہی بات جو قوم نوح میں تھے“ بعد میں عرب کے اندر آگئے۔”ود“ دومتہ الجندل میں کلب قبیلے کا بت تھا،”سواع“ ہذیل کا تھا، ”یغوث“ مراد قبیلے کا پھر (اس کی شاخ) بنو غطیف کا تھا، جو سبا کے قریب وادی جرف میں (آباد) تھے۔ ”یعوق“ ہمدان کا اور ”نسر“ حمیر کا تھا جو ذوالکلاع کی آل تھے۔ (بخاری ، ایضاً) یہاں ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنے بڑے طوفان کے بعد جس میں تمام مشرک غرق کردیئے گئے وہ بت کیسے باقی رہ گئے اور دوبارہ ان کی پرستش کیسے شروع ہوگئی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انسان قدتری طور پر اپنے سے پہلے لوگوں کے حالات جاننے کا شوق رکھتا ہے، چناچہ علم تاریخ اسی شوق کا نتیجہ ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ نوح ؑ کے ساتھ باقی بچنے والے اہل ایمان سے بعد والین سلوں نے ان بزرگوں کی نیکی اور کرامتوں کے واقعات سنے، وقت گزرنے کیساتھ جب جہالت کا غلبہ ہوا تو شیطان نے ان کے ہاتھوں آثار قدیمہ کے طور پر وہی بت نکلوا کر یا ان سے ان اکابر کے فرضی مجسمے بنوا کر، جیسا کہ نصرانیوں نے مسیح اور مریم ؑ کے فرض مجسمے بنا رکھے ہیں، دوبارہ ان کی عبادت شروع کروا دی۔ بہرحال یہ بات ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ان پانچوں بتوں کی پرستش ہوتی تھی اور باقاعدہ ان کے آستانے موجود تھے، جیسا کہ ابن عباس ؓ کی حدیث میں گزرا ہے۔ عرب میں عبدود اور عبدیغوث وغیرہ نام بھی ملتے ہیں۔ (2) حافظ ابن حجر ؒ نے فرمایا :”واقدی کا بیان ہے کہ ”ود“ ایک آدمی کی شکل میں،”سواع“ عورت کی شکل میں ،”یغوث“ شیر کی صورت میں، ”یعقو“ گھوڑے کی شکل میں اور ”نسر“ ایک پرندے کی صورت میں تھا، مگر یہ شاذ ہے۔ مشہور یہی ہے کہ یہ سب انسانی شکل میں تھے اور ان کی عبادت کے آغاز کا جو سبب بیان ہوا ہے اس کا تقاضا بھی یہی ہے۔“ (فتح الباری) حافظ ابن حجر ؒ کی بات نوح ؑ کے زمانے کے بتوں کے متعلق تو یقیناً درست ہے ، مگر بعد میں جب فرضی بت بنائے گئے تو ممکن ہے کہ ان جانوروں کی شکل پر بنائیگئے ہوں، جیسا کہ مشرک قوموں میں عامط ور پر پایا جاتا ہے۔ (واللہ اعلم) (3) رسول اللہ ﷺ نے امت مسلمہ کو شرک سے بچانے کے لئے ان دروازوں کو بھی بند کرنے کا حکم دیا جہاں سے شرک داخل ہوسکتا ہے۔ قبر پرستی کے فتنے کی ابتدا قبروں پر عمارتیں اور مسجدیں بنانے سے ہوتی ہے اور بت پرستی کی ابتدا تصویریں اور مجسمے بنانے سے، اس لئے رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں چیزوں سے منع فرمایا اور اونچی قبروں کو (دوسری قبروں کے) بربار کردینے اور ہر تصویر کو مٹا دینے کا حکم دیا۔ ابوالہیاج اسدی فرماتے ہیں کہ مجھے علی بن ابی طالب ؓ عنہمانے فرمایا :(الا ایعثک علی ما یعثنی علیہ رسول اللہ ﷺ ؟ ان لاتدع تمثالاً الا طمستہ ولا قبرا مشرفا الا سویتہ) (مسلم، الجنائر، باب الامر بستسویۃ القیر : 969)”کیا میں تمہیں اس کام پر مقرر کر کے نہ بھیجوں جس پر مجھے رسول اللہ ﷺ نے مقرر فرمایا تھا ؟ وہ یہ تھا کہ کوئی مورتی نہ چھوڑو مگر اسے مٹا دو اور نہ کوئی اونچی قبر مگر اسے برابر کر دو۔“
Ayah 71:24

وَ قَدْ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا١ۚ۬ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا ضَلٰلًا Open ayah 71:24 in the Quran reader

اور بلاشبہ انھوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا اور تو ان ظالموں کو گمراہی کے سوا کسی چیز میں نہ بڑھا۔

وقد اضلوا کثیراً …: یعنی قوم کے ان سرداروں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا۔”ولا تزد الظلمین الا ضلاً“ (اور ان ظالموں کو گمرایہ کے علاوہ کسی چیز میں نہ بڑھا) یہ دعا درحقیقت عذاب کے لئے ہے، کیونکہ گمراہی پر قائم رہنے اور اس میں مزید بڑھتے چلے جانے کا نتیجہ یہی ہے کہ وہ عذاب الٰہی کے مستحق ہوجائیں۔ موسیٰ ؑ نے آل فرعون کے حق میں یہی بد دعا کیھی :(ربنا اطمس علی اموالھم واشدد علی قلوبھم فلا یومنوا حتی یروا العذاب الالیم) (یونس : 88)”اے ہمارے رب ! ان کے مالوں کو مٹا دے اور ان کے دلوں پر سخت گرہ لگا دے، پس وہ ایمان نہ لائیں، یہاں تک کہ درد ناک عذاب دیکھ لیں۔“ ضمیر کی جگہ ”الظلمین“ کے لفظ کی صراحت سے ان لوگوں کے عذاب کی بد دعا کے مستحق ہونے کا سبب بیان ہوا ہے۔
Ayah 71:25

مِمَّا خَطِیْٓئٰتِهِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا١ۙ۬ فَلَمْ یَجِدُوْا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْصَارًا Open ayah 71:25 in the Quran reader

اپنے گناہوں ہی کی وجہ سے وہ غرق کیے گئے، پس آگ میں داخل کیے گئے، پھر انھوں نے اللہ کے سوا اپنے لیے کوئی مدد کرنے والے نہ پائے۔

(1) مما خطیئتھم اغرقوا…: یہ نوح ؑ کا کلام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں۔ جار مجور پہلے لانے سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا ہے، یعنی صرف اپنے گناہوں (کفر و معصیت) کی وجہ سے انہیں غرق کیا گیا۔ ان کے غرق ہونے کا تفصیلی واقعہ سورة ہود، سورة مومنون اور سورة عنکبوت وغیرہ میں مذکور ہے۔”فادخلوا ناراً“ پس وہ آگ میں داخل کئے گئے، ”فائ“ سے ظاہر ہو رہا ہے کہ غرق ہوتے ہی انہیں آگ میں داخل کردیا گیا، یعنی قیامت کے دن جہنم میں جانے سے پہلے برزخ و قبر ہی میں وہ آگ میں داخل کردیئے گئے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آل فرعون کے متعلق فرمایا :(وحاق بال فرعون سوٓء العذاب، النار یعرضون علیھا غدواً وعشیاً ویوم تقوم الساعۃ ادخلوا ال فرعون اشد العذاب) (المومن : 75، 36)”اور آل فرعون کو برے عذاب نے گھیر لیا جو آگ ہے، اس پر صبح و شام پیش کئے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی، آل فرعون کو سخت ترین عذاب میں داخل کرو۔“ خلاصہ یہ کہ نوح ؑ کی قوم اور آل فرعون کو پہلے پانی میں غرق کیا گیا، پانی کے عذاب کے بعد اس کا الٹ یعنی آگ کا عذاب قبر ہی میں شروع ہوگیا ، پھر قیامت کے دن جہنم کے ”اشذ العذاب“ میں داخل کئے جائیں گے۔ یہ آیت اور سورة ممون کی آیت عذاب قبر کی زبردست دلیلیں ہیں۔ (2) فلم یجدوالھم من دون اللہ انصاراً : یعنی اللہ کے عذبا سے نہ انہیں کوئی سردار بچا سکا اور نہ ان کے پاس پنج تنوں میں سے کوئی ان کی مدد کرسکا۔
Ayahs 71:26–27

وَ قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ دَیَّارًا Open ayah 71:26 in the Quran reader

اور نوح نے کہا اے میرے رب ! زمین پر ان کافروں میں سے کوئی رہنے والا نہ چھوڑ۔

اِنَّكَ اِنْ تَذَرْهُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَكَ وَ لَا یَلِدُوْۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا Open ayah 71:27 in the Quran reader

بیشک تو اگر انھیں چھوڑے رکھے گا تو وہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور کسی نافرمان، سخت منکر کے سوا کسی کو نہیں جنیں گے۔

وقال نوح رب لاتذر…: یہاں سے نوح ؑ کی دعا کا بقیہ حصہ ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نوح ؑ کو کیسے سے معلوم ہوا کہ اگر یہ لوگ زندہ رہے تو ان کی پشت سے کافر ہی پیدا ہوں گے ؟ جواب یہ ہے کہ یہ بات ؓ نے خود نوح ؑ کو بتا ید تھی کہ آپ کی قوم میں سے جو لوگ ایمان لا چکے ہیں ان کے علاوہ اب کوئی شخص ایمان قبول نہیں کرے گا۔ (دیکھیے ہود : 36) یہ بات معلوم ہونے کے بعد نوح ؑ نے دعا کی کہ یا اللہ ! زمین پر ان کافروں میں سے ایک ”’ یار“ بھی باقی نہ چھوڑو۔ ”’ یارا“ ’ فیعال“ کے وزن پر ہے، یہ ”’ دار یدور دوراً“ (گھومنا) سے ہو تو معنی ہوگا، ایک پھرنے والا بھی نہ چھوڑ اور اگر ”’ دار“ (گھر) سے مشتق ہو تو معنی ہے، گھر میں بسنے والا ایک فرد بھی باقی نہ چھوڑ۔
Ayah 71:28

رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَّ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا تَبَارًا۠ Open ayah 71:28 in the Quran reader

اے میرے رب ! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور اس کو جو مومن بن کر میرے گھر میں داخل ہو اور ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو اور ظالموں کو ہلاکت کے سوا کسی چیز میں نہ بڑھا۔

(رب اغفرلی ولوالدی…: اس ایٓ میں نوح ؑ کی اس دعائے مغفرت کا ذکر ہے جو انہوں نے اپنے لئے، اپنے والدین کے لئے اور ان اہل ایمان کے لئے کی جو عذاب کی پیش گوئی سچ مان کر اس سے بچنے اور کشتی میں سوار ہونے کے لئے ان کے گھر جمع ہوگئے تھے، اس کے ساتھ ہی انہوں نے پہلے تمام مومن مردوں اور عورتوں کے لئے مغفرت کی دعا کی اور کافروں کے لئے مزید ہلاکت کی بد دعا کی۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نوح ؑ کے والدین موحد تھے۔