76. Surah Al-Insaan

الانسانMan · 31 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 76:1

هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَكُنْ شَیْئًا مَّذْكُوْرًا Open ayah 76:1 in the Quran reader

کیا انسان پر زمانے میں سے کوئی ایسا وقت گزرا ہے کہ وہ کوئی ایسی چیز نہیں تھا جس کا (کہیں) ذکر ہوا ہو ؟

(1) ھل اتی علی الانسان…:”ھل“ (کیا) پوچھنے کے لئے آتا ہے۔ یہ پوچھنا کبھی تو کوئی خبر معلوم کرنے کے لئے ہوتا ہے، جیسے ”ھل فی الدار زید“”کیا گھر میں زید ہے ؟“ اللہ تعالیٰ کو اس کی ضرورت ہی نہیں۔ کبھی یہ سوال کسی بات کی نفی کے لئے ہوتا ہے، جیسے :”وھل یستطیع ذلک احد“”بھلا یہ کام کوئی کرسکتا ہے ؟“ یعنی کوئی نہیں کرسکتا۔ عربی میں سے نفی کے علاوہ حجد بھی کہتے ہیں۔ بعض اوقات یہ پوچھنا بات منوانے کیلئے ہوتا ہے، اسے عربی میں تقریر کہتے ہیں، جیسے آپ نے کسی کو کچھ دیا ہو یا اس کی عزت کی ہو تو اسے کہیں ”ھل اعطیتک“ ”کیا میں نے تمہیں دیا ؟“ اور ”ھل اکرمتک“ ”کیا میں نے تمہاری عزت کی ؟“ اس وقت یہ ”ھل ‘ بمعنی ”قد“ ہوتا ہے، یقینی یقینا میں نے تمہیں دیا اور یقینا میں نے تمہاری عزت کی۔ اس آیت میں ”ھل“ اسی آخری معنی کے لئے آیا ہے۔ بہت سے مفسرین نے اس کا ترجمہ ”یقینا“ یا ”تحقیق“ کیا ہے، لیکن ”ھل“ کا معنی اپنی اصل پر (کیا) ہو تب بھی مراد یہی ہے کہ یقینا اس پر ایسا وقت گزرا ہے۔ (2) بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا، ان کے خیال میں یہ ممکن ہی نہیں کہ انسان کے خاک ہوجانے کے بعد اسے دوبارہ پیدا کیا جاسکے۔ یہاں ایسے لوگوں کو قائل کرنے کے لئے سوال ہے کہ کیا انسان پر زمانے میں سے کوئی ایسا وقت گزرا ہے جب وہ کوئی ایسی چیز ہی نہ تھا جس کا ذکر ہوتا ہو ؟ صاف ظاہر ہے کہ ان کاج واب یہ ہوگا کہ یقیناً انسان پر ایسا وقت گزرا ہے۔ تو جب اللہ تعالیٰ نے اسے اس وقت بنا لیاجب یہ کچھ بھی نہ تھا بلکہ کہیں اس کا ذکر بھی نہ تھا تو پیدا کرنے کے بعد دوبارہ وہ کیوں نہیں بنا سکتا ؟ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(ویقول الانسانء اذا مامت لسوف اخرج حیاً اولایذکر الانسان انا خل قنہ من قبل ولم یک شیئاً) (مریم : 66، 68)”اور انسان کہتا ہے کہ جب میں مرجاؤں گا تو کیا مجھے زندہ کر کے (قبر سے) نکالا جائے گا ؟ کیا اسے یاد نہیں کہ ہم نے اس سے پہلے اسے پیدا کیا جب وہ کوئی چیز ہی نہ تھا۔“ (3)”الانسان“ سے مراد یہاں صرف آدم ؑ نہیں بلکہ نسل انسانی ہے، کیونکہ آیت میں انسان کے نطفہ یدا ہونے کا ذکر ہے۔
Ayah 76:2

اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ١ۖۗ نَّبْتَلِیْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 76:2 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے انسان کو ایک ملے جلے قطرے سے پیدا کیا، ہم اسے آزماتے ہیں، سو ہم نے اسے خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا بنادیا۔

(1) انا خلقنا الانسان من نطفۃ امشاج : یعنی انسان کی پیدائش صرف مرد یا صرف عورت کے نطفہ سے نہیں ہوئی بلکہ دونوں کے ملے جلے نطفہ سے ہوئی ہے، کیونکہ دونوں کے ملنے ہی سے حمل منعقد ہوتا ہے۔ ام سلیم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ان ماء الرجل غلیظ ابیض وماء المراۃ رقیق اصفر فمن ابھما علا او سبق یکون من ہالشبہ) (مسلم، الحیض ، باب وجوب الغسل علی المراۃ…: 311)”مرد کا پ انی سفید گاڑھا اور عورت کا پانی پتلا زرد ہوتا ہے، ان میں سے جو غلاب آجائے یا سبقت کر جائے اسی سے مشابہت ہوتی ہے۔“ (2) نبتلیہ : ہم اسے آزماتے ہیں، یعنی انسان کو پیدا کرنے کا مقصد اس کی آزمائش ہے کہ اچھے عمل کرتا ہے یا برے، جیسے فرمایا، (لیبلوکم ایکم احسن عملاً) (الملک : 2)”(اللہ تعالیٰ نے موت و حیات کو اس لئے پیدا فرمایا) تاکہ تمہاری آزمائش رکے کہ تم میں سے کون عمل میں بہتر ہے۔“ (3) فجعلنہ سمیعاً بصیراً :”ہم نے اسے سننے والا، دیکھنے والا بنایا“ اگرچہ جانور بھی سنتے اور دیکھتے ہیں مگر انہیں ”سمیع وبصیر“ نہیں کہاجاتا کیونکہ وہ عقل کی نعمت سے محروم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو سننے اور دیکھنے کی ایسی قوتیں دی ہیں جن سے وہ اچھے برے میں تمیز کرسکتا ہے اور بہت دور تک سوچ سکتا ہے۔ گویا دوسرے جانور اس کے مقابل بہرے اور اندھے ہیں۔
Ayah 76:3

اِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا Open ayah 76:3 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے اسے راستہ دکھا دیا، خواہ وہ شکر کرنے والا بنے اور خواہ ناشکرا۔

(1) انا ھدینہ السبیل : یعنی ہم نے انسان کی آزمائش کرتے ہوئے اسے صرف سمع و بصر اور عقل کی نعمت عطا کرنے ہی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اسے صحیح اور غلط راستہ بتانے کا اہتمام بھی کیا ہے۔ نیکی و بدی کی یہ تمیز اس کی فطرت میں بھی رکھی ہے، جس کی وجہ سے اچھے کام اس کے لئے معروف صبح نے پہچانے) اور برے کام منکر (نہ پہچانے ہوئے) ہیں اور انبیاء ؑ کے ذریعے سے بھی اسے نیکی و بدی کا راستہ بتایا ہے۔ (2) اما شاکراً و اما کفوراً : سمع و بصر، عقل و فہم، فطرت انسانی اور انبیاء ؑ کے ذریعے سے ملنے والی آسمانی رہنمائی کے بعد انسان کے لئے صحیح راستہ بالکل واضح ہوجاتا ہے۔ اب اس کی مرضی ہے کہ اسے راستے پر چل کر اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والا بن جائے، یا وہ سیدھا ترک کر کے اس کی نعمتوں کی ناشکری اور کفر کرنے والا بن جائے۔
Ayah 76:4

اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَلٰسِلَاۡ وَ اَغْلٰلًا وَّ سَعِیْرًا Open ayah 76:4 in the Quran reader

یقینا ہم نے کافروں کے لیے زنجیریں اور طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ تیار کی ہے۔

(ان اعتدنا للکفرین…:”سلسلا“ کی جمع ہے، زنجیریں۔ ”اغلاً“ ”غل“ کی جمع ہے، طوق۔ انسان کی پیدائش کی ابتدا اور راہ حق کی طرف اس کی رہنمائی ذکر کرنے کے بعد ہدایت قبول کرنے سے انکار کرنے والوں کا اور نیک لوگوں کا انجام ذکر فرمایا کہ ہم نے کفار کے لئے زنجیریں، طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ کفار کے لئے اغلال اور سلاسل کا ذکر سورة حاقہ (30 تا 33) اور سورة مومن (69 تا 72) میں دیکھیے۔
Ayah 76:5

اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًاۚ Open ayah 76:5 in the Quran reader

بلاشبہ نیک لوگ ایسے جام سے پییں گے جس میں کافور ملا ہوا ہوگا۔

(1) ان الابرار یشربون من کاس…:”الابرار“”بار“ یا ”بر“ کی جمع ہے، نیکی کرنے والے۔ ”کاس“ وہ برتن جس سے پیا جائے۔ عام طور پر ”کاس“ کا لفظ اس برتن پر بولتے ہیں جس میں شراب موجود ہو۔”مزاج“ آمیزش، بلونی وہ چیز جو لذت یا خوشبو میں اضافے کے لئے مشروب میں ملائی جائے۔ ”کا فوراً“ ایک خوشبو دار پودا، اس پودے سے نکلنے اور حاصل ہونے والی خوشبو جو تاثیر میں نہایت ٹھنڈی ہوتی ہے۔ (2) کفار کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ کا ذکر کرنے کے بعد نیک لوگوں کے متعلق فرمایا کہ وہ شربا کے ایسے جام پئیں گے جن میں کافور کی آمیزش ہوگی، یعنی بھڑکتی ہوئی آگ کے بجائے انہیں ایسی شراب ملے گی جس میں ٹھنڈی تاثیر اور خوشبو دار کافور کی آمیزش ہوگی۔ واضح رہے کہ دنیا کے کافور اور جنت کے کافور میں صرف نام کی مشابہت ہے، جیسا کہ دنیا کی شراب اور جنت کی شراب میں صرف نام کی مشابہت ہے کہ جنت کی شربا میں سرور و نشاط وغیرہ کی وہ خوبیاں تو ہوں گی جو دنیا کی شراب میں ہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ ہوں گی، مگر وہ دنیا کی شراب کی خرابیوں مثلاً بدبو، زوال عقل ، خمار اور اعضا شکنی وغرہ سے پاک ہوگی۔ اسی طرح جنت کے کافور میں وہ ٹھنڈک، لطافت اور خوشبو تو ہوگ ی جو دنیا کے کافور میں ہے بلکہ اس سے بڑھ کر ہوگی، مگر وہ دنیوی کافور کی خرابیوں مثلاً اس کی زہریلی تاثیر اور بو میں ایک ناگوار سے احساس سے پاک ہوگا۔”مزاج“ کا مطلب یہ ہے کہ ابرار کو ملنے والی شراب میں خوشبو اور لذت کے اضافے کے لئے کافور کے چشمے سے آمیزش کی جائے گی ، جس سے اس کی تیزی اور حرارت اعتدال پر آجائے گی۔
Ayah 76:6

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ یُفَجِّرُوْنَهَا تَفْجِیْرًا Open ayah 76:6 in the Quran reader

وہ ایک چشمہ ہے جس سے اللہ کے بندے پییں گے، وہ اسے بہا کرلے جائیں گے، خوب بہاکر لے جانا۔

(عینا یشرب بھا عباد اللہ …:”اگرچہ سب لوگ ہی اللہ کے بندے ہیں مگر یہاں مراد اللہ کے خاص بندے ہیں، جیسا کہ ”عبادالرحمن“ (رحمان کے بندے) ،”ناقۃ اللہ“ (اللہ کی اونٹنی) اور ”بیت اللہ“ (اللہ کا گھر) میں خصوصیت پیدا ہوگئی ہ۔ یعنی اللہ کے یہ خصا بندے ابرار کافور کی آمیزش والا شراب کا جو جام پئیں گے وہ ایک جام ہی نہیں ہوگا بلکہ کافور کی آمیزش والا ایک چشمہ ہوگا جس سے مومن جہاں چاہے گا شاخ نکال کرلے جائے گا۔ بعض مفسرین نے ”الابرار“ اور ”عباد اللہ“ کو الگ الگ قرار دے کر یہ معنی کیا ہے کہ ابرار یعنی نیک لوگوں کو پلائے جانے والے شراب کے جام میں کافور نامی چشمے میں سے کچھ ملاوٹ ہوگی، جس طرح کسی کے شربت میں کوئی خوشبو دار شربت مثلاً روح افزاء ملا دیا جائے، جب کہ ”عباد اللہ“ یعنی اللہ کے مقرب بندوں کو کافور کے چشمے کی صرف آمیزش ہی نہیں بلکہ اس کا خالص پانی جتنا وہ چاہیں گے ملے گا۔ مجھے پہلا معنی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ (واللہ اعلم)
Ayah 76:7

یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوْنَ یَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِیْرًا Open ayah 76:7 in the Quran reader

جو اپنی نذر پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی مصیبت بہت زیادہ پھیلی ہوئی ہوگی۔

یوفون بالنذر…:”النذر“ اپنے آپ پر وہ چیز واجب کرلینا جو واجب نہیں ہے۔”مستطیراً“ (طار یطیر“ اڑنا اور ”استطار یستطیر“ باب اسفعال میں الفاظ زیادہ ہونے کی وجہ سے معنی میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے، یعنی بہت زیادہ اڑنے والا، مراد ہے، بہت زیادہ پھینلے والا، جیسے آگیا صبح کی روشنی خوب پھیل جائے تو کہا جاتا ہے : ”استطار الحریق“ یا ”استطار الفجر“ کہ آگ بہت زیادہ پھیل گئی ہے، یا صبح کی روشنی خوب پھیل گئی ہے۔ اس آیت میں اور اس کے بعد کتین آیات میں اللہ تعالیٰ کے ان خاص بندوں کی چند صفات بیان کی گئی ہیں، ایک صفت یہ ہے کہ وہ اپنی نذر پوری کرتے ہیں، پھر جو کام اللہ تعالیٰ کی طرف ہلے ہی واجب ہیں ان پر کتنے اہتمام سے عمل کرتے ہوگے۔ نذر کے مسائل کے لئے دیکھیے سورة بقرہ (270) اور سورة حج (29) کی تفسیر۔ ان لوگوں کے نذر پوری کرنے کا باعث یہ ہے کہ وہ قیامت کے دن سے ڈرتے ہیں جس کی مصیبت ہر طرف پھیلی ہوئی ہوگی۔ اس سے ان صوفیوں کا رد ہوتا ہے جو کہتے ہیں کہ جنت کے طمع یا جہنم کی خوف سے عبادت نہیں کرنی چاہیے۔
Ayah 76:8

وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا Open ayah 76:8 in the Quran reader

اور وہ کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبت پر مسکین اور یتیم اور قیدی کو۔

(1) ویطعمون الطعام علی حبہ…: اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں اور دونوں ہی درست ہیں، ایک یہ کہ خود کھانے کی خواہش و ضرورت کے باوجود وہ دوسرے مستحقین کو کھلا یدتے ہیں، دوسرا یہ کہ اللہ کی محبت کی وجہ سے ان لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔ یہاں پہلا معنی زیادہ موزوں ہے، کیونکہ دوسرا معنی تو اگلی آیت :(انما نطعمکم لوجہ اللہ) (ہم تو تمہیں صرف اللہ کی رضا کے لئے کھلاتے ہیں) میں آہی رہا ہے، لہٰذا تکرار سے بہتر ہے کہ الگ الگ مفہوم مراد لیا جائے۔ مزید دیکھیے سورة حشر کی آیت (9):(ویوثرون علی انفسھم ولو کان بھم خصاصۃ) کی تفسیر۔ (2) مسکین، یتیم اور اسیر کو کھانا کھلانا ان اہم ترین مواقع میں سے ہے جہاں صدقہ کرنے کا حق ہے، کیونکہ مسکن وہ ہے جس کی کمائی سے اس کی ضرورتیں پوری نہیں ہوتیں، یتیم اس سے بھی عاجز ہے کیونکہ اس کا کمانے اولا فوت ہوچکا ہے اور وہ کم عمر ہونے کی وجہ سے کمائی نہیں کرسکتا اورق یدی ان دونوں سے زیادہ عاجز ہے، کیونکہ اسے کسی چیز کا اختیار ہی نہیں، وہ کلیتاً دوسروں کے رحم و کرم پر ہے۔ (3) زمانہ جاہلیت میں اسیروں سے بہت برا سلوک کیا جاتا تھا، انہیں بیڑیاں لگا کر ہر روز باہر نکالا جاتا تاکہ وہ گدائی کے ذریعے سے اپنی ضرورت کی چیزیں لوگوں سے حاصل کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اسیروں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا اور ”ابرار“ کی صفت یان فرمائی کہ وہ خود ضرورت مند ہونے کے باوجود مسکین، یتیم اور سایر کو کھانا کھلاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے قیدیوں کے متعلق صحابہ کو تاکید فرمائی کہ ان کا اکرام کریں۔ چناچہ وہ کھانے کے وقت انہیں اپنے آپ پر مقدم رکھتے۔ (ابن کثیر) رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مسلمانوں کے ہاں اسیر کافر لوگ ہی تھے جو جنگوں میں گرفتار ہو کر آتے تھے، آپ کے زمانے میں مسلمان اسیر نہیں رکھے جاتے تھے، مگر آیت کے الفاظ عام ہیں، اسلئے کوئی مشرک اسیر ہو یا کسی جرم یا مطلابے میں گرفتار سملم سایر، سب سے حسن سلوک لازم ہے، بلکہ مسلمان اسیروں سے احسان بالا اولیٰ لازم ہے۔ اس کے علاوہ غلام بھی اسیر میں شامل ہے، رسول اللہ ﷺ نے آخری وصیت میں فرمایا :(الصلاۃ وما ملکت ایمانکم) (ابن ماجہ، الوصایا، باب ھل اوضی رسول اللہ ﷺ ، 2698۔ ابو داؤد : 5156، وقال الالبانی صحیح)”نماز اور اپنے غلاموں کا خیال رکھنا۔“ (4) اس آیت کی شان نزول میں علی و فاطمہ ؓ اور ان کی لونڈی فضہ کے حسنین ؓ کی صحت کے لئے ین روزوں کی نذر ماننے اور فاطار کے وقت قرض لائے ہوئے جو سے تیار کردہپ انچ روٹیاں سب کی سب ایک دن مسکین، دوسرے دن یتیم اور تیسرے دن اسیر کو دے دینے کی جو روایت بیان کی جاتی ہے وہ بالکل من گھڑت اور موضوع ہے۔ ابن جوزی نے اسے ”الموضوعات“ میں ذکر کیا ہے اور قرطبی نے تفصیل سے اس پر جرح کی ہے۔ اہل بیت نبوت کے فضائل کا ثبوت اس قسم کی موضوع روایات کا محتاج نہیں اور نہ ہی یہ کوئی نیکی ہے کہ مسکین کو ایک کے بجائے پانچوں روٹیاں دے دی جائیں اور تین دن رات بچوں کو بھوکا رکھائے۔ (5) اس آیت سے معلوم ہوا کہ یتیموں، مسکینوں اور اسیروں کو، خواہ وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم، کھانا کھلانے سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ ہاں، فرض زکوۃ صرف مسلمانوں پر خرچ ہوگی، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(توخذ من اغنیائھم فترد علی فقرائھم) (بخاری، الزکاۃ باب اخذ الصدقۃ من الاغنیاء …: 1396)”(فرض صدقہ) مسلمانوں کے اغنیا سے لیا جائے گا اور ان کے فقراء پر خرچ کیا جائے گا۔“
Ayah 76:9

اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا Open ayah 76:9 in the Quran reader

(اور کہتے ہیں) ہم تو صرف اللہ کے چہرے کی خاطر تمہیں کھلاتے ہیں، نہ تم سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ۔

(انما نطعمکم لوجہ اللہ …:”شکوراً“ مصدر ہے، بروزن ”’ خول“ اور ”خروج“ یعنی وہ کھانا کھلاتے ہوئے یہ بات دل میں کہتے ہیں یا زبان سے انہیں اطمینان دلانے کے لئے کہتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف اللہ کی رضا کے لئے کھانا کھلا رہے ہیں تم سے نہ یہ خواہش ہے کہ تم اس کا بدلا دو اور ہمارے کسی کام آؤ، نہ یہ کہ ہمارا شکریہ ادا کرو اور لوگوں کے سامنے ہماری سخاوت کا ذکر کرو، تاکہ وہ اپنے آپ پر احسان کا بوجھ محسوس نہ کریں۔
Ayah 76:10

اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا Open ayah 76:10 in the Quran reader

یقینا ہم اپنے رب سے اس دن سے ڈرتے ہیں جو بہت منہ بنانے والا، سخت تیوری چڑھانے والا ہوگا۔

