75. Surah Al-Qiyaama

القيامةThe Resurrection · 40 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 75:1

لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَةِۙ Open ayah 75:1 in the Quran reader

میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی

1۔ ابن الضریس والنحاس وابن مردویہ والبیہقی فی الدلائل کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة قیامہ مکہ میں نازل ہوئی۔ اور دوسرے لفظ میں آیت لا اقسم بیوم القیمۃ مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ سورة لا اقسم مکہ میں نازل ہوئی۔ 3۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ نے ہم کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص قیامت کے دن کے بارے میں سوال کرتا تو اس کو چاہیے کہ سورة پڑھ لے۔ 4۔ ابن جریر وابن المنذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت لا اقسم بیوم القیمۃ سے مراد ہے میں قسم کھاتا ہوں۔ 5۔ ابن جریر وابن المنذر والحاکم وصححہ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے آیت لا اقسم بیوم القیمۃ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کہ تیرا رب قسم کھاتا ہے جو چاہتا ہے اپنی مخلوق سے۔ میں نے کہا آیت ولا اقسم بالنفس اللوامۃ اور پشیمان ہونے والے شخص کی قسم ہے۔ یعنی ملامت کیے ہوئے شخص کی طرف سے۔ میں نے کہا آیت ایحسب الانسان الن نجمع عظامہ بلا قدرین علی ان نسوی بنانہ۔ کیا انسان سمجھتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہ کریں گے ہاں ہم تو اس پر قادر ہیں کہ اس کی پور پور درست کردیں۔ یعنی اگر ہم چاہتے تو ہم اس کو پاؤں کا تلوا یا جانور کا کھر بنادیتے۔ 6۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے آیت لا اقسم بیوم القیمۃ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے جس کی چاہتے ہیں قسم کھاتے ہیں آیت ولا اقسم بالفس اللوامۃ میں لوامہ سے مراد ہے گناہ کرنے والا نفس اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ قسم کھا رہے ہیں۔
Ayahs 75:2–3

وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِؕ Open ayah 75:2 in the Quran reader

اور قسم کھاتا ہوں ایسے نفس کی جو اپنے اوپر ملامت کرے

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗؕ Open ayah 75:3 in the Quran reader

کیا انسان خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں ہرگز جمع نہ کریں گے

نفس لوامہ کی تفسیر 7۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت بالنفس اللوامۃ سے مراد ہے مذمت کیا ہوا۔ 8۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے آیت باالنفس اللوامۃ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے ایسا نفس جو خیر اور شر دونوں پر ملامت کرتا ہے اور کہتا ہے اگر تو اس کو اس طرح اور اس طرح کرتا۔ 9۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت بالنفس اللوامہ سے مراد وہ نفس ہے جو اس پر نادم ہوتا ہے جو اس سے فوت ہوجائے اور اس پر ملامت کرتا ہے۔ 10۔ عبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت بالنفس اللوامہ سے مراد ہے وہ نفس جو اس پر ندامت کا اظہار کرتا ہے جو اس سے فوت ہوجائے اور اس پر ملامت کرتا ہے۔ 11۔ عبد بن حمید وابن ابی الدنیا نے محاسبۃ النفس میں حسن (رح) سے آیت ولا اقسم بالنفس اللوامۃ کے بارے میں روایت کیا کہ بیشک تو مومن بندے کو نہیں دیکھے گا مگر یہ کہ وہ اپنے نفس کو ملامت کرتا رہتا ہے کہ تو نے اپنی بات سے یہ ارادہ نہیں کیا اور میں نے اپنے کھانے سے یہ ارادہ نہیں کیا تو نے اپنے دل کی بات سے یہ ارادہ نہیں کیا اور نہ ہی مومن کو دیکھا ہے مگر اس طرح کہ وہ اس کو سرزنش کر رہتا ہے اور عتاب کر رہتا ہے اور فاجر انسان مسلسل اپنا وقت گذارت رہتا ہے مگر اپنے نفس کو عتاب نہیں کرتا۔
Ayah 75:4

بَلٰى قٰدِرِیْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَهٗ Open ayah 75:4 in the Quran reader

ہم ضرور جمع کریں گے ہم اس پر قادر ہیں کہ اس کی انگلیوں کے پوروں تک درست کردیں

12۔ سعید بن منصور نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت بل قدرین علی ان نسوی بنانہ۔ اور ہم اس پر قادر ہیں کہ اس کی پور پور کو درست کردیں۔ یعنی ہم پوروں سے ایسی ہتھیلیاں بنادیں کہ اس میں انگلیاں نہ ہوں۔ 13۔ عبدالرزاق وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت بلی قدرین علی ان نسوی بنانہ کے برے میں روایت کیا کہ ہم چاہتے تو اس کو اونٹ کے پاؤں کی طرح یا گدھے کے کھر کی طرح بنادیتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی خلقت کو معتدل اور انتہائی حسین وجیل بنایا اے ابن آدم ! تجھے اس کے ساتھ قبض بھی کیا جاسکتا ہے اور تجھے اس کے ساتھ پھیلا یا بھی جاسکتا ہے۔ 14۔ عبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت علی ان نسوی بنانہ کہ اس کی پور پور درست کردیں۔ یعنی اس کے پاؤں اونٹ کے پاؤں کی طرح بنادیں کہ اس کے اتھ کچھ بھی کام نہ کرسکے۔ 15۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے آیت علی ان نسوی بنانہ کے بارے میں روایت کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو اونٹ کے پاؤں کی طرح موڑ دے یہاں تک کہ وہ ان سے کوئی نفع نہ اٹھاسکے۔ 16۔ ابن جریر وابن المنذر نے ضحاک (رح) سے آیت علی ان نسوی بنانہ کے بارے میں روایت کیا کہ اس کے پاؤں اونٹ کے پاؤں کی طرح بنادیتے۔ پھر ان دونوں پاؤں کے ساتھ کوئی کام نہ کرسکے۔ 17۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے آیت علی ان نسوی بنانہ کے بارے میں روایت کیا اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو ان کو اونٹ کے پاؤں کی طرح بنادیتے یہاں تک کہ وہ ان کے ذریعہ کوئی نفع نہ اٹھا سکے۔ 18۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے آیت علی ان نسوی بنانہ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم اس کے ہاتھوں اور پاؤں کو اونٹ کے پاؤں کی طرح بنادیتے۔ 19۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی آیت بلی قدرین علی ان نسوی بنانہ اور فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ابن آدم کے لیے کھانے کو پاک بنایا اور ان سان کے لیے اونٹ اور گدھے کی طرح پاؤں اور کھر نہیں بنائے پس وہ اپنے ہاتھ سے کھاتا ہے اور اس کے ذریعہ اپنا بچاؤ کرتا ہے۔ اور باقی سارے حیوانات زمین سے اپنے منہ کے ساتھ چرتے اور کھاتے ہیں۔
Ayahs 75:5–6

بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَهٗۚ Open ayah 75:5 in the Quran reader

بلکہ آدمی یوں چاہتا ہے کہ اپنی آئندہ زندگی میں بھی فسق وفجور کرتا رہے

یَسْئَلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَةِؕ Open ayah 75:6 in the Quran reader

پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب آئے گا

20۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت بل یرید الانسان لیفجر امامہ بلکہ انسان تو چاہتا ہے کہ آئندہ بھی نافرمانی کرتا رہے۔ یعنی انسان مسلسل برائی کو جاری رکھنا چاہتا ہے۔ 21۔ ابن ابی حاتم وابن جریر نے ابن عباس ؓ سے آیت بل یرید الانسان لیفجر امامہ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد وہ کافر ہیں جو حساب کو جھٹلاتا ہے۔ 22۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے آیت بل یرید الانسان لیفجر امامہ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد امید ہے کہ انسان کہتا ہے کہ میں گناہ کا عمل کرلوں پھر توبہ کرلوں گا۔ 23۔ ابن ابی الدنیا فی ذم الام و بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے آیت بل یرید الانسان لیفجر امامہ کے بارے میں روایت کیا کہ انسان گناہ کو مقدم کرتا ہے اور توبہ کو موخر کرتا ہے۔ 24۔ عبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت بل یرید الانسان لیفجر امامہ سے مراد ہے کہ انسان چاہتا ہے کہ وہ آئندہ بھی گناہوں پر سوار رہے گا۔ 25۔ عبد بن حمید وابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت بل یرید الانسان لیفجر امامہ سے مراد ہے کہ وہ اللہ کی نافرمانیوں میں مسلسل چلتے رہے۔ 26۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت بل یرید الانسان لیفجر امامہ کے بارے میں روایت کیا کہ تو جس انسان کو بھی ملے گا۔ اس کا نفس اسے قدم بقدم اللہ کی معصیت اور نافرمانی کی طرف کھینچ رہا ہوگا۔ مگر جس کو اللہ بچالے اور فرمایا آیت یسئل ایان یوم القیمۃ۔ سوال کرتا ہے کہ قیامت کے دن کب ہوگا۔ یعنی قیامت کے دن کب ہوگا۔ انسان پوچھتا ہے۔ 27۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ والبیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے آیت بل یرید الانسان لیفجر امامہ کے بارے میں روایت کیا کہ انسان کہتا ہے کہ عنقریب میں توبہ کروں گا۔ آیت یسئل ایان یوم القیمۃ وہ کہتا ہے قیام کب ہوگی۔ فرمایا یعنی قیامت کا دن کب ہوگا تو اس کے لیے بیان کیا گیا۔ آیت فاذا برق البصر اس سے مراد موت ہے۔
Ayah 75:7

فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ Open ayah 75:7 in the Quran reader

سو جس وق آنکھیں حیران ہوجائیں گی

28۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فاذا برق البصر سے مراد ہے موت۔ 30۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاذا برق البصر یعنی آنکھ کی ٹکٹکی بندھ جائے گی اور چاند بےنور ہوجائے گا۔ یعنی اس کی روشنی جاتی رہے گی۔
Ayah 75:8

وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:8 in the Quran reader

اور چاند بےنور ہوجائے گا

31۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاذا برق البصر یعنی موت کے وقت آنکھوں کا خیرہ ہوجانا آیت وخسف القمر وجمع الشمس والقمر۔ اور چاند بےنور ہوجائے گا اور سورج اور چاند اکٹھے کیے جائیں گے۔ قیامت کے دن لپیٹ دئیے جائیں گے۔
Ayah 75:9

وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:9 in the Quran reader

اور سورج اور چاند ایک حالت میں ہوجائیں گے

32۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجمع الشمس والقمر یعنی قیامت کے دن لپیٹے جائیں گے۔ چاند وسورج قیامت کے دن آگ کی شکل میں ہوں گے 32 (الف) ۔ ابن جریر وابن المنذر نے عطاء بن یسار سے روایت کیا کہ آیت وجمع الشمس والقمر سے مراد ہے کہ قیامت کے دن دونوں جمع کیے جائیں گے۔ پھر سمندر میں پھینک دئیے جائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے بہت بڑی آگ میں بدل دئیے جائیں گے۔
Ayah 75:10

یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّۚ Open ayah 75:10 in the Quran reader

اس روز انسان کہے گا کہ اب کدھر بھاگوں

33۔ ابو عبید وعبد بن حمید وابن المنذر نے عبداللہ بن خالد (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ نے آیت این المفر میں میم کو نصب اور فاء کو کسرہ کے ساتھ پڑھا پھر فرمایا کہ یحییٰ بن وثاب رحم اللہ نے این المفر میں میم اور فاء دونوں کو نصب کے ساتھ پڑھا۔
Ayahs 75:11–12

كَلَّا لَا وَزَرَؕ Open ayah 75:11 in the Quran reader

ہرگز نہیں کہیں پناہ کی جگہ نہیں

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمُسْتَقَرُّؕ Open ayah 75:12 in the Quran reader