(1) انا نخاف من ربنا…:”عبوساً“ تیوری چڑھانے والا، منہ بنانے والا۔”قمطریراً“ سخت تیوری چڑھانے والا۔ سوال یہ ہے کہ اس دن کو ”عبوساً“ اور ”قمطریراً“ کیوں کہا گیا ، جبکہ تیوری چڑھانا اور منہ بگاڑانا آدمی کا کام ہے ؟ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ اس دن کی ہیبت اور سختی کی منظر کشی کے لئے اسے ایک ایسے شخص کی صورت میں پیش کیا ہے جس کے منہ اور ماتھے پر غصے کی وجہ سیسخت تیوری چڑھی ہوئی ہو۔ دوسرا یہ کہ جس طرح ”نھنارہ صائم“ (اس کا دن روزہ دار ہے) اور ”لیلہ قائم“ (اس کی رات قیام کرنے والی ہے) میں صیام وق یام کی نسبت دن اور رتا کی طرف کردی ہے، حالانکہ روزہ رکھنا اورق یام کرنا آدمی کا کام ہے، اسی طرح یہاں بھی اگرچہ دن کو تیوری چڑھانے والا کہا ہے مگر مراد یہ ہے کہ اس دن میں کافر کا چہرہ سخت تیوری والا اور بگڑا ہوا ہوگا، جیسے فرمایا :(وجوہ یومئذ باسرۃ) (القیامۃ : 23)”کئی چہرے اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے۔“ (2) انا نخاف من ربنا یوماً عبوساً قمطریراً“ (یقینا ہم اپنے رب سے اس دن سے ڈرتے ہیں جو بہت منہ بنانے والا، سخت تیوری چڑھانے والا ہوگا) میں ان جاہل صوفیوں کا رد ہے جو قیامت یا جہنم کے خوف کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کو اخلاص سے کے خلاف سمجھتے ہیں۔
Ayah 76:11

فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْیَوْمِ وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًاۚ Open ayah 76:11 in the Quran reader

پس اللہ نے انھیں اس دن کی مصیبت سے بچا لیا اور انھیں انوکھی تازگی اور خوشی عطا فرمائی۔

(فوقھم اللہ شر ذلک الیوم…: اللہ تعالیٰ اخلاص اور خوف کے ساتھ مذکورہ اعمال کرنے والے ابرار و عباد اللہ کو اس دن کی برائی سے بچا لے گا اور انہیں تازگی اور خوشی عطا فرمائیگا۔ تازگی چہرے کی اور خوشی دل کی۔ دل میں خشوع ہو تو چہرے پر تازگی آجاتی ہے۔ (دیکھیے عبس : 38، 39) ان کے برعکس کفار وف جار کے چہرے بگڑے ہوئے اور دل غم و فکر سے بھرے ہوں گے۔ دیکھیے سورة عبس (40 تا 42)۔
Ayah 76:12

وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ Open ayah 76:12 in the Quran reader

اور انھیں ان کے صبر کرنے کے عوض جنت اور ریشم کا بدلہ عطا فرمایا۔

وجزھم بما صبروا جنتہ وحریراً : اور انہیں اللہ تعالیٰ ان کے صبر کے عوض جنت اور ریشمی لباس عطا فرمائے گا۔ صبر کا مفہوم بہت وسیع ہے، اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی پر صبر، اس کی حرام کردہ چیزوں سے صبر، اس کے دین کی دعوت پر صبر، آزمائشوں اور تکلیفوں پر صبر، خود بھوکا رہ کر دوسروں کو کھلانے پر صبر، غرض مومن کی زندگی اول تا آخر صبر ہی صبر ہے۔
Ayah 76:13

مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۚ لَا یَرَوْنَ فِیْهَا شَمْسًا وَّ لَا زَمْهَرِیْرًاۚ Open ayah 76:13 in the Quran reader

وہ اس میں تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے، نہ اس میں سخت دھوپ دیکھیں گے اور نہ سخت سردی۔

متکئین فیھا علی الارآئک …:”شمساً“ سے مراد سخت دھوپ اور گریم اور ”زمھریراً“ سے مراد سخت سردی ہے، یعنی جنت کا موسم نہایت خوش گوار اور معتدل ہوگا، اس میں نہ تکلیف دہ گریم ہوگی نہ سردی۔ اس کے برعکس جہنم میں شدید گرمی یعنی آگ کا عذاب بھی ہوگا اور شدید سردی (زمہر پر) کا بھی، بلکہ دنیا میں شدید گرمی اور شدید سردی کا اصل بھی جہنم ہی سے ہے۔ ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(واشتکت النار الی ربھا فقالت یا رب ! اکل یعصی بعضاً فاذن لھا بنفسین ، نفس فی الستائ، ونفس فی الصیف ، فھو اشد ماتجدون من الحر واشد ماتجدون من الزمھریر) (بخاری ، مواقیت الصلاۃ ، باب الابراد بالظھر فی شدۃ الحر : 538)”آگ نے اپنے رب کے پاس شکایت کی اور کہا :”اے میرے رب ! میرے بعض حصے بعض کو کھا گئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس نکالنے کی اجازت دے دی، ایک سانس گرمی میں اور ایک سردی میں۔ یہ وہی ہے جو تم سخت گرمی محسوس کرتے ہو اور جو تم سخت زمہر یر (سردی) محسوس کرتے ہو۔“
Ayah 76:14

وَ دَانِیَةً عَلَیْهِمْ ظِلٰلُهَا وَ ذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِیْلًا Open ayah 76:14 in the Quran reader

اور اس کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے اور اس کے خوشے تابع کردیے جائیں گے، خوب تابع کیا جانا۔

(ودانیۃ علیھم ظلھا…:”’ انیۃ“”’ نا یدنو“ (ن) سے اسم فاعل ہے، قریب۔ ”ذلت“ تابع کئے جائیں گے، جھکا دیئے جائیں گے۔ ”تذلیلاً“ تاکید ہے، خوب جھکانا۔ ”قطوف“ ”قطف“ کی جمع ہے، خوشہ، چنا ہوا پھل ، یعنی جنت کے درختوں کے سائے نہایت گھنے اور جھکے ہوئے ہوں گے اور اس کے پھلوں کے خوشے جنتیوں کے تابع اور ان کی دسترس میں ہوں گے جو کھڑے، بیٹھے اور لیٹے جس طرح چاہیں گے توڑ سکیں گے۔ انس بن مالک ؓ عنہماباین کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ان فی الجنۃ الشجرۃ یسیر الراکب فی ظلھا مائۃ عام لایقطعھا) (بخاری، بدہ الخلق ، باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ…: 3251)”جنت میں ایک درخت ہے جس کے سائے میں سوار سو برس تک چلتا رہے گا مگر اسے طے نہیں کرسکے گا۔“
Ayahs 76:15–16

وَ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ كَانَتْ قَؔوَارِیْرَاۡۙ Open ayah 76:15 in the Quran reader

اور ان پر چاندی کے برتن اور آبخورے پھرائے جائیں گے، جو شیشے کے ہوں گے۔

قَؔوَارِیْرَاۡ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْهَا تَقْدِیْرًا Open ayah 76:16 in the Quran reader

ایسا شیشہ جو چاندی سے بنا ہوگا، انھوں نے ان کا اندازہ رکھا ہے، خوب اندازہ رکھنا۔

ویطاف علیھم بانیۃ …:”آنیۃ“”انائ“ کی جمع ہے، بروزن ”افعلۃ“ اور ”اکواب“”کو ب“ کی جمع ہے، برتن جس کی نہ ٹونٹی ہو نہ دستی، آبخورے۔ یعنی ان کی مجلس میں چاندی کے ایسے برتنوں اور آبخوروں کا دور چلے گا جو شیشے کے ہوں گے، ایسا شیشہ جو چاندی سے بنا ہوگا۔ ایسے برتنوں کا دنیا میں کہیں وجود نہیں، کیونکہ دنیا کی چاندی کو کوٹ کر مچھر کے بر کے برابر باریک بھی کردیا جائے تب بھی وہ شیشے کی طرح شفاف نہیں ہوسکتی۔ برتنوں کی یہ قسم جنت ہی میں ہوگی جو چاندی کی طرح سفید اور شیشے کی طرح شفاف ہوگی۔”قدروھا تقدیراً“ یعنی وہ پینے والوں کی ضرورت کے عین اندازے کے مطابق بنے ہوئے ہوں گے، نہ کم نہ زیادہ۔
Ayahs 76:17–18