اس دن صرف تیرے رب کے پاس ٹھکانا ہے

34۔ عبد بن حمید وابن ابی الدنیا فی کتاب الاہوال وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” لاوزر “ سے مراد ہے کہ کوئی قلعہ اور پناہ کی جگہ نہیں اور ایک روایت میں ہے کہ کوئی محفوظ جگہ نہیں اور ایک روایت میں ہے کہ کوئی پہاڑ نہیں۔ 35۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت لا وزر کے بارے میں بتائیے۔ تو انہوں نے فرمایا کہ الوزر سے مراد ہے پناہ کی جگہ۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے عمرو بن کلثوم کو نہیں سنا۔ کہ وہ کہتا ہے لعمرک ما ان لہ صخرۃ لعمرک ما ان لہ من وزر۔ ترجمہ : تیری عمر کی قسم ! اس کے لیے کوئی چٹان نہیں تیری عمر کی قسم ! اس کے لیے کوئی پناہ گاہ نہیں ہے۔ 36۔ عبد بن حمید وابن ابی الدنیا فی الاہوال وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن مسعود رضی عنہ سے روایت کیا کہ لا وزر سے مراد ہے کوئی قلعہ نہیں۔ 37۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر، عطیہ اور ابوقلابہ رحمہم اللہ سے اسی طرح روایت کیا۔ 38۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت کلا لا وزر سے مراد ہے کہ عرب کے لوگوں کو جب کوئی سخت معاملہ پیش آجاتا تو یوں کہتے الوزر الوزر جب اللہ تعالیٰ نے دین اسلام بھیجا تو فرمایا کلا لاوزر یعنی کوئی پہاڑ نہیں۔ 39۔ ابن جریر وابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی جب اپنے جانوروں میں ہوتا تھا اور اچانک اس کے پاس گھوڑا آجاتا تو اس کا مالک اسے کہتا تھا الوزر الوزیر یعنی پہاڑ کا قصد کر اور وہاں محفوظ ہوجا۔ 40۔ عبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لا وزر سے مراد ہے کوئی پہاڑ نہیں۔ 41۔ عبد بن حمید نے ابو قلابہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لا وزر سے مراد ہے کوئی غار نہیں اور نہ کوئی پناہ کی جگہ۔ 42۔ عبد بن حمید نے ابو قلابہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لا وزر سے مراد ہے کہ کوئی بچانے والا پہاڑ نہیں۔ 43۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت لا وزر یعنی کوئی پہاڑ نہیں حمیر قبیلہ کی لغت میں۔ 44۔ عبد بن حمید وابن جریر نے مطرف (رح) سے روایت کیا کہ آیت لاوزر سے مراد ہے کوئی پہاڑ نہیں 45۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لا وزر سے مراد ہے کہ نہیں ہے کوئی پہاڑ اور نہیں کوئی محفوظ پناہ گاہ اور نہیں ہے کوئی پناہ کی جگہ اور نہ کوئی نجات دلانے والا آیت الی ربک یومئذ المستقر اس دن آپ کے رب کی طرف ٹھکانہ ہے۔ یعنی آج کے دن تیرے رب کی طرف ہی انتہا ہے۔ آیت ینبؤ الانسان یومئذ بما قدم واخر۔ اس دن انسان کو بتادیا جائے گا کہ وہ کیا لایا۔ یعنی جو کچھ اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں آگے بھیجا ” واخر “ اور کیا چھوڑ آیا یعنی جو اس نے اللہ کے حق میں سے ضائع کیا۔
Ayah 75:13

یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَؕ Open ayah 75:13 in the Quran reader

اس دن انسان کو اس کا سب اگلا پچھلا کیا ہوا جتلایا جائے گا

46۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد و ابراہیم رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ آیت ینبؤ ا الانسان یوئمئذ بما قدم واخر یعنی انسان کو اس کی ابتداء اور اس کی انتہا کے بارے میں بتادیا جائے گا۔ 47۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ انسان نے جو کچھ آگے بھیجا گناہوں اور شر اور خطاؤں میں ہے۔ اور جو کچھ چھوڑ آیا نیک کاموں میں سے اس کو سب بتادیا جائے گا۔ 48۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت ینبؤا النسان یومئذ بما قدم واخر سے مراد ہے کہ انسان نے اپنے اعمال میں سے جو آگے بھیجے اور جو اچھا یا برا طریقہ چھوڑا جس کے مطابق اس کے بعد عمل کیا گیا ان سب کے بارے میں اسے آگاہ کیا جائے گا۔ 9۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ینبؤا الانسان یومئذبما قدم واخر سے مراد ہے کہ جو اس نے عمل کیا اپنی موت سے پہلے اور جو طریقہ وہ چھوڑ آیا کہ جس پر عمل کیا گیا اس کی موت کے بعد سب اس کو بتادیا جائے گا۔ 50۔ ابن المنذر نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ آیت ینبؤا الانسان یومئذ بما قدم واخر سے مراد ہے کہ جو کچھ اس نے آگے بھیجا نیک کاموں میں سے یا کوئی اچھا طریقہ پیچھے چھوڑ آیا کہ اس کے بعد اس پر عمل کیا گیا۔ یعنی ایسا عمل جو اس نے کسی کو سکھایا یا صدقہ جس کے بارے میں اس نے حکم دیا۔ 51۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ینبؤا الانسان یومئذبما قدم واخر سے مراد ہے کہ انسان کو آگاہ کیا جائے گا۔ اس معصیت اور گناہ کے بارے میں جو اس نے آگے بھیجے اور جو اطاعت اور نیکی اس نے پیچھے چھوڑی۔ 52۔ ابن ابی الدنیا نے کتاب المحتضرین میں حسن (رح) سے آیت ینبؤا الانسان یومئذ بما قدم واخر کے بارے میں روایت کیا کہ ملک الموت (علیہ السلام) کراماً کاتبین کے ساتھ انسان کے پاس آتے ہیں اور اس پر خیر وشر سب پیش کرتے ہیں پس جب وہ نیکیوں کو دیکھتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور اس کا چہرہ چمک اٹھتا ہے۔ اور جب برائیوں کو دیکھتا ہے تو غصے ہوجاتا ہے اور ذلت سے جھک جاتا ہے۔ 53۔ ابن ابی الدنیا نے مجاہد رحمہا للہ سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ مومن کی روح نہیں نکلتی یہاں تک کہ اس پر اس کے اعمال نیکیوں میں سے اور برائیوں میں سے پیش کیے جاتے ہیں۔
Ayah 75:14

بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِیْرَةٌۙ Open ayah 75:14 in the Quran reader

بلکہ انسان خود اپنی حالت پر خوب مطلع ہوگا

1۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ بل الانان علی نفسہ بصیرۃ۔ بلکہ انسان اپنے اوپر خود شاہد ہے۔ یعنی انسان اپنی ذات پر اکیلا گواہ ہے۔ آیت ولو القی معاذیر ہ۔ گو وہ کتنے ہی بہانے پیش کرے۔ اگرچہ وہ اس دن جھوٹے عذر پیش کرے گا۔ 2۔ ابن ابی شیبہ نے سعید بن جبیر (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ قیامت کے رو زکفار کا عذر قبول نہ ہوگا 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ اپنے اعمال پر خود گواہی دینے والا ہوگا آیت ولو القی معاذیرہ اگر اس دن جھوٹے عذر کرے گا۔ تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے کچھ بھی قبول نہیں فرمائیں گے 4۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ کے بارے میں روایت کیا کہ اگر وہ نفس سے جھگڑ پڑے تو وہ اس پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ 5۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولو القی معاذیرہ سے مراد ہے اس کی حجت اور دلیل۔ 6۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے عمران بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عکرمہ (رح) سے آیت بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ ولو القی معاذیر کے بارے میں پوچھا تو وہ خاموش رہے اور وہ مسواک کر رہے تھے پھر میں نے عرض کیا کہ حسن (رح) نے یوں فرمایا اے ابن آدمی تو اپنے عمل کا زیادہ حقدار ہے یہ سن کر انہوں نے فرمایا کہ تو نے سچ کہا۔ 7۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ کے بارے میں روایت کیا کہ جب تو چاہے کہ تو لوگوں کے عیوب دیکھنے لگے تو اپنے عیوب سے غافل ہوجائے گا۔ پھر فرمایا کہا جاتا ہے کہ انجیل میں لکھا ہوا ہے کہ اے آدم کے بیٹے ! کہ تو اپنے بھائی کی آنکھ میں تنکے کو دیکھ لیتا ہے اور اس شہتیر کو نہیں دیکھتا جو تیری آنکھ میں پڑا ہوا ہے۔ 8۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ کے بارے میں روایت کیا کہ انسان اپنے کان اپنی آنکھیں، اپنے ہاتھ، اپنے پاؤں اور دوسرے اعضاء پر نظر رکھتا ہے آیت ولو القی معاذیرہ خواہ وہ اپنے کپڑوں سے ننگا ہو۔
Ayah 75:15