وَ یُسْقَوْنَ فِیْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِیْلًاۚ Open ayah 76:17 in the Quran reader

اور اس میں انھیں ایسا جام پلایا جائے گا جس میں سونٹھ ملی ہوگی۔

عَیْنًا فِیْهَا تُسَمّٰى سَلْسَبِیْلًا Open ayah 76:18 in the Quran reader

وہ اس میں ایک چشمہ ہے جس کا نام سلسبیل رکھا جاتا ہے۔

ویسقون فیھا کا سا…:”کا سا“ و پیالہ جس میں شراب ہو ، خالی پیایل کو کاس نہیں کہتے۔”مزاج“ آمیزش، بلونی، یعنی وہ چیز جو لذت یا خوشبو میں اضافے کے لئے ملائی جائے۔ ”زنجیلاً“ ادرک ، سونٹھ۔”سلسبیلاً“ کے تین معانی ہیں :(1) آسانی سے حلق میں اتر جانے اولا۔ (2) تیزی سے بہنے اولا۔ (3) آسانی سے تابع ہونے والا کو دھر لے جانا چاہیں لے جائیں۔ عرب لوگ شراب کی لذت، حرارت، تلخی اور خوشبومیں اضافے کے لئے اس میں سونٹھ کی آمیزش کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جنتیوں کو جو جام شراب پلایا جائے گا اس میں زنجیل کی آمیزش ہوگی۔ گویا جنت میں ایک وہ شراب ہوگی جو ٹھنڈی ہوگی، جس میں کافور کی آمیزش ہوگی اور ایک گرم ہوگی جس میں سونٹھ لمی ہوگی۔ واضح رہے کہ جنت کی نعمتوں کے ذکر کے وقت دنیا کی جن چیزوں کا ذکر آیا ہے ان سے بعینہ وہی چیزیں مراد نہیں بلکہ ان سے بےحد و حساب اعلیٰ چیزیں مراد ہیں۔ دیکھیے سورة سجدے (17) کی تفسیر۔ صاحب احسن التفاسیر لکھتے ہیں :”اگرچہ جنت میں کھانے پینے ، پہننے اور ترنے کی جتنی چیزیں ہیں ان کے نام دنیا کی چیزیوں سے ملتے ہیں، لیکن جنت کی چیزوں اور دنیا کی چیزوں میں بڑا فرق ہے۔ مثلاًدنیا میں ایسا ودودھ کہاں ہے جس کی ہمیشہ نہر بہتی ہو اور پھر دوسرے دن ہی وہ کھٹا نہ ہوجائے ؟ وہ شہد کہاں ہے جس کی نہر بہتی ہو اور مکھیوں کی بھنکار اس میں جم جم کر نہ مرے اور ہوا سے خاک اور کوڑا کرکٹ اس پر نہ پڑے ؟ اور وہ شراب کہاں ہے جس کی نہر ہو اور بدبو کے سبب سے اس نہر کے آس پاس کا راستہ کچھ دنوں میں بند نہ ہوجائے۔“ (احسن التفاسیر) ”عینا“”کا سا“ سے بدل ہے یا مصنبو بہ نزع الخافض ہے، یعنی ”یسفون کا سا من عین“ مطلب یہ کہ انہیں وہ جام شراب جس میں زنجیل کی آمیزش ہوگی، ایسے چشمے سے پالاجائے گا جس کا نام سلسبیل ہے۔ یہ نام رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کا پانی نہایت خوش گوار، رقیق اور آسانی سے حلق سے اترنے والا ہوگا اور اس چشمے سے نکلنے والی نالیاں نہایت تیز رفتا اور اہل ایمان کے لئے نہایت تابع ہوں گی کہ وہ جدھر چاہیں گے انہیں لے جائیں گے۔
Ayah 76:19

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ١ۚ اِذَا رَاَیْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا Open ayah 76:19 in the Quran reader

اور ان کے اردگرد لڑکے گھوم رہے ہوں گے، جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے، جب تو انھیں دیکھے گا تو انھیں بکھرے ہوئے موتی گمان کرے گا۔

ویطوف علیھم ولدان مخلدون…: یعنی جنتیوں کی مجلس میں خدمت کے لئے ایسے لڑکے گردش کرتے رہیں گے جن میں دو وصف نمایاں ہوں گے، ایک تو یہ کہ وہ ہمیشہ بچے ہی رہیں گے، کیونکہ خدمت کے لئے بڑی عمر کے آدمی کے بجائے بچے زیادہ مستعد اور موزوں ہوتے ہیں اور انہیں خدمت کے لئے کوئی کام کہنے میں حجاب نہیں ہوتا۔ دوسرا یہ کہ وہ اتنے خوبصورت ہوں گے کہ جب تم انہیں آتے جاتے دیکھو گے تو گمان کرو گے کہ وہ بکھرے ہوئے موتی ہیں۔ ان کی خدمت کے لئے ہر طرف پھیلے ہوئے ہونے کو موتیوں کے بکھرنے سے تشبیہ دی ہے۔ یہ لڑکے کوئی الگ مخلوق ہوگی، جو اللہ تعالیٰ اہل جنت کی خدمت کے لئے پید فرمائیگا یا جنتیوں کے اپنے لڑکے ہوں گے ؟ اگرچہ پہلی بات بھی ممکن ہے، مگر سورة طور سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جنیوں کے اپنے بچے ہی ہوں گے، فرمایا :(ویطوف علیھم غلمان لہم کانھم لولو مکنون) (الطور : 23) ”اور ان پر پھریں گے ان کے لڑکے، گویا وہ چھپائے ہوئے موتی ہیں۔“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لڑکے ان کے اپنے ہی بچے ہوں گے جو دنیا میں فوت ہوگئے یا جنت میں اگر کسی کو اولاد کی خواہش ہوئی، تو وہ بچے انہیں عطا کئے جائیں گے۔ یہ بچے خدمت کے لئے ان کے ارگرد پھریں گے اور ان کے لئے مزید راحت و مسرت کا باعث ہوں گے۔ (واللہ اعلم) ابو سعید خدری ؓ عنہمانے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(المومن اذا اشتھی الولد فی الجنۃ ، کان حملہ ووضعہ وسنۃ فی ساعۃ واحدۃ ، کما یشتھی) (ابن ماجہ ، الزھد، باب صفۃ الجنۃ : 3338، وقال الالبانی صحیح ”مومن جب جنت میں اولاد چاہے گا تو اس کا حمل اور وضع حمل اور اس کا بڑا ہونا ایک گھڑی میں ہوجائے گا ، اس کی خواہش کے مطابق۔“
Ayah 76:20

وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا Open ayah 76:20 in the Quran reader

اور جب تو وہاں دیکھے گا تو نعمت ہی نعمت اور بہت بڑی بادشاہی دیکھے گا۔

(1) واذا رایت ثم رایت نعیماً و ملکا کبیراً : اور نعمت کا حال کیا ہوگا ؟ ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(اول زمرۃ تدخل الجنۃ علی صورۃ القمر لیلۃ البدر، والذین علی ابرھم کا شد کوکب اضاء ۃ ، قلوبھم علی قلب رجل واحد، لااختلاف بینھم ولا تباعض، لکل امرہ منھم زوحنان، کل واحد منھما یری مخ ساقھا من وراء لخمیھا من الحسن ، یسبحون اللہ بکرۃ وعشیاً ، لا یسقمون ولایمتخطون، ولا ییصفون، ٓئیتھم الذھب و الفضۃ ، وامشاطھم الذھب، ووفود محاجرمرھم الالوۃ قال ابو الیمان یعنی العود و رشحھم المسک) (بخاری، بدہ ، الخلق، باب ما جاء فی صفۃ الجنۃ…: 3236)”پہلے گروہ کے لوگ جو جنت میں داخل ہوں گے، چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوں گے، ان کے بعد جو لوگ جائیں گے وہ سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح چمک رہے ہوں گے۔ ان کے دل ایک ہی آدمی کے دل کی طرح ہوں گے، ان میں نہ کوئی اختلاف ہوگا اور نہ بغض۔ ان میں ہر ایک آدمی کی دو بیویاں ہوں گ ی، جس کی وجہ سے ان عورتوں کی پنڈلی کا مغز گوشت کے پیچھے سے دکھائی دے گا۔ وہ صبح و شام اللہ کی تسبیح کریں گے۔ وہ نہ بیمار ہوں گے ، نہ ناک سنگیں گے اور نہ تھوکیں گے۔ ان کے برتن سونے چاندی کے ہوں گے، ان کی کنگھیاں سونے کی، ان کی انگیٹھیوں کا ایندھن ”الوہ“ (ایک خوشبو دار لکڑی عود) ہوگی اور ان کا پسینا کستوری ہوگا۔“ عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سب سے آخر میں جہنم سے نکل کر جنت میں جانے اولے شخص کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس سے کہیں گے :(فان لک مثل الدنیا وعشرۃ امثالھا) (مسلم، الایمان، باب آخر اھل النار خروجا : 186)”تجھے دنیا اور دنیا کے دس گنا کے برابر دیا جاتا عے۔“ جب آخری جنتی کے ملک و سلطنت کا یہ حال ہے تو دوسروں کے عظیم الشان ملک کا کہنا ہی کیا ہے۔ پھر دوستوں کی ملاقاتیں، فرشتوں کی آمد و رفت، سلام اور اللہ تعالیٰ کا اہل جنت سے ہم کلام ہونا، سل ام کہنا اور دیدار عطا فرمانا مزید نعمتیں ہیں۔ ال غرض، جنت میں وہ نعمتیں ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں، نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی بشر کے دل میں ان کا خیال آیا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے فضل و کرم سے اہل جنت میں شامل فرمائے۔ (آمین)
Ayah 76:21

عٰلِیَهُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ١٘ وَّ حُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ١ۚ وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا Open ayah 76:21 in the Quran reader

ان کے اوپر باریک ریشم کے سبز کپڑے اور گاڑھا ریشم ہوگا اور انھیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا رب انھیں نہایت پاک شراب پلائے گا۔

(1) علیھن ثیاب سندس خضرو استبرق …:”سندس“ باریک ریشم۔ ”استبرق“ گاڑھا ریشم۔ ”خلوا“ ”حلیۃ“ سے ”فعلوا“ کے وزن پر ہے، اصل میں ”حلیوا“ تھا، زیور پہنائے جائیں گے۔”اساور“ ”سوار“ کی جمع ہے، کنگن۔ ”شراباً“ مشروب، پینے کی چیز، ”طھوراً“ جو پاک ہو اور پاک کرنے والی ہو، جیسا کہ فرمایا :(وانزلنا من السمآء مآء طھوراً) (الفرقان : 38)”اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی اتارا۔“ (2)”علیھم“ (ان کے اوپر) کے دو مطلب ہوسکتے ہیں، ایک تو یہ کہ وہ جن نشستوں پر جن نشستوں پر بیٹھے ہوں گے ان کے اوپر باریک سبز ریشم اور گاڑھے ریشم کے پردے لٹک رہے ہوں گے۔ جب پردے اتنی قیمتی ہوں گے تو ان کے لباس کا کیا کہنا۔ دوسرا یہ انہوں نے باریک سبز ریشم اور گاڑھے ریشم کا لباس پہن رکھا ہوگا، جیسا کہ سورة کہف میں فرمایا :(ویلبسون ثیاباً خصراً من سندس و استبرق) (الکھف : 31)”اور وہ باریک اور گاڑھے سبز ریشم کے پکڑے پہنیں گے۔ ‘ یہ معنی زیادہ درست ہے، کیونکہ سورة کہف کی آیت سے اس کی تائید ہو رہی ہے۔ انس بن مالک، مجاہد اور قتادہ کی قرأت میں ”علیھم“ ہے۔ (دیکھیے زاد المسیر لابن الجوزی) اس قرأت سے بھی دوسرے معنی کی تائید ہوتی ہے، اگرچہ پہلا معنی بھی غلط نہیں۔ (2) سورة کہف میں فرمایا :(یحلون فیھا من اساور من ذھب) (الکھف : 31)”ان میں انہیں کچھ کنگن سونے کے پہنائے جائیں گے۔“ جبکہ یہاں چاندی کے کنگن پہنائے جانے کا ذکر ہے، دونوں میں تطبیق کیا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وہاں کئی جنتیں ہیں، جیسا کہ سورة رحمان میں الگ الگ دو دو جنتوں کا ذکر ہے اور جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جنتان من فضۃ آنیتھما و ما فیھما و جنتان من ذٓھب آنیتھما وما فیھما) (بخاری، التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ : وجود یومئد ناظرۃ): 8333)”’ و باغ ایسے ہیں کہ ان کے برتن اور ان میں جو کچھ ہے چاندی کا ہے اور دو باغ ایسے ہیں کہ ان کے برتن اور ان میں جو کچھ ہے سونے کا ہے۔“ اب جنتی کی مرضی ہے کہ سونے کے کنگن پہنے یا چاندی کے یا دونوں پہن لے اور بعض اہل علم نے فرمایا کہ شاید اہل جنت کے درجات کے لحاظ سے سونے کے کنگن مقربین کے لئے اور چاندی کے اصحاب الیمین کے لئے ہوں گے۔ (التسہیل) مگر یہ بات جزم سے نہیں کہی جاسکتی، اس لئے پہلی بات ہی زیادہ درست ہے۔ (4) یہاں ایک سوال یہ ہے کہ کنگن وغیرہ عام طور پر عورتیں پہنتی ہیں، جنت میں مردوں کو کنگن پہنانے کا کیا مقصد ہے ؟ جواب یہ ہے کہ ریشمی لباس اور سونے چاندی کے کنگنوں سے مراد اہل جنت کی شاہانہ شان و شوکت بیان کرنا ہے۔ دنیا میں قدیم زمانے سے بادشاہ سونے چاندی کے کنگن پہنتے رہے ہیں، جیسا کہ فرعون نے موسیٰ ؑ پر طعن کیا تھا :(فلولا القی علیہ اسورۃ من ذھب) (الزخرف : 53)”اسے سونے کے کنگن کیوں نہیں پہنائے گئے ؟“ (5) و سقھم ربھم شراباً طھوراً : آیت کے اس ٹکڑے میں جنتیوں کے لئے کئی بشارتیں ہیں، ایک یہ کہ انہیں ان کا رب خود شراب طہور پلائے گا۔ اس سے بڑی عزت افزائی اور کیا ہوسکتی ہے۔ دوسری یہ کہ وہ مشروب دنیا کے تمام سرور آمد مشروبات کی ظاہری و باطنی نجاستوں سے اور ہر قسم کی خرابیوں سے پاک ہوگا، نہ اس میں نشہ ہوگا نہ درد سر، نہ متلی نہ قے، نہ اعضا شکنی ، نہ زوال عقل، وہ سرا سر لذت و سرور ہوگا۔ تیسری یہ کہ ”طھوراً“ کے لفظ طے شہر ہو رہا ہے کہ اس کے پینے سے اہل جنت کے دل پاک ہوجائیں گے اور ان سے حسد، بغض اور تمام کدورتیں دور ہوجائیں گی۔
Ayah 76:22