وَّ لَوْ اَلْقٰى مَعَاذِیْرَهٗؕ Open ayah 75:15 in the Quran reader

گو حیلے بہانے پیش کرے گا

9۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولو القی معاذیرہ کہ وہ اپنے عیبوں کو چھپائے گا اہل یمن کی لغت میں اس کا پردہ اور ستر ہے۔ 10۔ طیالسی (رح) واحمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن ماجہ وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن الانباری المصاحف والطبرانی وابن مردویہ وابو نعیم والبیہقی معاً دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ قرآن نازل ہوتے وقت اس کی بڑی شدت کے ساتھ مشق کرتے تھے۔ اور آپ اپنی زبان اور ہونٹوں کو تیزی سے حرکت دیتے تھے اس بات کا خوف کرتے ہوئے کہ کوئی لفظ اس سے چھوٹ نہ جائے۔ اور آپ ﷺ اسے حفظ یاد کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت لا تحرک بہ لسانک لتعجل بہ۔ ان علینا جمعہ وقراٰنہ۔ آپ وحی کے ختم ہونے سے پہلے قرآن پر اپنی زبان نہ ہلایا کریں تاکہ آپ اسے جلدی جلدی لیں۔ بیشک اس کا جمع کرنا اور پڑھا دینا ہمارے ذمہ ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ ہمارے ذمہ ہے کہ ہم اس کو جمع کردیں گے تیرے سینے میں پھر تو اس کو پڑھا کرے۔ آیت فاذا قراٰنہ۔ جب ہم اس کی قراءت کر چکیں۔ یعنی جب ہم اس کو تجھ پر نازل کرچکیں۔ آیت فاتبع قراٰنہ تو اس کی قراءت کی اتباع کی جیے۔ یعنی اس کو کان لگا کر سنیں اور خاموش رہیں۔ آیت ثم ان علینا بیانہ۔ پھر بیشک اس کو کھول کر بیان کرنا ہمارے ذمے ہے۔ یعنی آپ اسے اپنی زبان کے ساتھ بیان کریں اور ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ ہمارے ذمہ ہے کہ ہم اس کو قراءت کریں۔ پھر اس کے بعد جب بھی جبرائیل (علیہ السلام) آتے تھے تو رسول اللہ ﷺ سر جھکادیتے تھے۔ اور ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ آپ صرف سنتے تھے جب وہ چلے جاتے تو آپ اس کو ٹھیک ٹھیک پڑھ لیتے جیسے اللہ تعالیٰ نے آپ سے وعدہ فرمایا۔
Ayahs 75:16–19

لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖؕ Open ayah 75:16 in the Quran reader

آپ قرآن کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دیا کریں تاکہ آپ اس کو جلدی جلدی لے لیں

اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗۚۖ Open ayah 75:17 in the Quran reader

بیشک ہمارے ذمہ ہے اس کا جمع کرنا اور پڑھوادینا

فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗۚ Open ayah 75:18 in the Quran reader

سو جب ہم اس کو پڑھیں سو آپ اس کے پڑھنے میں تابع ہوجایا کریں

ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَهٗؕ Open ayah 75:19 in the Quran reader