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّ كَانَ سَعْیُكُمْ مَّشْكُوْرًا۠ Open ayah 76:22 in the Quran reader

بلاشبہ یہ تمہارے لیے ہمیشہ کا بدلہ ہے اور تمہاری کوشش ہمیشہ قدر کی ہوئی ہے۔

(ان ھذا کان لکم جآء …:”یہ سب کچھ تمہارے اعمال کا بدلا ہے اور تمہاری کوشش قدر کی ہوئی ہے“ یہ بات جنتیوں سے کہی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ انہیں تھوڑی سی عمر کے اعمال کے بدلے میں ابدالآباد کی یہ نعت میں عطا فرمائے گا۔ اس سے بڑھ کر قدر دانی کیا ہو ست کی ہے ؟
Ayah 76:23

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلًاۚ Open ayah 76:23 in the Quran reader

یقینا ہم نے ہی تجھ پر یہ قرآن اتارا، تھوڑا تھوڑا کرکے اتارنا۔

انا نحن نزلنا علیک القرآن تنزلیلاً : سورت کے شروع سے یہاں تک کفار و ابرار کے انجام کا ذکر فرمانے کے بعد رسول اللہ ﷺ کو کفار کے اعتراضات کے جواب میں تسلی دی جا رہی ہے اور صبر و استقامت اور ذکر و تسبیح اور سجود کا حکم دیا جا رہا ہے۔ کفار رسول اللہ ﷺ کو جھٹلانے کے لئے کہا کرتے تھے کہ آپ قرآن مجید اپنے پاس ہی سے بنا کر سناتے رہتے ہیں، ورنہ یہ اکٹھا ہی کیوں نازل نہیں ہوا۔ قرآن مجید میں مختلف مقامات پر اس کا جواب مذکور ہے (مثلاً دیکھیے فرقان : 32) مگر یہاں نہایت زور دار لہجے میں فرمایا کہ یقینا ہی نے یہ قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے آپ پر نازل کیا ہے، یعنی ہمارے علاوہ کوئی ایسا کلام بنا ہی نہیں سکتا، ورنہ تم سب ملکر ایک سورت ہی بنا کر دکھا دو اور ہم ہی جانتے ہیں کہ حکمت کا تقاضا اسے تھوڑا تھوڑا کر کے اتارنا ہے، اس لئے آپ ان کے اعتراضات کی پروا نہ کریں۔
Ayah 76:24

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًاۚ Open ayah 76:24 in the Quran reader

پس اپنے رب کے فیصلے تک صبر کر اور ان میں سے کسی گناہ گار یا بہت ناشکرے کا کہنا مت مان۔

فاصبر لحکم ربک…: یعنی وہ وقت آرہا ہے جب آپ کا رب حق و باطل کے درمیان فیصلہ فرما دے گا، آپ اس وقت کا اتنظار کرتے ہوئے صبر کریں۔ یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ آپ جہاد کے لئے اپنے رب کا حکم آنے تک صبر کریں، یعنی خود بھی اللہ تعالیٰ کے احاکم پر عمل کرتے رہیں، لوگوں کو بھی اسلام کی دعوت دیتے رہیں اور اس راہ میں آنے والی ہر آزمائش پر بھی صبر کریں اور اس سے روکنے والے کسی شخص کے کہنے پر، خواہ وہ کوئی گناہگار یعنی بدعمل ہو یا ناشکرا یعنی بدعقیدہ ہو، نہ اپنا عمل چھوڑیں، نہ عقیدہ اور نہ اس کی دعوت۔
Ayahs 76:25–26

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًاۖۚ Open ayah 76:25 in the Quran reader

اور اپنے رب کا نام صبح اور پچھلے پہر یاد کیا کر۔

وَ مِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَ سَبِّحْهُ لَیْلًا طَوِیْلًا Open ayah 76:26 in the Quran reader

اور رات کے کچھ حصہ میں پھر اس کے لیے سجدہ کر اور لمبی رات تک اس کی تسبیح کیا کر۔

واذکراسم ربک بکرۃ واصیلاً ومن الیل …: دعوت کے راستے میں پیش آنے والی مشکلات کو بردشات کرنے کے لئے قرآن مجید اللہ کے ذکر، نماز اور تسبیح کا حکم دیتا ہے، کیونکہ انھی چیزوں سے انسان ثابت قدم اور حوصلہ مند رہتا ہے، جیسا کہ فرمایا :(واستعینوا بالصبر و الصلوۃ) (البقرۃ : 35)”اور نماز اور صبر کے ساتھ مدد طلب کرو۔“ اور سورة مزمل میں کالم الٰہی کی بھاری ذمہ داری اٹھانے کی استعداد کے لئے تہجد اور ذکر کا حکم دیا۔ یہاں بھی قرآن کی دعوت و تبلیغ کے راستے میں صبر کی تلقین کے ساتھ حکم دیا کہ صبح اور پچھلے پہر اپنے رب کا نام یاد کر اور رات کے کچھ حصے میں بھی اس کے لئے سجدہ کر۔ ذکر کی اعلیٰ ترین صورت نماز ہے۔ اوقات کی تعیین کے ساتھ ذکر کر کے حکم سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ نماز کا بھی حکم دیا جا رہا ہے، چناچہ ”بکرۃ“ میں صبح کی نماز اور ”اصیلاً“ میں ظہر و عصر کی نمازیں اور ”من الیل“ (رات کے کچھ حصے) میں مغرب و عشاء کی نمازیں آجاتی ہیں اور ”سبحہ لیلاً طویلاً“ سے مراد تہجد کی نماز ہے۔ یہ پانچویں نمازیں اگرچہ ان رکعات و متعین اوقات کے ساتھ معراج کی رات فرض ہوئیں، مگر ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے بھی ذکر و صلوۃ کے اوقات یہی تھے۔
Ayah 76:27