پھر اس کا بیان کرادینا ہمارے ذمہ ہے

11۔ ابن المنذر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ پر جب قرآن نازل ہوتا تو آپ اس کے پڑھنے میں جلدی فرماتے تاکہ آپ اس کو یاد کرلیں تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت لا تحرک بہ لسانک اپنی زبان کو حرکت نہ دیں۔ اور رسول اللہ ﷺ سورة کے ختم ہونے کو نہیں جانتے تھے یہاں تک کہ آپ پر بسم اللہ الرحمن الرحیم نازل ہوئی تو آپ سمجھ لیتے کہ پہلی سورة ختم ہوگئی اب نئی سورة شروع ہوئی۔ قرآن یاد کرنے کا اہتمام 12۔ ابن جریر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ قطعاً سستی اور کوتاہی نہیں فرماتے تھے اس بات کا خوف کرتے ہوئے کہ وہ اس کو بھول نہ جائیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت لا تحرک بہ لسانک لتعجل بہ، ان علینا جمعہ۔ آپ اپنی زبان کو حرکت نہ دیا کریں بیشک اس کا جمع کرنا ہم پر لازم ہے۔ یعنی ہم اس کو تیرے لیے جمع کردیں۔ آیت وقراٰنہ۔ اور اس کا پڑھادینا ہمارے ذمہ ہے کہ تو اس کو پڑھے گا اور نہ بھولے گا آیت فاذا قراٰنہ۔ پھر جب ہم اس کو قراءت کرچکیں یعنی تجھ پر۔ آیت فاتبع قراٰنہ تو اس کی قراءت کا اتباع کی جیے یعنی جب آپ پر تلاوت کی جاچکے تو آپ قراءت میں اس کا اتباع کیجیے۔ آیت ثم ان علینا بیانہ۔ پھر بیشک ہمارے ذمہ ہے اس کا بیان کرنا یعنی اس کے حلال کو اور اس کے حرام کو بیان کرنا ہمارے ذمہ ہے اور یہی اس کا بیان ہے۔ 13۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فاذا قرانٰہ۔ پھر جب ہم اس کی قراءت کرچکیں تو ہم اس کو بیان بھی کریں گے۔ آیت فاتبع قراٰنہ۔ یعنی پھر آپ اس کے ساتھ عمل کیجیے۔ 14۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت لا تحرک بہ لسانک سے مراد ہے کہ آپ زبانی یاد کرنے لگتے تھے اس خوف سے کہ وہ بھول نہ جائے۔ تو آپ سے کہا گیا۔ اے محمد ﷺ اس کے لیے ہم آپ کو کافی ہیں۔ 15۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لا تحرک بہ لسانک لتعجل بہ سے مراد ہے کہ نبی اکرم ﷺ قرآن کو یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت تیزی سے دیتے تھے۔ بھول جانے کے خوف سے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ جو آپ سن رہے ہیں۔ آیت ان علینا جمعہ وقراٰنہ یعنی ہم پر لازم ہے اس کا یاد کرانا اور آپ کے سینے میں اس کا جمع کرنا آیت فاذا قرنہ فاتبع قرانہ۔ یعنی آپ اتباع کرو اس کے حلال کی اور اس کے حرام سے اجتناب کریں۔ آیت ثم ان علینا بیان پھر ہم پر لازم ہے اس کا بیان کرنا۔ یعنی اس کے حلال و حرام اور اس کی اطاعت معصیت کا بیان کرنا ہمارے ذمہ ہے۔
Ayahs 75:20–21

كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَۙ Open ayah 75:20 in the Quran reader

ہر گزایسا نہیں ہے بلکہ تم دنیا سے محبت کرتے ہو

وَ تَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَؕ Open ayah 75:21 in the Quran reader

اور آخرت کو چھوڑتے ہو

1۔ سعید بن منصور نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ وہ یہ آیت اس طرح پڑھتے تھے آیت کلا بل تحبون العاجلۃ۔ وتذرون الاٰخرہ۔ 2۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت کلا بل تحبون العاجلہ وتذرون الاٰخرۃ دونوں کو تاء کے ساتھ پڑھا۔ 3۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کلا بل تحبون العاجلہ وتذرون الاٰخرہ۔ ہرگز نہیں بلکہ وہ دنیا کو چاہتے ہیں اور آخرت کو چھوڑتے ہیں۔ یعنی اکثر لوگوں نے عجلت کو پسند کیا سوائے ان کے جن پر اللہ تعالیٰ نے رحم فرمای اور ان کو محفوظ رکھا۔ 4۔ عبد اللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں ابن مسعود ؓ سے آیت کلا بل تحبون العاجلہ کے بارے میں روایت کیا کہ دنیا نے اپنی چمک اور منافع ان کے لیے جلدی پیش کردئیے اور ان سے آخرت غائب ہوگئی۔
Ayah 75:22

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌۙ Open ayah 75:22 in the Quran reader