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَ یَذَرُوْنَ وَرَآءَهُمْ یَوْمًا ثَقِیْلًا Open ayah 76:27 in the Quran reader

یقینا یہ لوگ جلد ملنے والی چیز سے محبت کرتے ہیں اور ایک بھاری دن کو اپنے پیچھے چھوڑ رہے ہیں۔

ان ھولآء یحبون العاجلۃ…: اس ایٓ میں کفار و فجار کے کفر وف سوق کا اصل سبب بیان فرمایا کہ ان کے نصیحت قبول نہ کرنے کا سبب حب دنیا ہے۔ دنیا چونکہ جلد ہاتھ آنے والی چیز ہے، اس لئے یہ اسی کو چاہتے ہیں اور قیامت کے بھاری دن سے غافل ہیں، بلکہ اس کے آنے کا یقین ہی نہیں رکھتے اور سمجھتے ہیں کہ جب مرنے کے بعد گل سڑ گئے تو کون دوبارہ زندہ کرے گا ؟ آگے اس کا جواب ہے۔
Ayah 76:28

نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ وَ شَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ١ۚ وَ اِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَاۤ اَمْثَالَهُمْ تَبْدِیْلًا Open ayah 76:28 in the Quran reader

ہم نے ہی انھیں پیدا کیا اور ہم نے ان (کے اعضا) کا بندھن مضبوط باندھا اور ہم جب چاہیں گے بدل کر ان جیسے اور لوگ لے آئیں گے، بدل کر لانا۔

نحن خلقنھم وشددنا اسرھم…:”اسرھم“ ”اسر“ کا معنی باندھنا ہے، سایر بھی اسی سے نکلا ہے، یعنی ہم نے ان کے اعضا کا بندھن مضبوطی سے باندھا ہے، ہڈیوں اور پٹھوں کے جوڑ نہایت مضبوط بنئاے ہیں، یعنی یہ لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کو عقل کے خلاف سمجھتے ہیں، لیکن اتنا نہیں سوچتے کہ ہم نے انہیں پ لہی مرتبہ پیدا کیا، ان کے نرم و نازک رگ و ریشے، گوشت پوست، جوڑوں اور ہڈیوں کو مضبوطی سے باندھ دیا تو ہم دوبارہ انہیں کیوں زندہ نہیں کرسکتے ؟ ہم تو جب چاہیں انہیں ختم کر کے ان کی جگہ ان جیسے اور لوگ لاسکتے ہیں، تو ان کا بنانا ہمیں کیا مشکل ہے ؟ دوسری جگہ فرمایا :(ان یشا یذھبکم ایھا النسا و یات باخرین وکان اللہ علی ذلک قدیراً) (النسائ : 133)”اگر وہ چاہے تو تمہیں لے جائے اور دوسرے لوگوں کو لے آئے اور اللہ اس پر خوب قدرت رکھنے والا ہے۔“ مزید دیکھیے سورة ابراہیم (19، 20)۔
Ayah 76:29

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 76:29 in the Quran reader

یقینا یہ ایک نصیحت ہے، تو جو چاہے اپنے رب کی طرف (جانے والا) راستہ اختیار کرلے۔

ان ھذہ تذکرۃ…: یعنی یہ سورت یا موعظت نصیحت ہے، اس سے صحیح راستہ واضح ہوگیا ، کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہا، اب جو چاہے اپنے رب کی طرح جانے کا راستہ اختیار کرلے۔
Ayah 76:30

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۗۖ Open ayah 76:30 in the Quran reader

اور تم نہیں چاہتے مگر یہ کہ اللہ چاہے، یقینا اللہ ہمیشہ سے سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔

(وما تشآء ون الا ان یشآء اللہ…: مگر تمہارا چاہنا اللہ کے چاہنے کے تابع ہے، وہ نہ چاہے تو کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔ عمر بن عبدالعزیز ؒ نے تقدیر کے منکروں کو اسی آیت سے لاجواب کیا تھا۔ خوارج کا ایک گروہ ان کے پاس آیا اور تقدیر کے اناکر کی دلیل کے طور پر اسی سورت کی ابتدا میں سے یہ آیت پڑھی :(انا ھدینہ السبیل اما شاکراً واما کفوراً) (الدھر : 3)”یعنی ہم نے انسان کو راستہ بتادیا ہے، اب چاہے تو شکر کرنے والا بن جائے اور چاہے تو کفر کرنے والا۔“ عمر بن عبدالعزیز ؒ نے فرمایا، آگے پڑھتے جاؤ، آخر میں یہ آیت آئی تو فرمایا، بیشک انسان جو راستہ چاہے اختیار کرے، مگر یہ اختیار بھی اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ اللہ تعالیٰ سے زبردست ہو کر کوئی شخص نہ نیک بن سکتا ہے نہ بد۔”ان اللہ کان علماً حکیماً“ یعنی اللہ تعالیٰ کی یہ مشیت اندھی مشیت نہیں ہے، بلکہ وہ علیم ہو حکیم ہے اور اس کی مشیت اس کے علم و حکمت پر مبنی ہے۔ وہ انھی لوگوں کو ہدیات دیتا ہے جو اس کے علم و حکمت کے مطابق اس کے اہل ہیں۔
Ayah 76:31

یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمِیْنَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 76:31 in the Quran reader

وہ اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور ظالم لوگ، اس نے ان کے لیے درد ناک عذاب تیار کیا ہے۔

(1) یدخل من یشآء فی رحمتہ :”وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے“ مالک اپنی چیز جسے چاہے دے جسے چاہے نہ دے، کوئی اسے پوچھ نہیں سکتا، جیسا کہ فرمایا، (لایسئل عما یفعل وھو یسئلون) (الانبیائ : 23)”اس سے نہیں پوچھا جاتا اس کے متعلق جو وہ کرے اور ان سے پوچھا جاتا ہے۔“ (2) والظلمین اعدلھم عذاباً الیماً : یعنی اس نے ظالموں کے لئے عذاب الیم تیار کر رکھا ہے۔ یہاں ”الظلمین“ سے مراد مشرک ہیں، کیونکہ سب سے بڑے ظالم وہی ہیں، جیسا کہ فرمایا :(ان الشرک لظلم عظیم) (لقمان : 13)”بیشک شرک یقیناً بہت بڑا ظلم ہے۔“ معلوم ہوا اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے محروم انھی کو رکھتا ہے جو ظالم ہیں، جیسے فرمایا :(یضل بہ کثیراً ویھدی بہ کثیراً وما یضل بہ الا الفسققین ، الذین ینقضون عھد اللہ من بعد میثاقہ و یقطعون ما امر اللہ بہ ان یوصل ویفسدون فی الارض اولئک ھم الخسرون) (البقرۃ : 26/28)”وہ اس (قرآن) کے ساتھ بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیتا ہے اور بہت سے لوگوں کو ہدایت دیتا ہے اور اس کے ساتھ گمراہ نہیں کرتا مگر نافرمانوں کو۔ وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو ، اسے پختہ کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور اس چیز کو قطع کرتے ہیں جس کے متعلق اللہ نے حکم دیا کہ اسے ملایا جائے اور زمین میں فساد کرتے ہیں یہی لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔“ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں بیھ اپنی حمت میں داخل فرمائے اور عذاب الیم سے محفوظ رکھے۔ (آمین)