اس دن بہت سے چہرے تروتازہ ہوں گے

5۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وجوہ یومئذ ناضرۃ۔ کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے۔ مومنین کے چہرے قیامت کے روز خوبصورت ہوں گے 6۔ ابن المنذر والاجری فی الشریعۃ واللالکائی فی النسۃ اور بیہقی نے الرویہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وجوہ یومئذ ناضرہ یعنی اس دن کئی چہرے انتہائی حسین ہوں گے آیت الی ربہا ناظرۃ اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے۔ 7۔ ابن المنذر ولآجری نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے آیت وجوہ یومئذ ناضرہ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ ان چہروں کو تروتازہ بنادیں گے اور ان کی طرف دیکھنے کے لیے خوبصورت بنادیں گے۔ 8۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم واللالکائی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجوہ یومئذ ناضرۃ سے مراد ہے کہ اس دن کچھ چہرے انتہائی خوش ہوں گے۔ 9۔ عبد بن حمید وابن المنذر ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجوہ یومئذ ناضرۃ یعنی اس دن کچھ چہرے پر رونق ہوں گے اپنے اندر پائی جانے والی نعمت کی وجہ۔ 10۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجوہ یومئذ ناضرۃ سے مراد ہے سفید اور صاف ہونا آیت الی ربہا ناظرۃ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے چہرہ قدرت کی طرف دیکھتے ہوں گے۔ 11۔ ابن المنذر والآجری واللالکائی اور بیہقی نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجوہ یومئذ ناضرۃ یعنی چہرے تروتازہ ہوں گے نعمت کی وجہ سے آیت الی ربہا ناظرہ یعنی وہ اللہ کی طرف پوری توجہ کے ساتھی دیکھ رہے ہوں گے۔ 12۔ الدارقطنی والآجری واللالکائی والبیہقی نے حسن (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ناظرہ سے مراد حسن ہے یعنی وہ چہرے جو اپنے رب کی طرف دیکھیں گے تو وہ تروتازہ ہوجائیں گے۔ اس کے نور کی وجہ سے۔ 13۔ ابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجوہ یومئذ ناضرۃ یعنی اس دن کچھ چہرے بہت خوبصورت ہوں گے۔ آیت الی ربہا ناظرۃ یعنی خالق کی طرف دیکھتے ہوں گے۔ 14۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجوہ یومئذ ناضرہ یعنی اس دن کچھ چہرے بہت خوش ہوں گے آیت الی ربہا ناظرۃ یعنی تو اس نور کی طرف دیکھ جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی آنکھوں میں عطا فرمایا اگر جنات، انسان، چوپائے اور ہر وہ چیز جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا اس ساری مخلوق میں یہ نور رکھ دیا جائے۔ اور وہ ان کی آنکھوں کا نور اپنے بندوں میں سے کسی بندے کو دونوں آنکھوں میں رکھ دے پھر سورج سے ایک پردہ اٹھادیا جائے حالانکہ اس کے ستر پردے ہیں۔ تو وہ انسان اس پر قادر نہ ہوگا کہ وہ سورج کی طرف دیکھے اور سورج ایک جز ہے کرسی کے نور کے ستر اجزاء میں سے۔ اور کرسی ایک جز ہے عرشہ کے نور کے ستر اجزاء میں سے اور عرش ایک جز ہے نور کے ستر اجزاء میں سے۔ عکرمہ ؓ نے فرمایا دیکھو کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی آنکھ میں کتنا نور عطا فرمایا ہے کہ جس سے وہ رب کریم کے چہرہ قدرت کا کھلم کھلا دیدار کرے گا۔ 15۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت وجوہ یومئذ ناضرۃ الی ربہا ناظرۃ کے بارے میں روایت کیا کہ تو اپنے رب کے چہرہ قدرت کی طرف دیکھے گا۔ قیامت کے روز رب تعالیٰ کا دیدار ہوگا 16۔ ابن مردویہ نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت وجوہ یومئذ ناضرۃ الی ربہا ناظرۃ کے بارے میں فرمایا کہ وہ اپنے رب کی طرف دیکھیں گے بلاکیف بلاحد محدود اور بغیر کسی معلوم صفت کے۔ 17۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید والترمذی وابن جریر وابن المنذر والآجری فی الشریعۃ والدارقطنی فی الرویۃ والحاکم وابن مردویہ واللالکائی فی السنۃ اور بیہقی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اہل جنت میں سے ادنیٰ جنتی درجہ کے لحاظ سے ایسا ہوگا جو اپنے باغات کو اپنی بیویوں کو، اپنی نعمتوں کو، اپنے خادموں کو اور اپنے پلنگوں کو ایک ہزار سال کے فاصلے سے دیکھے گا اور ان میں سب سے زیادہ مکرم اور مقرب اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ ہوگا جو صبح وشام اس کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھے گا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی آیت وجوہ یومئذناضرۃ۔ یعنی وہ سفید اور صاف شفاف ہوں گے آیت الی ربہا ناظرۃ یعنی ہر دن اللہ تعالیٰ کے چہرہ قدرت کو دیکھیں گے۔